جنت اور اہل جنت کے حالات کا بیان
صراح میں لکھا ہے کہ جنت کے معنی ہیں باغ بہشت جنت اصل میں ڈھانپنے کے معنی میں آتا ہے۔ اس مناسبت سے پہلے اس لفظ کا اطلاق سایہ دار درختوں پر ہوتا تھا جو اپنے نیچے کی چیز کو گویا اپنے سائے میں چھپائے اور ڈھانپتے رہتے ہیں، پھر اس لفظ کو باغ کے معنی میں استعمال کیا جانے لگا جو سایہ دار درختوں کا مجموعہ ہوتا ہے اور پھر آخر میں یہ لفظ ثواب و انعام ملنے کی جگہ یعنی بہشت کے لئے مخصوص ہو کر رہ گیا، چناچہ بہشت کو جنت اسی اعتبار سے کہا جاتا ہے کہ وہاں گھنے درخت اور باغات ہیں جو ہر چیز کو اپنے دامن میں چھپائے ہوئے ہیں۔
عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : قال الله تعالى : أعددت لعبادي الصالحين ما لا عين رأت ولا أذن سمعت ولا خطر على قلب بشر . واقرؤوا إن شئتم : ( فلا تعلم نفس ما أخفي لهم من قرة عين ) متفق عليه
حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا! میں نے اپنے نیک بندوں کے لئے وہ چیز تیار کر رکھی ہے کہ ( آج تک) نہ کسی آنکھ نے اس ( جیسی کسی چیز) کو دیکھا ہے نہ کسی کان نے ( اس جیسی خوبیوں کا) سنا ہے اور نہ کسی انسان کے دل میں ( اس کی ماہیت کا تصور تک آیا ہے اگر تم اس بات کی تصدیق چاہو تو یہ آیت پڑھو (فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّا اُخْفِيَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْيُنٍ ) 32۔ السجدہ 17) ( بخاری ومسلم) کوئی بھی شخص نہیں جانتا ( جو بندے شب بیداری کرتے ہیں اور اللہ کی راہ میں اپنا مال خرچ کرتے ہیں) ان کے لئے کیا چیز چھپا رکھی گئی ہے جو آنکھ کی ٹھنڈک کا سبب ہے۔
تشریح
۔۔۔ نہ کسی آنکھ نے الخ کے بارے میں بھی یہ احتمال ہے کہ اس چیز ( یعنی جنت) کے مظاہر شکل و صورت آوازیں اور خاطر داریاں مراد ہوں، مطلب یہ کہ وہاں جو اعلی مناظر ہوں گے اور وہاں جو نظر افروز شکلیں اور صورتیں دکھائی دیں گی ان جیسے مناظر اور جیسی شکلیں اور صورتیں اس دنیا میں نہ دیکھی گئی ہیں اور نہ کبھی دیکھیں جاسکتی ہیں، اسی طرح وہاں کی آوازوں میں جو مٹھاس، نغمگی اور دلکشی ہوگی، ایسی میٹھی، نغمیہ ریز اور دلکش آوازیں اس دنیا میں آج تک نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کبھی سنی جاسکتی ہیں اور ایسے ہی وہاں جو خاطر ومدارت ہوں گی، جو نعمتیں اور لذتیں حاصل ہوں گی، ان کا تصور بھی اس دنیا میں آج تک کسی انسان کے دل میں نہیں آیا ہوگا اور نہ کبھی اس کا کوئی تصور کیا جاسکتا ہے۔ آیت میں جس چیز کو آنکھ کی ٹھنڈک سے تعبیر کیا گیا ہے اس سے فرحت و شادمانی، چین و راحت اور مقصود مراد پانا ہے! واضح رہے کہ ( آنکھ کی ٹھنڈک) میں لفظ قرۃ دراصل قر سے نکلا ہے جس کے معنی ثبات وقرار کے ہیں۔ چناچہ آنکھ جب اپنی محبوب چیز کو دیکھتی ہے تو قرار پاجاتی ہے اور اس طرح مطمئن ہوجاتی ہے کہ کسی اور طرف مائل نہیں ہوتی اس کے برخلاف جب آنکھ کسی غیر پسندیدہ اور ناگوار چیز کو دیکھتی ہے اور اس کی محبوب شی سامنے نہیں ہوتی تو وہ پریشان اور کھوئی سی رہتی ہے اور کسی ایک سمت قرار پانے کے بجائے ادھر ادھر بھٹکنا شروع کردیتی ہے ایسے ہی فرحت و سرور اور راحت و اطمینان کی حالت میں آنکھوں کو عجیب طرح کا کیف و سکون اور آرام ملتا ہے جب کہ خوف وغم کی حالت میں وہ متحرک ومضطرب ہوجاتی ہیں۔ یا یہ کہ قرۃ کے لفظ قر سے مشق ہے جے جس کے معنی ٹھنڈک اور خشکی کے ہیں اس صورت میں کہا جائے گا کہ آنکھ کی ٹھنڈک سی مراد وہ مخصوص لذت وکیف ہے جو محبوب اور پسندیدہ چیز کو دیکھ کر اور اپنا مقصود و مطلوب پا کر آنکھ محسوس کرتی ہے، اس کے برخلاف آنکھ جب کسی غیر پسندیدہ اور ناگوار چیز اور دشمن کو دیکھتی ہے اور مطلوب و مقصود کے انتظار میں ہوتی ہے تو گویا اس وقت وہ ایک خاص جلن اور سوزش محسوس کرتی ہے! اسی مناسبت سے پیاری اولاد کو قرۃ العین یعنی آنکھوں کی ٹھنڈک کہا جاتا ہے! نیز ایک حدیث میں جو یوں آیا ہے کہ جعلت قرۃ عینی فئی الصلوۃ ( حضور ﷺ نے فرمایا میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز رکھی گئی ہے تو اس میں بھی لفظ قرۃ کے دونوں معنی مراد ہوسکتے ہیں! جیسا کہ اپنے موقع پر اس حدیث کی تشریح میں ذکر ہوچکا ہے۔
وعنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : موضع سوط في الجنة خير من الدنيا وما فيها . متفق عليه
اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جنت میں ایک کوڑے کے برابر بھی جگہ دنیا اور جو کچھ دنیا میں ہے سب سے بہتر ہے۔ (بخاری ومسلم )
تشریح
سفر کا قاعدہ ہوتا تھا کہ جب سوار کسی جگہ اترنا چاہتا تو اپنا کوڑا وہاں ڈال دیتا تاکہ دوسرا شخص وہاں نہ اترے اور وہ جگہ اس کے ٹھہرنے کے لئے مخصوص ہوجائے پس حدیث کا مطلب یہ ہوا کہ جنت کی اتنی تھوڑی سی جگہ اور وہاں کا چھوٹا سا مکان بھی کہ جہاں مسافر سفر میں ٹھہرتا ہے اس پوری دنیا اور یہاں کی تمام چیزوں سے زیادہ قیمتی اور زیادہ اچھا ہے کیونکہ جنت اور جنت کی تمام نعمتیں ہمیشہ ہمیشہ باقی رہنے والی ہیں جب کہ دنیا اور دنیا کی تمام چیزیں فنا ہوجانے والی ہیں۔
وعن أنس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : غدوة في سبيل الله أو روحة خير من الدنيا وما فيها ولو أن امرأة من نساء أهل الجنة اطلعت إلى الأرض لأضاءت مابينهما ولملأت ما بينهما ريحا ولنصيفها على رأسها خير من الدنيا وما فيها . رواه البخاري
اور حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا صبح کو شام کو ایک بار اللہ کی راہ میں نکلنا دنیا اور دنیا کی تمام چیزوں سے بہتر ہے اور اگر جنتیوں میں سے کسی کی عورت ( یعنی کوئی حور) زمین کی طرف جھانک لے تو مشرق ومغرب کے درمیان کو ( یعنی دنیا کے اس کونے سے لے کر اس کونے تک کی تمام چیزوں کو) روشن ومنور کر دے اور مشرق سے لے کر مغرب تک کی تمام فضاء کو خوشبو سے بھر دے، نیز اس کے سر کی ایک اوڑھنی اس دنیا اور دنیا کی تمام چیزوں سے بہتر ہے۔ (بخاری )
