آنحضرت ﷺ نے ترویہ اور نفر کے دن ظہر وعصر کی نماز کہاں پڑھی
وعن عبد العزيز بن رفيع قال : سألت أنس بن مالك . قلت : أخبرني بشيء عقلته عن رسول الله صلى الله عليه و سلم : أين صلى الظهر يوم التروية ؟ قال : بمنى . قلت : فأين صلى العصر يوم النفر ؟ قال : بالأبطح . ثم قال افعل كما يفعل أمراؤك
حضرت عبدالعزیز بن رفیع (تابعی) کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس بن مالک ؓ سے عرض کیا کہ آپ رسول کریم ﷺ کے متعلق اس بارے میں جو کچھ جانتے ہیں مجھے بتائیے کہ آپ ﷺ نے ترویہ کے دن (یعنی ذی الحجہ کی آٹھویں تاریخ کو) ظہر کی نماز کہاں پڑھی؟ حضرت انس ؓ نے فرمایا کہ منیٰ میں عبدالعزیز کہتے ہیں کہ میں نے پھر حضرت انس ؓ سے یہ پوچھا کہ آپ ﷺ نے نفر کے دن یعنی ذی الحجہ کی تیرہویں تاریخ کو عصر کی نماز کہاں پڑھی؟ تو حضرت انس ؓ نے فرمایا کہ ابطح میں۔ پھر حضرت انس ؓ نے فرمایا کہ تم اسی طرح کرو جس طرح تمہارے سردار کرتے ہیں۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
حدیث کے آخری جملہ کا مطلب یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے تو اسی طرح کیا تھا لیکن تم اس بارے میں اپنے سردار اور اپنے امیر کی پیروی و اتباع کرو کہ جس طرح وہ کریں اسی طرح تم کرو تاکہ ان کی مخالفت کرنے کی وجہ سے کوئی فتنہ انگیزی نہ ہو اور ویسے یہ کوئی ضروری بات بھی نہیں ہے کہ ترویہ کے دن آنحضرت ﷺ نے جہاں ظہر کی نماز اور نفر کے دن جہاں عصر کی نماز پڑھی ہے وہیں تم بھی پڑھو۔ پہلی روایت سے تو یہ معلوم ہوا تھا کہ آنحضرت ﷺ نے نفر کے دن یعنی ذی الحجہ کی تیرہویں تاریخ کو ظہر کی نماز محصب میں پڑھی تھی جب کہ یہ حدیث اس سلسلہ میں خاموش ہے چناچہ ان دونوں روایتوں میں بایں معنی کوئی تضاد نہیں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ظہر کی نماز محصب ہی میں پڑھی تھی جیسا کہ حضرت انس ؓ کی پہلی روایت سے معلوم ہوا مگر اس موقع پر چونکہ حضرت عبدالعزیز نے اس دن کی ظہر کی نماز کے بارے میں دریافت نہیں کیا اس لئے اس دوسری روایت میں حضرت انس ؓ نے بھی اس کا تذکرہ نہیں کیا۔
ابطح میں قیام سنت ہے یا نہیں ؟
وعن عائشة رضي الله عنها قالت : نزول الأبطح ليس بسنة إنما نزله رسول الله صلى الله عليه و سلم لأنه كان أسمح لخروجه إذا خرج
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ ابطح میں اترنا یعنی ٹھہرنا سنت نہیں ہے اور نبی کریم ﷺ تو وہاں صرف اس لئے اترے تھے کہ مکہ سے چلنے میں آسانی ہو جب کہ آپ ﷺ وہاں سے واپس ہوئے تھے۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
حضرت عائشہ ؓ کے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ جب تیرہویں ذی الحجہ کو منیٰ سے لوٹے تو ابطح یعنی محصب میں صرف اس غرض سے ٹھہر گئے تھے تاکہ وہاں اپنا سامان وغیرہ چھوڑ کر مکہ جائیں اور وہاں طواف الوداع کریں اور جب مکہ سے مدینہ واپس ہوں تو اس وقت سامان وغیرہ ساتھ نہ ہونے کی وجہ سے آسانی ہو۔ اس بارے میں جہاں تک مسئلہ کا تعلق ہے تو اس میں اختلاف ہے، بعض حضرات تو یہ کہتے ہیں کہ تحصب یعنی محصب میں ٹھہرنا سنت ہے اور افعال حج کا ایک تتمہ ہے۔ یہ حضرت ابن عمر ؓ کا قول ہے، ان کے نزدیک قیام محصب کے مسنون ہونے کی دلیل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے منیٰ میں فرمایا تھا کہ کل ہم انشاء اللہ خیف بنی کنانہ یعنی محصب میں ٹھہریں گے اور اس کا سبب یہ تھا کہ خیف بنی کنانہ ہی وہ جگہ ہے جہاں مشرکین مکہ نے آنحضرت ﷺ کی مکی زندگی میں باہم یہ عہد و پیمان کیا تھا اور یہ قسم کھائی تھی کہ ہم بنی ہاشم اور بنی عبدالمطلب یعنی ان دونوں خاندانوں کے لوگوں سے میل جول، نکاح بیاہ، خریدو فروخت اور ان میں اٹھنا بیٹھنا اس وقت تک چھوڑے رہیں گے جب تک یہ لوگ محمد کو ہمارے سپرد نہ کردیں گے گویا اس مقام پر انہوں نے ان خاندانوں سے مکمل مقاطعہ اور بائیکاٹ کا اعلان کر کے شعائر کفر کا اظہار کیا تھا۔ چناچہ جب اللہ تعالیٰ نے اسلام کی قوت کو غالب فرمایا اور کفر و شرک کا پھیلاؤ دور ہوا تو آنحضرت ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقوع پر منیٰ سے مکہ کو واپس ہوتے ہوئے یہ چاہا کہ اس جگہ یعنی خیف بنی کنانہ (محصب) میں ٹھہر کر شعائر اسلام کو ظاہر کریں جہاں کچھ ہی سال پیشتر کفار نے شعائر کفر کو ظاہر کیا تھا اور اس طرح وہاں اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کا شکر ادا کیا جو اس نے اسلام کو غلبہ اور عظمت دے کر عطا فرمائی تھیں۔ طبرانی نے اوسط میں حضرت عمر فاروق ؓ کا یہ قول نقل کیا ہے کہ یوم النفر کی رات میں ابطح میں ٹھہرنا منجملہ سنت ہے، نیز یہ کہ حضرت عمر فاروق ؓ لوگوں کو اس رات میں ابطح میں ٹھہرنے کا حکم دیا کرتے تھے۔ فقہ حنفی کی مشہور تین کتاب ہدایہ میں لکھا ہے کہ زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ ابطح میں اس مقصد سے قیام فرماتے تھے کہ مشکرین کو اللہ تعالیٰ کی قدرت دکھائیں کہ کل جس جگہ انہوں نے مکمل مقاطعہ کا عہد و پیمان کر کے اپنی برتری کا اظہار کیا تھا آج وہی جگہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے مسلمانوں کے زیر تسلط ہے، چناچہ اس جگہ رات میں قیام سنت ہے۔ اس کے برخلاف، بعض حضرات کہتے ہیں کہ محصب میں قیام سنت نہیں ہے کہ کیونکہ وہاں آنحضرت ﷺ کا قیام محض اتفاقی طور پر ہوگیا تھا جس کی صورت یہ ہوئی تھی کہ آنحضرت ﷺ کے آزاد کردہ غلام حضرت ابورافع جو آنحضرت ﷺ کے سامان سفر کے نگران تھے اپنی رائے سے اور اتفاقی طور پر وہاں رک گئے اور آپ ﷺ کا خیمہ نصب کردیا، اس بارے میں آنحضرت ﷺ کا کوئی حکم نہیں تھا۔ قیام محصب کو سنت نہ کہنے والوں میں حضرت ابن عباس ؓ کے علاوہ حضرت عائشہ ؓ بھی ہیں جیسا کہ مذکورہ بالا حدیث سے معلوم ہوا۔ بہرکیف اس بارے میں بہتر بات یہ ہے کہ جب آنحضرت ﷺ کا محصب میں ٹھہرنا منقول ہے چاہے وہ ٹھہرنا اتفاقی طور پر ہی کیوں نہ رہا ہو تو اچھا یہی ہے کہ وہاں قیام کرلیا جائے جیسا کہ دیگر صحابہ اور خلفاء راشدین بھی اس پر عمل کرتے تھے اور اگر کوئی شخص وہاں نہ ٹھہرے تو اس میں کوئی نقصان بھی نہیں ہے۔
طواف وداع کے بعد آنحضرت ﷺ کی مکہ سے روانگی
