کھانا سامنے موجود ہو اور اسے کھانے کو بھی دل چاہتا ہو ایسی حالت میں نماز پڑھنے کی کراہت کے بیان میں
أَخْبَرَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا حَضَرَ الْعَشَائُ وَأُقِيمَتْ الصَّلَاةُ فَابْدَئُوا بِالْعَشَائِ
عمرو ناقد، زہیر بن حرب، ابوبکر بن ابی شیبہ، سفیان بن عیینہ، زہری، انس بن مالک ؓ روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جب شام کا کھانا سامنے ہو اور نماز بھی کھڑی ہونے والی ہو تو مغرب کی نماز پڑھنے سے پہلے کھانا کھالو اور کھانا چھوڑ کر نماز میں جلدی نہ کرو۔
Anas bin Malik (RA) reported the Apostle of Allah ﷺ saying: When the supper is brought and the prayer begins, one, should first take food.
کھانا سامنے موجود ہو اور اسے کھانے کو بھی دل چاہتا ہو ایسی حالت میں نماز پڑھنے کی کراہت کے بیان میں
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا قُرِّبَ الْعَشَائُ وَحَضَرَتْ الصَّلَاةُ فَابْدَئُوا بِهِ قَبْلَ أَنْ تُصَلُّوا صَلَاةَ الْمَغْرِبِ وَلَا تَعْجَلُوا عَنْ عَشَائِکُمْ
ہارون بن سعید ایلی، ابن وہب، عمرو، ابن شہاب، انس بن مالک ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب شام کا کھانا سامنے ہو اور نماز بھی کھڑی ہونے والی ہو تو مغرب کی نماز پڑھنے سے پہلے کھانا کھالو اور کھانا چھوڑ کر نماز میں جلدی نہ کرو۔
Anas bin Malik (RA) reported: The Messenger of Allah ﷺ said: When the supper is brought before you, and it is also the time to say prayer, first take food before saying evening prayer and do not hasten (to prayer, leaving aside the food).
کھانا سامنے موجود ہو اور اسے کھانے کو بھی دل چاہتا ہو ایسی حالت میں نماز پڑھنے کی کراہت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ وَحَفْصٌ وَوَکِيعٌ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَنَسٍ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن نمیر، حفص، وکیع، ہشام اس سند کے ساتھ حضرت عائشہ نے رسول اللہ ﷺ سے ابن عیینہ عن الزہری عن انس ؓ کی طرح حدیث نقل کی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Anas by another chain of transmitters.
کھانا سامنے موجود ہو اور اسے کھانے کو بھی دل چاہتا ہو ایسی حالت میں نماز پڑھنے کی کراہت کے بیان میں
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ قَالَا حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا وُضِعَ عَشَائُ أَحَدِکُمْ وَأُقِيمَتْ الصَّلَاةُ فَابْدَئُوا بِالْعَشَائِ وَلَا يَعْجَلَنَّ حَتَّی يَفْرُغَ مِنْهُ
ابن نمیر، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابواسامہ، عبیداللہ، نافع، ابن عمر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کسی آدمی کے سامنے شام کا کھانا رکھ دیا جائے اور نماز بھی کھڑی ہونے لگی ہو تو پہلے شام کا کھانا کھالو اور جلدی نہ کرو جب تک کہ کھانے سے فارغ نہ ہوجاؤ۔
Ibn Umar reported: The Messenger of Allah ﷺ said: When the supper is served to any one of you and the prayer also begins. (in such a case) first take supper, and do not make haste (for prayer) till you have (taken the food).
کھانا سامنے موجود ہو اور اسے کھانے کو بھی دل چاہتا ہو ایسی حالت میں نماز پڑھنے کی کراہت کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَقَ الْمُسَيَّبِيُّ حَدَّثَنِي أَنَسٌ يَعْنِي ابْنَ عِيَاضٍ عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَةَ ح و حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ ح و حَدَّثَنَا الصَّلْتُ بْنُ مَسْعُودٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ مُوسَی عَنْ أَيُّوبَ کُلُّهُمْ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ
محمد بن اسحاق مسیبی، انس ابن عیاض، موسیٰ بن عقبہ، ہارون بن عبداللہ، حماد بن مسعدہ، ابن جریج، صلت بن مسعود، سفیان بن موسی، ایوب، نافع، ابن عمر سے نبی ﷺ سے اسی طرح کی حدیث نقل کی ہے۔
A hadith like this has been narrated from the Apostle of Allah ﷺ on the authority of Ibn Umar with another chain of transmitters.
