تفسیر کا بیان

Sahih Muslim · Chapter 57 · 41 hadiths · Page 2 of 3

7543Sahih Muslim

مختلف آیات کی تفسیر کے بیان می

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ أَمَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبْزَی أَنْ أَسْأَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ هَاتَيْنِ الْآيَتَيْنِ وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ لَمْ يَنْسَخْهَا شَيْئٌ وَعَنْ هَذِهِ الْآيَةِ وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ قَالَ نَزَلَتْ فِي أَهْلِ الشِّرْکِ

محمد بن مثنی، محمد بن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، منصور، حضرت سعید بن جبیر ؓ سے روایت ہے کہ مجھے عبدالرحمن بن ابزی نے حکم فرمایا کہ میں حضرت ابن عباس ؓ سے ان دو آیات کریمہ کے بارے میں پوچھوں (ایک آیت کریمہ یہ ہے) (وَمَنْ يَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَا ؤُه جَهَنَّمُ خٰلِدًا فِيْھَا) 4۔ النساء: 93) اور جو آدمی کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے گا تو اس کا بدلہ جہنم ہے اور وہ اس میں ہمیشہ رہے گا، میں نے اس آیت کے بارے میں حضرت ابن عباس ؓ سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا اس آیت کو کسی اور آیت کریمہ نے منسوخ نہیں کیا اور اس آیت کریمہ (وَالَّذِيْنَ لَا يَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰ هًا اٰخَرَ وَلَا يَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِيْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ ) 25۔ الفرقان: 68) وہ لوگ کہ نہیں پکارتے اللہ کے ساتھ دوسرے حاکم کو اور نہیں قتل کرتے جان کو جو منع کردی اللہ نے مگر جہاں چاہے، حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا یہ آیت کریمہ مشرکوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔

Said bin Jubair reported: Abd al Rahman bin Abzi commanded me that I should ask Ibn Abbas about these two verses: "He who slays a believer intentionally his requital shall be Hell where he would abide for ever" (iv. 92). So, I asked him and he said: Nothing has abrogated it. And as for this verse: "And they who call not upon another god with Allah and slay not the soul which Allah has forbidden, except in the cause of justice" (xxv. 68), he ( Ibn Abbas (RA) ) said: This has been revealed in regard to the polytheists."

7544Sahih Muslim

مختلف آیات کی تفسیر کے بیان می

حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ اللَّيْثِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ يَعْنِي شَيْبَانَ عَنْ مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ بِمَکَّةَ وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ إِلَی قَوْله مُهَانًا فَقَالَ الْمُشْرِکُونَ وَمَا يُغْنِي عَنَّا الْإِسْلَامُ وَقَدْ عَدَلْنَا بِاللَّهِ وَقَدْ قَتَلْنَا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ وَأَتَيْنَا الْفَوَاحِشَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَّا مَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا إِلَی آخِرِ الْآيَةِ قَالَ فَأَمَّا مَنْ دَخَلَ فِي الْإِسْلَامِ وَعَقَلَهُ ثُمَّ قَتَلَ فَلَا تَوْبَةَ لَهُ

ہارون بن عبداللہ، ابونضر، ہاشم بن قاسم لیثی، ابومعاویہ، شیبان، منصور بن معتمر، سعید بن جبیر حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ یہ آیت کریمہ وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ آخر سے مُهَانًا تک مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی تو مشرکوں نے کہا کہ پھر ہمیں مسلمان ہونے کا کیا فائدہ کیونکہ ہم نے تو اللہ کے ساتھ دوسروں کو بھی شریک کیا ہوا ہے اور ناحق قتل بھی کئے ہیں جب کہ اللہ تعالیٰ نے قتل کرنا حرام کیا تھا اور ہم نے دوسرے برے کام بھی کئے تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی (اِلَّا مَنْ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا) 25۔ الفرقان: 70 سوائے اس کے جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور نیک اعمال کئے آخر آیت تک، حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جو آدمی اسلام میں داخل ہوجائے اور اسلامی تعلیمات کو سمجھ لے پھر اس کے بعد ناحق کسی کو قتل کرے تو اب اس کی کوئی توبہ قبول نہیں۔

Ibn Abbas said: This verse was revealed in Makkah: "And they who call not upon another god with Allah and slay not the soul which Allah has forbidden except in the cause of justice" up to the word Muhdana (abased). Thereupon the polytheists said: Islam is of no avail to us for we have made peer with Allah and we killed the soul which Allah had forbidden to do and we committed debauchery, and it was (on this occasion) that Allah, the Exalted and Glorious, revealed this verse: "Except him who repents and believes and does good deeds" up to the end Ibn Abbas says: He who enters the fold of Islam and understands its command and then kills the soul there is no repentance for him.

