نماز کا بیان

Sahih Muslim · Chapter 5 · 322 hadiths · Page 3 of 17

879Sahih Muslim

ہر رکعت میں سورت فاتحہ پڑھنے کے وجوب اور جب تک فاتحہ کا پڑھنا یا سیکھنا ممکن نہ ہو تو اس کو جو آسان ہو فاتحہ کے علاوہ پڑھ لینے کے بیان میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ الْعَلَائِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا السَّائِبِ مَوْلَی هِشَامِ بْنِ زُهْرَةَ يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

قتیبہ بن سعید، مالک بن انس، علاء بن عبدالرحمن، ابوالساء ب مولیٰ ہشام بن زہرہ، حضرت ابوہریرہ ؓ یہی حدیث دوسری سند کے ساتھ بھی روایت کی گئی ہے۔

It is naratted on the authority of Abu Huraira that he had heard the Messenger of Allah (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) say: He who observed prayer but he did not recite the Umm al-Quran in it, and the rest of the hadith is the same as transmitted by Sufyan, and in this hadith the words are:" Allah the Most High said: the prayer is divided into two halves between Me and My servant. The half of it is for Me and the half of it is for My servant."

880Sahih Muslim

ہر رکعت میں سورت فاتحہ پڑھنے کے وجوب اور جب تک فاتحہ کا پڑھنا یا سیکھنا ممکن نہ ہو تو اس کو جو آسان ہو فاتحہ کے علاوہ پڑھ لینے کے بیان میں

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي الْعَلَائُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ أَنَّ أَبَا السَّائِبِ مَوْلَی بَنِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هِشَامِ بْنِ زُهْرَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ صَلَّی صَلَاةً فَلَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ بِمِثْلِ حَدِيثِ سُفْيَانَ وَفِي حَدِيثِهِمَا قَالَ اللَّهُ تَعَالَی قَسَمْتُ الصَّلَاةَ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي نِصْفَيْنِ فَنِصْفُهَا لِي وَنِصْفُهَا لِعَبْدِي

محمد بن رافع، عبدالرزاق، ابن جریج، علاء بن عبدالرحمن بن یعقوب، سائب بن مولیٰ ہشام بن زہرہ، ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے نماز ادا کی اور اس میں ام القرآن یعنی سورت فاتحہ نہ پڑھی باقی حدیث سفیان ہی کی طرح ہے اور ان کی حدیث میں ہے کہ اللہ عزوجل فرماتے ہیں کہ میں نے نماز کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان دو حصوں میں تقسیم کیا ہے اس کا نصف میرے لئے اور نصف میرے بندے کے لئے ہے۔

It is naratted on the authority of Abu Hurairah (RA) that he had heard the Messenger of Allah ﷺ say: He who observed prayer but he did not recite the Umm al-Quran in it, and the rest of the hadith is the same as transmitted by Sufyan, and in this hadith the words are:" Allah the Most High said: the prayer is divided into two halves between Me and My servant. The half of it is for Me and the half of it is for My servant."

881Sahih Muslim

ہر رکعت میں سورت فاتحہ پڑھنے کے وجوب اور جب تک فاتحہ کا پڑھنا یا سیکھنا ممکن نہ ہو تو اس کو جو آسان ہو فاتحہ کے علاوہ پڑھ لینے کے بیان میں

حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَعْقِرِيُّ حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ أَخْبَرَنِي الْعَلَائُ قَالَ سَمِعْتُ مِنْ أَبِي وَمِنْ أَبِي السَّائِبِ وَکَانَا جَلِيسَيْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَا قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ صَلَّی صَلَاةً لَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِفَاتِحَةِ الْکِتَابِ فَهِيَ خِدَاجٌ يَقُولُهَا ثَلَاثًا بِمِثْلِ حَدِيثِهِمْ

احمد بن جعفر معقری، نضر بن محمد، ابواویس، علاء، ابوسائب، حضرت ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جس شخص نے نماز ادا کی اور اس میں ام القرآن نہیں پڑھی تو وہ نماز ناقص ہے آپ ﷺ نے اس بات کو تین بار ارشاد فرمایا۔

Abu Hurairah (RA) reported: The Messenger of Allah ﷺ said: He who said his prayer, but did not recite the opening chapter of al-Kitab, his prayer is incomplete. He repeated it thrice.