کھانا سامنے موجود ہو اور اسے کھانے کو بھی دل چاہتا ہو ایسی حالت میں نماز پڑھنے کی کراہت کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ حَدَّثَنَا حَاتِمٌ هُوَ ابْنُ إِسْمَعِيلَ عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ مُجَاهِدٍ عَنْ ابْنِ أَبِي عَتِيقٍ قَالَ تَحَدَّثْتُ أَنَا وَالْقَاسِمُ عِنْدَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا حَدِيثًا وَکَانَ الْقَاسِمُ رَجُلًا لَحَّانَةً وَکَانَ لِأُمِّ وَلَدٍ فَقَالَتْ لَهُ عَائِشَةُ مَا لَکَ لَا تَحَدَّثُ کَمَا يَتَحَدَّثُ ابْنُ أَخِي هَذَا أَمَا إِنِّي قَدْ عَلِمْتُ مِنْ أَيْنَ أُتِيتَ هَذَا أَدَّبَتْهُ أُمُّهُ وَأَنْتَ أَدَّبَتْکَ أُمُّکَ قَالَ فَغَضِبَ الْقَاسِمُ وَأَضَبَّ عَلَيْهَا فَلَمَّا رَأَی مَائِدَةَ عَائِشَةَ قَدْ أُتِيَ بِهَا قَامَ قَالَتْ أَيْنَ قَالَ أُصَلِّي قَالَتْ اجْلِسْ قَالَ إِنِّي أُصَلِّي قَالَتْ اجْلِسْ غُدَرُ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا صَلَاةَ بِحَضْرَةِ الطَّعَامِ وَلَا هُوَ يُدَافِعُهُ الْأَخْبَثَانِ
محمد بن عباد، حاتم بن اسماعیل، یعقوب بن مجاہد، ابن ابی عتیق فرماتے ہیں کہ میں اور قاسم حضرت عائشہ ؓ کے پاس ایک حدیث بیان کرنے لگے اور قاسم بہت باتیں کرنے والے آدمی تھے اور اس کی ماں ام ولد تھیں حضرت عائشہ ؓ نے اس سے فرمایا کہ تجھے کیا ہوا کہ تم میرے اس بھتیجے کی بات کیوں نہیں کرتے؟ میں جانتی ہوں کہ تو کہاں سے آیا ہے، اسے اس کی ماں نے ادب سکھایا ہے اور تجھے تیری ماں نے ادب سکھایا ہے، یہ سن کر قاسم غصہ میں آگیا اور حضرت عائشہ ؓ پر اس کا اظہار بھی کیا، جب قاسم نے دیکھا کہ حضرت عائشہ ؓ کا دستر خوان لگ رہا ہے تو قاسم اٹھ کھڑے ہوئے تو حضرت عائشہ ؓ نے اس سے فرمایا کہاں جا رہے ہو قاسم نے کہا نماز پڑھنے کے لئے حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا بیٹھ جاؤ، قاسم نے کہا میں نماز پڑھنے جا رہا ہوں تو حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا اے بےوفا بیٹھ جاؤ کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب کھانا سامنے ہو اور پیشاب یا پاخانہ کا تقاضا ہو تو نماز نہیں پڑھنی چاہئے۔
Ibn Atiq reported: Al-Qasim was in the presence of Aisha (Allah be pleased with her) that I narrated a hadith and Qasim was a man who committed errors in (pronouncing words) and his mother was a freed slave-girl. Aisha said to him: What is the matter with you that you do not narrate as this son of my brother narrated (the ahadith)? Well I know from where you picked it up. This is how his mother brought him up and how your mother brought you up. Qasim felt angry (on this remark of Hadrat Aisha) and showed bitterness towards her. When he saw that the table had been spread for Aisha, he stood up, Aisha, said: Where are you going? He said: (I am going) to say prayer. She said: Sit down (to take the food). He said: I must say prayer. She said: Sit down,) faithless, for I have heard the Messenger of Allah ﷺ say: No prayer can be (rightly said) when the food is there (before the worshipper), or when he is prompted by the call of nature.