7545Sahih Muslim

مختلف آیات کی تفسیر کے بیان می

حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا يَحْيَی وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ أَبِي بَزَّةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ أَلِمَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا مِنْ تَوْبَةٍ قَالَ لَا قَالَ فَتَلَوْتُ عَلَيْهِ هَذِهِ الْآيَةَ الَّتِي فِي الْفُرْقَانِ وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ إِلَی آخِرِ الْآيَةِ قَالَ هَذِهِ آيَةٌ مَکِّيَّةٌ نَسَخَتْهَا آيَةٌ مَدَنِيَّةٌ وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ هَاشِمٍ فَتَلَوْتُ عَلَيْهِ هَذِهِ الْآيَةَ الَّتِي فِي الْفُرْقَانِ إِلَّا مَنْ تَابَ

عبداللہ بن ہاشم، عبدالرحمن بن بشر عبدی، یحییٰ ابن سعید قطان، ابن جریج، قاسم بن ابی بزہ، حضرت سعید بن جبیر ؓ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت ابن عباس ؓ سے پوچھا کہ اگر کوئی آدمی کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے تو کیا اس کی توبہ قبول ہوسکتی ہے؟ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا نہیں، حضرت سعید ؓ فرماتے ہیں کہ پھر میں نے حضرت ابن عباس ؓ کے سامنے یہ آیت کریمہ تلاوت کی (وَالَّذِيْنَ لَا يَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰ هًا اٰخَرَ وَلَا يَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِيْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ ) 25۔ الفرقان: 68) اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے کو نہیں پکارتے اور اس جان کو ناحق قتل نہیں کرتے کہ جس کو قتل کرنا اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے آخر تک، حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا یہ آیت کریمہ مکہ میں نازل ہوئی اور مدینہ منورہ میں نازل ہونے والی آیت کریمہ ومن یقتل مومنا نے اس کو منسوخ کردیا ہے اور ابن ہاشم کی روایت میں ہے کہ پھر میں نے حضرت ابن عباس ؓ کے سامنے سورت الفرقان کی یہ آیت کریمہ ( إِلَّا مَنْ تَابَ ) تلاوت کی۔

Said bin Jubair reported: I said to Ibn Abbas (RA) : Will the repentance of that person be accepted who kills a believer intentionally? He said: No. I recited to him this verse of Sura al-Furqan (xix.): "And those who call not upon another god with Allah and slay not the soul which Allah has forbidden except in the cause of justice" to the end of the verse. He said: This is a Makkahn verse which has been abrogated by a verse revealed at Madinah: "He who slays a believer intentionally, for him is the requital of Hell-Fire where he would abide forever," and in the narration of Ibn Hisham (the words are): I recited to him this verse of Sura al-Furqan: "Except one who made repentance."

7546Sahih Muslim

مختلف آیات کی تفسیر کے بیان می

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا أَبُو عُمَيْسٍ عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ سُهَيْلٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ قَالَ قَالَ لِي ابْنُ عَبَّاسٍ تَعْلَمُ وَقَالَ هَارُونُ تَدْرِي آخِرَ سُورَةٍ نَزَلَتْ مِنْ الْقُرْآنِ نَزَلَتْ جَمِيعًا قُلْتُ نَعَمْ إِذَا جَائَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ قَالَ صَدَقْتَ وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ أَبِي شَيْبَةَ تَعْلَمُ أَيُّ سُورَةٍ وَلَمْ يَقُلْ آخِرَ

ابوبکر بن ابی شیبہ، ہارون بن عبداللہ، عبد بن حمید، عبد، جعفر بن عون، ابوعمیس ؓ، عبدالمجید بن سہیل، حضرت عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ ؓ سے روایت ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ نے مجھ سے فرمایا کیا تمہیں علم ہے کہ قرآن مجید کی سب سے آخری سورت جو ایک ہی مرتبہ نازل ہوئی ہے؟ میں نے کہا جی ہاں (إِذَا جَآءَ نَصْرُ اللَّهِ ) النصر: 1)، حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا تو نے سچ کہا اور ابن شیبہ کی روایت میں انہوں نے آخر کا لفظ نہیں کہا۔

Ubaidullah bin Abdullah bin Utba reported: Ibn Abbas (RA) said to me: Do you know-and in the words of Harun (another narrator): Are you aware of-the last Sura which was revealed in the Quran as a whole? I said: Yes, "When came the help from Allah and the victory" (cx.). Thereupon, he said: You have told the truth. And in the narration of Abu Shaiba (the words are): Do you know the Sura? And he did not mention the words "the last one".

7547Sahih Muslim

مختلف آیات کی تفسیر کے بیان می

و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا أَبُو عُمَيْسٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ وَقَالَ آخِرَ سُورَةٍ وَقَالَ عَبْدِ الْمَجِيدِ وَلَمْ يَقُلْ ابْنِ سُهَيْلٍ

اسحاق بن ابراہیم، ابومعاویہ، حضرت ابوعمیس ؓ اس سند کے ساتھ مذکورہ حدیث کی طرح روایت بیان کرتے ہیں اور اس میں انہوں نے آخری سورت کے الفاظ کہے ہیں اور اس میں انہوں نے عبدالمجید کہا ہے اور ابن سبیل نہیں کہا۔

This hadith has been reported on the authority of Abu Umais through the same chain of transmitters but with a slight variation of wording.

