وعنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن في الجنة مائة درجة ما بين كل درجتين مائة عام . رواه الترمذي وقال : هذا حديث حسن غريب
اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جنت میں سو درجے ہیں اور ہر دو درجوں کے درمیان سو برس کی مسافت کا فاصلہ ہے اس روایت کو ترمذی نے نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے۔
تشریح
زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ حدیث میں درجوں سے مراد بلند مراتب ہیں جو اہل جنت کو ان کے اعمال اور نیکوں کے اعتبار سے ملیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ھم درجات عند اللہ ( اہل جنت اللہ کے نزدیک درجات و مراتب میں مختلف ہوں گے) یعنی ان کو اپنے اپنے اعمال کے مطابق الگ الگ مرتبہ ودرجہ ملے گا، جس جنتی کے اعمال جتنے زیادہ اچھے ہوں گے اس کو اتنے ہی زیادہ مراتب نصیب ہوں گے، جیسا کہ دوزخیوں کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ وہ اپنے اپنے کفر وشرک کے اعتبار سے دوزخ کے نچلے حصوں میں ڈالے جائیں گے کہ جس دوزخی کے کفریہ اعمال و عقائد جتنے زیادہ خراب رہے ہوں گے اس کو دوزخ کے اتنے ہی نچلے حصوں میں پہنچایا جائے گا، اس کی طرف قرآن کریم کے ان الفاظ میں اشارہ کیا گیا ہے ان المنافقین فی الدرک الاسفل من النار ( یقینا منافقین دوزخ کے نچلے حصوں میں پڑے ہوں گے۔
وعن أبي سعيد قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن في الجنة مائة درجة لو أن العالمين اجتمعوا في أحداهن لوسعتهم . رواه الترمذي وقال : هذا حديث غريبوعنه عن النبي صلى الله عليه و سلم في قوله تعالى ( وفرش مرفوعة ) قال : ارتفاعها لكما بين السماء والأرض مسيرة خمسمائة سنة . رواه الترمذي وقال : هذا حديث غريب
اور حضرت ابوسعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد وفرش موفوعۃ ( اور اونچے اونچے فرش اور بچھونے ہوں گے) کی تفسیر میں فرمایا کہ ان بچھونوں کی بلندی اتنی ہوگی جتنی کہ آسمان اور زمین کے درمیان مسافت ہے یعنی پانچ سو برس کا راستہ۔ اس روایت کو ترمذی نے نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے۔
تشریح
مطلب یہ ہے کہ جنت کے درجوں میں جو فرش اور بچھونے ہوں گے وہ اتنے اونچے اونچے ہوں گے کہ بظاہر یہ نظر آئے گا کہ وہ آسمان جیسی بلندی تک چلے گئے ہیں یا یہ مطلب ہے کہ قرآن کریم کی اس آیت میں جن اونچے اونچے فرش اور بچھونوں کا ذکر ہے وہ جنت کے ان درجات میں بچھے ہوں گے جو زمین سے آسمان تک کی مسافت کے بقدر بلند ہوں گے اور جن کی اس بلندی کے بارے میں یہ حدیث ہے کہ ان للجنۃ مائۃ درجۃ ما بین کل درجتین کما بین السماء والارض ( جنت میں سو درجے ہیں اور ان میں سے ہر دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا زمین و آسمان کے درمیان۔ بعض حضرات نے یہ کہا ہے کہ فرش وموفوعۃ میں لفظ فرش سے مراد حوران جنت ہیں اور مرفوعۃ سے مراد ان حوران جنت کا حسن و جمال میں دنیا کی عورتوں سے فائق و برتر ہونا ہے، لیکن ایک حدیث میں یہ بھی آیا ہے کہ جنت میں مومن عورتیں حوروں سے بھی زیادہ حسین و جمیل ہوں گی اور ان کو حوروں پر فضیلت اس نماز روزہ کے سبب حاصل ہوگی جو وہ دنیا میں کرتی تھیں۔
وعنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن أول زمرة يدخلون الجنة يوم القيامة ضوء وجوههم على مثل ضوء القمر ليلة البدر والزمرة الثانية على مثل أحسن كوكب دري في السماء لكل رجل منهم زوجتان على كل زوجة سبعون حلة يرى مخ ساقها من ورائها . رواه الترمذي
اور حضرت ابوسعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن جنت میں جو لوگ سب سے پہلے داخل ہوں گے ( یعنی انبیاء (علیہ السلام) ان کے چہرے چودہویں رات کے چاند کی طرح روشن وچمکدار ہوں گے اور دوسری جماعت کے لوگ ( جو انبیاء کے بعد جنت میں داخل ہوں گے اور وہ اولیاء وصلحا ہیں) ان کے چہرے آسمان کے اس ستارے کی طرح روشن وچمکدار ہوں گے جو سب سے زیادہ چمکتا ہے۔ نیز ان ( جنتیوں) میں سے ہر شخص کے لئے دو بیویاں ہوں گی اور ہر بیوی کے جسم پر ( لباس کے) ستر جوڑے ہوں گے ( اور وہ دونوں بیویاں اتنی صاف و شفاف اور حسین و جمیل ہوں گی کہ) ان کی پنڈلیوں کے اندر کا گودا ستر جوڑوں کے اوپر سے نظر آتا ہوگا۔
تشریح
اس حدیث میں ہر جنتی کو دو بیویاں ملنے کا ذکر ہے جب کہ ایک حدیث میں یہ منقول ہے کہ اہل جنت میں جو سب سے کمتر درجہ کا جنتی ہوگا اس کو بھی بہتر بیویاں اور اسی ہزار خادم ملیں گے پس ان دونوں میں مطابقت کے لئے علماء نے لکھا ہے کہ اس حدیث میں جو دو بیویوں کا ذکر کیا ہے تو وہ اس خصوصیت کی حامل ہوں گی کہ ان کی پنڈلیوں کے اندر کا گودا ان کے لباس کے ستر جوڑوں کے اوپر سے بھی نظر آئے گا اور باقی بیویاں تو دنیا کی عورتوں میں سے ملیں گی اور ستر بیویاں حوران جنت میں سے ملیں گی اور دونوں مل کر بہتر ہوں گی۔
جنتیوں کی مردانہ قوت کا ذکر
وعن أنس عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : يعطى المؤمن في الجنة قوة كذا وكذا من الجماع . قيل : يا رسول الله أو يطيق ذلك ؟ قال : يعطى قوة مائة . رواه الترمذي
اور حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جنت میں مومن کو جنسی اختلاط کی اتنی اتنی قوت عطا کی جائے گی عرض کیا گیا یا رسول اللہ ﷺ! کیا ایک مرد اتنی عورتوں سے جنسی اختلاط ( مباشرت) کی طاقت رکھے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا ( جنت میں ایک مرد کو) سو مردوں کی قوت عطا کی جائے کی ( اور جب اس کو اتنی قوت حاصل ہوگی تو پھر وہ کئی کئی عورتوں سے جنسی اختلاط کی طاقت کیوں نہیں رکھے گا۔ (ترمذی )
وعن سعد بن أبي وقاص عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : لو أن ما يقل ظفر مما في الجنة بدا لتزخرفت له ما بين خوافق السماوات والأرض ولو أن رجلا من أهل الجنة اطلع فبدا أساوره لطمس ضوؤه ضوء الشمس كما تطمس الشمس ضوء النجوم . رواه الترمذي وقال : هذا حديث غريب