کھانا سامنے موجود ہو اور اسے کھانے کو بھی دل چاہتا ہو ایسی حالت میں نماز پڑھنے کی کراہت کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَابْنُ حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنِي أَبُو حَزْرَةَ الْقَاصُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عَتِيقٍ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ وَلَمْ يَذْکُرْ فِي الْحَدِيثِ قِصَّةَ الْقَاسِمِ
یحییٰ بن ایوب، قتیبہ بن سعید، ابن حجر، اسماعیل بن جعفر، ابوحزرہ، عبداللہ بن ابی عتیق، حضرت عائشہ ؓ نے نبی ﷺ سے اس طرح حدیث نقل کی ہے لیکن اس میں قاسم کے واقعہ کو ذکر نہیں کیا۔
Abdullah bin Atiq narrated from the Apostle ﷺ on the authority of Aisha, but he made no mention of the account of Qasim.
لہسن پیاز اور بدبو دارچیز یا اس جیسی کوئی اور چیز کھا کر مسجد میں جانے کی ممانعت کے بیان میں جب تک کہ اس کی بدبو نہ چلی جائے اور یا مسجد سے نکل جائے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا يَحْيَی وَهُوَ الْقَطَّانُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي غَزْوَةِ خَيْبَرَ مَنْ أَکَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ يَعْنِي الثُّومَ فَلَا يَأْتِيَنَّ الْمَسَاجِدَ قَالَ زُهَيْرٌ فِي غَزْوَةٍ وَلَمْ يَذْکُرْ خَيْبَرَ
محمد بن مثنی، زہیر بن حرب، یحییٰ قطان، عبیداللہ، نافع، ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے غزوہ خبیر میں فرمایا کہ جس نے اس درخت سے کھایا یعنی لہسن کو کھایا تو وہ مسجد میں نہ آئے راوی زہیر نے غزوہ کا ذکر کیا اور خبیر کا ذکر نہیں کیا۔
Ibn Umar reported: The Messenger of Allah ﷺ said: He who eats of this (offensive) plant must not approach our mosque, till its odour dies: (plant signifies) garlic.
لہسن پیاز اور بدبو دارچیز یا اس جیسی کوئی اور چیز کھا کر مسجد میں جانے کی ممانعت کے بیان میں جب تک کہ اس کی بدبو نہ چلی جائے اور یا مسجد سے نکل جائے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ قَالَ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَکَلَ مِنْ هَذِهِ الْبَقْلَةِ فَلَا يَقْرَبَنَّ مَسَاجِدَنَا حَتَّی يَذْهَبَ رِيحُهَا يَعْنِي الثُّومَ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن نمیر، محمد بن عبداللہ بن نمیر، عبیداللہ بن نافع، ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس نے اس ترکاری کو کھایا تو وہ ہماری مسجد کے قریب بھی نہ آئے جب تک کہ اس کی بدبو نہ چلی جائے یعنی لہسن۔
Ibn Umar reported: The Messenger of Allah ﷺ said: He who eats of this (offensive) plant must not approach our mosque, till its odour dies: (plant signifies) garlic.
لہسن پیاز اور بدبو دارچیز یا اس جیسی کوئی اور چیز کھا کر مسجد میں جانے کی ممانعت کے بیان میں جب تک کہ اس کی بدبو نہ چلی جائے اور یا مسجد سے نکل جائے۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَهُوَ ابْنُ صُهَيْبٍ قَالَ سُئِلَ أَنَسٌ عَنْ الثُّومِ فَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَکَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ فَلَا يَقْرَبَنَّا وَلَا يُصَلِّي مَعَنَا
زہیر بن حرب، اسماعیل ابن علیہ، عبدالعزیز، ابن صہیب فرماتے ہیں کہ حضرت انس ؓ سے لہسن کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس نے اس درخت سے کھایا تو وہ نہ ہمارے قریب آئے اور نہ ہی ہمارے ساتھ نماز پڑھے۔
Ibn Suhaib reported: Anas was asked about the garlic; he stated that the Messenger of Allah ﷺ had said: He who eats of this plant (garlic) should not approach us and pray along with us.
لہسن پیاز اور بدبو دارچیز یا اس جیسی کوئی اور چیز کھا کر مسجد میں جانے کی ممانعت کے بیان میں جب تک کہ اس کی بدبو نہ چلی جائے اور یا مسجد سے نکل جائے۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنَا وَقَالَ ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَکَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ فَلَا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا وَلَا يُؤْذِيَنَّا بِرِيحِ الثُّومِ
محمد بن رافع، عبد بن حمید، عبد، ابن رافع، عبدالرزاق، معمر، زہری، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس نے اس درخت سے کھایا تو وہ نہ ہماری مسجد کے قریب آئے اور نہ ہی لہسن کی بدبو سے ہمیں تکلیف دے۔
Abu Hurairah (RA) reported: The Messenger of Allah ﷺ said: He who eats of this plant (garlic) should not approach our mosque and should not harm us with the odour of garlic.