7548Sahih Muslim

مختلف آیات کی تفسیر کے بیان می

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ وَاللَّفْظُ لِابْنِ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ حَدَّثَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ عَطَائٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَقِيَ نَاسٌ مِنْ الْمُسْلِمِينَ رَجُلًا فِي غُنَيْمَةٍ لَهُ فَقَالَ السَّلَامُ عَلَيْکُمْ فَأَخَذُوهُ فَقَتَلُوهُ وَأَخَذُوا تِلْکَ الْغُنَيْمَةَ فَنَزَلَتْ وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَی إِلَيْکُمْ السَّلَمَ لَسْتَ مُؤْمِنًا وَقَرَأَهَا ابْنُ عَبَّاسٍ السَّلَامَ

ابوبکر بن ابی شیبہ، اسحاق بن ابراہیم، احمد بن عبدہ ضبی، ابن ابی شیبہ، سفیان، عمرو، عطاء، حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں کہ مسلمانوں میں سے کچھ لوگوں نے ایک آدمی کو کچھ بکریوں میں دیکھا تو اس نے کہا السلام علیکم تو مسلمانوں نے اسے پکڑ کر قتل کردیا اور اس کی بکریاں پکڑ لیں، تو پھر یہ آیت نازل ہوئی (وَلَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ اَلْقٰى اِلَيْكُمُ السَّلٰمَ لَسْتَ مُؤْمِنًا) 4۔ النسآء: 94) جو کوئی تم سے سلام کرے تو تم اسے یہ نہ کہو کہ تو مسلمان نہیں ہے حضرت ابن عباس ؓ نے اس آیت میں سلم کی بجائے السلام پڑھا ہے۔

Ibn Abbas (RA) reported that some Muslims met a person with a small flock of sheep. He said: As-Salam-o-Alaikum. They caught hold of him and killed him and took possession of his flock. Then this verse was revealed: "He who meets you and extends you salutations, dont say: You are not a Muslim" (iv. 94). Ibn Abbas, however, recited the word as-Salam instead of "as-Salam".

7549Sahih Muslim

مختلف آیات کی تفسیر کے بیان می

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ عَنْ شُعْبَةَ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَائَ يَقُولَ کَانَتْ الْأَنْصَارُ إِذَا حَجُّوا فَرَجَعُوا لَمْ يَدْخُلُوا الْبُيُوتَ إِلَّا مِنْ ظُهُورِهَا قَالَ فَجَائَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فَدَخَلَ مِنْ بَابِهِ فَقِيلَ لَهُ فِي ذَلِکَ فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةَ وَلَيْسَ الْبِرُّ بِأَنْ تَأْتُوا الْبُيُوتَ مِنْ ظُهُورِهَا

ابوبکر بن ابی شیبہ، غندر، شعبہ، محمد بن مثنی، ابن بشار، ابن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ، ابواسحاق، حضرت براء فرماتے ہیں کہ انصاری لوگ جب حج کر کے واپس آتے تھے تو وہ گھروں میں دروازوں سے داخل نہ ہوتے بلکہ اپنے گھروں کے پیچھے سے آتے حضرت برا فرماتے ہیں کہ ایک انصاری آدمی آیا تو وہ اپنے گھر کے دروازے سے داخل ہوا تو اس کو اس بارے میں کہا گیا (کہ پیچھے سے آؤ) تو یہ آیت نازل ہوئی (وَلَيْسَ الْبِرُّ بِاَنْ تَاْتُوا الْبُيُوْتَ مِنْ ظُهُوْرِھَا) 2۔ البقرۃ: 189) یہ کوئی نیکی کی بات نہیں کہ اپنے گھروں میں پیچھے کی طرف سے آؤ۔

Bara reported: When the Ansar performed the Pilgrimage, they did not enter their houses but from behind. A person from the Ansar came and he began to enter from his door but it was said to him (why he was doing something in contravention to the common practice of coming to the houses from behind). Then this verse was revealed. "Piety is not that you come to the doors from behind" (ii. 189).

