خروج دجال اور اس کا زمین میں ٹھہرنے اور عیسیٰ (علیہ السلام) کے نزول اور اسے قتل کرنے اہل ایمان اور نیک لوگوں کے اٹھ جانے اور برے کے باقی رہ جانے اور بتوں کی پوجا کرنے اور صور میں پھونکے جانے اور قبروں سے اٹھائے جانے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا أَبُو حَيَّانَ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ قَالَ جَلَسَ إِلَی مَرْوَانَ بْنِ الْحَکَمِ بِالْمَدِينَةِ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ مِنْ الْمُسْلِمِينَ فَسَمِعُوهُ وَهُوَ يُحَدِّثُ عَنْ الْآيَاتِ أَنَّ أَوَّلَهَا خُرُوجًا الدَّجَّالُ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو لَمْ يَقُلْ مَرْوَانُ شَيْئًا قَدْ حَفِظْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا لَمْ أَنْسَهُ بَعْدُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فَذَکَرَ بِمِثْلِهِ
محمد بن عبداللہ بن نمیر، ابوحیان حضرت ابوزرعہ سے روایت ہے کہ مروان بن حکم کے پاس مدینہ میں مسلمانوں میں سے تین آدمی بیٹھے ہوئے تھے پس انہوں نے مروان سے سنا اور وہ علامات قیامت کے بارے میں روایات بیان کر رہا تھا بیشک ان میں سب سے پہلی علامت خروج دجال ہے عبداللہ بن عمرو نے کہا مروان نے کچھ بھی نہیں کہا میں نے رسول اللہ ﷺ سے حدیث یاد کی جسے رسول اللہ ﷺ سے سننے کے بعد بھولا نہیں ہوں آپ ﷺ فرماتے تھے باقی حدیث مذکور حدیث ہی کی طرح ہے۔
Abu Zura reported that three persons amongst Muslims had been sitting in Madinah in the presence of Marwan bin Hakam and they heard him narrate these signs from him and the first amongst them was the appearance of the Dajjal. Abdullah bin Amr reported that Marwin said nothing (particular in this connection). I, however, heard a hadith from Allahs Messenger ﷺ and I did not forget that after I had heard that from Allahs Apostle ﷺ and he reported a hadith like the foregoing.