Musnad Imam Ahmad 1810

عبداللہ بن عباس کی مرویات

1810Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ رُفَيْعٍ قَالَ دَخَلْتُ أَنَا وَشَدَّادُ بْنُ مَعْقِلٍ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ مَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مَا بَيْنَ هَذَيْنِ اللَّوْحَيْنِ وَدَخَلْنَا عَلَى مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ قَالَ وَكَانَ الْمُخْتَارُ يَقُولُ الْوَحْيُ

عبدالعزیز بن رفیع (رح) کہتے ہیں کہ میں اور شداد بن معقل حضرت ابن عباس ؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے فرمایا کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے صرف وہی چیز چھوڑی ہے جو دو لوگوں کے درمیان ہے (یعنی قرآن کریم) ہم محمد بن علی کے پاس گئے تو انہوں نے بھی یہی کہا، بہتر ہوتا کہ وہ (وحی کا لفظ استعمال کرتے (تاکہ حدیث کو بھی شامل ہوجاتا)۔