7550Sahih Muslim

اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کیا وقت نہیں آیا ان کے لئے جو ایمان لائے کہ گڑگڑائیں ان کے دل اللہ تعالیٰ کی یاد سے کے بیان میں

حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی الصَّدَفِيُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ قَالَ مَا کَانَ بَيْنَ إِسْلَامِنَا وَبَيْنَ أَنْ عَاتَبَنَا اللَّهُ بِهَذِهِ الْآيَةِ أَلَمْ يَأْنِ لِلَّذِينَ آمَنُوا أَنْ تَخْشَعَ قُلُوبُهُمْ لِذِکْرِ اللَّهِ إِلَّا أَرْبَعُ سِنِينَ

یونس بن عبدالاعلی صدفی، عبداللہ بن وہب، عمرو بن حارث، سعید بن ابی ہلال، عون بن عبداللہ، حضرت ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ جب سے ہم اسلام لائے اس وقت سے لے کر اس آیت ( اَنْ تَخْشَعَ قُلُوْبُهُمْ لِذِكْرِ اللّٰهِ ) 27۔ الحدید: 16) کیا وقت نہیں آیا ان کے لئے جو ایمان لائے کہ گڑگڑائیں ان کے دل اللہ کی یاد سے، (الحدید) کے نزول تک چار سال کا عرصہ گزرا ہے اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ہم پر عتاب فرمایا ہے۔

Ibn Masud said: Since our acceptance of Islam and the revelation of this verse in which Allah has shown annoyance to us: "Has not the time yet come for the believers that their hearts should be humble for the remembrance of Allah?" (lvii. 16), there was a gap of four years.

7551Sahih Muslim

اللہ تعالیٰ کے فرمان لے لو اپنی آرائش ہر نماز کے وقت کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ح و حَدَّثَنِي أَبُو بَکْرِ بْنُ نَافِعٍ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ کُهَيْلٍ عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ کَانَتْ الْمَرْأَةُ تَطُوفُ بِالْبَيْتِ وَهِيَ عُرْيَانَةٌ فَتَقُولُ مَنْ يُعِيرُنِي تِطْوَافًا تَجْعَلُهُ عَلَی فَرْجِهَا وَتَقُولُ الْيَوْمَ يَبْدُو بَعْضُهُ أَوْ کُلُّهُ فَمَا بَدَا مِنْهُ فَلَا أُحِلُّهُ فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ خُذُوا زِينَتَکُمْ عِنْدَ کُلِّ مَسْجِدٍ

محمد بن بشار، محمد بن جعفر، ابوبکر بن نافع، غندر، شعبہ، سلمہ بن کہیل، مسلم، سعید بن جبیر حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ایک عورت ننگے ہو کر بیت اللہ کا طواف کیا کرتی تھی اور ساتھ ساتھ یہ بھی کہتی چلی جاتی کہ کون ہے جو مجھے ایک کپڑا دیتا اور اسے میں اپنی شرمگاہ پر ڈال لیتی اور پھر وہ کہتی کہ آج کے دن کھل جائے کچھ یا سارا اور پھر جو کھل جائے گا تو میں اسے کبھی حلال نہیں کروں گی، تو پھر یہ آیت نازل ہوئی (خُذُوْا زِيْنَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ ) 7۔ الأعراف: 31) لے لو اپنی آرائش ہر نماز کے وقت۔

Ibn Abbas (RA) reported: During the pre-Islamic days women circumambulated the Ka’bah nakedly, and said: Who would provide cloth to cover the one who is circumambulating the Ka’bah so that she would cover her private parts? And then she would say: Today will be exposed the whole or the part and what is exposed I shall not make it lawful. It was in this connection that the verse was revealed: "Adorn yourself at every place of worship" (vii. 31).

7552Sahih Muslim

اللہ تعالیٰ کے فرمان اور نہ زبردستی کرو اپنی باندیوں پر بدکاری کے واسطے۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ جَمِيعًا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ وَاللَّفْظُ لِأَبِي کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ کَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ ابْنُ سَلُولَ يَقُولُ لِجَارِيَةٍ لَهُ اذْهَبِي فَابْغِينَا شَيْئًا فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَلَا تُکْرِهُوا فَتَيَاتِکُمْ عَلَی الْبِغَائِ إِنْ أَرَدْنَ تَحَصُّنًا لِتَبْتَغُوا عَرَضَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَمَنْ يُکْرِهْهُنَّ فَإِنَّ اللَّهَ مِنْ بَعْدِ إِکْرَاهِهِنَّ لَهُنَّ غَفُورٌ رَحِيمٌ

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، ابومعاویہ، اعمش، ابی سفیان، حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن ابی سلول اپنی باندی سے کہتا کہ جا اور بدفعلی کروا کر ہمارے لئے کچھ کما کر لا، تو اللہ عزوجل نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی (وَلَا تُكْرِهُوْا فَتَيٰتِكُمْ ) 24۔ النور: 33) اپنی باندیوں کو زنا کرنے پر مجبور نہ کرو جبکہ وہ زنا کرنے سے بچنا چاہیں تاکہ تم دنیا کا مال حاصل کرو اور جو کوئی باندیوں پر اس کام کے لئے زبردستی کرے گا تو اللہ تعالیٰ ان کی بےبسی کے بعد بخشنے والا مہربان ہے۔

Jabir reported that Abdullah bin Ubayy bin Salul used to say to his slave-girl: Go and fetch something for us by committing prostitution. It was in this connection that Allah, the Exalted and Glorious, revealed this verse: "And compel not your slave-girls to prostitution when they desire to keep chaste in order to seek the frail goods of this worlds life, and whoever compels them, then surely after their compulsion Allah is Forgiving, Merciful" (xxiv. 33).

