روزوں کا بیان

Sahih Muslim · Chapter 15 · 285 hadiths · Page 2 of 15

2515Sahih Muslim

چاند دیکھ کر رمضان المبارک کے روزے رکھنا اور چاند دیکھ کر عید الفطر کرنا اور اگر بادل ہوں تو تیس دن کے روزے پورے کرنا۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلَّامٍ الْجُمَحِيُّ حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ عَنْ مُحَمَّدٍ وَهُوَ ابْنُ زِيَادٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ فَإِنْ غُمِّيَ عَلَيْکُمْ فَأَکْمِلُوا الْعَدَدَ

عبدالرحمن، بن سلام الجمحی، ربیع، ابن مسلم عن محمد، ابن زیاد، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا تم چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر افطار کرو اور اگر مطلع ابرآلود ہو تو تم روزوں کی تعداد پوری کرو۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Observe fast on sighting it (the new moon) and break (fast) on sighting it (the new moon), but if the sky is cloudy for you, then complete the number (of thirty).

2516Sahih Muslim

چاند دیکھ کر رمضان المبارک کے روزے رکھنا اور چاند دیکھ کر عید الفطر کرنا اور اگر بادل ہوں تو تیس دن کے روزے پورے کرنا۔

و حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ فَإِنْ غُمِّيَ عَلَيْکُمْ الشَّهْرُ فَعُدُّوا ثَلَاثِينَ

عبیداللہ بن معاذ، شعبہ، محمد بن زیاد، حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر افطار (عید) کرو تو اگر تم پر مہینہ پوشیدہ رہے تو تم تیس (روزوں) کی تعداد پوری کرو۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Observe fast on sighting it (the new moon) and break it on sighting it. But if (due to clouds) the actual position of the month is concealed from you, you should then count thirty (days).

2517Sahih Muslim

چاند دیکھ کر رمضان المبارک کے روزے رکھنا اور چاند دیکھ کر عید الفطر کرنا اور اگر بادل ہوں تو تیس دن کے روزے پورے کرنا۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ ذَکَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْهِلَالَ فَقَالَ إِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَصُومُوا وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَأَفْطِرُوا فَإِنْ أُغْمِيَ عَلَيْکُمْ فَعُدُّوا ثَلَاثِينَ

حدثنا ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن بشر عبدی، عبیداللہ بن عمر، ابن زیاد، اعرج، ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر افطار (عید) کرو تو اگر تم پر مہینہ پوشیدہ رہے تو تم تیس روزوں کی تعداد پوری کرو۔

Abu Hurairah (RA) narrated that the Messenger of Allah ﷺ (may peace he upon him) made a mention of the new moon and (in this connection) said: Observe fast when you see it (the new moon) and break fast when you see it (the new moon of Shawwal), but when (the actual position of the month is) concealed from you (on account of cloudy sky), then count thirty days.

2518Sahih Muslim

رمضان المبا رک سے ایک یا دو دن پہلے روزہ نہ رکھنے کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَ أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُبَارَکٍ عَنْ يَحْيَی بْنِ أَبِي کَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَقَدَّمُوا رَمَضَانَ بِصَوْمِ يَوْمٍ وَلَا يَوْمَيْنِ إِلَّا رَجُلٌ کَانَ يَصُومُ صَوْمًا فَلْيَصُمْهُ

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، ابوبکر، وکیع، علی بن مبارک، یحییٰ بن ابن کثیر، ابی سلمہ، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم رمضان المبارک سے نہ ایک دن اور نہ ہی دو دن پہلے روزہ رکھو سوائے اس آدمی کے جو اس دن روزہ رکھتا تھا تو اسے چاہیے کہ وہ رکھ لے۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Do not observe fast for a day, or two days ahead of Ramadan except a person who is in the habit of observing a particular fast; he may fast on that day.

2519Sahih Muslim

رمضان المبا رک سے ایک یا دو دن پہلے روزہ نہ رکھنے کا بیان

و حَدَّثَنَاه يَحْيَی بْنُ بِشْرٍ الْحَرِيرِيُّ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ سَلَّامٍ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ أَبِي عُمَرَ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ح و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ کُلُّهُمْ عَنْ يَحْيَی بْنِ أَبِي کَثِيرٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ

یحییٰ بن بشر حریری، معاویہ، ابن سلام، ابن مثنی، ابوعامر، ہشام، ابن مثنی، ابن ابی عمر، عبدالوہاب بن عبدالمجید، ایوب، زہیر بن حرب، حسین بن محمد، شیبان، حضرت یحییٰ بن ابی کثیر ؓ سے اس سند کے ساتھ اسی حدیث کی طرح روایت کیا گیا ہے۔

This hadith has been narrated on the authority of Yahya bin Abi Kathir with the same chain of transmitters.

