آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان

Mishkaat-al-Masabih · Chapter 179 · 35 hadiths · Page 2 of 2

5743Mishkaat-al-Masabih

آنحضرت ﷺ کے اوصاف حمیدہ :

وعن عائشة رضي الله عنها قالت : لم يكن رسول الله صلى الله عليه و سلم فاحشا ولا متفحشا ولا سخابا في الأسواق ولا يجزي بالسيئة السيئة ولكن يعفو ويصفح . رواه الترمذي

اور حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نہ تو خلقی و طبعی طور پر فحش گو تھے اور نہ قصدا فحش گوئی کرتے تھے (گویا کسی بھی طرح اور کسی بھی حالت میں آپ ﷺ سے فحش گوئی کا صدور نہیں ہوتا تھا) اور نہ بازاروں میں شور مچانے والے تھے (جیسا کہ عام لوگوں کی عادت ہوتی ہے) اور نہ آپ ﷺ برائی کا بدلہ برائی سے لیتے تھے بلکہ (برائی کرنے والے کو دل سے) معاف کردیتے تھے اور ظاہر میں بھی) اس سے عفو و درگذر کا معاملہ کرتے تھے ( اور اس طرح آپ ﷺ حق تعالیٰ کے اس ارشاد پر عمل کرتے تھے (فاعف عنہم واصفح ان اللہ یحب المحسنین) (ترمذی)

5744Mishkaat-al-Masabih

حضور ﷺ میں تواضع وانکساری :

وعن أنس يحدث عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه كان يعود المريض ويتبع الجنازة ويجيب دعوة المملوك ويركب الحمار لقد رأيته يوم خيبر على حمار خطامه ليف . رواه ابن ماجه والبيهقي في شعب الإيمان

اور حضرت انس ؓ نے (ایک موقع پر) نبی کریم ﷺ کے متعلق (بہترین اخلاق و عادات کا ذکر کرتے ہوئے) بیان کیا کہ آپ ﷺ بیمار کی عیادت کرتے، جنازہ کے ساتھ جاتے، مملوک و غلام کی دعوت قبول فرمالیتے اور گدھے پر سوار ہونے میں بھی کوئی تکلف نہیں فرماتے تھے، چناچہ غزوہ خیبر کے دن میں نے آپ ﷺ کو ایک گدھے پر سوار دیکھا جس کی باگ کھجور کے پوست کی تھی۔ اس روایت کو ابن ماجہ نے شعب الایمان میں بیہقی نے نقل کیا ہے۔ تشریح مملوک سے مراد وہ غلام ہے جو اپنے مالک کی اجازت سے آپ ﷺ کی دعوت کرتا تھا، اس سے ثابت ہوا کہ جب آنحضرت ﷺ کسی غلام کی دعوت و ضیافت کو رد کرنا گوارہ نہیں کرتے تھے تو کسی آزادوخود مختار شخص کی دعوت کو تو بدرجہ اولی رد نہیں کرتے ہونگے۔ اس حدیث میں آنحضرت ﷺ کے جن اوصاف حمیدہ کا ذکر کیا گیا ہے وہ سب آپ ﷺ کی کسر نفسی، تواضع، کسی فرق و امتیاز کے بغیر تمام انسانوں سے آپ ﷺ کی محبت و شفقت اور اپنی بڑائی کے اظہار اور غرور وتکبر سے کلیۃ اجتناب پر دلالت کرتے ہیں وقت ضرورت گدھے پر سوار ہونے سے بھی گریز نہ کرنا اور خصوصا غزوہ خیبر کے دن جو شوکت وسطوت کے اظہا رکا دن تھا، گدھے پر سوار ہونا اس بات کی علامت ہے کہ نہ آپ ﷺ میں بادشاہوں اور دنیادار بڑے لوگوں جیسی خوبو تھی اور نہ آپ ﷺ علوئے نفس کے جذبہ سے تکلفات اور ظاہر داری اختیار کرنا گوارہ کرتے تھے۔

5745Mishkaat-al-Masabih

اپنا جوتا خود گانٹھ لیتے تھے۔

وعن عائشة قالت : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يخصف نعله ويخيط ثوبه ويعمل في بيته كما يعمل أحدكم في بيته وقالت : كان بشرا من البشر يفلي ثوبه ويحلب شاته ويخدم نفسه . رواه الترمذي

اور حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ اپنی جوتیاں خود گانٹھ لیتے تھے، اپنا (نیا یا پرانا) کپڑا خود سی لیتے تھے اور اپنے گھر کا کام کاج اسی طرح کرتے تھے جس طرح تم میں سے کوئی شخص اپنے گھر کا کام کاج کرتا ہے۔ اور حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے مزید فرمایا آنحضرت ﷺ ایک ایسے ہی انسان تھے جیسے دوسرے انسان ہوتے ہیں آپ ﷺ اپنے کپڑے کی جوئیں خود ہی دیکھتے تھے، اپنی بکری کا دودھ خود دوہتے تھے اور اپنی خدمت آپ ﷺ کرلیتے تھے (یعنی اپنا ذاتی کام خود ہی کرلیا کرتے تھے کسی دوسرے سے کرنے کے لئے کم ہی کہا کرتے تھے۔ (ترمذی) تشریح اپنے کپڑے کی جوئیں خود ہی دیکھتے تھے۔ سے کیا مراد ہے کہ وقتا فوقتا اپنے کپڑوں کو خود دیکھا کرتے تھے کہ کہیں ان میں جوئیں تو نہیں پڑگئیں ہیں۔ پس یہ بات اس روایت کے منافی نہیں ہے جس میں آیا ہے کہ جوئیں آپ ﷺ کو پریشان نہیں کرتی تھیں! نیز مواہب لدنیہ میں ہے کہ آپ ﷺ کے کپڑوں یا بدن مبارک کے کسی حصہ میں کبھی کوئی جوں نہیں پڑی۔ اسی طرح امام فخر الدین رازی نے نقل کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ ایسے ہی ایک انسان تھے۔۔۔۔ الخ۔۔ اس جملہ کے بارے میں طیبی کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ نے یہ بات بطور تمہید فرمائی جس کا مقصد آگے کہی جانے والی بات کے پس منظر کو ظاہر کرنا تھا۔ دراصل حضرت عائشہ نے جب دیکھا اور سنا کہ کفار و مشرکین یہ کہتے ہیں کہ اگر محمد ﷺ اللہ کے نبی اور رسول ہوتے تو وہ اپنا رہن سہن اور طور طریقہ عام لوگوں کی طرح نہ رکھتے گویا ان کفار کے نزدیک اللہ کے رسول کو اس بادشاہ اور سردار کی طرح اپنی زندگی گذارنی چاہے تھی جو عام لوگوں کے رہن سہن اور طور طریقوں سے اجتناب کرتا ہے شان و شوکت کے ساتھ رہتا ہے، اپنی بڑائی اور دبدبہ کو ظاہر کرتا ہے۔ کفار کی اس بات کو قرآن نے بھی ان الفاظ میں نقل کیا ہے۔ مال ہذا الرسول یا کل الطعام ویمشی فی الاسواق۔ اس رسول کو کیا ہوا کہ وہ عام لوگوں کی طرح) کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے۔ پس حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے کفار کے اس خیال اور قول کی تردید میں فرمایا کہ آنحضرت ﷺ اللہ کی مخلوقات ہی میں سے ایک مخلوق تھے اور اسی طرح ایک انسان تھے جیسے اولاد آدم میں سے دوسرے انسان ہیں۔ اگر دوسرے انسانوں اور آپ ﷺ میں کوئی فرق ہے تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو اپنی رسالت ونبوت کے منصب عظمی سے سرفراز فرمایا آپ ﷺ کو انسانیت کے اعلیٰ ترین قدروں سے مزین کیا اور آپ ﷺ کو اخلاق واطوار کی وہ خوبیاں عطا فرمائیں جن سے آپ ﷺ کی ذات آدمیت کے شرف و امتیاز کا مظہر اور نمونہ قرار پائی، جیسا کہ قرآن کریم میں بھی فرمایا گیا ہے قل انما انا بشر مثلکم یؤ حی الی۔ آپ کہہ دیجئے کہ میں تمہارے جیسا ایک انسان ہوں بس فرق یہ ہے کہ) مجھ پر وحی آتی ہے۔ چنانچہ ذاتی عظمت اور اخلاق انسانی کی بلندی کی اس سے بڑی مثال اور کوئی نہیں ہوسکتی کہ آپ ﷺ شرف و مرتبت کے سب سے اعلی مقام پر فائز ہونے کے باوجود ایک عام انسان جیسی زندگی گذارتے تھے اور اللہ عام بندوں کی طرح نہایت سادگی اور جفاکشی کے ساتھ رہتے تھے عام لوگوں کے ساتھ کے ساتھ خلط ملط، ان جیسا رہن سہن، ان جیسی محنت ومشقت اور ان کے ساتھ ہمدردی وغمگساری بھی تھی کہ تواضع و انکساری کو انسانی کردار کی بلندی سمجھا جائے اور اللہ تعالیٰ کے پیغام اور اس کی ہدایت کو اس کی مخلوق تک پہنچانے کی ذمہ داری کو ایک ایسا منصب جانا جائے، جس کے فرائض کی انجام دہی عوامی رابطہ کے بغیر ممکن نہیں اور عوامی رابطہ اسی وقت حاصل ہوسکتا ہے جب اپنے نفس کو خود بینی وخود پسندی کے جال سے نکال کر اور ظاہر شان و شوکت سے اجتناب کرکے خود کو ایک عام انسان کی صورت میں پیش کیا جائے۔

