ابتدائے اسلام میں تین دن کے بعد قربانیوں کا گوشت کھانے کی ممانعت اور پھر اس حکم کے منسوخ ہونے اور پھر جب تک چاہئے قربانی کا گوشت کھاتے رہنے کے جواز کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَی عَنْ أَکْلِ لُحُومِ الضَّحَايَا بَعْدَ ثَلَاثٍ ثُمَّ قَالَ بَعْدُ کُلُوا وَتَزَوَّدُوا وَادَّخِرُوا
یحییٰ بن یحیی، مالک، ابوزبیر،۔ حضرت جابر ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے تین دنوں کے بعد قربانیوں کا گوشت کھانے سے منع فرما دیا ہے پھر اس کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا تم کھاؤ اور زادراہ بناؤ اور جمع کرو۔
Jabir reported that Allahs Apostle ﷺ forbade eating of the flesh of sacrificed animals beyond three (days). but afterwards said: Eat, make a provision, and keep it.
ابتدائے اسلام میں تین دن کے بعد قربانیوں کا گوشت کھانے کی ممانعت اور پھر اس حکم کے منسوخ ہونے اور پھر جب تک چاہئے قربانی کا گوشت کھاتے رہنے کے جواز کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ح و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ کِلَاهُمَا عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَائٍ عَنْ جَابِرٍ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ حَدَّثَنَا عَطَائٌ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُا کُنَّا لَا نَأْکُلُ مِنْ لُحُومِ بُدْنِنَا فَوْقَ ثَلَاثِ مِنًی فَأَرْخَصَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ کُلُوا وَتَزَوَّدُوا قُلْتُ لِعَطَائٍ قَالَ جَابِرٌ حَتَّی جِئْنَا الْمَدِينَةَ قَالَ نَعَمْ
ابوبکر بن ابی شیبہ، علی بن مسہر، یحییٰ بن ایوب، ابن علیہ، ابن جریج، عطاء، جابر، محمد بن حاتم، یحییٰ بن سعید، ابن جریج، عطاء، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ فرماتے ہیں کہ منیٰ کے مقام پر ہم اپنی قربانیوں کا گوشت تین دنوں سے زیادہ نہیں کھاتے تھے پھر رسول اللہ ﷺ نے ہمیں اجازت عطاء فرما دی اور ارشاد فرمایا تم کھاؤ اور زادراہ بناؤ اور جمع کرو۔ میں نے حضرت عطاء ؓ سے کہا کہ حضرت جابر ؓ نے یہ بھی فرمایا کہ یہاں تک کہ ہم مدینہ منورہ میں آگئے انہوں نے کہا ہاں!
Jabir binAbdullah (RA) reported: We did not eat the flesh of our sacrificial animals beyond three days in Mina. Then Allahs Messenger ﷺ permitted us saying: Eat and make it a provision (for journey). I asked Ata whether Jabir had also said: Till we came to Madinah. He said: Yes.
ابتدائے اسلام میں تین دن کے بعد قربانیوں کا گوشت کھانے کی ممانعت اور پھر اس حکم کے منسوخ ہونے اور پھر جب تک چاہئے قربانی کا گوشت کھاتے رہنے کے جواز کے بیان میں
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا زَکَرِيَّائُ بْنُ عَدِيٍّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ عَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ کُنَّا لَا نُمْسِکُ لُحُومَ الْأَضَاحِيِّ فَوْقَ ثَلَاثٍ فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَتَزَوَّدَ مِنْهَا وَنَأْکُلَ مِنْهَا يَعْنِي فَوْقَ ثَلَاثٍ
اسحاق بن ابرہیم، زکریا، ابن عدی، عبیداللہ بن عمر، زید بن ابی انیسہ، عطاء بن ابی رباح، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ فرماتے ہیں کہ ہم قربانیوں کا گوشت تین دنوں سے زیادہ نہیں رکھتے تھے تو پھر ہمیں رسول اللہ ﷺ نے حکم فرمایا کہ ہم ان قربانیوں کے گوشت میں سے زادراہ بنائیں اور تین دن سے زیادہ کھا سکتے ہیں
Jabir bin Abdullah reported: We did not eat the flesh of sacrificed animals beyond three (days), but then Allahs Messenger ﷺ commanded us to make it a provision for journey and cat it (beyond three days).