882Sahih Muslim

ہر رکعت میں سورت فاتحہ پڑھنے کے وجوب اور جب تک فاتحہ کا پڑھنا یا سیکھنا ممکن نہ ہو تو اس کو جو آسان ہو فاتحہ کے علاوہ پڑھ لینے کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ قَالَ سَمِعْتُ عَطَائً يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا صَلَاةَ إِلَّا بِقِرَائَةٍ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَمَا أَعْلَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْلَنَّاهُ لَکُمْ وَمَا أَخْفَاهُ أَخْفَيْنَاهُ لَکُمْ

محمد بن عبداللہ بن نمیر، ابواسامہ، حبیب بن شہید، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا نماز بغیر قرأت کے نہیں ہوتی حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں پس جس نماز میں رسول اللہ ﷺ نے بلند آواز سے قرأت کی ہم نے بھی تمہارے لئے اس نماز میں بلند آواز سے پڑھا اور جو آپ ﷺ نے آہستہ پڑھا ہم نے بھی تمہارے لئے آہستہ پڑھا۔

Abu Hurairah (RA) reported: The Messenger of Allah ﷺ said: One is not credited with having observed the prayer without the recitation (of al-Fatiha). So said Abu Hurairah (RA) : (The prayer in which) the Messenger of Allah ﷺ recited in a loud voice, we also recited that loudly for you (and the prayer in which) he recited inwardly we also recited inwardly for you (to give you a practical example of the prayer of the Holy Prophet).

883Sahih Muslim

ہر رکعت میں سورت فاتحہ پڑھنے کے وجوب اور جب تک فاتحہ کا پڑھنا یا سیکھنا ممکن نہ ہو تو اس کو جو آسان ہو فاتحہ کے علاوہ پڑھ لینے کے بیان میں

حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَاللَّفْظُ لِعَمْرٍو قَالَا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَائٍ قَالَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فِي کُلِّ الصَّلَاةِ يَقْرَأُ فَمَا أَسْمَعَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْمَعْنَاکُمْ وَمَا أَخْفَی مِنَّا أَخْفَيْنَا مِنْکُمْ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ إِنْ لَمْ أَزِدْ عَلَی أُمِّ الْقُرْآنِ فَقَالَ إِنْ زِدْتَ عَلَيْهَا فَهُوَ خَيْرٌ وَإِنْ انْتَهَيْتَ إِلَيْهَا أَجْزَأَتْ عَنْکَ

عمرو ناقد، زہیر بن حرب، عمرو، اسماعیل بن ابراہیم، ابن جریج، عطاء، ابوہریرہ، حضرت عطاء ؓ سے روایت ہے کہ حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا ہر نماز میں قرأت ہوتی ہے رسول اللہ ﷺ نے جس نماز میں ہم کو سنایا ہم بھی اس نماز میں تم کو سناتے ہیں اور جس نماز میں آپ ﷺ نے ہم سے اخفاء کیا ہم بھی اس میں تمہارے لئے اخفا کرتے ہیں آپ کو ایک نے کہا اگر میں ام القرآن یعنی سورت فاتحہ پر زیادتی نہ کروں تو آپ کیا فرماتے ہیں؟ تو فرمایا اگر تو اس پر زیادتی کرے تو تیرے لئے بہتر ہے اور اگر اس پر ختم کر دے تو تجھ سے کافی ہے۔

Ata narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) who said that one should recite (al-Fatiha) in every (rakah of) prayer. What we heard (i. e. recitation) from the Messenger of Allah ﷺ , we made you listen to that. And that which he (recited) inwardly, we (recited) inwardly for you. A person said to him: If I add nothing to the (recitation) of the Umm al Quran (Surat al-Fatiha), would it make the prayer incomplete? He (AbuHurairah) said: If you add to that (if you recite some of verses of the Quran along with Surat at-Fatiha) that is better for you. But if you are contented with it (Surat al-Fatiha) only, it is sufficient for you.

884Sahih Muslim

ہر رکعت میں سورت فاتحہ پڑھنے کے وجوب اور جب تک فاتحہ کا پڑھنا یا سیکھنا ممکن نہ ہو تو اس کو جو آسان ہو فاتحہ کے علاوہ پڑھ لینے کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ عَنْ حَبِيبٍ الْمُعَلِّمِ عَنْ عَطَائٍ قَالَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فِي کُلِّ صَلَاةٍ قِرَائَةٌ فَمَا أَسْمَعَنَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْمَعْنَاکُمْ وَمَا أَخْفَی مِنَّا أَخْفَيْنَاهُ مِنْکُمْ وَمَنْ قَرَأَ بِأُمِّ الْکِتَابِ فَقَدْ أَجْزَأَتْ عَنْهُ وَمَنْ زَادَ فَهُوَ أَفْضَلُ