تشریح
صبح اور شام کی تخصیص معمول کا لحاظ رکھتے ہوئے ہے کہ عام طور پر فوج ولشکر کی روانگی میدان جنگ میں معرکہ آرائی اور حملہ وغیرہ کی ابتداء انہی اوقات میں ہوئی ہے۔ ورنہ یہاں نطق مراد ہے خواہ وہ صبح وشام کا وقت ہو یا کوئی اور وقت اللہ کی راہ سے مراد جہاد وغیرہ بھی ہے اور ہجرات بھی، اسی طرح حج، طلب علم اور ہر اس مقصد کے لئے گھر سے نکلنا اور سفر کرنا بھی مراد ہے جس کا مطمع نظر اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی کا حصول اور بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر اسی کے فرمان کی بجا آوری ہو یہاں تک کہ اپنے اہل و عیال کا نقطہ پورا کرنے کے لئے اور عبادت الٰہی اور احکام الہٰی کی بجا آوری میں دلجمی و اطمینان اور حضور قلب کے حصول کی غرض سے رزق حلال کی تلاش میں نکلنا اور سفر کرنا بھی اللہ کی راہ میں نکلنے کا مفہوم رکھتا ہے! حاصل یہ ہے کہ الہ کی راہ میں گھر بار چھوڑ کر مصروف عمل رہنے والے لوگوں کو جو فضیلت اور مرتبہ حاصل ہوتا ہے اس کا اندازہ صرف اس بات سے لگا دیا جائے کہ جو شخص محض ایک بار بھی اللہ کی راہ میں نکلتا ہے اور اس کے نتیجہ میں اس کو جو اجر وثواب ملتا ہے یا اس کو آخرت میں جو نعمتیں حاصل ہوں گی وہ اس دنیا اور دنیا کی تمام چیزوں سے بہتر ہیں! نیز ذکر چونکہ اللہ کے راستہ میں نکلنے کی فضیلت کا تھا جس کا اجر اللہ کے ہاں جنت ہے اس مناسبت سے جنت کی نعمتوں میں سے ایک نعمت ( یعنی حور) کی کچھ خوبیاں بھی بیان فرمائی گئیں۔ لفظ بینہما کی ضمیریں مشرق ومغرب کی طرف لوٹائی گئی ہیں، لیکن یہ ضمیریں آسمان و زمین کی طرف یا جنت اور زمین کی طرف بھی لوٹائی جاسکتی ہیں، ویسے زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ جنت اور زمین کی طرف راجع ہوں کیونکہ عبارت میں بھی یہی دونوں صریحا مذکور ہیں۔
وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن في الجنة شجرة يسير الراكب في ظلها مائة عام لا يقطعها ولقاب قوس أحدكم في الجنة خير مما طلعت عليه الشمس أو تغرب . متفق عليه
اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جنت میں ایک درخت ہے ( جس کا نام طوبی ہے) اگر کوئی سوار اس درخت کے سائے میں سو برس تک چلتا رہے تب بھی اس کی مسافت ختم نہ ہوگی اور جنت میں تمہارے کمان کی برابر جگہ ان تمام چیزوں سے بہتر و برتر ہے جن پر آفتاب طلوع یا غروب ہوتا ہے۔ (بخاری ومسلم )
تشریح
جن پر آفتاب طلوح و غروب ہوتا ہے۔ سے مراد تمام دنیا اور دنیا کی تمام چیزیں ہیں۔ طلوع یا غروب میں حرف یا یا تو راوی کے شک کو ظاہر کرنے کے لئے ہے یا اظہار حیرت کے لئے ہے، یا اور کے معنی میں ہے اس طرح کی پہلے جو حدیث گزری ہے اس میں ایک کوڑے کے برابر جگہ کا ذکر ہے اور یہاں ایک کمان کی برابر جگہ کا ذکر کیا گیا ہے تو دونوں کا مفہوم ایک ہی ہے اور یہاں بھی وہی وضاحت پیش نظر رہنی چاہئے جو پہلے بیان ہوچکی ہے، التبہ اس فرق کو سامنے رکھنا چاہئے کہ سفر کے دوران سوار تو اترنے کی جگہ اپنا کوڑا ڈال دیا کرتا تھا اور جو شخص پیدل ہوتا تھا وہ جس جگہ ٹھہرنا چاہتا وہاں اپنی کمان ڈال دیتا تھا تاکہ وہ جگہ اس کے ٹھہرنے کے لئے مخصوص ہوجائے۔
وعن أبي موسى قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن للمؤمن في الجنة لخيمة من لؤلؤة واحدة مجوفة عرضها وفي رواية : طولها ستون ميلا في كل زاوية منها أهل ما يرون الآخرين يطوف عليهم المؤمن وجنتان من فضة آنيتهما ما فيهما وجنتان من ذهب آنيتهما وما فيهما وما بين أن ينظروا إلى ربهم إلا رداء الكبرياء على وجهه في جنة عدن . متفق عليه
اور حضرت ابوموسی ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا مومن کو جنت میں جو خیمہ ملے گا وہ پورا ایک کھوکھلا موتی ہوگا جس کا عرض ایک اور روایت میں ہے کہ جس کا طول ساٹھ کوس کی مسافت کے بقدر ہوگا، اس خیمہ کے ہر گوشہ میں اس ( مومن) کے اہل خانہ ہونگے اور ایک گوشہ کے آدمی دوسرے گوشہ کے آدمیوں کو نہیں دیکھ سکیں گے۔ ان سب اہل خانہ کے پاس مومن آتا جاتا رہے گا۔ ( مومن کے لئے) دو جنتیں چاندی کی ہوں گی کہ ان جنتیوں کے برتن، باسن ( مکانات ومحلات اور خانہ داری کے دوسرے ضروری وآرائشی سامان تخت کرسی میز پلنگ، جھاڑ، فانوس، یہاں تک درخت وغیرہ) سب چاندی کے ہوں گے اور دو جنتیں سونے کی ہوں گی کہ ان جنتوں کے برتن باسن اور ان میں ہر چیز سونے کی ہوگی اور جنت العدن میں جنتیوں اور پروردگار کی طرف سے ان کے دیکھنے کے درمیان ذات باری تعالیٰ کی عظمت و بزرگی کے پردہ کے علاوہ اور کوئی چیز حائل نہیں ہوگی۔ ( بخاری ومسلم )
تشریح
یہ بات کوئی اہمیت نہیں رکھتی کہ زیادہ صحیح اس روایت کے الفاظ ہیں جس میں اس خیمہ کا عرض ساٹھ کوس کی مسافت کے بقدر بیان کیا گیا ہے یا اس روایت کے الفاظ زیادہ صحیح ہیں جس میں خیمہ کے طول کو ساتھ کوس کی مسافت کے بقدر بتایا گیا ہے، اصل مقصد اس خیمہ کی وسعت و کشادگی کو بیان کرنا ہے جو دونوں روایتوں سے حاصل ہوجاتا ہے، اگر یہ کہا جائے کہ اس خیمہ کی چوڑائی ساتھ کوس کے بقدر ہے تو اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اس کی لمبائی کتنی زیادہ ہوگی اور اگر یہ کہا جائے کہ اس کی لمبائی ساٹھ کوس کی مسافت کے بقدر ہے تو اس پر قیاس کر کے اس کی چوڑائی کا اندازہ بھی لگایا جاسکتا ہے۔ اہل خانہ سے مراد بیوی وغیرہ ہیں! اور ایک شارح نے لکھا ہے کہ اہل سے مراد بیویاں ہیں جو اس مومن کو وہاں ملیں گی اور جن سے وہ جنسی لذت حاصل کرے گا، چناچہ آتا جاتا رہے گا کے الفاظ کے ذریعہ اسی بات کو کنایہ بیان کرنا مقصود ہے کہ وہ مومن اپنی ان بیویوں کے ساتھ جنسی اختلاط کرتا رہے گا۔ اس حدیث سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ دو جنتیں خالص چاندی کی اور دو جنتیں خالص سونے کی ہوں گی جب کہ ایک روایت میں جنت کی عمارتوں اور محلات کی تعریف میں بیان کیا گیا ہے کہ ان میں جو اینٹیں لگی ہوں گی ان کی ترتیب یہ ہوگی کہ ایک اینٹ تو سونے کی ہوگی اور ایک اینٹ چاندی کی۔ پس ان دونوں روایتوں میں تطبیق یہ ہوگی کہ پہلی روایت میں ان چیزوں کا ذکر ہے جو جنت کے اندر ہوں گی، جیسے برتن، باسن اور دیگر اشیاء چناچہ ایک جنت میں تو تمام چیزیں سونے کی ہوں گی اور ایک جنت میں تمام چیزیں چاندی کی ہوں گی اور دوسری روایت میں جنت کی عمارتوں کی خوبی بیان کی گئی ہے کہ جنت کی ہر عمارت و محل کی دیوار میں سونے اور چاندی کی اینٹیں ہوں گی۔ جنتوں کی تعداد اور ان کے نام علامہ بیہقی (رح) نے کہا ہے کہ قرآن و حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ جنتیں چار ہیں، چناچہ اللہ تعالیٰ نے سورت رحمن میں فرمایا ہے۔ (وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّه جَنَّتٰنِ ) 55۔ الرحمن 46) اور جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ( ہر وقت) ڈرتا ہو اس کے لئے دو جنتیں ہیں۔ اس کے بعد کی آیتوں میں ان دونوں جنتوں کی تعریف و توصیف بیان فرمائی گئی ہے اور پھر ارشاد ہوا۔ (وَمِنْ دُوْنِهِمَا جَنَّتٰنِ ) 55۔ الرحمن 16) اور ان دو جنتوں سے کم درجہ میں دو جنتیں اور ہیں۔ پہلی دو جنتوں کی طرح آگے کی آیات میں ان دو جنتوں کی بھی تعریف و توصیف بیان کی گئی ہے رہی حدیث کی بات تو اوپر حضرت ابوموسی ؓ کی روایت کہ یہ الفاظ جنتان من فضۃ انیتہما وما فیہا وجنتان من ذہب انیتہما وما فیہا اس پر صریح دلالت کرتے ہیں کہ جنتیں چار ہیں اس کی تائید اس روایت سے ہوتی ہے کہ جنتان من الذہب للسابقین وجنتان من فضۃ لا صحاب الیمین۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آیت میں جنتان ( دو جنتوں) کا جو لفظ ہے اس سے جنت کی دو قسمیں مراد ہوں یعنی ان جنتوں میں سے ایک سونے کی اور دوسری چاندی کی ہوگی۔ حاصل یہ نکلا کہ اصل میں چار جنتیں ہیں، دو سونے کی ہیں جو خاص مقربین کے لئے ہیں اور دو چاندی کی ہیں جو عام مومنین کے لئے ہیں، لیکن یہ بھی واضح رہے کہ جنتان گو تثنیہ کا صیغہ ہے مگر بعض موقعوں پر تثنیہ کا صیغہ ہے مگر بعض موقعوں پر تثنیہ سے کثرت ( یعنی دو سے زائد کی تعداد بھی مراد ہوتی ہے اس لئے ہوسکتا ہے کہ جنتان سے مراد چار چار جنتیں ہوں اور کاملین کو ان دو اصل جنتوں کے علاوہ جو دو جنتیں اور عطا ہوں جو سونے اور چاندی ہی کی ہوں گی اور وہ جنتیں زیبائش و خوشنمائی کے لئے ان کاملین کے محلات کے دائیں بائیں واقع ہوں گی، اس کی تائید ان روایات سے بھی ہوتی ہے جن میں جنت کے تعلق سے آٹھ نام ذکر ہوئے ہیں اور وہ یہ ہیں (١) جنت العدن (٢) جنت الفردوس (٣) جنت الخلد (٤) جنت النعیم ( ٥) جنت الماوی (٦) دار السلام ( ٧) دار القرار ( ٨) دار المقامہ۔ اور جنت العدن میں جنتیوں اور پروردگار کی طرف ان کو دیکھنے۔۔ الخ۔ کے ذریعہ اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ جب جنتی لوگ جنت میں پہنچ جائیں گے تو وہ جسمانی حجاب اور طبعی کدورتیں جو بندے اور پروردگار کے دیدار کے درمیان حائل ہوتی ہیں اٹھ جائیں گی مگر ذات مقدس کی کبریائی و عظمت اور ہیبت و جلال کا پردہ باقی رہے گا تاہم اللہ تعالیٰ اپنے خصوصی فضل و کرم سے اس پردہ کو بھی اٹھا دے گا یعنی نظروں کو تاب دیدار بخش دے گا اور جنتی لوگ اپنے رب کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے۔
وعن عبادة بن الصامت قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : في الجنة مائة درجة ما بين كل درجتين كما بين السماء والأرض والفردوس أعلاها درجة منها تفجر أنهار الجنة الأربعة ومن فوقها يكون العرش فإذا سألتم الله فاسألوه الفردوس رواه الترمذي ولم أجده في الصحيحين ولا في كتاب الحميدي
اور حضرت عبادہ بن صامت ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جنت میں سو درجے ہیں ان میں سے ہر دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا کہ زمین وآمسان کے درمیان ہے اور فردوس صورۃ اور معنی وہ اپنے درجات ( کی بلندی) کے اعتبار سے سب جنتوں سے اعلی و برتر ہے اور اسی فردوس سے بہشت کی چاروں نہریں نکلتی ہیں اور فردوس ہی کے اوپر عرش الہٰی ہے پس جب تم اللہ سے جنت مانگو تو جنت الفردوس مانگو ( جو سب سے اعلی و برتر ہے) اس روایت کو ترمذی نے نقل کیا ہے اور مجھے یہ حدیث نہ تو صحیین میں ملی ہے اور نہ کتاب حمیدی میں۔
تشریح
سو درجے میں سو کا عدد تعین وتحدید کے لئے نہیں بلکہ کثرت کے اظہار کے لئے بھی ہوسکتا ہے اس کی تائید حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی اس مرفوع روایت سے بھی ہوتی ہے جس کو بیہقی نے نقل کیا ہے اور جس میں جنت کے درجات کی تعداد قرآن کی آیتوں کے برابر بیان کی گئی ہے روایت کے الفاظ یہ ہیں عدد درج الجنت عدد ای القران فمن دخل الجنۃ من اہل القران فلیس فوقہ درجۃ اور یہ بھی ممکن ہے کہ سو سے یہ خاص عدد ہی مراد ہو اور اس کے ذریعہ جنت کے کثیر درجات میں صرف ان سو درجوں کا بیان کرنا مقصود ہو، جن میں سے ہر دو درجوں کا درمیانی فاصلہ مذکور فاصلہ سے کم یا زیادہ ہوگا دیلمی نے مسند فردوس میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے یہ مرفوع روایت نقل کی ہے کہ جنت میں ایک درجہ وہ ہے جس تک اصحاب ہموم کے علاوہ اور کوئی نہیں پہنچے گا فردوس جنت کا نام ہے اور یہ نام قرآن کریم میں بایں طور مذکور ہے کہ (اُولٰ ى ِكَ هُمُ الْوٰرِثُوْنَ 10 الَّذِيْنَ يَرِثُوْنَ الْفِرْدَوْسَ هُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ 11) 23۔ المؤمنون 11-10) یہی ( پاک طینت پاک کردار) لوگ ( جن کا پچھلی آیتوں میں ذکر ہوا) وارث بنیں گے ( یعنی فردوس کی میراث حاصل کریں گے ( اور) اس میں ہمشہ ہمیشہ رہیں گے چاروں نہروں سے مراد پانی، دودھ شہد اور شراب کی وہ نہریں ہیں جن کا ذکر قرآن کریم کی ان آیات میں کیا گیا ہے۔ فیہا انہار من ماء غیر اسن وانہار من لبن لم یتغیر طعمہ وانہار من خمر لذۃ للشاربین وانہار من عسل مصفی۔ جنت میں بہت سی چیزیں تو ایسے پانی کی ہیں جس میں ذرا تغیر نہ ہوگا اور بہت سی نہریں دودھ کی ہیں جن کا ذائقہ ذرا بدلہ ہوا نہ ہوگا اور بہت سی نہریں شراب کی ہیں جو پینے والوں کو بہت لذیذ معلوم ہوں گی اور بہت سی نہریں شہد کی ہیں جو پینے والوں کو بہت لذیذ معلوم ہوں گی اور بہت سی نہریں شہد کی ہیں جو بالکل صاف و شفاف ہوگا۔ فردوس ہی کے اوپر عرش الہٰی ہے یہ اس بات کی دلیل ہے کہ فردوس سب جنتوں سے افضل اور اوپر ہے کہ اس کے اوپر بس عرش الہٰی ہے۔ اسی لئے حضور ﷺ نے امت کو تلقین فرمائی کہ اللہ تعالیٰ سے جنت مانگو تو جنت الفردوس مانگو تاکہ سب سے اعلی اور سب سے بہتر جنت تمہیں حاصل ہو۔ روایت کے آخر میں مولف مشکوۃ کے ان الفاظ اور مجھے یہ حدیث نہ تو صحیین میں ملی ہے۔۔ الخ۔ کے ذریعہ دراصل صاحب مصابیح پر یہ اعتراض کیا ہے کہ انہوں نے اس حدیث کو فصل اول میں نقل کیا ہے جس میں صرف بخاری ومسلم کے متون میں ملی ہے اور نہ ان دونوں کتابوں کے مجموعہ کتاب حمیدی میں! لہذا اس حدیث کو فصل اول کے بجائے فصل دوم میں نقل کرنا چاہئے تھا۔ صاحب مصابیح پر مؤلف مشکوۃ کا اعتراض تو یہ ہے مگر بعض شارحین نے لکھا ہے کہ یہ حدیث صحیح بخاری میں دو جگہ موجود ہے ایک تو کتاب الجہاد میں اور دوسری کان عرشہ علی الماء کے باب میں اور صحیح مسلم میں بھی فضل جہاد فی سبیل اللہ کے باب میں موجود ہے۔
وعن أنس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن في الجنة لسوقا يأتونها كل جمعة فتهب ريح الشمال فتحثو في وجوههم وثيابهم فيزدادون حسنا وجمالا فيرجعون إلى أهليهم وقد ازدادوا حسنا وجمالا فيقول لهم أهلوهم والله لقد ازددتم بعدنا حسنا وجمالا فيقولون وأنتم والله لقد ازددتم حسنا وجمالا
اور حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جنت میں ایک بازار ہے جس میں ہر جمعہ لوگ جمع ہوا کریں گے اور وہاں شمالی ہوا چلے گی جو جنتیوں کے چہرے اور کپڑوں پر ( طرح طرح کی خوشبوئیں اور مہک) ڈالے گی جس سے وہاں موجود جنتیوں کے حسن و جمال میں اضافہ ہوجائے گا اور پھر جب وہ لوگ بہت زیادہ حسین و جمیل بن کر ( اس بازار سے) اپنے گھر والوں کے پاس واپس آئیں گے تو وہ گھر والے ان سے کہیں گے کہ اللہ کی قسم ہم سے الگ ہو کر تم نے اپنے حسن و جمال کو کتنا بڑھالیا ہے؟ اس کے جواب میں وہ کہیں گے کہ اور واللہ! ہمارے جانے کے بعد تم نے بھی تو اپنے حسن و جمال کو بڑھالیا ہے۔ ( مسلم)
تشریح
بازار سے مراد حسن و جمال کی افزائش کا مرکز ہے جہاں جنتی لوگ جمع ہوا کریں گے اور وہاں طرح طرح کی دلفریب، دیدہ زیب اور خوش جمال صورتیں موجود ہوا کریں گی اور ہر جنتی اپنی پسند و خواہش کے مطابق جو شکل و صورت چاہے گا اختیار کرلیا کرے گا۔ ہر جمعہ سے مراد ہر ہفتہ ہے یعنی ہفتہ میں ایک دن وہاں لوگ جمع ہوا کریں گے اور ہفتہ سے بھی حقیقی ہفتہ مراد نہیں ہے کیونکہ جنت میں نہ سورج ہوگا اور نہ دن رات کی گردش ہوگی، ہمیشہ یکساں وقت رہے گا لہٰذا ہفتہ سے ایک ہفتہ کے بقدر وقت کا عرصہ مراد ہے۔ شمالی ہوا سے مراد عام طور پر وہ ہوا ہوتی ہے جو اگر قبلہ کی طرف منہ کر کے کھڑے ہوں تو دائیں ہاتھ کی سمت سے آئے۔ اس کو اتری ہوا بھی کہا جاتا ہے لیکن یہاں حدیث میں اس جیسی ہوا مراد ہے جس کو عرب میں شمال کہا جاتا ہے۔ یہ ہوا چونکہ شمال سے چلتی ہے اور ٹھنڈے ملکوں اور بحر احمر سے ہوتی ہوئی آتی ہے اس لئے کافی ٹھنڈی ہوتی ہے اور شمالی ہوا کہلاتی ہے۔ جنتی لوگ اس تفریح گاہ سے لوٹنے پر اپنے گھر والوں کا حسن و جمال جو بڑھا ہوا پائیں گے تو اس کا سبب یہ ہوگا کہ وہ شمالی ہوا ان گھر والوں تک بھی پہنچے گی اور اس کی وجہ سے ان کا حسن و جمال بھی بڑھ جائے گا یا یہ کہ وہ جنتی لوگ جب اس تفریح گاہ سے اپنے بڑھے ہوئے حسن و جمال کے ساتھ اپنے گھروں کو واپس آئیں گے تو ان کے حسن و جمال کا عکس ان کے گھر والوں پر پڑے گا جس سے وہ سب بھی پہلے کی بہ نسبت کہیں زیادہ حسین و جمیل نظر آئیں گے۔
وعن أبي هريرة قا ل : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن أول زمرة يدخلون الجنة على صورة القمر ليلة البدر ثم الذين يلونهم كأشد كوكب دري في السماء إضاءة قلوبهم على قلب رجل واحد لا اختلاف بينهم ولا تباغض لكل امرئ منهم زوجتان من الحور العين يرى مخ سوقهن من وراء العظم واللحم من الحسن يسبحون الله بكرة وعشيا لا يسقمون ولا يبولون ولا يتغوطون ولا يتفلون ولا يتمخطون آنيتهم الذهب والفضة وأمشاطهم الذهب ووقود مجامرهم الألوة ورشحهم المسك على خلق رجل واحد على صورة أبيهم آدم ستون ذراعا في السماء . رواه مسلم
اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو لوگ جنت میں سب سے پہلے داخل ہوں گے ( یعنی انبیاء علیہم السلام) وہ چودہویں رات کے چاند کی طرح روشن ومنور ہونگے اور ان کے بعد جو لوگ داخل ہوں گے (یعنی علماء، اولیاء، شہدا اور صلحاء) وہ اس ستارے کی مانند روشن وچمکدار ہوں گے جو آسمان پر بہت تیز چمکتا ہے ( اور چاند وسورج سے کم لیکن اور ستاروں سے زیادہ روشن ہوتا ہے) تمام جنتیوں کے دل ایک شخص کے دل کی مانند ہوں گے ( یعنی ان کے درمیان اس طرح باہمی ربط و اتفاق ہوگا کہ وہ سب ایک دل اور ایک جان ہوں گے) نہ تو ان میں کوئی باہمی اختلاف ہوگا اور نہ وہ ایک دوسرے سے کوئی بغض و عداوت رکھیں گے۔ ان میں سے ہر ایک شخص کے لئے حو رعین میں سے دو دو بیویاں ہوں گی ( جو اتنی زیادہ حسین و جمیل اور صاف شفاف ہوں گی گہ) ان کی پنڈلیوں کی ہڈی کا گودا ہڈی اور گوشت کے باہر سے نظر آئے گا۔ تمام جنتی صبح وشام ( یعنی ہر وقت) اللہ تعالیٰ کو یاد کیا کریں گے وہ نہ تو بیمار ہوں گے، نہ پیشاب کریں گے، نہ پاخانہ پھریں گے، نہ تھوگیں گے اور نہ ( رینٹھ سنکیں گے، ان کے برتن سونے چاندی کے ہوں گے، ان کی کنگھیاں سونے کی ہوں گی، ان کی انگیٹھیوں کا ایندھن اگر ہوگا۔ ان کا پسینہ مشک کی طرح خوشبودار ہوگا اور سارے جنتی ایک شخص کی سی عادت و سیرت کے ہوں گے ( یعنی سب کے سب یکساں طور پر خوش خلق وملنسار اور ایک دوسرے سے گہرا ربط وتعلق رکھنے والے ہوں گے) نیز وہ سب شکل و صورت میں باپ آدم (علیہ السلام) کی طرح ہوں گے اور ساٹھ گز اونچا قد رکھتے ہوں گے۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