ابتدائے اسلام میں تین دن کے بعد قربانیوں کا گوشت کھانے کی ممانعت اور پھر اس حکم کے منسوخ ہونے اور پھر جب تک چاہئے قربانی کا گوشت کھاتے رہنے کے جواز کے بیان میں
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرٍو عَنْ عَطَائٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ کُنَّا نَتَزَوَّدُهَا إِلَی الْمَدِينَةِ عَلَی عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ابوبکر بن ابی شیبہ، سفیان بن عیینہ، عمرو، عطاء، حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے زمانہ مبارک میں زادراہ کے طور پر مدینہ منورہ تک لے جایا کرتے تھے۔
Jabir reported: We made provision (out of the flesh of sacrificed animals for our journey) to Madinah during the lifetime of Allahs Messenger ﷺ .
ابتدائے اسلام میں تین دن کے بعد قربانیوں کا گوشت کھانے کی ممانعت اور پھر اس حکم کے منسوخ ہونے اور پھر جب تک چاہئے قربانی کا گوشت کھاتے رہنے کے جواز کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَی عَنْ الْجُرَيْرِيِّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَی حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ لَا تَأْکُلُوا لُحُومَ الْأَضَاحِيِّ فَوْقَ ثَلَاثٍ و قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّی ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ فَشَکَوْا إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ لَهُمْ عِيَالًا وَحَشَمًا وَخَدَمًا فَقَالَ کُلُوا وَأَطْعِمُوا وَاحْبِسُوا أَوْ ادَّخِرُوا قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّی شَکَّ عَبْدُ الْأَعْلَی
ابوبکر بن ابی شیبہ، عبدالاعلی، جریر، ابونضرہ، ابوسعید خدری، محمد بن مثنی، عبدالاعلی، سعید، قتادہ، ابونضرہ، حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اے مدینہ والو تم قربانیوں کا گوشت تین دنوں سے زیادہ نہ کھاؤ اور ابن مثنی کی روایت میں تین دنوں کا ذکر ہے صحابہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے اس کی شکایت کی کہ ان کے عیال اور نوکر چاکر ہیں تو آپ ﷺ نے فرمایا تم کھاؤ بھی اور کھلاؤ بھی اور جمع بھی کرلو یا رکھ چھوڑو ابن مثنی کہتے ہیں کہ ان لفظوں میں عبدالاعلی کو شک ہے۔
Abu Said al-Khudri reported Allahs Messenger ﷺ having said: O people of Madinah, do not eat the flesh of sacrificed animals beyond three days. Ibn al-Muthanni said: Three days. They (the Companions of the Holy Prophet) complained to the Messenger of Allah ﷺ (may peace he upon him) that they had children and servants of theirs (to feed), whereupon he said: Eat, and feed others, and store, and make it a provision of food.
ابتدائے اسلام میں تین دن کے بعد قربانیوں کا گوشت کھانے کی ممانعت اور پھر اس حکم کے منسوخ ہونے اور پھر جب تک چاہئے قربانی کا گوشت کھاتے رہنے کے جواز کے بیان میں
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَکْوَعِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ ضَحَّی مِنْکُمْ فَلَا يُصْبِحَنَّ فِي بَيْتِهِ بَعْدَ ثَالِثَةٍ شَيْئًا فَلَمَّا کَانَ فِي الْعَامِ الْمُقْبِلِ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ نَفْعَلُ کَمَا فَعَلْنَا عَامَ أَوَّلَ فَقَالَ لَا إِنَّ ذَاکَ عَامٌ کَانَ النَّاسُ فِيهِ بِجَهْدٍ فَأَرَدْتُ أَنْ يَفْشُوَ فِيهِمْ
اسحاق بن منصور، ابوعاصم، یزید بن ابی عبید، سلمہ بن اکوع، حضرت سلمہ بن اکوع ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے جو آدمی قربانی کرے تو تین دنوں کے بعد اس کے گھر میں اس کی قربانی میں سے کچھ بھی نہ رہے تو جب اگلا سال آیا تو صحابہ ؓ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ کیا ہم اس طرح کریں جس طرح پچھلے سال کیا تھا؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا نہیں کیونکہ اس سال ضرورت مند لوگ تھے تو میں نے چاہا کہ قربانیوں کے گوشت میں سے ان کو بھی مل جائے۔
Salama bin al-Akwa reported Allahs Messenger (way peace be upon him) having said: He who sacrifices (animal) among you nothing should be left in his house (out of its flesh) on the morning of the third day. When it was the next year they (his Companions) said: Should we do this year as we did daring the previous year? Thereupon he said: Dont do that, for that was a year when the people were hard pressed (on account of poverty). so I wanted that the (flesh) might be distributed amongst them.