5746Mishkaat-al-Masabih

آنحضرت ﷺ کا عوامی تعلق :

وعن خارجة بن زيد بن ثابت قال : دخل نفر على زيد بن ثابت فقالوا له : حدثنا أحاديث رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : كنت جاره فكان إذا نزل الوحي بعث إلي فكتبته له فكان إذا ذكرنا الدنيا ذكرها معنا وإذا ذكرنا الآخرة ذكرها معنا وإذا ذكرنا الطعام ذكره معنا فكل هذا أحدثكم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم . رواه الترمذي

اور حضرت خارجہ ابن زید ابن ثابت کہتے ہیں کہ (ایک دن) کچھ لوگوں کی جماعت (میرے والد محترم، حضرت زید ابن ثابت کے پاس آئی اور ان سے کہا کہ ہمارے سامنے رسول اللہ ﷺ کی (وہ) حدیثیں بیان کیجئے ( جو آنحضرت ﷺ کی خوش خلقی اور عام لوگوں کے ساتھ آپ ﷺ کے بہترین اور خوشگوار تعلقات کو ظاہر کریں) حضرت زید نے کہا! میں آنحضرت ﷺ کے بالکل پڑوس میں رہا کرتا تھا جب آپ ﷺ پر وحی نازل ہوتی تو آپ ﷺ ذرا مجھے بلا بھیجتے میں آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتا اور آپ ﷺ کے حکم سے وحی لکھتا آنحضرت ﷺ کی عادت مبارکہ یہ تھی کہ جب ہم دنیا ( کی خرابیوں یا دنیا کے مزرعۃ الآخر ۃ ہونے کے اعتبار سے اس کی خوبیوں) کا ذکر کرتے تو آنحضرت ﷺ بھی ہمارے ساتھ اس دنیاوی ذکر میں شامل ہوجاتے، جب ہم آخرت کا ذکر کرتے تو آپ ﷺ بھی ہمارے ساتھ آخرت کا ذکر کرتے اور جب ہم کھانے پینے کا ذکر کرتے تو آپ ﷺ بھی ہمارے ساتھ اس کا ذکر کرتے۔ یہ تمام باتیں میں تم لوگوں کو رسول کریم ﷺ کی بتارہا ہوں۔ (ترمذی) تشریح میں آنحضرت ﷺ کے بالکل پڑوس میں رہا کرتا تھا۔۔۔۔۔ الخ۔ اس جملہ کے ذریعہ حضرت زید ؓ نے اس طرف اشارہ کیا کہ مجھے روحانی اور جسمانی دونوں طور پر بہت زیادہ قربت حاصل تھی، اس اعتبار سے آنحضرت ﷺ کی خانگی اور سماجی زندگی کی تفصیل اور آپ ﷺ کے روز مرہ کے معاملات و حالات کا علم دوسروں کی بہ نسبت مجھے بہت زیادہ ہے۔ حدیث سے معلوم ہوا کہ آنحضرت ﷺ اور عوام کے درمیان بڑا گہرا سماجی رابطہ تھا اور آپ ﷺ اپنے صحابہ کرام اور لوگوں کے ساتھ نہایت خوشگوار اور بےتکلفانہ معاشرتی تعلقات رکھتے تھے آپ ﷺ ان کی سماجی گفت و شنید علمی بحث و مباحثہ، دینی باتوں کے ذکر و اذکار اور ان دنیاوی معاملات واخبار میں مساوی طور پر حصہ لیا کرتے تھے جن کا تعلق معاشرہ کے مختلف احوال و کوائف، واقعات وحادثات اور لوگوں کے حقوق و عادات سے ہوتا تھا لیکن یہ گفت و شنید اور ذکر و اذکار اور اس میں آپ ﷺ کی شرکت کا تعلق صرف ان باتوں سے ہوتا تھا جو مذموم و مکروہ باتوں کا تعلق ہے تو نہ یہ ہوسکتا تھا کہ آنحضرت ﷺ کی مجلس میں اور آپ ﷺ کے سامنے ان کا ذکر آئے اور نہ اس ذکر و اذکار میں آپ ﷺ کی شرکت کا تصور کیا جاسکتا ہے پس یہ حدیث اس روایت کے منافی نہیں ہے کہ انہ ﷺ کان یخزن لسانہ الا فیما یعینہ وان مجلسہ علم۔ آنحضرت ﷺ اپنی زبان کو محفوظ (بند) رکھتے تھے علاوہ اس بات کے جو کام کی اور ضروری ہو، یقینا آپ ﷺ کی مجلس خالص علمی مجلس ہوتی تھی۔ اور اس میں کوئی شک نہیں کہ بسا اوقات دنیاوی معاملات کے ذکرواذکار سے بہت سے علمی، معاشرتی معلوماتی اور ادبی فائدے بھی حاصل ہوتے ہیں، لہٰذا جس مجلس میں کسی بھی ایسے دنیاوی امور سے متعلق گفتگو ہو جن سے مذکورہ فائدے حاصل ہوتے ہوں تو اس مجلس کو علمی مجلس میں شمار کیا جائے گا اور اگر کسی دنیاوی معاملہ سے متعلق غیر مذہبی بات چیت کے بارے میں یہ بھی فرض کرلیا جائے کہ وہ مذکورہ فائدوں سے خالی رہی ہو اس صورت میں اس بات چیت اور اس میں آنحضرت ﷺ کی شرکت کو بیان جواز پر محمول کیا جائے جس کا مطلب یہ ہوگا کہ آنحضرت ﷺ اپنے صحابہ کرام سے اکثر مباح امور میں بھی بات کرلیا کرتے تھے تاکہ وہ (صحابہ) اس کا جواز جان لیں اور بیان جواز کے لئے اس طرح کی بات چیت میں حصہ لینا آنحضرت ﷺ پر واجب بھی تھا یہ تمام باتیں تم لوگوں کو رسول کریم ﷺ کی بتارہا ہوں، حضرت زید نے یہ بات حدیث کے صحیح اور مستند ہونے کو اہمیت کے ساتھ ظاہر کرنے اور روایت حدیث کی شرائط کو پورا کرنے کے لئے کہی،

