آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان

Mishkaat-al-Masabih · Chapter 179 · 35 hadiths · Page 1 of 2

5723Mishkaat-al-Masabih

آنحضرت ﷺ کے اخلاق وعادات کا بیان :

اخلاق خلق کی جمع ہے جس کی معنی طبعی خصلت اور باطنی صفت کے ہیں اور شمائل شمال کی جمع ہے جس کے معنی عادت اور خو کے ہیں پس پچھلے باب میں مؤلف کتاب نے آنحضرت ﷺ کی ظاہری شکل و صورت سے متعلق احادیث نقل کیں جس کو صورت اور خلق کہا جاتا ہے اب یہ باب قائم کرکے ان احادیث کو نقل کیا گیا ہے جن میں آنحضرت ﷺ کے باطنی اوصاف وخصائل ذکر کئے گئے ہیں، جن کو سیرت اور خلق سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ باطنی اوصاف یا سیرت وخلق سے مراد مردانگی، شجاعت سخاوت، نرمی مروت محبت تحمل تواضع رحم و کرم اور شرم وحیا وغیرہ ہیں

5724Mishkaat-al-Masabih

بے مثال حسن خلق :

عن أنس قال : خدمت النبي صلى الله عليه و سلم عشر سنين فما قال لي : أف ولا : لم صنعت ؟ ولا : ألا صنعت ؟ متفق عليه

اور حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کی دس سال خدمت کی (اس پورے عرصہ میں) مجھ کو آپ ﷺ نے کبھی اف بھی نہیں کہا اور نہ کبھی آپ ﷺ نے یہ فرمایا کہ تم نے یہ کام کیوں کیا اور یہ کام تم نے کیوں نہیں کیا۔ (بخاری) تشریح مسلم کی روایت میں نوسال کے الفاظ۔ بہرحال آنحضرت ﷺ جب مکہ سے ہجرت فرماکر مدینہ منورہ تشریف لائے تو اس وقت حضرت انس ؓ کی عمر باختلاف روایت آٹھ سال یا دس سال کی تھی، ان کی والدہ ماجدہ اور ان کے بعض اور رشتہ دار جو انصار میں سے تھے، ان کو آنحضرت ﷺ کے پاس لائے اور خدمت مبارک میں دے دیا، چناچہ حضرت انس ؓ نے اس دن سے اس وقت تک کہ آنحضرت ﷺ مدینہ منورہ میں دس سالہ قیام کے بعد اس دنیا سے رخصت ہوئے آپ ﷺ کی مسلسل خدمت کرتے رہے اور اس حدیث میں وہ آنحضرت کے ساتھ اس طویل خادمانہ تعلق کا تجربہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے اس پورے عرصہ میں میری کسی غلطی اور کسی کوتاہی پر ڈانٹنا ڈپٹنا تو کجا کسی بات پر اف تک نہیں کیا۔ الف کے پیش اور ف کی تشدید اور زیر کے ساتھ ہے ایک نسخہ میں یہ لفظ کے زبر کے ساتھ ایک نسخہ میں تنوین مکسورہ کے ساتھ ہے، یہ لفظ انسان کی زبان سے اس وقت نکلتا ہے جب وہ کسی ناپسند یا تکلیف دہ صورت حال سے دوچار ہوتا ہے۔ تم نے یہ کام کیوں کیا۔۔۔۔۔۔۔۔ الخ۔۔ اس جملہ کے ذریعہ بھی حضرت انس ؓ نے آنحضرت ﷺ کے حسن سلوک اور کمال خلق کو بیان کیا کہ اس طویل زمانہ میں ایسا کبھی ہوا کہ میں نے از خود کوئی کام کیا ہو اور آنحضرت ﷺ نے یہ اعتراض فرمایا ہو کہ تم نے میری مرضی کے بغیر یہ کام کیوں کیا، یا آنحضرت ﷺ نے مجھ سے کسی کام کے لئے کہا ہو اور میں اس کام کو نہ کرسکا ہوں تو آپ ﷺ نے جواب طلب کیا ہو کہ تم نے یہ کام کیوں نہیں کیا لیکن واضح رہے کہ حضرت انس ؓ نے آنحضرت ﷺ کا یہ معاملہ اور سلوک دنیاوی امور یا ذاتی خدمت کے تعلق سے بیان کیا ہے نہ دینی معاملات و امور سے متعلق، کیونکہ کسی دینی کام کے کرنے یا نہ کرنے پر اعتراض پر چشم پوشی روا نہیں ہے۔ علامہ طیبی (رح) نے لکھا ہے کہ حدیث کے بین السطور سے خود حضرت انس ؓ کی خوبی ظاہر ہوتی ہے یا یوں کہے کہ ایک طرح سے حضرت انس ؓ نے اپنی تعریف بھی بیان کی کہ میں نے ایسا موقع کبھی نہیں آنے دیا کہ آنحضرت ﷺ میرے کسی کام پر کوئی اعتراض ہوا ہو یا مجھ سے کوئی شکایت پیدا ہوئی ہو لیکن یہ بات کہنا کچھ زیادہ موزوں معلوم نہیں ہوتا، حدیث کا جو سیاق وسباق ہے اور حضرت انس ؓ خلق نبوی کے متعلق جن احساسات کا اظہار کرنا چاہتے ہیں ان کے پیش نظر حدیث کا اصل مفہوم وہی ہے جو پہلے ذکر ہوا۔

5725Mishkaat-al-Masabih

شفقت ومروت :

وعنه قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم من أحسن الناس خلقا فأرسلني يوما لحاجة فقلت : والله لا أذهب وفي نفسي أن أذهب لما أمرني به رسول الله صلى الله عليه و سلم فخرجت حتى أمر على صبيان وهم يلعبون في السوق فإذا برسول الله صلى الله عليه و سلم قد قبض بقفاي من ورائي قال : فنظرت إليه وهو يضحك فقال : يا أنيس ذهبت حيث أمرتك ؟ . قلت : نعم أنا أذهب يا رسول الله . رواه مسلم

اور حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ اخلاق و عادات کی خوبی میں تمام لوگوں سے بڑھ کر تھے۔ ایک دن ایسا ہوا کہ آپ ﷺ نے مجھے کسی کام سے کہیں بھیجنا چاہا، میں نے آپ ﷺ سے یوں کہہ دیا کہ کہ اللہ کی قسم میں نہیں جاؤں گا چناچہ میں چل پڑا، بازار سے گذرا تو ایک جگہ جہاں بچے کھیل رہے تھے ٹھہر گیا اچانک رسول اللہ ﷺ وہاں آگئے اور پیچھے سے میری گدی پکڑ لی، میں نے مڑ کر آپ ﷺ کی طرف دیکھا تو آپ مسکرا رہے تھے۔ پھر آپ ﷺ فرمانے لگے ارے انیس تو وہاں جارہا ہے نا، جہاں میں نے تجھے بھیجا تھا؟ میں نے عرض کیا ہاں یا رسول اللہ ﷺ میں اب جارہا ہوں (مسلم) تشریح حضرت انس ؓ نے یہ واقعہ اس زمانہ کا بیان کیا ہے جب انہیں آنحضرت ﷺ کی خدمت میں آئے ہوئے زیادہ عرصہ نہیں گذرا تھا اور ابھی صغیر السن تھے، یہی وجہ ہے کہ جب آنحضرت ﷺ نے انہیں کہیں بھیجنا چاہا تو باوجودیکہ انکا ارادہ آنحضرت ﷺ کے حکم کی تعمیل کرنا تھا مگر بچپن کی نادانی اور لاابالی پن میں ان کی زبان سے یہ نکل گیا کہ میں تو نہیں جاؤں گا، چناچہ آنحضرت ﷺ نے ان کی اس بات کو اسی سیاق وسباق میں دیکھا اور اس پر کسی تادیب کی ضرورت محسوس نہیں کی بلکہ ان کے ساتھ ہنسی اور نرمی و شفقت کا معاملہ کیا۔ انیس انس کی تصغیر ہے اور آپ ﷺ نے حضرت انس ؓ کو ان کے اصل نام سے مخاطب کرنے کے بجائے اس نام کی تصغیر انیس سے مخاطب کیا، جو ان کے تئیں آپ ﷺ کی شفقت و محبت کا اظہار تھا۔

