علم کا بیان

Sahih Muslim · Chapter 49 · 30 hadiths · Page 2 of 2

6795Sahih Muslim

آخر زمانہ میں علم کے قبض ہونے اور اٹھ جانے جہالت اور فتنوں کے ظاہر ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ وَابْنُ حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ يَعْنُونَ ابْنَ جَعْفَرٍ عَنْ الْعَلَائِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ وَأَبُو کُرَيْبٍ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ حَنْظَلَةَ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ح و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ عَنْ أَبِي يُونُسَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ کُلُّهُمْ قَالَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ غَيْرَ أَنَّهُمْ لَمْ يَذْکُرُوا وَيُلْقَی الشُّحُّ

یحییٰ بن ایوب، قتیبہ بن حجر اسماعیل ابن جعفر علاء، ابن نمیر، ابوکریب عمرو ناقد اسحاق بن سلیمان حنظلہ سالم محمد بن رافع عبدالرزاق، معمر، ہمام بن منبہ ابوطاہر ابن وہب، عمرو بن حارث، ابی یونس ابوہریرہ، ان اسناد سے بھی یہ حدیث مبارکہ اسی طرح مروی ہے لیکن ان میں بخل کے ڈالے جانے کا ذکر نہیں کیا گیا۔

This hadith has been transmitted on the authority of Abu Hurairah (RA) through other chains of narrators and there is no mention of: "Miserliness would be put (in the hearts of the people)."

6796Sahih Muslim

آخر زمانہ میں علم کے قبض ہونے اور اٹھ جانے جہالت اور فتنوں کے ظاہر ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ سَمِعْتَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ يَقُولُا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ لَا يَقْبِضُ الْعِلْمَ انْتِزَاعًا يَنْتَزِعُهُ مِنْ النَّاسِ وَلَکِنْ يَقْبِضُ الْعِلْمَ بِقَبْضِ الْعُلَمَائِ حَتَّی إِذَا لَمْ يَتْرُکْ عَالِمًا اتَّخَذَ النَّاسُ رُئُوسًا جُهَّالًا فَسُئِلُوا فَأَفْتَوْا بِغَيْرِ عِلْمٍ فَضَلُّوا وَأَضَلُّوا

قتیبہ بن سعید، جریر، ہشام بن عروہ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ علم کو لوگوں سے چھین کر نہیں اٹھائے گا بلکہ علم کو علماء کے اٹھا لینے کے ذریعہ سے قبض کیا جائے گا یہاں تک کہ جب کوئی عالم نہیں رہے گا تو لوگ جاہلوں کو اپنا سردار بنالیں گے پس ان سے پوچھا جائے گا تو وہ بغیر علم کے فتوی دیں گے پس وہ خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے۔

Abdullah bin Amr bin al-As reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Verily, Allah does not take away knowledge by snatching it from the people but He takes away knowledge by taking away the scholars, so that when He leaves no learned person, people turn to ignorant as their leaders; then they are asked to deliver religious verdicts and they deliver them without knowledge, they go astray, and lead others astray.

6797Sahih Muslim

آخر زمانہ میں علم کے قبض ہونے اور اٹھ جانے جہالت اور فتنوں کے ظاہر ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَکِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ح و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا وَکِيعٌ ح و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ وَأَبُو أُسَامَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ وَعَبْدَةُ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ح و حَدَّثَنِي أَبُو بَکْرِ بْنُ نَافِعٍ قَالَ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ ح و حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ کُلُّهُمْ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ جَرِيرٍ وَزَادَ فِي حَدِيثِ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ ثُمَّ لَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو عَلَی رَأْسِ الْحَوْلِ فَسَأَلْتُهُ فَرَدَّ عَلَيْنَا الْحَدِيثَ کَمَا حَدَّثَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ

ابوربیع عتکی حماد بن زید یحییٰ بن یحیی، عباد بن عباد ابومعاویہ ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، وکیع، ابوکریب ؓ ابن ادریس ابواسامہ ابن نمیر، عبدہ ابن ابی عمر سفیان، محمد بن حاتم، یحییٰ بن سعید ابوبکر بن نافع عمر بن علی عبد بن حمید یزید بن ہارون، شیعبہ بن حجاج ہشام بن عروہ عبداللہ بن عمروان اسناد سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے البتہ عمرو بن علی ؓ کی حدیث میں ہے کہ پھر میں نے عبداللہ بن عمرو سے ملاقات کی تو ان سے میں نے اس حدیث کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے ہمارے سامنے اس حدیث کو اسی طرح دہرایا جس طرح پہلے بیان کیا تھا اور کہا میں نے رسول اللہ کو فرماتے ہوئے سنا۔

This hadith has been narrated on the authority of Abdullah bin Umar (RA) through other chains of transmitters, but in the hadith transmitted by Umar bin Ali there is an addition of these words: I met Abdullah bin Amr at the end of the year and I asked him about it, and he narrated to us the hadith as he had narrated before that he had heard Allahs Messenger ﷺ as saying.... (The rest of the hadith is the same).

6798Sahih Muslim

آخر زمانہ میں علم کے قبض ہونے اور اٹھ جانے جہالت اور فتنوں کے ظاہر ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُمْرَانَ عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنِي أَبِي جَعْفَرٌ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَکَمِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ

محمد بن مثنی، عبداللہ بن حمران عبدالحمید بن جعفر ابی جعفر عمر بن حکم حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص نے نبی ﷺ سے اسی طرح حدیث روایت کی ہے۔

This hadith has been narrated on the authority of Abdullah bin Amr (RA) bin al-As through another chain of transmitters.

6799Sahih Muslim

آخر زمانہ میں علم کے قبض ہونے اور اٹھ جانے جہالت اور فتنوں کے ظاہر ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی التُّجِيبِيُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنِي أَبُو شُرَيْحٍ أَنَّ أَبَا الْأَسْوَدِ حَدَّثَهُ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ قَالَتْ لِي عَائِشَةُ يَا ابْنَ أُخْتِي بَلَغَنِي أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو مَارٌّ بِنَا إِلَی الْحَجِّ فَالْقَهُ فَسَائِلْهُ فَإِنَّهُ قَدْ حَمَلَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِلْمًا کَثِيرًا قَالَ فَلَقِيتُهُ فَسَائَلْتُهُ عَنْ أَشْيَائَ يَذْکُرُهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عُرْوَةُ فَکَانَ فِيمَا ذَکَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ لَا يَنْتَزِعُ الْعِلْمَ مِنْ النَّاسِ انْتِزَاعًا وَلَکِنْ يَقْبِضُ الْعُلَمَائَ فَيَرْفَعُ الْعِلْمَ مَعَهُمْ وَيُبْقِي فِي النَّاسِ رُئُوسًا جُهَّالًا يُفْتُونَهُمْ بِغَيْرِ عِلْمٍ فَيَضِلُّونَ وَيُضِلُّونَ قَالَ عُرْوَةُ فَلَمَّا حَدَّثْتُ عَائِشَةَ بِذَلِکَ أَعْظَمَتْ ذَلِکَ وَأَنْکَرَتْهُ قَالَتْ أَحَدَّثَکَ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ هَذَا قَالَ عُرْوَةُ حَتَّی إِذَا کَانَ قَابِلٌ قَالَتْ لَهُ إِنَّ ابْنَ عَمْرٍو قَدْ قَدِمَ فَالْقَهُ ثُمَّ فَاتِحْهُ حَتَّی تَسْأَلَهُ عَنْ الْحَدِيثِ الَّذِي ذَکَرَهُ لَکَ فِي الْعِلْمِ قَالَ فَلَقِيتُهُ فَسَائَلْتُهُ فَذَکَرَهُ لِي نَحْوَ مَا حَدَّثَنِي بِهِ فِي مَرَّتِهِ الْأُولَی قَالَ عُرْوَةُ فَلَمَّا أَخْبَرْتُهَا بِذَلِکَ قَالَتْ مَا أَحْسَبُهُ إِلَّا قَدْ صَدَقَ أَرَاهُ لَمْ يَزِدْ فِيهِ شَيْئًا وَلَمْ يَنْقُصْ

