حوض اور شفاعت کا بیان

Mishkaat-al-Masabih · Chapter 172 · 39 hadiths · Page 2 of 2

5499Mishkaat-al-Masabih

جب موت کو بھی موت کے سپرد کردیا جائے گا

وعن ابن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا صار أهل الجنة إلى الجنة وأهل النار إلى النار جيء بالموت حتى يجعل بين الجنة والنار ثم يذبح ثم ينادي مناد : يا أهل الجنة لا موت ويا أهل النار لا موت . فيزداد أهل الجنة فرحا إلى فرحهم ويزداد أهل النار حزنا إلى حزنهم . متفق عليه

اور حضرت ابن عمر ؓ کہتے ہیں جب جنتی جنت میں اور دوزخی دوزخ میں ( اپنی اپنی جگہ) جالیں گے تو موت کو لایا جائے گا ( اور بعض روایتوں میں یہ ہے کہ موت کو ایک دنبہ کی شکل میں لایا جائے گا) اور اس کو جنت و دوزخ کے درمیان ڈال کر ذبح کردیا جائے گا، پھر اعلان کرنے والا اعلان کرے گا کہ اے جنتیوں! ( سن لو) اب موت کا کوئی وجود نہیں رہا ( جو بھی شخص جہاں اور جس حالت میں ہے، اس پر کبھی موت کا سایہ نہیں پڑے گا، ہر ایک کو ہمیشہ ہمیشہ کی زندگی حاصل ہوگئی ہے) اور اے دوزخیو! ( تم بھی سن لو) اب موت کا کوئی وجود نہیں رہا۔ ( یہ اعلان سن کر) اہل جنت کی فرحت ومسرت کا کوئی ٹھکانہ نہیں رہے گا اور اہل دوزخ رنج وغم کے دریا میں اور زیادہ ڈوب جائیں گے۔ (بخاری ومسلم )

5500Mishkaat-al-Masabih

حوض کو ثر پر سب سے پہلے آنے والے فقراء مہاجرین ہوں گے

عن ثوبان عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : حوضي من عدن إلى عمان البلقاء ماؤه أشد بياضا من اللبن وأحلى من العسل وأكوابه عدد نجوم السماء من شرب منه شربة لم يظمأ بعدها أبدا أول الناس ورودا فقراء المهاجرين الشعث رؤوسا الدنس ثيابا الذين لا ينكحون المتنعمات ولا يفتح لهم السدد . رواه أحمد والترمذي وابن ماجه . وقال الترمذي : هذا حديث غريب

حضرت ثوبان نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا میرے حوض کوثر کی لمبائی عدن بلقاء کے درمیانی فاصلہ کے بقدر ہے، اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ شیریں ہے، اس کے آب خورے ( پانی پینے کے برتن) آسمان کے ستاروں سے زیادہ ہیں۔ جو شخص بھی ایک مرتبہ اس کا پانی پی لے گا پھر اس کو کبھی پیاس نہیں لگے گی، اس حوض پر پانی پینے کے لئے سب سے پہلے آنے والے لوگ فقراء مہاجرین ہوں گے، وہی فقراء مہاجرین جو ( اس دنیا میں اپنے فقر و افلاس کی وجہ سے) پراگندہ بال اور پریشان حال اور پھٹے پرانے حال اور پھٹے پرانے کپڑوں میں نظر آتے ہیں جو خوشحال گھرانوں کی لڑکیوں سے ( اگر اپنے نکاح کا پیغام بھیجیں تو ان سے) نکاح کے قابل نہیں سمجھے جاتے اور جن کے لئے ( گھروں کے) دروازے نہیں کھولے جاتے۔ اس روایت کو احمد، ترمذی نے روایت کیا ہے اور ابن ماجہ نے کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے۔ تشریح جیسا کہ پہلے بھی اسی طرح کی ایک حدیث کی تشریح میں گزر چکا ہے، عدن ایک چھوٹے جزیرہ نما کا نام ہے جو پہلے یمن کی بندرگاہ تھا کچھ عرصہ پہلے تک اس جزیرہ پر انگریزوں کا قبضہ رہا ہے مگر اب خود مختار ریاست کی حیثیت رکھتا ہے، عدن بحر احمر کے جنوبی سرے پر واقع ہے۔ جہاں خلیج عدن، بحر احمر اور بحیرہ عرب ( بحر ہند) کو ملاتی ہے۔ اسی طرح عمان بھی ایک شہر کا نام ہے جو بحر احمر کے شمالی سرے پر پہلے ملک شام کا ایک حصہ تھا اور اب ملک اردن کا دار السلطنت ہے۔ بلقاء اصل میں ایک قدیم شہر کا نام ہے جو کبھی ملک شام کے دار السلطنت ومشق کے قرب و جوار میں آباد تھا۔ اور عمان اسی شہر کے بلقاء سے متعلق ایک دیہاتی علاقہ تھا، اسی بناء پر حدیث میں عمان بلقاء فرمایا گیا ہے! حاصل یہ کہ آخرت میں مجھے جو حوض کوثر عطا ہوگا اس کی لمبائی کا فاصلہ اتنا ہی ہے جتنا فاصلہ عمان بلقاء اور عدن کے درمیان ہے ( موجودہ دور میں اس فاصلہ کو پورے بحر احمر کی لمبائی پر قیاس کیا جاتا ہے کہ حوض کوثر، بحر احمر جتنا لمبا ہوگا) اور یہ بات بھی پہلے بیان کی جا چکی ہے کہ حوض کوثر کی وسعت بیان کرنے کے لئے مختلف حدیثوں میں مختلف شہروں اور علاقوں کے درمیانی فاصلہ کا ذکر کیا گیا ہے مثلا اس حدیث میں عدن اور عمان بلقاء کے درمیانی فاصلہ کا ذکر ہے، ایک حدیث میں یہ ہے کہ حوض کوثر کی لمبائی ایلہ ( ایلات) اور صنعا، ( یمن) کے درمانی فاصلہ کے بقدر ہوگی اور ایک حدیث میں دو مہینے کی مسافت کے بقد ر فاصلہ کا ذکر ہے وغیرہ وغیرہ تو حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے کسی بھی حدیث میں حوض کی وسعت و زیادتی کو ظاہر کرنا ہے، پس جس موقع پر جو مقصود نہیں ہے بلکہ ان سب حدیثوں کا اصل مقصد صرف حوض کے طول وعرض کی وسعت وزیادت کو ظاہر کرنا ہے، پس جس موقع پر جو مخاطب وسامع جن علاقوں و شہروں کے درمیانی فاصلوں اور جس مسافت کی سمجھ اور معلومات رکھتا تھا اسی کے مطابق تمثیل کے طور پر شہروں اور علاقوں اور مسافت کا ذکر فرمایا۔ اس حوض پر پانی پینے کے لئے سب سے پہلے آنے والے لوگ فقراء مہاجرین ہوں گے۔ فقراء مہاجرین کو یہ شرف خصوصی اس لئے حاصل ہوگا کہ دنیا میں دین کی خاطر انہوں ہی نے سب سے زیادہ بھوک پیاس کی صعوبت برداشت کی ہے سب سے زیادہ پریشانی اور تباہ حالی کا شکار یہی لوگ ہوئے ہیں، اس لئے، آخرت میں سب سے پہلے انہی لوگوں کو کوثر پر سیراب کیا جائے گا اور سب سے پہلے انہی کو وہاں خوش آمدید کہا جائے گا۔ اسی مفہوم کو ایک دوسری حدیث میں یوں بیان فرمایا گیا ہے کہ۔ اجوعکم فی الدنیا اشبعکم فی الاخرۃ۔ اور تم میں سے جو لوگ دنیا میں سب سے زیادہ بھوکے رہتے ہیں وہی آخرت میں سب سے زیادہ شکم سیر ہوں گے۔ نیز اللہ تعالیٰ جنت میں ایسے ہی لوگوں کو حکم دے گا۔ کلو واشربوا ہنیأ بما اسلفتم فی الایام الخالیۃ۔ خوب مزے سے کھاؤ اور پیوں۔ اس صورت حال کے صلہ میں جس سے تم گزشتہ ایام ( یعنی دنیاوی زندگی) میں دو چار تھے۔ واضح رہے کہ مہاجرین سے مراد وہ لوگ ہیں جو آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ آگئے تھے اور آنحضرت ﷺ ان کے قائد تھے، نیز انہی کے حکم میں وہ لوگ بھی ہیں جنہوں نے دین کی خاطر اپنے وطن اصلی سے ہجرت اختیار کرلی اور مکہ مکرمہ یا مدینہ منورہ جا کر بس گئے اور اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ انہوں نے راحت وچین اور خوشحالی کی زندگی پر فقروافلاس کو اور شہرت وناموری پر گم نامی وگوشہ گیری کو ترجیح دے کر اختیار کیا اور رضائے الہٰی کے لئے جاہ ومال کے حصول کی جدوجہد کو ترک کرکے علم وعمل کے حصول میں منہمک ہوئے۔ اور جن لوگوں کے لئے دروازے نہیں کھولے جاتے یعنی اگر وہ لوگ بفرض محال کس ضرورت کے تحت یا بلا ضرورت ہی کسی دنیا دار کے دروازے پر جائیں تو ان کی ظاہری شکستہ حالی کی بنا پر وہ ( دنیادار) ان کو اس قابل بھی نہ سمجھے کہ اپنے یہاں گھسنے دے اور اپنے پاس آنے دے یہ گویا اس بات سے کنایہ ہے کہ یہ لوگ اپنی ظاہری حالت کی وجہ سے دنیا داروں کے یہاں کسی دعوت و ضیافت میں بلائے جانے کے قابل نہیں سمجھے جاتے اور سماجی ومجلسی تعلقات میں ان کی طرف کوئی التفات نہیں کیا جاتا۔