ابتدائے اسلام میں تین دن کے بعد قربانیوں کا گوشت کھانے کی ممانعت اور پھر اس حکم کے منسوخ ہونے اور پھر جب تک چاہئے قربانی کا گوشت کھاتے رہنے کے جواز کے بیان میں
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِيسَی حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ ذَبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَحِيَّتَهُ ثُمَّ قَالَ يَا ثَوْبَانُ أَصْلِحْ لَحْمَ هَذِهِ فَلَمْ أَزَلْ أُطْعِمُهُ مِنْهَا حَتَّی قَدِمَ الْمَدِينَةَ
زہیر بن حرب، معن بن عیسی، معاویہ بن صالح، ابوزاہریہ، جبیر بن نفیر، حضرت ثوبان ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی قربانی ذبح فرمائی پھر آپ ﷺ نے فرمایا اے ثوبان اس قربانی کے گوشت کو سنبھال کر رکھو۔ ( حضرت ثوبان ؓ کہتے ہیں) کہ میں اس قربانی کے گوشت میں سے لگاتار مدینہ منورہ پہنچنے تک آپ ﷺ کو گوشت کھلاتا رہا۔
Thauban reported that Allahs Messenger (way peace be upon him) slaughtered his sacrificial animal and then said: Thauban, make his meat usable (for journey), and I continuously served him that until he arrived in Madinah.
ابتدائے اسلام میں تین دن کے بعد قربانیوں کا گوشت کھانے کی ممانعت اور پھر اس حکم کے منسوخ ہونے اور پھر جب تک چاہئے قربانی کا گوشت کھاتے رہنے کے جواز کے بیان میں
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَابْنُ رَافِعٍ قَالَا حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ کِلَاهُمَا عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ
ابوبکر بن ابوشیبہ، ابن رافع، زید بن حباب، اسحاق بن ابرہیم حنظلی، عبدالرحمن بن مہدی، حضرت معاویہ بن صالح سے اس سند کے ساتھ روایت نقل کی گئی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Muawiyah bin Salih with the same chain of transmitters.
ابتدائے اسلام میں تین دن کے بعد قربانیوں کا گوشت کھانے کی ممانعت اور پھر اس حکم کے منسوخ ہونے اور پھر جب تک چاہئے قربانی کا گوشت کھاتے رہنے کے جواز کے بیان میں
و حَدَّثَنِي إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا أَبُو مُسْهِرٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ حَمْزَةَ حَدَّثَنِي الزُّبَيْدِيُّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ أَصْلِحْ هَذَا اللَّحْمَ قَالَ فَأَصْلَحْتُهُ فَلَمْ يَزَلْ يَأْکُلُ مِنْهُ حَتَّی بَلَغَ الْمَدِينَةَ
اسحاق بن منصور، ابومسہر، یحییٰ بن حمزہ زبیدی، عبدالرحمن بن جبیربن نفیر، حضرت ثوبان ؓ مولیٰ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے حجہ الوداع کے موقع پر ارشاد فرمایا یہ گوشت سنبھال کر رکھ حضرت ثوبان کہتے ہیں کہ میں نے اس گوشت کو بنا کر رکھا آپ ﷺ مدینہ منورہ پہنچنے تک اسی میں سے کھاتے رہے۔
Thauban, the freed slave of Allahs Messenger ﷺ , reported: Allahs Messenger ﷺ said to me on the occasion of Hajjat-al-Wada (the Farewell Pilgrimage): Make the flesh usable. So I made it usable (for him) and he ate it constantly until he reached Madinah.