یحییٰ بن یحیی، یزید بن زریع، حبیب عطاء سے روایت ہے کہ حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا ہر نماز میں تلاوت قرآن ہے اور جس نماز میں ہم کو نبی کریم ﷺ نے سنایا ہم بھی تم کو سناتے ہیں اور جس میں ہم سے پوشیدہ رکھا یعنی آہستہ تلاوت کی ہم بھی تم سے اخفا کرتے ہیں جس نے ام الکتاب پڑھی تو اس کے لئے کافی ہے جس نے زیادتی کی وہ افضل ہے۔

Ata reported it on the authority of Abu Hurairah (RA) who said: Recitation (of Surat al-Fatiha) in every (rakah) of prayer in essential. (The recitation) that we listened to from the Apostle of Allah ﷺ we made you listen to it. And that which he recited inwardly to us, we recited it inwardly for you. And he who recites Umm al-Quran, it is enough for him (to complete the prayer), and he who adds to it (recites some other verses of the Holy Quran along with Surat al-Fatiha), it is preferable for him.

885Sahih Muslim

ہر رکعت میں سورت فاتحہ پڑھنے کے وجوب اور جب تک فاتحہ کا پڑھنا یا سیکھنا ممکن نہ ہو تو اس کو جو آسان ہو فاتحہ کے علاوہ پڑھ لینے کے بیان میں

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَدَخَلَ رَجُلٌ فَصَلَّی ثُمَّ جَائَ فَسَلَّمَ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَدَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّلَامَ قَالَ ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّکَ لَمْ تُصَلِّ فَرَجَعَ الرَّجُلُ فَصَلَّی کَمَا کَانَ صَلَّی ثُمَّ جَائَ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْکَ السَّلَامُ ثُمَّ قَالَ ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّکَ لَمْ تُصَلِّ حَتَّی فَعَلَ ذَلِکَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَقَالَ الرَّجُلُ وَالَّذِي بَعَثَکَ بِالْحَقِّ مَا أُحْسِنُ غَيْرَ هَذَا عَلِّمْنِي قَالَ إِذَا قُمْتَ إِلَی الصَّلَاةِ فَکَبِّرْ ثُمَّ اقْرَأْ مَا تَيَسَّرَ مَعَکَ مِنْ الْقُرْآنِ ثُمَّ ارْکَعْ حَتَّی تَطْمَئِنَّ رَاکِعًا ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّی تَعْتَدِلَ قَائِمًا ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّی تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّی تَطْمَئِنَّ جَالِسًا ثُمَّ افْعَلْ ذَلِکَ فِي صَلَاتِکَ کُلِّهَا

محمد بن مثنی، یحییٰ بن سعید، عبیداللہ، سعید بن ابی سعید، ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ مسجد میں داخل ہوئے ایک آدمی مسجد میں آیا اور نماز ادا کی پھر حاضر ہوا اور رسول اللہ ﷺ کو سلام کیا آپ ﷺ نے اس کے سلام کا جواب دیا اور فرمایا واپس جا اور نماز ادا کر تو نے نماز نہیں پڑھی وہ آدمی گیا اس نے اسی طرح نماز پڑھی جیسے پہلے پڑھی تھی پھر نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور آپ کو سلام کیا آپ نے و علیک السلام کہا اور فرمایا کہ واپس جا نماز ادا کر تو نے نماز نہیں پڑھی یہاں تک کہ تین بار اسی طرح ہوا تو اس آدمی نے عرض کیا اس ذات کی قسم جس نے آپ ﷺ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں اس سے زیادہ اچھی نماز ادا نہیں کرسکتا مجھے سکھا دیں آپ ﷺ نے فرمایا جب تو نماز کے لئے کھڑا ہو تو تکبیر کہہ پھر قرآن میں سے جو تجھے آسانی سے یاد ہو پڑھ پھر اطمینان سے سجدہ کر اور اطمینان سے سیدھا کھڑا ہو پھر اطمینان سے سجدہ کر اور اطمینان سے سیدھا ہو کر بیٹھ جا پھر اسی طرح اپنی تمام نماز میں کیا کرو۔

Abu Hurairah (RA) reported: The Messenger of Allah ﷺ entered the mosque and a person also entered therein and offered prayer, and then came and paid salutation to the Messenger of Allah ﷺ . The Messenger of Allah ﷺ returned his salutation and said: Go back and pray, for you have not offered the prayer. He again prayed as he had prayed before, and came to the Apostle of Allah ﷺ (may peace be upon. him) and saluted him. The Messenger of Allah ﷺ returned the salutation and said: Go back and say prayer, for you have not offered the prayer. This (act of repeating the prayer) was done three times. Upon this the person said: By Him Who hast sent you with Truth, whatever better I can do than this, please teach me. He (the Holy Prophet) said: When you get up to pray, recite takbir, and then recite whatever you conveniently can from the Quran, then bow down and remain quietly in that position, then raise yourself and stand erect; then prostrate yourself and remain quietly in that attitude; then raise yourself and sit quietly; and do that throughout all your prayers.