لہسن پیاز اور بدبو دارچیز یا اس جیسی کوئی اور چیز کھا کر مسجد میں جانے کی ممانعت کے بیان میں جب تک کہ اس کی بدبو نہ چلی جائے اور یا مسجد سے نکل جائے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا کَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتَوَائِيِّ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ نَهَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَکْلِ الْبَصَلِ وَالْکُرَّاثِ فَغَلَبَتْنَا الْحَاجَةُ فَأَکَلْنَا مِنْهَا فَقَالَ مَنْ أَکَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ الْمُنْتِنَةِ فَلَا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا فَإِنَّ الْمَلَائِکَةَ تَأَذَّی مِمَّا يَتَأَذَّی مِنْهُ الْإِنْسُ
ابوبکر بن ابی شیبہ، کثیر بن ہشام دستوائی، ابوزبیر، جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے پیاز اور گندنا کھانے سے منع فرمایا ہمیں ان کے کھانے کی ضرورت پیش آئی تو ہم نے کھالیا تو آپ ﷺ نے فرمایا جو اس بدبو دار درخت میں سے کھالے تو وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے کیونکہ فرشتوں کو ان چیزوں سے تکلیف ہوتی ہے جن چیزوں سے انسان کو تکلیف ہوتی ہے۔
Jabir reported: The Messenger of Allah ﷺ forbade eating of onions and leek. When we were overpowered by a desire (to eat) we ate them. Upon this he (the Holy Prophet) said: He who eats of this offensive plant must not approach our mosque, for the angels are harmed by the same things as men.
لہسن پیاز اور بدبو دارچیز یا اس جیسی کوئی اور چیز کھا کر مسجد میں جانے کی ممانعت کے بیان میں جب تک کہ اس کی بدبو نہ چلی جائے اور یا مسجد سے نکل جائے۔
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ حَدَّثَنِي عَطَائُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ وَفِي رِوَايَةِ حَرْمَلَةَ وَزَعَمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَکَلَ ثُومًا أَوْ بَصَلًا فَلْيَعْتَزِلْنَا أَوْ لِيَعْتَزِلْ مَسْجِدَنَا وَلْيَقْعُدْ فِي بَيْتِهِ وَإِنَّهُ أُتِيَ بِقِدْرٍ فِيهِ خَضِرَاتٌ مِنْ بُقُولٍ فَوَجَدَ لَهَا رِيحًا فَسَأَلَ فَأُخْبِرَ بِمَا فِيهَا مِنْ الْبُقُولِ فَقَالَ قَرِّبُوهَا إِلَی بَعْضِ أَصْحَابِهِ فَلَمَّا رَآهُ کَرِهَ أَکْلَهَا قَالَ کُلْ فَإِنِّي أُنَاجِي مَنْ لَا تُنَاجِي
ابوطاہر، حرملہ، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، عطاء بن ابی رباح، جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس نے پیاز یا لہسن کھایا وہ ہم سے علیحدہ رہے یا ہماری مسجد سے علیحدہ رہے اور اسے چاہیے کہ وہ اپنے گھر میں بیٹھے ایک مرتبہ آپ ﷺ کی خدمت میں ایک ہانڈی لائی گئی جس میں سالن تھا آپ ﷺ نے اس میں بدبو محسوس کی آپ ﷺ نے اس سالن کے بارے میں پوچھا کہ اس میں کیا ہے آپ ﷺ کو اس بارے میں خبر دی گئی تو آپ ﷺ نے اپنے صحابہ میں نے سے ایک صحابی کے ہاں اسے بھیجنے کا حکم فرمایا چونکہ آپ ﷺ نے اس کھانے کو ناپسند فرمایا اس لئے آپ ﷺ کے اس صحابی نے بھی اس کھانے کو ناپسند فرمایا تو آپ ﷺ نے فرمایا تم کھاؤ کیونکہ میں فرشتوں سے مناجات کرتا ہوں تم ان سے مناجات نہیں کرتے۔
Jabir reported: The Messenger of Allah ﷺ said: He who eats garlic or onion should remain away from us or from our mosque and stay in his house. A kettle was brought to him which had (cooked) vegetables in it, He smelt (offensive) odour in it. On asking he was informed of the vegetables (cooked in it). He said: Take it to such and such Companion. When he saw it, he also disliked eating it. (Upon this), he (the Holy Prophet) said: You may eat it, for I converse with one with whom you do not converse.