2520Sahih Muslim

رمضان المبا رک سے ایک یا دو دن پہلے روزہ نہ رکھنے کا بیان

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْسَمَ أَنْ لَا يَدْخُلَ عَلَی أَزْوَاجِهِ شَهْرًا قَالَ الزُّهْرِيُّ فَأَخْبَرَنِي عُرْوَةُ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ لَمَّا مَضَتْ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ لَيْلَةً أَعُدُّهُنَّ دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ بَدَأَ بِي فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّکَ أَقْسَمْتَ أَنْ لَا تَدْخُلَ عَلَيْنَا شَهْرًا وَإِنَّکَ دَخَلْتَ مِنْ تِسْعٍ وَعِشْرِينَ أَعُدُّهُنَّ فَقَالَ إِنَّ الشَّهْرَ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ

عبد بن حمید، عبدالرزاق، معمر، حضرت زہری ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے قسم اٹھائی کہ آپ ﷺ ایک مہینہ تک اپنی ازواج مطہرات کے پاس نہیں جائیں گے زہری کہتے ہیں کہ مجھے عروہ نے خبر دی کہ سیدہ عائشہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ جب انیتس راتیں گزر گئیں میں ان راتوں کو شمار کرتی رہی تو رسول اللہ ﷺ میرے ہاں تشریف لائے۔

Zuhri reported that (once) the Apostle of Allah ﷺ took an oath that he would not go to his wives for one Month. Zuhri said that Urwa narrated to him from Aisha (Allah be pleased with her) that she said: When twenty-nine nights were over, which I had counted, the Messenger of Allah ﷺ came to me (he came to me first of all). I said: Messenger of Allah, you had taken an oath that you would not come to us for a month, whereas you have come after twenty nine days which I have counted. Whereupon he said: The month may also consist of twenty-nine days.

2521Sahih Muslim

رمضان المبا رک سے ایک یا دو دن پہلے روزہ نہ رکھنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ح و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اعْتَزَلَ نِسَائَهُ شَهْرًا فَخَرَجَ إِلَيْنَا فِي تِسْعٍ وَعِشْرِينَ فَقُلْنَا إِنَّمَا الْيَوْمُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ فَقَالَ إِنَّمَا الشَّهْرُ وَصَفَّقَ بِيَدَيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ وَحَبَسَ إِصْبَعًا وَاحِدَةً فِي الْآخِرَةِ

محمد بن رمح، لیث، قتیبہ بن سعید، لیث، ابن زبیر، حضرت جابر سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ایک مہینہ تک اپنی ازواج مطہرات ؓ سے علیحدہ رہے تھے تو آپ انتیسوے دن میں ہماری طرف تشریف لائے تو ہم نے عرض کیا کہ آج انتیسواں دن ہے پھر آپ نے فرمایا کہ مہینہ انتیس دنوں کا بھی ہوتا ہے اور آپ نے اپنے دونوں ہاتھوں کو تین مرتبہ ہلایا اور آخری مرتبہ میں ایک انگلی کو بند فرما لیا۔

Jabir (Allah be pleased with her) narrated that the Holy Prophet ﷺ separated himself from his wives for a month. (His wives said:) He came to us on the twenty-ninth day, whereupon we said: It is the twenty-ninth (day) today. Thereupon he said: So far as the month is concerned, (and he, with a view to explaining it) flapped his hands thrice, but held back one finger at the last turn.