5747Mishkaat-al-Masabih

مصافحہ ومواجہہ اور مجلس میں نشست کا طریقہ :

وعن أنس أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان إذا صافح الرجل لم ينزع يده من يده حتى يكون هو الذي ينزع يده ولا يصرف وجهه عن وجهه حتى يكون هو الذي يصرف وجهه عن وجهه ولم ير مقدما ركبتيه بين يدي جليس له . رواه الترمذي

اور حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ جب کسی شخص سے مصافحہ ( اور ملاقات) کرتے تو اپنا ہاتھ اس وقت تک علیحدہ نہ کرتے جب تک کہ وہی شخص اپنا علیحدہ نہ کرلیتا اور آپ ﷺ اپناچہرہ مبارک اس کے چہرہ کے سامنے سے اس وقت تک نہیں ہٹاتے تھے جب تک کہ وہی شخص اپنا چہرہ آپ ﷺ کے چہرہ مبارک کے سامنے سے نہ ہٹا لیتا، نیز آنحضرت ﷺ کو کبھی کسی نے اس حال میں نہیں دیکھا کہ آپ ﷺ اپنے گھٹنے اپنے ہم نشین کے آگے کرکے بیٹھے ہوں۔ (ترمذی ) تشریح آنحضرت ﷺ کے یہ دونوں وصف کہ جب تک مصافحہ کرنے والا خود اپنا ہاتھ علیحدہ نہ کرلیتا آپ ﷺ اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ سے علیحدہ نہ کرتے اور جب تک کہ وہ شخص خود آپ ﷺ کے سامنے سے نہ ہٹ جاتا آپ ﷺ اس کی جانب متوجہ رہتے اور اس کی طرف سے اپنا روئے مبارک نہ ہٹاتے، آپ ﷺ کے علوئے اخلاق، نہایت تحمل وبردباری اور تواضع و انکساری پر دلالت کرتے ہیں۔ آپ ﷺ کے نزدیک یہ بات بھی آداب مجلس کے خلاف تھی کہ اپنے کو نمایاں، برتر اور بڑا ظاہر کرنے کے لئے مجلس میں اپنے برابر بیٹھے ہوئے شخص سے آگے ہو کر بیٹھیں، چناچہ جب آپ ﷺ کسی مجلس میں تشریف فرما ہوتے تو سب کے ساتھ ایک صف میں ہو کر برابر بیٹھتے اور اپنے گھٹنے اور زانو آگے بڑھا کر نہ بیٹھتے جیسے گھمنڈی لوگوں کی عادت ہوتی ہے بعض شارحین نے یہ لکھا ہے کہ اس جملہ سے یہ مراد ہے کہ آپ ﷺ آداب مجلس کی رعایت، مہذب طریقہ پر عمل اور اہل مجلس کی تعظیم کے پیش نظر لوگوں کے سامنے اپنے گھٹنے کھڑے کر کے نہیں بیٹھتے تھے۔ اور بعض حضرات نے یہ لکھا ہے کہ رکبتین سے مراد دونوں پاؤں ہیں اور ان کے آگے بڑھانے سے مراد مجلس میں پاؤں پھیلا کر بیٹھنا ہے، اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ آپ ﷺ آداب مجلس کا لحاظ کرتے ہوئے کبھی کسی کے سامنے پاؤں پھیلا کر نہیں بیٹھتے تھے۔ بہرحال اس حدیث میں امت کے لئے یہ تعلیم ہے کہ آنحضرت ﷺ کے طریقہ پر عمل کر کے اپنے ہر مسلمان بھائی کی خاطر داری اور تعظیم و تکریم کرنی چاہیے خواہ وہ مرتبہ میں اپنے سے چھوٹا ہی کیوں نہ ہو۔

5748Mishkaat-al-Masabih

اپنی ذات کے لئے کچھ بچا کر نہ رکھتے تھے :

وعنه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان لا يدخر شيئا لغد . رواه الترمذي

مطلب یہ کہ اللہ تعالیٰ کی ذات پر جو کامل اعتماد اور توکل تھا اور اس کے خزانہ رحمت پر جو پورا بھروسہ تھا اس کے تحت آپ ﷺ نے کبھی کوئی چیز بچا کر اور جمع کر کے نہیں رکھی کہ کل کام آئے گی۔ لیکن یہ بات صرف آنحضرت ﷺ کی ذات خاص کے لئے مخصوص تھی کہ آپ ﷺ اپنی ذات کے لئے ایسا نہیں کرتے تھے، ورنہ یہ ثابت ہے کہ آپ ﷺ اکثر اہل و عیال کی خاطر ان کی ایک سال کی اصل ضروریات کے بقدر چیزیں جمع کرکے رکھ دیتے تھے اور اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ ﷺ کو ان کے بارے میں یہ خدشہ رہتا تھا کہ شاید یہ لوگ احتیاج کے وقت صبروتحمل نہ کرسکیں اور انسانی جبلت کے تحت اپنی ضروریات کی طرف سے فکر مند رہیں۔

5749Mishkaat-al-Masabih

آنحضرت ﷺ کی کم گوئی کا ذکر :

وعن جابر بن سمرة قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم طويل الصمت . رواه في شرح السنة

اور حضرت جابر ابن سمرۃ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ زیادہ تر خاموشی اختیار کئے رہتے تھے۔ اس روایت کو بغوی نے شرح السنۃ میں نقل کیا ہے۔ تشریح مطلب یہ کہ کم گوئی آپ ﷺ کا وصف تھا، اگر کوئی ضروری بات کرنی ہوتی تو بولتے ورنہ خاموش رہا کرتے تھے بخاری ومسلم اور دوسرے محدثین نے ایک روایت نقل کی ہے کہ من کان یومن باللہ والیوم الاخرۃ فلیقل خیرہ ولیسکت۔ جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہو اس کو چاہیے کہ یا تو اچھی بات زبان سے نکالے ورنہ خاموش رہے۔ اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ فرمایا کرتے تھے۔ لیتی کنت اخرس الاعن ذکر اللہ کاش میں گونگا ہوتا، بس ذکر اللہ کی حد تک گویائی حاصل ہوتی۔