لہسن پیاز اور بدبو دارچیز یا اس جیسی کوئی اور چیز کھا کر مسجد میں جانے کی ممانعت کے بیان میں جب تک کہ اس کی بدبو نہ چلی جائے اور یا مسجد سے نکل جائے۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَطَائٌ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَکَلَ مِنْ هَذِهِ الْبَقْلَةِ الثُّومِ و قَالَ مَرَّةً مَنْ أَکَلَ الْبَصَلَ وَالثُّومَ وَالْکُرَّاثَ فَلَا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا فَإِنَّ الْمَلَائِکَةَ تَتَأَذَّی مِمَّا يَتَأَذَّی مِنْهُ بَنُو آدَمَ
محمد بن حاتم، یحییٰ بن سعید، ابن جریج، عطا، جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ جس نے اس لہسن کے درخت میں سے کھایا اور ایک مرتبہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ جس نے پیاز، لہسن اور گندنا کھایا تو وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے کیونکہ فرشتے ان چیزوں سے تکلیف محسوس کرتے ہیں جن سے انسان تکلیف محسوس کرتے ہیں۔
Jabir bin Abdullah reported the Apostle of Allah ﷺ saying: He who eats of this (offensive) plant, i. e garlic, and sometimes he said: He who eats onion and garlic and leek, should not approach our mosque for the angels are harmed by the same things as the children of Adam.
لہسن پیاز اور بدبو دارچیز یا اس جیسی کوئی اور چیز کھا کر مسجد میں جانے کی ممانعت کے بیان میں جب تک کہ اس کی بدبو نہ چلی جائے اور یا مسجد سے نکل جائے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ قَالَ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَا جَمِيعًا أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مَنْ أَکَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ يُرِيدُ الثُّومَ فَلَا يَغْشَنَا فِي مَسْجِدِنَا وَلَمْ يَذْکُرْ الْبَصَلَ وَالْکُرَّاثَ
اسحاق بن ابراہیم، محمد بن بکر، محمد بن رافع، عبدالرزاق، ابن جریج اس سند کے ساتھ یہ روایت بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے لیکن اس میں پیاز اور گندنا کا ذکر نہیں ہے۔
Ibn Juraij has narrated it with the same chain of transmitters: He who eats of this plant, i. e. garlic, should not come to us in our mosque, and he made no mention of onions or leek.
لہسن پیاز اور بدبو دارچیز یا اس جیسی کوئی اور چیز کھا کر مسجد میں جانے کی ممانعت کے بیان میں جب تک کہ اس کی بدبو نہ چلی جائے اور یا مسجد سے نکل جائے۔
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ الْجُرَيْرِيِّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ لَمْ نَعْدُ أَنْ فُتِحَتْ خَيْبَرُ فَوَقَعْنَا أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي تِلْکَ الْبَقْلَةِ الثُّومِ وَالنَّاسُ جِيَاعٌ فَأَکَلْنَا مِنْهَا أَکْلًا شَدِيدًا ثُمَّ رُحْنَا إِلَی الْمَسْجِدِ فَوَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرِّيحَ فَقَالَ مَنْ أَکَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ الْخَبِيثَةِ شَيْئًا فَلَا يَقْرَبَنَّا فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ النَّاسُ حُرِّمَتْ حُرِّمَتْ فَبَلَغَ ذَاکَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّهُ لَيْسَ بِي تَحْرِيمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لِي وَلَکِنَّهَا شَجَرَةٌ أَکْرَهُ رِيحَهَا
عمرو ناقد، اسماعیل بن علیہ، جریری، ابی نضرہ، حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ ابھی تک ہم واپس نہ لوٹے تھے کہ خیبر فتح ہوگیا اس دن رسول اللہ ﷺ کے صحابہ اس لہسن کے درخت پر گرپڑے اور لوگ اس دن بھوکے تھے تو ہم نے بہت زیادہ لہسن کھالیا پھر ہم مسجد کی طرف آئے تو رسول اللہ ﷺ نے بدبو محسوس کی تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ جس نے اس خبیث درخت سے کچھ کھایا تو وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے لوگ کہنے لگے کہ لہسن حرام ہوگیا تو یہ بات نبی ﷺ تک پہنچی تو آپ ﷺ نے فرمایا اے لوگو میں اس چیز کو حرام نہیں کرتا جسے اللہ تعالیٰ نے میرے لئے حلال کردیا ہو لیکن یہ لہسن کا درخت ایسا ہے کہ اس کی بدبو مجھے ناپسند ہے۔
Abu Said reported: We made no transgression but Khaybar was conquered. We, the Companions of the Messenger of Allah ﷺ , fell upon this plant. i e. garlic. because the people were hungry. We ate it to our hearts content and then made our way towards the mosque. The Messenger of Allah ﷺ sensed its odour and he said: He who takes anything of this offensive plant must not approach us in the mosque. The people said: Its (use) has been forbidden; its (use) has been forbidden. This reached the Apostle of Allah ﷺ and he said: O people, I cannot forbid (the use of a thing) which Allah has made lawful, but (this garlic) is a plant the odour of which is repugnant to me.