وعنها قالت : أحرمت من التنعيم بعمرة فدخلت فقضيت عمرتي وانتظرني رسول الله صلى الله عليه و سلم بالأبطح حتى فرغت فأمر الناس بالرحيل فخرج فمر بالبيت فطاف به قبل صلاة الصبح ثم خرج إلى المدينة . هذا الحديث ما وجدته برواية الشيخين بل برواية أبي داود مع اختلاف يسير في آخره
حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں نے عمرہ کے لئے تنعیم سے احرام باندھا اور مکہ میں داخل ہوئی اور پھر میں نے اپنا وہ عمرہ ادا کیا جو ایام شروع ہوجانے کی وجہ سے رہ گیا تھا اور جس کی قضا مجھے کرنی تھی، اس کی تفصیل باب قصۃ حجۃ الوداع میں گزر چکی ہے اور رسول کریم ﷺ ابطح میں میرے انتظار میں رہے، یہاں تک کہ جب میں افعال عمرہ سے فارغ ہوگئی تو آپ ﷺ نے لوگوں کو روانگی کا حکم دیا، چناچہ آپ ﷺ ابطح سے روانہ ہو کر خانہ کعبہ تشریف لائے اور نماز فجر سے پہلے اس کا طواف یعنی طواف وداع کیا پھر نماز فجر سے پہلے ہی یا نماز فجر پڑھنے کے بعد مدینہ کی طرف روانہ ہوگئے۔ مؤلف مشکوۃ فرماتے ہیں کہ مجھے یہ حدیث بخاری ومسلم میں سے کسی کی روایت کے ساتھ نہیں ملی۔ بلکہ اس حدیث کو ابوداؤد نے نقل کیا ہے وہ بھی آخر میں کس قدر مختلف ہے۔
تشریح
مؤلف مشکوۃ کے قول کا مطلب یہ ہے کہ میرے علم کے مطابق اس روایت کو نہ تو بخاری نے نقل کیا ہے اور نہ مسلم نے، بلکہ اس روایت کو ابوداؤد نے نقل کیا ہے مزید کہ ابوداؤد کی روایت اور صاحب مصابیح کی نقل کردہ اس روایت کے آخری جزء میں کچھ اختلاف بھی ہے، گویا اس جملہ کے ذریعہ مؤلف مشکوۃ نے صاحب مصابیح پر ایک اعتراض تو یہ کیا ہے کہ انہوں نے اس روایت کو فصل اول میں نقل کیا ہے جب کہ فصل اول میں صرف بخاری و مسلم ہی کی روایت نقل کی جاتی ہے دوسرا اعتراض یہ کیا ہے کہ نقل حدیث میں راوی یعنی ابوداؤد کی مخالفت کی بایں طور کہ حدیث کا آخری جزو بعینہ نقل نہیں کیا جو ابوداؤد نے روایت کیا ہے۔
وعن ابن عباس قال : كان الناس ينصرفون في كل وجه فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا ينفرن أحدكم حتى يكون آخر عهده بالبيت إلا أنه خفف عن الحائض
حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ لوگ افعال حج کی ادائیگی کے بعد طواف وداع کئے بغیر ہر طرف یعنی اپنے اپنے وطن کو روانہ ہو رہے تھے یعنی لوگ اس بات کی پابندی نہیں کر رہے تھے کہ افعال حج کے بعد مکہ آ کر طواف وداع کرتے چناچہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی بھی یعنی آفاقی روانہ نہ ہو جب تک کہ سفر حج کا آخری مرحلہ بیت اللہ کو قرار نہ دے لے یعنی کوئی بھی آفاقی طواف وداع کئے بغیر اپنے وطن کو واپس نہ ہو، ہاں یہ طواف حیض و نفاس والی عورت کے لئے موقوف ہے۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