5501Mishkaat-al-Masabih

حوض کوثر پر آنے والے لوگوں کا کوئی شمار نہیں ہوگا

وعن زيد بن أرقم قال : كنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم فنزلنا منزلا فقال : ما أنتم جزء من مائة ألف جزء ممن يرد علي الحوض . قيل : كم كنتم يومئذ ؟ قال : سبعمائة أو ثمانمائة . رواه أبو داود (3/215)

اور حضرت زید بن ارقم ؓ کہتے ہیں کہ ( ایک سفر میں) ہم لوگ رسول کریم ﷺ کے ساتھ تھے کہ ایک جگہ ہمارا پڑاؤ ہوا، وہاں آنحضرت ﷺ نے ( اس وقت موجود صحابہ سے) فرمایا کہ ( آخرت میں) جو لوگ میرے پاس حوض کوثر پر آئیں گے ان کی تعداد کے اعتبار سے تم لاکھ جزوں میں سے بھی نہیں ہو۔ حضرت زید بن ارقم ؓ سے سوال کیا گیا کہ اس موقع پر آپ لوگوں کی تعداد کیا تھی؟ انہوں نے کہا کہ سات سو یا آٹھ سو۔ ( ابوداؤد) تشریح اس سے تحدید وتعین مراد نہیں ہے بلکہ حوض کوثر پر آنے والے لوگوں کی کثرت وبہتات کو بیان کرنا مراد ہے، کہ وہاں پانی پینے کے لئے آنے والے لوگوں کی تعداد بیشمار ہوگی۔ ہر نبی کو ایک حوض عطا ہوگا

5502Mishkaat-al-Masabih

حوض کوثر پر آنے والے لوگوں کا کوئی شمار نہیں ہوگا

5594 - [ 29 ] ( لم تتم دراسته ) وعن سمرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن لكل نبي حوضا وإنهم ليتباهون أيهم أكثر واردة وإني لأرجو أن أكون أكثرهم واردة . رواه الترمذي وقال : هذا حديث غريب

اور حضرت سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ( آخرت میں) ہر نبی کو حوض عطا ہوگا ( اور ہر امت اپنے اپنے نبی ﷺ کے حوض پر آکر پانی پئیں گے، پس تمام انبیاء کرام آپس میں اس پر فخر کریں گے کہ کس کے حوض پر زیادہ آدمی آتے ہیں اور مجھے امید ہے کہ سب سے زیادہ آدمی میرے حوض پر آئیں گے۔ ( ترمذی) تشریح مطلب یہ کہ آنحضرت ﷺ کی امت کے لوگوں کی تعداد چونکہ دوسری تمام امتوں کے مقابلہ میں زیادہ ہوگی۔ اس لئے آپ ﷺ کے حوض پر پانی پینے کے لئے آنے والوں کی تعداد بھی زیادہ ہوگی! اور یہ بات بالکل یقینی ہے جس میں کسی شک وشبہ کی گنجائش نہیں، پس آپ کا یہ کہنا کہ مجھے امید ہے اور جس سے شک وتردد کا مفہوم ظاہر ہوتا ہے) محض تواضح و انکساری کی بنا پر ہے۔

5503Mishkaat-al-Masabih

قیامت کے دن آنحضرت ﷺ کہاں کہاں ملیں گے

وعن أنس قا ل سألت النبي صلى الله عليه و سلم أن يشفع لي يوم القيامة فقال : أنا فاعل . قلت يا رسول الله فأين أطلبك ؟ قال اطلبني أول ما تطلبني على الصراط . قلت فإن لم ألقك على الصراط ؟ قال : فاطلبني عند الميزان قلت فإن لم ألقك عند الميزان ؟ قال : فاطلبني عند الحوض فإني لا أخطىء هذه الثلاث المواطن رواه الترمذي وقا لهذا حديث غريب

اور حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ (ایک دن) رسول کریم ﷺ سے درخواست کی کہ آپ ﷺ قیامت کے دن ( عام شفاعت کے علاوہ خاص طور پر الگ سے بھی، میری شفاعت فرمائیں، آپ ﷺ نے فرمایا! اچھا شفاعت کردوں گا۔ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ! آپ ﷺ کو کہاں تلاش کروں اور آپ ﷺ مجھے کہاں ملیں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا! سب سے پہلے مجھے پل صراط پر تلاش کرنا میں نے عرض کیا کہ اگر آپ ﷺ پل صراط پر نہ مل پائیں؟ فرمایا! تو پھر میزان کے پاس تلاش کرنا۔ میں نے عرض کیا کہ اگر آپ ﷺ میزان کے پاس بھی نہ ملیں؟ فرمایا! (اگر ان دونوں جگہ پر نہ مل پاؤں) تو پھر حوض پر مجھے تلاش کرنا میں ان تینوں جگہوں کو چھوڑ کر کہیں نہیں جاؤں گا۔ اس حدیث کو امام ترمذی (رح) نے نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے۔ تشریح حضور ﷺ کے جواب کا حاصل یہ تھا کہ قیامت کے دن یہ تین موقعے اور یہ تین مقام ایسے ہوں گے جہاں لوگوں کو بہت زیادہ پریشانی اور ہولناکی سے دوچار ہونا پڑے گا اور یہی وہ مقام ہوں گے جہاں پیش آنے والے حالات ومعاملات، سفارش و شفاعت کے طلب گارہوں گے، پس میں ان تینوں جگہوں پر باری باری موجود رہوں گا، کبھی یہاں کبھی وہاں اور اس طرح میں اس دن انہیں مقامات پر لوگوں کی دیکھ بھال رکھنے اور ان کے معاملات نمٹوانے میں مصروف رہوں گا۔ اگر یہ اشکال پیدا ہو کہ یہ حدیث بظاہر حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی اس حدیث کے خلاف ہے جو باب الحساب کی دوسری فصل میں گزری ہے اور جس میں بیان کیا گیا ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے آپ ﷺ سے پوچھا کہ کیا آپ ﷺ قیامت کے دن اپنے اہل و عیال کو یاد رکھیں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس دن ان تینوں موقعوں پر کوئی کسی کو یاد نہیں کرے گا تو اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ والی حدیث غائبین پر محمول ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اس دن ان تینوں موقعوں جو لوگ آپ ﷺ کے سامنے نہیں ہوں گے اور آپ ﷺ سے کوئی رابطہ قائم نہیں کریں گے آپ ﷺ از خود ان کو یاد نہیں کریں گے اور یہ حضرت انس ؓ والی حدیث حاضرین پر محمول ہے، یعنی آپ ﷺ کی امت میں جو لوگ ان موقعوں پر آپ ﷺ کی خدمت پر حاضر ہوں گے اور اپنی طرف متوجہ کریں گے تو آپ ﷺ ان کی طرف توجہ دیں گے اور ان کی خصوصی شفاعت فرمائیں گے۔ اور علامہ طیبی (رح) نے ان دونوں حدیثوں کے درمیان مطابقت پیدا کرنے کے لئے یہ لکھا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کو مذکورہ جواب اس لئے دیا کہ وہ آپ ﷺ کی زوجہ مطہرہ تھیں اور یہ خدشہ تھا کہ کہیں وہ مخصوص حضور ﷺ کی شفاعت اور خصوصی توجہ پر اعتماد و بھروسہ کر کے نہ بیٹھ جائے اور عمل و ریاضت کی طرف سے بےفکر ہوجائیں! چناچہ آپ ﷺ اپنے اہل بیت اور قرابتداروں سے یہی فرمایا کرتے تھے کہ دیکھو! میں تمہارے اخروی معاملات کا ذمہ دار نہیں ہوں محض میرے اوپر اعتماد کر کے نہ بیٹھ جانا، آخرت میں تمہارا عمل ہی فائدہ پہنچائے گا، اس کے برخلاف آپ ﷺ نے حضرت انس ؓ کو یہ جواب اس لئے دیا کہ وہ ناامید نہ ہوجائیں اور انہوں نے جس قلبی تعلق و اخلاص کی بنا پر یہ درخواست کی تھی اس کا تقاضہ یہی تھا کہ انہیں جواب بھی اس طرح کے محبت وتعلق کو ظاہر کرنے والا دیا جائے۔ بہر حال یہ بات پیش نظر رہنی چاہئے کہ وہ دن اپنی ہولناکی، شدت و سختی اور زحمت ومشقت کے اعتبار سے نہایت سخت ہوگا، اگرچہ آنحضرت ﷺ کو شفاعت کا مقام حاصل ہوگا اور آپ ﷺ کا شفاعت کرنا برحق ہے لیکن اس دن نجات پانے کے لئے اس دنیا میں عملی زندگی کو سوار نے اور درست کرنے کی ضرورت بھی مسلم ہے، محض حضور ﷺ کی شفاعت پر اعتماد کافی نہیں اور صرف اعمال پر اعتماد کر کے حضور ﷺ کی شفاعت سے بےنیازی کوئی معنی نہیں رکھتی، پس آنحضرت ﷺ نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ اور حضرت انس ؓ کو جو الگ الگ جواب دئیے وہ دونوں اپنی اپنی جگہ پر صحیح تھے اور ہر جواب میں مخاطب کے حال کی رعایت ملحوظ تھی۔