لہسن پیاز اور بدبو دارچیز یا اس جیسی کوئی اور چیز کھا کر مسجد میں جانے کی ممانعت کے بیان میں جب تک کہ اس کی بدبو نہ چلی جائے اور یا مسجد سے نکل جائے۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَی قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو عَنْ بُکَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ عَنْ ابْنِ خَبَّابٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَی زَرَّاعَةِ بَصَلٍ هُوَ وَأَصْحَابُهُ فَنَزَلَ نَاسٌ مِنْهُمْ فَأَکَلُوا مِنْهُ وَلَمْ يَأْکُلْ آخَرُونَ فَرُحْنَا إِلَيْهِ فَدَعَا الَّذِينَ لَمْ يَأْکُلُوا الْبَصَلَ وَأَخَّرَ الْآخَرِينَ حَتَّی ذَهَبَ رِيحُهَا
ہارون بن سعید ایلی، احمد بن عیسی، ابن وہب، عمرو، بکیر بن اشج، ابن خباب، ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک مرتبہ اپنے صحابہ کے ساتھ پیاز کے کھیت پر سے گزرے ان میں سے کچھ لوگوں نے کھیت میں سے پیاز کھایا اور کچھ لوگوں نے نہیں کھایا پھر ہم آپ ﷺ کی طرف آگئے آپ نے ان لوگوں کو بلا لیا جنہوں نے پیاز نہیں کھایا اور دوسروں کو نہیں بلایا جب تک کہ اس کی بدبو نہ چلی گئی۔
Abu Said al-Khudri reported: The Messenger of Allah ﷺ along with his Companions happened to pass by a field in which onions were sown. The people stopped there and ate out of that, but some of them did not eat. Then they (Prophets Companions) went to him. He (first) called those who had not eaten the onions and kept the others (who had taken onions) waiting till its odour vanished.
لہسن پیاز اور بدبو دارچیز یا اس جیسی کوئی اور چیز کھا کر مسجد میں جانے کی ممانعت کے بیان میں جب تک کہ اس کی بدبو نہ چلی جائے اور یا مسجد سے نکل جائے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ خَطَبَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَذَکَرَ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَکَرَ أَبَا بَکْرٍ قَالَ إِنِّي رَأَيْتُ کَأَنَّ دِيکًا نَقَرَنِي ثَلَاثَ نَقَرَاتٍ وَإِنِّي لَا أُرَاهُ إِلَّا حُضُورَ أَجَلِي وَإِنَّ أَقْوَامًا يَأْمُرُونَنِي أَنْ أَسْتَخْلِفَ وَإِنَّ اللَّهَ لَمْ يَکُنْ لِيُضَيِّعَ دِينَهُ وَلَا خِلَافَتَهُ وَلَا الَّذِي بَعَثَ بِهِ نَبِيَّهُ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنْ عَجِلَ بِي أَمْرٌ فَالْخِلَافَةُ شُورَی بَيْنَ هَؤُلَائِ السِّتَّةِ الَّذِينَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَنْهُمْ رَاضٍ وَإِنِّي قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ أَقْوَامًا يَطْعَنُونَ فِي هَذَا الْأَمْرِ أَنَا ضَرَبْتُهُمْ بِيَدِي هَذِهِ عَلَی الْإِسْلَامِ فَإِنْ فَعَلُوا ذَلِکَ فَأُولَئِکَ أَعْدَائُ اللَّهِ الْکَفَرَةُ الضُّلَّالُ ثُمَّ إِنِّي لَا أَدَعُ بَعْدِي شَيْئًا أَهَمَّ عِنْدِي مِنْ الْکَلَالَةِ مَا رَاجَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَيْئٍ مَا رَاجَعْتُهُ فِي الْکَلَالَةِ وَمَا أَغْلَظَ لِي فِي شَيْئٍ مَا أَغْلَظَ لِي فِيهِ حَتَّی طَعَنَ بِإِصْبَعِهِ فِي صَدْرِي فَقَالَ يَا عُمَرُ أَلَا تَکْفِيکَ آيَةُ الصَّيْفِ الَّتِي فِي آخِرِ سُورَةِ النِّسَائِ وَإِنِّي إِنْ أَعِشْ أَقْضِ فِيهَا بِقَضِيَّةٍ يَقْضِي بِهَا مَنْ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَمَنْ لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ إِنِّي أُشْهِدُکَ عَلَی أُمَرَائِ الْأَمْصَارِ وَإِنِّي إِنَّمَا بَعَثْتُهُمْ عَلَيْهِمْ لِيَعْدِلُوا عَلَيْهِمْ وَلِيُعَلِّمُوا النَّاسَ دِينَهُمْ وَسُنَّةَ نَبِيِّهِمْ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَقْسِمُوا فِيهِمْ فَيْئَهُمْ وَيَرْفَعُوا إِلَيَّ مَا أَشْکَلَ عَلَيْهِمْ مِنْ أَمْرِهِمْ ثُمَّ إِنَّکُمْ أَيُّهَا النَّاسُ تَأْکُلُونَ شَجَرَتَيْنِ لَا أَرَاهُمَا إِلَّا خَبِيثَتَيْنِ هَذَا الْبَصَلَ وَالثُّومَ لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا وَجَدَ رِيحَهُمَا مِنْ الرَّجُلِ فِي الْمَسْجِدِ أَمَرَ بِهِ فَأُخْرِجَ إِلَی الْبَقِيعِ فَمَنْ أَکَلَهُمَا فَلْيُمِتْهُمَا طَبْخًا
