Musnad Imam Ahmad 2855

عبداللہ بن عباس کی مرویات

2855Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْرِضُ الْقُرْآنَ فِي كُلِّ رَمَضَانَ عَلَى جِبْرِيلَ فَيُصْبِحُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ لَيْلَتِهِ الَّتِي يَعْرِضُ فِيهَا مَا يَعْرِضُ وَهُوَ أَجْوَدُ مِنْ الرِّيحِ الْمُرْسَلَةِ لَا يُسْأَلُ عَنْ شَيْءٍ إِلَّا أَعْطَاهُ حَتَّى كَانَ الشَّهْرُ الَّذِي هَلَكَ بَعْدَهُ عَرَضَ فِيهِ عَرْضَتَيْنِ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ ہر رمضان میں حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کے ساتھ قرآن کریم کا دور فرماتے تھے، جس رات کو نبی ﷺ حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کو قرآن کریم سناتے، اس کی صبح کو آپ تیز چلنے والی ہوا سے بھی زیادہ سخی ہوجاتے اور نبی ﷺ سے جو بھی مانگا جاتا، آپ وہ عطاء فرما دیتے اور جس سال رمضان کے بعد نبی ﷺ کا وصال مبارک ہوا اس سال آپ ﷺ نے حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کو دو مرتبہ قرآن کریم سنایا تھا۔