5750Mishkaat-al-Masabih

حضور ﷺ کی گفتگو کا انداز :

وعن جابر قال : كان في كلام رسول الله صلى الله عليه و سلم ترتيل وترسيل . رواه أبو داود وعن عائشة قالت : ما كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يسرد سردكم هذا ولكنه كان يتكلم بكلام بينه فصل يحفظه من جلس إليه . رواه الترمذي

اور حضرت جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کے الفاظ کی ادائیگی میں ترتیل اور ترسیل کا لحاظ ہوتا تھا (ابوداؤد) تشریح ترتیل اور ترسیل دونوں کے معنی ایک ہی ہیں یعنی کسی چیز کو پڑھتے اور بولتے وقت ایک ایک حرف کو علیحدہ علیحدہ کر کے خوب صاف صاف پڑھنا اور بولنا۔ بعض حضرات نے ان دونوں کے معنی میں یہ معمولی فرق بیان کیا ہے کہ ترتیل کے معنی ہیں ہر ایک حرف کو برابر نکالنا اور ترسیل کے معنی ہیں بولنے میں جلدی اور تیزی نہ کرنا بلکہ ٹھہر ٹھہر کر بات کرنا بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس حدیث میں ترتیل کا تعلق آنحضرت ﷺ کی تلاوت قرآن کریم سے ہے اور ترسیل کا تعلق آپ کی عام بات چیت سے ہے۔ اور حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے بیان کیا رسول کریم ﷺ کی گفتگو اس طرح مسلسل اور بےتکان نہیں ہوتی تھی جس طرح تم لوگ مسلسل اور بےتکان بولتے ہو، جب آپ ﷺ گفتگو فرماتے تو ایک ایک حرف اور جملہ کو اس طرح ٹھہر ٹھہر کر ادا فرماتے کہ جو شخص آپ ﷺ کے پاس بیٹھا ہوا ہوتا (پوری گفتگوکو) اچھی طرح یاد کرلیتا۔ (ترمذی )

5751Mishkaat-al-Masabih

مبارک لبوں پر مسکراہٹ رہتی تھی :

وعن عبد الله بن الحارث بن جزء قال : ما رأيت أحدا أكثر تبسما من رسول الله صلى الله عليه و سلم رواه الترمذي

اور حضرت عبداللہ ابن حارث ابن جزء کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے زیادہ کسی کو مسکراتے نہیں دیکھا (ترمذی)

5752Mishkaat-al-Masabih

وحی کا انتظار :

وعن عبد الله بن سلام قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا جلس يتحدث يكثر أن يرفع طرفه إلى السماء . رواه أبو داود

اور حضرت عبداللہ بن سلام ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ جب باتیں کرنے بیٹھتے تو آپ ﷺ کی نگاہ آسمان کی طرف اٹھتی رہتی تھی (ابوداؤد) تشریح یعنی آپ ﷺ لوگوں سے گفتگو کے دوران بھی بار بار نگاہ اٹھا کر آسمان کی طرف دیکھا کرتے تھے اور یہ آپ ﷺ کے اس انتظار کی کیفیت کا اظہار ہوتا جو حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کے اترنے اور وحی آنے کے سلسلہ میں رہتا تھا۔

5753Mishkaat-al-Masabih

اہل وعیال کے تئیں شفقت ومحبت :

عن عمرو بن سعيد عن أنس قال : ما رأيت أحدا كان أرحم بالعيال من رسول الله صلى الله عليه و سلم كان إبراهيم ابنه مسترضعا في عوالي المدينة فكان ينطلق ونحن معه فيدخل البيت وإنه ليدخن وكان ظئره قينا فيأخذه فيقبله ثم يرجع . قال عمرو : فلما توفي إبراهيم قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن إبراهيم ابني وإنه مات في الثدي وإن له لظئرين تكملان رضاعه في الجنة . رواه مسلم

اور حضرت عمرو ابن سعید حضرت انس ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا میں نے رسول کریم ﷺ سے زیادہ کسی کو اپنے اہل و عیال پر مہربان اور شفیق نہیں دیکھا۔ آنحضرت ﷺ کے صاحبزادے ابراہیم (جوماریہ قبطیہ کے بطن سے تھے) بالائی مدینہ ( کے ایک محلہ میں ایک دایہ یعنی دودھ پلانے والی کے یہاں) دودھ پینے کے لئے رکھے گئے تھے، آپ ﷺ اکثر (اپنے بیٹے کو دیکھنے اور ان کی خیریت معلوم کرنے کے لئے) اس محلہ میں جایا کرتے تھے ہم کبھی آپ ﷺ کے ساتھ ہوتے تھے، آپ ﷺ وہاں پہنچ کر (دایہ کے) گھر میں تشریف لے جاتے تھے جہاں دھواں گھٹا ہوتا تھا کیونکہ دایہ کا شوہر لوہار تھا اور ان کی بھٹی کا دھواں گھر میں چاروں طرف بھرا رہتا تھا مگر آپ ﷺ بیٹے کی محبت میں اسی دھوئیں بھرے گھر میں چلے جاتے) پھر ابراہیم کو گود میں لیتے، پیار کرتے اور (حال چال معلوم کرکے) اپنے گھر واپس آجاتے۔ حضرت عمرو نے ( حضرت انس ؓ سے نقل کرکے) بیان کیا کہ جب ابراہیم ؓ کا انتقال ہوا تو رسول کریم ﷺ نے فرمایا ابراہیم میرا بیٹا ہے وہ چھاتی میں یعنی شیرخوارگی کی حالت میں اللہ کو پیارا ہوا ہے، اس کے لئے دو دایہ متعین کی گئی ہیں جو جنت میں اس کی مدت شیر خوراگی کو پورا کررہی ہیں۔ (مسلم) تشریح ظئر کے معنی دایہ اور انا (کسی بچہ کو دودھ پلانے والی) کے ہیں اور انا کے خاوند کو بھی ظئر کہتے ہیں جس کو اردو میں تگایا اتگہ کہا جاتا ہے۔ عرب کے قدیم دستور کے مطابق آنحضرت ﷺ کے صاحبزادے ابراہیم کو، دودھ پلانے کے لئے جن خاتون کی سپردگی میں دیا گیا تھا ان کا نام ام سیف تھا اور ان کے شوہر کا نام ابویوسف تھا جو پیشہ کے اعتبار سے لوہار تھے ابراہیم کا انتقال ہوا تو مدت شیرخوارگی ہی میں ہوگیا تھا، ان کی عمر سولہ مہینے یا سترہ مہینے کی تھی! جیسا کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا آنحضرت ﷺ کی برکت اور صاحبزادہ رسول ہونے کی نسبت سے اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ درجہ عطا کیا کہ نہ صرف بعد وفات ان کو فورا جنت میں پہنچا دیا گیا بلکہ وفات پاتے ہی ان کے لئے جنت میں دو اناؤں کا بھی انتظام کیا گیا جن کے سپرد یہ خدمت کی گئی کہ وہ ابراہیم ؓ کو ان کی شیرخوارگی کی مدت (دو سال) پورے ہونے تک دودھ پلائیں۔