افعال حج سے فراغت کے بعد اور مکہ سے اپنے وطن کو روانہ ہونے سے پہلے جو طواف کیا جاتا ہے اسے طواف وداع کہتے ہیں اور اس کا ایک نام طواف صدر بھی ہے، یہ طواف آفاقی پر واجب ہے اگرچہ اس میں کچھ مضائقہ نہیں ہے کہ اس طواف کے بعد جتنے دن چاہیں مکہ میں مقیم رہا جائے لیکن افضل یہی ہے کہ مکہ سے روانگی کے وقت ہی یہ طواف کیا جائے چناچہ امام اعظم ابوحنیفہ فرماتے تھے کہ اگر کوئی شخص دن کے کسی حصہ میں طواف وداع کرے اور پھر عشاء تک مکہ میں مقیم رہے تو میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ بات یہی ہے کہ وہ مکہ سے روانگی کے وقت دوسرا طواف کرلے۔ یہ طواف نہ تو اہل مکہ پر واجب ہے نہ اس شخص پر جو میقات کے اندر رہتا ہو اور نہ اس شخص پر واجب ہے جو مکہ میں آ کر رہ گیا ہو اور پھر وہ وہاں سے چلے جانے کا ارادہ رکھتا ہو، اسی طرح یہ طواف نہ تو اس شخص پر واجب ہے جس کا حج فوت ہوگیا ہو اور نہ عمرہ کرنے والے پر واجب ہے نیز اس طواف میں نہ رمل (یعنی اکڑ کر چلنا) ہوتا ہے اور نہ اس کے بعد سعی کی جاتی ہے۔
عذر کی بنا پر طواف وداع واجب نہیں رہتا
وعن عائشة قالت : حاضت صفية ليلة النفر فقالت : ما أراني إلا حابستكم . قال النبي صلى الله عليه و سلم : عقرى حلقى أطافت يوم النحر ؟ قيل : نعم . قال : فانفري
حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ یوم نفر کی رات میں حضرت صفیہ ؓ کے ایام شروع ہوگئے تو وہ کہنے لگیں کہ میرا خیال ہے میں آپ لوگوں کو مدینہ کی روانگی سے روکوں گی کیونکہ میرے ایام شروع ہوگئے ہیں اور میں نے طواف وداع کیا ہی نہیں آنحضرت ﷺ نے جب یہ سنا تو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اسے ہلاک و زخمی کرے کیا اس نے نحر کے دن طواف طواف زیارۃ کیا ہے؟ عرض کیا گیا کہ ہاں! آپ ﷺ نے فرمایا۔ پھر رکنے کی ضرورت نہیں ہے، چلو۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
یوم نفر کی رات سے مراد وہی رات ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے محصب میں قیام فرمایا تھا، یعنی تیرہویں ذی الحجہ کی رات، مگر یہ بات ذہن نشین رہنی چاہئے کہ حج کے بیان میں رات کی نسبت روز گزشتہ کی طرف کی جاتی ہے نہ کہ روز آئندہ کی طرف، لہٰذا یوم نفر (تیرہویں ذی الحجہ) کی رات سے وہ رات مراد ہوتی ہے جو تیرہویں کے دن کے بعد آتی ہے۔ بہرکیف حضرت صفیہ ؓ نے تو یہ گمان کیا کہ جس طرح طواف زیارۃ عذر کی وجہ سے ترک نہیں کیا جاسکتا اسی طرح عذر کے سبب طواف وداع کا ترک بھی جائز نہیں اس لئے انہوں نے کہا کہ اب میں جب تک پاک نہ ہوجاؤں اور طواف نہ کرلوں اس وقت تک سب کو ٹہرنا پڑے گا اور آنحضرت ﷺ یہ سمجھے کہ انہوں نے طواف زیارۃ نہیں کیا ہے جس کی وجہ سے اب ٹھہرنا پڑے گا اس لئے آپ ﷺ نے جملہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اسے ہلاک و زخمی کرے، مگر جب آپ کو تحقیق کے بعد معلوم ہوا کہ صفیہ ؓ نے یہ بات طواف زیارۃ کے لئے نہیں کہی بلکہ طواف وداع کے لئے کہی ہے تب آپ ﷺ نے فرمایا کہ طواف وداع کے بغیر ہی مدینہ روانہ ہوجاؤ کیونکہ عذر کی بناء پر طواف کا وجوب ساقط ہوجاتا ہے۔ ہاں اگر طواف زیارۃ ابھی نہ ہوا ہوتا تو پھر اس کی وجہ سے رکنا پڑتا۔ اللہ تعالیٰ اسے ہلاک و زخمی کرے یہ جملہ اگرچہ بد دعائیہ ہے مگر یہ بد دعا کے ارادہ سے استعمال نہیں کیا گیا ہے بلکہ اہل عرب کی عادت ہے کہ وہ ایسے جملے از راہ پیار استعمال کرتے ہیں۔
قربانی کے دن آپ ﷺ کی تذکیر ونصیحت