اور حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا جنت کی چیزوں ( یعنی زینت و آرائش کی اشیاء) میں سے اگر ناخن کے برابر بھی کوئی چیز دنیا میں) آجائے تو آسمان و زمین کی اطراف و جوانب تک کی دنیا کی، ہر چیز رونق پا جائے اور حقیقت یہ ہے کہ اگر جنتیوں میں سے کوئی شخص دنیا کی طرف، جھانکے اور اس کے ( ہاتھوں کے) کڑے نمایاں ہوجائیں تو ان کی چمک دمک سورج کی روشنی کو ماند کردے جیسا کہ سورج ستاروں کی روشنی کو ماند کردیتا ہے اس روایت کو ترمذی نے نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے۔
وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أهل الجنة جرد مرد كحلى لا يفنى شبابهم ولا تبلى ثيابهم . رواه الترمذي والدارميوعن
اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جنتی بغیر بالوں کے امرد ہوں گے، ان کی آنکھیں سرمگیں ہوں گی، ان کا شباب کبھی فنا نہ ہوگا اور ان کے کپڑے کبھی پرانے نہ ہوں گے۔ ( ترمذی، دارمی )
تشریح
لفظ جرد اصل میں اجرد کی جمع ہے اور اجرد اس شخص کو کہتے ہیں جس کے بدن پر بال نہ ہوں، اسی طرح مرد، امرد کی جمع ہے، جس کے معنی ہیں بےداڑھی کا جوان نیز لفظ کحلی (فعلی کے وزن پر) مکحول کے معنی میں ہے یعنی وہ شخص جس کی پلکوں کی جڑیں پیدائشی سیاہ ہوں اور ایسا نظر آتا ہو کہ اس نے آنکھوں میں سرمہ لگا رکھا ہے۔
معاذ بن جبل أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : يدخل أهل الجنة الجنة جردا مردا مكحلين أبناء ثلاثين - أو ثلاث وثلاثين - سنة . رواه الترمذي
اور حضرت معاذ بن جبل ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے جنتی جنت میں اس طرح داخل ہوں گے کہ ان کا بدن بالوں سے صاف ہوگا بےداڑہی کے جوان ہونگے ان کی آنکھیں سرمگیں ہوں گی اور تیس یا تینتیس سال کی عمر کے لگیں گے۔ (ترمذی)
تشریح
تیس یا تینتیس سال کی عمر مکمل جوانی اور طاقت سے بھر پور ہوتی ہے اس لئے جنتی مردوں کو یہی عمر عطا کر کے جنت میں داخل کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ تیس یا تینتیس۔۔۔ میں حرف یا راوی کے شک کو ظاہر کرتا ہے کہ اس موقع پر آنحضرت ﷺ نے تیس کا ذکر فرمایا تھا یا تینتیس کا۔
وعن أسماء بنت أبي بكر قالت : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم وذكر له سدرة المنتهى قال : يسير الراكب في ظل الفنن منها مائة سنة أو يستظل بظلها مائة راكب - شك الراوي - فيها فراش الذهب كأن ثمرها القلال رواه الترمذي وقال : هذا حديث غريب
اور حضرت اسماء بنت ابوبکر ؓ کہتی ہیں کہ اس وقت جب کہ رسول کریم ﷺ کے سامنے سدرۃ المنتہی کا ذکر کیا گیا، میں نے آپ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ( سدرۃ المنتہی ایسا درخت ہے کہ) کوئی ( تیز رفتار) سوار اس کی شاخوں کے سائے میں سو سال تک چلتا رہے یا یہ فرمایا کہ اس کے سائے میں بیک وقت سو سوار دم لے سکیں، اس درخت پر سونے کی ٹڈیاں ہیں گویا اس کے پھل مٹکوں کے برابر ہیں۔ اس روایت کو ترمذی نے نقل کیا ہے اور کہا کہ یہ حدیث غریب ہے۔
تشریح
سدرۃ المنتہی کے معنی ہیں بیری کا وہ درخت جس پر انتہاء ہے۔ اس درخت کو سدرۃ المنتہی اس لئے کہا جاتا ہے کہ یہ جنت کے اس انتہائی کنارے پر واقع ہے جس کے پرے کسی کو کچھ علم نہیں کیا ہے، اس کے آگے کسی فرشتے تک کو جانے کا حکم نہیں ہے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو آخری رسائی بھی یہیں تک ہے، اس کے آگے وہ بھی نہیں جاسکتے صرف آنحضرت ﷺ معراج کی رات میں اس درخت سے آگے گئے ہیں۔ ایک روایت کے مطابق یہ درخت چھٹے آسمان پر ہے لیکن مشہور روایت یہ ہے کہ ساتویں آسمان پر۔ اس درخت پر سونے کی ٹڈیاں ہیں۔ سے شاید یہ مراد ہے کہ اس درخت پر جو نوارنی فرشتے ہیں ان کے پر اس طرح چمکتے اور جھلملاتے ہیں جیسے اس کی شاخوں پر سونے کی چمکدار ٹڈیاں ادھر ادھر پھدک رہی ہوں یا یہ کہ اس درخت سے جو انوار اٹھتے ہیں اور شاخوں پر ایک خاص قسم کی روشنی پھوٹتی رہتی ہے اس کو سونے کی ٹڈیاں سے تعبیر فرمایا۔ واضح رہے کہ آنحضرت ﷺ کا یہ ارشاد اس درخت پر سونے کی ٹڈیاں ہیں۔ دراصل اس آیت کریمہ (اِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشٰى) 53۔ النجم 16) ( جب اس سدرۃ المنتہی کو ڈھانپ رکھا جو کچھ کہ ڈھانپتا ہے) کی تفسیر ہے، چناچہ بیضاوی نے اس آیت کے تحت لکھا ہے کہ فرشتوں کی ایک بہت بڑی جماعت جو اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مصروف ہے اس درخت کو ڈھانپے رہتی ہے۔
وعن أنس قال سئل رسول الله صلى الله عليه و سلم ماالكوثر ؟ قال : ذاك نهر أعطانيه الله يعني في الجنة أشد بياضا من اللبن وأحلى من العسل فيه طير أعناقها كأعناق الجزر قال عمر : إن هذه لناعمة قال رسول الله صلى الله عليه و سلم أكلتها أنعم منها رواه الترمذي
اور حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ سے کوثر کے بارے میں پوچھا گیا ( کہ وہ کیا چیز ہے؟ ) تو آپ ﷺ نے فرمایا وہ ایک نہر ہے جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کی ہے یعنی جنت میں ( میرے لئے مخصوص ہے اس نہر کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ شیریں ہے، اس میں ایسے پرندے ہیں جن کی گردنیں اونٹ کی گردنوں کی طرح لمبی ہیں۔ حضرت عمر ؓ نے ( یہ سن کر) عرض کیا کہ وہ پرندے تو بہت فربہ اور تنو مند ہوں گے؟ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ان پرندوں کو کھانے والے (یعنی جنتی لوگ ان پرندوں سے بھی زیادہ توانا اور خوشحال ہوں گے۔ (ترمذی)
تشریح
لفظ نہر کے زبر کے ساتھ بھی ہے اور جزم کے ساتھ بھی منقول ہے! مطلب یہ ہے کہ کوثر پانی کی ایک نہر ہے جس کے دونوں سروں پر دو حوض ہیں ایک حوض تو موقف ( میدان محشر) میں ہے اور دوسرا حوض جنت میں ہے اور چونکہ اس نہر کا زیادہ حصہ جنت میں ہے اس لئے یعنی فی الجنۃ کے ذریعہ وضاحت کی گئی ہے کہ وہ نہر جنت میں آپ ﷺ کے لئے مخصوص ہے جس سے آپ ﷺ کے امتی سیراب ہوں گے۔ کاعناق الجزر ( اونٹ کی گردن کی طرح، میں لفظ جزر اصل میں جزور کی جمع ہے اور یہ لفظ ایسے اونٹ کے لئے استعمال کیا جاتا ہے جو نحر وذبح کے لئے تیار ہو، لہٰذا اس جملہ کے ذریعہ اس طرف اشارہ مقصود ہے کہ وہ پرندے جو حوض کوثر میں ہوں گے، نحروذبح کے لئے تیار ملیں گے تاکہ حوض کوثر سے سیراب ہونے والے ان کا گوشت کھا سکیں۔