5726Mishkaat-al-Masabih

بے مثال تحمل اور خوش اخلاقی :

وعنه قال : كنت أمشي مع رسول الله صلى الله عليه و سلم وعليه برد نجراني غليظ الحاشية فأدركه أعرابي فجبذه جبذة شديدة ورجع نبي الله صلى الله عليه و سلم في نحر الأعرابي حتى نظرت إلى صفحة عاتق رسول الله صلى الله عليه و سلم قد أثرت به حاشية البرد من شدة جبذته ثم قال : يا محمد مر لي من مال الله الذي عندك فالتفت إليه رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم ضحك ثم أمر له بعطاء . متفق عليه

اور حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ (ایک دن) میں رسول کریم ﷺ کے ساتھ چل رہا تھا اس وقت آپ ﷺ کے جسم پر (یمن کے شہر) نجران کی بنی ہوئی (دھاری دار) چادر تھی، جس کے کنارے بہت دبیز اور موٹے تھے، (اچانک راستہ میں) ایک دیہاتی آنحضرت ﷺ کو مل گیا اور اس نے (اپنی طرف متوجہ کرنے کے لئے آپ ﷺ کی چادر پکڑ کر اتنے زور سے کھینچا کہ نبی کریم ﷺ اس کے سینے کی قریب آلگے، میں نے نظر اٹھا کر دیکھا تو اس دیہاتی کے اس قدر سختی سے چادر کھینچنے سے رسول کریم ﷺ کی گردن مبارک پر چادر کے کنارے کی رگڑ کا نشان پڑگیا، پھر اس دیہاتی نے کہا کہ محمد ﷺ تمہارے پاس اللہ کا جو مال ہے اس میں سے کچھ مجھ کو دلواؤ۔ آنحضرت ﷺ نے پہلے تو (حیرت کے ساتھ) اس کی طرف دیکھا پھر (ازراہ تلطف) مسکرائے اور اس کو کجھ دیئے جانے کا حکم صادر فرمایا۔ (بخاری ومسلم ) تشریح ایک دوسری روایت میں ہے کہ مال اللہ الذی عندک کے بعد اس دیہاتی نے یہ بھی کہا لامن مالک ولامن مال ابیک (نہ تو تمہارے ذاتی مال میں سے مانگ رہا ہوں اور نہ تمہارے باپ کے مال میں سے) اور اللہ کے مال سے زکوٰۃ کا مال مراد ہے! یہ حدیث لوگوں کی سخت گوئی بےمروتی اور بداخلاقی پر انحضرت ﷺ کے کمال ضبط و تحمل کی دلیل ہے اور اس بارے میں سرکار رسالت مآب کا ایک ایسا کردار پیش کرتی ہے جس کی کوئی مثال نہیں ہوسکتی۔ واضح رہے کہ مذکورہ دیہاتی پرلے درجہ کا اجڈ اور نہایت درشت خو تھا، اس نے نہ تہذیب وشائستگی سیکھی اور نہ اخلاق وآداب کے معمولی مراتب سے بھی روشناس تھا، اس لئے اس نے اپنے خالص اجڈ پن میں آنحضرت ﷺ سے اس قدر غیر شائستہ انداز میں اپنا مدعا ظاہر کیا۔ اس حدیث سے ایک بات تو یہ معلوم ہوئی کہ حاکم وسلطان کے لئے مستحب ہے کہ وہ اپنی رعایا اور نادان لوگوں کی ایذاء پر صبر و تحمل کرے اور دوسری بات یہ کہ اپنی حیثیت عرفی اور اپنے وقار کی حفاظت کے لئے کسی کو کچھ دینا دانشمندی کا تقاضہ ہے۔

5727Mishkaat-al-Masabih

آنحضرت ﷺ کی اکملیت وجامعیت :

وعنه قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم أحسن الناس وأجود الناس وأشجع الناس ولقد فزع أهل المدينة ذات ليلة فانطلق الناس قبل الصوت فاستقبلهم النبي صلى الله عليه و سلم قد سبق الناس إلى الصوت هو يقول : لم تراعوا لم تراعوا وهو على فرس لأبي طلحة عري ما عليه سرج وفي عنقه سيف . فقال : لقد وجدته بحرا . متفق عليه

اور حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ (حسن و جمال، فضل و کمال، صفات حمیدہ اور اخلاق فاضلہ میں) تمام لوگوں سے بڑھ کر تھے، تمام لوگوں سے زیادہ سخی تھے اور تمام لوگوں سے زیادہ دلیروبہادر تھے، ایک رات کا واقعہ ہے کہ مدینہ کے لوگ (کسی سمت سے چور وڈاکو یا کسی دشمن کی آواز سن کر) مضطرب وخوف زدہ ہوگئے (اور ایک دوسرے کو آوازیں دینے لگے) پھر (کچھ لوگ) (جمع ہو کر) اس آواز کی سمت گئے، وہاں انہوں نے اپنے سامنے نبی کریم ﷺ کو موجود پایا، حقیقت یہ ہے آنحضرت ﷺ سب سے پہلے (گھر سے نکل کھڑے ہوئے تھے اور تن تنہا، اس آواز کی سمت روانہ ہوگئے تھے آپ ﷺ نے ان سب لوگوں کو اطمینان دلاتے ہوئے فرمایا کہ ڈرو نہیں، کوئی خطرہ نہیں ہے۔ آنحضرت ﷺ اس وقت ابوطلحہ ؓ کے گھوڑے پر سوار تھے جو ننگی پیٹھ تھا، اس پر زین نہیں تھی نیز آپ ﷺ کی گردن میں تلوار بھی تھی، پھر آپ ﷺ نے فرمایا میں نے تو اس گھوڑے کو دریا کی طرح تیز رو پایا۔ ( بخاری ومسلم ) تشریح ایک روایت میں یہ وضاحت بھی ہے کہ گھوڑا بہت سست رفتار، تنگ قدم اور سرکش تھا، لیکن اس دن کے بعد سے وہ گھوڑا ایسا تیز رفتار ہوا کہ کوئی گھوڑا اس کے آگے نہیں نکل پاتا تھا پس یہ آنحضرت ﷺ کے معجزات میں سے ہے کہ اس گھوڑے کی حالت آپ ﷺ کی ذرا سی دیر کی سواری سے اس طرح بدل گئی۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر کسی طرف سے دشمن وغیرہ کی کوئی آہٹ محسوس ہو تو صورت حال کی تحقیق کے لئے سبقت کرنا اور اس طرف تن تنہا روانہ ہوجانا دلیری بھی ہے اور مستحب بھی بشرطیکہ ہلاکت میں نہ پڑنے کا یقین ہو، اس طرح اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ عاریتا مانگنا اور مستعار گھوڑے (یا کسی بھی سواری) پر جہاد کرنا جائز ہے نیز تلوار کا گردن میں لٹکانا مستحب ہے، یہ بھی اس حدیث سے معلوم ہوا،

5728Mishkaat-al-Masabih

کبھی کسی سائل کو انکار نہیں کیا :

وعن جابر قال : ما سئل رسول الله صلى الله عليه و سلم شيئا قط فقال : لا . متفق عليه