ابتدائے اسلام میں تین دن کے بعد قربانیوں کا گوشت کھانے کی ممانعت اور پھر اس حکم کے منسوخ ہونے اور پھر جب تک چاہئے قربانی کا گوشت کھاتے رہنے کے جواز کے بیان میں
و حَدَّثَنِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَکِ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ حَمْزَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَلَمْ يَقُلْ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ
عبداللہ بن عبدالرحمن دارمی، محمد بن مبارک حضرت یحییٰ بن حمزہ ؓ اس سند کے ساتھ بیان کرتے ہیں اور اس روایت میں حجہ الوداع کا ذکر نہیں ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Yabya bin Hamza with the same chain of transmitters, but he did not say: On the occasion of Hajjat-al-Wada.
ابتدائے اسلام میں تین دن کے بعد قربانیوں کا گوشت کھانے کی ممانعت اور پھر اس حکم کے منسوخ ہونے اور پھر جب تک چاہئے قربانی کا گوشت کھاتے رہنے کے جواز کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ قَالَ أَبُو بَکْرٍ عَنْ أَبِي سِنَانٍ و قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّی عَنْ ضِرَارِ بْنِ مُرَّةَ عَنْ مُحَارِبٍ عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ حَدَّثَنَا ضِرَارُ بْنُ مُرَّةَ أَبُو سِنَانٍ عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَيْتُکُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُورُوهَا وَنَهَيْتُکُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ فَوْقَ ثَلَاثٍ فَأَمْسِکُوا مَا بَدَا لَکُمْ وَنَهَيْتُکُمْ عَنْ النَّبِيذِ إِلَّا فِي سِقَائٍ فَاشْرَبُوا فِي الْأَسْقِيَةِ کُلِّهَا وَلَا تَشْرَبُوا مُسْکِرًا
ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن مثنی، محمد بن فضیل، ابوبکر، ابی سنان، ابن مثنی، ضرار بن مرہ، محارب، ابن بریدہ، حضرت عبداللہ بن بریدہ ؓ اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں نے تمہیں قبروں کی زیارت کرنے سے منع کیا تھا تو اب تم قبروں کی زیارت کرلیا کرو اور میں نے تمہیں تین دنوں سے زیادہ قربانیوں کا گوشت کھانے سے روکا تھا اب تم گوشت روکے رکھو جب تک تم چاہو اور میں نے تمہیں سوائے مشکیزے کے تمام برتنوں میں نبیذ کے استعمال سے روکا تھا تو اب تم تمام برتنوں میں پی لیا کرو اور نشے والی چیزیں نہ پیا کرو۔
Abdullah bin Buraida reported on the authority of his father that Allahs Messenger ﷺ said this: I prohibited you from visiting the graves, but (now) you may visit them, and I prohibited you (from eating) the flesh of sacrific- ed animals beyond three days, but now keep it as long as you like. I prohibited you from the use of Nabidh except (that preoared) in dry waterskins. Now drink (Nabidh prepared in any utensil), but do not drink when it becomes intoxicant.
ابتدائے اسلام میں تین دن کے بعد قربانیوں کا گوشت کھانے کی ممانعت اور پھر اس حکم کے منسوخ ہونے اور پھر جب تک چاہئے قربانی کا گوشت کھاتے رہنے کے جواز کے بیان میں
و حَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ حَدَّثَنَا الضَّحَّاکُ بْنُ مَخْلَدٍ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ کُنْتُ نَهَيْتُکُمْ فَذَکَرَ بِمَعْنَی حَدِيثِ أَبِي سِنَانٍ
حجاج بن شاعر، ضحاک بن مخلد، سفیان، علقمہ بن مرثد بن بریدہ، حضرت ابن بریدہ ؓ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں نے تمہیں منع کیا تھا اور پھر ابوسفیان کی حدیث کی طرح حدیث ذکر کی
Ibn Buraida, on the authority of his father, reported Allahs Messenger ﷺ having said this: I used to forbid you. The rest of the hadith is the same.