جنتیوں کو ہر وہ چیز ملے گی جس کی وہ خواہش کریں گے
وعن بريدة أن رجلا قال : يا رسول الله هل في الجنة من خيل ؟ قال : إن الله أدخلك الجنة فلا تشاء أن تحمل فيها على فرس من ياقوتة حمراء يطير بك في الجنة حيث شئت إلا فعلت وسأله رجل فقال : يارسول الله هل في الجنة من إبل ؟ قال : فلم يقل له ما قال لصاحبه . فقال : إن يدخلك الله الجنة يكن لك فيها ما اشتهت نفسك ولذت عينك رواه الترمذي وعن أبي أيوب قال أتى النبي صلى الله عليه و سلم أعرابي فقال : يا رسول الله إني أحب الخيل أفي الجنة خيل ؟ قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن أدخلت الجنة أتيت بفرس من ياقوتة له جناحان فحملت عليه ثم طار بك حيث شئت رواه الترمذي . وقال هذا حديث ليس بالقوي وأبو سورة الراوي يضعف في الحديث وسمعت محمد بن إسماعيل يقول : أبو سورة هذا منكر الحديث يروي مناكير
اور حضرت بریدہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے پوچھا کہ یا رسول اللہ ﷺ کیا جنّت میں گھوڑے بھی ہوں گے؟ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اگر اللہ تعالیٰ نے تمہیں جنّت میں جہاں جانا چاہو گے وہ گھوڑا برق رفتاری کے ساتھ دوڑے گا اور گویا) اڑ کر تمہیں لے جائے گا (اس کے بعد) آپ ﷺ سے ایک شخص نے سوال کیا اور کہا کہ یا رسول اللہ ﷺ کیا جنّت میں اونٹ بھی ہوں گے؟ حضرت بریدہ کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کو وہ جواب نہیں دیا جو آپ ﷺ نے اس کے ساتھی کو دیا تھا (یعنی جس طرح آپ ﷺ نے پہلے شخص کو جواب دیا تھا اس طرح اس شخض کو جواب نہیں دیا کہ اگر اللہ تعالیٰ نے تمہیں جنّت میں داخل کیا اور تم نے اونٹ پر سوار ہونے کی خواہش ظاہر کی تو۔۔ الخ۔ بلکہ بطریق کلیہ) آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر اللہ تعالیٰ نے تمہیں جنّت میں پہنچادیا تو وہاں تمہیں ہر وہ چیز ملے گی جس کو تمہارا دل چاہے گا اور تمہاری آنکھیں پسند کریں گی۔ (ترمذی)
تشریح
لفظ فعلت صیغہ خطاب کے ساتھ مجہول اور دونوں طرح پڑھا جاتا ہے لفظی ترجمہ کی صورت میں اس کے معنی یہ ہوں گے کہ مگر یہ کہ تو کیا جائے گا یعنی تو اپنا مقصد و مدعا دیا جائے گا یا مگر یہ کہ تو کرے گا یعنی تو اپنی خواہش میں مطلب یاب ہوگا۔ نیزیہ لفظ فعلت تائے تانیث کے ساتھ بصیغہ مجہول بھی منقول ہے اس صورت میں یہ ترجمہ ہوگا کہ مگر یہ کہ تمہارے لئے ایسا کیا جائے گا یعنی تمہاری خواہش کے مطابق وہ گھوڑا تیار اور مہیا کیا جائے گا۔ واضع رہے کہ عربی میں فرس ( گھوڑا) مذکر اور مونث دونوں آتا ہے بہرحال مطلب یہ ہے کہ جنّت میں ہر شخص کو ہر وہ چیز ملے گی جس کی وہ خواہش کرے گا۔
جنتیوں کو ہر وہ چیز ملے گی جس کی وہ خواہش کریں گے
وعن أبي أيوب قال أتى النبي صلى الله عليه و سلم أعرابي فقال : يا رسول الله إني أحب الخيل أفي الجنة خيل ؟ قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن أدخلت الجنة أتيت بفرس من ياقوتة له جناحان فحملت عليه ثم طار بك حيث شئت رواه الترمذي . وقال هذا حديث ليس بالقوي وأبو سورة الراوي يضعف في الحديث وسمعت محمد بن إسماعيل يقول : أبو سورة هذا منكر الحديث يروي مناكير
اور حضرت ابوایوب انصاری ؓ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں ایک دیہاتی آیا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ مجھے گھوڑے بہت پسند ہیں کیا جنّت میں گھوڑے بھی ہوں گے؟ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اگر جنّت میں داخل کیا گیا تو تمہیں یاقوت کا ایک گھوڑا دیا جائے گا جس کے دو بازو (پر) ہوں گے پھر تمہیں اس گھوڑے پر سوار کیا جائے گا تم جہاں جانا چاہو گے وہ گھوڑا تمہیں اڑا کرلے جائے گا۔ اس روایت کو ترمذی نے نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ اس حدیث کی اسنادقوی نہیں ہے اور ابوسورہ جو اس حدیث کے روای ہیں کسی سبب سے) فن حدیث میں یا اسناد حدیث میں ضعیف شمار کئے جاتے ہیں نیز میں حضرت محمد بن اسماعیل بخاری کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ ابوسورہ منکر الحدیث ہیں وہ منکر حدیثیں روایت کرتے ہیں۔
اہل جنّت میں امت محمدیہ کا تناسب
وعن بريدة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أهل الجنة عشرون ومائة صف ثمانون منها من هذه الأمة وأربعون من سائر الأمم . رواه الترمذي والدارمي والبيهقي في كتاب البعث والنشور
اور حضرت بریدہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جنّتیوں کی ایک سوبیس صفیں ہوں گی ان میں سے اسیّ صفیں امّت (مسلمانوں) کی ہوں گی اور چالیس صفیں دوسری امتوں کے لوگوں کی۔ اس روایت کو ترمذی دارمی اور بہقی نے کتاب البعث والنشور میں نقل کیا ہے۔
تشریح
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ امت محمدیہ کے جنّتیوں کی تعداد دوسری امتوں کے مقابلہ میں دو تہائی زائد ہوگی لیکن پیچھے باب الشفاعت میں ایک روایت گزری ہے جس میں آنحضرت ﷺ کا یہ ارشاد منقول ہے کہ مجھے امید ہے تم (مسلمان) اہل جنّت کی مجموعی تعداد کا نصف حصہ ہوگئے۔ ان دونوں روایتوں میں بظاہر تضاد معلوم ہوتا ہے مگر حقیقت میں ایسا نہیں ہے ہوسکتا ہے کہ پہلے تو آنحضرت ﷺ نے حق تعالیٰ کی بارگاہ سے یہی امید قائم کی ہو کہ آپ ﷺ کی امت کے لوگ اہل جنّت کی مجموعی تعداد کا نصف حصہ ہوں مگر بعد میں حق تعالیٰ نے اپنی رحمت خاص سے آنحضرت ﷺ کی اس امید کو اور بڑھا دیا ہو اور جنّتیوں میں امت محمدیہ کی تعداد کو دو تہائی تک کرنے کی بشارت عطا فرمائی ہو اور یہ اضافہ و زیادتی یقینا رب کریم کے اس خاص فضل و کرم کا آئینہ دار ہے جو صرف آنحضرت ﷺ اور آپ ﷺ کی امت مرحومہ کا نصیب ہے۔ ایک احتمال یہ بھی ہوسکتا ہے کہ دوسری امتوں کے چالیس صفوں کے مقابلہ میں اہل اسلام کی اسی صفیں اس طرح کی ہوں گی کہ وہ صفوں کے اعتبار سے تو زیادہ ہونگی مگر اشخاص کی تعداد سے چالیس صفوں ہی کے برابر ہوں گی گویا اہل جنّت میں جتنے لوگ دوسری امتوں کی چالیس صفوں میں ہوں گے اتنے ہی لوگ امت محمدیہ کی اسی صفوں میں ہوں گے لیکن یہ احتمال بس یوں ہی ہے صحیح توجیہہ وہی ہے جو پہلے بیان کی گئی۔
