Musnad Imam Ahmad 2419

عبداللہ بن عباس کی مرویات

2419Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا حَنْظَلَةُ السَّدُوسِيُّ قَالَ قُلْتُ لِعِكْرِمَةَ إِنِّي أَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْمَغْرِبِ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ وَقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ وَإِنَّ نَاسًا يَعِيبُونَ ذَلِكَ عَلَيَّ فَقَالَ وَمَا بَأْسٌ بِذَلِكَ اقْرَأْهُمَا فَإِنَّهُمَا مِنْ الْقُرْآنِ ثُمَّ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ لَمْ يَقْرَأْ فِيهِمَا إِلَّا بِأُمِّ الْكِتَابِ

حنظلہ سدوسی (رح) کہتے ہیں کہ میں نے عکرمہ سے عرض کیا کہ میں مغرب میں معوذتین کی قرأت کرتا ہوں لیکن کچھ لوگ مجھے اس پر معیوب ٹھہراتے ہیں؟ انہوں نے کہا اس میں کیا حرج ہے؟ تم ان دونوں دونوں سورتوں کو پڑھ سکتے ہو کیونکہ دونوں بھی قرآن کا حصہ ہیں، پھر فرمایا کہ مجھ سے حضرت ابن عباس ؓ نے یہ حدیث بیان کی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ تشریف لائے اور دو رکعتیں پڑھیں جن میں سورت فاتحہ کے علاوہ کچھ نہیں پڑھا۔