فرع اور عتیرہ کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی التَّمِيمِيُّ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرُونَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنَا و قَالَ ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا فَرَعَ وَلَا عَتِيرَةَ زَادَ ابْنُ رَافِعٍ فِي رِوَايَتِهِ وَالْفَرَعُ أَوَّلُ النِّتَاجِ کَانَ يُنْتَجُ لَهُمْ فَيَذْبَحُونَهُ
یحییٰ بن یحییٰ تمیمی، ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو ناقد، زہیر بن حرب، یحیی، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا نہ فرع کوئی چیز ہے اور نہ ہی عتیرہ کوئی چیز ابن رافع ؓ نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا ہے کہ فرع اونٹنی کا وہ پہلا بچہ ہے جسے مشرک لوگ ذبح کردیا کرتے تھے
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: (The sacrifice of Fara and Atira) has no (sanction in Islam). Ibn Rafi made this addition in his narration that Fara means the first-born young one of a camel.
اس بات کے بیان میں کہ جب ذی الحجہ کی پہلی تاریخ ہو اور آدمی کا قربانی کرنے کا ارادہ ہو تو اس کے لئے قربانی کرنے تک اپنے بالوں اور ناخنوں کا کٹوانا منع ہے۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَکِّيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ يُحَدِّثُ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا دَخَلَتْ الْعَشْرُ وَأَرَادَ أَحَدُکُمْ أَنْ يُضَحِّيَ فَلَا يَمَسَّ مِنْ شَعَرِهِ وَبَشَرِهِ شَيْئًا قِيلَ لِسُفْيَانَ فَإِنَّ بَعْضَهُمْ لَا يَرْفَعُهُ قَالَ لَکِنِّي أَرْفَعُهُ
ابن ابی عمر مکی، سفیان، عبدالرحمن بن حمید بن عبدالرحمن بن عوف، سعید بن مسیب، حضرت ام سلمہ ؓ بیان فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا جب ماہ ذی الحجہ کا عشرہ شروع ہوجائے اور تم میں سے کسی کا قربانی کرنے کا ارادہ ہو تو وہ اپنے بالوں اور ناخنوں میں سے کچھ نہ لے حضرت سفیان سے کہا گیا کہ بعض حضرات تو اس حدیث کو مرفوع بیان نہیں کرتے تو انہوں نے فرمایا کہ میں تو اس حدیث کو مرفوع بیان کرتا ہوں۔
Umm Salamah reported Allahs Messenger ﷺ having said this: When any one of you intending to sacrifice the animal enters in the month (of Dhul-Hijja) he should not get his hair or nails touched (cut). It was said to Sufyan that some of the (scholars) did not deem this hadith to be Maffu. He said: But I deem it as Marfu (i. e. chain of narration traceable right up to the Holy Prophet).
اس بات کے بیان میں کہ جب ذی الحجہ کی پہلی تاریخ ہو اور آدمی کا قربانی کرنے کا ارادہ ہو تو اس کے لئے قربانی کرنے تک اپنے بالوں اور ناخنوں کا کٹوانا منع ہے۔
و حَدَّثَنَاه إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ تَرْفَعُهُ قَالَ إِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ وَعِنْدَهُ أُضْحِيَّةٌ يُرِيدُ أَنْ يُضَحِّيَ فَلَا يَأْخُذَنَّ شَعْرًا وَلَا يَقْلِمَنَّ ظُفُرًا
اسحاق بن ابراہیم، سفیان، عبدالرحمن بن حمید بن عبدالرحمن بن عوف، سعید بن مسیب، حضرت ام سلمہ ؓ سے مرفوعاً روایت ہے کہ فرماتی ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا جب ماہ ذی الحجہ کا پہلا عشرہ شروع ہوجائے اور اس کے پاس قربانی کا جانور موجود ہو اور وہ اس کی قربانی بھی کرنا چاہتا ہو تو وہ اپنے بالوں کو نہ کٹوائے اور نہ ہی اپنے ناخنوں کو ترشوائے۔
Umm Salamah reported Allahs Apostle ﷺ as saying: If anyone of you intends to offer sacrifice he should not get his hair cut or nails trimmed.