886Sahih Muslim

ہر رکعت میں سورت فاتحہ پڑھنے کے وجوب اور جب تک فاتحہ کا پڑھنا یا سیکھنا ممکن نہ ہو تو اس کو جو آسان ہو فاتحہ کے علاوہ پڑھ لینے کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَا حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلًا دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَصَلَّی وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَاحِيَةٍ وَسَاقَا الْحَدِيثَ بِمِثْلِ هَذِهِ الْقِصَّةِ وَزَادَا فِيهِ إِذَا قُمْتَ إِلَی الصَّلَاةِ فَأَسْبِغْ الْوُضُوئَ ثُمَّ اسْتَقْبِلْ الْقِبْلَةَ فَکَبِّرْ

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابواسامہ، عبداللہ بن نمیر، عبیداللہ، سعید ابن ابی سعید، ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی مسجد میں داخل ہوا اور نماز ادا کی اور رسول اللہ ﷺ ایک گوشہ میں تشریف فرما تھے باقی حدیث گزر چکی ہے اس میں یہ اضافہ ہے کہ جب تو نماز کے لئے کھڑا ہو تو اچھی طرح پورا وضو کر پھر قبلہ کی طرف منہ کر اور تکبیر کہہ۔

Abu Hurairah (RA) reported: A person entered the mosque and said prayer while the Messenger of Allah ﷺ was sitting in a nook (of the mosque), and the rest of the hadith is the same as mentioned above, but with this addition:" When you get up to pray, perform the ablution completely, and then turn towards the Qibla and recite takbir (Allah o Akbar =Allah is the Most Great)."

887Sahih Muslim

مقتدی کے لئے اپنے امام کے پیچھے بلند آواز سے قرأت کرنے سے روکنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ کِلَاهُمَا عَنْ أَبِي عَوَانَةَ قَالَ سَعِيدٌ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَی عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ صَلَّی بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الظُّهْرِ أَوْ الْعَصْرِ فَقَالَ أَيُّکُمْ قَرَأَ خَلْفِي بِسَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْأَعْلَی فَقَالَ رَجُلٌ أَنَا وَلَمْ أُرِدْ بِهَا إِلَّا الْخَيْرَ قَالَ قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ بَعْضَکُمْ خَالَجَنِيهَا

سعید بن منصور، قتیبہ بن سعید، ابوعوانہ، سعید، ابوعوانہ، قتادہ، زرارہ، حضرت عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم کو ظہر اور عصر کی نماز پڑھائی آپ ﷺ نے فرمایا تم میں کون تھا جس نے میرے پیچھے ( سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْأَعْلَی) پڑھی ایک شخص نے عرض کیا میں نے اس کو پڑھنے میں خیر اور بھلائی کے علاوہ کوئی ارادہ نہیں کیا آپ ﷺ نے فرمایا میں نے جانا کہ تم میں سے کوئی مجھ سے قرأت میں الجھ رہا ہے۔

lmrin bin Husain reported: The Messenger of Allah ﷺ led us in Zuhr or Asr prayer (noon or the afternoon prayer). (On concluding it) he said: Who recited behind me (the verses): Sabbih Isma Rabbik al-ala (Glorify the name of thy Lord, the Most High)? There upon a person said: It was I, but I intended nothing but goodness. I felt that some one of you was disputing with me in it (or he was taking out from my tongue what I was reciting), said the Holy Prophet ﷺ .

