Musnad Imam Ahmad 2817

عبداللہ بن عباس کی مرویات

2817Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا الزُّبَيْرِيُّ وَأَسْوَدُ الْمَعْنَى قَالَا حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ ابْتَاعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِيرٍ أَقْبَلَتْ فَرَبِحَ أَوَاقِيَّ فَقَسَمَهَا بَيْنَ أَرَامِلِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ثُمَّ قَالَ لَا أَبْتَاعُ بَيْعًا لَيْسَ عِنْدِي ثَمَنُهُ و حَدَّثَنَاه وَكِيعٌ أَيْضًا فَأَسْنَدَهُ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مدینہ منورہ میں کچھ اونٹ آئے، نبی ﷺ نے ان میں سے کوئی اونٹ خرید لیا، اس پر نبی ﷺ کو چند اوقیہ چاندی کا منافع ہوا، نبی ﷺ نے وہ منافع بنو عبدالمطلب کی بیوہ عورتوں پر تقسیم فرما دیا اور فرمایا کہ میں ایسی چیز نہیں خریدتا جس کی قیمت میرے پاس نہ ہو۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