وعن النعمان بن بشير قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : أنذرتكم النار أنذرتكم النار فما زال يقولها حتى لو كان في مقامي هذا سمعه أهل السوق وحتى سقطت خميصة كانت عليه عند رجليه . رواه الدارمي
اور حضرت نعمان بن بشیر ؓ کہتے ہیں کہ ایک دن میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا (لوگو! ) میں نے تم کو دوزخ کی آگ سے ڈرایا، میں نے تم کو دوزخ کی آگ سے ڈرایا۔ آپ ﷺ یہ باربار فرما رہے تھے (اور ایک عجیب کیفیت کے عالم میں جھوم جھوم کر اتنی بلند آواز سے فرما رہے تھے کہ) اگر آپ اس جگہ تشریف فرما ہوتے جہاں اس وقت میں بیٹھا ہوں تو یقینا آپ ﷺ کی آواز بازار والے سنتے یہاں تک کہ اس وقت ( اس جھومنے کی وجہ سے آپ ﷺ کی کالی کملی جو کاندھے پر پڑی تھی پیروں میں گر پڑی تھی۔
تشریح
میں نے تم کو دوزخ کی آگ سے ڈرایا۔ کا مطلب یہ تھا کہ میں نے تم کو عذاب دوزخ کے وقوع پذیر ہونے کی خبر دی۔ اس عذاب کی شدت و سختی سے آگاہ کردیا کھول کھول کر یہ بیان کردیا کہ عقیدہ وعمل کا کونسا راستہ دوزخ کی طرف لیجاتا ہے اور کون سا راستہ اس سے بچاتا ہے اور میں نے کتنی ہی وہ مختلف صورتیں بتادی ہیں جن کو تم اپنی استطاعت و طاقت کے بقدر اختیار کرکے دوزخ کی آگ سے محفوظ رہ سکتے ہو، میں نے یہاں تک کہا ہے کہ اتقوا النارولو بشق تمرۃ۔ یعنی (صدقہ و خیرات دوزخ سے بچانے والے ہیں) اگر تم کھجور کا ایک ٹکڑا ہی صدقہ و خیرات کرسکتے ہو تو وہی صدقہ و خیرات کرکے دوزخ کی آگ سے بچواب اگر اس کے بعد بھی تم میں سے کوئی شخص دوزخ کے عذاب سے نہیں ڈرتا اور ایسے راستے اختیار کرتا ہے جو اس کو سیدھا دوزخ میں لے جانے والے ہیں، تو وہ شخص جانے۔
دوزخیوں کو باندھنے کی زنجیر :
وعن عبد الله بن عمرو بن العاص قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لو أن رصاصة مثل هذه - وأشار إلى مثل الجمجمة - أرسلت من السماء إلى الأرض وهي مسيرة خمسمائة سنة لبلغت الأرض قبل الليل ولو أنها أرسلت من رأس السلسلة لسارت أربعين خريفا الليل والنهار قبل أن تبلع أصلها أو قعرها رواه الترمذي
اور حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اگر سیسہ ( رانگے) کا ایک گولہ جو اس جیسا ہو اور آپ ﷺ نے سر کی طرف اشارہ کیا کہ کھوپڑی جیسا ہو۔ ( یعنی سیسے کا وہ گولہ جو کھوپڑی کی طرح گول اور بھاری ہونے کی وجہ سے نہایت سرعت کے ساتھ لڑھکنے والا ہو) آسمان سے زمین کی طرف پھینکا جائے جس کا درمیانی فاصلہ پانچ سو برس کی مسافت کے برابر ہے تو یقینًا وہ (گولہ) ایک رات گزرنے سے پہلے (یعنی مختصر مدت میں) زمین پر پہنچ جائے لیکن اگر وہ گولہ زنجیر کے سرے سے چھوڑا جائے تو چالیس سال تک مسلسل دن و رات لڑھکنے کے باوجود اس کی زنجیر کی جڑ یعنی اس کے آخری سرے تک یا یہ فرمایا کہ اس کی تہ تک نہ پہنچے۔ (ترمذی)
تشریح
زنجیر سے مراد وہ زنجیر ہے جس میں کافر و دوزخی اس طرح جکڑا جائے گا کہ وہ اس کی مقعد میں ڈال کر نتھنوں میں سے نکالی جائے گی، اس زنجیر کا ذکر قرآن کریم کے ان الفاظ میں ہے۔ ثم فی سلسلۃ ذرعہا سبعون ذراعا فاسلکوہ۔ (فرشتوں کو حکم ہوگا کہ) اس (دوزخی) کو ایک زنجیر میں جکڑو جس کی لمبائی ستر گز ہے اس موقع پر اشکال پیدا ہوتا ہے کہ جب قرآن کی رو سے اس زنجیر کی لمبائی ستر گز ہوگی تو وہ اس قدر مسافت کے برابر کیسے ہوسکتی ہے جس کا ذکر حدیث میں کیا گیا ہے اس کا جواب یہ ہے کہ اول تو ستر گز سے مخصوص عدد اور زنجیر کی متعین لمبائی مراد نہیں ہے بلکہ اس عدد سے (کثرت و مبالغہ) مراد ہے، دوسرے یہ کہ وہاں کے گز کو اس دنیا کے گز پر قیاس نہ کرنا چاہے، اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ وہاں کا گز کتنا لمبا ہوگا اور اس کی کیا صورت ہوگی۔ اس کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے۔ آخرت کے قیراط کو احد پہاڑ کے برابر فرمایا گیا ہے۔ ایک بزرگ نوف بکالی سے منقول ہے کہ انہوں نے کہا ستر گز اس طرح کے ہوں گے کہ ہرگز دو ہتوں کے برابر ہوگا اور ہر دوہتا اس فاصلہ کے برابر لمبا ہوگا جو اس جگہ (کوفہ) اور مکہ کے درمیان ہے۔ حضرت حسن بصری (رح) نے اس آیت کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ ہی جانتا ہے کہ اس گز کی مقدار کیا ہوگی۔ بہرحال حدیث کا حاصل یہ ہے کہ جس زنجیر میں کافر دوزخی کو جکڑا جائے گا اگر اس کی لمبائی کا اندازہ لگانا چاہو تو اس سے لگاؤ کہ اگر ایک سیسے کا گولہ آسمان سے چھوڑا جائے اور باوجودیکہ زمین و آسمان کے درمیان پانچ سو برس کی مسافت کے برابر فاصلہ ہے وہ گولہ بہت تھوڑی سی دیر میں زمین پر پہنچ جائے گا کیونکہ گول اور بھاری چیز اوپر سے نیچے کو بہت جلدی آتی ہے لیکن اگر وہی گولہ اس زنجیر کے ایک سرے سے لڑھکایا جائے اور آسمان سے زمین والی اسی تیز رفتاری کے ساتھ چالیس سال تک لڑھکتا رہے تب بھی اس زنجیر کے دوسرے سرے تک پہنچ نہیں پائے گا۔
وعن أبي بردة عن أبيه أن النبي صلى ا لله عليه وسلم قال : إن في جهنم لواديا يقال له : هبهب يسكنه كل جبار رواه الدارمي
اور حضرت ابوبردہ (رح) (تابعی) اپنے والد ( حضرت ابوموسیٰ اشعری) سے نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا دوزخ میں ایک نالا ہے جس کا نام ہبہب ہے اس نالہ میں ہر اس شخص کو رکھا جائے گا جو متکبر و سرکش حق سے دور مخلوق پر سختی کرنے والا ہے۔ (دارمی)
تشریح
ہبہب کے اصل معنی تیزی وجلدی کے ہیں اور مذکورہ نالہ کو ہبہب کا نام اسی مناسبت سے دیا گیا ہے کہ ایک تو اس نالہ میں بھڑکنے والی آگ سے بہت تیز شعلے اٹھتے ہیں دوسرے یہ کہ نالہ میں ڈالے جانے والے گنہگاروں کو عذاب بڑی سرعت کے ساتھ ہوگا۔
دوزخیوں کی طویل وعریض جسامت :
عن ابن عمر عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : يعظم أهل النار في النار حتى إن بين شحمة أذن أحدهم إلى عاتقه مسيرة سبعمائة عام وإن غلظ جلده سبعون ذراعان وإن ضرسه مثل أحد
حضرت ابن عمر نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا۔ دوزخ میں دوزخیوں کے بدن بہت بڑے بڑے ہوجائیں گے ( جس سے ان کو عذاب بھی زیادہ معلوم ہوگا یہاں تک کہ ایک دوزخی کے کان کی لو سے اس کے کاندھے تک کا فاصلہ سات سو سال کی مسافت کے برابر ہوگا اس کی کھال کی موٹائی ستر گز کی ہوگی اور اس کے دانت احد پہاڑ کے برابر ہوں گے۔
وعن عبد الله بن الحارث بن جزء قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن في النار حيات كأمثال البخت تلسع إحداهن اللسعة فيجد حموتها أربعين خريفا وإن في النار عقارب كأمثال البغال المؤكفة تلسع إحداهن اللسعة فيجد حموتها أربعين خريفا . رواهما أحمد
اور عبداللہ بن حارث بن حزء کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا دوزخ میں بختی اونٹ کے برابر (بہت بڑے بڑے) سانپ ہیں ان میں سے جو سانپ ایک دفعہ بھی جس کو ڈس لے گا وہ اس کے زہر کی ٹیس ولہر اور درد کی شدت میں چالیس سال تک مبتلا رہے گا اس طرح دوزخ میں جو بچھو ہیں وہ پالان بندھے خچروں کے مانند ہیں اور ان میں سے جو بچھو ایک دفعہ جس کو ڈنگ مارے گا وہ اس کی لہر اور درد کی شدت میں چالیس سال تک مبتلا رہے گا (ان دونوں روایتوں کو احمدنے نقل کیا ہے )
