Musnad Imam Ahmad 22343

حضرت حذیفہ بن یمان (رض) کی مرویات

22343Musnad Imam Ahmad

حضرت حذیفہ بن یمان (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ أَخْبَرَنِي مَيْسَرَةُ بْنُ حَبِيبٍ عَنْ الْمِنْهَالِ عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ قَالَتْ لِي أُمِّي مَتَى عَهْدُكَ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَقُلْتُ مَا لِي بِهِ عَهْدٌ مُنْذُ كَذَا وَكَذَا قَالَ فَهَمَّتْ بِي قُلْتُ يَا أُمَّهْ دَعِينِي حَتَّى أَذْهَبَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَا أَدَعُهُ حَتَّى يَسْتَغْفِرَ لِي وَيَسْتَغْفِرَ لَكِ قَالَ فَجِئْتُهُ فَصَلَّيْتُ مَعَهُ الْمَغْرِبَ فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ قَامَ يُصَلِّي فَلَمْ يَزَلْ يُصَلِّي حَتَّى صَلَّى الْعِشَاءَ ثُمَّ خَرَجَ

حضرت حذیفہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مجھ سے میری والدہ نے پوچھا کہ تم نبی کریم ﷺ کے ساتھ کب سے وابستہ ہو؟ میں نے انہیں اس کا اندازہ بتادیا وہ مجھے سخت سست اور برا بھلا کہنے لگیں میں نے ان سے کہا کہ پیچھے ہٹیں میں نبی کریم ﷺ کے پاس جا رہا ہوں مغرب کی نماز ان کے ساتھ پڑھوں گا اور اس وقت تک انہیں چھوڑوں گا نہیں جب تک وہ میرے اور آپ کے لئے استغفار نہ کریں۔ چنانچہ میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھی اس کے بعد نبی کریم ﷺ نے عشاء کی نماز پڑھائی اور واپس چلے گئے۔