حرملہ بن یحییٰ عبداللہ بن وہب، ابوشریح ابواسود ؓ حضرت عروہ بن زبیر ؓ سے روایت ہے کہ مجھے سیدہ عائشہ ؓ نے کہا اے میرے بھانجے مجھے یہ خبر بھی پہنچی ہے کہ حضرت ابن عمر ؓ حج کے موقعہ پر ہمارے پاس سے گزرنے والے ہیں پس تو ان سے مل کر ان سے پوچھنا کیونکہ انہوں نے نبی ﷺ سے بہت سا علم حاصل کیا ہے کہتے ہیں میں نے ان سے ملاقات کی اور ان سے چند چیزوں کے بارے میں سوال کیا جنہیں وہ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے تھے عروہ نے کہا کہ اسی دوران انہوں نے روایت کیا ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ علم کو لوگوں کے اٹھانے کے ساتھ نہیں اٹھائیں گے بلکہ علماء کو اٹھا لیا جائے گا اور ان کے ساتھ ہی علم بھی اٹھ جائے گا اور لوگوں میں جاہل سردار رہ جائیں گے جو انہیں علم کے بغیر فتوی دیں گے وہ خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے عروہ نے کہا جب میں نے یہ حدیث عائشہ ؓ سے روایت کی تو انہیں اس سے تعجب ہوا اور انکار کردیا اور کہا کہ اس نے تجھ سے اس طرح روایت کیا ہے کہ اس نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا؟ عروہ نے کہا یہاں تک کہ آنے والا سال آیا تو سیدہ ؓ نے اس سے کہا کہ ابن عمرو آ چکے ہیں آپ ان سے ملیں اور سلسلہ کلام شروع کرنے کے بعد ان سے اسی حدیث کے بارے میں دریافت کریں جو انہوں نے تجھ سے علم کے بارے میں روایت کی تھی میں نے ان سے سوال کیا تو انہوں نے مجھے یہ اسی طرح بیان کیا جس طرح پہلی مرتبہ روایت کی تھی عروہ نے کہا جب میں نے سیدہ کو اس بات کی خبر دی تو سیدہ نے کہا میں انہیں سچا ہی گمان کرتی ہوں اور میرا خیال ہے کہ انہوں نے اس حدیث میں کوئی چیز زیادہ یا کم نہیں کی۔

Urwa bin Zubair reported that Aisha said to him: This news has reached me that Abdullah bin Amr al-As would pass by us during the Hajj season, so you meet him and ask him (about religious matters) as he has acquired great knowledge from Allahs Messenger ﷺ . I thus met him and asked him about things which he narrated from Allahs Messenger ﷺ . And amongst these the one he mentioned was that Allahs Apostle ﷺ said: Verily, Allah does not take away knowledge from people directly but he takes away the scholars and consequently takes away (knowledge) along with them and leaves amongst persons the ignorant as their leaders who deliver religious verdicts without (adequate) knowledge and themselves go astray and lead others astray. Urwa said: When I narrated this to Aisha, she deemed it too much (to believe) and thus showed reluctance to accept that (as perfectly true) and said to Urwa (RA) : Did he (Abdullah bin Amr) say to you that he had heard Allahs Apostle ﷺ as saying: (Urwa had forgotten to ask this from Abdullah bin Amr). So when it was the next year, she (Aisha) said to him (Urwa): Ibn Amr has come (for Hajj), so meet him, talk to him and ask him about this hadith that he narrated to you (last year on the occasion of the Hajj) pertaining to knowledge. He (Urwa), said: So I met him, and asked about it and he narrated to me exactly like one that he had narrated (to me) for the first time. So when I informed her (Aisha) about that, she said: I do not think but this that he has certainly told the truth and I find that he has neither made any addition to it, nor missed anything from it.

