Musnad Imam Ahmad 2898

عبداللہ بن عباس کی مرویات

2898Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ قَالَ بَلَغَنِي أَنَّ عَطَاءَ بْنَ أَبِي رَبَاحٍ قَالَ إِنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يُخْبِرُ أَنَّ رَجُلًا أَصَابَهُ جُرْحٌ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ أَصَابَهُ احْتِلَامٌ فَأُمِرَ بِالِاغْتِسَالِ فَمَاتَ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ قَتَلُوهُ قَتَلَهُمْ اللَّهُ أَلَمْ يَكُنْ شِفَاءَ الْعِيِّ السُّؤَالُ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ عہد نبوت میں ایک آدمی کو کوئی زخم لگ گیا، اتفاق سے اسے " خواب " بھی آگیا، لوگوں نے اسے غسل کرنے کا حکم دے دیا، جس کی وجہ سے وہ مرگیا، نبی ﷺ کو جب اس کا علم ہوا تو فرمایا انہوں نے اسے قتل کردیا، اللہ انہیں قتل کرے، کیا جہالت کا علاج " پوچھنا " نہ تھا؟