Musnad Imam Ahmad 2555

عبداللہ بن عباس کی مرویات

2555Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ أَعْرَابِيًّا وَهَبَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هِبَةً فَأَثَابَهُ عَلَيْهَا قَالَ رَضِيتَ قَالَ لَا قَالَ فَزَادَهُ قَالَ رَضِيتَ قَالَ لَا قَالَ فَزَادَهُ قَالَ رَضِيتَ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ لَا أَتَّهِبَ هِبَةً إِلَّا مِنْ قُرَشِيٍّ أَوْ أَنْصَارِيٍّ أَوْ ثَقَفِيٍّ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک دیہاتی نے نبی ﷺ کی خدمت میں کوئی ہدیہ پیش کیا، نبی ﷺ نے جوابا اسے بھی کچھ عطاء فرمایا اور اس سے پوچھا کہ خوش ہو؟ اس نے کہا نہیں، نبی ﷺ نے اسے کچھ اور بھی عطاء فرمایا اور پوچھا اب تو خوش ہو، اس طرح تین مرتبہ ہوا اور وہ تیسری مرتبہ جا کر خوش ہوا، نبی ﷺ نے فرمایا اسے دیکھ کر میں نے سوچا کہ آئندہ کسی شخص سے ہدیہ قبول نہ کروں، سوائے اس کے جو قریشی ہو، یا انصاری ہو یا ثقفی ہو۔