5504Mishkaat-al-Masabih

مقام محمود اور پروردگار کی کرسی کا ذکر

وعن ابن مسعود عن النبي صلى الله عليه و سلم قا ل : قيل له ما المقام المحمود ؟ قا ل : ذلك يوم ينزل الله تعالى على كرسيه فيئط كما يئط الرحل الجديد من تضايقه به وهو كسعة ما بين السماء والأرض ويجاء بكم حفاة عراة غرلا فيكون أول من يكسى إبراهيم يقول الله تعالى : اكسوا خليلي بريطتين بيضاوين من رياط الجنة ثم أكسى على أثره ثم أقوم عن يمين الله مقاما يغبطني الأولون والآخرون . رواه الدارمي

اور حضرت ابن مسعود ؓ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ سے پوچھا گیا کہ مقام محمود اور اس کی اہمیت وخصوصیت) کیا ہے؟ جس کا اس آیت میں آپ ﷺ سے وعدہ کیا گیا ہے۔ (عَسٰ ي اَنْ يَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا) 17۔ الاسراء 79) تو آپ ﷺ نے فرمایا اس دن ( کہ جب مجھے یہ مقام محمود عطا ہوگا) اللہ تعالیٰ اپنی کرسی پر نزول جلال فرمائے گا اور وہ کرسی چرچرائے گی جیسا کہ نئے چمڑے کی تنگ زین چرچراتی ہے اور اس کرسی کی کشادگی ووسعت اتنی ہے جتنی کہ زمین و آسمان کی درمیانی فضا، پھر تم سب کو برہنہ پاؤ ننگے بدن اور بےختنہ ( میدان حشر) میں لایا جائے گا اور اس دن سب سے پہلے جس شخص کو لباس پہنا جائے گا وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ہوں گے چناچہ اللہ تعالیٰ ( فرشتوں کو) حکم دے گا کہ میرے دوست کو لباس پہناؤ اور جنت کی چادروں میں سے ملائم کتان کی دو سفید چادریں لا کر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو پہنائی جائیں گی، ان کے بعد مجھ کو لباس پہنایا جائے گا اور پھر میں اللہ تعالیٰ کے دائیں جانب کھڑا ہوں گا اور ( یہ اعزاز ملنے پر) اگلے پچھلے تمام لوگ مجھ پر رشک کریں کریں۔ (دارمی) تشریح اس حدیث میں پروردگار کی کرسی کی کشادگی و وسعت کو بیان کرنے کے لئے زمین و آسمان کی درمیانی فضا کی مثال دی گئی ہے جب کہ ایک حدیث میں یہ فرمایا گیا ہے کہ (وسعت و کشادگی میں) اس کرسی کے مقابلہ پر ساتوں آسمان اور ساتوں زمین کی مجموعی حیثیت بس اتنی ہی ہے جتنی کہ کسی بہت بڑے جنگل وبیابان میں پڑے ہوئے ایک چھوٹے سے چھلے کی اور اس کرسی کے مقابلہ پر عرش کی وہی حیثیت ہے جو اس چھلے کے مقابلہ پر پورے جنگل و بیابان کی! پس اس حدیث میں کرسی کی جو وسعت و کشادگی بیان کی گئی ہے وہ بطریق تعین وتحدید نہیں ہے بلکہ عام لوگوں کے ذہن وفہم کے مطابق محض تمثیل کے طور پر ہے جیسا کہ جنت کی وسعت و کشادگی بیان کی گئی ہے وہ بطریق تعین وتحدید نہیں ہے بلکہ عام لوگوں کے ذہن وفہم کے مطابق محض تمثیل کے طور پر ہے جیسا کہ جنت کی وسعت و کشادگی کو محض تمثیل کے طور پر بیان کرنے کے لئے یہ فرمایا گیا ہے کہ عرضہا السموت والارض علاوہ ازیں اس وسعت و کشادگی کو بیان کرنے کا ایک خاص مقصد بھی تھا وہ یہ کہ آپ ﷺ نے جو یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے نزول و جلال فرمانے کی وجہ سے کرسی اس طرح چرچرائے گی جس طرح نئے چمڑے کی تنگ زین سوار کے نیچے چرچراتی ہے تو اس سے یہ وہم ہوسکتا ہے کہ وہ کرسی تنگ اور چھوٹی ہونے کی وجہ سے چرچرائے گی، لہٰذا آپ ﷺ نے یہ واضح کرنا ضروری جانا کہ کرسی کے چرچرانے کی بات اور نئے چمڑے کی تنگ زین کی مشاہبت سے یہ نہ سمجھ لینا کہ وہ کرسی بھی چھوٹی اور تنگ ہوگی بلکہ وہ کرسی اتنی عظیم اور کشادہ ہے کہ اس کا ہلکا سا اندازہ کرنے کے لئے تم زمین و آسمان کی درمیانی فضا کا تصور کرلو بہرحال یہ ذہن نشین رہنا چاہئے کے حدیث کے الفاظ ان متشابہات میں سے ہیں جن کے حقیقی معنی و مراد تک انسانی علم وذہن کی رسائی تیقّن کے ساتھ ممکن نہیں لہٰذا مفردات عبادت جیسے کرسی پر حق تعالیٰ کے بیٹھنے، کرسی کے چرچرانے اور اس کرسی کے زمین و آسمان کے درمیانی فاصلہ بقدر وسیع و کشادہ ہونے وغیرہ کی حقیقی معنی تک پہنچنے کی کوشش کئے بغیر صرف مفہوم حدیث کے خلاصہ کو اختیار کرنا چاہئے جو یہ ہے کہ اس حدیث کے ذریعہ قیامت کے دن حق تعالیٰ کی عظمت وکبریائی اس کے جاہ و جلال اور اس کی بادشاہت وحاکمیت کا اظہار کرنا مقصود ہے۔ اس دن سب سے پہلے جس شخص کو لباس پہنایا جائے گا وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ہوں گے الحشر کی پہلی فصل کی ایک حدیث میں بھی گزر چکا ہے اور یہ بات بھی وہاں بتائی جا چکی ہے کہ اس سے یہ بات ثابت ہوتی کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام)، آنحضرت ﷺ پر فضیلت رکہتے ہیں، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اس دن حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو سب سے پہلے لباس پہنائے جانے کا شرف و اعزاز بھی اسی وجہ سے حاصل ہوگا کہ وہ آنحضرت ﷺ کے روحانی باپ ہیں اور آپ ﷺ کے دین اور آپ ﷺ کی ملت کا سلسلہ نسب انہی سے چلتا ہے! علاوہ ازیں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو حاصل ہونے والے اس شرف و اعزاز کو زیادہ سے زیادہ آنحضرت ﷺ پر جزوی فضیلت ملنا ہی کہا جاسکتا ہے اور یہ بالکل ظاہر ہے کہ جزوی فضیلت، کلی فضیلت کے منافی نہیں ہوتی جب کہ اس دن بھی آنحضرت ﷺ کا بالعموم اور علی الاطلاق پوری نوع انسانی بشول تمام پیغمبر و انبیاء سے افضل و برتر ہونا خود اسی حدیث کے آخری الفاظ ثم اقوم عن یمین اللہ الخ سے ظاہر وثابت ہے۔ اس کے بعد مجھ کو لباس پہنایا جائے گا۔ یہ ارشاد اس روایت کے منافی ہے جس میں بیان کیا گیا ہے کہ آنحضرت ﷺ قیامت کے دن اپنی قبر سے لباس میں اٹھیں گے! لیکن اگر یہ وضاحت پیش نظر رہے تو پھر دونوں روایتوں کے درمیان کوئی تضاد معلوم نہیں ہوگا کہ اگرچہ آنحضرت ﷺ اپنی قبر سے لباس میں اٹھیں گے لیکن میدان حشر میں آپ ﷺ کو تمام انبیاء (علیہ السلام) کے ساتھ دوبارہ لباس پہنایا جائے گا اور یہ آپ ﷺ کے کامل وشرف احترام کے اظہار کے لئے ہوگا۔ حدیث کو آخر تک دیکھنے کے بعد ایک بڑا سوال ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ سے کئے جانے والے سوال اور آپ ﷺ کی طرف سے دئیے جانے والے جواب کے درمیان مطابقت وموزونیت کیا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ پوچھنے والوں نے مقام محمود کے بارے میں پوچھا تھا کہ اس کی نوعیت و صورت کیا ہوگی، آپ ﷺ نے اس کا جواب براہ راست نہیں دیا بلکہ پہلے اس دن کے پرہیبت اور پر حول ماحول کا ذکر کیا تاکہ لوگوں کے ذہن میں اس چیز کی بڑائی اور اہمیت راسخ ہوجائے جس کے بارے میں انہوں نے سوال کیا ہے بعد میں آپ ﷺ نے ان الفاظ ثم اقوم عن یمین اللہ الخ ( پھر میں اللہ تعالیٰ کے دائیں جانب کھڑا ہوں گا الخ) کے ذریعہ ان کے سوال کے جواب کی طرف اشارہ کیا گویا آنحضرت ﷺ نے بالواسطہ طور پر یہ جواب دیا کہ مقام محمود وہ جگہ ہے جہاں میں قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے دائیں طرف کھڑا ہوں گا اور وہ سب سے بڑا شرف و اعزاز ہوگا جو میرے علاوہ کسی کو حاصل نہیں ہوگا اور الاول تا آخر پوری کائنات مجھے عطا ہونے والے اس شرف و اعزاز پر رشک کرے گی۔ پس یہ ارشاد گرامی اس بات کا صریح ثبوت ہے کہ ہمارے حضرت محمد ﷺ پوری کائنات حتی کہ انبیاء (علیہم السلام) رسول اور تمام مقربین پر فضیلت رکھتے ہیں۔