اس بات کے بیان میں کہ جب ذی الحجہ کی پہلی تاریخ ہو اور آدمی کا قربانی کرنے کا ارادہ ہو تو اس کے لئے قربانی کرنے تک اپنے بالوں اور ناخنوں کا کٹوانا منع ہے۔
و حَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ الْعَنْبَرِيُّ أَبُو غَسَّانَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا رَأَيْتُمْ هِلَالَ ذِي الْحِجَّةِ وَأَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يُضَحِّيَ فَلْيُمْسِكْ عَنْ شَعْرِهِ وَأَظْفَارِهِ
حجاج بن شاعر، یحییٰ بن کثیر عنبر، ابوغسان، شعبہ، مالک بن انس، عمر بن مسلم، سعید بن مسیب، حضرت ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جب تم ماہ ذی الحجہ کا چاند دیکھ لو اور تم میں سے کسی کا قربانی کرنے کا ارادہ ہو تو اسے چاہیے کہ وہ اپنے بالوں اور ناخنوں کو روکے رکھے۔
Umm Salamah reported (these words) directly from Allahs Messenger ﷺ : If anyone has in his possession a sacrificial animal to offer as a sacrifice (on Id al-Adha), he should not get his hair cut and nails trimmed after he has entered the first days of Dhul Hijja
اس بات کے بیان میں کہ جب ذی الحجہ کی پہلی تاریخ ہو اور آدمی کا قربانی کرنے کا ارادہ ہو تو اس کے لئے قربانی کرنے تک اپنے بالوں اور ناخنوں کا کٹوانا منع ہے۔
و حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَکَمِ الْهَاشِمِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ عُمَرَ أَوْ عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ
احمد بن عبداللہ بن حکم ہاشمی، محمد بن جعفر، شعبہ، مالک بن انس، حضرت عمر ؓ یا حضرت عمرو بن مسلم ؓ سے اس سند کے ساتھ اسی طرح روایت نقل کی گئی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Amr bin Muslim with the same chain of transmitters.
اس بات کے بیان میں کہ جب ذی الحجہ کی پہلی تاریخ ہو اور آدمی کا قربانی کرنے کا ارادہ ہو تو اس کے لئے قربانی کرنے تک اپنے بالوں اور ناخنوں کا کٹوانا منع ہے۔
و حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو اللَّيْثِيُّ عَنْ عُمَرَ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ أُکَيْمَةَ اللَّيْثِيِّ قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ يَقُولُ سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ کَانَ لَهُ ذِبْحٌ يَذْبَحُهُ فَإِذَا أُهِلَّ هِلَالُ ذِي الْحِجَّةِ فَلَا يَأْخُذَنَّ مِنْ شَعْرِهِ وَلَا مِنْ أَظْفَارِهِ شَيْئًا حَتَّی يُضَحِّيَ
عبیداللہ بن معاذ عنبری، ابومحمد بن عمرولیثی، عمرو بن مسلم بن عمارہ بن اکیمہ لیثی، سعید بن مسیب، حضرت ام سلمہ ؓ نبی ﷺ کی زوجہ مطہرہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جس آدمی کے پاس (قربانی کا جانور) ذبح کرنے کے لئے ہو تو جب وہ ذی الحجہ کا چاند دیکھ لے تو وہ اس وقت تک اپنے بالوں اور ناخنوں کو نہ کٹوائے جب تک کہ قربانی نہ کرلے۔
Umm Salamah, the wife of Allahs Apostle ﷺ , reported Allahs Messenger ﷺ to have said: He who has a sacrificial animal with him whom (he intends) to offer as sacrifice, and he enters the month of DhuI-Hijja, he should not get his hair cut or nails trimmed until he has sacrificed the animal.