6800Sahih Muslim

اچھے یا برے طریقہ کی ابتداء کرنے والے اور ہدایت یا گمراہی کی طرف بلانے والے کے بیان میں

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ مُوسَی بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ وَأَبِي الضُّحَی عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هِلَالٍ الْعَبْسِيِّ عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ جَائَ نَاسٌ مِنْ الْأَعْرَابِ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ الصُّوفُ فَرَأَی سُوئَ حَالِهِمْ قَدْ أَصَابَتْهُمْ حَاجَةٌ فَحَثَّ النَّاسَ عَلَی الصَّدَقَةِ فَأَبْطَئُوا عَنْهُ حَتَّی رُئِيَ ذَلِکَ فِي وَجْهِهِ قَالَ ثُمَّ إِنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ جَائَ بِصُرَّةٍ مِنْ وَرِقٍ ثُمَّ جَائَ آخَرُ ثُمَّ تَتَابَعُوا حَتَّی عُرِفَ السُّرُورُ فِي وَجْهِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ سَنَّ فِي الْإِسْلَامِ سُنَّةً حَسَنَةً فَعُمِلَ بِهَا بَعْدَهُ کُتِبَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِ مَنْ عَمِلَ بِهَا وَلَا يَنْقُصُ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئٌ وَمَنْ سَنَّ فِي الْإِسْلَامِ سُنَّةً سَيِّئَةً فَعُمِلَ بِهَا بَعْدَهُ کُتِبَ عَلَيْهِ مِثْلُ وِزْرِ مَنْ عَمِلَ بِهَا وَلَا يَنْقُصُ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْئٌ

زہیر بن حرب، جریر، بن عبد الحمید اعمش، موسیٰ بن عبداللہ بن یزید ابی ضحی عبدالرحمن بن ہلال عیسیٰ حضرت جریر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں کچھ دیہاتی آدمی اونی کپڑے پہنے ہوئے حاضر ہوئے آپ نے ان کی بدحالی دیکھ کر ان کی حاجت و ضرورت کا اندازہ لگا لیا آپ ﷺ نے لوگوں کو صدقہ کرنے کی ترغیب دی پس لوگوں نے صدقہ میں کچھ دیر کی تو آپ ﷺ کے چہرہ اقدس پر کچھ ناراضگی کے آثار نموادر ہوئے پھر انصار میں سے ایک آدمی دراہم کی تھیلی لے کر حاضر ہوا پھر دوسرا آیا پھر صحابہ نے متواتر اتباع شروع کردی یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ کے چہرہ اقدس پر خوشی کے آثار ظاہر ہونے لگے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے اسلام میں کوئی اچھا طریقہ رائج کیا پھر اس کے بعد اس پر عمل کیا گیا تو اس کے لئے اس عمل کرنے والے کے برابر ثواب لکھا جائے گا اور ان کے ثواب میں سے کچھ کمی نہ کی جائے گی اور جس آدمی نے اسلام میں کوئی برا طریقہ رائج کیا پھر اس پر عمل کیا گیا تو اس پر اس عمل کرنے والے کے گناہ کے برابر گناہ لکھا جائے گا اور عمل کرنے والوں کے گناہ میں کوئی کمی نہ کی جائے گی۔

Jarir bin Abdullah reported that some desert Arabs clad in woollen clothes came to Allahs Messenger ﷺ . He saw them in sad plight as they had been hard pressed by need. He (the Holy Prophet) exhorted people to give charity, but they showed some reluctance until (signs) of anger could be seen on his face. Then a person from the Ansar came with a purse containing silver. Then came another person and then other persons followed them in succession until signs of happiness could be seen on his (sacred) face. Thereupon Allahs Messenger ﷺ said: He who introduced some good practice in Islam which was followed after him (by people) he would be assured of reward like one who followed it, without their rewards being diminished in any respect. And he who introduced some evil practice in Islam which had been followed subsequently (by others), he would be required to bear the burden like that of one who followed this (evil practice) without theirs being diminished in any respect.