چاند وسورج سپرد آگ کردئیے جائیں گے :
وعن الحسن قال : حدثنا أبو هريرة عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : الشمس والقمر ثوران مكوران في النار يوم القيامة . فقال الحسن : وما ذنبهما ؟ فقال : أحدثك عن رسول الله صلى الله عليه و سلم فسكت الحسن . رواه البيهقي في كتاب البعث والنشور
اور حضرت حسن بصری (رح) کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ ؓ نے ہم سے رسول کریم ﷺ کی یہ حدیث بیان کی کہ آپ ﷺ نے فریاما قیامت کے دن سورج اور چاند کو پنیر کے دو ٹکڑوں کی طرح لپیٹ کر ( دوزخ کی آگ میں ڈال دیا جائے گا حضرت حسن بصری (رح) کہتے ہیں کہ میں نے یہ حدیث سن کر حضرت ابوہریرہ ؓ سے پوچھا کہ آخر سورج و چاند کیا گناہ کرتے ہیں کہ ان کو آگ کے سپرد کردیا جائے گا حضرت ابوہریرہ ؓ نے جواب دیا میں نے جو کچھ بیان کیا وہ رسول کریم ﷺ کی حدیث ہے حضرت حسن بصری (رح) سن کر خاموش ہوگئے۔ اس روایت کو بیہقی نے کتاب البعث والنشور میں نقل کیا ہے۔
تشریح
حضرت ابوہریرہ ؓ نے اپنے مذکورہ جواب کے ذریعہ گویا حضرت حسن بصری (رح) کو متنبہ کیا کہ تم قیاس کو صریح نص (یعنی حدیث کے مقابل کر رہے ہو اور یہ سمجھ رہے ہو کہ دخول دوزخ کا اصل موجب عمل ہے حالانکہ اصل چیز اللہ تعالیٰ کی مشیت ہے کہ وہ جو چاہے کرے۔ یہ بات علامہ طیبی (رح) نے لکھی ہے لیکن زیادہ درست یہ وضاحت ہے کہ حضرت حسن بصری کے کہنے کا مقصد گویا اس خواہش کا اظہار تھا کہ حضرت ابوہریرہ ؓ وہ حکمت بھی بیان کردیں جو سورج و چاند کو دوزخ کی آگ کے سپرد کئے جانے کے پیچھے کار فرما ہوگی اور حضرت ابوہریرہ ؓ کے جواب کا مطلب یہ تھا کہ میں نے آنحضرت ﷺ سے جو کچھ سنا اس کو تمہارے سامنے بیان کردیا اس سے زیادہ مجھے بھی کچھ معلوم نہیں۔ ویسے بعض علماء نے لکھا ہے کہ سورج و چاند کو دوزخ میں اس لئے ڈالا جائے گا کہ دوزخ کی آگ میں ان دونوں کی حرارت و تمازت بھی شامل ہوجائے اور دوزخیوں پر عذاب کی شدت اور بڑھ جائے دیلمی (رح) نے مسند فردوس میں حضرت عمر ؓ سے بطریق مرفوع نقل کیا ہے کہ سورج و چاند کا رخ عرش کی طرف ہے اور ان کی پشت دنیا کی طرف ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر ان دونوں کا رخ دنیا کی طرف ہوتا تو دنیا والے ان کی حرارت و تمازت ہرگز برداشت نہیں کرسکتے تھے اور بعض نے یہ لکھا ہے کہ مشرک چونکہ چاند وسورج کی پوجا کرتے ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان دونوں کو دوزخ میں جھونک کر مشرکین کو شرمندہ کرے گا کہ تم لوگ جن چیزوں کو اللہ مانتے تھے اب دیکھو ان کا کیا حال ہے۔
وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا يدخل النار إلا شقي . قيل : يا رسول الله ومن الشقي ؟ قال : من لم يعمل لله بطاعة ولم يترك له معصية . رواه ابن ماجه
اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا دوزخ میں وہی شخص ڈالا جائے گا جو شقی یعنی بدبخت ہے پوچھا گیا کہ یا رسول اللہ ﷺ کون شقی ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا شقی وہ ہے جو نہ تو اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی کی خاطر (فرض و واجب) عبادت و طاعات اختیار کرے اور نہ اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی کے لئے یعنی خوف سے گناہ و معصیت ترک کرے۔ (ابن ماجہ )
تشریح
شقی کا لفظ عام مفہوم میں استعمال کیا گیا ہے یعنی اس سے کافر بھی مراد ہے اور مسلمان فاجر بھی۔