7553Sahih Muslim

اللہ تعالیٰ کے فرمان اور نہ زبردستی کرو اپنی باندیوں پر بدکاری کے واسطے۔

و حَدَّثَنِي أَبُو کَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ جَارِيَةً لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ ابْنِ سَلُولَ يُقَالُ لَهَا مُسَيْکَةُ وَأُخْرَی يُقَالُ لَهَا أُمَيْمَةُ فَکَانَ يُکْرِهُهُمَا عَلَی الزِّنَی فَشَکَتَا ذَلِکَ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ وَلَا تُکْرِهُوا فَتَيَاتِکُمْ عَلَی الْبِغَائِ إِلَی قَوْلِهِ غَفُورٌ رَحِيمٌ

ابوکامل جحدری، ابوعوانہ، اعمش، ابوسفیان ؓ، حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن ابی سلول کے پاس دو باندیاں تھیں ایک باندی کا نام مسیکہ اور دوسری باندی کا نام امیمہ تھا وہ منافق ان دونوں باندیوں کو زنا پر مجبور کیا کرتا تھا تو ان دونوں باندیوں نے نبی ﷺ سے اس بات کی شکایت کی تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (وَلَا تُكْرِهُوْا فَتَيٰتِكُمْ ) 24۔ النور: 33) ترجمہ گزر چکا ہے۔

Jabir reported that Abdullah bin Ubayy bin Salul had two slave-girls; one was called Musaika and the other one was called Umaima and he compelled them to prostitution (for which Abdullah bin Ubayy bin Salul compelled them). They made a complaint about this to Allahs Messenger ﷺ and it was upon this that this verse was revealed: "And compel not your slave-girls to prostitute" up to the words: "Allah is Forgiving, Merciful."

7554Sahih Muslim

اللہ تعالیٰ کے اس فرمان یہ لوگ جنہیں وہ پکارتے ہیں تلاش کرتے ہیں اپنے رب کی طرف سے وسیلہ

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ أُولَئِکَ الَّذِينَ يَدْعُونَ يَبْتَغُونَ إِلَی رَبِّهِمْ الْوَسِيلَةَ أَيُّهُمْ أَقْرَبُ قَالَ کَانَ نَفَرٌ مِنْ الْجِنِّ أَسْلَمُوا وَکَانُوا يُعْبَدُونَ فَبَقِيَ الَّذِينَ کَانُوا يَعْبُدُونَ عَلَی عِبَادَتِهِمْ وَقَدْ أَسْلَمَ النَّفَرُ مِنْ الْجِنِّ

ابوبکر بن ابی شبیہ، عبداللہ بن ادریس، اعمش، ابراہیم، ابی معمر، حضرت عبداللہ ؓ اللہ عزوجل کے اس فرمان (ااُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ يَبْتَغُوْنَ اِلٰى رَبِّهِمُ الْوَسِ يْلَةَ اَيُّهُمْ اَقْرَبُ ) 17۔ الاسراء: 57) یہ لوگ جنہیں وہ پکارتے ہیں تلاش کرتے ہیں اپنے رب کی طرف سے وسیلہ کہ کون ان میں سے زیادہ قریب ہے (سورۂ بنی اسرائیل) کے بارے میں فرماتے ہیں کہ جنوں کی ایک جماعت مسلمان ہوگئی (یہ وہ جن تھے کہ جن کی پوجا کی جاتی تھی، ان کے مسلمان ہونے کے بعد بھی) لوگ ان کی پوجا کرتے رہے حالانکہ جنوں کی یہ جماعت مسلمان ہوگئی تھی (یہ آیت کریمہ ان کے بارے میں نازل ہوئی)۔

Abdullah bin Masud reported in connection with the words of Allah, the Exalted and Glorious:" Those to whom they call upon, themselves seek the means or access to their Lord as to whoever of them becomes nearest" (xvii. 57) that it related to a party of Jinn who were being worshipped and they embraced Islam but those who worshipped them kept on worshipping them (though the Jinn whom the misguided people worshipped had become Muslims). It was then that this verse was revealed.