جنّت کے اس دروازے کی وسعت جس سے اہل اسلام داخل ہوں گے
وعن سالم عن أبيه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : باب أمتي الذين يدخلون منه الجنة عرضه مسيرة الراكب المجود ثلاثا ثم إنهم ليضغطون عليه حتى تكاد مناكبهم تزول . رواه الترمذي وقال هذا حديث ضعيف وسألت محمد بن إسماعيل عن هذا الحديث فلم يعرفه وقال : خالد بن أبي بكر يروي المناكير
اور حضرت سالم تابعی (رح) اپنے والد محترم (حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے بیان کیا کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا! جنّت کے جس دروازے سے میری امّت کے لوگ داخل ہوں گے اس کی چوڑائی اس سوار کی تین مسافت کے بقدر ہوگی جو گھوڑے کو تیز دوڑانا خوب جانتا ہے پھر بھی وہ لوگ ( یعنی میری امّت کے جنّتی) اس دروازے سے داخل ہوتے نہایت تنگی محسوس کریں گے یہاں تک کہ ان کے کاندھے ایک دوسرے سے رگڑ کھائیں گے یعنی باوجودیکہ وہ دروازہ اس قدر چوڑا ہوگا مگر جب اہل اسلام ہجوم در ہجوم اندر داخل ہوں گے تو وہ دروازہ بھی تنگ معلوم ہوگا اور وہ لوگ ایک دوسرے کے کاندھے سے رگڑ کھاتے ہوئے بڑی دشواری کے ساتھ دروازہ پار کریں گے۔ اس روایت کو ترمذی نے نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث ضعیف ہے، جب میں نے حضرت محمد بن اسماعیل بخاری (رح) سے اس حدیث کے روای کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ میں نہیں جانتا اور فرمایا کہ خالد بن ابی بکر منکر روایتیں بیان کرتے ہیں۔
تشریح
اس سوار کی تین۔۔۔۔۔۔ مسافت کے بقدر میں تین مراد سے یا تو تین راتوں کی مسافت ہے یا تین سال کی اور یہی ( تین سال کی مسافت مراد لینا، زیادہ صحیح ہے کیونکہ اس میں زیادہ مبالغہ ہے، پھر تین سال کے مسافت سے بھی کثرت مراد لینا پڑے گی تاکہ یہ روایت اس حدیث کے مخالف نہ پڑے جس میں یہ فرمایا گیا ہے کہ جنّت کے دروازوں میں سے ہر دروازے کے دونوں بازؤں کا درمیانی فاصلہ چالیس سال کی مسافت کے بقدر ہے اور اگر تین سال کو اس کے حقیقی مفہوم پر محمول کرتے ہوئے کثرت مراد نہ لی جائے تو پھر یہ کہا جائے گا کہ ہوسکتا ہے کہ پہلے آنحضرت ﷺ کو وحی کے ذریعہ اس دروازے کی چوڑائی کم بتائی گئی ہو جس کو آپ ﷺ نے تین سال کی مسافت کے فاصلہ سے تعبیر فرمایا اور پھر بعد میں اس کی زیادہ سے زیادہ چوڑائی کا علم آپ ﷺ کو عطا کیا گیا ہو، جس کو آپ ﷺ نے چالیس سال کی مسافت کے ذریعہ واضع فرمایا ایک بات یہ بھی کہی جاسکتی ہے کہ ان دونوں روایتوں کو جنّت میں داخل ہونے والوں کے اعتبار سے مختلف چوڑائی معلوم ہوگی کہ جس دروازے کے ذریعہ کم لوگ داخل ہوں گے وہ بہت زیادہ چوڑا معلوم ہوگا اور جس دروازے سے بہت زیادہ تعداد میں لوگ داخل ہوں گے وہ بہت زیادہ چوڑا ہوجانے کے باوجود کم چوڑا معلوم ہوگا ترمذی نے اس روایت کو ضعیف کہا ہے اور مصابیح میں ہے کہ یہ روایت ضعیف منکر ہے! نیزمصابیح کے شارح نے یہ وضاحت کی ہے کہ اس حدیث کو منکر اس لئے قرار دیا گیا ہے کہ یہ حدیث ان صحیح احادیث کے خلاف ہے جو مذکورہ مضمون سے متعلق منقول ہیں پھر ترمذی نے اس حدیث کے ضعیف ہونے پر حضرت محمد بن اسماعیل (رح) یعنی امام بخاری سے استدلال کیا ہے کہ انہوں نے اس حدیث سے اپنی ناواقفیت کا اظہار کیا اور یہ اصول ہے کہ جب کوئی ایسا عالم حدیث امام فن جو حدیث کے تمام طرق واسناد کی کامل بصیرت اور پوری معلومات رکھتا ہو، یہ کہے کہ میں فلاں حدیث کی واقفیت نہیں رکھتا تو یہ اس بات کی دلیل ہوتی ہے کہ وہ حدیث ضعیف ہے علاوہ ازیں امام بخاری (رح) کے اس قول کے یخلد ابن ابی بکر، منکر روایتیں بیان کرتے ہیں کے بارے میں سید جمال الدین نے کہا ہے کہ لفظ یخلد صاحب مشکوٰۃ کا سہو ہے اصل نام خالد ابن ابی بکر ہے کیونکہ ترمذی میں خالد ابن ابی بکر ہی منقول ہے اور اسماء رجال کی کتابوں میں بھی اسی طرح ہے۔
وعن علي رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن في الجنة لسوقا ما فيها شرى ولا بيع إلا الصور من الرجال والنساء فإذا اشتهى الرجل صورة دخل فيها . رواه الترمذي وقال : هذا حديث غريب
اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ جنّت میں ایک بازار ہے جس میں خریدو فروخت نہیں ہوگی بلکہ وہاں مردوں اور عورتوں کی (طرح طرح کی حسین و جمیل) صورتیں نظر آئیں گی جو شخص (خواہ مرد ہو یا عورت، وہاں جس صورت کو پسند کرے گا اس میں سما جائے گا اور اسی پسندیدہ شکل و صورت اختیار کرے گا جیسا کہ جن اور فرشتے دنیا میں جس شکل و صورت میں چاہتے ہیں ظاہر ہوتے ہیں۔
دیدارالہٰی اور جنّت کا بازار
وعن سعيد بن المسيب أنه لقي أبا هريرة فقال أبو هريرة : أسأل الله أن يجمع بيني وبينك في سوق الجنة . فقال سعيد : أفيها سوق ؟ قال : نعم أخبرني رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن أهل الجنة إذا دخلوها نزلوا فيها بفضل أعمالهم ثم يؤذن لهم في مقدار يوم الجمعة من أيام الدنيا فيزورون ربهم ويبرز لهم عرشه ويتبدى لهم في روضة من رياض الجنة فيوضع لهم منابر من نور ومنابرمن لؤلؤ ومنابر من ياقوت ومنابر من زبرجد ومنابر من ذهب ومنابر من فضة ويجلس أدناهم - وما فيهم دني - على كثبان المسك والكافور ما يرون أن أصحاب الكراسي بأفضل منهم مجلسا . قال أبو هريرة : قلت : يا رسول الله وهل نرى ربنا ؟ قال : نعم هل تتمارون في رؤية الشمس والقمر ليلة البدر ؟ قلنا : لا . قال : كذلك لا تتمارون في رؤية ربكم ولا يبقى في ذلك المجلس رجل إلا حاضره الله محاضرة حتى يقول للرجل منهم : يا فلان ابن فلان أتذكر يوم قلت كذا وكذا ؟ فيذكره ببعض غدارته في الدنيا . فيقول : يا رب أفلم تغفر لي ؟ فيقول : بلى فبسعة مغفرتي بلغت منزلتك هذه . فبينا هم على ذلك غشيتهم سحابة من فوقهم فأمطرت عليهم طيبا لم يجدوا مثل ريحه شيئا قط ويقول ربنا : قوموا إلى ما أعددت لكم من الكرامة فخذوا ما اشتهيتم فنأتي سوقا قد حفت به الملائكة فيها ما لم تنظر العيون إلى مثله ولم تسمع الآذان ولم يخطر على القلوب فيحمل لنا ما اشتهينا ليس يباع فيها ولا يشترى وفي ذلك السوق يلقى أهل الجنة بعضهم بعضا . قال : فيقبل الرجل ذو المنزلة المرتفعة فيلقى من هو دونه - وما فيهم دني - فيروعه ما يرى عليه من اللباس فيما ينقضي آخر حديثه حتى يتخيل عليه ما هو أحسن منه وذلك أنه لا ينبغي لأحد أن يحزن فيها ثم ننصرف إلى منازلنا فيتلقانا أزواجنا فيقلن : مرحبا وأهلا لقد جئت وإن بك من الجمال أفضل مما فارقتنا عليه فيقول : إنا جالسنا اليوم ربنا الجبار ويحقنا أن ننقلب بمثل ما انقلبنا . رواه الترمذي وابن ماجه وقال الترمذي : هذا حديث غريب