حور اصل میں حوراء، کی جمع ہے اور حوراء اس حسین و جمیل عورت کو کہتے ہیں جس کی آنکھ کی سفیدی وسیاہی بہت زیادہ سفید و سیاہ ہو، عین عنا! کی جمع ہے جس کے معنی بڑی بڑی آنکھوں والی ہے آگے دوسری فصل کے آخر میں ایک روایت آئے گی جس میں یہ فرمایا گیا ہے کہ سب سے ادنیٰ درجہ کا جنتی وہ ہوگا۔ جس کے بہتر ٧٢ بیویاں ہوں گی، جب کہ یہاں دو بیویوں کا ذکر ہے؟ لہٰذا ان دونوں روایتوں کے درمیان مطابقت پیدا کرنے کے لئے کہا جائے گا کہ یہاں حدیث میں صرف یہ بتانا مقصود ہے کہ حور عین میں سے دو بیویاں ایسی ہونگی جن کا حسن و جمال سب سے زیادہ ہوگا یہاں تک کہ ان کی پنڈلیوں کی ہڈیوں کا گودا باہر سے نظر آئے گا، ظاہر ہے کہ یہ بات اس کے منافی نہیں ہے کہ ہر جنتی کو اس نوعیت کی دو بیویوں کے علاوہ اور بہت سی بیویاں بھی ملیں۔ ان کی انگیٹھیوں کا ایندھن اگر، ہوگا۔ کا مطلب یہ ہے کہ یہاں دنیا میں تو انگیٹھیوں کا ایندھن کوئلہ وغیرہ ہوتا ہے اور یہاں خوشبو حاصل کرنے کے لئے اگر چلایا جاتا ہے لیکن جنت میں انگیٹھیوں کا ایندھن ہی اگر، ہوگا۔ واضح رہے کہ وقود ( واؤ کے پیش کے ساتھ) کے معنی ہیں وہ ایندھن ( یعنی لکڑیاں وغیرہ) جس سے آگ جلائی جائے محامیر اصل میں محمر کے جمع ہے جس کے معنی ہیں وہ چیز جس میں آگ سلگانے کے لئے آگ رکھی جائے یعنی انگیٹھی یا عود سوز، یوں تو یہ لفظ میم کے زیر کے ساتھ ہے لیکن میم کے زبر کے ساتھ بھی منقول ہے۔ الوۃ ( الف کے زبر اور پیش کے ساتھ) آگر کی لکڑی کو کہتے ہیں جس کو دھونی دینے کے لئے جلایا یا سلگایا جاتا ہے۔ علی خلق رجل میں لفظ خلق خ کے پیش کے ساتھ ہے اور ترجمہ میں اسی کا اعبتار کیا گیا ہے۔ اس صورت میں علی صورۃ ابیہم ایک علیحدہ جملہ ہوگا جس کا مقصد جنتیوں کی سیرت کو بیان کرنے کے بعد ان کی شکل و صورت کو بیان کرنا ہے، لیکن بعض روایتوں میں یہ لفظ خ کے زبر کے ساتھ منقول ہے، جس کا بامطلب ترجمہ یہ ہوگا کہ وہ سب ( جنتی لوگ) ایک شخص کی سی شکل و صورت رکھیں گے، حسن و خوبصورتی میں یکساں ہوں گے اور ایک ہی عمر والے ہوں گے، یعنی سب کے سب تیس تیس یا تینتیس تینتیس سال کی عمر کے نظر آئیں گے، اس صورت میں کہا جائے گا کہ علی صورت ابیھم کا جملہ اپنے پہلے جملہ علی خلق رجل واحد کی وضاحت وبیان کے لئے ہے یہ بات ذہن میں رہے کہ پیش والی روایت بھی صحیح ہے اور زبر والی روایت بھی۔
اہل جنت کو پیشاب وپاخانہ کی حاجت نہیں ہوگی
وعن جابر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن أهل الجنة يأكلون فيها ويشربون ولايتفلون ولايبولون ولا يتغوطون ولا يتمخطون . قالوا : فما بال الطعام ؟ قال : جشاء ورشح كرشح المسك يلهمون التسبيح والتحميد كما تلهمون النفس . رواه مسلم
اور حضرت جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جنتی لوگ جنت میں ( خوب) کھائیں پئیں گے، لیکن نہ تو تھوکیں گے، نہ پیشاب کریں گے نہ پاخانہ پھریں گے اور نہ ناک سنکیں گے۔ یہ سن کر بعض صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا کہ ( جب جنتی لوگ پاخانہ نہیں پھریں گے، تو پھر کھانے کے فضلہ کا کیا ہوگا ( اور اس کے اخر اج کی کیا صورت ہوگی؟ آپ ﷺ نے فرمایا کھانے کا فضلہ ڈکار اور پسینہ ہوجائے گا جو مشک کی خوشبو کی مانند ہوگا اور جنتیوں کے دل میں تسبیح وتحمید یعنی سبحان اللہ الحمد للہ کا ورد اور ذکر الہٰی ( اس طرح) ڈال دیا جائے گا ( کہ وہ ان کی عادت ومعمول بن جائے گا) جیسے سانس جاری ہے۔ ( مسلم)
تشریح
کھانے کا فضلہ ڈکار اور پسینہ ہوجائے گا کا مطلب یہ ہے کہ نظام قدرت نے جس طرح اسے دنیا میں کھانے کے فضلہ کا اخراج کے لئے پاخانہ کی صورت رکھی ہے اسی طرح جنت میں جنتیوں کے کھانے کے فضلہ کے اخراج کے لئے ڈکار اور پسینہ کو ذریعہ بنادیا جائے گا کہ تمام فضلہ ہوا اور پسینہ بن کر ڈکار کی صورت میں اور مسامات کے راستے نکل جایا کرے گا اور ڈکار کی صورت میں نکل جائے گا اور بعض اوقات یا بعض اشخاص کا فضلہ پسینہ بن کر مسامات کے راستے خارج ہوجائے گا یا یہ کہ بعض کھانے کا فضلہ تو ڈکار بن کر خارج ہوگا اور بعض کھانے کا فضلہ پسینہ بن کر نکلے گا لیکن اس سلسلے میں زیادہ بہتر اور موزوں یہ کہنا ہے کہ ڈکار تو کھانے کے فضلہ کے اخراج کا ذریعہ بنے گی اور پسینہ پانی کے فضلہ کے اخراج کا ذریعہ ہوگا۔ جیسے سانس جاری ہے۔ کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح سانس کی آمدورفت کا سلسلہ کسی تکلف یا سعی کے بغیر از خود جاری رہتا ہے اسی طرح تسبیح تحمید اور ذکر الہٰی کے کلمات اہل جنت کی زبان پر رواں ہوں گے یا یہ مراد ہے کہ جس طرح معمول کے مطابق سانس کی آمد ورفت کی وجہ سے تمہیں کوئی دقت و پریشانی نہیں ہوتی اور تم کوئی بوجھ محسوس نہیں کرتے اسی طرح جنتی لوگ تسبیح وتحلیل اور تحمید کی وجہ سے کوئی دقت و پریشانی اور بوجھ محسوس نہیں کریں گے اور یہ کہ جس طرح تمہیں سانس لینے سے کوئی چیز باز نہیں رکھتی اسی طرح ان لوگوں کے تسبیح وتحلیل اور تحمید میں مشغول ہونے میں کوئی چیز رکاوٹ نہیں بنے گی۔
وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من يدخل الجنة ينعم ولا يبأس ولا تبلى ثيابه ولا يفنى شبابه . رواه مسلم
اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو بھی شخص جنت میں داخل ہوگا عیش و عشرت میں رہے گا نہ فکر وغم اس کے پاس پھٹکے گا نہ اس کے کپڑے میلے پرانے ہوں گے اور نہ اس کا شباب فناہ ہوگا۔ ( مسلم)
تشریح
جنت اپنی تمام تر نعمتوں آسائشوں اور راحتوں کے ساتھ دار القرار والثبات ہے یعنی وہاں کسی بھی نعمت و راحت کو نہ زوال وفناہ ہے اور نہ وہاں کی پر آسائش زندگی میں کسی غم وفکر تغیر وتبدل اور نقصان و خرابی کا خوف ہوگا۔
