Musnad Imam Ahmad 2155

عبداللہ بن عباس کی مرویات

2155Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْأَشْقَرُ حَدَّثَنَا أَبُو كُدَيْنَةَ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ أَبِي الضُّحَى عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ وَلَيْسَ فِي الْعَسْكَرِ مَاءٌ فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَيْسَ فِي الْعَسْكَرِ مَاءٌ قَالَ هَلْ عِنْدَكَ شَيْءٌ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَأْتِنِي بِهِ قَالَ فَأَتَاهُ بِإِنَاءٍ فِيهِ شَيْءٌ مِنْ مَاءٍ قَلِيلٍ قَالَ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصَابِعَهُ فِي فَمِ الْإِنَاءِ وَفَتَحَ أَصَابِعَهُ قَالَ فَانْفَجَرَتْ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ عُيُونٌ وَأَمَرَ بِلَالًا فَقَالَ نَادِ فِي النَّاسِ الْوَضُوءَ الْمُبَارَكَ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ جب صبح کے وقت بیدار ہوئے تو پتہ چلا کہ فوج کے پاس پانی نہیں ہے، چناچہ ایک آدمی نے آکر عرض کیا یا رسول اللہ! ﷺ فوج کے پاس پانی نہیں ہے، نبی ﷺ نے اس سے پوچھا کہ تمہارے پاس تھوڑا سا پانی ہے؟ اس نے کہا جی ہاں! فرمایا وہ میرے پاس لے آؤ، تھوڑی دیر میں وہ ایک برتن لے آیا جس میں بالکل تھوڑا سا پانی تھا، نبی ﷺ نے اس برتن کے منہ پر اپنی انگلیاں رکھ دیں اور انہیں کھول دیا، اسی وقت نبی ﷺ کی انگلیوں سے چشمے ابل پڑے، نبی ﷺ نے حضرت بلال ؓ کو حکم دیا کہ لوگوں میں اعلان کردو مبارک پانی آکر لے جائیں۔