888Sahih Muslim

مقتدی کے لئے اپنے امام کے پیچھے بلند آواز سے قرأت کرنے سے روکنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ زُرَارَةَ بْنَ أَوْفَی يُحَدِّثُ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّی الظُّهْرَ فَجَعَلَ رَجُلٌ يَقْرَأُ خَلْفَهُ بِسَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْأَعْلَی فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ أَيُّکُمْ قَرَأَ أَوْ أَيُّکُمْ الْقَارِئُ فَقَالَ رَجُلٌ أَنَا فَقَالَ قَدْ ظَنَنْتُ أَنَّ بَعْضَکُمْ خَالَجَنِيهَا

محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، قتادہ، حضرت عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ظہر کی نماز پڑھائی ایک آدمی نے آپ ﷺ کے پیچھے (سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْأَعْلَی) پڑھی جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا کس نے پڑھا یا فرمایا کون پڑھنے والا تھا؟ ایک آدمی نے عرض کی میں، تو آپ ﷺ نے فرمایا تحقیق میں نے گمان کیا کہ تم میں سے کوئی میری قرأت میں الجھن ڈال رہا ہے۔

Imran bin Husain reported: The Messenger of Allah ﷺ observed the Zuhr prayer and a person recited Sabbih Isma Rabbik al-ala (Glorify the name of thy Lord, the Most High) behind him. When he (the Holy Prophet) concluded the prayer he said: Who amongst you recited (the above-mentioned verse) or who amongst you was the reciter? A person said: It was I. Upon this he (the Holy Prophet) observed: I thought as if someone amongst you was disputing with me (in what I was reciting).

889Sahih Muslim

مقتدی کے لئے اپنے امام کے پیچھے بلند آواز سے قرأت کرنے سے روکنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ کِلَاهُمَا عَنْ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّی الظُّهْرَ وَقَالَ قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ بَعْضَکُمْ خَالَجَنِيهَا

ابوبکر بن ابی شیبہ، اسماعیل بن علیہ، محمد بن مثنی، ابن ابی عدی، ابوعروبہ، حضرت قتادہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ظہر کی نماز پڑھائی اور فرمایا تحقیق میں نے معلوم کیا کہ تم میں سے کوئی مجھے قرأت میں الجھا رہا ہے۔

This hadith has been narrated by Qatada with the same chain of transmitters that the Messenger of Allah ﷺ observed Zuhr prayer and said: I felt that someone amongst you was disputing with me (in what I was reciting).

890Sahih Muslim

بسم اللہ کو بلند آواز سے پڑھنے والوں کی دلیل کے بیان میں۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ کِلَاهُمَا عَنْ غُنْدَرٍ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسٍ قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَکْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ فَلَمْ أَسْمَعْ أَحَدًا مِنْهُمْ يَقْرَأُ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

محمد بن مثنی، ابن بشار، غندر، ابن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ، قتادہ، حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ اور ابوبکر و عمر و عثمان ؓ کے ساتھ نماز ادا کی ہے اور میں نے ان میں کسی کو (بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ) پڑھتے ہوئے نہیں سنا۔

Anas reported: I observed prayer along with the Messenger of Allah ﷺ and with Abu Bakr, Umar and Uthman (may Allah be pleased with all of them), but I never heard any one of them reciting Bismillah-ir-Rahman-ir-Rahim loudly.

891Sahih Muslim

بسم اللہ کو بلند آواز سے پڑھنے والوں کی دلیل کے بیان میں۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ وَزَادَ قَالَ شُعْبَةُ فَقُلْتُ لِقَتَادَةَ أَسَمِعْتَهُ مِنْ أَنَسٍ قَالَ نَعَمْ وَنَحْنُ سَأَلْنَاهُ عَنْهُ

محمد بن مثنی، ابوداؤد، شعبہ، حضرت انس ؓ سے یہی حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

Shubah reported it with the same chain of transmitters. with she addition of these words:" I said to Qatada (RA) : Did you hear it from Anas? He replied in the affirmative and added: We had inquired of him about it."

892Sahih Muslim

بسم اللہ کو بلند آواز سے پڑھنے والوں کی دلیل کے بیان میں۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ عَبْدَةَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ کَانَ يَجْهَرُ بِهَؤُلَائِ الْکَلِمَاتِ يَقُولُ سُبْحَانَکَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِکَ تَبَارَکَ اسْمُکَ وَتَعَالَی جَدُّکَ وَلَا إِلَهَ غَيْرُکَ وَعَنْ قَتَادَةَ أَنَّهُ کَتَبَ إِلَيْهِ يُخْبِرُهُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّهُ حَدَّثَهُ قَالَ صَلَّيْتُ خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَکْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ فَکَانُوا يَسْتَفْتِحُونَ بِ الْحَمْد لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا يَذْکُرُونَ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ فِي أَوَّلِ قِرَائَةٍ وَلَا فِي آخِرِهَا