7555Sahih Muslim

اللہ تعالیٰ کے اس فرمان یہ لوگ جنہیں وہ پکارتے ہیں تلاش کرتے ہیں اپنے رب کی طرف سے وسیلہ

حَدَّثَنِي أَبُو بَکْرِ بْنُ نَافِعٍ الْعَبْدِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أُولَئِکَ الَّذِينَ يَدْعُونَ يَبْتَغُونَ إِلَی رَبِّهِمْ الْوَسِيلَةَ قَالَ کَانَ نَفَرٌ مِنْ الْإِنْسِ يَعْبُدُونَ نَفَرًا مِنْ الْجِنِّ فَأَسْلَمَ النَّفَرُ مِنْ الْجِنِّ وَاسْتَمْسَکَ الْإِنْسُ بِعِبَادَتِهِمْ فَنَزَلَتْ أُولَئِکَ الَّذِينَ يَدْعُونَ يَبْتَغُونَ إِلَی رَبِّهِمْ الْوَسِيلَةَ

ابوبکر بن نافع عبدی، عبدالرحمن، سفیان، اعمش، ابراہیم، ابی معمر، حضرت عبداللہ سے روایت ہے کہ یہ آیت (ااُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ يَبْتَغُوْنَ اِلٰى رَبِّهِمُ الْوَسِ يْلَةَ ) 17۔ الاسراء: 57) اس وقت نازل ہوئی کہ جب کچھ لوگ جنوں کی پوجا کرتے تھے وہ جن مسلمان ہوگئے اور ان کے پوجنے والوں کو پتہ نہ چلا اور وہ لوگ ان جنوں کو ہی پوجتے رہے تو یہ آیت کریمہ نازل ہوئی۔

Abdullah bin Masud reported in connection with the verse: "Those whom they call upon, themselves seek the means of access to their Lord," that it related to a group of people who worshipped a party amongst the Jinn. The group from amongst the Jinn embraced Islam, but the people kept worshipping them as they did before, and it was (on this occasion) that the verse was revealed: "Those whom they call upon, themselves seek the means of access to their Lord.

7556Sahih Muslim

اللہ تعالیٰ کے اس فرمان یہ لوگ جنہیں وہ پکارتے ہیں تلاش کرتے ہیں اپنے رب کی طرف سے وسیلہ

و حَدَّثَنِيهِ بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ سُلَيْمَانَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ

بشر بن خالد، محمد ابن جعفر، شعبہ، حضرت سلیمان سے اس سند کے ساتھ روایت نقل کی گئی ہے۔

" This hadith has been narrated on the authority of Sulaiman with the same chain of transmitters.

7557Sahih Muslim

اللہ تعالیٰ کے اس فرمان یہ لوگ جنہیں وہ پکارتے ہیں تلاش کرتے ہیں اپنے رب کی طرف سے وسیلہ

و حَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أُولَئِکَ الَّذِينَ يَدْعُونَ يَبْتَغُونَ إِلَی رَبِّهِمْ الْوَسِيلَةَ قَالَ نَزَلَتْ فِي نَفَرٍ مِنْ الْعَرَبِ کَانُوا يَعْبُدُونَ نَفَرًا مِنْ الْجِنِّ فَأَسْلَمَ الْجِنِّيُّونَ وَالْإِنْسُ الَّذِينَ کَانُوا يَعْبُدُونَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ فَنَزَلَتْ أُولَئِکَ الَّذِينَ يَدْعُونَ يَبْتَغُونَ إِلَی رَبِّهِمْ الْوَسِيلَةَ

حجاج بن شاعر، عبدالصمد بن عبدالوارث، ابی حسین، قتادہ، عبداللہ بن معبد رمانی، عبداللہ بن عتبہ، حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ (اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ يَبْتَغُوْنَ اِلٰى رَبِّهِمُ الْوَسِ يْلَةَ ) 17۔ الاسراء: 57) کے بارے میں فرمایا کہ یہ آیت کریمہ عرب کی ایک جماعت کے بارے میں نازل ہوئی ہے کہ جو جنوں کی ایک جماعت کی پوجا کرتے تھے یہ جن مسلمان ہوگئے توہ عرب لوگ لاعلمی میں ان جنوں کی پوجا کرتے رہے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی (أُولَئِکَ الَّذِينَ يَدْعُونَ يَبْتَغُونَ إِلَی رَبِّهِمْ الْوَسِيلَةَ ) 17۔ الاسراء: 57)۔

Abdullah bin Masud said in connection with the verse: "Those whom they call upon, themselves seek the means of access to their Lord," that that verse was revealed in connection with a party of Arabs who used to worship a group amongst the jinn; the jinn embraced Islam but the people kept worshipping them without being conscious of it. Then this verse was revealed: "Those whom they call upon, themselves seek the means of access to their Lord."