محمد بن مثنی، یحییٰ بن سعید، ہشام، قتادہ، سالم بن ابی جعد، معدان بن ابی طلحہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب ؓ نے جمعہ کے دن اپنے خطبہ میں اللہ کے نبی ﷺ اور حضرت ابوبکر کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک مرغ نے مجھے تین ٹھونگیں ماریں اور میں اسے یہی خیال کرتا ہوں کہ میری موت قریب ہے کچھ لوگ مجھے کہتے ہیں کہ میں اپنا خلیفہ مقرر کر دوں کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے دین اور خلافت اور اس چیز کو جسے دے کر اپنے نبی ﷺ کو بھیجا ہے ضائع نہیں کرے گا اگر میری موت جلد ہی آجائے تو خلافت مشورہ کے بعد ان چھ حضرات کے درمیان رہے گی جن سے رسول اللہ ﷺ اپنی وفات تک راضی رہے اور میں جانتا ہوں کہ کچھ لوگ اس معاملہ میں جن کو خود میں نے اپنے ہاتھ سے مارا ہے اسلام پر طعن کریں گے اگر انہوں نے اس طرح کیا تو وہ اللہ تعالیٰ کے دشمن اور کافر گمراہ ہیں اور میں اپنے بعد کسی چیز کو اتنا اہم نہیں سمجھتا جتنا اہم میرے نزدیک کلالہ ہے اور میں نے رسول اللہ ﷺ سے کسی چیز کے بارے میں اتنا نہیں پوچھا جتنا کہ کلالہ کے بارے میں پوچھا اور آپ ﷺ نے کسی چیز میں اتنی سختی نہیں فرمائی جتنی کہ اس مسئلہ میں یہاں تک کہ آپ ﷺ نے اپنی انگلی مبارک میرے سینے میں ماری پھر فرمایا اے عمر کیا تجھے وہ آیت کافی نہیں جو گرمیوں کے موسم میں سورت النسا کے آخر میں نازل ہوئی (یَستَفتُونَکَ قُلِ اللہ یُفتِیکُم فِی الکَلا لَہ) آپ ﷺ سے حکم پوچھتے ہیں فرما دیں کہ اللہ تمہیں کلالہ کے بارے میں حکم دیتا ہے اور اگر میں زندہ رہا تو کلالہ کے بارے میں ایسا فیصلہ کروں گا جس کے متعلق ہر آدمی جس نے قرآن پڑھا ہو یا نہ پڑھا ہو اس کے بارے میں فیصلہ کرے گا پھر حضرت عمر ؓ نے فرمایا کہ اے اللہ تو ان لوگوں پر گواہ رہنا کہ جنہیں میں نے شہروں کی حکومت دی اور میں نے انہیں اسی لئے بھیجا ہے کہ وہ ان پر انصاف کریں اور ان لوگوں کو دین کی باتیں سکھائیں اور ان کو نبی ﷺ کی سنت سکھائیں اور جو مال غنیمت ان کو ملے اسے تقسیم کریں اور جس معاملہ میں کوئی مشکل پیش آئے تو میری طرف رجوع کریں پھر (فرمایا) اے لوگو! تم دو درختوں کو کھاتے ہو۔ میں ان کو خبیث سمجھتا ہوں، یہ درخت پیاز اور لہسن کے ہیں اور میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ جب آپ ﷺ مسجد میں ان درختوں کی کسی آدمی سے بدبو محسوس کرتے تو حکم فرماتے کہ اسے بقیع کی طرف نکال دیا جائے، تو جو آدمی انہیں کھائے تو خوب انہیں پکا کر ان کی بدبو مار دے۔
Madan bin Talha reported: Umar bin Khattab, delivered the Friday sermon and he made a mention of the Apostle of Allah ﷺ and Abu Bakr. He (further) said: I saw in a dream that a cock pecked me twice, and I perceive that my death is near. Some people have suggested me to appoint my successor. And Allah would not destroy His religion. His caliphate and that with which He sent His Apostle ﷺ If death approaches me soon, the (issue) of Caliphate (would be decided) by the consent of these six men with whom the Messenger of Allah ﷺ remained well pleased till his death. And I know fully well that some