2522Sahih Muslim

رمضان المبا رک سے ایک یا دو دن پہلے روزہ نہ رکھنے کا بیان

حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ قَالَا حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُا اعْتَزَلَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَائَهُ شَهْرًا فَخَرَجَ إِلَيْنَا صَبَاحَ تِسْعٍ وَعِشْرِينَ فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا أَصْبَحْنَا لِتِسْعٍ وَعِشْرِينَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الشَّهْرَ يَکُونُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ ثُمَّ طَبَّقَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيْهِ ثَلَاثًا مَرَّتَيْنِ بِأَصَابِعِ يَدَيْهِ کُلِّهَا وَالثَّالِثَةَ بِتِسْعٍ مِنْهَا

ہارون بن عبداللہ، حجاج بن شاعر، حجاج بن محمد، ابن جریج، ابوزبیر، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ اپنی ازواج مطہرات سے ایک مہینہ تک علیحدہ رہے انتیس دن گزر جانے کے بعد آپ ﷺ ہماری طرف صبح کے وقت تشریف لائے تو کچھ لوگوں نے آپ سے عرض کیا اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ انتیس دنوں کے بعد تشریف لے آئے؟ پھر نبی کریم ﷺ نے اپنے ہاتھوں کو تین مرتبہ ملایا دو مرتبہ اپنے ہاتھوں کی ساری انگلیوں کے ساتھ اور تیسری مرتبہ میں نو انگلیوں کے ساتھ۔

Abu Zubair is reported to have heard Jabir bin Abdullah (Allah be pleased with both of them) as saying: The Apostle of Allah ﷺ separated himself from his wives for a month. (His wives said:) He came to us on the morning of the twenty-ninth. Upon this some, of the people said: It is the morning of twenty- ninth (according to our calculation). Upon this the Apostle of Allah ﷺ said: The month may also consist of twenty-nine days. The Apostle of Allah ﷺ then flapped his bands thrice, twice with all the fingers of both his hand (to indicate twenty-nine) and by the third time with nine (fingers).

2523Sahih Muslim

رمضان المبا رک سے ایک یا دو دن پہلے روزہ نہ رکھنے کا بیان

حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي يَحْيَی بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ صَيْفِيٍّ أَنَّ عِکْرِمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ أَخْبَرَهُ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَلَفَ أَنْ لَا يَدْخُلَ عَلَی بَعْضِ أَهْلِهِ شَهْرًا فَلَمَّا مَضَی تِسْعَةٌ وَعِشْرُونَ يَوْمًا غَدَا عَلَيْهِمْ أَوْ رَاحَ فَقِيلَ لَهُ حَلَفْتَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَنْ لَا تَدْخُلَ عَلَيْنَا شَهْرًا قَالَ إِنَّ الشَّهْرَ يَکُونُ تِسْعَةً وَعِشْرِينَ يَوْمًا

ہارون بن عبداللہ، حجاج بن محمد، ابن جریج، یحییٰ بن عبداللہ بن محمد بن صیفی، عکرمہ بن عبدالرحمن بن حارث، حضرت ام سلمہ ؓ خبر دیتی ہیں کہ نبی ﷺ نے قسم اٹھائی کہ آپ ﷺ اپنی کچھ ازواج مطہرات کے پاس ایک مہینہ تک نہیں جائیں گے۔ تو جب انتیس دن گزر گئے تو آپ ﷺ صبح یا شام ان کی طرف تشریف لے گئے تو آپ ﷺ سے عرض کیا گیا کہ اے اللہ کے نبی! آپ ﷺ نے تو قسم اٹھائی تھی کہ آپ ایک مہینہ تک ہماری طرف تشریف نہیں لائیں گے آپ ﷺ نے فرمایا کہ مہینہ انتیس دنوں کا بھی ہوتا ہے۔

Umm Salamah (RA) reported that the Apostle of Allah ﷺ took an oath that he would not go to some of his wives for the whole of the month. When twenty-nine days had passed he (the Holy Prophet) went to them in the morning or in the evening. Upon this it was said to him: Apostle of Allah ﷺ , you took an oath that you would not come to us for a month, whereupon he said: The month may also consist of twenty-nine days.

2524Sahih Muslim

رمضان المبا رک سے ایک یا دو دن پہلے روزہ نہ رکھنے کا بیان

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا رَوْحٌ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا الضَّحَّاکُ يَعْنِي أَبَا عَاصِمٍ جَمِيعًا عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ

اسحاق بن ابراہیم، روح، محمد بن مثنی، ضحاک، حضرت ابن جریج سے اس سند کے ساتھ اسی حدیث کی طرح روایت کیا گیا ہے

A hadith like this has been narrated on the authority of Ibn Juraij with the same chain of transmitters.

