Sahih Muslim 3666

طلاق کا بیان

3666Sahih Muslim

حائضہ عورت کو اس کی رضا مندی کے بغیر طلاق دنیے کی حرمت اور اگر کوئی طلاق دے دے تو طلاق واقع نہ ہوئی اور مرد کو رجوع کرنے کا حکم دینے کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنْ امْرَأَتِهِ الَّتِي طَلَّقَ فَقَالَ طَلَّقْتُهَا وَهِيَ حَائِضٌ فَذُکِرَ ذَلِکَ لِعُمَرَ فَذَکَرَهُ لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا فَإِذَا طَهُرَتْ فَلْيُطَلِّقْهَا لِطُهْرِهَا قَالَ فَرَاجَعْتُهَا ثُمَّ طَلَّقْتُهَا لِطُهْرِهَا قُلْتُ فَاعْتَدَدْتَ بِتِلْکَ التَّطْلِيقَةِ الَّتِي طَلَّقْتَ وَهِيَ حَائِضٌ قَالَ مَا لِيَ لَا أَعْتَدُّ بِهَا وَإِنْ کُنْتُ عَجَزْتُ وَاسْتَحْمَقْتُ

یحییٰ بن یحیی، خالد بن عبداللہ، عبدالملک، حضرت انس بن سیرین سے روایت ہے کہ میں نے ابن عمر ؓ سے ان کی اس بیوی کے متعلق پوچھا جسے انہوں نے طلاق دے دی تھی تو انہوں نے کہا میں نے اسے حالت حیض میں طلاق دے دی تھی پھر میں نے اس کا ذکر عمر ؓ سے کیا اور انہوں نے نبی کریم ﷺ سے تو آپ ﷺ نے فرمایا اسے حکم دو کہ وہ رجوع کرلے جب وہ پاک ہوجائے تو اس کو طہر کی وجہ سے طلاق دے راوی کہتا ہے میں نے کہا کیا آپ نے وہ طلاق شمار کی تھی جو آپ نے حالت حیض میں دی تھی؟ انہوں نے کہا مجھے کیا ہے کہ میں اسے شمار نہ کرتا؟ کیا میں عاجز اور احمق ہوگیا ہوں۔

Anas bin Sirin reported: I asked Ibn Umar (RA) about the woman whom he had divorced. He said: I divorced her while she was in the state of menses. It was mentioned to Umar (RA) and he then made a mention of that to Allahs Apostle ﷺ , whereupon he said: Command him to take her back and when the period of menses is over, then (he may divorce her in the state of her purity. He ( Ibn Umar (RA) ) said: So I took her back, then divorced her in her purity. I (the narrator) said: Did you count that divorce which you pronounced in the state of menses? He said: Why should I not have counted that? Was I helpless or foolish?