اور حضرت سعید بن مسیب تابعی (رح) سے روایت ہے کہ (ایک دن بازار میں) حضرت ابوہریرہ ؓ سے ان کی ملاقات ہوئی تو حضرت ابوہریرہ ؓ نے کہا کہ میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ (جس طرح آج مدینہ کے بازار میں ہم دونوں کی ملاقات ہوئی ہے اسی طرح جنّت کے بازار میں ہم دونوں کو ملائے۔ حضرت سعید نے (یہ سن کر) کر کہا کہ کیا جنّت میں بازار بھی ہوگا؟ (حالانکہ بازار تو خریدو فروخت پوری کرنے کے لئے ہوتا ہے اور ظاہر ہے کہ جنّت میں یہ ضرورت پیش نہیں آئے گی) حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا ہاں (جنّت میں بازار بھی ہوگا مگر وہاں کا بازار دنیاوی بازار جیسی ضروریات پوری کرنے کے لئے نہیں ہوگا) مجھ کو رسول اللہ ﷺ نے بتایا تھا کہ جب جنّتی لوگ جنّت میں داخل ہوں گے تو اپنے اپنے اعمال کی فضیلت و برتری کے لحاظ سے جنّت (کی منزلوں اور درجوں) میں فروکش ہوں گے (یعنی جس کے اعمال جتنے زیادہ اور جتنے اعلی ہوں گے اسی کے اعتبار سے اس کو بلند تر اور خوب تر مکانات ومنازل ملیں گے) پھر ان کو دنیاوی دنوں کے اعتبار سے جمعہ کے دن اجازت دی جائے گی اور وہ سب اس دن اپنے پروردگار کی زیارت کریں گے پروردگار ان کے سامنے اپنا عرش ظاہر کرے گا اور جنّتیوں کو اپنا دیدار کرانے کے لئے جنّت کے ایک بڑے باغ میں جلوہ فرما ہوگا، پس (پروردگار کی زیارت کو آنے والے) جنّتیوں کے لئے اس باغ میں (مختلف درجات کے منبر یعنی) نور کے منبر، موتیوں کے منبر، یاقوت کے منبرسونے اور چاندی کے منبر رکھے جائیں گے جن پر وہ جنّتی (اعمال و افعال اور مراتب و درجات کے تفاوت کے اعتبار) بیٹھیں گے (کہ جو جنّتی جس درجہ مرتبہ کا ہوگا اسی کے مطابق اس کے ان منبروں میں سے ایک منبر مخصوص ہوگا) نیز ان جنّتیوں میں سے جو جنّتی ادنیٰ مرتبہ ودرجہ کا ہوگا (یعنی صرف مرتبہ کے اعتبار سے ادنیٰ ) نہ کہ ان میں کوئی معمولی اور ذلیل ہوگا، وہ مشک وکافور کے ٹیلوں پر بیٹھے گا (گویا منبر اور کرسیاں اعلی مرتبہ والوں کے لئے مخصوص ہوں گی اور ادنیٰ مرتبہ کے لوگ ٹیلوں پر بیٹھیں گے جیسا کہ قاعدہ ہے کہ عام اجتماعات میں اونچی حیثتوں کے لوگ کرسیوں اور شہ نشین پر بیٹھتے ہیں جب کہ کم حیثیت کے لوگ زمین وفرش پر بیٹھتے ہیں) لیکن ٹیلوں پر بیٹھنے والے لوگوں کو یہ احساس نہیں ہوگا کہ منبر اور کرسیوں پر بیٹھنے والے لوگ جگہ ونشت گاہ کے اعتبار سے اس سے برتر و افضل ہیں۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! کیا اس دن ہم اپنے پروردگار کو دیکھیں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں یقینا کیا تم (دن میں) سورج کو اور (اجالی رات میں ١٤ شب کے چاند کو دیکھنے میں کوئی شبہ رکھتے ہو؟ ہم نے عرض کیا کہ ہرگز نہیں، فرمایا اسی۔ طرح تمہیں اس دن اپنے پروردگار کو دیکھنے میں کوئی شک وشبہ نہیں ہوگا اور دیدار الہٰی کی اسی مجلس میں ایسا کوئی شخص باقی نہیں رہے گا جس سے پروردگار تمام حجابات اٹھا کر براہ راستہ ہم کلام نہیں ہوگا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ حاضرین میں سے ایک شخص کو مخاطب کرکے فرمائے گا کہ اے فلاں ابن فلاں! کیا تجھے وہ دن یاد ہے جب تو نے ایسا ایسا کہا تھا (یعنی اپنی زبان سے ایسے الفاظ نکالے تھے یا ایسے کام کئے تھے جو شرعا جائز تھے؟ وہ شخص یہ سن کر گویا توقف کرے گا اور اپنے کئے ہوئے گنا ہوں کے اظہار میں تامل کرے گا، پس پروردگار اس کو کچھ عہد شکنیاں یاد دلائے گا جس کا اس نے دنیا میں ارتکاب کیا ہوگا (یعنی اس کے دنیا کے وہ گناہ یاد دلائے گا جن کا ارتکاب میں عہد ربوبیت کا توڑنا لازم آتا ہے )۔ تب وہ شخص عرض کرے گا کہ میرے پروردگار کیا آپ نے میرے وہ گناہ بخش نہیں دئیے ہیں؟ (یعنی میرا جنّت میں داخل کیا جانا کیا اس بات کی علامت نہیں ہے کہ میں نے دو وہ گناہ کئے تھے آپ نے ان کو بخش دیا ہے) پروردگار فرمائے گا بیشک میں نے تیرے وہ گناہ بخش دئیے ہیں اور تو میری وسعت بخشش کے طفیل (آج) اس مرتبہ کو پہنچا ہے۔ پھر وہ لوگ اسی حالت اور اسی جگہ پر ہوں گے کہ ایک بادل آکر ان کے اوپر چھا جائے گا اور ان پر ایسی خوشبو برسائے گا کہ انہوں نے اس جیسی خوشبو کبھی کسی چیز میں نہیں پائی ہوگی۔ اس کے بعد ہمارا پروردگار فرمائے گا کہ ( لوگو) اٹھو اور اس چیز کی طرف آؤ جو ہم نے ازقسم عظمت و بزرگی تمہارے لئے تیار کر رکھی ہے اور تم اپنی پسند و خواہش کے مطابق جو چاہو لے لو (آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ یہ سن کر) ہم جنّتی لوگ اس بازار میں پہنچیں گے جس کو فرشتے گھیرے ہوئے ہوں گے اس بازار میں ایسی ایسی چیزیں موجودہ ہوں گی کہ ان جیسی کوئی چیز نہ کسی آنکھ نے دیکھی ہوگی نہ کسی کان نے سنی ہوگی اور نہ کسی کے دل میں ان کا تصور آیا ہوگا پھر اس بازار میں سے اٹھا اٹھا کر ہمیں وہ چیزیں دی جائیں گی جن کی ہم خواہش کریں گے درآ نحالی کہ اس بازار میں خریدو فروخت جیسا کوئی معاملہ نہیں ہوگا (بلکہ وہ بازار اصل جنّتیوں کو من سند چیزیں عطاکئے جانے کا مرکز ہوگا) نیز اس بازار میں تمام جنّتی آپس میں ایک دوسرے سے ملاقات کریں گے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا (اس بازار میں باہمی ملاقاتوں کے وقت) ایک بلند مرتبہ شخص ایک ایسے شخص کی طرف متوجہ ہوگا اور اس سے ملاقات کرے گا جو (مرتبہ میں) اس سے کمتر ہوگا، لیکن جنّتیوں میں (کسی کا اعلی اور کسی کا کمتر ہونا صرف مرتبہ اور درجہ کے اعتبار سے ہوگا) یہ نہیں کہ کوئی معمولی اور ذلیل خیال کیا جائے گا (گویاذاتی اعتبار سے تو تمام ہی جنّتی بلند حیثیت اور بلند عزت ہوں گے تاہم دنیا میں اختیار کئے جانے والے اعمال و افعال کی نسبت سے کچھ لوگ اعلی مرتبہ کے ہوں گے اور کچھ لوگ ان سے کم مرتبہ کے، بہرحال اس بلند مرتبہ شخص کو وہ لباس پسند نہیں آئے گا جو وہ کمتر درجہ کے اس شخص کو پہنے ہوئے دیکھے گا اور ان دونوں کا سلسلہ گفتگو (یا ان کے خیالات کا سلسلہ ختم بھی نہ ہونے پائے گا کہ وہ بلند مرتبہ شخص محسوس کرے گا کہ میرے مخاطب کا لباس تو میرے لباس سے بھی بہتر ہے اور یہ (یعنی کمتر درجہ والے شخص کے جسم پر اعلیٰ لباس کا ظاہر ہونا اس لئے ہوگا کہ جنّت میں کسی شخص کو غمگین ہونے کا موقع نہیں دیا جائے گا ( آنحضرت ﷺ نے فرمایا) اس کے بعد ہم سب جنّتی اپنے اپنے محلات اور مکانوں کی طرف واپس ہوں گے اور وہاں ہماری بیویاں (یعنی دنیا کی بیویاں اور جنّت کی حوریں، ہم سے ملیں گی تو مرحبا، خوش آمدید کہہ کر ہمارا استقبال کریں گی اور ہر ایک عورت اپنے مرد سے کہے گی کہ تم اس حال میں واپس آئے ہو کہ اس وقت تمہارا حسن و جمال اس حسن و جمال سے کہیں زیادہ ہے جو ہمارے پاس سے جاتے وقت تم میں تھا پس ہم اپنی بیویوں سے کہیں گے کہ آج ہم نے اپنے پروردگار کے ساتھ ہم نشینی کی عزت حاصل کی ہے جو جسم وبدن اور حسن و جمال کی ہر کمی کو پورا کرکے خوب تر بنانے والا ہے، لہٰذا ہم اپنی اس شان کے ساتھ واپس آنے کے لائق ہیں جس شان کے ساتھ کہ ہم آئے ہیں (کیونکہ جس شخص کو اس ذات کی ہم نشینی حاصل ہوجائے کہ تمام ترحسن و جمال اسی کے نور کا پر تو ہے، تو وہ شخص زیادہ سے زیادہ حسن و جمال کیسے نہیں پائے گا) اس روایت کو ترمذی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے، نیز ترمذی نے کہا ہے یہ حدیث غریب ہے۔
تشریح
جنّت میں چونکہ نہ شب و روز کی گردش ہوگی اور نہ ایام کا وجود، لہٰذا دنیاوی اعتبار سے جمعہ کے دن۔ سے مراد یہ ہے کہ دنیا میں ایک جمعہ سے دوسرے جمعہ تک کا عرصہ جتنے وقت پر مشتمل ہوتا ہے جنت میں اسی کا تعین کر کے کچھ وقت جمعہ کا دن قرار دے دیا جائے گا اور اس اعتبار سے وہ وقت کو گویا وہ دن ہوگا جو دنیا میں جمعہ کا ہوتا ہے اور پھر اس وقت جنتیوں کو حکم ہوگا کہ اپنے پروردگار کی زیارت کے لئے اپنے اپنے محلات اور مکانات سے نکل کر فلاں باغ میں پہنچیں، پس جنت میں پروردگار کی زیارت کے لئے جمعہ کے دن کا تعین دراصل اس بات کا نتیجہ اور اجر و انعام ہوگا کہ وہ جنتی دنیا میں اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق جمعہ کے دن اپنے گھروں سے نکل کر جامع مسجد پہنچتے اور جمعہ کی نماز پڑھتے تھے۔ پروردگار ان کے سامنے اپنا عرش ظاہر کرے گا۔ میں عرش سے مراد پروردگار کا نہایت لطف و کرم اور زیادہ سے زیادہ رحمت و عنایت ہے، ورنہ یہ بات پہلے بتائی جاچکی ہے کہ عرش، جنت کی چھت ہے، لہٰذا جنتیوں کے سامنے عرش کا ظاہر ہونا کوئی معنی نہیں رکھتا۔ نہ کہ ان میں کوئی معمولی اور ذلیل ہوگا۔ یہ جملہ ماقبل عبارت کی وضاحت ہے گویا حضور ﷺ نے یہ فرمایا کہ میں نے جو یہ کہا ہے کہ۔ ان جنتیوں میں سے جو جنتی ادنیٰ مرتبہ ودرجہ کا ہوگا۔ تو ادنیٰ سے مراد اعلی درجات اور زیادہ سے زیادہ مراتب رکھنے والے جنتیوں کے مقابلہ پر کمتر درجہ اور قلیل مراتب رکھنا ہے نہ کہ ادنیٰ کا لفظ حقارت کی جگہ استعمال ہوا ہے جس کے معنی ذات کے اعتبار سے ذلیل و حقیر اور ادنیٰ ہونا ہے پس واضح رہے کہ جنت میں ذاتی شخصیت کی حد تک ہر جنتی یکساں مرتبہ کا ہوگا، کوئی کسی کے مقابلہ پر ذلیل و حقیر نہیں ہوگا، صرف حیثیت اور مرتبہ کا فرق ہوگا کہ دنیا میں اختیار کئے جانے والے اعمال و افعال کے اعتبار سے کچھ لوگ اعلی درجات اور زیادہ مراتب کے حامل ہوں گے اور کچھ لوگ ان کی بہ نسبت کم درجہ و مرتبہ کے ہوں گے۔ ٹیلوں پر بیٹھنے والے لوگوں کو یہ احساس نہیں ہوگا۔۔۔۔۔۔ الخ۔ کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ ٹیلوں پر بیٹھتے ہونگے وہ کرسیوں اور منبروں پر بیٹھنے والوں کو دیکھ کر احساس کمتری کا شکار نہیں ہوں گے کیونکہ جنت میں ہر شخص اپنے مرتبہ اور اپنی حیثیت پر صابر وشاکر ہوگا، جو لوگ کمتر درجہ کے ہوں گے وہ یہ جانتے ہیں کہ باوجودیکہ ہم کمتر درجہ کے ہیں اور ہمارے مقابلہ پر فلاں لوگ برتر درجہ کے ہیں۔ اپنے طور پر پوری طرح مطمئن ہونگے، نہ وہ بلند مرتبے کی آرزو کریں گے نہ انہیں بلند مرتبہ کی محرومی کا احساس اور غم ہوگا اور نہ انہیں کسی طرح کی غیرت وخجالت محسوس ہوگی۔ فیروعہ مایری علیہ من اللباس اس کی عبارت کے دو معنی ہوسکتے ہیں اور اس کی بنیاد یہ ہے کہ لفظ روع کے دو معنی آتے ہیں ایک تو ڈرانا دوسرے خوش کرنا پہلے معنی مراد لینے کی صورت میں ( اس عبارت کا ترجمہ ومطلب وہی ہوگا جو اوپر بیان کیا گیا یعنی جب وہ بلند رتبہ شخص اس کم مرتبہ شخص کے بدن کا لباس دیکھے گا تو اس کو ڈر یعنی کراہت محسوس ہوگی کیونکہ وہ لباس اس کے لباس سے کمتر درجہ کا ہوگا۔ دوسرے معنی کی صورت میں ترجمہ ومطلب یہ ہوگا کہ جب وہ بلند مرتبہ شخص اس کم مرتبہ شخص کا لباس دیکھے گا تو اسے اس بات کی بہت خوشی محسوس ہوگی کہ خود ان کے بدن پر اعلی لباس ہے، لیکن زیادہ صحیح معنی پہلے ہی ہیں اور اس عبارت سے متعلق آگے کے جملوں کا ترجمہ بھی اسی پہلے معنی کو بنیاد بنا کر کیا گیا ہے۔
اہل جنت میں اولاد کی خواہش
وعن أبي سعيد قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أدنى أهل الجنة الذي له ثمانون ألف خادم واثنتان وسبعون زوجة وتنصب له قبة من لؤلؤ وزبرجد وياقوت كما بين الجابية إلى صنعاء وبهذا الإسناد قال ( ضعيف ) : ومن مات من أهل الجنة من صغير أو كبير يردون بني ثلاثين في الجنة لا يزيدون عليها أبدا وكذلك أهل النار وبهذا الإسناد قال ( ضعيف ) : إن عليهم التيجان أدنى لؤلؤة منها لتضيء ما بين المشرق والمغرب وبهذا الإسناد قال ( صحيح لغيره ) : المؤمن إذا اشتهى الولد في الجنة كان حمله ووضعه وسنه في ساعة كما يشتهي وقال إسحاق بن إبراهيم في هذا الحديث : إذا اشتهى المؤمن في الجنة الولد كان في ساعة ولكن لا يشتهي ( قول اسحاق ليس من الحديث ) رواه الترمذي وقال : هذا حديث غريب . روى ابن ماجه الرابعة والدارمي الأخيرة