اور حضرت جابر ؓ کہتے ہیں کہ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ رسول کریم ﷺ سے کسی نے سوال کیا ہو اور آپ ﷺ نے اس کو انکار کردیا ہو ( بخاری ومسلم) تشریح علامہ ابن حجر (رح) نے یہ مطلب بیان کیا ہے کہ جب کوئی شخص آپ ﷺ سے کچھ مانگتا اور آپ ﷺ کے پاس ہوتا تو فورا دے دیتے تھے۔ اگر آپ ﷺ کے پاس دینے کے لئے کچھ نہ ہوتا اور سائل کا سوال پورا کرنے پر قادر نہ ہوتے تو اس صورت میں بھی صفائی کے ساتھ انکار نہ کرتے بلکہ یا تو خاموشی اختیار کرلیتے یا مناسب الفاظ میں عذر بیان کرتے، یا دعائیہ جملے ارشاد فرمادیتے، گویا آپ ﷺ کسی بھی حالت میں سائل کے سامنے اپنی زبان پر صاف انکار کا لفظ نہیں لاتے تھے۔ اور شیخ عزالدین نے لکھا ہے اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ لا (انکار کا لفظ) آپ ﷺ کی زبان پر کبھی اس لئے نہیں آیا کہ کسی سائل نے آپ ﷺ سے کوئی سوال کیا ہو اور آپ ﷺ اس سوال کو ٹھکرانا چاہتے ہوں، یہ اور بات ہے کہ کوئی سوال پورا کرنا آپ ﷺ کے بس میں نہ رہا ہو اور آپ ﷺ نے عذر بیان کرنے کے لئے یا کسی اور مقصد کی خاطر اس لفظ کا استعمال فرمایا ہو جیسے ایک موقع پر آپ ﷺ نے فرمایا تھا لااجدما احملکم علیہ (میرے پاس کوئی سواری نہیں ہے کہ تمہیں سوار ہونے کے لئے دوں) مشہور شاعر فرزدق نے آنحضرت ﷺ کے اسی وصف کا کہ لا (انکار) کا لفظ آپ ﷺ کی زبان پر کبھی نہیں آیا اپنے شعر میں اس طرح ذکر کیا ہے۔ ماقال لا قط الا فی تشہدہ لولا التشہد کانت لاؤہ نعم۔ اسی مضمون کو ایک فارسی شاعر نے یوں ادا کیا ہے۔ نہ رفت کلمہ لا برزبان او ہرگز مگر باشہدان لاالہ الا اللہ۔

5729Mishkaat-al-Masabih

عطاوبخشش کا کمال :

وعن أنس أن رجلا سأل النبي صلى الله عليه و سلم غنما بين جبلين فأعطاه إياه فأتى قومه فقال : أي قوم أسلموا فو الله إن محمدا ليعطي عطاء ما يخاف الفقر . رواه مسلم

اور حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی کریم ﷺ سے اتنی بکریاں مانگیں جو پہاڑوں کے درمیانی نالہ کو بھر دیں، چناچہ آپ ﷺ نے اس کو اتنی بکریاں دے دیں، اس کے بعد وہ شخص اپنی قوم میں آیا اور کہا اے میری قوم کے لوگو اسلام قبول کرلو، اللہ کی قسم محمد ﷺ اتنا دیتے ہیں کہ فقر و افلاس سے بھی نہیں ڈرتے۔ (مسلم) تشریح شاید سائل کے وہم گماں میں بھی نہ تھا کہ اس کا اتنا بڑا سوال اتنی آسانی سے پورا کیا جاسکتا ہے چناچہ جب آنحضرت ﷺ نے اپنے تصرف میں موجود تقریبا ساری ہی بکریاں دے کر اس کا سوال پورا کردیا تو وہ اچھنبے میں پڑگیا اور آنحضرت کی بخشش وعطاء کا یہ مظاہرہ دیکھ کر اس کو یقین ہوگیا کہ آپ توکل و قناعت اور زہد واستغناء کے جس درجہ کمال پر فائز ہیں وہ اسی مذہب کا پر تو ہوسکتا ہے جس کے رسول بنا کر آپ ﷺ اس دنیا میں بھیجے گئے ہیں، اس لئے اس نے اپنی قوم میں جا کر لوگوں کو مخلصانہ تلقین کی کہ اگر تم اعلی اخلاقی اقدار اور بلند ترین انسانی کردار کی عظمت حاصل کرنا چاہتے ہو تو حلقہ بگوش اسلام ہوجاؤ اور ان محمد عربی ﷺ کے پیرو بن جاؤ جو سائل کے سوال کو اس طرح پورا کرتے ہیں کہ ان کے پاس جو کچھ ہوتا ہے اپنی ضرورت سے بےنیاز ہو کر سب دے دیتے ہیں اپنے فقر و افلاس کا خدشہ بھی انہیں سائل کی طلب و خواہش کی تکمیل سے نہیں روکتا۔ ہرچہ آمدت بدادے تو بیش ازاں ایں جود آں کسی ست کش از فقر عارنیست۔

5730Mishkaat-al-Masabih

خلق نبوی ﷺ :

وعن جبير بن مطعم بينما هو يسير مع رسول الله صلى الله عليه و سلم مقفله من حنين فعلقت الأعراب يسألونه حتى اضطروه إلى سمرة فخطفت رداءه فوقف النبي صلى الله عليه و سلم فقال : أعطوني ردائي لو كان لي عدد هذه العضاة نعم لقسمته بينكم ثم لا تجدوني بخيلا ولا كذوبا ولا جبانا . رواه البخاري

حضرت جبیر ابن مطعم ؓ اس وقت کا واقعہ بیان کرتے ہیں جب وہ رسول کریم ﷺ کے ہمراہ غزوہ حنین سے واپس آرہے تھے کہ (راستہ میں ایک مقام پر) کچھ (غریب) دیہاتی آپ ﷺ کو لپٹ گئے اور (غنیمت کا مال) مانگنے لگے اور اس حد تک پیچھے پڑگئے کہ آپ کو (کھینچتے ہوئے) ایک کیکر کے درخت تک لے گئے۔ وہاں آپ ﷺ کی چادر کیکر کے کانٹوں میں الجھ کر رہ گئی آپ (بڑی بےچارگی کے ساتھ) رک گئے اور فرمایا لاؤ میری چادر تو دے دو، اگر میرے پاس ان خار دار درختوں کے برابر بھی چوپائے (یعنی بکریاں اور اونٹ وغیرہ) ہوتے تو میں ان سب کو تمہارے درمیان تقسیم کردیتا اور تم جان لیتے کہ میں نہ بخیل ہوں نہ جھوٹا وعدہ کرنے والا اور نہ چھوٹے دل والا ہوں۔ (بخاری) تشریح غزوہ حنین وہ مشہور جنگ ہے جو فتح مکہ کے فورا بعد طائف اور مکہ کے درمیان آباد بنوہوازن وبنوثقیف اور ان کے حلیف قبائل سے آنحضرت ﷺ کو کرنا پڑی تھی۔ اس جنگ میں ابتدائی طور پر کچھ سخت پریشانیوں اور قدرے ہزیمت کے بعد مسلمانوں کو زبر دست فتح حاصل ہوئی تھی، دشمن کے چھ ہزار قیدیوں کے علاوہ مال غنیمت میں ٤٤ ہزار اونٹ، ٤٤ ہزار سے زیادہ بھیڑبکریاں اور چار ہزار اوقیہ چاندی مسلمانوں کے ہاتھ آئی، اس معرکہ میں مدینہ کے دس ہزار مہاجر و انصار صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے علاوہ اہل مکہ میں کے وہ دو ہزار لوگ بھی شامل تھے جو فتح مکہ کے موقع پر نئے نئے اسلام میں داخل ہوئے تھے آپ ﷺ نے عزوہ حنین کا سارا مال غنیمت میدان جنگ کے قریب ہی مقام جعرانہ میں جمع کرنے کا حکم دیا اور وہیں سے اہل طائف کی شورش کو دبانے کے لئے طائف تشریف لے گئے طائف کی مہم میں کامیاب ہو کر مقام جعرانہ واپس آئے اور وہاں جمع شدہ مال غنیمت کی تقسیم شروع فرمائی زیادہ تر مال آپ ﷺ نے اہل مکہ کی تالیف قلب کے لئے ان کو دے دیا دوسرے مستحقین کو بھی عطا فرمایا اور ایک شخص کو اس کے سوال پر بہت زیادہ بکریاں دینے کا وہ واقعہ، جس کا ذکر پیچھے کی حدیث میں گذرا اسی موقع پر پیش آیا تھا اس طرح جب آپ ﷺ وہاں سے روانہ ہوئے تو سارا مال و اسباب تقسیم کرکے ختم کرچکے تھے، لہٰذا آگے چل کر راستہ میں جب کچھ دیہاتیوں نے آپ ﷺ سے کچھ سوال کیا تو آپ ﷺ ان کا سوال پورا نہ کرسکے، ایک طرف تو یہ مجبوری تھی کہ سارا مال و اسباب ختم ہوجانے کی وجہ سے آپ ﷺ ان کو کچھ دے نہیں سکتے تھے دوسری طرف صفائی کے ساتھ انکار کرکے ان کی دل شکنی بھی گوار انہیں تھی لیکن جب ان لوگوں نے تنگ و پریشان کرنے کی حد تک آپ ﷺ کا پیچھا پکڑ لیا تو آپ ﷺ نے ان سے مذکورہ جملے ارشاد فرمائے جس کا مطلب یہ تھا کہ تمہارا سوال پورا نہ کرنے کا حقیقی سبب یہ ہے کہ اس وقت میرے پاس کچھ نہیں بچا ہے، جو مال اسباب میرے پاس تھا سب کچھ تقسیم کرچکا ہوں، اگر میرے پاس اس جنگل میں پائے جانے والے بیشمار خار دار درختوں کے برابر بھی مال ہوتا تو میں سب کا سب تم لوگوں کے درمیان تقسیم کردیتا اس وقت تم لوگوں کو تجربہ ہوجاتا کہ نہ میں بخیل ہوں کہ خرچ کرنا نہیں چاہتا، نہ یہ بات کہ اپنا مال بچانے اور محض ٹرخانے کے لئے جھوٹا سچا وعدہ کرکے سائلین سے اپنا پیچھا چھڑا لیا کرتا ہوں اور نہ یہ کہ میں چھوٹے دل کا آدمی ہوں اور اس خوف کی وجہ تمہیں کچھ دینا نہیں چاہتا کہ اگر تمہیں دے دیا تو میرے پاس کچھ نہیں رہ جائے گا اور خود مجھے فقروافلاس گھیر لے گا غرضیکہ بخل وکذب اور جبن جیسی بری خصلتیں میرے اندر نہیں پاسکتے آنحضرت ﷺ کے اس ارشاد گرامی میں اس بات کی دلیل ہے کہ اعتماد اور بھروسہ پیدا کرنے کے لئے نہ جاننے والے کے سامنے اوصاف حمیدہ کے ذریعہ اپنی تعریف کرنا جائز ہے۔