2525Sahih Muslim

رمضان المبا رک سے ایک یا دو دن پہلے روزہ نہ رکھنے کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ عَلَی الْأُخْرَی فَقَالَ الشَّهْرُ هَکَذَا وَهَکَذَا ثُمَّ نَقَصَ فِي الثَّالِثَةِ إِصْبَعًا

ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن بشر، اسماعیل بن ابی خالد، محمد بن سعید، حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے ایک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ پر مارا اور فرمایا کہ مہینہ اس طرح اور اس طرح ہوتا ہے پھر آپ ﷺ نے تیسری مرتبہ ایک انگلی کم فرما لی

Sad bin Abi Waqqas (RA) said that the Messenger of Allah ﷺ struck his hand against the other and (then with the gesture of his two hands) said: The month is thus, thus (two times). He then withdrew (one of) his fingers at the third turn.

2526Sahih Muslim

رمضان المبا رک سے ایک یا دو دن پہلے روزہ نہ رکھنے کا بیان

و حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَکَرِيَّائَ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ عَنْ زَائِدَةَ عَنْ إِسْمَعِيلَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الشَّهْرُ هَکَذَا وَهَکَذَا وَهَکَذَا عَشْرًا وَعَشْرًا وَتِسْعًا مَرَّةً

قاسم بن زکریا، حسین بن علی، زائدہ، اسماعیل، حضرت محمد بن سعد اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مہینہ اس طرح اور اس طرح اور اس طرح سے ہوتا ہے دس اور دس اور نو مرتبہ۔

Muhammad bin Sad reported on the authority of his father (Sad bin Abi Waqqas (RA) that the Apostle of Allah ﷺ had said: The month is thus and thus, and thus, i. e. ten, ten and nine.

2527Sahih Muslim

رمضان المبا رک سے ایک یا دو دن پہلے روزہ نہ رکھنے کا بیان

و حَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُهْزَاذَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ وَسَلَمَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَکِ أَخْبَرَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمَعْنَی حَدِيثِهِمَا

محمد بن عبداللہ، علی بن حسن بن شفیق، زائدہ، سلمہ بن سلیمان، عبداللہ بن مبارک، اسماعیل بن ابی خالد اس سند کے ساتھ یہ روایت بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے۔

This hadith has been narrated by Abu Khalid with the same chain of transmitters.

2528Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ ہر شہر کے لئے اس کی اپنی ہی رؤیت معتبر ہے۔

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَيَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ وَابْنُ حُجْرٍ قَالَ يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا وَقَالَ الْآخَرُونَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ عَنْ مُحَمَّدٍ وَهُوَ ابْنُ أَبِي حَرْمَلَةَ عَنْ کُرَيْبٍ أَنَّ أُمَّ الْفَضْلِ بِنْتَ الْحَارِثِ بَعَثَتْهُ إِلَی مُعَاوِيَةَ بِالشَّامِ قَالَ فَقَدِمْتُ الشَّامَ فَقَضَيْتُ حَاجَتَهَا وَاسْتُهِلَّ عَلَيَّ رَمَضَانُ وَأَنَا بِالشَّامِ فَرَأَيْتُ الْهِلَالَ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ ثُمَّ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فِي آخِرِ الشَّهْرِ فَسَأَلَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ثُمَّ ذَکَرَ الْهِلَالَ فَقَالَ مَتَی رَأَيْتُمْ الْهِلَالَ فَقُلْتُ رَأَيْنَاهُ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ فَقَالَ أَنْتَ رَأَيْتَهُ فَقُلْتُ نَعَمْ وَرَآهُ النَّاسُ وَصَامُوا وَصَامَ مُعَاوِيَةُ فَقَالَ لَکِنَّا رَأَيْنَاهُ لَيْلَةَ السَّبْتِ فَلَا نَزَالُ نَصُومُ حَتَّی نُکْمِلَ ثَلَاثِينَ أَوْ نَرَاهُ فَقُلْتُ أَوَ لَا تَکْتَفِي بِرُؤْيَةِ مُعَاوِيَةَ وَصِيَامِهِ فَقَالَ لَا هَکَذَا أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَشَکَّ يَحْيَی بْنُ يَحْيَی فِي نَکْتَفِي أَوْ تَکْتَفِي

یحییٰ بن یحیی، یحییٰ بن ایوب، قتیبہ، ابن حجر، یحییٰ بن یحیی، اسماعیل، ابن جعفر، محمد، ابن حرملہ حضرت کریب سے روایت ہے کہ حضرت ام الفضل بنت حارث ؓ نے مجھے حضرت معاویہ ؓ کی طرف ملک شام بھیجا میں شام میں پہنچا تو میں نے حضرت ام الفضل کا کام پورا کیا اور وہیں پر رمضان المبارک کا چاند ظاہر ہوگیا اور میں نے شام میں ہی جمعہ کی رات چاند دیکھا پھر میں مہینہ کے آخر میں مدینہ آیا تو حضرت ابن عباس ؓ سے چاند کا ذکر ہوا تو مجھے پوچھنے لگے کہ تم نے چاند کب دیکھا ہے؟ تو میں نے کہا کہ ہم نے جمعہ کی رات چاند دیکھا ہے پھر فرمایا تو نے خود دیکھا تھا؟ میں نے کہا ہاں! اور لوگوں نے بھی دیکھا اور انہوں نے روزہ رکھا اور حضرت معاویہ ؓ نے بھی روزہ رکھا۔ حضرت عبداللہ ؓ نے فرمایا کہ ہم نے تو ہفتہ کی شب کو دیکها اور ہم پورے تیس روزے رکهیں گے یا چاند دیکه لیں گے، تو میں نے عرض کیا کہ کیا حضرت معاویہ کا چاند دیکھنا اور ان کا روزہ رکھنا کافی نہیں ہے؟ حضرت عبداللہ ؓ نے فرمایا نہیں! رسول اللہ ﷺ نے ہمیں اسی طرح کرنے کا حکم فرمایا ہے۔

Kuraib reported that Umm Fadl, daughter of Harith, sent him (Fadl, i. e. her son) to Muawiyah in Syria. I (Fadl) arrived in Syria, and did the needful for her. It was there in Syria that the month of Ramadan commenced. I saw the new moon (of Ramadan) on Friday. I then came back to Madinah at the end of the month.Abdullah bin Abbas (RA) asked me (about the new moon of Ramadan) and said: When did you see it? I said.: We saw it on the night of Friday. He said: (Did) you see it yourself? -I said: Yes, and the people also saw it and they observed fast and Muawiyah also observed fast, whereupon he said: But we saw it on Saturday night. So we would continue to observe fast till we complete thirty (lasts) or we see it (the new moon of Shawwal). I said: Is the sighting of the moon by Muawiyah not valid for you? He said: No; this is how the Messenger of Allah ﷺ has commanded us. Yahya bin Yahya was in doubt (whether the word used in the narration by Kuraib) was Naktafi or Taktafi.

2529Sahih Muslim

چاند کے چھوٹے بڑے ہونے کا اعتبار نہیں اور جب بادل ہوں تو تیس دن شمار کر لو

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ عَنْ حُصَيْنٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ قَالَ خَرَجْنَا لِلْعُمْرَةِ فَلَمَّا نَزَلْنَا بِبَطْنِ نَخْلَةَ قَالَ تَرَائَيْنَا الْهِلَالَ فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ هُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ هُوَ ابْنُ لَيْلَتَيْنِ قَالَ فَلَقِينَا ابْنَ عَبَّاسٍ فَقُلْنَا إِنَّا رَأَيْنَا الْهِلَالَ فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ هُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ هُوَ ابْنُ لَيْلَتَيْنِ فَقَالَ أَيَّ لَيْلَةٍ رَأَيْتُمُوهُ قَالَ فَقُلْنَا لَيْلَةَ کَذَا وَکَذَا فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ مَدَّهُ لِلرُّؤْيَةِ فَهُوَ لِلَيْلَةٍ رَأَيْتُمُوهُ

ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن فضیل، حصین، عمر بن مرہ، حضرت ابوالبختری ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ ہم عمرہ کے لئے نکلے تو جب ہم وادی نخلہ میں اترے تو ہم نے چاند دیکھا بعض لوگوں نے کہا کہ یہ تیسری کا چاند ہے اور کسی نے کہا کہ یہ دو راتوں کا چاند ہے تو ہماری ملاقات حضرت ابن عباس ؓ سے ہوئی تو ہم نے ان سے عرض کیا کہ ہم نے چاند دیکھا ہے کوئی کہتا ہے کہ تیسری تاریخ کا چاند ہے، کوئی کہتا ہے دوسری کا چاند ہے، تو حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ تم نے کس رات چاند دیکھا تھا؟ ہم نے عرض کیا کہ فلاں فلاں رات کا تو آپ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے دیکھنے کے لئے اسے بڑھا دیا ہے درحقیقت وہ اسی رات کا چاند ہے جس رات تم نے اسے دیکھا۔