اور حضرت ابوسعید ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جنتیوں میں سب سے کم مرتبہ کا جو شخص ہوگا اس کے اسی ہزار خادم اور بہتر بیویاں ہوں گی، (جن میں سے دو بیویاں دنیا کی عورتوں میں سے اور ستر بیویاں حوران جنت میں سے ہوں گی) اس لئے جو خیمہ کھڑا کیا جائے گا وہ موتی زمرد اور یاقوت سے (بنا ہوگا یا یہ کہ ان چیزوں سے مرصع ومزین) ہوگا۔ اسی اسناد کے ساتھ (حضرت ابوسعید ؓ سے نقل ہونے والی) ایک روایت میں یہ ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا وہ لوگ جن کو جنت میں داخل کیا جائے گا دنیا میں خواہ چھوٹی عمر میں مریں یا بڑی عمر میں جنت کے اندر تیس تیس سال کی عمر کے ہو کر جائیں گے اور وہ کبھی بھی اس عمر سے زیادہ کے نہیں ہوں گے، یہی معاملہ دوزخیوں کا بھی ہوگا۔ اور اسی اسناد کے ساتھ ایک روایت میں یہ ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا جنتیوں کے سروں پر جو تاج ہوگا اس کا سب سے معمولی موتی بھی ایسا ہوگا کہ مشرق سے مغرب تک کو روشن ومنور کردے۔ اور اسی اسناد کے ساتھ ایک روایت میں یہ ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا اگر (بالفرض) کوئی مسلمان جنت میں اولاد کا خواہش مند ہوگا تو (اس کی خواہش اس طرح پوری کی جائے گی کہ) بچہ کا حمل قرار پانا، اس کا پیدا ہونا اور اس کا انتہائی عمر (یعنی تیس سال کی عمر) تک پہنچنا سب کچھ ایک ساعت میں عمل پذیر ہوجائے گا۔ حضرت ابواسحاق بن ابراہیم اس آخری روایت کے بارے میں کہتے ہیں کہ اگر کوئی مومن جنت میں اولاد کا خواہش مند ہوگا تو اس کی خواہش ایک ساعت میں پوری تو ہوجائے گی لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایسی خواہش کوئی بھی نہیں کرے گا اس روایت کو ترمذی نے نقل کیا اور کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے۔ ابن ماجہ نے چوتھی روایت نقل کی ہے اور دارمی نے صرف آخرکا حصہ (جوابواسحٰق سے منقول ہے) نقل کیا ہے۔
تشریح
یہی معاملہ دوزخیوں کا بھی ہوگا۔ کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح اہل جنت تیس تیس سال کی عمر کے ہو کر جنت میں داخل ہوں گے خواہ وہ دنیا میں چھوٹی عمر میں مرے ہوں یا بڑی عمر میں، اسی طرح دوزخی بھی تیس تیس سال ہی کی عمر کے ہو کر دوزخ میں جائیں گے اور جنتیوں کی طرح وہ دوزخی بھی ہمیشہ تیس ہی سال کی عمر کے رہیں گے واضح رہے کہ اہل جنت اور اہل دوزخ کے لئے ہمیشہ کی عمر تیس سال مقرر ہونا شاید اس لئے ہو کہ جو مستحق چین و راحت ہوں انہیں کامل راحت نصیب ہوسکے اور جو مستحق عذاب ہوں انہیں کامل عذاب ملے، پس جس طرح اہل جنت دارالقرار میں ہمیشہ ہمیشہ اپنی اس بھری عمر کے ساتھ راحت وچین کا پورا سکھ اٹھاتے رہیں گے اسی طرح اہل دوزخ دار البوار میں ہمیشہ ہمیشہ اپنی بھری عمر کے ساتھ عذاب و سختی کا پورا دکھ جھلیتے رہیں گے۔
وعن علي قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن في الجنة لمجتمعا للحور العين يرفعن بأصوات لم تسمع الخلائق مثلها يقلن : نحن الخالدات فلا نبيد ونحن الناعمات فلا نبأس ونحن الراضيات فلا نسخط طوبى لمن كان لنا وكنا له . رواه الترمذي
اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ جنت میں حوران عین کے اجتماع کی ایک جگہ ہوگی (جہاں وہ حوریں سیر و تفریح اور ایک دوسرے سے ملنے کے لئے جمع ہوا کریں گی) اور وہاں بلند آواز سے گیت گائیں گی (ان کی آواز اس قدر دل کش اور حسین ہوگی کہ) مخلوقات میں سے کسی نے ایسی آواز کبھی سنی نہیں ہوگی، وہ حوریں اس طرح کا گیت گائیں گی ہمیں زندگی میں دوام حاصل ہے، ہم کبھی موت کی آغوش میں نہیں جائیں گی ہم عیش وچین کے ساتھ رہنے والی ہیں ہم کبھی سختی و پریشانی نہیں دیکھیں گی ہم اپنے پروردگار یا اپنے خاوندوں سے راضی وخوش رہنے والی ہیں، ہم کبھی ناخوش نہیں ہوں گی ہر اس شخص کے لئے مبارکبادی ہے جو (جنت میں) ہمارے لئے ہے اور ہم اس کے لئے ہیں۔ (ترمذی)
وعن حكيم بن معاوية قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن في الجنة بحر الماء وبحر العسل وبحر اللبن وبحر الخمر ثم تشقق الأنهار بعد . رواه الترمذي
اور حکیم ابن معاویہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ جنت میں پانی کا دریا ہے اور شہد کا دریا ہے اور دودھ کا دریا ہے اور شراب کا دریا ہے اور پھر (جنتیوں کے داخل ہونے کے بعد) ان دریاؤں سے نہریں نکلیں گی۔ (ترمذی) دارمی نے اس روایت کو معاویہ سے نقل کیا ہے۔
تشریح
ظاہر ہے کہ حدیث میں مذکورہ دریاؤں سے مراد ان نہروں کے چشمے اور منبع ہیں جن کا ذکر قرآن کی اس آیت میں کیا گیا ہے۔ ( فِيْهَا اَنْهٰرٌ مِّنْ مَّا ءٍ غَيْرِ اٰسِنٍ وَاَنْهٰرٌ مِّنْ لَّبَنٍ لَّمْ يَتَغَيَّرْ طَعْمُه وَاَنْهٰرٌ مِّنْ خَمْرٍ لَّذَّةٍ لِّلشّٰرِبِيْنَ ڬ وَاَنْهٰرٌ مِّنْ عَسَلٍ مُّصَفًّى) 47۔ محمد 15) اس (جنت) میں بہت سی نہریں تو ایسے پانی کی ہیں جس میں ذرا تغیر نہ ہوگا اور بہت نہ ہوگا اور بہت سی نہریں دودھ کی ہیں جن کا ذائقہ ذرا بدلہ ہوا نہ ہوگا اور بہت سی نہریں شراب کی ہیں جو پینے والوں کو بہت لذیذ معلوم ہوں گی اور بہت سی نہریں ہیں شہد کی جو بالکل صاف شفاف ہوگا۔ یہ نہریں وہ ہوں گی جو حدیث میں مذکورہ دریاؤں سے نکلیں گی اور پھر ان نہروں سے چھوٹی چھوٹی نہریں شاخ در شاخ نکل کر ابرار و اخیار کے خیموں کی طرف جاری ہونگی اور محلات کے نیچے بہیں گیں۔ بعض حضرات نے یہ کہا ہے کہ حدیث میں جن دریاؤں کا ذکر ہے وہ دراصل وہی نہریں ہے جن کو قرآن کی مذکورہ آیت میں نہر ہی کے نام سے ذکر کیا گیا ہے فرق صرف اتنا ہے کہ حدیث میں ان کو دریا سے تعبیر کیا گیا ہے اور قرآن نے ان کو ان کے معنی جاری ہونے اور بہنے کی مناسبت سے نہر کا نام دیا ہے۔
عن أبي سعيد عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إن الرجل في الجنة ليتكئ في الجنة سبعين مسندا قبل أن يتحول ثم تأتيه امرأة فتضرب على منكبه فينظر وجهه في خدها أصفى من المرآة وإن أدنى لؤلؤة عليها تضيء ما بين المشرق والمغرب فتسلم عليه فيرد السلام ويسألها : من أنت ؟ فتقول : أنا من المزيد وإنه ليكون عليها سبعون ثوبا فينفذها بصره حتى يرى مخ ساقها من وراء ذلك وإن عليها من التيجان أن أدنىلؤلؤة منها لتضيء ما بين المشرق والمغرب . رواه أحمد