محمد بن مہران رازی، ولید بن مسلم، اوزعی، عبدہ، حضرت عبدہ ؓ سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب ؓ ان کلمات کو بلند آواز سے پڑھتے تھے (سُبْحَانَکَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِکَ تَبَارَکَ اسْمُکَ وَتَعَالَی جَدُّکَ وَلَا إِلَهَ غَيْرُکَ ) حضرت انس ؓ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ ابوبکر و عمر و عثمان ؓ کے پیچھے نماز پڑھی وہ قرأت کو (الْحَمْد لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ) سے شروع کرتے تھے اور (بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ) کو اول قرأت اور نہ آخر میں پڑھتے تھے۔

Abda reported: Umar bin al-Khattab used to recite loudly these words: Subhanak Allahumma wa bi hamdika wa tabarakasmuka wa taala jadduka wa la ilaha ghairuka [Glory to Thee,O Allah, and Thine is the Praise, and Blessed is Thy Name. and Exalted is Thy Majesty. and there is no other object of worship beside Thee]. Qatada informed in writing that Anas bin Malik (RA) had narrated to him: I observed prayer behind the Apostle of Allah ﷺ and Abu Bakr (RA) and Umar and Uthman. They started (loud recitation) with: Al-hamdu lillahi Rabb al-Alamin [All Praise is due to Allah, the Lord of the worlds] and did not recite Bismillah ir- Rahman-ir-Rahim (loudly) at the beginning of the recitation or at the end of it.

893Sahih Muslim

بسم اللہ کو بلند آواز سے پڑھنے والوں کی دلیل کے بیان میں۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ أَخْبَرَنِي إِسْحَقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ يَذْکُرُ ذَلِکَ

محمد بن مہران، ولید بن مسلم، اوزاعی، اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ، انس بن مالک ؓ ایک دوسری سند کے ساتھ بھی یہی حدیث روایت کی گئی ہے۔

It is reported on the authority of Abu Talha that he had heard Anas bin Malik (RA) narrating this.

894Sahih Muslim

سورت توبہ کے علاوہ بسم اللہ کو قرآن کی ہر سورت کا جز کہنے والوں کی دلیل کے بیان میں

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ أَخْبَرَنَا الْمُخْتَارُ بْنُ فُلْفُلٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ الْمُخْتَارِ عَنْ أَنَسٍ قَالَ بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ بَيْنَ أَظْهُرِنَا إِذْ أَغْفَی إِغْفَائَةً ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ مُتَبَسِّمًا فَقُلْنَا مَا أَضْحَکَکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ أُنْزِلَتْ عَلَيَّ آنِفًا سُورَةٌ فَقَرَأَ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ إِنَّا أَعْطَيْنَاکَ الْکَوْثَرَ فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ إِنَّ شَانِئَکَ هُوَ الْأَبْتَرُ ثُمَّ قَالَ أَتَدْرُونَ مَا الْکَوْثَرُ فَقُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ فَإِنَّهُ نَهْرٌ وَعَدَنِيهِ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِ خَيْرٌ کَثِيرٌ هُوَ حَوْضٌ تَرِدُ عَلَيْهِ أُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ آنِيَتُهُ عَدَدُ النُّجُومِ فَيُخْتَلَجُ الْعَبْدُ مِنْهُمْ فَأَقُولُ رَبِّ إِنَّهُ مِنْ أُمَّتِي فَيَقُولُ مَا تَدْرِي مَا أَحْدَثَتْ بَعْدَکَ زَادَ ابْنُ حُجْرٍ فِي حَدِيثِهِ بَيْنَ أَظْهُرِنَا فِي الْمَسْجِدِ وَقَالَ مَا أَحْدَثَ بَعْدَکَ

علی بن حجر سعدی، علی بن مسہر، مختار بن فلفل، انس بن مالک ؓ روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ ہمارے درمیان تشریف فرما تھے کہ آپ ﷺ پر غفلت سی طاری ہوئی پھر آپ ﷺ نے مسکراتے ہوئے اپنا سر مبارک اٹھایا ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ آپ ﷺ کو کس بات سے ہنسی آرہی تھی تو آپ ﷺ نے فرمایا مجھ پر ابھی ایک سورت نازل ہوئی پھر (بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ إِنَّا أَعْطَيْنَاکَ الْکَوْثَرَ فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ إِنَّ شَانِئَکَ هُوَ الْأَبْتَرُ، ) پڑھا پھر فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ کوثر کیا ہے ہم نے کہا اللہ اور اس کا رسول ﷺ ہی بہتر جانتے ہیں فرمایا وہ ایک نہر ہے مجھ سے میرے رب نے اس کا وعدہ کیا ہے اس میں بہت سی خوبیاں ہیں وہ ایک حوض ہے جس پر قیامت کے دن میری امت کے لوگ پانی پینے کے لئے آئیں گے اور اس کے برتنوں کی تعداد ستاروں کی تعداد کے برابر ہے ایک شخص کو وہاں سے ہٹا دیا جائے گا میں عرض کروں گا یا اللہ یہ میرا امتی ہے تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کیا آپ ﷺ جانتے ہو کہ اس نے آپ ﷺ کے بعد نئی باتیں گھڑی تھیں، ابن حجر ؓ نے اس میں یہ اضافہ کیا کہ آپ ﷺ ہمارے درمیان مسجد میں تشریف فرما تھے اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ وہ ہے جس نے آپ ﷺ کے بعد نئی باتیں نکال لی تھیں۔