Abul-Bakhtari reported: We went out to perform Umrah and when we encamped in the valley of Nakhla, we tried to see the new moon. Some of the people said: It was three nights old, and others (said) that it was two nights old. We then met Ibn Abbas and told him we had seen the new moon, but that some of the people said it was three nights old and others that it was two nights old. He asked on which night we had seen it; and when we told him we had seen it on such and such night, he said the Prophet ﷺ of Allah ﷺ had said: Verily Allah deferred it till the time it is seen, so it is to be reckoned from the night you saw it.

2530Sahih Muslim

چاند کے چھوٹے بڑے ہونے کا اعتبار نہیں اور جب بادل ہوں تو تیس دن شمار کر لو

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ عَنْ شُعْبَةَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْبَخْتَرِيِّ قَالَ أَهْلَلْنَا رَمَضَانَ وَنَحْنُ بِذَاتِ عِرْقٍ فَأَرْسَلْنَا رَجُلًا إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَسْأَلُهُ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَمَدَّهُ لِرُؤْيَتِهِ فَإِنْ أُغْمِيَ عَلَيْکُمْ فَأَکْمِلُوا الْعِدَّةَ

ابوبکر بن ابی شیبہ، غندر، شعبہ، ابن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، عمروابن مرہ، حضرت ابوالبختری فرماتے ہیں کہ ہم نے ذات عرق میں رمضان کا چاند دیکھا تو ہم نے حضرت ابن عباس ؓ کی طرف ایک آدمی بھیجا تاکہ وہ چاند کے بارے میں آپ سے پوچھے تو حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ نے چاند کے دیکھنے کے لئے بڑھا دیا ہے تو اگر مطلع ابرآلود ہو تو گنتی پوری کرو۔

Abul-Bakhtari reported: We saw the new moon of Ramadan as we were at Dhit-i-Irq. We sent a man to Ibn Abbas (RA) (Allah be pleased with both of them) to ask him (whether the sighting of a small moon had something of the nature of defect in it). Upon this Ibn Abbas (Allah be pleased with both of them) said that the Messenger of Allah ﷺ had said: Verily Allah deferred its sight, but if (the new moon) is hidden from you, then, complete its number (thirty).

2531Sahih Muslim

نبی ﷺ کے اس قول کے معنی کے بیان میں کہ عید کے دو مہینے ناقص نہیں ہوتے۔

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ عَنْ خَالِدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَکْرَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ شَهْرَا عِيدٍ لَا يَنْقُصَانِ رَمَضَانُ وَذُو الْحِجَّةِ

یحییٰ بن یحییٰ، یزید بن زریع، خالد، حضرت عبدالرحمن بن ابی بکرہ ؓ اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ عید کے دو ماہ ناقص نہیں ہوتے ایک رمضان المبارک کا دوسرے ذی الحجہ کا۔

The son of Abu Bakra (RA) reported it on the authority of his father that the Apostle of Allah ﷺ had said: The two months of Id, Ramadan and Dhul-Hijja (are not incomplete).

2532Sahih Muslim

نبی ﷺ کے اس قول کے معنی کے بیان میں کہ عید کے دو مہینے ناقص نہیں ہوتے۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ إِسْحَقَ بْنِ سُوَيْدٍ وَخَالِدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَکْرَةَ عَنْ أَبِي بَکْرَةَ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ شَهْرَا عِيدٍ لَا يَنْقُصَانِ فِي حَدِيثِ خَالِدٍ شَهْرَا عِيدٍ رَمَضَانُ وَذُو الْحِجَّةِ

ابوبکر بن ابی شیبہ، معتمر بن سلیمان، اسحاق بن سوید، خالد، حضرت عبدالرحمن بن ابی بکرہ ؓ اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا دو مہینے ناقص نہیں ہوتے خالد کی حدیث میں ہے کہ عید کے دو مہینے رمضان اور ذی الحجہ کے ہیں۔

Abd ar-Rahman bin Abu Bakra (RA) reported on the authority of Abu Bakra (RA) that the Apostle of Allah ﷺ had said: The months of Id are not incomplete. And in the hadith narrated by Khalid (the words are):" The months, of Id are Ramadan and Dhul-Hijjah."