people would blame me that I killed with these very hands of mine some persons who apparently professed (Islam). And if they do this (blame me) they are the enemies of Allah, and are non-believers and have gone astray. And I leave not after me anything which to my mind seems more important than Kalala. And I never turned towards the Messenger of Allah ﷺ (for guidance) more often than this Kalala, and he (the Holy Prophet) was not annoyed with me on any other (issue) than this: (And he was so perturbed) that he struck his fingers on my chest and said: Does this verse. that is at the end of Surat al-Nisa. which was revealed in the hot season not suffice you? And if I live longer I would decide this (problem so clearly) that one who reads the Quran, or one who does not read it, would be able to take (correct), decisions (under its light). He (Umar) further said: Allah! I call You witness on these governors of lands, that I sent them to (the peoples of these lands) so that they should administer justice amongst them, teach them their religion and the Sunnah of the Apostle of Allah ﷺ , and distribute amongst them the spoils of war and refer to me that which they find difficult to perform. O people. you eat these two plants and these are onions and garlic. and I find them nothing but repugnant for I saw that when the Messenger of Allah ﷺ sensed the odour of these two from a person in a mosque, he was made to go to al-Baqi. So he who eats it should (make its odour) die by cooking it well.
لہسن پیاز اور بدبو دارچیز یا اس جیسی کوئی اور چیز کھا کر مسجد میں جانے کی ممانعت کے بیان میں جب تک کہ اس کی بدبو نہ چلی جائے اور یا مسجد سے نکل جائے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ قَالَ ح و حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ کِلَاهُمَا عَنْ شَبَابَةَ بْنِ سَوَّارٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ جَمِيعًا عَنْ قَتَادَةَ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ
ابوبکر بن ابی شیبہ، اسماعیل بن علیہ، سعید بن ابی عروبہ، زہیر بن حرب، اسحاق بن ابراہیم، حضرت قتادہ ؓ سے اس سند کے ساتھ یہ روایت بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے۔
This hadith has been narrated by Qatada with the same chain of transmitters.
مسجد میں گمشدہ چیز کو تلاش کرنے کی ممانعت کے بیان میں اور یہ کہ تلاش کرنے والے کو کیا کہنا چاہیے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنْ حَيْوَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَی شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ سَمِعَ رَجُلًا يَنْشُدُ ضَالَّةً فِي الْمَسْجِدِ فَلْيَقُلْ لَا رَدَّهَا اللَّهُ عَلَيْکَ فَإِنَّ الْمَسَاجِدَ لَمْ تُبْنَ لِهَذَا
ابوطاہر، احمد بن عمرو، ابن وہب، حیوہ، محمد بن عبدالرحمن، ابوعبداللہ مولی، شداد بن ہاد، حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو آدمی مسجد میں کسی آدمی کو اپنی گمشدہ چیز کو بلند آواز کے ساتھ تلاش کرتے ہوئے سنے تو اسے کہنا چاہیے کہ اللہ کرے تیری یہ چیز نہ ملے کیونکہ یہ مسجدیں اس لئے نہیں بنائی گئیں۔
Abu Hurairah (RA) reported: The Messenger of Allah ﷺ said: If anyone bears a man crying out in the mosque about something lie has lost, he should say: May Allah not restore it to you, for the mosques were not built for this.