5731Mishkaat-al-Masabih

مخلوق اللہ کے تئیں شفقت وہمدردی :

وعن أنس قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا صلى الغداة جاء خدم المدينة بآنيتهم فيها الماء فما يأتون بإناء إلا غمس يده فيها فربما جاؤوه بالغداة الباردة فيغمس يده فيها . رواه مسلم

اور حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ صبح کی نماز سے فارغ ہوتے تو اہل مدینہ کے خدام (یعنی لونڈیاں اور غلام اپنے اپنے برتنوں میں پانی لے کر پہنچ جاتے (تاکہ آپ ﷺ کے دست مبارک کی برکت سے عافیت اور بیماریوں سے شفا حاصل کریں) چناچہ جو شخص بھی پانی کا برتن لے کر آتا آپ ﷺ (اس کی خوشی کی خاطر اور اس کو اپنی برکت پہنچانے کے لئے) اس برتن میں اپنا ہاتھ ڈال دیتے اکثر ایسا ہوتا تھا کہ لوگ سردی کے موسم میں صبح ہی صبح اپنے برتن لے کر آتے اور آپ ﷺ (بڑی خوش دلی کے ساتھ) اپنا دست مبارک ان برتنوں میں ڈال دیتے۔ (مسلم) تشریح یہ حدیث نہ صرف آپ ﷺ کی اس شفقت و محبت اور ہمدری کو ظاہر کرتی ہے جو آپ ﷺ اپنی امت کے تئیں رکھتے تھے بلکہ اس طرف رہنمائی بھی کرتی ہے کہ اگر تکلیف و پریشانی کو برداشت کرکے بھی مخلوق اللہ کو فائدہ پہنچا یا جاسکتا ہو تو اس سے دریغ نہ کرنا چاہیے۔

5732Mishkaat-al-Masabih

غیریب وپریشان حال لوگوں کے ساتھ آنحضرت ﷺ کا معاملہ :

وعنه قال : كانت أمة من إماء أهل المدينة تأخذ بيد رسول الله صلى الله عليه و سلم فتنطلق به حيث شاءت . رواه البخاري

اور حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ مدینہ والوں کی لونڈیاں میں سے ایک لونڈی کا یہ معاملہ تھا کہ جب اس کو کوئی پریشانی لاحق ہوتی) رسول کریم ﷺ کا ہاتھ پکڑتی اور جہاں اس کا جی چاہتا آپ ﷺ کو لے جاتی۔ (بخاری) تشریح مطلب یہ کہ وہ ضرورت سمجھتی تو آپ ﷺ کو مدینہ سے باہر کہیں دور اس طرح لئے چلی جاتی اور وہاں اپنی پریشانی بیان کرتی اور جو کچھ کہنا سننا ہوتا کہتی سنتی۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کو اپنی امت کے لوگوں یہاں تک کہ چھوٹے درجہ کے افراد سے کس قدر محبت وتعلق تھا اور تواضع وبے نفسی کے کس بلند ترین مقام پر فائز تھے!

5733Mishkaat-al-Masabih

غیریب وپریشان حال لوگوں کے ساتھ آنحضرت ﷺ کا معاملہ :

وعنه أن امرأة كانت في عقلها شيء فقالت : يا رسول الله إني لي إليك حاجة فقال : يا أم فلان انظري أي السكك شئت حتى أقضي لك حاجتك فخلا معها في بعض الطرق حتى فرغت من حاجتها . رواه مسلم

اور حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ مدینہ میں ایک عورت تھی جس کے دماغ میں کچھ خلل تھا، اس نے ایک دن کہا کہ یا رسول اللہ ﷺ آپ ﷺ سے میرا ایک کام ہے (جو لوگوں سے پوشیدہ طور پر کہنے کا ہے) آپ ﷺ نے فرمایا فلانے کی ماں تم جس کوچہ کو (لوگوں کی نظروں سے محفوظ سمجھو) دیکھ لو (میں تمہارے ساتھ وہاں چلنے کو تیار ہوں) تمہارا جو کام ہوگا میں ضرور کروں گا (یعنی جس تنہا مقام پر مجھ سے بات کرنا چاہو چلو میں وہاں چل کر تمہاری بات سن لوں گا) چناچہ آپ ﷺ اس کے ساتھ ایک کوچہ میں تشریف لے گئے اور وہاں تنہائی میں اس عورت کو جو کچھ کہنا سننا تھا اس نے کہا سنا۔ (مسلم) تشریح یہ حدیث بھی آنحضرت ﷺ کے علو اخلاق کی دلیل ہے کہ آپ ﷺ نے نہ صرف پاگل عورت کی طرف توجہ دی بلکہ اس نے جہاں چاہا وہ اپنی بات سنانے آپ ﷺ کو لے گئی نیز اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ آنحضرت ﷺ کا اس عورت کے ساتھ ایک کوچہ میں تنہائی اختیار کرنا گھر میں اور عورت کے ساتھ تنہائی اختیار کرنے کی مانند نہیں تھا کیونکہ اس کوچہ میں آنحضرت ﷺ اس عورت کے ساتھ بالکل تنہا نہیں تھے بلکہ وہ لوگ تو وہاں موجود ہی تھے جن کے مکانات وہاں موجود تھے لیکن برعایت حسن ادب وہ حضرات اس جگہ سے کچھ فاصلہ پر کھڑے ہوئے تھے، جہاں آپ ﷺ اس عورت کی بات سن رہے تھے۔

5734Mishkaat-al-Masabih

آنحضرت ﷺ کے اوصاف حمیدہ :