5505Mishkaat-al-Masabih

پل صراط پر اہل ایمان کی شناخت

وعن المغيرة بن شعبة قا ل : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم شعار المؤمنين يوم القيامة على الصراط : رب سلم سلم . رواه الترمذي وقال : هذا حديث غريب

اور حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن پل صراط پر سے گزرتے وقت اہل ایمان کی علامت، یہ الفاظ ہوں گے رب سلم سلم۔ ( پروردگار بچائیو، پروردگار بچائیو) اس روایت کو ترمذی نے نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے۔ تشریح شعار جس کا ترجمہ علامت کیا گیا ہے) دراصل اسی مخصوص اصطلاحی لفظ یا جملہ کو کہتے ہیں جو فوج والے آپس میں ایک دوسرے کو پہچاننے کے لئے، یا سفر کرنے والے دوران سفر ایک دوسرے کو شناخت کرنے کے لئے استعمال کریں، چناچہ قیامت کے دن پل صراط پر گزرتے وقت اہل ایمان کی شناخت و پہچان کے لئے رب سلم رب سلم ( پروردگار بچائیو) کے الفاظ ان کی زبان پر ہوں گے اور ہر امت کے لوگ جو اپنے پیغمبر اور رسول کے متبع اور تابعدار تھے، یہ الفاظ کہتے ہوئے آگے بڑھیں گے، تاہم زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ اس طرح کے شناختی الفاظ صرف مؤمنین کاملین کا شعار ہوں گے۔ یعنی با عمل علماء، شہدا اور صالحین کہ جن کو انبیاء اور رسولوں کی اتباع کے صدقہ شفاعت کا مرتبہ حاصل ہوگا۔ ابن مردویہ نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے بطریق مرفوع یہ نقل کیا ہے کہ قیامت کے دن جب لوگوں کو قبروں سے اٹھایا جائے گا تو اس وقت اہل ایمان کا شعار لا الہ الا اللہ وعلی اللہ فلیتوکل المؤمنون ہوگا نیز شیرازی نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ ہی کی یہ روایت نقل کی ہے کہ قیامت کے دن اس دن کے ہولناکی اندھیروں میں اہل ایمان کا شعار لا الہ الا انت ہوگا۔

5506Mishkaat-al-Masabih

گناہ کبیرہ کی شفاعت صرف اسی امت کے لئے مخصوص ہوگی

وعن أنس أن النبي صلى الله عليه و سلم قا ل : شفاعتي لأهل الكبائر من أمتي . رواه الترمذي وأبو داود

اور حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا گناہ کبیرہ کرنے والوں کے حق میں میری شفاعت صرف امت کے لوگوں کے لئے مخصوص ہوگی ( ترمذی، ابوداؤد) اور ابن ماجہ نے اس روایت کو حضرت جابر ؓ سے نقل کیا ہے۔ تشریح مطلب یہ کہ کبیرہ گناہوں کی معافی میری شفاعت صرف میری امت کے لوگوں کے حق میں مخصوص ہوگی، دوسری امتوں کے لوگوں کے لئے نہیں ہوگی۔ علامہ طیبی (رح) نے کہا ہے کہ یہاں جس شفاعت کا ذکر ہے اس سے وہ شفاعت مراد ہے عذاب سے نجات اور خلاصی دلانے کے لئے ہوگی، ورنہ وہ شفاعت جو درجات کی بلندی و اعزاز واکرامات میں اضافہ کے لئے ہوگی اتقیاء اولیاء اور صلحاء کے حق میں بھی ثابت ہے۔ شفاعت کا ثبوت اور اس کی قسمیں شفاعت کے بارے میں جو اصولی باتیں ابتداء باب میں بھی گزر چکی ہیں، کچھ یہاں بھی نقل کردینا موزوں معلوم ہوتا ہے پہلی بات تو یہ ہے کہ اہل سنت کے نزدیک قیامت کے دن شفاعت و سفارش کا ہونا اس آیت سے ثابت ہے۔ (يَوْمَى ِذٍ لَّا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَهُ الرَّحْمٰنُ وَرَضِيَ لَه قَوْلًا) 20۔ طہ 109) اس دن کسی کی سفارش کچھ فائدہ نہ دے گی مگر اس شخص کی جسے اللہ اجازت دے اور اس کی بات کو پسند فرمائے۔ نیز اس بارے میں اتنی زیادہ احادیث منقول ہیں کہ وہ سب مل کر حد تواتر کو پہنچتی ہیں اس لئے تمام سلف صالحین ( صحابہ، تابعین، تبع تابعین اور ائمہ مجتہدین وغیرہ) اور تمام اہل سنت کا اس پر اجماع اور اتفاق ہے، ہاں خوارج اور معتزلہ کے بعض طبقے اس کے منکر ہیں اور وہ قیامت کے دن شفاعت کے قائل نہیں ہیں۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ شفاعت کی پانچ قسمیں ہیں پہلی قسم وہ ہے جو صرف آنحضرت ﷺ کے واسطے مخصوص ہے، اس شفاعت کا حق و اذن کسی اور کو حاصل نہیں ہوگا اور یہ شفاعت وہ ہوگی جس کا تعلق تمام لوگوں کو موقف ( میدان حشر میں کھڑے رہنے، کی ہولنا کیوں اور پریشانیوں سے چھٹکارا دلا کر حساب و کتاب جلد شروع کرانے سے ہوگا۔ دوسری قسم وہ ہے جو کچھ لوگوں کو حساب کے بغیر جنت میں داخل کردینے کے لئے ہوگی اور اس شفاعت کا ثبوت بھی صرف ہمارے حضور ﷺ کے لئے منقول ہے۔ تیسری قسم وہ ہے جوان لوگوں کے لئے ہوگی جنہیں دوزخ کا مستوجب قرار دیا گیا۔ چناچہ ان میں سے جن لوگوں کے لئے اللہ تعالیٰ چاہے گا ان کی شفاعت ہمارے حضرت ﷺ کریں گے چوتھی قسم وہ ہے جو ان لوگوں کے لئے ہوگی جنہیں ان کے گناہوں کی پاداش میں دوزخ میں ڈالا جا چکا ہوگا، پس ان لوگوں کی شفاعت کے سلسلے میں جو حدیثیں منقول ہیں ان سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ لوگ آنحضرت ﷺ، فرشتوں اور اپنے مسلمان بھائیوں کی جانب سے کی جانے والی شفاعت کے نتیجہ میں دوزخ سے نکال کر جنت میں پہنچائے جائیں گے اور پھر آخر میں خود اللہ تعالیٰ اپنی خاص رحمت کے تحت ان لوگوں کو عذاب دوزخ سے نجات عطا فرمائے گا، جنہوں نے لا الا الہ اللہ کہا ہوگا اور پانچویں قسم وہ ہے جس کا تعلق جنت میں اہل جنت کے درجات میں بلندی اور اعزازو کر امات میں اضافہ سے ہوگا۔

5507Mishkaat-al-Masabih

رحمت عالم کی شان رحمت

وعن عوف بن مالك قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : آتاني آت من عند ربي فخيرني بين أن يدخل نصف أمتي الجنة وبين الشفاعة فاخترت الشفاعة وهي لمن مات لا يشرك بالله شيئا . رواه الترمذي وابن ماجه