اور حضرت ابوسعید ؓ رسول کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا جنتی مرد جزا یافتہ شخص جنت میں ستر مسندوں کا تکیہ لگا کر بیٹھے گا قبل اس کے کہ ایک پہلو سے دوسرا پہلوبدلے پھر جنت کی عورتوں میں سے ایک عورت اس کے پاس آئے گی اور (اس کو اپنی طرف متوجہ ومائل کرنے کے لئے) اس کے کاندھے پر ٹھوکا دے گی، وہ مرد اس طرف متوجہ ہوگا اس کے رخساروں میں جو آئینہ سے زیادہ صاف و روشن ہوں گے اپنا چہرہ دیکھے گا اور حقیقت یہ ہے کہ اس عورت کے (کسی زیور یا تاج میں جڑا ہوا) ایک معمولی ساموتی بھی (اس قدر بیش قیمت اور نظر کو خیرہ کرنے والا ہوگا کہ) اگر وہ دنیا میں آجائے تو مشرق سے مغرب تک (کی ہر چیز) کو روشن ومنور کردے۔ بہرحال وہ عورت اس مرد کو سلام کرے گی اور مرد اس کے سلام کا جواب دے گا اور پوچھے گا تم کون ہو؟ وہ کہے گی کہ میں مزید میں سے ہوں۔ صورت حال یہ ہوگی کہ اس عورت کے جسم پر ستّر (رنگ برنگ) کپڑوں کا ( تہ درتہ لباس ہوگا اور اس مرد کی نظر عورت کے اس لباس میں سے بھی پار ہوجائے گی (یعنی وہ لباس کے نیچے چھپے ہوئے عورت کے حسن و جمال اور اس کے جسم کی نزاکت ولطافت کا نظارا کرے گا) یہاں تک کہ وہ مرد اس عورت کی پنڈلی کے گودے کو لباس کے پیچھے سے دیکھے گا (گویا اس کی نگاہ اتنی تیز اور صاف ہوگی کہ کوئی بھی چیز اس کے) آگے دیکھنے میں رکاوٹ نہیں بنے گی) اور اس عورت کے سر پر تاج رکھے ہونگے اور ان تاجوں کا معمولی ساموتی بھی ایسا ہوگا کہ اگر وہ (دنیا میں آجائے) تو مشرق سے مغرب تک (کی ہر چیز) کو روشن ومنور کردے۔ (احمد)
تشریح
قبل اس کے کہ وہ ایک پہلو سے دوسرا پہلو بدلے کے ذریعہ اس طرف اشارہ کرنا مقصود ہے کہ اس مرد کے پہلوؤں میں اتنے زیادہ گاؤ تکئے رکھے ہونگے کہ وہ ایک ہی پہلو پر بیٹھا ہوا دوسرا پہلو بدلنے تک طرح طرح کے ستّر تکیوں سے ٹیک لگائے گا۔ میں، مزید، میں سے ہوں۔ یعنی ان نعمتوں میں سے ایک نعمت ہوں جن کا حق تعالیٰ نے تمہاری نیکو کاریوں کے بدلہ وجزاء کے علاوہ خصوصی انعام کے طور پر مزید عطا کرنے کا وعدہ کیا تھا یہ گویا قرآن کریم کی اس آیت کی طرف اشارہ ہوگا کہ (لَهُمْ مَّا يَشَا ءُوْنَ فِيْهَا وَلَدَيْنَا مَزِيْدٌ) 50۔ ق 35) ان (اہل ایمان) کو جنت میں وہ کچھ ملے گا جو ہم (جزاء کے طور پر) دینا چاہیں گے اس کے علاوہ ہمارے پاس اور بھی (خصوصی انعام) ہیں اس مضمون کی ایک آیت یہ بھی ہے (لِلَّذِيْنَ اَحْسَ نُوا الْحُسْنٰى وَزِيَادَةٌ) 10۔ یونس 26) نیک کاروں کے لئے جنت ہیں مزید برآں۔ ویسے مفسرین نے اس آیت میں زیادۃ (مزیدا برآں) کی تفسیر حق تعالیٰ کا دیدار کیا ہے، تاہم یہ اس بات کے منافی نہیں ہے کہ ان مزید نعمتوں (خصوصی انعام) میں سے ایک نعمت بعض حوریں بھی ہیں، رہی یہ بات کہ حوران جنت کی اس نعمت کو مزید یا زیادہ سے کیوں تعبیر فرمایا گیا ہے تو وجہ یہ ہے کہ وہ فضل الٰہی سے بندوں کو ان نیک اعمال کی جزاء میں عطا کی جائیں گی، اب وہ جنت عطا ہونے کے بعد پھر بندوں کو جو کچھ ملے گا وہ خصوصی عنایت و انعام اور فضل بر فضل ہوگا اور ظاہر ہے کہ اصل اجر و بدلہ سے زائد چیز ہوگی۔
جنت میں زراعت کی خواہش اور اس کی تکمیل
وعن أبي هريرة أن النبي صلى الله عليه و سلم كان يتحدث - وعنده رجل من أهل البادية - : إن رجلا من أهل الجنة استأذن ربه في الزرع . فقال له : ألست فيما شئت ؟ قال : بلى ولكن أحب أن أزرع فبذر فبادر الطرف نباته واستواؤه واستحصاده فكان أمثال الجبال . فيقول الله تعالى : دونك يا ابن آدم فإنه يشبعك شيء . فقال الأعرابي : والله لا تجده إلا قرشيا أو أنصاريا فإنهم أصحاب زرع وأما نحن فلسنا بأصحاب زرع فضحك رسول الله صلى الله عليه و سلم . رواه البخاري
اور حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ( ایک دن) نبی کریم ﷺ کے پاس ایک دیہاتی مسلمان بیٹھا ہوا تھا اور آپ ﷺ یہ حدیث ارشاد فرما رہے تھے کہ جنتیوں میں ایک شخص اپنے پروردگار سے کھیتی کی اجازت طلب کرے گا، خداوند تعالیٰ اس سے فرمائے گا کہ جو کچھ تم چاہتے ہو وہ موجود نہیں؟ (یعنی جب یہاں ہر وہ چیز موجود ہے جس کی تمہیں خواہش ہو، تو پھر کھیتی کرنے کی کیا ضرورت ہے) وہ شخص عرض کرے گا کہ بیشک یہاں سب کچھ موجود ہے لیکن میری خواہش یہی ہے کہ میں کھیتی کروں۔ (آنحضرت ﷺ نے فرمایا بہرحال اس شخص کو کھیتی کرنے کی اجازت دیدی جائے گی اور وہ زمین میں بیج ڈالے گا اور پلک جھپکتے ہی سبزہ اگ آئے گا اور جب ہی کھیتی بڑھ کر پک کر کٹ جائے گی اور پہاڑ کے برابر انبار لگ جائیں گے، تب اللہ تعالیٰ اس شخص سے فرمائے گا ابن آدم! دیکھ تیری خواہش پوری ہوگئی، حقیقت یہ ہے کہ تیری حرص کا پیٹ کوئی چیز نہیں بھرتی۔ روای کہتے ہیں کہ (یہ حدیث سن کر) وہ دیہاتی ( جو حضور کے پاس بیٹھا تھا، کہنے لگا اللہ کی قسم، وہ شخص یقینا یا تو قریشی ہوگا یا انصاری (یعنی جنت میں کھیتی کرنے کی خواہش کرنے والا شخص یا تو مکہ والوں میں سے ہوگا یا مدینے والوں میں سے، کیونکہ یہی لوگ کھیتی باڑی کرتے ہیں جہاں تک ہم صحرانشین دیہاتیوں کا تعلق ہے، کھیتی باڑی سے ہمارا کوئی واسطہ ہی نہیں ہے (ہم جنگلوں میں اونٹ بکری چرا کر اور محنت مزدوری کرکے دودھ اور کھجوروں پر گزارہ کرلیتے ہیں ان چیزوں کے علاوہ ہمیں اور کسی چیز کی خواہش نہیں ہے) پس (اس دیہاتی کی یہ بات سن کر) رسول اللہ ﷺ ہنس پڑے۔ (بخاری)
تشریح
تیری حرص کا پیٹ کوئی چیز نہیں بھرتی کا مطلب یہ ہوگا کہ آدم زادے! یہ تو ہوگیا کہ تو نے ایک خواہش ظاہر کی اور ہم نے تیری وہ خواہش آن واحد میں پوری کردی مگر ذرا سوچ کہ جنت میں تجھے ان گنت نعمتیں حاصل ہونے اور تیری خواہش کی ہر چیز تجھے میسر ہونے کے باوجود تو نے کھیتی باڑی کرنے جو عجیب و غریب خواہش ظاہر کی وہ کس بات پر دلالت کرتی ہے کیا اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ تیری حرص کا پیٹ کبھی نہیں بھر سکتا اور عیش وتنعم کی آخری سے آخری حد بھی تجھے قناعت تک نہیں پہنچا سکتی اس سے معلوم ہوا کہ حرص اور ترک قناعت انسان کی جبلت میں داخل ہے اور یہ ایک ایسی خصلت ہے جو اس میں سے نکل نہیں سکتی خواہ وہ جنت میں کیوں نہ پہنچا ہوا ہو