7558Sahih Muslim

سورت البراءة سورت الانفال سورت الحشر کے بیان میں

حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُطِيعٍ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ سُورَةُ التَّوْبَةِ قَالَ آلتَّوْبَةِ قَالَ بَلْ هِيَ الْفَاضِحَةُ مَا زَالَتْ تَنْزِلُ وَمِنْهُمْ وَمِنْهُمْ حَتَّی ظَنُّوا أَنْ لَا يَبْقَی مِنَّا أَحَدٌ إِلَّا ذُکِرَ فِيهَا قَالَ قُلْتُ سُورَةُ الْأَنْفَالِ قَالَ تِلْکَ سُورَةُ بَدْرٍ قَالَ قُلْتُ فَالْحَشْرُ قَالَ نَزَلَتْ فِي بَنِي النَّضِيرِ

عبداللہ بن مطیع ہشیم، ابی بشر، ابن عباس ؓ حضرت سعید بن جبیر ؓ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت ابن عباس ؓ سے کہا سورت توبہ، انہوں نے فرمایا کیا توبہ؟ نہیں، بلکہ وہ سورت تو کافروں اور منافقوں کو ذلیل کرنے والی ہے اس سورت میں تو برابر کچھ کا حال یہ ہے کچھ کا حال یہ ہے نازل ہوتا رہا یہاں تک کہ انہوں نے خیال کیا کہ اس سورت میں ہر منافق کا ذکر کردیا جائے گا حضرت سعید ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے کہا کہ انہوں نے فرمایا سورت الانفال انہوں نے فرمایا یہ سورت تو بدر کی لڑائی کے بارے میں نازل ہوئی ہے میں نے کہا سورت الحشر انہوں نے فرمایا یہ سورت بنی نضیر کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔

Said bin Jubair reported: I said to Ibn Abbas about Sura Tauba, whereupon he said: As for Sura Tauba, it is meant to humiliate (the non-believers and the hypocrites). There is constantly revealed in it (the pronoun) minhum (of them) and minhum (of them), i. e. such is the condition of some of them) till they (the Muslims) thought that none would be left unmentioned out of them who would not be blamed (for one fault or the other). I again said: What about Sura Anfal? He said: It pertains to the Battle of Badr. I again asked him about Sura al-Hashr. He said: It was revealed in connection with (the tribe) of Banu Nadir.

7559Sahih Muslim

شراب کی حرمت کے حکم کے نزول کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ أَبِي حَيَّانَ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ خَطَبَ عُمَرُ عَلَی مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَی عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ أَلَا وَإِنَّ الْخَمْرَ نَزَلَ تَحْرِيمُهَا يَوْمَ نَزَلَ وَهِيَ مِنْ خَمْسَةِ أَشْيَائَ مِنْ الْحِنْطَةِ وَالشَّعِيرِ وَالتَّمْرِ وَالزَّبِيبِ وَالْعَسَلِ وَالْخَمْرُ مَا خَامَرَ الْعَقْلَ وَثَلَاثَةُ أَشْيَائَ وَدِدْتُ أَيُّهَا النَّاسُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ عَهِدَ إِلَيْنَا فِيهَا الْجَدُّ وَالْکَلَالَةُ وَأَبْوَابٌ مِنْ أَبْوَابِ الرِّبَا

ابوبکر بن ابی شیبہ، علی بن مسہر، ابوحیان، شعبی، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ حضرت عمر ؓ نے رسول اللہ ﷺ کے منبر پر خطبہ ارشاد فرمایا تو پہلے اللہ تعالیٰ کی حمد ثناء بیان فرمائی پھر فرمایا اما بعد آگاہ رہو کہ جس وقت شراب حرام ہوئی تو شراب پانچ چیزوں سے تیار ہوا کرتی تھی گندم، جو، کھجور، انگور اور شہد سے اور شراب اس چیز کو کہتے ہیں کہ جو عقل میں فتور ڈال دے اور تین چیزیں ایسی ہیں کہ جن کے بارے میں میں چاہتا تھا کہ رسول اللہ ﷺ ہمیں تفصیل سے ان کے بارے میں بتا دیتے دادا اور کلالہ کی میراث اور سود کے کچھ ابواب۔

Ibn Umar reported that Umar delivered a sermon on the pulpit of Allahs Messenger ﷺ and he praised Allah and lauded Him and then said: Now coming to the point. Behold, when the command pertaining to the prohibition of wine was revealed, it was prepared from five things: from wheat, barley, date, grape, honey; and wine is that which clouds the intellect; and O people, I wish Allahs Messenger ﷺ could have explained to us in (more) detail the laws pertaining to the inheritance of the grandfather, about one who dies leaving no issue, and some of the problems pertaining to interest.

7560Sahih Muslim

شراب کی حرمت کے حکم کے نزول کے بیان میں

و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ حَدَّثَنَا أَبُو حَيَّانَ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ عَلَی مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولَ أَمَّا بَعْدُ أَيُّهَا النَّاسُ فَإِنَّهُ نَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ وَهِيَ مِنْ خَمْسَةٍ مِنْ الْعِنَبِ وَالتَّمْرِ وَالْعَسَلِ وَالْحِنْطَةِ وَالشَّعِيرِ وَالْخَمْرُ مَا خَامَرَ الْعَقْلَ وَثَلَاثٌ أَيُّهَا النَّاسُ وَدِدْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ عَهِدَ إِلَيْنَا فِيهِنَّ عَهْدًا نَنْتَهِي إِلَيْهِ الْجَدُّ وَالْکَلَالَةُ وَأَبْوَابٌ مِنْ أَبْوَابِ الرِّبَا