5754Mishkaat-al-Masabih

آنحضرت ﷺ کا حسن اخلاق اور ایک یہودی :

وعن علي أن يهوديا يقال له : فلان حبر كان له على رسول الله صلى الله عليه و سلم في دنانير فتقاضى النبي صلى الله عليه و سلم فقال له : يا يهودي ما عندي ما أعطيك . قال : فإني لا أفارقك يا محمد حتى تعطيني . فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا أجلس معك فجلس معه فصلى رسول الله صلى الله عليه و سلم الظهر والعصر والمغرب والعشاء الآخرة والغداة وكان أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم يتهددونه ويتوعدونه ففطن رسول الله صلى الله عليه و سلم ما الذي يصنعون به . فقالوا : يا رسول الله يهودي يحبسك فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : منعني ربي أن أظلم معاهدا وغيره فلما ترجل النهار قال اليهودي : أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أنك رسول الله وشطر مالي في سبيل الله أما والله ما فعلت بك الذي فعلت بك إلا لأنظر إلى نعتك في التوراة : محمد بن عبد الله مولده بمكة ومهاجره بطيبة وملكه بالشام ليس بفظ ولا غليظ ولا سخاب في الأسواق ولا متزي بالفحش ولا قول الخنا أشهد أن لا إله إلا الله وأنك رسول الله وهذا مالي فاحكم فيه بما أراك الله وكان اليهودي كثير المال . رواه البيهقي في دلائل النبوة

حضرت علی کرم وجہہ راوی ہیں کہ (مدینہ میں) فلاں نام کا ایک یہودی عالم تھا اس کے کچھ دینار نبی کریم ﷺ پر چاہئیں تھے (ایک دن) اس یہودی عالم نے آکر نبی کریم ﷺ سے ان دیناروں کا تقاضا کیا، آپ ﷺ نے اس سے فرمایا کہ، اے یہودی! تمہیں دینے کے لئے اس وقت میرے پاس کوئی چیز نہیں ہے (یعنی نہ تو میرے پاس دینار ہیں کہ تمہارا قرض چکا دوں اور نہ کوئی ایسی چیز ہے جوان دیناروں کے بدلہ میں تمہیں دے کر تمہارا مطالبہ بےباق کردوں) یہودی نے کہا محمد ﷺ میں اس وقت تک تمہارے پاس سے نہیں ہٹوں گا جب تک تم میرا قرض ادا نہیں کر دوگے۔ رسول کریم ﷺ نے جواب دیا، (اچھا بھائی اگر یہی بات ہے کہ جب تک تم نہیں کہو گے تمہارے سامنے سے نہیں ہٹوں گا) اور (یہ فرما کر) آپ ﷺ اس کے پاس بیٹھ گئے اور اسی جگہ (یہودی کے سامنے) رسول کریم ﷺ نے ظہر عصر کی مغرب کی عشاء کی اور پھر (اگلی صبح) فجر کی نماز پڑھی، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین (یہ صورت حال دیکھ کر سخت طیش میں آرہے تھے اور بار بار) اس یہودی کو ڈرا دھمکا رہے تھے ( اور کہہ رہے تھے کہ اگر تو اپنی گستاخی سے باز نہ آیا اور آنحضرت ﷺ کو اس طرح پابند بنائے رکھا تو مجبوراً ہم تجھے یہاں سے اٹھا کر پھینک دیں گے یا قتل کر ڈالیں گے) لیکن جب رسول کریم ﷺ نے یہ دیکھا کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اس یہودی کو ڈرا دھمکا رہے ہیں تو آپ ﷺ نے ان کو (سختی سے) منع فرمایا (یا غضبناک نگاہوں سے ان کی طرف دیکھ کر گویا واضح کیا کہ تمہارا یہ عمل مجھے ہرگز پسند نہیں ہے) صحابہ کرام نے (آنحضرت ﷺ کی ناگواری دیکھ کر معذرت کے انداز میں) عرض کیا کہ رسول کریم ﷺ یہ ایک یہودی ہو کر آپ ﷺ کو پابند بنائے ہوئے ہیں اور یہاں بیٹھے رہنے مجبور کررہا ہے (ہم اس گستاخانہ حرکت کو کیسے برداشت کریں؟ ) رسول کریم ﷺ نے فرمایا (کیا تمہیں نہیں معلوم کہ) اللہ تعالیٰ نے مجھے منع کیا ہے کہ میں اس شخص پر ظلم کروں جس سے عہد کیا گیا ہو یا وہ کوئی بھی ہو۔ جب دن نکلا تو وہ یہودی (آنحضرت ﷺ کا کردار و اخلاق دیکھ کر بےساختہ) بول اٹھا! میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور گواہی دیتا ہوں کہ یقینًا آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں (پھر اس نے کہا کہ یا رسول! ) میں (قبول اسلام کی توفیق ملنے کے شکرانہ اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اور زیادہ اجروانعام کی امید میں اپنے مال وزرکا آدھا) حصہ اللہ کی راہ میں صدقہ کرتا ہوں۔ (آپ ﷺ اور یہاں موجود سارے صحابہ کرام) جان لیں کہ اللہ کی قسم میں نے اس وقت آپ ﷺ کے ساتھ جو رویہ اختیار کیا اس کا سبب اس کے علاوہ کچھ نہیں تھا کہ میں آپ ﷺ میں ان اوصاف کو آزمانا چاہتا تھا جس کا ذکر تورات میں موجود ہے (اور تورات میں وہ اوصاف اس طرح مذکور ہیں) کہ ان کا اسم گرامی محمد ﷺ ہوگا عبداللہ کے بیٹے ہوں گے، ان کی پیدائش مکہ میں ہوگی وہ مدینہ طیبہ کی طرف ہجرت کریں گے، ان کی مملکت کی سرحدیں ملک شام (اور اس کے گردو نواح) تک پھیلی ہوں گی، وہ نہ بد زبان ہوں گے نہ سنگدل نہ بازاروں میں شورمچانے والے ہوں گے، نہ فحش کی وضع اختیار کرنے والے اور نہ بیہودہ بات بکنے والے ہوں گے اس نے توراۃ میں مذکور یہ باتیں سنانے کے بعد ایک مرتبہ پھر کلمہ شہادت پڑھا میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ یقینًا آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ (یا رسول اللہ ﷺ! ) یہ میرا مال حاضر ہے آپ ﷺ اللہ کے حکم کی روشنی میں اس کے متعلق جو مناسب سمجھیں فیصلہ فرمائیں۔ (راوی کا بیان ہے کہ) وہ یہودی بہت مالدار تھا ( اور اللہ نے اس کے مال ساتھ اس کا حال و مال بھی اچھا کیا) اس روایت کو بیہقی نے دلائل النبوۃ میں نقل کیا ہے۔ تشریح اور پھر فجر کی نماز پڑھی۔ سے معلوم ہوا کہ آپ ﷺ نے تمام دن ایک ہی جگہ بیٹھے ہوئے گذار دیا اور پوری رات اسی طرح یہودی کے ساتھ بیٹھے رہے، نہ سوئے نہ آرام کیا۔ بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ مسجد نبوی کے اندر پیش آیا تھا لیکن ایک احتمال یہ بھی ہے کہ آپ ﷺ کسی دوسری جگہ تھے اور وہیں وہ یہودی آگیا، اسی جگہ (خواہ مکان ہو یا کوئی کھلی ہوئی جگہ) آنحضرت ﷺ اس یہودی کے ساتھ تمام دن اور رات بیٹھے رہ گئے۔ ……۔۔ یا وہ کوئی بھی ہو یہ تخصیص کے بعد تعمیم ہے، یعنی آپ ﷺ نے پہلے تو خصوصی طور پر معاہد ( جس سے عہد کیا گیا ہو) کا ذکر کیا کہ یہ یہودی ان دمیوں میں سے ہے جن کو ہم نے اپنی پناہ اور اپنی حفاظت میں رکھنے کا عہد دیا ہے اگر میں اس کا قرض واپس کئے بغیر اس سے الگ ہوجاؤں اور اس کے پاس بیٹھنے سے انکار کردوں تو یہ میری طرف سے اس پر ظلم ہوگا اور ظاہر ہے کہ کسی معاہد پر ظلم کرنے سے اللہ تعالیٰ نے مجھ کو منع کیا ہے، اس کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا کہ معاہد ہی کیا مجھے تو کسی بھی شخص پر ظلم کرنے سے منع کیا گیا ہے خواہ وہ معاہد ہو یا غیر معاہد، مسلم ہو یا غیر مسلم۔ پس اس موقع پر آپ ﷺ نے تعمیم کے بعد تخصیص کے بجائے تخصیص کے بعد تمیم کا اسلوب اس لئے اختیار فرمایا کہ یہ موقع اسی اسلوب کا متقاضی تھا، یا آپ ﷺ نے اس بات کو پیش نظر رکھا کہ اگر دنیا میں کسی مسلمان کی حق تلفی ہو یا اس کے ساتھ ظلم و زیادتی کا معاملہ ہوجائے تو قیامت کے دن اس مسلمان کو تو حق مارنے والے یا ظلم و زیادتی کرنے والے مسلمان کی نیکیاں دے کر راضی کرنا ممکن ہوگا لیکن غیر مسلم ذمی (معاہد) کو اس کا حق مارنے والے یا اس ظلم و زیادتی کرنے والے مسلمان کی نیکیاں دے کر بھی راضی کرنا ممکن نہیں ہوگا کیونکہ نہ تو کسی مسلمان کی نیکیاں اس کو دلوائی جاسکتی ہیں اور نہ وہ نیکیاں اس کے کچھ کام ہی آسکیں گی، اس اعتبار سے قیامت کے دن معاہد کی طرف سے کسی مسلمان کے خلاف ظلم کی فریاد اور اپنے حق کی چارہ جوئی زیادہ سخت مرحلہ ہوگا لہٰذا آنحضرت ﷺ نے اسی اہمیت کو ظاہر کرنے کے لئے پہلے خاص طور پر معاہد کا ذکر کیا اور اس کے بعد عمومی طور پر ہر ایک کا ذکر کیا۔ اس موقع پر ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب آنحضرت ﷺ اس وقت اس یہودی کا قرض ادا کرنے سے اس درجہ معذور تھے کہ یہودی کی طرف سے عائد کردہ اتنی سخت پابندی آپ ﷺ کو برداشت کرنا پڑی تو کیا وہاں موجود صحابہ کرام اس قرض کی ادائیگی پر قادر نہیں تھے؟، اس کا جواب یہ ہے کہ اول تو یہی بات رہی ہوگی کہ وہ صحابہ کرام بھی آنحضرت ﷺ کے اس قرض کی ادائیگی پر اس وقت قادر نہیں تھے، دوسرے یہ کہ اس یہودی کا جو اصل مقصد تھا یعنی اخلاق و کردار اور ان اوصاف کو آزمانا جن کا ذکر تورات میں اس نے پایا تھا، اس کے پیش نظر وہ صحابہ کرام کی طرف سے اس قرض کی ادائیگی پر راضی نہیں ہوا ہوگا۔ یہ میرا مال حاضر ہے اس نے یہ جملہ مال کی طرف یا اس جگہ کی طرف جہاں اس کا مال تھا، اشارہ کرکے کہا اور پھر اس نے آنحضرت ﷺ کو مختیار بنادیا کہ آپ ﷺ اس مال کو اللہ کی رضا وخوشنوی اور دین وملت کے مفاد میں جس طرح خرچ کرنا مناسب سمجھیں خرچ کریں۔ بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہاں اس کی مراد اپنا کل مال تھا پہلے تو اس نے اپنے کل مال کا آدھا حصہ اللہ کی راہ میں پیش کرنے کا اعلان کیا مگر جب ایمان کا نور اس کے دل میں اچھی طرح گھر کر گیا اور اللہ و رسول ﷺ کی محبت اس پر غالب آگئی تو اس نے نہ صرف کل مال اللہ کی راہ میں دے دینے کا بلکہ اپنی جان تک کو پیش کرنے کا ارادہ کرلیا۔