اس بات کے بیان میں کہ جب ذی الحجہ کی پہلی تاریخ ہو اور آدمی کا قربانی کرنے کا ارادہ ہو تو اس کے لئے قربانی کرنے تک اپنے بالوں اور ناخنوں کا کٹوانا منع ہے۔
حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُسْلِمِ بْنِ عَمَّارٍ اللَّيْثِيُّ قَالَ کُنَّا فِي الْحَمَّامِ قُبَيْلَ الْأَضْحَی فَاطَّلَی فِيهِ نَاسٌ فَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْحَمَّامِ إِنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ يَکْرَهُ هَذَا أَوْ يَنْهَی عَنْهُ فَلَقِيتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لَهُ فَقَالَ يَا ابْنَ أَخِي هَذَا حَدِيثٌ قَدْ نُسِيَ وَتُرِکَ حَدَّثَتْنِي أُمُّ سَلَمَةَ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَی حَدِيثِ مُعَاذٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو
حسن بن علی حلوانی، ابواسامہ، محمد بن عمر، لیث، حضرت عمر بن مسلم عمار لیثی ؓ فرماتے ہیں کہ عیدالاضحی سے کچھ پہلے ہم حمام میں تھے کہ اس میں کچھ لوگوں نے چونے سے اپنے بالوں کو صاف کرلیا تو حمام والوں میں سے بعض لوگ کہنے لگے کہ حضرت سعید ؓ بن مسیب تو اس کو ناپسند سمجھتے ہیں یا اس سے روکتے ہیں کہتے ہیں کہ میں حضرت سعید بن مسیب ؓ سے ملا اور ان سے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا اے میرے بھتیجے یہ تو حدیث ہے جسے لوگوں نے بھلا دیا ہے یا اسے چھوڑ دیا ہے مجھ سے حضرت ام سلمہ ؓ نبی ﷺ کی زوجہ مطہرہ نے بیان کیا ہے جس طرح کہ معاذ عن محمد بن عمرو کی روایت میں گزر چکا ہے۔
Amr bin Muslim bin Ammar al-Laithi reported: While we were in a bathroom just before Id al-Adha some of the persons tried to remove the hair with the help of hair-removing chemicals. Thereupon some of the people owning the bath (or some of the people sitting therein) said that Said bin Musayyib did not approve of it, or he prohibited it. Then I met Said bin Musayyib and made a mention of that to him, whereupon he said: O my nephew, this is the hadith which has been forgotten, and abandoned. Umm Salamah, the wife of Allahs Apostle ﷺ , narrated to me Allahs Messenger ﷺ having said as narrated above.
اس بات کے بیان میں کہ جب ذی الحجہ کی پہلی تاریخ ہو اور آدمی کا قربانی کرنے کا ارادہ ہو تو اس کے لئے قربانی کرنے تک اپنے بالوں اور ناخنوں کا کٹوانا منع ہے۔
و حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَخِي ابْنِ وَهْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ أَخْبَرَنِي خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ مُسْلِمٍ الْجُنْدَعِيِّ أَنَّ ابْنَ الْمُسَيَّبِ أَخْبَرَهُ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ وَذَکَرَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَی حَدِيثِهِمْ
حرملہ بن یحیی، احمد بن عبدالرحمن بن اخی بن وہب، عبداللہ بن وہب، حیوہ، خالد بن یزید، سعید بن ابی ہلال، حضرت عمر بن مسلم جندعی سے روایت ہے کہ حضرت ابن مسیب ؓ خبر دیتے ہیں کہ حضرت ام سلمہ ؓ نبی ﷺ کی زوجہ مطہرہ خبر دیتی ہیں اور نبی ﷺ سے مذکورہ حدیث کی طرح ذکر کیا۔
Amr bin Muslim al-Jundani reported that Ibn Musayyib had told him that it was Umm Salamah, the wife of Allahs Apostle ﷺ , who had informed him of that as narrated above.