وعن أبي سعيد وأبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : ينادي مناد : إن لكم أن تصحوا فلا تسقموا أبدا وإن لكم أن تحيوا فلا تموتوا أبدا وإن لكم أن تشبوا فلا تهرموا أبدا وإن لكم أن تنعموا فلا تبأسوا أبدا رواه مسلم
اور حضرت ابوسعید خدری وحضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جنت میں ایک منادی کرنے والا یہ منادی کیا کرے گا ( کہ اے جنتیو! ) تم صحت و تندرستی کے ساتھ رہو تمہیں کبھی بھی کوئی بیماری لاحق نہیں ہوگی تم ہمیشہ ہمیشہ زندہ سلامت رہو موت کبھی تمہارے پاس بھی نہیں آئے گی، تم سدا جوان رہو بڑھاپا کبھی تمہارے پاس بھی نہیں پھٹکے گا اور تم عیش و عشرت کی زندگی گزارو کسی بھی طرح کے فکر وغم اور رنج والم کا تم تک گزر بھی نہیں ہوگا۔ (مسلم )
جنت کے بالا خانوں کے مکین
وعن أبي سعيد الخدري أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إن أهل الجنة يترآءون أهل الغرف من فوقهم كما تترآءون الكوكب الدري الغابر في الأفق من المشرق أو المغرب لتفاضل ما بينهم قالوا يا رسول الله تلك منازل الأنبياء لا يبلغها غيرهم قال : بلى والذي نفسي بيده رجال آمنوا بالله وصدقوا المرسلين . متفق عليه
اور حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جنتی اپنے اوپر کے بالاخانے والے لوگوں کو اس طرح دیکھیں گے جس طرح تم لوگ اس روشن ستارے کو دیکھتے ہو جو آسمان کے مشرقی یا مغربی افق میں ہوتا ہے اور اس ( بالاخانوں کی بلندی و خوشنمائی) کا تعلق فرق مراتب سے ہوگا جو اہل جنت کے درمیان پایا جاتا ہے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! بالاخانے اوپر کے پر شکوہ محلات۔ کیا انبیاء (علیہم السلام) کے مکان ہونگے جن تک انبیاء (علیہم السلام) کے سوا کسی کی رسائی نہیں ہوگی؟ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کیوں نہیں قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے ان بلند وبالا محلات اور بالا خانوں تک ان لوگوں کی بھی رسائی ہوگی جو اللہ پر ایمان لائے اور رسولوں کی تصدیق کی۔ ( مسلم بخاری )
تشریح
لفظ عابر اصل میں عبور سے مشتق ہے جس کے معنی باقی رہنا، ٹھہرنا ہیں اور پھر یہاں وہ روشن ستارہ مراد ہے جو ڈوبنے کے قریب ہو یا طلوع فجر کے بعد آسمان کے کنارے میں باقی رہ گیا ہو، ایک روایت میں غابر منقول ہے جو غور سے ہے اور جس کے معنی نشیب، پست جگہ کے ہیں، لیکن زیادہ صحیح اور مشہور پہلی ہی روایت ہے جس میں غابر منقول ہے۔ اور اس کا تعلق فرق مراتب سے ہوگا الخ کا مطلب یہ ہے کہ جنتیوں میں یہ فرق مراتب ہوگا کہ بعض اعلی مرتبہ کے ہوں گے، بعض درمیانی مرتبہ کے اور بعض ادنیٰ مرتبہ کے اور اسی کے اعتبار سے سب کو محلات ومکانات اور منازل و مراتب بھی اعلی، درمیانی اور ادنیٰ عطا ہوں گے، چناچہ علماء نے لکھا ہے کہ جنت میں منزلیں ہوں گی، اعلی منزل تو سابقین کے لئے درمیانی مقصدین کے لئے اور نیچے کی منزل مختلطین کے لئے ہوگی۔ جو اللہ پر ایمان لائے اور رسولوں کی تصدیق کی یعنی وہ اولیاء واتقیاء جو ایمان باللہ اور اتباع رسول میں کامل ہیں اور جو اللہ تعالیٰ اور رسولوں کے احکام واوامر کو ماننے والے اور ان کی طرف سے ممنوع قرار دی جانے والی چیزوں سے اجتناب کرنے والے ہیں اور جن کی تعریف قرآن کریم کی ان آیات وعباد الرحمن الذین یمشون علی الارض ہونا الایۃ اور رحمن ( اللہ تعالیٰ ) کے خاص بندے وہ ہیں جو زمین پر عاجزی کے ساتھ چلتے ہیں الخ میں یہ بات فرمائی گئی ہے اور پھر ان کی مختلف اعلی صفات بیان کرنے کے بعد ان کے حق میں یہ بشارت دی گئی ہے کہ اولئک یجزون الغرفۃ بما صبروا (الایۃ) ایسے لوگوں کو ( جنت میں رہنے کے لئے) بالا خانے ملیں گے بوجہ ان کے ثابت قدم رہنے کے الخ۔
وعن أبي هريرة قا ل : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يدخل الجنة أقوام أفئدتهم مثل أفئدة الطير . رواه مسلم
اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جنت میں ایسے لوگوں کی کتنی ہی جماعتیں داخل ہوں گی جن کے دل پرندوں کے مانند ہیں۔ ( مسلم )
تشریح
مطلب یہ کہ جنت میں جانے والوں میں ایسے لوگوں کی ایک بڑی تعداد ہوگی جو اس دنیا میں نرمی ومروت رحم ومہربانی، دل کی صفائی وسادگی اور حسد وبغض سے پاک وصاف ہونے کے اعتبار سے پرندوں جیسی خصلت رکھتے ہیں اور بعض حضرات کہتے ہیں کہ اس حدیث میں ان لوگوں کا ذکر کرنا اور انہیں جنت کی بشارت دینا مقصود ہے جو اپنے رب سے ڈرتے رہتے ہیں اور ان کے دلوں پر آخرت کا خوف اور وہاں کے احوال کی ہیبت بہت زیادہ طاری رہتی ہے! ان کے قلوب کو پرندوں سے تشبیہ اس اعتبار سے دی گئی ہے کہ سب سے زیادہ ڈرنے والا جانور پرندہ ہی ہوتا ہے۔ بعض حضرات نے یہ کہا ہے کہ توکل اختیار کرنے والے مراد ہیں، کیونکہ پرندے توکل کی خاص علامت سمجھے جاتے ہیں اس لئے توکل اختیار کرنے والے بندوں کے قلوب کو پرندوں سے تشبیہ دی گئی ہے جیسا کہ ایک حدیث میں فرمایا گیا ہے اگر تم اللہ تعالیٰ پر توکل ( یعنی کامل اعتماد) رکھو تو یقینا وہ تمہیں رزق دے گا جیسا کہ وہ ان پرندوں کو رزق دیتا ہے جو صبح کو نکلتے ہیں اور شام کو پیٹ بھرے ہوئے واپس آتے ہیں۔
وعن أبي سعيد قا ل : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الله تعالى يقول لأهل الجنة يا أهل الجنة فيقولون لبيك ربنا وسعديك والخير كله في يديك فيقول : هل رضيتم ؟ فيقولون : وما لنا لا نرضى يا رب وقد أعطيتنا ما لم تعط أحدا من خلقك ؟ فيقول ألا أعطيكم أفضل من ذلك ؟ فيقولون : يا رب وأي شيء أفضل من ذلك ؟ فيقول : أحل عليكم رضواني فلا أسخط عليكم بعده أبدا . متفق عليه