5755Mishkaat-al-Masabih

غریب ولاچار لوگوں کے ساتھ حسن سلوک :

وعن عبد الله بن أبي أوفى قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يكثر الذكر ويقل اللغو ويطيل الصلاة ويقصر الخطبة ولا يأنف أن يمشي مع الأرملة والمسكين فيقضي الحاجة . رواه النسائي والدارمي

اور حضرت عبداللہ ابن اوفی ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ ذکر میں زیادہ مشغول رہتے، لغو (فضول) باتیں بہت کم کرتے، نماز کو طویل اور خطبہ کو مختصر کرتے اور بیوہ و مسکین کے ساتھ چلنے میں کوئی عار محسوس نہ فرماتے اور ان کا کام کردیتے تھے۔ (نسائی ودارمی) تشریح ذکر سے مراد اللہ تعالیٰ کا ذکر اور ہر وہ چیز ہے جو ذکر اللہ سے تعلق رکھتی ہے اور حقیقت یہ ہے کہ زیادہ، یا مختلف نوعیتوں سے ہر وقت اور ہر لمحہ ہی آپ ﷺ ذکر اللہ میں مشغول رہتے تھے۔ لغو (فضول) باتوں سے مراد ہر وہ بات ہے جو ذکر اللہ کے علاوہ اور دنیاوی امور سے تعلق رکھتی ہو، واضح رہے کہ ایسے دنیاوی امور کا ذکر بھی، کہ جو مصلحت و حکمت سے خالی نہ ہو، ذکر حقیقی کے اعتبار سے فضول باتوں ہی میں شامل ہے، اسی لئے امام غزالی (رح) نے فرمایا تھا ضیعت قطعۃ من العمر العزیر فی تالیف البسیط والوسیط والوجیز۔ میں نے اپنی عمر عزیز کا حصہ اپنی کتابوں بسیط، وسیط اور وجیز کی تالیف میں ضائع کیا۔ گو ایسی دنیاوی باتیں جو حکمت و مصلحت سے خالی نہ ہوں حقیقی معنی میں لغو اور فضول باتوں کے حکم میں نہیں ہوتیں لیکن ان کی ظاہری صورت اور مبنیٰ کے اعتبار سے ان کی حقیقت سے قطع نظر کر کے ان پر لغو اور فضول کا اطلاق کیا گیا ہے، اسی تعبیر کو ظاہر کرنے کے لئے عارفین کا یہ قول ہے کہ حسنات الابرار سیأات المقربین۔ لغو کو اس کے حقیقی معنی بیکار لایعنی اور باطل میں مراد لینا یوں بھی صحیح نہیں ہوگا کہ آنحضرت ﷺ کی زبان مبارک سے کبھی بھی کسی لغویات کا صدور نہیں ہوا اور نہ یہ ممکن تھا کیونکہ جب اللہ تعالیٰ تمام اہل ایمان کا یہ وصف بیان کرتا ہے والذین ہم عن اللغومعرضون۔ تو آنحضرت ﷺ کے بارے میں لغویات کا تصور کیسے کیا جاسکتا ہے۔ بعض حضرات نے جو یہ کہا ہے کہ یہاں قلیل (کم) کا لفظ عدم کے معنی میں استعمال ہوا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کبھی کوئی لغویات زبان سے نہیں نکالتے تھے اور اس کی دلیل میں وہ حضرات کہتے ہی کہ قلیل کا لفظ کبھی مطلق نفی اور اظہار عدم کے معنی میں استعمال ہوتا ہے جیسے قرآن میں فرمایا گیا ہے قلیلامایومنون۔ تو یہ قول اگرچہ لفظ لغو کے بارے میں بہت سی بحثوں کو ختم کردیتا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ حدیث کے سیاق میں یہ قول زیادہ موزوں و مناسب معلوم نہیں ہوتا کیونکہ تکثیر کا لفظ یقل کے لئے جس معنی کا تقاضہ کرتا ہے وہ وہی ہے جو پہلے ذکر کیا گیا۔ نماز کو طویل اور خطبہ کو مختصر کرتے تھے، میں خاص طور پر جمعہ کی نماز مراد ہے کیونکہ خطبہ کے ذکر سے، یہی بات معلوم ہوتی ہے۔ جہاں تک خطبہ کے اختصار کی بات ہے تو وہ یوں بھی درست ہے کہ آپ ﷺ اپنے خطبہ جمعہ میں جو الفاظ اور جملے استعمال فرماتے تھے وہ بےحد جامع ومانع تھے۔ ہر جملہ گوالفاظ کے اعتبار سے بہت مختصر مگر مفہوم ومعانی کے دریا اپنے اندر رکھتا تھا۔ ویسے خطبہ کی اختصار والی بات اکثر احوال کے اعتبار سے بیان کی گئی ہے ورنہ جب زیادہ نصیحت کرنا مقصود ہوتی تھی تو آپ تفصیل کے ساتھ لمبا خطبہ بھی ارشاد فرماتے تھے۔ بہرحال اس جملہ کا اصل مقصد یہ بیان کرنا ہے کہ آپ کا خطبہ نماز کی بہ نسبت مختصر ہوتا تھا۔ نیز ایک اور حدیث میں جو باب الجمعہ میں گذر چکی ہے منقول ہے کہ نماز کا طویل ہونا اور خطبہ کا مختصر ہونا فہم و سمجھ اور دانشمندی کی علامت ہے۔ اس کی وجہ بظاہر یہ معلوم ہوتی ہے کہ نماز چونکہ مؤمن کی معراج اور پروردگار کی مناجات کا موقع ہے اس لئے طوالت ہی اس کے مناسب ہے جب کہ خطبہ کا تعلق لوگوں کی طرف متوجہ ہونے اور ان کو حق کی طرف بلانے سے ہے جس میں زور بیان اور اثراندازی کے لئے فصاحت و بلاغت پر توجہ دینی پڑتی ہے اور یہ چیز ایسی ہوتی ہے جس پر ریاء کا گمان کیا جاسکتا ہے۔ اس لئے خطبہ کو مختصر کرنا ہی بہتر ہوتا ہے۔

5756Mishkaat-al-Masabih

قریش مکہ آنحضرت ﷺ کی تکذیب کیوں کرتے تھے :

وعن علي أن أبا جهل قال للنبي صلى الله عليه و سلم : إنا لا نكذبك ولكن نكذب بما جئت به فأنزل الله تعالى فيهم : [ فإنهم لا يكذبونك ولكن الظالمين بآيات الله يجحدون ] رواه الترمذي

اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے روایت ہے کہ جب ابوجہل نے نبی کریم ﷺ سے یہ کہا کہ (اے محمد ﷺ ہم (یعنی قریش مکہ) تمہیں نہیں جھٹلاتے (کیونکہ تمہاری صدق گوئی ہم پر خوب عیاں ہے اور ہم نے تمہیں کبھی جھوٹ بولتے نہیں دیکھا اسی لئے تم اپنوں اور غیروں سب میں صدق و امانت کے ساتھ مشہور ہو) ہم تو اس چیز کو جھٹلاتے ہیں جو تم لے کر آئے ہو۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان (قریش مکہ یعنی ابوجہل وغیرہ) کے حق میں یہ آیت نازل فرمائی ( فَاِنَّهُمْ لَا يُكَذِّبُوْنَكَ وَلٰكِنَّ الظّٰلِمِيْنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ يَجْحَدُوْنَ ) 6۔ الانعام 33) آپ ﷺ کو نہیں جھٹلاتے بلکہ وہ ظالم تو اللہ کی آیتوں کو جھٹلاتے ہیں۔ (ترمذی ) تشریح جو تم لے کر آئے ہو۔ سے مراد وحی الٰہی یعنی کتاب اور شریعت ہے ابوجہل کا مطلب یہ تھا کہ تمہارے ساتھ ہمارا اختلاف اس دین و شریعت کے بارے میں ہے جس کی طرف تم ہمیں بلاتے ہو ہم تمہاری تکذیب صرف اس لئے کرتے ہیں کہ تمہاری لائی ہوئی کتاب و شریعت کو سچ نہیں مانتے، اگر درمیان میں سے تمہاری یہ کتاب و شریعت ہٹ جائے تو پھر تمہارے ساتھ ہمارا کوئی جھگڑا نہیں رہے گا۔ لیکن وہ لعین اتنا نہیں سمجھا کہ جب محمد ﷺ دنیاوی معاملات میں لوگوں سے جھوٹ نہیں بولتے اور صدق و سچائی ان کا وصف ہے جس کا اقرار و اعتراف خود قریش مکہ کو بھی تھا تو پھر وہ دین وآخرت کے معاملہ میں لوگوں سے کیوں جھوٹ بولیں گے اور ان کو جھوٹ کی طرف بلائیں گے اور اللہ پر بہتان باندھیں گے۔ اصل بات یہ تھی کہ قریش مکہ کے سارے بڑے بڑے سردار آنحضرت ﷺ کے تئیں سخت بغض وعناد اور حسد کا شکار تھے ان کو ساری جلن اس بات کی تھی کہ اس یتیم وامی شخص کو اتنا بڑا مرتبہ کیسے مل گیا اور ہم اتنی ساری دنیاوی وجاہتیں رکھتے ہوئے اس کی پیروی کیسے کریں، کس طرح اس کو اپنا بڑا اور قابل اتباع مان لین اور یہی جلن ان سے طرح طرح کی باتیں کہلواتی تھی، جن میں نہ کوئی معقولیت ہوتی تھی اور نہ کوئی سچائی۔ تفسیر کشاف میں مذکورہ بالا آیت کی تفسیر میں دو مطلب لکھے ہیں ایک تو یہ کہ اے محمد ﷺ یہ کافر جو تمہیں جھٹلاتے ہیں اور یہ ماننے سے انکار کرتے ہیں کہ تم واقعۃ اپنے پروردگار کی طرف سے نئی کتاب و شریعت لے کر مبعوث ہوئے تو یہ تمہیں نہیں جھٹلاتے، درحقیقت اللہ کی نازل کردہ آیتوں اور اس کے تارے ہوئے دین کو جھٹلاتے ہیں گویا اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی مالک اپنے اس غلام سے کہ جس کو لوگ ناروا اطوار پر پریشان کرتے اور ستاتے ہوں یہ کہے کہ وہ لوگ تجھے نہیں ستاتے ہیں بلکہ مجھے ستاتے ہیں، تو دیکھنا میں ان کے ساتھ کیا معاملہ کرتا ہوں اور ان کو کیسا مزہ چکھاتا ہوں دوسرا مطلب یہ ہے کہ اے محمد ﷺ یہ کافر تمہیں نہیں جھٹلاتے ہیں کیونکہ تم تو ان کے نزدیک بڑے سچے اور امین ہو اور تمہاری سچائی اور امانت ان میں ضرت المثال کی حیثیت رکھتی ہے ہاں یہ لوگ اللہ کی آیتوں اور اس کے فرمائے ہوئے دین کو جھٹلاتے ہیں یہ مطلب حدیث کے مضمون سے زیادہ مطابقت اور موزونیت رکھتا ہے۔

