اسناد حدیث کی ضرورت کے بیان میں اور راویوں پر تنقید کی اہمیت کے بارے میں کہ وہ غیبت محرمہ نہیں ہے۔
قَالَ مُسْلِم وَأَشْبَاهُ مَا ذَکَرْنَا مِنْ کَلَامِ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي مُتَّهَمِي رُوَاةِ الْحَدِيثِ وَإِخْبَارِهِمْ عَنْ مَعَايِبِهِمْ کَثِيرٌ يَطُولُ الْکِتَابُ بِذِکْرِهِ عَلَی اسْتِقْصَائِهِ وَفِيمَا ذَکَرْنَا کِفَايَةٌ لِمَنْ تَفَهَّمَ وَعَقَلَ مَذْهَبَ الْقَوْمِ فِيمَا قَالُوا مِنْ ذَلِکَ وَبَيَّنُوا وَإِنَّمَا أَلْزَمُوا أَنْفُسَهُمْ الْکَشْفَ عَنْ مَعَايِبِ رُوَاةِ الْحَدِيثِ وَنَاقِلِي الْأَخْبَارِ وَأَفْتَوْا بِذَلِکَ حِينَ سُئِلُوا لِمَا فِيهِ مِنْ عَظِيمِ الْخَطَرِ إِذْ الْأَخْبَارُ فِي أَمْرِ الدِّينِ إِنَّمَا تَأْتِي بِتَحْلِيلٍ أَوْ تَحْرِيمٍ أَوْ أَمْرٍ أَوْ نَهْيٍ أَوْ تَرْغِيبٍ أَوْ تَرْهِيبٍ فَإِذَا کَانَ الرَّاوِي لَهَا لَيْسَ بِمَعْدِنٍ لِلصِّدْقِ وَالْأَمَانَةِ ثُمَّ أَقْدَمَ عَلَی الرِّوَايَةِ عَنْهُ مَنْ قَدْ عَرَفَهُ وَلَمْ يُبَيِّنْ مَا فِيهِ لِغَيْرِهِ مِمَّنْ جَهِلَ مَعْرِفَتَهُ کَانَ آثِمًا بِفِعْلِهِ ذَلِکَ غَاشًّا لِعَوَامِّ الْمُسْلِمِينَ إِذْ لَا يُؤْمَنُ عَلَی بَعْضِ مَنْ سَمِعَ تِلْکَ الْأَخْبَارَ أَنْ يَسْتَعْمِلَهَا أَوْ يَسْتَعْمِلَ بَعْضَهَا وَلَعَلَّهَا أَوْ أَکْثَرَهَا أَکَاذِيبُ لَا أَصْلَ لَهَا مَعَ أَنَّ الْأَخْبَارَ الصِّحَاحَ مِنْ رِوَايَةِ الثِّقَاتِ وَأَهْلِ الْقَنَاعَةِ أَکْثَرُ مِنْ أَنْ يُضْطَرَّ إِلَی نَقْلِ مَنْ لَيْسَ بِثِقَةٍ وَلَا مَقْنَعٍ وَلَا أَحْسِبُ کَثِيرًا مِمَّنْ يُعَرِّجُ مِنْ النَّاسِ عَلَی مَا وَصَفْنَا مِنْ هَذِهِ الْأَحَادِيثِ الضِّعَافِ وَالْأَسَانِيدِ الْمَجْهُولَةِ وَيَعْتَدُّ بِرِوَايَتِهَا بَعْدَ مَعْرِفَتِهِ بِمَا فِيهَا مِنْ التَّوَهُّنِ وَالضَّعْفِ إِلَّا أَنَّ الَّذِي يَحْمِلُهُ عَلَی رِوَايَتِهَا وَالِاعْتِدَادِ بِهَا إِرَادَةُ التَّکَثُّرِ بِذَلِکَ عِنْدَ الْعَوَامِّ وَلِأَنْ يُقَالَ مَا أَکْثَرَ مَا جَمَعَ فُلَانٌ مِنْ الْحَدِيثِ وَأَلَّفَ مِنْ الْعَدَدِ وَمَنْ ذَهَبَ فِي الْعِلْمِ هَذَا الْمَذْهَبَ وَسَلَکَ هَذَا الطَّرِيقَ فَلَا نَصِيبَ لَهُ فِيهِ وَکَانَ بِأَنْ يُسَمَّی جَاهِلًا أَوْلَی مَنْ أَنْ يُنْسَبَ إِلَی عِلْمٍ
امام مسلم فرماتے کہ ہم نے مذکورہ سطور میں متہم راویان حدیث کے بارے میں اہل علم کے کلام سے ضعیف راویوں کی جو تفصیل ذکر کی ہے اور ان کی مرویات کے جن عیوب ونقائص کا ذکر کیا ہے وہ صاحب فراست کے لئے کافی ہیں اگر وہ تمام تنقیدی اقوال نقل کئے جاتے جو رواہ حدیث کے متعلق علمائے حدیث نے بیان کئے تو کتاب بہت طویل ہوجاتی اور ائمہ حدیث نے راویوں کا عیب کھول دینا ضروری سمجھا اور اس بات کا فتوی دیا جب ان سے پوچھا گیا اس لئے یہ بڑا اہم کام ہے کیونکہ دین کی بات جب نقل کی جائے گی تو وہ کسی امر کے حلال ہونے کے لئے کافی ہوگی یا حرام ہونے کے لئے یا کسی بات کا حکم ہوگا یا کسی بات کی ممانعت یا وہ رغبت وخوف کے متعلق ہوگی تو یہ تمام احکام ونواہی احادیث پر موقوف ہیں جب حدیث کا کوئی راوی خود صادق اور امانت دار نہ ہو اور وہ روایت کا اقدام کرے اور بعد والے اس راوی کی ثقاہت کے باوجود دوسرے کو جو اس کو غیر ثقہ کے طور پر نہ جانتا ہو اس کی کوئی روایت بیان کرے اور اصل راوی کے احوال پہ کوئی تنقید وتبصرہ نہ کریں تو یہ مسلم عوام کے ساتھ خیانت اور دھوکا ہوگا کیونکہ ان احادیث میں بہت سی احادیث موضوع اور من گھڑت ہوں گی اور عوام کی اکثریت راویوں کے احوال سے نا واقفیت کی بناء پر ان احادیث پر عمل کرے گی تو اس کا گناہ اس راوی پر ہوگا جس نے یہ حدیث بیان کی کہ اس حدیث کو سننے والوں کی غیر معمولی تعداد مسلمانوں کی لاعلمی کی وجہ سے اس پر عمل کرنے کی وجہ سے گناہگار ہو کیونکہ واقعہ میں وہ حدیث ہی نہیں یا کم از کم اس میں تغیر وتبدل کم بیشی تراش خراش کردی گئی علاوہ ازیں جبکہ احادیث صحیحہ جن کو معتبر اور ثقہ رواہ نے بیان کیا ہے اس قدر کثرت کے ساتھ موجود ہیں کہ ان کی موجودگی میں ان باطل اور من گھڑت روایات کی مطلقا ضرورت ہی باقی نہیں رہتی اس تحقیق کے بعد میں یہ گمان نہیں کرتا کہ کوئی شخص اپنی کتاب میں مجہول غیر ثقہ اور غیر معتبر راویوں کی احادیث نقل کرے گا خصوصا جبکہ وہ سند حدیث سے مطلع ہو۔ سوائے اس شخص کے جو لوگوں کے نزدیک اپنا کثرت علم ثابت کرنا چاہیں کہ لوگ کہیں کہ وہ احادیث کا ایک بہت بڑا ذخیرہ پیش کرسکتا ہے اور اس مقصد کے حصول کے لئے وہ باطل و موضوع اور من گھڑت اسانید کے ساتھ بھی احادیث پیش کرنے میں تامل نہیں کرے گا تاکہ لوگ اس کی وسعت علم و کثرت روایات پر داد دیں لیکن جو شخص ایسے باطل طریقہ کو اختیار کرے گا اہل علم اور دانش مند طبقہ کے ہاں ایسے متحر عالم کی کوئی وقعت وقدر نہ ہوگی اور ایسے شخص کی وسعت علمی کو نادانی اور جہالت سے تعبیر کیا جائے گا۔
Muslim said: Similar instances to what we mentioned from the words of Ahl ul-Ilm regarding those transmitters who are imputed in Ḥadīth, and reports about their defects, are great in number, it would lengthen this book to mention its investigation, and what we [already] mentioned should be sufficient for whoever reflects upon and understands the way of the people [Muhaddithīn] in terms of what they said and clarified of all of that. Indeed [the Muhaddithīn] concerned themselves with the unveiling of the defects of transmitters of Ḥadīth and narrators of reports; they delivered verdicts in that at the time they were asked when there was a great danger involved considering that the reports are regarding affairs of the Dīn; whether [the transmissions] present a permission or proscription, a command or prohibition, encouragement or admonition. If the transmitter for it is not a source of truthfulness or reliability, then those who know [his condition], who risk transmitting on his authority, and not declaring [his condition] to others whom are ignorant of his [state], are sinning through doing that, and deceiving the common Muslims, since he should not feel secure in that some of those who heard these reports will act upon them, or act upon some of them, and perhaps they are lies which have no basis, or a majority of them; this along with the fact that authentic reports from the trustworthy chains and the people who are satisfactory [to the majority of Ahl ul-Ilm] are in too great a number to compel relating from those who are not trustworthy and who are not satisfactory. I do not think highly of those who would permit from the people what we described of these weak narrations and unknown chains, and who judge by these transmissions after knowing what is in them of those who are imputed and weak unless he, through his conveyance and judgment by them, desires to accumulate [status] through that among the commoners, or that it can be said, ‘How great is the number of Ḥadīth that so-and-so has gathered and compiled!’. Those who held this ideology regarding knowledge and traversed this path have no share in it and that they were designated as being ignorant is more deserving than for them to be attributed to knowledge.