اور حضرت عوف بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ سے فرمایا! ( اللہ تعالیٰ کے پاس سے) ایک فرشتہ میرے پاس آیا اور اس نے ( بارگاہ رب العزت کی جانب سے) مجھے ان دو باتوں میں سے ایک بات چن لینے کا اختیار دیا کہ تو میری آدھی امت جنت میں داخل ہوجائے یا ( سب کے حق میں) شفاعت کا حق مجھے حاصل ہو۔ پس میں نے اپنی پوری امت کے حق میں، شفاعت کا حق حاصل ہونے کو چن لیا ( تاکہ بلا استثناء سب ہی مؤمن و مسلمان اس سے فیضیاب ہوں اور کوئی بھی محروم نہ رہے) چناچہ میری شفاعت ( میری امت میں سے) ہر اس شخص کے لئے طے شدہ ہے جس نے اس اس حال میں اپنی جان آفرین کے سپرد کی ہو کہ اللہ کے شرک میں مبتلا نہیں تھا حاصل یہ کہ قیامت کے دن تمام اہل ایمان کو میری شفاعت نصیب ہونا یقینی ہے۔ ( ترمذی، دارمی، ابن ماجہ )

5508Mishkaat-al-Masabih

شفاعت کا ذکر

وعن عبد الله بن أبي الجدعاء قال سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : يدخل الجنة بشفاعة رجل من أمتي أكثر من بني تميم رواه الترمذي والدارمي وابن ماجه (3/217)

حضرت عبداللہ بن ابی جدعاء ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا! میری امت کے ایگ برزگ و صالح، شخص کی شفاعت سے بنی تمیم کے آدمیوں کی تعداد سے بھی زیادہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے۔ ( ترمذی، دارمی، ابن ماجہ) تشریح بنو تمیم ایک بہت بڑے قبیلے کا نام تھا، جس کے افراد کثرت و زیادتی کے اعتبار سے بطور مثال پیش کئے جاتے تھے۔ حاصل یہ کہ جب اس امت کے ایک اچھے آدمی کی شفاعت کے نتیجہ میں اتنے زیادہ لوگ جنت میں داخل کئے جائیں گے تو اندازہ کرنا چاہئے کہ اس امت میں اچھے لوگوں کی کتنی زیادہ تعداد ہوگی اور ان میں سے ہر ایک شفاعت کرے گا، پس ان سب کی شفاعتوں کے نتیجہ میں امت محمدی کے لوگوں کی کتنی بڑی تعداد جنت میں داخل کی جائے گی۔ بعض حضرات نے میری امت کے ایک شخص کو متعین کیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے حضرت عثمان ؓ کی ذات مراد ہے، بعض نے حضرت اویس قرنی (رح) کا نام لیا ہے اور کچھ نے کہا ہے کہ یہ تعین مشکل ہے اور کوئی بھی شخص مراد ہوسکتا ہے، اسی قول کو زین العرب نے حدیث کے مفہوم سے زیادہ قریب قرار دیا ہے۔

5509Mishkaat-al-Masabih

شفاعت کا ذکر

5602 - [ 37 ] ( ضعيف ) وعن أبي سعيد أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إن من أمتي من يشفع للقبيلة ومنهم من يشفع للعصبة ومنهم من يشفع للرجل حتى يدخلوا الجنة رواه الترمذي

اور حضرت ابوسعید ؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا میری امت میں سے ( جن لوگوں کو شفاعت کا حق و اذن حاصل ہوگا، جیسے علماء شہدا اور صلحاء ان میں سے) کوئی تو ( اپنے متعلقین) کی کئی جماعتوں کی شفاعت کرے گا کوئی ایک عصبہ (کے لوگوں کے برابر اپنے متعلقین) کی شفاعت کرے گا اور کوئی اپنے متعلق) صرف ایک ہی آدمی کی سفارش کرے گا، غرضیکہ اسی طرح ہر ایک کی شفاعت کے نتیجہ میں ساری امت جنت میں داخل ہوجائے گی۔ ( ترمذی) تشریح قبیلہ ویسے تو بڑے خاندان، یا ایک باپ کی کئی پشتوں کے بیٹوں کو کہتے ہیں، لیکن عام طور پر اس لفظ کا اطلاق بہت زیادہ لوگوں پر ہوتا ہے اور عصبہ دس سے چالیس تک افراد کی ٹولی کو کہتے ہیں۔

5510Mishkaat-al-Masabih

حساب و کتاب کے بغیر جنت میں جانے والے

وعن أنس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الله عز و جل وعدني أن يدخل الجنة من أمتي أربعمائة ألف بلا حساب . فقال أبو بكر زدنا يا رسول الله قال وهكذا فحثا بكفيه وجمعهما فقال أبو بكر : زدنا يا رسول الله . قال : وهكذا فقال عمر دعنا يا أبكر . فقال أبو بكر : وما عليك أن يدخلنا الله كلنا الجنة ؟ فقال عمر : إن الله عزوجل إن شاء أن يدخل خلقه الجنة بكف واحد فعل فقال النبي صلى الله عليه و سلم : صدق عمر رواه في شرح السنة

اور حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اللہ عزوجل نے مجھ سے یہ وعدہ کیا ہے کہ وہ میری امت میں سے چار لاکھ آدمیوں کو بلا حساب و کتاب ( اور مواخذہ و عذاب میں مبتلا کئے بغیر) جنت میں داخل کرے گا۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے ( یہ سن کر) عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ! ہماری اس تعداد میں اضافہ کر دیجئے ( یعنی اللہ تعالیٰ سے اس تعداد میں اور اضافہ کرنے کی درخواست کیجئے، یا یہ کہ پروردگار نے آپ ﷺ سے جس چیز کا وعدہ کیا ہے اس کو بڑھا کر بیان کیجئے) کیونکہ آپ ﷺ رحمت الٰہی پر اعتماد کر کے ہم سے جتنا زیادہ سے زیادہ بیان کردیں گے اللہ تعالیٰ اس کو پورا فرمائے گا) آپ ﷺ نے فرمایا اچھا، اتنا اور زیادہ ( یہ کہہ کر) آپ ﷺ نے دونوں ہاتھوں کو یکجا کر کے چلو بنایا حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے پھر عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ! ہماری اس تعداد و مقدار میں اور اضافہ کر دیجئے۔ آپ ﷺ نے پھر ( چلو بنا کر) کہا کہ اچھا اتنا اور زیادہ حضرت عمر ؓ بھی اس مجلس میں موجود تھے، انہوں نے محسوس کر کے کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ ( بس اب) ہمیں ہمارے حال پر رہنے دیجئے ( یعنی اتنی رعایت نہ کرائے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے کرم عنایت ہی پر اعتماد کر کے پیٹھ جائیں اور عذاب الٰہی کے خوف سے اس طرح بےفکر ہوجائیں کہ عمل کرنا ہی ترک کردیں، حضرت ابوبکر ؓ نے ( یہ سن کر) کہا کہ اگر اللہ تعالیٰ ہم سب کو ( بغیر حساب ومواخذہ کے) جنت میں بھیج دے تو تمہارا کیا نقصان ہے؟ حضرت عمر ؓ نے جواب دیا کہ اگر اللہ عزوجل اپنی ساری مخلوق کو جنت میں داخل کرنا چاہے تو کرسکتا ہے ( پھر بار بار اضافہ کی درخواست کرنے کی کیا ضرورت ہے) نبی کریم ﷺ نے ( حضرت عمر ؓ کی یہ بات سن کر) فرمایا عمر نے بالکل سچ کہا۔ اس روایت کو بغوی نے شرح السنۃ میں نقل کیا ہے۔ تشریح ( یہ کہہ کر) آپ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھوں کو یکجا کر کے چلو بنایا یعنی ابوبکر صدیق ؓ کی درخواست پر آنحضرت ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھوں سے چلو بنا کر گویا ان کے آگے کیا اور فرمایا کہ اتنے اور لوگوں کا اضافہ کرتا ہوں! اور زیادہ صحیح یہ ہے کہ آپ ﷺ کا چلو بنانا اور یہ کہنا کہ اچھا اتنا اور زیادہ دراصل حق تعالیٰ کے فعل کی حکایت کے طور پر تھا یعنی یہ ظاہر کرنا مقصود تھا کہ میں نے بلا حساب جنت میں جانے والوں کی مذکورہ کی تعداد متعین طور پر بیان نہیں کی ہے بلکہ اس تعداد سے کثرت مراد ہے، کیا تمہیں نہیں معلوم کہ اللہ تعالیٰ اس طرح چلو بھر کر یعنی بیشمار اور بےتعداد لوگوں کو جنت میں داخل کرے گا اس لئے حدیث کے شارحین نے کہا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اس موقع پر چلو بنانے کی تمثیل اس حقیقت کے پیش نظر اختیار کی کہ دل کھول کردینے والے کی شان یہی ہوتی ہے کہ جب اس سے زیادہ دینے کی درخواست کی جاتی ہے تو وہ تعداد و مقدار سے صرف نظر کر کے چلو بھر بھر کر بےحساب دیتا ہے۔ پس چلو بھر کردینا دراصل ایک تمثیل ہے جو زیادہ سے زیادہ دینے کی شان کو ظاہر کرتی ہے۔ اس حدیث میں حضرت ابوبکر صدیق ؓ اور حضرت عمر فاروق ؓ کے تعلق سے جو کچھ ذکر ہے اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ مذکورہ مسئلہ میں ان دونوں کے درمیان کوئی ذہنی وفکری اور نیاز مندی اور درخواست گزاری کے قبیل سے تھا اور حضرت عمر فاروق ؓ نے جو کچھ کہا وہ اظہار عجزوبیچارگی، رحمت خداوندی کے تئیں بھر پور امیدواری اور نیاز مندی اور درخواست گزاری کے قبیل سے تھا اور حضرت عمر فاروق ؓ نے جو کچھ کہا وہ مصلحت و حکمت اور تسلیم ورضا کے قبیل سے تھا، اسی لئے آنحضرت ﷺ نے دونوں کی رعایت ملحوظ رکھی کہ پہلے تو حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی درخواست کو قابل اعتناء قرار دیا اور ان کو وہ جواب نہیں دیا جو حضرت عمر فاروق ؓ کی تصدیق کر کے ان کو بھی مزید پسندیدگی عنایت فرما دی! اس بات کو ایک دوسرے نکتہ نظر سے بھی دیکھا جاسکتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی درخواست کا مثبت جواب دے کر گویا یہ ظاہر فرمایا کہ عمل کے راستہ پر لگنے اور دین شریعت کی طرف متوجہ رہنے میں ایک بڑا دخل بشارت کا بھی ہے لہٰذا آپ ﷺ نے اس بشارت کو ( کہ اللہ تعالیٰ ایک بہت بڑی تعداد کو بلا حساب جنت میں داخل کرے گا) اور زیادہ وسعت عطا فرمائی پھر آپ ﷺ نے حضرت عمر فاروق ؓ کے قول کی تصدیق کر کے اس طرف اشارہ کیا کہ۔۔۔ عمر ؓ نے جو بات کہی ہے وہ بشارت ہی ہے بلکہ پہلی بشارت سے بھی بڑی بشارت ہے۔ اس اعتبار سے دونوں کا مافی الضمیر ایک ہی تھا۔