5757Mishkaat-al-Masabih

حضور ﷺ نے اپنے لئے دولت مندی کو پسند نہیں فرمایا۔

وعن عائشة قالت : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يا عائشة لو شئت لسارت معي جبال الذهب جاءني ملك وإن حجزته لتساوي الكعبة فقال : إن ربك يقرأ عليك السلام ويقول : إن شئت نبيا عبدا وإن شئت نبيا ملكا فنظرت إلى جبريل عليه السلام فأشار إلي أن ضع نفسك وفي رواية ابن عباس : فالتفت رسول الله صلى الله عليه و سلم إلى جبريل كالمستشير له فأشار جبريل بيده أن تواضع . فقلت : نبيا عبدا قالت : فكان رسول الله صلى الله عليه و سلم بعد ذلك لا يأكل متكأ يقول : آكل كما يأكل العبد وأجلس كما يجلس العبد رواه في شرح السنة

اور حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کہتی ہیں کہ (ایک دن) رسول کریم ﷺ مجھ سے فرمانے لگے عائشہ اگر میں چاہوں (اور اپنے پروردگار سے اپنے لئے دنیا کا مال ومنال طلب کروں) تو یقینا میرے ساتھ سونے کے پہاڑ چلا کریں۔ ( تمہیں ایک دن کی بات بتاتا ہوں کہ) میرے پاس ایک فرشتہ آیا) دراز قد تھا کہ) اس کی کمر کعبہ کے برابر تھی۔ اس نے مجھ سے کہا کہ آپ ﷺ کا پروردگار آپ ﷺ کو سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے کہ چاہے تو بندہ پیغمبر بنوچا ہے بادشاہ پیغمبر بننا منظور کرلو (یعنی آپ ﷺ کو دونوں باتوں کا اختیار دیا جاتا ہے کہ چاہے ایسا پیغمبر بن جائے جو عجز وبے چارگی، تنگی اور فقرومشقت کی زندگی گذارے) میں نے (یہ سن کر) جبرائیل (یعنی اس فرشتہ) کی طرف (سوالیہ انداز میں) دیکھا (اور گویا ان سے مشورہ طلب کیا کہ تم ہی بتاؤ میرے لئے کونسی صورت بہتر رہے گی، انہوں نے کہا اپنے نفس کو پست کردو۔ یعنی فقر ومشقت اور تنگی ومحتاجگی کی زندگی کو اختیار کرونہ کہ عیش و راحت اور ٹھاٹ باٹ کی زندگی کو اور حضرت ابن عباس ؓ کی روایت میں یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ (اللہ تعالیٰ کا مذکورہ پیغام سن کر) جبرائیل (علیہ السلام) کی طرف متوجہ ہوئے اور مشورہ طلب انداز میں ان کی طرف دیکھا، حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے اپنے ہاتھ سے (زمین کی طرف) اشارہ کر کے بتایا کہ پستی و انکساری اختیار کرلیجئے۔ پس (آنحضرت ﷺ نے فرمایا) میں نے کہا یقینا میں بندہ پیغمبر بنوں گا حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے بیان کیا اس کے بعد رسول کریم ﷺ نے کبھی ٹیک لگا کر کھانا نہیں کھایا اور فرمایا کرتے تھے کہ میں اس طرح کھانا کھاتا ہوں جیسے غلام کھاتا ہے اور میں اس طرح بیٹھتا ہوں جیسے غلام بیٹھتا ہے۔ اس روایت کو بغوی نے شرح السنۃ میں نقل کیا ہے۔ تشریح پستی و انکساری اختیار کرلیجئے۔ یعنی فقر ومشقت اور تنگی ومحتاجگی کی زندگی اختیار کرلیجئے جس میں دنیاوی طور پر پستی و انکساری ہے لیکن اللہ کے نزدیک بلند قدری ہے اس کے برخلاف بادشاہت اور دولت مندی کی زندگی، سرکشی اور اللہ فراموشی کی باعث اور تکبر و ناشکری کی موجب ہوتی ہے جس کو اختیار کرکے انسان اپنے پروردگار کی قربت و چاہت سے دور جاپڑتا ہے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے یہ بات گویا غالب احوال کے اعتبار سے بتائی اور اسی لئے اکثر انبیاء اور علماء وصلحا نے فقروتنگی ہی کی زندگی کو اختیار کیا اور انہوں نے ہمیشہ مال و دولت اور عیش و راحت والی زندگی پر مشقت و محنت کی زندگی کو تر جیح دی۔ اللہم اجعلنا منہم واحشرنا معہم۔ جیسے غلام کھاتا ہے کا مطلب یہ تھا کہ جس طرح کسی غلام کو اس کا مالک جیسا ویسا کھانا دیتا ہے وہ اس کو صبر وشکر کے ساتھ کھا لیتا ہے خواہ وہ کتنا ہی غیر مرغوب اور ادنیٰ درجہ کا کیوں نہ ہو اسی طرح مجھے جس طرح کا بھی کھانا میسر ہوتا ہے اس کو صبر و شکر کے ساتھ کھالیتا ہوں، نہ اچھے اور اعلی کھانے کی تمنا اور خواہش ہوتی ہے اور نہ ادنیٰ کھانے سے کوئی تنگی وناگواری محسوس ہوتی ہے۔ جیسے غلام بیٹھتا ہے سے دو زانو بیٹھنا مراد ہے جیسے نماز کی حالت میں بیٹھا جاتا ہے اور بیٹھنے کی افضل ترین ہیئت بھی یہی ہے یا کھانے کے وقت بیٹھنے کی وہ ہیئت مراد ہے جس میں ایک زانوکھڑا کرکے اور گوٹ مار کر بیٹھتے ہیں عام طور پر آنحضرت ﷺ اسی ہیئت سے بیٹھا کرتے تھے۔