Musnad Imam Ahmad 15552

حضرت قیس بن ابی غزرہ کی حدیثیں۔

15552Musnad Imam Ahmad

حضرت قیس بن ابی غزرہ کی حدیثیں۔

قَالَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ قَالَ كُنَّا نَبْتَاعُ الْأَوْسَاقَ بِالْمَدِينَةِ وَكُنَّا نُسَمَّى السَّمَاسِرَةَ قَالَ فَأَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمَّانَا بِاسْمٍ هُوَ أَحْسَنُ مِمَّا كُنَّا نُسَمِّي بِهِ أَنْفُسَنَا فَقَالَ يَا مَعْشَرَ التُّجَّارِ إِنَّ هَذَا الْبَيْعَ يَحْضُرُهُ اللَّغْوُ وَالْحَلِفُ فَشُوبُوهُ بِالصَّدَقَةِ

حضرت قیس بن ابی غزرہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کے دور باسعادت میں ہم تاجروں کو پہلے سماسرہ دلال کہا جاتا تھا ایک دن نبی ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا اے گروہ تجار نبی ﷺ نے ہمیں پہلے سے زیادہ عمدہ نام سے مخاطب کیا تجارت میں قسم اور جھوٹی باتیں بھی ہوجاتی ہیں لہذا اس میں صدقات و خیرات کی آمیزش کرلیا کرو۔