5511Mishkaat-al-Masabih

گناہ گار لوگ کس طرح اپنی شفاعت کرائیں گے

وعنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يصف أهل النار فيمر بهم الرجل من أهل الجنة فيقول الرجل منهم : يا فلان أما تعرفني ؟ أنا الذي سقيتك شربة . وقال بعضهم : أنا الذي وهبت لك وضوءا فيشفع له فيدخله الجنة . رواه ابن ماجه

اور حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا! اہل ایمان میں سے) جو لوگ ( اپنے گناہوں کے سبب) دوزخی قرار دئیے جاچکے ہوں گے وہ اہل جنت یعنی علماء ( اخیار اور صلحاء و ابرار کے راستوں میں) صف باندھ کر کھڑے رہتے ہیں) اور پھر جب ایک جنتی ان کے سامنے سے گزرے گا تو ان دوزخیوں میں سے ایک شخص ( اس جنتی کا نام لے کر) کہے گا اے فلانے! کیا تم مجھے نہیں پہنچاتے؟ میں وہ شخص ہوں جس نے ایک مرتبہ تمہیں پانی پلایا تھا انہیں میں کوئی شخص یہ کہے گا کہ میں وہی آدمی ہوں جس نے ایک مرتبہ تمہیں وضو کے لئے پانی دیا تھا وہ جنتی ( یہ سن کر) اس کی شفاعت کرے گا اور اس کو جنت میں داخل کرائے گا۔ ( ابن ماجہ )۔ تشریح اس سے معلوم ہوا کہ فاسق و گناہ گار اگر اس دنیا میں اہل دین اور ارباب طاعت وتقوی کی کوئی خدمت و امداد کریں گے تو اس کا بہتر ثمرہ عقبیٰ میں پائیں گے اور ان کی مدد و شفاعت سے جنت میں داخل کئے جائیں گے۔ مظہر نے کہا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اس ارشاد کے ذریعہ گویا اس امر کی ترغیب دی ہے کہ اپنے مسلمان بھائیوں اور خصوصًا بزرگ ونیک لوگوں کے ساتھ حسن و سلوک اور مروت و احسان کا برتاؤ کرنا چاہئے اور جب بھی ان کی ہم نشینی و صحبت میسر ہوجائے اس کو اختیار کرنے کا موقع گنوانا نہ چاہئے کیونکہ ان کی صحبت اور محبت دنیا میں حصول زینت و پاکیزگی اور آخرت میں حصول نور کا باعث ہے۔

5512Mishkaat-al-Masabih

رحمت خداوندی کے دو مظاہر

وعن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إن رجلين ممن دخل النار اشتد صياحهما فقال الرب تعالى : أخرجوهما . فقال لهما : لأي شيء اشتد صياحكما ؟ قالا : فعلنا ذلك لترحمنا . قال : فإن رحمتي لكما أن تنطلقا فتلقيا أنفسكما حيث كنتما من النار فيلقي أحدهما نفسه فيجعلها الله بردا وسلاما ويقوم الآخر فلا يلقي نفسه فيقول له الرب تعالى : ما منعك أن تلقي نفسك كما ألقى صاحبك ؟ فيقول : رب إني لأرجو أن لا تعيدني فيها بعد ما أخرجتني منها . فيقول له الرب تعالى : لك رجاؤك . فيدخلان جميعا الجنة برحمة الله . رواه الترمذي

اور حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا! ( اہل ایمان میں سے) جو لوگ اپنے گناہوں کی پاداش میں) دوزخ میں داخل ہوں گے ان میں سے دو آدمی بہت زیادہ شور مچائیں گے ( یعنی رونا دھونا اور آہ و فریاد شروع کردیں گے اور خوب چیخیں چلائیں گے) پروردگار ( دوزخ کے فرشتوں کو) حکم دے گا کہ ان دونوں کو باہر نکالو اور جب وہ باہر آئیں گے تو) ان سے فرمائے گا کہ کیوں اس قدر چیخ چلا رہے تھے؟ وہ کہیں گے کہ ہم اس لئے چیخ چلا رہے تھے تاکہ آپ کی رحمت ہماری طرف متوجہ ہوجائے ( اور ہمیں خوب معلوم ہے کہ آپ اس شخص کو پسند کرتے ہیں جو آپ کے آگے روئے دھوئے اور آہ و فریاد کرے) اللہ تعالیٰ فرمائے گا تمہارے حق میں میری رحمت یہی ہے کہ تم واپس جاؤ اور دوزخ میں جہاں تھے وہیں پڑے رہو۔ ان میں سے ایک شخص تو ( یہ سنتے ہی کامل اطاعت اور رضائے الہٰی کی طلب میں) واپس ہوجائے گا اور خود کو دوزخ کی آگ میں ڈال دے گا اور اللہ تعالیٰ اس آگ کو اس کے لئے ٹھنڈا کر دے گا ( کہ جیسا کہ اس نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے لئے آگ کو گل و گلزار بنادیا تھا) اور دوسرا شخص ( اپنے کو اس معاملہ میں بالکل بےبس پاتا ہو اور اللہ تعالیٰ کے لطف و کرم پر کامل یقین رکھتے ہوئے) وہیں کھڑا رہے گا اور خود کو آگ میں نہیں ڈالے گا! اللہ تعالیٰ اس سے پوچھے گا کہ تو نے خود کو آگ میں کیوں نہیں ڈالا جب کہ تیرا ساتھی ( میرا حکم سنتے ہی چلا گیا اور) آگ میں کود پڑا؟ وہ عرض کریے گا کہ پروردگار میں تو اسی امید پر قائم ہوں کہ آپ نے جب مجھے دوزخ سے باہر بلوا لیا تو اب دوبارہ وہاں نہیں بھیجیں گے اللہ تعالیٰ فرمائے گا! تو نے جو امید قائم کی ہے وہ تیرے حق میں پوری کی جاتی ہے۔ چناچہ وہ دونوں شخص اللہ تعالیٰ کی رحمت و عنایت کے صدقہ میں ایک ساتھ جنت میں داخل کر دئیے جائیں گے۔ (ترمذی) تشریح تمہارے حق میں میری رحمت یہی ہے کہ تم واپس جاؤ۔۔ الخ۔ کے سلسلے میں یہ سوال پیدا ہوسکتا ہے کہ دوزخ میں واپس جا کر سپرد آگ ہونے کو رحمت پر کس اعتبار سے حمل کیا گیا ہے؟ اس کا مختصر جواب یہ ہوگا کہ یہ ارشاد اصل سبب کو سبب پر حمل کرنے کے اسلوب سے تعلق رکھتا ہے! وضاحت کے ساتھ اس بات کو یوں بیان کیا جاسکتا ہے کہ ان لوگوں کو دوزخ میں ان کے اس قصور کی پاداش میں داخل کیا جائے گا کہ انہوں نے اس بات کی اطاعت کے حکم کے ذریعہ کہ وہ دوزخ میں واپس جا کر اپنے آپ کو آگ کے سپرد کردیں اس امر پر تنبیہ کی جائے گی کہ رحمت الٰہی کا مستحق وہی شخص ہوتا ہے جو ہر حالت میں اس کے حکم کی اطاعت و فرمانبرداری کرے۔ تو نے جو امید قائم کی ہے وہ تیرے حق میں پوری کی جاتی ہے۔ سے یہ ثابت ہوا کہ بندہ کا پروردگار پر امید باندھنا اس کے عطاء و کرم کے حصول میں بہت موثر ہے، خواہ وہ بندہ اپنے عجز ونا تو انی کے سبب اطاعت و فرمانبرداری کے دائرہ سے باہر ہی نکلا ہوا کیوں نہ ہو۔

