Musnad Imam Ahmad 2727

عبداللہ بن عباس کی مرویات

2727Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ الطَّلَاقُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَسَنَتَيْنِ مِنْ خِلَافَةِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ طَلَاقُ الثَّلَاثِ وَاحِدَةً فَقَالَ عُمَرُ إِنَّ النَّاسَ قَدْ اسْتَعْجَلُوا فِي أَمْرٍ كَانَ لَهُمْ فِيهِ أَنَاةٌ فَلَوْ أَمْضَيْنَاهُ عَلَيْهِمْ فَأَمْضَاهُ عَلَيْهِمْ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کے دور باسعادت، خلافت صدیقی اور خلافت فاروق کے ابتدائی دو سالوں میں تین طلاقوں کو ایک ہی سمجھا جاتا تھا، لیکن بعد میں حضرت عمر ؓ فرمانے لگے کہ جس چیز میں لوگوں کو سہولت تھی، انہوں نے اس میں جلد بازی سے کام لینا شروع کردیا (کثرت سے طلاق دینا شروع کردی) اس لئے اگر ہم ان پر تین طلاقوں کو تین ہی کے حکم میں نافذ کردیں تو بہتر ہے، چناچہ انہوں نے یہ حکم نافذ کردیا۔