وعنه قال : لم يكن رسول الله صلى الله عليه و سلم فاحشا ولا لعانا ولا سبابا كان يقول عند المعتبة : ما له ترب جبينه ؟ . رواه البخاري

اور حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نہ تو فحش گو تھے نہ لعنت کرنے والے اور نہ بدکلام تھے جب کسی پر آپ ﷺ کو غصہ آتا تو بس یہ فرماتے کیا ہوا اس کو جو اس نے یہ بات کہی یا یہ کام کیا) خاک آلود ہو اس کی پیشانی۔ (بخاری) تشریح فحش کے اصل معنی ہیں کوئی بات کہنے یا کسی بات کا جواب دینے میں حد سے بڑھ جانا زیادہ تر اس کا استعمال اس کلام کے لئے ہوتا ہے جس میں اجماع یا جماع سے متعلق باتوں کا کھلم کھلا ذکر ہو! جیسے اوباش وبے حیاء اور بدقماش لوگ باپ کی گندی گالیاں اور شرمناک باتیں بکتے ہیں اور اہل حیاء وشریف لوگ ایسی باتوں کو زبان پر لانا تو درکنار، ان کو سننا بھی برداشت نہیں کرتے، بلکہ اگر انہیں اس طرح کوئی بات ضروری بھی کہنا ہوتی ہے تو اس کو اشارے وکنایہ میں کہتے ہیں یہاں تک کہ پیشاب وپاخانہ کا ذکر بھی قضاء حاجت جیسے مہذب الفاظ میں کنایۃ ًکرتے ہیں۔ اس طرح فحش کا لفظ کثرت و زیادتی، ہر سخت برے گناہ، ہر ایک بری اور قبیح خصلت اور زنا کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔ لعن کے لغوی معنی ہیں، ہانک دینا، محروم کردینا، ذلیل کرنا، گالی دینا، لعن یا لعنت کی نسبت اگر اللہ تعالیٰ کی طرف ہو تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے پروردگار کا اپنے قرب سے دور کردینا اور اپنی رحمت سے محروم کردینا اور اگر اس لفظ کی نسبت بندے کی طرف ہو تو اس سے مراد ہوتا ہے برا کہنا اور رحمت الٰہی سے دوری و محرومی کی بدعا کرنا۔ مثلا اگر کہیں یہ آئے کہ اللہ تعالیٰ نے لعنت کی، یا فلاں پر اللہ کی لعنت نازل ہوئی تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے اس شخص کو اپنے مقام قرب سے دور پھینک دیا اور اپنی رحمت سے دور کردیا اور اگر یہ آئے کہ فلاں شخص نے لعنت بھیجی تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اس شخص نے اللہ کی رحمت سے دوری و محرومی کی بدعا کی! واضح رہے کہ اس شخص پر لعنت کرنا جو لعنت کا مستحق نہ ہو سخت گناہ ہے اور بار بار لعنت کرنا تو گناہ کبیرہ ہے نیز علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ کسی معین شخص پر لعنت پر لعنت کرنا حرام ہے اگرچہ وہ کافر ہی کیوں نہ ہو، ہاں اگر کسی شخص کے بارے میں یقینی طور پر معلوم ہو کہ وہ کفر ہی کی حالت میں مرگیا ہے جیسے ابوجہل وغیرہ تو اس پر لعنت کرنا حرام نہیں ہے، اسی طرح کسی برائی میں مبتلا لوگوں پر عمومی انداز میں لعنت کرنا جیسے یہ کہنا کہ کافروں یا ظالموں، یا سود خواروں وغیرہ وغیرہ پر اللہ کی لعنت ہو، حرام نہیں ہے۔ ایک بات یہ بھی جان لینی چاہے کہ لعنت کی دو قسمیں ہیں ایک تو رحمت الٰہی اور دخول جنت سے محرومی دوری اور بدی عذاب و تباہی (خلود دوزخ) کے ابتلاء کی بددعا، اس قسم کا تعلق بعض درجہ کے گنہگاروں اور بدکاروں سے ہے۔ ان قسموں کے باہمی فرق کو ملحوظ رکھنے سے اس مسئلہ میں پیدا ہونے والے بہت سے اشکال دور ہوجاتے ہیں! خاک آلود ہو اس کی پیشانی۔ یہ جملہ ذلت و خواری اور نگوساری سے کنایہ ہے۔ مطلب یہ کہ غصہ و ناراضگی کے وقت آپ ﷺ کی طرف سے شدید جو ردعمل ظاہر ہوتا تھا وہ بس یہ جملہ تھا جو زبان مبارک سے ادا ہوتا اور اس میں بھی آپ ﷺ براہ راست اس شخص کو خطاب نہیں فرماتے تھے جو اس غصہ و ناراضگی کا باعث ہوتا، بلکہ اس کی ذات سے اعراض کرکے غائب کا صیغہ استعمال فرماتے۔ اسی طرح کا ایک جملہ خاک آلود ہو اس کی ناک آتا ہے، جو اسی معنی اور اسی محل میں استعمال ہوتا تھا، تاہم واضح رہے کہ دونوں جملے ذو معنیین (دومتضاد معنوں کے متحمل) ہیں جس طرح ان جملوں کو بدعا پر محمول کرکے ذلت خواری اور نگوساری سے کنایہ کہا جاسکتا ہے اسی طرح ان دونوں جملون کو دعا پر محمول کرکے عبادت و سجدہ ریزی سے کنایہ بھی کہا جاسکتا ہے کیونکہ عبادت اور سجدہ کرنے والے پیشانی اور ناک کو خاک لگتی ہے، اس صورت میں ان جملوں کا مفہوم یہ ہوگا کہ سجد اللہ وجہک (اللہ تعالیٰ تیرے چہرے کو اپنے حضور سجدہ ریزکرے )۔

5735Mishkaat-al-Masabih

اپنے دشمنوں کے حق میں بھی بدعا نہیں فرماتے تھے :

وعن أبي هريرة قال : قيل : يا رسول الله ادع على المشركين . قال : إني لم أبعث لعانا وإنما بعثت رحمة . رواه مسلم

اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ جب آپ ﷺ سے عرض کیا گیا کہ یا رسول اللہ ﷺ (اپنے دشمنوں) کافروں کے حق میں بددعا فرمائیے، تاکہ وہ ہلاک ہوں اور ان کی جڑ اکھڑجائے) تو فرمایا مجھ کو لعنت کرنے والا بنا کر نہیں بھیجا گیا ہے بلکہ مجھ کو تو رحمت بنا کر بھیجا گیا ہے (مسلم ) تشریح مجھ کو تو رحمت بنا کر بھیجا گیا ہے کے ذریعہ آپ ﷺ نے اس کی طرف اشارہ فرمایا کہ میں سارے جہاں کے لئے رحمت کا باعث ہوں کیا مؤمن اور کیا کافر، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ وما ارسلنک الا رحمتہ للعلمین۔ اور آپ ﷺ کو تو سارے عالم کے لئے رحمت بنا کر بھیجا گیا ہے اس صورت میں جب کہ سب ہی کے حق میں رحمت کر بھیجا گیا ہوں، کافروں کے حق میں بددعا کیسے کرسکتا ہوں خواہ وہ میرے کیسے ہی دشمن کیوں نہ ہوں۔ اہل ایمان کے حق میں آنحضرت ﷺ کا باعث رحمت ہونا تو ظاہرہی ہے رہی کافروں کی بات تو ان کے حق میں آپ ﷺ کا باعث رحمت ہونا اس اعتبار سے ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے دین اور اس کے رسول کی سخت نافرمانی، سرکشی اور دشمنی کے باوجود محض آنحضرت ﷺ کے بابرکت وجود کے باعث ان پر سے دنیا کا عذاب اٹھا لیا گیا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا وما کان اللہ لیعذبہم وانت فیہم۔ اس حالت میں کہ آپ ان کے درمیان موجود ہیں اللہ تعالیٰ ان پر (دنیا میں) عذاب نازل نہیں کرے گا بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کی اس برکت کو حیات مبارکہ تک ہی محدود نہیں رکھا، ہمیشہ کے لئے اس برکت کو باقی رکھا اور طے فرما دیا کہ کلی استیصال کا عذاب قیامت تک نازل نہیں ہوگا، جب کہ کتنی ہی گذشتہ امتیں اپنے پیغمبروں کی بددعا کی وجہ سے نیست ونابود کردی گئیں اور ان کا معمولی ساوجود بھی باقی نہ رہا۔ علامہ طیبی (رح) لکھتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے اس ارشاد گرامی کا مطلب یہ ہے کہ میں اس لئے نہیں آیا ہوں کہ کسی کو اللہ کی رحمت سے دور کروں بلکہ اس دنیا میں میری بعثت کا مقصد یہی ہے کہ میں اللہ کی نازل کردہ ہدایت، اپنی تعلیمات اور اخلاق کی طاقت سے لوگوں کو اللہ اور اس کی رحمت کے قریب کروں، ایسی صورت میں جب کہ کسی کے حق میں بددعا کرنا یا کسی پر لعنت بھیجنا میری شان سے بعید اور میرے حال کے غیر مناسب ہے تو میں ان کافروں کے حق میں بھی کیسے بددعا کروں اور کس طرح ان پر لعنت بھیجوں۔