6801Sahih Muslim

اچھے یا برے طریقہ کی ابتداء کرنے والے اور ہدایت یا گمراہی کی طرف بلانے والے کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ جَمِيعًا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ مُسْلِمٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هِلَالٍ عَنْ جَرِيرٍ قَالَ خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَثَّ عَلَی الصَّدَقَةِ بِمَعْنَی حَدِيثِ جَرِيرٍ

یحییٰ بن یحیی، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب ابی معاویہ، اعمش، مسلم عبدالرحمن بن ہلال حضرت جریر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خطبہ ارشاد فرمایا اور صدقہ کی ترغیب دی باقی حدیث مبارکہ اسی طرح ہے۔

Jarir reported that Allahs Messenger ﷺ delivered an address in which he exhorted people to give charity.

6802Sahih Muslim

اچھے یا برے طریقہ کی ابتداء کرنے والے اور ہدایت یا گمراہی کی طرف بلانے والے کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي إِسْمَعِيلَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ هِلَالٍ الْعَبْسِيُّ قَالَ قَالَ جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَسُنُّ عَبْدٌ سُنَّةً صَالِحَةً يُعْمَلُ بِهَا بَعْدَهُ ثُمَّ ذَکَرَ تَمَامَ الْحَدِيثِ

محمد بن بشار، یحییٰ ابن سعید محمد بن ابی اسماعیل عبدالرحمن بن ہلال عیسیٰ حضرت جریر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو آدمی کسی بھی نیک طریقہ کو رائج کرتا ہے جس پر اس کے بعد عمل کیا جاتا ہے باقی حدیث مبارکہ اسی طرح ذکر کی۔

Jarir bin Abdullah reported Allahs Messenger ﷺ as saying: The servant does not introduce good practice which is followed after him.... The rest of the hadith is the same.

6803Sahih Muslim

اچھے یا برے طریقہ کی ابتداء کرنے والے اور ہدایت یا گمراہی کی طرف بلانے والے کے بیان میں

حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ وَأَبُو کَامِلٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِکِ الْأُمَوِيُّ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ الْمُنْذِرِ بْنِ جَرِيرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ح و حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي قَالُوا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ عَنْ الْمُنْذِرِ بْنِ جَرِيرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ

عبیداللہ بن عمر قواریری ابوکامل محمد بن عبدالملک اموی ابوعوانہ، عبدالملک بن عمیر محمد بن مثنی، محمد بن جعفر، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابواسامہ ؓ عبیداللہ بن معاذابی شعبہ، عون بن ابی جحیفہ منذر بن جریر، ان اسناد سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے۔

Jarir transmitted this hadith from his father through another chain of narrators.

6804Sahih Muslim

اچھے یا برے طریقہ کی ابتداء کرنے والے اور ہدایت یا گمراہی کی طرف بلانے والے کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَابْنُ حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ يَعْنُونَ ابْنَ جَعْفَرٍ عَنْ الْعَلَائِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ دَعَا إِلَی هُدًی کَانَ لَهُ مِنْ الْأَجْرِ مِثْلُ أُجُورِ مَنْ تَبِعَهُ لَا يَنْقُصُ ذَلِکَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا وَمَنْ دَعَا إِلَی ضَلَالَةٍ کَانَ عَلَيْهِ مِنْ الْإِثْمِ مِثْلُ آثَامِ مَنْ تَبِعَهُ لَا يَنْقُصُ ذَلِکَ مِنْ آثَامِهِمْ شَيْئًا

یحییٰ بن ایوب قتیبہ بن سعید، ابن حجر اسماعیل ابن جعفر علاء، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے کسی کو ہدایت کی دعوت دی تو اس کے لئے اس کی پیروی کرنے والے کے برابر ثواب ہوگا اور ان کے ثواب میں سے کچھ بھی کمی نہ کی جائے گی اور جس نے گمراہی کی طرف دعوت دی تو اس کے لئے اس کی پیروی کرنے والے کے برابر گناہ ہوگا اور ان کے گناہوں میں سے کچھ بھی کمی نہ کی جائے گی۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: He who called (people) to righteousness, there would be reward (assured) for him like the rewards of those who adhered to it, without their rewards being diminished in any respect. And he who called (people) to error, he shall have to carry (the burden) of its sin, like those who committed it, without their sins being diminished in any respect.