5513Mishkaat-al-Masabih

پل صراط پر سے گزرنے کا حکم

وعن ابن مسعود قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يرد الناس النار ثم يصدون منها بأعمالهم فأولهم كلمح البرق ثم كالريح ثم كحضر الفرس ثم كالراكب في رحله ثم كشد الرجل ثم كمشيه . رواه الترمذي والدارمي

اور حضرت ابن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا لوگ یعنی اہل ایمان ( پل صراط کے اوپر سے گزرنے کے وقت کہ جو دوزخ کے اوپر رکھا ہوگا آگ پر حاضر ہوں گے ( یعنی اس کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے) اور پھر اپنے اپنے اعمال کے مطابق اس سے نجات پائیں کے ( اور پل صراط کو آسانی کے ساتھ یا پریشانی سے عبور کرلیں گے) چناچہ ان میں اول اور سب سے افضل لوگ وہ ہوں گے جو ( پل صراط پر سے بجلی) کو ندے کی طرح گزر چائیں گے۔ پھر ( وہ لوگ ہوں گے جو) ہوا کے جھونکے کی طرح، پھر ( وہ لوگ ہوں گے جو) گھوڑے کی دوڑ کی مانند، پھر ( وہ لوگ ہوں گے جو) اپنے اونٹ پر سوار کی مانند پھر ( وہ لوگ ہوں گے جو) آدمی کے دوڑنے کی مانند اور پھر ( وہ لوگ ہوں گے جو) آدمی کے ( معمول کے مطابق) پیدل چلنے کی مانند (گزریں گے)۔ اس روایت کو ترمذی اور دارمی نے نقل کیا ہے۔

5514Mishkaat-al-Masabih

حوض کوثر کی وسعت

عن ابن عمر أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إن أمامكم حوضي ما بين جنبيه كما بين جرباء وأذرح . قال بعض الرواة : هما قريتان بالشام بينهما مسيرة ثلاث ليال . وفي رواية : فيه أباريق كنجوم السماء من ورده فشرب منه لم يظمأ بعدها أبدا . متفق عليه

اور حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا تمہارے آگے ( قیامت کے دن) میرا حوض کوثر ( ظاہر ہونے والا) ہے جس کے دونوں کناروں کا درمیانی فاصلہ اتنا ہے جتنا جربا اور اذرح کا درمیانی فاصلہ ہے۔ کسی راوی کا کہنا ہے کہ جربا اور اذرح ملک شام میں دو بستیاں ہیں جن کے درمیان تین دن کی مسافت ہے۔ اور ایک حدیث میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ ( اس حوض) کے دونوں کناروں پر آب خورے رکھے ہوں گے جو ( چمک دمک اور کثرت کے اعتبار سے) آسمان کے ستاروں کی مانند ہوں گے، جو شخص اس حوض پر آئے گا اور اس کا پانی پیئے گا وہ پھر کبھی پیاسا نہ ہوگا۔ ( بخاری ومسلم) تشریح بعض محققین نے لکھا ہے کہ ملک شام میں جربا ایک بستی کا نام ہے جو دراصل اذرح کے بالکل قریب واقع ہے لہذا یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ جربا اور اذرح کے درمیان تین دن کی مسافت ہے! اس صورت میں چونکہ حدیث کا مہفوم گنجلک ہوجاتا ہے اس لئے محدثین نے یہ تحقیق کی ہے کہ اس حدیث کے کسی راوی کے وہم میں مبتلا ہوجانے کی وجہ سے وہ الفاظ نقل نہیں ہوئے جن سے حوض کوثر کی وسعت کو ظاہر کرنا مقصود تھا، چناچہ دار قطنی کی روایت دیکھنے سے اس بات کی تائید ہوتی ہے جو یوں ہے۔ یعنی میرے حوض کے دونوں کناروں کا درمیانی فاصلہ اتنا ہے جتنا کہ مدینہ اور جربا واذرح کے درمیان فاصلہ ہے۔

5515Mishkaat-al-Masabih

شفاعت اور پل صراط کا ذکر

وعن حذيفة وأبي هريرة قالا : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يجمع الله تبارك وتعالى الناس فيقوم المؤمنون حتى تزلف لهم الجنة فيأتون آدم فيقولون : يا أبانا استفتح لنا الجنة . فيقول : وهل أخرجكم من الجنة إلا خطيئة أبيكم لست بصاحب ذلك اذهبوا إلى ابني إبراهيم خليل الله قال : فيقول إبراهيم : لست بصاحب ذلك إنما كنت خليلا من وراء وراء اعمدوا إلى موسى الذي كلمه الله تكليما فيأتون موسى عليه السلام فيقول : لست بصاحب ذلك اذهبوا إلى عيسى كلمة الله وروحه فيقول عيسى : لست بصاحب ذلك فيأتون محمدا صلى الله عليه و سلم فيقوم فيؤذن له وترسل الأمانة والرحم فيقومان جنبتي الصراط يمينا وشمالا فيمر أولكم كالبرق . قال : قلت : بأبي أنت وأمي أي شيء كمر البرق ؟ قال : ألم تروا إلى البرق كيف يمر ويرجع في طرفة عين . ثم كمر الريح ثم كمر الطير وشد الرجال تجري بهم أعمالهم ونبيكم قائم على الصراط يقول : يا رب سلم سلم . حتى تعجز أعمال العباد حتى يجيء الرجل فلا يستطيع السير إلا زحفا . وقال : وفي حافتي الصراط كلاليب معلقة مأمورة تأخذ من أمرت به فمخدوش ناج ومكردس في النار . والذي نفس أبي هريرة بيده إن قعر جهنم لسبعين خريفا . رواه مسلم