Anas reported: One day the Messenger of Allah ﷺ was sitting amongst us that he dozed off. He then raised his head smilingly. We said: What makes you smile. Messenger of Allah? ﷺ He said: A Sura has just been revealed to me, and then recited: In the name of Allah, the Compassionate, the Merciful. Verily We have given thee Kauthar (fount of abundance). Therefore turn to thy Lord for prayer and offer sacrifice, and surely thy enemy is cut off (from the good). Then he (the Holy Prophet) said: Do you know what Kauthar is? We said: Allah and His Messenger know best. The Holy Prophet ﷺ said: It (Kauthar) is a canal which my Lord, the Exalted and Glorious has promised me, and there is an abundance of good in it. It is a cistern and my people would come to it on the Day of Resurrection, and tumblers there would be equal to the number of stars. A servant would be turned away from (among the people gathered there). Upon this I would say: My Lord, he is one of my people, and He (the Lord) would say: You do not know that he innovated new things (in Islam) after you. Ibn Hujr made this addition in the hadith: " He (the Holy Prophet) was sitting amongst us in the mosque, and He (Allah) said: (You dont know) what he innovated after you."

895Sahih Muslim

سورت توبہ کے علاوہ بسم اللہ کو قرآن کی ہر سورت کا جز کہنے والوں کی دلیل کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ أَخْبَرَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ عَنْ مُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ يَقُولُا أَغْفَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِغْفَائَةً بِنَحْوِ حَدِيثِ ابْنِ مُسْهِرٍ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ نَهْرٌ وَعَدَنِيهِ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فِي الْجَنَّةِ عَلَيْهِ حَوْضٌ وَلَمْ يَذْکُرْ آنِيَتُهُ عَدَدُ النُّجُومِ

ابوکریب، محمد بن علاء، ابن فضیل، مختار بن فلفل، انس بن مالک ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ پر غفلت سی طاری ہوئی باقی حدیث گزر چکی ہے اس میں یہ ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کوثر جنت میں ایک نہر ہوگی جس کا اللہ نے میرے ساتھ وعدہ فرمایا ہے اور اس نہر پر ایک حوض ہے اور اس حدیث میں برتنوں کا ستاروں کی تعداد کے برابر ہونے کا ذکر نہیں ہے۔

Mukhtar bin Fulful reported that he had heard Anas bin Malik (RA) say that the Messenger of Allah ﷺ dozed off, and the rest of the hadith is the same as transmitted by Mushir except for the words that he (the Holy Prophet) said: It (Kauthar) is a canal which my Lord the Exalted and the Glorious has promised me in Paradise. There is a tank over it, but he made no mention of the tumblers like the number of the stars.

896Sahih Muslim

تکبیر تحریمہ کے بعد دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر سینہ سے نیچے ناف سے اوپر رکھنے اور سجدہ زمین پر دونوں ہاتھوں کو کندھوں کے درمیان رکھنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ وَائِلٍ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ وَمَوْلًی لَهُمْ أَنَّهُمَا حَدَّثَاهُ عَنْ أَبِيهِ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ أَنَّهُ رَأَی النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَفَعَ يَدَيْهِ حِينَ دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ کَبَّرَ وَصَفَ هَمَّامٌ حِيَالَ أُذُنَيْهِ ثُمَّ الْتَحَفَ بِثَوْبِهِ ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَی عَلَی الْيُسْرَی فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَرْکَعَ أَخْرَجَ يَدَيْهِ مِنْ الثَّوْبِ ثُمَّ رَفَعَهُمَا ثُمَّ کَبَّرَ فَرَکَعَ فَلَمَّا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَفَعَ يَدَيْهِ فَلَمَّا سَجَدَ سَجَدَ بَيْنَ کَفَّيْهِ