2533Sahih Muslim

روزہ طلوع فجر سے شروع ہوجاتا ہے اس سے قبل تک کھانا پینا جائز ہے اور اس میں ہم ان احکام سے بحث کریں گے جو صبح صادق اور صبح کا ذب سے متعلق ہیں۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ عَنْ حُصَيْنٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ حَتَّی يَتَبَيَّنَ لَکُمْ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنْ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ مِنْ الْفَجْرِ قَالَ لَهُ عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَجْعَلُ تَحْتَ وِسَادَتِي عِقَالَيْنِ عِقَالًا أَبْيَضَ وَعِقَالًا أَسْوَدَ أَعْرِفُ اللَّيْلَ مِنْ النَّهَارِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ وِسَادَتَکَ لَعَرِيضٌ إِنَّمَا هُوَ سَوَادُ اللَّيْلِ وَبَيَاضُ النَّهَارِ

ابوبکر بن ابی شیبہ، عبداللہ بن ادریس، حصین، شعبی، حضرت عدی بن حاتم ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ جب آیت (حَتّٰى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْاَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ ) 2۔ البقرۃ: 187) نازل ہوئی تو حضرت عدی ؓ نے آپ ﷺ سے عرض کیا اے اللہ کے رسول! میں نے اپنے تکیے کے نیچے سفید اور سیاہ رنگ کے دو دھاگے رکھ لئے ہیں جن کی وجہ سے میں رات اور دن میں امتیاز کرلیتا ہوں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تمہارا تکیہ بہت چوڑا ہے کہ جس میں رات اور دن سما گئے ہیں " خَيْطِ الْأَسْوَدِ " سے رات کی تاریکی اور خَيْطُ الْأَبْيَضُ سے دن کی سفیدی مراد ہے۔

Adi bin Hatim (RA) reported that when (this verse) was revealed: "Until the white streak of the dawn becomes distinct from the dark streak" (ii. 187) Adi bin Hatim said: Messenger of Allah, verily I keep underneath my pillow two strings, one white and the other black, by which I distinguish night from dawn. Upon this the Messenger of Allah ﷺ said: Your pillow seems to be very large. For the word khait implies the blackness of the night and the whiteness of the dawn.

2534Sahih Muslim

روزہ طلوع فجر سے شروع ہوجاتا ہے اس سے قبل تک کھانا پینا جائز ہے اور اس میں ہم ان احکام سے بحث کریں گے جو صبح صادق اور صبح کا ذب سے متعلق ہیں۔

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَکُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّی يَتَبَيَّنَ لَکُمْ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنْ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ قَالَ کَانَ الرَّجُلُ يَأْخُذُ خَيْطًا أَبْيَضَ وَخَيْطًا أَسْوَدَ فَيَأْکُلُ حَتَّی يَسْتَبِينَهُمَا حَتَّی أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ الْفَجْرِ فَبَيَّنَ ذَلِکَ

عبیداللہ بن عمر قواریری، فضیل بن سلیمان، ابوحازم، حضرت سہل بن سعد ؓ بیان کرتے ہیں جب یہ آیت ( وَكُلُوْا وَاشْرَبُوْا حَتّٰى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْاَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ ) 2۔ البقرۃ: 187) نازل ہوئی تو بعض آدمی سفید دھاگہ اور سیاہ دھاگہ لے لیتے اور جب تک ان میں واضح امتیاز نظر نہ آتا تو کھاتے رہتے یہاں تک اللہ تعالیٰ نے لفظ " مِنَ الْفَجْرِ " نازل فرمایا اور سفید دھاگے کی وضاحت ہوگئی۔

Sahl bin Sad said that when this verse was revealed: "Eat and drink till the white streak is distinct from the dark streak," a person would take hold of a white thread and a black thread and keep on eating till he could find them distinct (in the light of the dawn). It was then that Allah, the Majestic and Great, revealed (the words) min al-fajr (from the dawn), and then it became clear (that the word khait refers to the streak of light in the dawn).