اور حضرت ابوسعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ جنتیوں کو ( مخاطب کرنے کے لئے) آواز دے گا کہ اے جنتیو! تمام جنتی ( یہ آواز سن کر) جواب دیں گے کہ ہمارے پروردگار! ہم حاضر ہیں، تیری خدمت میں موجود ہیں، تمام تر بھلائی تیرے ہی قبضہ قدرت اور ارادے میں ہے ( کہ جس کو چاہے عطا کرے )۔ اللہ تعالیٰ فرماے گا ( میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ) کیا تم ( جنت کا انعام پاکر ( مجھ سے راضی وخوش ہو؟ وہ عرض کریں گے کہ پروردگار! بھلا ہم آپ سے راضی وخوش کیوں نہیں ہوں گے، آپ نے تو ہمیں وہ بڑی سے بڑی نعمت اور سرفرازی عطا فرمائی ہے جو اپنی مخلوق سے کسی کو بھی عطا نہیں کی اللہ تعالیٰ فرمائے گا کیا میں اس سے بھی بڑی اور اس سے بھی بہتر نعمت تمہیں عطا نہ کروں؟ وہ کہیں گے کہ پروردگار! اس سے بھی بڑی اور اس سے بھی بہتر نعمت اور کیا ہوگی؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں تمہیں اپنی رضا و خوشنودی عطا کروں گا اور پھر تم سے کبھی نا خوش نہ ہوں گا۔ ( بخاری ومسلم )
تشریح
مولیٰ کریم کا اپنے بندے سے راضی وخوش ہوجانا تمام نعمتوں اور سعادتوں کے حاصل ہوجانے کی ضمانت ہے لہٰذا جب پروردگار اہل جنت کے تئیں اپنی رضا و خوشنودی کا اظہار فرما دے گا تو گویا انہیں تمام ہی نعمتیں اور سرفرازیاں حاصل ہوجائیں گی اور عظیم ترین نعمت دیدار الہٰی، بھی اسی کا ثمرہ و نتیجہ ہے۔ پہلے حق تعالیٰ جنتیوں سے پوچھیں گے کہ آیا تم مجھ سے خوش و راضی ہو؟ اور جب ان کی طرف سے اثبات میں جواب مل جائے گا تب حق تعالیٰ ان کے تئیں اپنی رضا و خوشنودی کا اظہار فرمائیں گے۔ تاکہ واضح ہوجائے بندے سے اللہ تعالیٰ کے راضی وخوش ہونے کی دلیل و علامت یہ ہے کہ وہ بندہ اللہ تعالیٰ کو راضی وخوش پاتا ہے تو سمجھ لینا چاہئے کہ اس کا پروردگار بھی اس سے راضی وخوش ہے منقول ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین آپس میں یہ بحث وتمحیص اور غور وفکر کیا کرتے تھے کہ اس بات کو جاننے کا ذریعہ کیا ہوسکتا ہے کہ ہمارا پروردگار ہم سے راضی وخوش ہے؟ آخر کار انہوں نے اس پر اطلاق کیا کہ خود ہم اپنے رب سے راضی وخوش ہیں تو ہمیں یقین رکھنا چاہئے کہ ہمارا رب بھی ہم سے راضی وخوش ہے۔ اور پھر تم سے کبھی ناخوش نہ ہوگا۔ ظاہر ہے یہ اہل جنت کے حق میں سب سے بڑی سرفرازی کی بشارت ہوگی کہ ان کا پروردگار ہمیشہ ہمیشہ ان سے راضی وخوش رہے گا۔ اس سعادت ونعمت سے بڑی سعادت ونعمت اور کیا ہوسکتی ہے، حقیقت تو یہ ہے کہ حق تعالیٰ کی تھوڑی سی بھی رضا و خوشنودی پوری جنت اور جنت کی تمام نعمتوں اور سعادتوں سے بڑھ کر ہے چہ جائیکہ وہ رضا و خوشنودی مستقل طور پر اور ہمیشہ کے لئے حاصل ہوجائے، خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا ورضوان من اللہ اکبر لہٰذا ہر صاحب ایمان کو یہی التجا کرنی چاہئے کہ اللہم ارض عنا وارضنا عنک ( اے اللہ! ہم سے راضی ہوجائیے اور ہمیں اپنے سے راضی کیجئے۔
وعن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إن أدنى مقعد أحدكم من الجنة أن يقول له : تمن فيتمنى ويتمنى فيقول له : هل تمنيت ؟ فيقول نعم فيقول له : فإن لك ما تمنيت ومثله معه . رواه مسلم
اور حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا تم میں جو شخص سب سے ادنیٰ درجہ اور کمتر مقام کا جنتی ہوگا اس کا یہ مرتبہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا جو آرزو رکھتے ہو بیان کرو اور جو کچھ چاہتے ہو مانگو۔ وہ اپنی آرزوئیں ظاہر کرے گا اور بار بار ظاہر کرے گا یعنی وہ جنتی بھی خواہش رکھے گا بیان کرنے لگے گا اور جس قدر بھی مانگ سکتا ہوگا مانگے کا) اللہ تعالیٰ ( اس کی آرزوئیں اور خواہش سن کر) فرمائے گا کہ کیا تم اپنی آرزوئیں بیان کرچکے ( اور اپنے دل میں جو کچھ خواہش رکھتے ہو سب ظاہر کرچکے! ) وہ عرض کرے گا کہ ہاں ( میں جو کچھ مانگ سکتا تھا مانگ چکا اور اپنی ایک ایک آرزو بیان کردی )۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا، تم نے جو آرزوئیں بیان کیں اور جو کچھ مانگا نہ صرف وہ بلکہ اسی قدر مزید تمہیں عطا کیا گیا۔ ( مسلم ) وہ چار دریا جن کا سرچشمہ جنت میں ہے
وعنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : سيحان وجيحان والفرات والنيل كل من أنهار الجنة . رواه مسلم
اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا سبحان، جیحان، فرات اور نیل، ان سب دریاوں کا تعلق جنت کی نہروں اور چشموں سے ہے۔ (مسلم )
تشریح
فرات اور نیل تو مشہور دریا ہیں ان کے تعین میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ دریائے فرات، عراق میں اور دریائے نیل مصر میں بہتا ہے۔ لیکن سبحان اور جیحان کے تعین میں اختلاف ہے ایک قول یہ ہے کہ سبحان شام کے دریا کا نام ہے اور جیحان بلخ کا دریا ہے اور بعض حضرات نے لکھا ہے کہ سیحان مدینہ کا دریا ہے، تاہم علماء نے یہ وضاحت کردی ہے کہ یہ جیحان وسیحان ان دریاؤں سے الگ ہیں جن کے نام جیحون اور سیحون ہیں اور جو ترک وبلخ ( وسط ایشیا) کے دریا ہیں۔ علامہ طیبی (رح) نے لکھا ہے کہ یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ جیحان شام کا دریا ہے، جیسا کہ جوہری کا قول ہے، نیز علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ دریائے جیحون خراسان کے علاقہ میں بہتا ہے اور سیحون سندھ کا دریا ہے۔ بہرحال تحقیقی بات یہ ہے کہ جیحان اور سیحان شام کے دریا ہیں جو اس ملک کے قدیم شہر طرطوس اور مصیعہ کے قریب سے گزرتے ہیں اور بحر روم میں آکر گرتے ہیں۔ حدیث کی اس بات کہ ان چاروں دریاؤں کا تعلق جنت کی نہروں اور چشموں سے ہے، کے بارے میں علماء کے مختلف اقوال ہیں۔ زیادہ صحیح قول یہ بیان کیا گیا ہے کہ حدیث کے یہ الفاظ اپنے ظاہری معنی پر محمول ہیں یعنی حقیقت میں ان چاروں نہروں کا مادہ جنت میں ہے، چناچہ مسلم کی ایک روایت میں وضاحت کے ساتھ فرمایا گیا ہے کہ دریائے نیل وفرات جنت سے نکلے ہیں اور بخاری کی روایت یہ ہے کہ سدرۃ المنتہی کی جڑ سے نکلے ہیں اور معالم التنزیل میں یہ روایت نقل کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان چاروں کا سر چشمہ پہاڑوں کو سونپ دیا ہے اور وہاں سے ان کو زمین پر جاری فرمایا ہے ایک قول یہ ہے کہ جنت کی ان چاروں نہروں کو جو وہاں کی تمام نہروں کا سرچشمہ اور اصل ہیں دنیا کے چاروں دریاؤں کے نام کے ساتھ مشہور ونامزد کیا گیا ہے جو اور دریاؤں کی بہ نسبت بہت زیادہ اہمیت، بہت زیادہ شہرت اور پانی کے مٹھاس و دیگر فوائد کے اعتبار سے بہت خصوصی درجہ رکھتے ہیں اور اس کا مقصد اس طرف اشارہ کرنا ہے کہ اس دنیا میں جو کچھ فوائد و منافع حاصل ہیں وہ سب جنت کی نعمتوں اور وہاں کے فوائد و منافع کا نمونہ ہیں۔ ایک اور قول جس کو زیادہ واضح کہا جاسکتا ہے یہ ہے کہ ان سب دریاؤں کا تعلق جنت کی نہروں اور چشموں سے ہے سے مراد یہ ہے کہ ان دریاؤں کا پانی اور پانیوں کی بہ نسبت زیادہ لطیف و شیریں اور اور زیادہ ٹھنڈا و خوشگوار ہے، نیز ان دریاؤں کے پانی سے اتنے زیادہ فوائد اور اتنی زیادہ خصوصیات ہیں کہ جیسے یہ دریا جنت کی نہروں اور چشموں سے نکلے ہوں۔
وعن عتبة بن غزوان قال : ذكر لنا أن الحجر يلقى من شفة جهنم فيهوي فيها سبعين خريفا لا يدرك لها قعرا والله لتملان ولقد ذكر لنا أن ما بين مصراعين من مصاريع الجنة مسيرة أربعين سنة وليأتين عليها يوم وهو كظيظ من الزحام . رواه مسلم
اور حضرت عتبہ بن غزوان کہتے ہیں کہ ہمارے سامنے یہ ذکر کیا گیا ہے ( یعنی آنحضرت ﷺ سے یہ روایت نقل کی گئی) کہ (آپ ﷺ نے فرمایا) اگر دوزخ کے ( اوپری) کنارے سے کوئی پتھر گرایا جائے تو وہ ستر برس تک نیچے لڑھکتا چلا جائے گا اور دوزخ کی تہ تک نہیں پہنچے گا، اللہ کی قسم دوزخ (اتنی گہری اور وسیع ہونے کے باوجود کافروں سے) پوری بھر جائے گی۔ اور ( حضرت عتبہ کہتے ہیں کہ) ہمارے سامنے آنحضرت ﷺ کا یہ ارشاد گرامی بھی ذکر کیا گیا کہ جنت کے کسی بھی ایک درزازے کے دونوں بازؤں کے درمیان چالیس برس کی مسافت کا فاصلہ ہے اور ایک دن ایسا ہوگا کہ جنت اتنی وسعت و کشادگی کے باوجود) لوگوں سے بھری ہوئی ہوگی۔ ( مسلم )
عن أبي هريرة قال : قلت : يا رسول الله مم خلق الخلق ؟ قال : من الماء . قلنا : الجنة ما بناؤها ؟ قال : لبنة من ذهب ولبنة من فضة وملاطها المسك الأذفر وحصباؤها اللؤلؤ والياقوت وتربتها الزعفران من يدخلها ينعم ولا يبأس ويخلد ولا يموت ولا يبلى ثيابهم ولا يفنى شبابهم . رواه أحمد والترمذي والدارمي
حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ! مخلوق کو کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا پانی سے۔ پھر ہم نے پوچھا کہ جنت کس چیز سے بنی ہے یعنی اس کی عمارت پتھر یا اینٹ کی ہے یا مٹی اور یا لکڑی وغیرہ کی؟ فرمایا جنت کی ( تعمیر اینٹوں کی ہے اور اینٹیں بھی اس طرح کی ہیں کہ) ایک اینٹ سونے کی ہے اور ایک اینٹ چاندی کی، اس کا گارا ( یا وہ مصالح جس سے اینٹیں جوڑی جاتی ہیں، تیز خوشبودار خاص مشک کا ہے، اس کی کنکریاں ( رنگ اور چمک دمک میں) موتی اور یاقوت کی طرح ہیں اور اس کی مٹی زعفران ( کی طرح زرد اور خوشبو دار ہے، جو شخص اس ( جنت میں) داخل ہوگا، عیش و عشرت میں رہے گا کبھی کوئی رنج وفکر نہیں دیکھے گا، ہمیشہ زندہ رہے گا مرے گا نہیں، نہ اس کا لباس پرانا اور بوسیدہ ہوگا اور نہ اس کی جوانی فنا ہوگی۔ ( احمد، ترمذی، دارمی )
تشریح
شارحین نے حدیث کے پہلے جزء ( یعنی یہ سوال کہ مخلوق کو کس چیز سے پیدا کیا گیا اور آپ ﷺ کا یہ جواب کہ پانی سے کے ضمن میں لکھا ہے کہ حکماء کا اس بارے میں اختلاف رائے ہے کہ اجسام میں سے جو چیز سب سے پہلا عالم وجود میں آئی ہے وہ کیا ہے؟ اکثر کا کہنا یہ ہے کہ سب سے پہلے پانی کا جو ہر وجود میں آیا، پھر اس جوہر کو کثیف منجمد کر کے زمین پیدا کی گئی اور اسی جوہر کو رقیق ولطیف کر کے آگ ہوا کو پیدا کیا گیا اور آگ کے دھویں سے آسمان وجود میں آیا۔ یہ بات توریت میں آئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک جوہر پیدا کیا اور پھر اس پر ہیبت و جلال کی نظر ڈالی تو اس کے اجزاء پگھل کر پانی بن گئے، اس پانی سے ایک بخار بلند ہوا اور دھوئیں کی طرح اوپر کو جا کر پھیل گیا جس سے آسمان وجود میں آیا، پھر پانی کے اوپر جھاگ ظاہر ہوا اور اس سے زمین پیدا ہوئی، اس کے بعد پہاڑ پیدا کر کے ان کو زمین کا لنگر بنایا گیا ( یعنی پہلے زمین کو قرار نہیں تھا ہلتی ڈولتی تھی پھر پہاڑوں کے ذریعہ ان کو ساکن ومنجد کیا گیا۔ بعض شارحین نے یہ لکھا ہے کہ حدیث میں پانی سے مراد نطفہ (منی) ہے اگر اس مراد کو صحیح مانا جائے تو پھر یہ کہا جائے گا کہ مخلوق سے مراد حیوانات ہیں جیسا کہ قرآن کریم میں فرمایا گیا ہے وجعلنا من الماء کل شیء حی یعنی ہم نے ہر حیوان کو ( خواہ انسان ہو یا غیر انسان) پانی سے پیدا کیا ہے۔ اسی طرح ایک موقع پر یوں فرمایا گیا ہے واللہ خلق کل دابۃ من ماء یعنی اللہ تعالیٰ نے ہر چلنے والے جاندار کو پانی سے پیدا فرمایا ہے رہی یہ بات کہ نطفہ مادہ تخلق کو پانی سے کیوں تعبیر کیا گیا ہے تو اس کی وجہ بالکل ظاہر ہے، پہلی بات یہ ہے کہ وہ مادہ تخلیق پانی ہی کی صورت میں ہوتا ہے دوسرے یہ کہ ہر مخلوق (حیوانات) کی بہت بڑی ضرورت پانی ہی ہے اور ہر حیوان ( خواہ انسان ہو یا غیر انسان) سب سے زیادہ فائدہ پانی ہی سے حاصل کرتا ہے۔
وعنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما في الجنة شجرة إلا وساقها من ذهب . رواه الترمذي
اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جنت میں جو بھی درخت ہے اس کا تنا سونے کا ہے۔ (ترمذی)
تشریح
جنت کے ہر ایک درخت کا تنا سونے کا ہے البتہ ان درختوں کی ٹہنیاں اور شاخیں مختلف قسموں کی ہیں۔ کسی کی سونے کی ہے، کسی کی چاندی کی، کوئی ٹہنی یاقوت و زمرد کی ہے یا موتی وغیرہ کی اور ہر ٹہنی طرح طرح کے شگوفوں سے مرصح ومزین ہے اور اس پر قسم قسم کے میوے اور پھل لگے ہوئے ہیں نیز جنت کے تمام درختوں کے نیچے نہریں رواں ہیں۔