اور حضرت حذیفہ و حضرت ابوہریرہ ؓ دونوں نے بیان کیا کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن) بابرکت وبلند قدر پروردگار ( میدان حشر میں) لوگوں کو جمع کرے گا اور پھر تمام مؤمن ( حساب و کتاب اور آخری فیصلہ کے انتظار میں) کھڑے ہوں گے کہ جنت کو ان کے قریب کردیا جائے گا پس ( ہر امت کے خاص خاص) مومن حضرت آدم (علیہ السلام) کے پاس آئیں گے اور کہیں گے کہ اے ہمارے باپ! ہمارے لئے جنت کو کھول دیجئے ( تاکہ ہم اپنی اس ابدی آرام گاہ میں داخل ہوجائیں) حضرت آدم (علیہ السلام) ان کو جواب دیں گے کہ ( کیا تم نہیں جانتے) تمہیں جنت سے تمہارے باپ ہی کے گناہ نے نکلوایا تھا ( لہٰذا) اس کام ( یعنی تمارے حق میں شفاعت کرنے اور جنت کھلوانے) کا اہل میں نہیں ہوں، تم لوگ میرے بیٹے ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس جاؤ جو اللہ کے دوست اور اللہ کے رسولوں میں افضل اور خاتم الانبیاء کے جد اعلی ہیں آنحضرت ﷺ نے فرمایا ( لوگ میرے بیٹے ابراہیم (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہوں گے ان سے وہی عرض کریں گے جو انہوں نے حضرت آدم (علیہ السلام) سے عرض کیا تھا) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بھی ان کو یہی جواب دیں گے کہ اس کام کا اہل میں نہیں ہوں، میں اللہ کا دوست، آج سے پہلے پہلے ہی تھا، تم لوگ موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس جاؤ جن کو اللہ تعالیٰ نے ہم کلامی کے شرف سے نوازا ہے چناچہ وہ لوگ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور وہ بھی یہی جواب دیں گے کہ اس کام کا اہل میں نہیں ہوں، تم لوگ عیسیٰ (علیہ السلام) کے پاس جاؤ جو اللہ کا کلمہ اور اس کی روح ہیں! چناچہ ( وہ لوگ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور) حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) بھی یہی جواب دیں گے کہ اس کام کا اہل میں نہیں ہوں آخر کار ( اس وقت یہ بات واضح ہوجائے گی کہ شفاعت کا انحصار صرف خاتم الانبیاء محمد ﷺ پر ہے کیونکہ بارگاہ رب العزت میں سب سے زیادہ قرب وعزت انہی کو حاصل ہے اور تمام انبیاء و رسولوں میں سے سب سے زیادہ ممتازومشہور انہی کی ذات ہے، چناچہ وہ لوگ محمد ﷺ کے پاس آئیں گے اور محمد ﷺ ( عرش الہٰی کے دائیں جانب) کھڑے ہو کر تمام نوع انسانی کو میدان حشر کی سختیوں اور پریشانیوں سے راحت دلانے کی شفاعت کرنے کی اجازت طلب کریں گے، پس آپ ﷺ کو اجازت عطا کی جائے گی ( اور جیسا کہ پیچھے گزرا آپ ﷺ بارگاہ رب العزت میں پیش ہو کر سجدہ میں گرپڑیں گے اور پھر حکم الٰہی پر سر اٹھائیں گے اور عرض ومعروض کریں گے) پھر جب حساب و کتاب کا مرحلہ گزر جائے گا اور تمام لوگ پل صراط کے اوپر سے گزرنے والے ہوں گے تو امانت دار اور رحم ( ناطے) کو ( صورت دے کر) لایا جائے گا اور یہ دونوں ( اپنا حق اور انصاف مانگنے کے لئے) پل صراط کے دائیں بائیں دونوں طرف کھڑے ہوجائیں گے پھر ( پل صراط سے لوگوں کا گزرنا شروع ہوگا تو ایک طبقہ جو تم میں سب سے افضل ہوگا اور سب سے پہلے گزرے گا بجلی کی طرح ( نہایت سرعت سے) پل پار کر جائے گا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے ( یہ سن کر) عرض کیا کہ ( یا رسول اللہ ﷺ! ) آپ ﷺ پر میرے ماں باپ فدا ہوں، بجلی کی طرح گزرنے کی صورت کیا ہوگی! آپ ﷺ نے فرمایا۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ بجلی کی چمک کس طرح گزر جاتی ہے اور پل چھپکتے ہی واپس آجاتی ہے ( مطلب یہ ہے) کہ یہ لوگ پل صراط پر سے بس اسی طرح گزریں گے اور ان کو ان کے اعمال کی طاقت ونورانیت اور پاگیزگی آگے بڑھائے گی ( یعنی جس کے اعمال جس درجہ کے ہوں گے اس کے گزرنے کی رفتار بھی اسی درجہ کی ہوگی) اور اس وقت جب کہ مسلمان پل صراط کے اوپر سے گزر رہے ہوں گے) تمہارے نبی ﷺ پل صراط پر کھڑے ہوئے یہ کہے جار ہے ہوں گے کہ۔ ( یعنی پروردگار! ان کو سلامتی کے ساتھ گزار دے ان کو دوزخ میں گرنے سے محفوظ رکھ) اور پھر کچھ بندوں کے اعمال عاجز ہوں گے، یعنی جن بندوں کے اعمال ناقص وکمتر ہوں گے یا وہ ایسے اعمال نہ رکھتے ہوں گے جن کی بنا پر انہیں پل پار کرنے میں مدد ملے تو وہ لوگ پل پر سے گزرتے وقت سخت قسم کی پریشانیوں اور رکاوٹوں میں گھر جائیں گے) یہاں تک کہ ایک شخص ( جو اپنے اعمال کی بہت زیادہ خرابی کی وجہ سے چلنے پر بالکل ہی قادر نہیں ہوگا) گھسیٹتا ہوا اور کو لہوں کے بل سرکتا ہوا آئے گا۔ اس کے بعد آنحضرت ﷺ نے فرمایا اور پل صراط کے دونوں طرف آنکڑے لٹکے ہوں گے اور ان کو ( اللہ تعالیٰ کی طرف سے) یہ حکم دیا گیا ہوگا کہ وہ ہر اس شخص کو گرفت میں لے لیں جو قابل گرفت قرار پاچکا ہے، چناچہ وہ آنکڑے ایسے ہونگے کہ لوگوں کو پکڑیں گے اور پھر) ان میں سے کچھ لوگ تو ان آنکڑوں کی مصیبت جھیل کر اور زخمی ہو کر ( دوزخ کی آگ سے) نجات پاجائیں گے اور کچھ لوگوں کو ہاتھ پاؤں باندھ کر دوزخ میں پھینک دیا جائے گا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں ابوہریرہ ؓ کی جان ہے دوزخ کا گھیراو ستر برس کی مسافت کی راہ کے برابر ہے۔ ( مسلم ) تشریح جنت کو ان کے قریب کردیا جائے گا۔ کے دریعہ سورت تکویر کی اس آیت کی طرف اشارہ ہے۔ (وَاِذَا الْجَنَّةُ اُزْلِفَتْ 13 عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّا اَحْضَرَتْ 14) 81۔ التکویر 79) اور قیامت کے دن میدان حشر میں جنت جب قریب لائی جائے گی تب ہر شخص معلوم کرے گا کہ وہ کیا لے کر آیا ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بھی ان کو یہی جواب دیں گے کہ اس کام کا اہل میں نہیں ہوں۔۔ الخ۔ کے ضمن میں ایک شارح نے لکھا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) یہ بات اظہار تواضح و انکسار کے طور پر کہیں گے کہ اس بلند درجہ کا لائق میں نہیں ہوں گویا ان کا مطلب یہ ہوگا کہ پروردگار کی جانب سے مجھے جو بھی فضیلت وخصوصیت اور عزت عطا ہوئی ہے وہ حضرت جرائیل (علیہ السلام) کے واسطہ سے مجھ تک پہنچی ہے، لہٰذا تمہیں موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس جانا چاہئے کیونکہ ان کو عطا ہونے والی فضیلت وخصوصیت۔ اور عزت یعنی پروردگار سے ہم کلامی کی سعادت بغیر کسی واسطہ کے براہ راست حاصل ہوئی ہے۔ وہ لوگ محمد ﷺ کے پاس آئیں گے اس موقع پر یہ کہنے کے بجائے کہ وہ لوگ میرے پاس آئیں گے آپ ﷺ نے اپنا اسم شریف محمد ﷺ ذکر کیا اور فرمایا کہ وہ لوگ محمد ﷺ کے پاس آئیں گے، اس کی وجہ یہ ہے کہ محمد میں حمد کے معنی ہیں اور اس کے ذریعہ اس طرف اشارہ کرنا مقصود ہے کہ آپ ﷺ اس دن مقام محمود پر کھڑے ہوں گے جو مقام شفاعت ہے۔ ایک طبقہ جو تم میں سب سے پہلے گزرے گا۔۔ الخ۔ کے بارے میں زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ اس طبقہ سے انبیاء (علیہم السلام) کا طبقہ مراد ہے تاہم یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ اس امت کے اولیاء وصلحاء کا طبقہ مراد ہو۔

5516Mishkaat-al-Masabih

دوزخ سے نکال کر جنت میں پہنچائے جانے والے لوگ کس طرح جلد تروتازہ اور توانا ہوجائیں گے

وعن جابر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يخرج من النار بالشفاعة كأنهم الثعارير ؟ قال : إنه الضغابيس . متفق عليه

اور حضرت جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ وہ لوگ جو شفاعت کی بناء پر دوزخ سے نکالیں جائیں گے ان کی مثال ایسی ہوگی وہ ثعاریر ہیں۔ ہم نے عرض کیا کہ رسول اللہ ﷺ! ثعاریر سے کیا مراد ہے! آپ ﷺ نے فرمایا۔ وہ کھیرے ککڑیاں ہیں۔ (بخاری ومسلم) تشریح کھیرے ککڑیاں ضغابیس کا ترجمہ کیا گیا ہے! مطلب یہ ہے کہ جب ان لوگوں کو دوزخ کی آگ سے باہر لایا جائے گا تو وہ جل کر کوئلہ ہوگئے ہوں گے، لیکن جب انہیں نہر حیات میں غوطہ دلایا جائے گا تو وہ اس طرح جھٹ پٹ تروتازہ اور توانا ہوجائیں گے جس طرح کھیرے ککڑیاں اسی طرح کی دوسری سبزیوں کے درخت بہت جلد بڑھتے اور ہرے بھرے ہوجاتے ہیں۔

5517Mishkaat-al-Masabih

کون کون لوگ شفاعت کریں گے ؟

وعن عثمان بن عفان قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يشفع يوم القيامة ثلاثة : الأنبياء ثم العلماء ثم الشهداء . رواه ابن ماجه

اور حضرت عثمان ابن عفان ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن تین طرح کے لوگ شفاعت کریں گے، اول انبیاء، پھر (با عمل) علماء اور پھر شہداء۔ ( ابن ماجہ ) تشریح اور پھر شہداء میں جو عطف ہے اس سے صراحت کے ساتھ یہ ثابت ہوجاتا ہے کہ با عمل علماء، شہدا سے افضل ہیں، اس کی دلیل وہ حدیث بھی ہے جس کو شیرازی (رح) نے نقل کیا ہے۔ یوزن یوم القیامۃ مداداللعلماء ودم الشہداء فترجح مدادالعلماء علی دم الشہداء۔ قیامت کے دن علماء کی روشنائی اور شہداء کے خون کو تولا جائے گا تو شہداء کے خون پر علماء کی روشنائی بھاری پڑجائے گی۔ واضح رہے کہ مذکورہ بالا حدیث میں شفاعت کرنے والے صرف تین طرح کے لوگوں کی تخصیص محض ان کی برتر فضیلت و بزرگی کی بنا پر ہے ویسے مسلمانوں میں تمام ہی نیک لوگوں کو شفاعت کا حق حاصل ہوگا، جیسا کہ اس سلسلہ میں منقول متعدد مشہور احادیث سے ثابت ہے، خواہ اس شفاعت کا تعلق گناہوں کی مغفرت سے ہو یا مراتب و درجات کی بلندی سے نیز شفاعت سے انکار صریح بدعت و گمراہی ہے، جیسا کہ خوارج اور بعض معتزلہ نے اختیار کیا ہے۔