Sahih Muslim 5098

قربانی کا بیان

5098Sahih Muslim

ابتدائے اسلام میں تین دن کے بعد قربانیوں کا گوشت کھانے کی ممانعت اور پھر اس حکم کے منسوخ ہونے اور پھر جب تک چاہئے قربانی کا گوشت کھاتے رہنے کے جواز کے بیان میں

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ حَدَّثَنِي أَبُو عُبَيْدٍ مَوْلَی ابْنِ أَزْهَرَ أَنَّهُ شَهِدَ الْعِيدَ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ فَصَلَّی لَنَا قَبْلَ الْخُطْبَةِ ثُمَّ خَطَبَ النَّاسَ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَهَاکُمْ أَنْ تَأْکُلُوا لُحُومَ نُسُکِکُمْ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ فَلَا تَأْکُلُوا

حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، ابوعبید مولیٰ بن ازہر فرماتے ہیں کہ میں حضرت عمر بن خطاب ؓ کے ساتھ عید کی نماز میں موجود تھا راوی ابوعبید کہتے ہیں کہ پھر میں نے حضرت علی ؓ بن ابی طالب کے ساتھ بھی عید (عید الاضحٰی) کی نماز پڑھی حضرت علی ؓ نے ہمیں خطبہ سے پہلے عید کی نماز پڑھائی پھر آپ ﷺ نے لوگوں کو خطبہ دیا کہ رسول اللہ ﷺ نے تمہیں منع فرمایا ہے کہ تم تین راتوں سے زیادہ اپنی قربانیوں کا گوشت کھاؤ تو تم نہ کھاؤ۔

Abu Ubaid, the freed slave of Ibn Azhar, reported that he said Id (prayer) with Umar bin al-Khattab, and then said the Id (prayer) with Ali bin Abu Talib. He (the narrator further) reported: He led us in prayer before delivering the sermon and then addressed the people saying: Allahs Messenger ﷺ has forbidden you to eat the flesh of your sacrificial animals beyond three nights, so do not eat that.