5736Mishkaat-al-Masabih

آنحضرت ﷺ کی شرم وحیا۔

وعن أبي سعيد الخدري قال : كان النبي صلى الله عليه و سلم أشد حياء من العذراء في خدرها فإذا رأى شيئا يكرهه عرفناه في وجهه . متفق عليه

اور حضرت ابوسعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ پردہ میں رہنے والی کنواری لڑکی سے بھی زیادہ باحیا تھے، جب کوئی خلاف مزاج بات (طبعی طور پر غیر پسندیدہ یا غیر شرعی ہونے کی وجہ سے) پیش آجاتی تو ہم آپ ﷺ کے چہرہ مبارک سے آپ ﷺ کی ناگواری کو محسوس کرلیتے۔ ( بخاری ومسلم) تشریح خدر پردہ کو کہتے ہیں پردہ میں رہنے والی کنواری لڑکی۔ اس اعتبار سے فرمایا گیا ہے کہ جتنی زیادہ شرم وحیا اس کنواری لڑکی میں ہوتی ہے جو پردہ میں رہتی ہے اور گھر سے باہر قدم نہیں نکالتی اتنی اس کنواری میں نہیں ہوتی جو بےپردہ ہوتی ہے اور گھر سے باہر پھرتی ہے۔ حدیث کے آخری جزو کا مطلب یہ ہے کہ جب آپ ﷺ کے سامنے کوئی ایسی بات پیش آتی جو طبعی طور پر غیر پسندیدہ یا غیر شرعی ہونے کی وجہ سے آپ ﷺ کے مزاج کے خلاف ہوتی تو اس کی ناگواری کے اثر سے چہرہ مبارک فورًا متغیرہوجاتا اور ہم اس تغیر سے آپ ﷺ کی ناگواری کو محسوس کرکے اس کے دفیعہ کی کوشش کرتے چناچہ آپ ﷺ کے چہرہ سے ناگواری کے اثرات ختم ہوجاتے تھے اور یہ محسوس ہونے لگتا تھا کہ آپ ﷺ بالکل غصہ نہیں ہوئے تھے لیکن یہ اس صورت میں ہوتا تھا جب اس خلاف مزاج بات کا تعلق کسی طبعی امر سے ہوتا یا کسی ایسے شرعی امر سے ہوتا جس کا ارتکاب حرام ناجائز بلکہ مکروہ ہوتا۔ علامہ نووی (رح) نے یہ مطلب لکھا ہے کہ جو خلاف مزاج بات پیش آتی غلبہ حیاء سے آپ ﷺ اس کے خلاف ناگواری کا اظہار زبان سے نہ کرتے بلکہ اس کے اثرات آپ ﷺ کے چہرے پر ظاہر ہوجاتے تھے چناچہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین آپ ﷺ چہرے کے تغیر سے آپ کی ناگواری اور ناراضگی کو محسوس کرلیتے اس حدیث سے نہ صرف یہ کہ شرم وحیاء کی فضیلت ظاہر ہوتی ہے بلکہ یہ سبق ملتا ہے کہ اس وصف کو اپنے اندر زیادہ سے زیادہ پیدا کرنا چاہے تاوقتے کہ اس کی وجہ سے کسی شرعی وانسانی فریضہ کی ادائیگی میں رکاوٹ پیدا نہ ہو اور کسی طرح کا کوئی نقصان پہنچنے کا اندیشہ نہ ہو۔

5737Mishkaat-al-Masabih

منہ کھول کر نہیں ہنستے تھے :

وعن عائشة رضي الله عنها قالت : ما رأيت النبي صلى الله عليه و سلم مستجمعا قط ضاحكا حتى أرى منه لهواته وإنما كان يتبسم . رواه البخاري

اور حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کہتیں ہے کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو کبھی اس طرح ہنستے نہیں ہوئے نہیں دیکھا کہ آپ ﷺ کا سارا منہ کھل گیا ہو اور مجھے آپ ﷺ کے حلق کا کوا نظر آیاہو، آپ ﷺ کی ہنسی بس مسکراہٹ تک محدود رہتی تھی۔ (بخاری) تشریح مطلب یہ کہ جس طرح دوسرے لوگ قہقہ مار کر بڑے زور سے ہنستے ہیں اور اس وقت ان کا پورا منہ اتنا زیادہ کھل جاتا ہے کہ اندر کے مسوڑھے، تالو اور حلق کا کوا تک نظر آجاتا ہے اس طرح آنحضرت ﷺ کبھی نہیں ہنستے، اکثر کسی خوشی ومسرت کی بات پر آپ مسکرادینے ہی پر اکتفا فرماتے تھے۔ کبھی کبھی ہنسی بھی ہنس لیتے تھے، اس تفصیل پیچھے اس موضوع سے متعلق باب میں گذر چکی ہے۔

5738Mishkaat-al-Masabih

حضور ﷺ کی گفتگو کا بہترین انداز :

وعنها قالت : إن رسول الله صلى الله عليه و سلم لم يكن يسرد الحديث كسردكم كان يحدث حديثا لو عده العاد لأحصاه . متفق عليه

اور حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ تیز تیز اور مسلسل بات نہیں کرتے تھے جس طرح تم لوگ مسلسل بولے چلے جاتے ہو آپ ﷺ اس طرح ٹھہر ٹھہر کر بات کرتے کہ اگر کوئی گننا چاہتا تو گن سکتا تھا۔ (بخاری) تشریح اس سے معلوم ہوا کہ آپ ﷺ گفتگو کا انداز اور بولنے کا طرز نہایت عام فہم اور دلکش اور باوقار تھا نہایت مہذب وعقلمند اور سنجیدہ لوگوں کی طرح آپ ﷺ بھی ٹھہر ٹھہر کر، ایک ایک جملہ کو الگ الگ کرکے بڑے باوقار لہجہ میں گفتگو کرتے تھے، اگر کوئی چاہتا کہ آپ ﷺ کے الفاظ اور جملوں کو گن لے تو یقینا گن سکتا تھا، آپ ﷺ کی گفتگو کا انداز وہ بالکل نہیں تھا جو عام لوگوں کا ہوتا ہے کہ جب بات کرتے ہیں تو زبان مسلسل اور تیزی کے ساتھ چلتی رہتی ہے اس تیزی وروانی میں نہ جملوں کی ترتیب موزوں ہوتی ہے اور نہ الفاظ کی ادائیگی صاف ہوتی ہے جس سے مخاطب کو بات سمجھنے میں وقت اور اشتباہ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

5739Mishkaat-al-Masabih

گھرکے کام خود کرتے تھے :

وعن الأسود قال : سألت عائشة : ما كان النبي صلى الله عليه و سلم يصنع في بيته ؟ قالت : كان يكون في مهنة أهله - تعني خدمة أهله - فإذا حضرت الصلاة خرج إلى الصلاة . رواه البخاري

