حضور ﷺ کی پنڈلیاں، آنکھیں اور مسکراہٹ :
وعن جابر بن سمرة قال : كان في ساقي رسول الله صلى الله عليه و سلم حموشة وكان لا يضحك إلا تبسما وكنت إذا نظرت إليه قلت : أكحل العينين وليس بأكحل . رواه الترمذي
اور حضرت جابر ابن سمرۃ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کی پنڈلیاں سبک ونازک تھیں۔ اور آپ ﷺ (عام طور) ہنسا نہیں کرتے تھے بلکہ مسکرایا کرتے تھے اور میں جب آپ ﷺ کی طرف تو دل میں کہتا کہ آپ ﷺ سرمہ لگائے ہوئے ہیں حالانکہ آپ ﷺ سرمہ لگائے نہ ہوتے تھے۔ (ترمذی)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ کی آنکھیں خلقی طور پر سرمہ آگیں ہونے کی وجہ سے بہت حسین و خوبصورت معلوم ہوتی تھیں۔ بسان سرمہ سیہ کردہ خانہ مردم دو جشم تو کہ سیاہ اند سرمہ نا کردہ
عن ابن عباس قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم أفلج الثنيتين إذا تكلم رئي كالنور يخرج من بين ثناياه . رواه الدارمي
حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ آپ ﷺ کے اگلے دو دانت کشادہ تھے، جب کشادہ تھے، جب آپ ﷺ گفتگو فرماتے تو ایسا محسوس ہوتا کہ آپ ﷺ کے ان دونوں دانتوں کے درمیان سے نور نکل رہا ہے۔ (دارمی) تشریخ سامنے کے اوپر اور نیچے کے جو دو دو دانت ہوتے ہیں ان کو عربی میں ثنیان اور ثنایا کہتے ہیں، ثنیاں تثنیہ ہے اور ثنایا جمع۔ اسی طرح ان دو دانتوں کے دائیں اور بائیں جو دو دانت ہوتے ہیں ان کو رباعیات کہا جاتا ہے۔ حدیث سے معلوم ہوا کہ آپ ﷺ کے سامنے کے یہ دو دانت ایک دوسرے سے بالکل جڑے ہوئے نہیں تھے، بلکہ ان دونوں کے درمیان کچھ خلا تھا، نیز الفاظ حدیث سے بظاہر یہ بھی مفہوم ہوتا ہے کہ یہ خلاصرف اوپر ہی کے دانتوں کے درمیان نہیں تھا بلکہ نیچے کے دونوں دانتوں کے درمیان بھی تھا۔
حضور ﷺ کی خوش دلی چہرہ سے نمایاں ہوجاتی تھی :
وعن كعب بن مالك قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا سر استنار وجهه حتى كأن وجهه قطعة قمر وكنا نعرف ذلك . متفق عليه
اور حضرت کعب ابن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم جب خوش ہوتے تو آپ کا چہرہ مبارک کھل اٹھتا تھا اور ایسے معلوم ہونے لگتا کہ آپ کا چہرہ مبارک چاند کا ٹکڑا ہے اور اس چیز سے ہم ( آپ ﷺ کی اندرونی کیفیت پہچان لیتے تھے) (بخاری و مسلم)
حضور ﷺ کی صفات و خصوصیات کا توریت میں ذکر
وعن أنس أن غلاما يهوديا كان يخدم النبي صلى الله عليه و سلم فمرض فأتاه النبي صلى الله عليه و سلم يعوده فوجد أباه عند رأسه يقرأ التوراة فقال له رسول الله صلى الله عليه و سلم : يا يهودي أنشدك بالله الذي أنزل التوراة على موسى هل تجد في التوراة نعتي وصفتي ومخرجي ؟ . قال : لا . قال الفتى : بلى والله يا رسول الله إنا نجد لك في التوراة نعتك وصفتك ومخرجك وإني أشهد أن لا إله إلا الله وأنك رسول الله . فقال النبي صلى الله عليه و سلم لأصحابه : أقيموا هذا من عند رأسه ولوا أخاكم . رواه البيهقي في دلائل النبوة
حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ کی خدمت کیا کرتا تھا، بیمار ہوا تو نبی کریم ﷺ اس کی عیادت کو اس کے گھر تشریف لائے، آپ ﷺ نے دیکھا کہ اس کا باپ اس کے سرھانے بیٹھا ہوا ہے تورات کا کوئی حصہ پڑھا رہا ہے (جیسے مسلمانوں میں نزع کے وقت سورت یٰسین پڑھی جاتی ہے) رسول کریم ﷺ نے (یہ دیکھ کر) اس سے پوچھا کہ یہودی! میں تمہیں اس اللہ کی قسم دے کر دریافت کرتا ہوں جس نے موسیٰ (علیہ السلام) پر تورات نازل کی (سچ سچ بتانا) کیا تم اس تورات میں میری تعریف و توصیف اور میرے (وطن سے) نکلنے کا ذکر پاتے ہو؟ اس یہودی نے جواب دیا کہ نہیں لیکن وہ لڑکا بولا ہاں یا رسول اللہ! خدا کی قسم اس تورات میں ہم آپ ﷺ کی تعریف و توصیف اور آپ کے نکلنے کا ذکر پاتے ہیں اور میں یقینی طور پر اس امر کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی نہیں معبود نہیں اور اس امر کی بھی گواہی دیتا ہوں کہ بلاشبہ آپ اللہ کے رسول ہیں رسول کریم ﷺ نے اس لڑکے کی اس راست گوئی اور اس کے اظہار ایمان واسلام کو دیکھ کر) اپنے صحابہ کرام سے فرمایا کہ اس کے باپ کو اس کے سرہانے سے اٹھادو اور تم اپنے اس (دینی) بھائی کے والی بنو (یعنی اگر اسی لڑکے کا انتقال ہوجائے تو پھر اس کے تجہیزوتکفین وغیرہ کے امور تم انجام دو ) اس روایت کو بیہقی نے دلائل النبوۃ میں ذکر کیا ہے،
تشریح
میرے نکلنے کا ایک مطلب تو وطن یعنی مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ آجانا ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ لفظ مخرج یہاں بعث (منصب رسالت ونبوت پر فائز ہونے) کے معنی میں ہو۔ لفظ، نعت اور صفت، لغوی طور پر دونوں ہم معنی ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ یہاں نعت سے مراد آپ ﷺ کے ذاتی و باطنی اوصاف ہیں اور، صفت، سے ظاہری اوصاف مراد ہیں۔
آنحضرت ﷺ کی بعثت، رحمت خداوندی کا ظہور ہے :
وعن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه قال : إنما أنا رحمة مهداة . رواه الدارمي والبيهقي في شعب الإيمان
اور حضرت ابوہریرہ ؓ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا! حقیقت یہ ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کی بھیجی ہوئی رحمت ہوں۔ (اس روایت کو دارمی نے اور شعب الایمان میں بیہقی نے نقل کیا ہے شریح آنحضرت ﷺ کے اس ارشاد گرامی کا مطلب یہ ہے کہ میرا وجود، میری رسالت اور میرا لایا ہوا دین اللہ کی وہ عظیم رحمت ہے جو اس نے تمام کائنات کے لئے ہدیہ کے طور پر دنیا میں بھیجا پس جن لوگوں نے اللہ کے اس ہدیہ اور تحفہ کو قبول کیا وہ مطلب یاب ہوئے اور جن لوگوں نے قبول نہیں کیا وہ سراسر ٹوٹے میں رہے۔ ارشادگرامی مضمون کے اعتبار سے قرآن کریم کے ان الفاظ کا عکس ہے۔ وما ارسلنک الا رحمتہ العالمین۔ (اے محمد ﷺ ہم نے آپ ﷺ کو تمام عالم کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے، اس حدیث کے بین السطور سے امت محمدیہ کی عظمت و کر امت بھی ظاہر ہوتی کیونکہ شاہی ہدیہ وتحفہ ان ہی لوگوں کے پاس بھیجا جاتا ہے جو باعظمت وباکرامت ہو۔