ابوکریب، ابن ادریس، ابوحیان، شعبی، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب ؓ سے رسول اللہ ﷺ کے منبر پر سنا وہ فرما رہے تھے اما بعد اے لوگو اللہ تعالیٰ نے شراب کی حرمت نازل فرمائی ہے اور وہ شراب پانچ چیزوں سے تیار ہوتی ہے انگور، کھجور، شہد، گندم اور جو سے اور شراب وہ ہے جو کہ عقل میں فتور ڈال دے اور اے لوگو تین چیزیں ایسی ہیں کہ جن کے بارے میں میں چاہتا تھا کہ رسول اللہ ﷺ ہم سے آخری مرتبہ بیان فرما دیتے دادا، کلالہ کی میراث اور سود کے کچھ ابواب۔

Ibn Umar reported: I heard Umar bin Khattab delivering sermon on the pulpit ol Allahs messenger ﷺ and saying: Now, coming to the point, O people, there was revealed (the command pertaining to the prohibition of wine) and it was prepared (at that time) out of five things: grape, date, honey, wheat, barley, and wine is that which clouds the intellect, and, O people, I wish Allahs Messenger ﷺ had explained to us in greater detail three things: the inheritance of the grandfather, of one who dies without leaving any issue, and some of the problems of interest.

7561Sahih Muslim

شراب کی حرمت کے حکم کے نزول کے بیان میں

و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ کِلَاهُمَا عَنْ أَبِي حَيَّانَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِ حَدِيثِهِمَا غَيْرَ أَنَّ ابْنَ عُلَيَّةَ فِي حَدِيثِهِ الْعِنَبِ کَمَا قَالَ ابْنُ إِدْرِيسَ وَفِي حَدِيثِ عِيسَی الزَّبِيبِ کَمَا قَالَ ابْنُ مُسْهِرٍ

ابوبکر بن ابی شیبہ، اسماعیل بن علیہ، اسحاق بن ابرا ہیم، عیسیٰ بن یونس، حضرت ابوحیان ؓ سے اس سند کے ساتھ مذکورہ دونوں حدیثوں کی طرح روایت نقل کی گئی ہے سوائے اس کے کہ اس میں ابن علیہ نے اپنی روایت میں عنب کا لفظ کہا ہے جیسا کہ ابن اویس نے کہا اور عیسیٰ کی روایت میں زبیب کا لفظ ہے جیسا کہ ابن مسہر نے کہا مطلب دونوں لفظوں کا ایک ہی ہے۔

This hadith has been transmitted on the same authority but with a slight variation of wording.

7562Sahih Muslim

اللہ تعالیٰ کے فرمان یہ دو جھگڑا کرنے والے ہیں جنہوں نے جھگڑا کیا اپنے رب کے بارے میں

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ أَبِي هَاشِمٍ عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ يُقْسِمُ قَسَمًا إِنَّ هَذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُوا فِي رَبِّهِمْ إِنَّهَا نَزَلَتْ فِي الَّذِينَ بَرَزُوا يَوْمَ بَدْرٍ حَمْزَةُ وَعَلِيٌّ وَعُبَيْدَةُ بْنُ الْحَارِثِ وَعُتْبَةُ وَشَيْبَةُ ابْنَا رَبِيعَةَ وَالْوَلِيدُ بْنُ عُتْبَةَ

عمرو بن زرارہ، ہشیم، ابی ہاشم، ابومجلز، حضرت قیس بن عباد ؓ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت ابوذر ؓ سے سنا وہ قسم کھا کر بیان فرما رہے تھے کہ (ھٰذٰنِ خَصْمٰنِ اخْتَصَمُوْا فِيْ رَبِّهِمْ ) 22۔ الحج: 19 یہ دو جھگڑا کرنے والے ہیں جنہوں نے اپنے رب کے بارے میں جھگڑا کیا ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے کہ جنہوں نے غزوہ بدر کے دن (جنگ کے میدان میں) مبارزت یعنی سبقت کی حضرت حمزہ، حضرت علی ؓ، حضرت عبیدہ بن حارث مسلمانوں کی طرف سے اور عتبہ، شیبہ، ربیعہ کے بیٹے اور ولید بن عتبہ کافروں کی طرف سے تھے) یعنی دونوں گرہوں کے طرف سے ان ان لوگوں نے جنگ میں مبارزت کی)۔

Abu Dharr (RA) took an oath that this verse: "These two adversaries who dispute about their Lord" (xxii. 19) was revealed in connection with those who on the Day of Badr came out (of rows to fight against the non-believers and they were) Hamza, Ali, Ubaida bin Harith (from the side of the Muslims) and Utba and Shaiba, both of them the sons of Rabiah and Walid bin Utba (from the side of the non-believers of Makkah).