حضرت اسود کہتے ہیں کہ (ایک دن) میں نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے پوچھا کہ نبی کریم ﷺ گھر میں کیا کیا کام کرتے تھے تو انہوں نے فرمایا آنحضرت ﷺ اپنے گھر میں خانگی کام کرتے رہتے تھے اور جب نماز کا وقت آتا تو نماز کے لئے چلے جاتے تھے (اس وقت سارا کام کاج چھوڑ دیتے تھے اور گھر والوں سے کوئی مطلب نہیں رکھتے تھے (بخاری) تشریح مَہْنَۃٌیا مِہْنَۃٌکے معنی ہیں خدمت کرنا اور کام کاج میں لگے رہنا۔ چناچہ خود حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے بھی اس لفظ کی یہی وضاحت فرمائی کہ اس سے مراد گھر والوں کی خدمت کرنا اور خانگی کام کاج میں لگے رہنا ہے جیسے بکری کا دودھ دوہنا، جوتی کا مرمت کرنا اور کپڑوں میں پیوند لگانا وغیرہ وغیرہ۔ اس سے معلوم ہوا کہ گھر اور گھر والوں کی خدمت اور کام کاج میں لگے رہنا، انبیاء کرام کی سنت اور صالحین کے طور طریقوں میں سے ہے۔ حدیث کے راوی حضرت اسود جلیل القدر تابعین میں سے ہیں، انہوں نے نبوت کا زمانہ پایا، خلفاء اربعہ کی زیارت سے مشرف ہوئے اور اکابر صحابہ کرام سے سماعت حدیث کا شرف حاصل کیا، بڑے عابد و زاہد، نیک متقی اور اعلی اوصاف کے حامل تھے، ان کو ٨٠ حج و عمرے ادا کرنے کی سعادت ملی، آخر وقت تک ہمیشہ روزے رکھتے رہے اور ہر رات دو قرآن شریف ختم کرتے تھے، اونچے درجہ کے فقیہہ تھے اور بہت زیادہ روایتیں نقل کرتے ہیں۔

5740Mishkaat-al-Masabih

کبھی کسی سے انتقام نہیں لیتے تھے :

وعن عائشة قالت : ما خير رسول الله صلى الله عليه و سلم بين أمرين قط إلا أخذ أيسرهما ما لم يكن إثما فإن كان إثما كان أبعد الناس منه وما انتقم رسول الله صلى الله عليه و سلم لنفسه في شيء قط إلا أن ينتهك حرمة الله فينتقم لله بها . متفق عليه

اور حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ کو جب بھی دو کاموں میں سے کسی ایک کام کو چن لینے کا اختیار دیا جاتا تو آپ ہمیشہ اسی کام کو چنتے جو ہلکا اور آسان ہوتا، بشرطیکہ وہ گناہ کا موجب نہ ہوتا، اگر وہ (ہلکا اور آسان) کام گناہ کا موجب ہوتا تو آپ اس سے سب سے دور رہنے والے شخص ہوتے۔ اور آنحضرت ﷺ اپنی ذات کے لئے کبھی کسی بات کا انتقام نہیں لیتے تھے، ہاں اگر کوئی ایسی بات ہوتی جس کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے تو پھر آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کے (حکم کے) پیش نظر اس کی سزادیتے تھے۔ ( بخاری ومسلم ) تشریح اس حدیث کی وضاحت میں علماء اور شارحین نے لکھا ہے کہ اختیار دینے کا تعلق اللہ تعالیٰ سے بھی ہوسکتا ہے اور لوگوں سے بھی۔ اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے اختیار ملنا مراد ہو تو اس صورت میں یہ اشکال پیدا ہوگا کہ آنحضرت ﷺ کا معصوم عن الخطا ہونانص سے ثابت ہے اور کسی گناہ کی طرف آپ ﷺ کی نسبت ہو ہی نہیں سکتی، اس لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ ﷺ کو ایسی دو چیزوں میں سے کوئی ایک چیز پسند کرلینے کا اختیار کیسے دیا جاسکتا تھا جس میں سے کوئی بھی ایک چیز گناہ کا موجب ہوتی؟ اس اشکال کا جواب یہ ہے کہ بشرطیکہ اس میں گناہ کی کوئی بات ہوتی۔ میں گناہ سے مراد وہ چیز ہے جو بذات خود تو گناہ کی نہ ہو لیکن وہ کسی بھی درجہ میں گناہ تک پہنچانے کا احتمال رکھتی ہو۔ مثلا اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو اخیتار دیا تھا کہ دنیاوی زندگی گذارنے کے لئے چاہے دنیا کے خزانے لے لیں جو آپ ﷺ کو دیئے جائیں گے، چاہے بقدر ضرورت و حاجت روزی پر قناعت کریں، ان دونوں میں سے دوسری چیز کو آپ ﷺ نے اختیار فرمایا اور پہلی چیز کو آپ ﷺ نے اس لئے پسند نہیں فرمایا کہ اگر دنیاوی مال و دولت کے خزانے بذات خود کوئی گناہ کی چیز نہیں لیکن اس بات کا احتمال ضرور ہوتا ہے کہ کوئی شخص اس کے کاروبار اور معاملات میں اس طرح مشغول و مصروف ہوجائے کہ عبادت اور دینی امور کی طرف ضروری توجہ بھی نہ دے سکے پس اس حدیث کا اطلاق اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے اختیار ملنے پر کیا جائے تو یہ بات ضرور ملحوظ رکھی جائے کہ گناہ سے مراد واقعی گناہ نہیں ہے بلکہ وہ چیز مراد ہے جو گناہ کے احتمال کو ظاہر کرنے والی ہو اور ایسی چیز بذات خود گناہ میں شمار نہیں ہوتی۔ لوگوں کی طرف سے اختیار ملنے کی دو صورتیں ہیں۔ ایک تو یہ کہ کافروں کی طرف سے اختیار ملنا مراد ہو، اس صورت میں بالکل ظاہر ہے کہ ان دو چیزوں میں سے ایک چیز گناہ کا موجب ضرور ہوتی ہوگی اور دوسرے یہ کہ مسلمانوں کی طرف سے اختیار ملنا مراد ہو تو اس صورت میں گناہ سے مراد وہ چیز ہوگی جو گناہ کا باعث بنتی ہو جیسے مجاہدہ اور اقتصاد کے درمیان اختیار ملنا، ظاہر ہے کہ مجاہدہ اگرچہ گناہ کی چیز نہیں ہے لیکن اگر مجاہدہ میں اتنی زیادتی اور شدت اختیار کی جائے جو ہلاکت تک پہنچا دے تو مجاہدہ ناجائز ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اختیار ملنے کی صورت وہ بھی مراد ہوسکتی ہے جس کا تعلق آپ کی ذات سے نہیں، بلکہ آپ ﷺ کے واسطہ سے دوسروں کی ذات سے ہو مثلا اگر اختیار دیا جاتا کہ آپ اپنی امت کے حق میں فلاں گناہ کی ان دو سزاؤں میں سے کسی ایک سزا کو پسند کرلیجئے تو آپ اس سزا کو پسند کرتے جو ہلکی ہوتی، یا اگر یہ کہا جاتا کہ آپ ﷺ اپنی امت کے حق میں ان دو چیزوں میں سے اس چیز کو پسند فرماتے جو سزا کا مستوجب کرنے والی نہ ہوتی، یا مثلا آپ ﷺ کو اختیار دیا گیا تھا کہ جو کفار آپ ﷺ کے زیر تسلط آئیں ان کو چاہے قتل کردیجئے چاہے ان پر جزیہ عائد کر کے ان کے جان ومال اور آبرو کی حفاظت کیجئے آپ ﷺ نے جزیہ کی صورت کو پسند فرما لی اور یا آپ ﷺ کو اللہ کے حق میں اختیار دیا گیا تھا کہ اس کی عبادت میں چاہے مجاہدہ کو پسند کرلیں، چاہے اقتصاد کو، آپ ﷺ نے اقتصاد کو پسند فرمایا۔ اپنی ذات کے لئے کبھی کسی بات کا انتقام نہیں لیتے تھے۔ کے بارے میں ابن حجر نے لکھا ہے! اس کی مراد یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کبھی کسی غلطی یا جرم کی سزا اپنی ذات کا انتقام لینے یا اپنی طبعی خواہش کی تکمیل کے لئے نہیں دیتے تھے۔ اس وضاحت سے آپ ﷺ کے اس عمل پر کوئی اشکال پیدا نہیں ہوگا کہ آپ ﷺ نے ایسے کئی لوگوں کو قتل کرنے کا حکم صادر فرمایا جنہوں نے آپ ﷺ کو سخت ایذائیں پہنچائی تھیں ان لوگوں کے قتل کا حکم اس جرم کی سزا دینے کے لئے تھا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی حرام کی ہوئی باتوں کا ارتکاب کیا تھا اور اسلام دشمنی میں حد سے بڑھ جانے کے سبب اللہ کی طرف سے سزا کے مستوجب بن چکے تھے۔