زہیر بن حرب، عفان ہمام، محمد بن جحادہ، عبدالجبار بن وائل، علقمہ بن وائل بن حجر ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھوں کو بلند کیا جب آپ ﷺ نماز میں داخل ہوئے تکیبر کہی اور ہمام نے بیان کیا کہ آپ ﷺ نے دونوں ہاتھ اپنے کانوں تک اٹھائے پھر آپ ﷺ نے چادر اوڑھ لی پھر دائیں ہاتھ بائیں ہاتھ کے اوپر رکھا جب آپ ﷺ نے رکوع کرنے کا ارادہ کیا تو اپنے ہاتھوں کو چادر سے نکالا پھر ان کو بلند کیا تکبیر کہہ کر رکوع کیا جب آپ نے (سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ کہا) تو اپنے ہاتھوں کو بلند کیا پھر آپ ﷺ نے سجدہ اپنی دونوں ہتھیلیوں کے درمیان کیا۔

Wail bin Hujr reported: He saw the Apostle of Allah ﷺ raising his hands at the time of beginning the prayer and reciting takbir, and according to Hammam (the narrator), the hands were lifted opposite to ears. He (the Holy Prophet) then wrapped his hands in his cloth and placed his right hand over his left hand. And when he was about to bow down, he brought out his hands from the cloth, and then lifted them, and then recited takbir and bowed down, and when (he came back to the erect position) he recited: "Allah listened to him who praised Him." And when prostrates, he prostrated between the two palms.

897Sahih Muslim

نماز میں تشہد کے بیان میں

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ کُنَّا نَقُولُ فِي الصَّلَاةِ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّلَامُ عَلَی اللَّهِ السَّلَامُ عَلَی فُلَانٍ فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ إِنَّ اللَّهَ هُوَ السَّلَامُ فَإِذَا قَعَدَ أَحَدُکُمْ فِي الصَّلَاةِ فَلْيَقُلْ التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْکَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَکَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَی عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ فَإِذَا قَالَهَا أَصَابَتْ کُلَّ عَبْدٍ لِلَّهِ صَالِحٍ فِي السَّمَائِ وَالْأَرْضِ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ثُمَّ يَتَخَيَّرُ مِنْ الْمَسْأَلَةِ مَا شَائَ

زہیر بن حرب، عثمان بن ابی شیبہ، اسحاق بن ابراہیم، اسحاق، جریر، منصور، ابو وائل، حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کی اقتداء میں نماز میں (السَّلَامُ عَلَی اللَّهِ یا السَّلَامُ عَلَی فُلَانٍ ) کہتے تھے تو ایک دن ہم سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بیشک اللہ بذات خود سلام ہے یعنی اللہ کی صفت سلام ہے جب تم میں سے کوئی نماز میں قعدہ میں بیٹھے تو اس کو چاہیے کہ (التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْکَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَکَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَی عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ ) پڑھے جب کوئی یہ کلمہ کہے گا ( عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ ) پڑھے گا تو اس کا سلام اللہ کے ہر نیک بندے کو پہنچے گا آسمان و زمین میں۔ پھر (أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ) کہے پھر اس کو اختیار ہے جو چاہے دعا مانگے۔

Abdullah (b. Masud) said: While observing prayer behind the Messenger of Allah ﷺ we used to recite: Peace be upon Allah, peace be upon so and so. One day the Messenger of Allah ﷺ said to us: Verily Allah is Himself Peace. When any one of you sits during the prayer, he should say: "All services rendered by words, by acts of worship, and all good things are due to Allah. Peace be upon you, O Prophet, and Allahs mercy and blessings. Peace be upon us and upon Allahs upright servants", for when he says this it reaches every upright servant in heaven and earth (and say further): I testify that there is no god but Allah and I testify that Muhammad is His servant and Messenger. Then he may choose any supplication which pleases him and offer it.

898Sahih Muslim

نماز میں تشہد کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مَنْصُورٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ وَلَمْ يَذْکُرْ ثُمَّ يَتَخَيَّرُ مِنْ الْمَسْأَلَةِ مَا شَائَ

محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، منصور سے بھی اسی سند کے ساتھ یہی حدیث مروی ہے لیکن اس میں اس کے بعد جو چاہے دعا مانگے کا جملہ نہیں ہے۔

Shubah has narrated this on the authority of Mansur with the same chain of transmitters, but he made no mention of this: "Then he may choose any supplication which pleases him."