5741Mishkaat-al-Masabih

آنحضرت ﷺ نے کبھی کسی کو نہیں مارا :

وعنها قالت : ما ضرب رسول الله صلى الله عليه و سلم لنفسه شيئا قط بيده ولا امرأة ولا خادما إلا أن يجاهد في سبيل الله وما نيل منه شيء قط فينتقم من صاحبه إلا أن ينتهك شيء من محارم الله فينتقم لله . رواه مسلم

اور حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے کبھی کسی چیز (یعنی آدمی) کو اپنے ہاتھ سے نہیں مارا، عورت اور خادم کو بھی نہیں، علاوہ اس صورت کے جب آپ ﷺ اللہ کی راہ میں جہاد کرتے تھے اور کبھی ایسا نہیں ہوا کہ (کسی شخص کی طرف سے) آپ ﷺ کو کوئی اذیت و تکلیف پہنچی ہو اور آپ ﷺ نے اذیت و تکلیف پہنچانے والے سے انتقام لیا ہو ہاں اگر اللہ کی حرام کی ہوئی کسی چیز کا ارتکاب کیا جاتا تو آپ اللہ (کے حکم کی تعمیل) کے لئے اس کو سزا دیتے تھے۔ (مسلم) تشریح ترجمہ میں بین القوسین آدمی کی قید اس لئے لگائی گئی ہے کہ بعض موقعوں پر سواری کے جانور کو مارنا منقول ہے۔ خادم کا اطلاق مرد و عورت دونوں صنف کے خادم پر ہوتا ہے! نیز اس ارشاد گرامی میں خادم اور عورت کا ذکر خصوصیت کے ساتھ اس لئے کیا گیا ہے کہ عام طور پر ان دونوں کو کمزور جان کر زیادہ مارا اور ستایا جاتا ہے اور چونکہ مرد کا زندگی میں انہیں دونوں سے زیادہ واسطہ پڑتا ہے، نجی اور خانگی معاملات کا پیشتر انحصار انہی پر ہوتا ہے اور اسی وجہ سے ان کی طرف سے غصہ اور ناراضگی کے مواقع زیادہ آتے رہتے ہے، اس لئے ان دونوں کو خاص طور پر ذکر کے اس طرف اشارہ فرمایا گیا کہ اس باب ان دونوں کو غیر اہم نہ جانا جائے ایسا نہیں ہے کہ ان دونوں کی کمزوری اور لاچاری کا فائدہ اٹھا کر ان کے ساتھ کوئی بھی سلوک روا رکھا جاسکتا ہے اور ذرا ذرا سی بات پر ان کو مارا پیٹا جاسکتا ہے اگرچہ بعض حالات میں اور کچھ شرائط کے ساتھ ان کو تھوڑا بہت مار دینا جائز ہے لیکن ان حالات میں مارنے سے اجتناب کرنا بھی اولی قرار پاتا ہے اس پر اولاد کو مارنے کے مسئلہ کو قیاس نہ کرنا چاہے کیونکہ ان کی تادیب سب سے مقدم ہے اور اس سلسلہ میں اسی رو رعایت کی گنجائش نہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ اولاد کو مارنا اس کی اصلاح کے لئے ہوتا ہے جب کہ ان دونوں کو مارنے کا تعلق زیادہ تر نفس کے غلط تقاضے سے ہوتا ہے صحیح تریبت اور تادیب کے پیش نظر اولاد کی غلطی پر اس کو مارنا اولی ہے اور نفس کے تقاضے اور غصہ پر قابو رکھنے کے لئے ان دونوں (خادم اور عورتوں) کے تئیں عفو و درگذر کا معاملہ اولی قرار پایا۔ علاوہ اس صورت کے جب آپ ﷺ اللہ کی راہ میں جہاد کرتے تھے۔ خدا کی راہ میں جہاد اللہ کے دشمنوں سے ہوتا ہے، اس لئے اس وقت آنحضرت ﷺ کسی کے ساتھ عفو و درگذر کا معاملہ نہیں کرتے تھے۔ چناچہ غزوہ احد میں ایک دشمن اللہ ابی ابن خلف کو آپ ﷺ نے اپنے ہاتھوں سے قتل کیا۔ نیز یہاں اللہ کی راہ میں جہاد کا اطلاق صرف اللہ کے دشمنوں کو مارنے ہی پر نہیں بلکہ حدودوتعزیرات (شرعی ودینی سزاؤں کے نفاذ) صورتیں بھی مراد ہیں۔

5742Mishkaat-al-Masabih

خدام کے ساتھ آنحضرت ﷺ کا برتاؤ :

عن أنس قال : خدمت رسول الله صلى الله عليه و سلم وأنا ابن ثمان سنين خدمته عشر سنين فما لامني على شيء قط أتي فيه على يدي فإن لامني لائم من أهله قال : دعوه فإنه لو قضي شيء كان . هذا لفظ المصابيح وروى البيهقي في شعب الإيمان . مع تغيير يسير

حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ جب مجھ کو رسول کریم ﷺ کی خدمت میں پیش کیا گیا تو میری عمر آٹھ سال کی تھی، اس وقت سے مسلسل دس سال تک میں آپ ﷺ کی خدمت کے فرائض انجام دیتا رہا (جو مدینہ میں آپ ﷺ کی کل مدت قیام ہے) اس پورے عرصہ میں ایسا کبھی نہیں ہوا کہ میرے ہاتھ سے کوئی چیز ضائع ہوگئی ہو اور آپ ﷺ نے مجھ کو ملامت کی ہو، اگر آنحضرت ﷺ کے اہل بیت میں سے کوئی شخص (کسی چیز کے ضائع ہوجانے پر مجھ کو ملامت کرتا تو آپ ﷺ فرماتے جانے دو، اس کو ملامت نہ کرو، حقیقت یہ ہے کہ جو بات ہونے والی ہوتی ہے ضرور ہو کر رہتی ہے۔ روایت کے یہ الفاظ مصابیح کے ہیں اور بیہقی نے بھی اس روایت کو کچھ الفاظ کے تغیر وتبدل کے ساتھ شعب الایمان میں نقل کیا ہے۔ تشریح جو بات ہونے والی ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔۔ الخ۔ کا مطلب یہ ہے کہ کسی بھی چیز کا ٹونٹا پھوٹنا اور تلف ہونا قضا وقدر الہٰی کے تحت ہوتا ہے اگرچہ اس کا ظاہری سبب کچھ ہو اگر کوئی شخص کسی چیز کے ضائع ہوجانے کا ظاہری سبب بنا ہے تو اس کو ملامت کرنے سے کوئی فائدہ نہیں اسی حقیقت کے پیش نظر ایک حدیث میں فرمایا گیا ہے کہ اگر لونڈی وخادمہ کے ہاتھ سے کوئی برتن ٹوٹ جائے تو اس کو مارو نہیں کیونکہ ہر چیز کے لئے فنا ہے اور اس کے باقی رہنے کی ایک مدت مقر رہے۔