عن عمرو بن الأحوص قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول في حجة الوداع : أي يوم هذا ؟ قالوا : يوم النحر الأكبر . قال : فإن دماءكم وأموالكم وأعراضكم بينكم حرام كحرمة يومكم هذا في بلدكم هذا ألا لا يجني جان على نفسه ولا يجني جان على ولده ولا مولود على والده ألا وإن الشيطان قد أيس أن يعبد في بلدكم هذا أبدا ولكن ستكون له طاعة فيما تحتقرون من أعمالكم فسيرضى به . رواه ابن ماجه والترمذي وصححه
حضرت عمرو بن احوص ؓ کہتے ہیں کہ میں نے سنا کہ نبی کریم ﷺ نے حجۃ الوداع میں قربانی کے دن (یعنی دسویں ذی الحجہ کو صحابہ کو مخاطب کرتے ہوئے) فرمایا جانتے بھی ہو کہ یہ کون سا دن ہے؟ صحابہ نے عرض کیا کہ ہاں حج اکبر کا دن ہے۔ پھر آپ نے فرمایا یاد رکھو تمہارے خون، تمہارے مال اور تمہاری آبروئیں، تمہارے درمیان اسی طرح حرام ہیں جس طرح تمہارے اس دن اور تمہارے اس شہر میں! خبردار! ظلم کرنے والا صرف اپنی جان پر ظلم کرتا ہے یعنی جو شخص کسی پر ظلم کرتا ہے اس کا وبال اسی پر ہوتا ہے کہ وہی ماخوذ ہوتا ہے یہ نہیں ہوتا کہ ظلم کوئی کرے اور پکڑا کوئی جائے یاد رکھو! کوئی ظالم اپنے بیٹے پر ظلم نہیں کرتا اور نہ کوئی بیٹا اپنے باپ پر ظلم کرتا ہے، جان لو! شیطان ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اس بات سے ناامید ہوگیا ہے کہ تمہارے اس شہر مکہ میں اس کی پرستش کی جائے۔ ہاں تمہارے ان اعمال میں شیطان کی فرمانبرداری ہوگی جنہیں تم حقیر سمجھو گے، چناچہ وہ ان گناہوں سے خوش ہوگا جن کو تم حقیر سمجھو گے۔
تشریح
حج اکبر مطلق حج کو کہتے ہیں جیسا کہ ارشاد ربانی ہے۔ آیت (و اذان من اللہ ورسولہ الی الناس یوم الحج الاکبر ان اللہ بریء من المشرکین ورسولہ)۔ اور اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے حج کے دن عام لوگوں کے سامنے اعلان کیا جاتا ہے کہ اللہ اور اس کا رسول، مشرکوں کو امن دینے سے دست بردار ہوتے ہیں۔ اور حج کو صفت اکبر کے ساتھ موصوف اس لئے کیا جاتا ہے کہ عمرہ حج اصغر کہلاتا ہے اس مناسبت سے حج کو حج اکبر سے موسوم کیا گیا۔ مشہور مفسر بیضاوی کہتے ہیں کہ یوم بقر عید یعنی دسویں ذی الحجہ کا دن یوم حج اکبر کہلاتا ہے کیونکہ نہ صرف یہ کہ اسی دن حج مکمل ہوتا ہے بلکہ حج کے تمام بڑے بڑے افعال اسی دن میں ادا کئے جاتے ہیں چناچہ ایک روایت میں اس کی صراحت بھی ہے کہ نبی کریم ﷺ حجۃ الوداع میں قربانی بقر عید کے دن جمرات کے قریب کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ یہ حج اکبر کا دن ہے۔ پچھلے صفحات میں اسی مضمون کی جو حدیث گزری ہے اس میں تو یہ ذکر تھا کہ آنحضرت ﷺ نے جب صحابہ سے پوچھا کہ یہ کون سا دن ہے؟ تو انہوں نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتا ہے جب کہ یہاں یہ ذکر کیا گیا ہے کہ انہوں نے جواب دیا کہ یہ حج اکبر کا دن ہے، بظاہر ان دونوں میں تضاد نظر آتا ہے حالانکہ اس میں کوئی تضاد نہیں ہے کیونکہ ہوسکتا ہے کہ بعض صحابہ نے تو وہ جواب دیا ہو اور بعض نے یہ، لہٰذا جس راوی نے جو جواب سنا وہ ذکر کردیا۔ فان دماء کم الخ (اور تمہارے خون الخ) کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح تم لوگ اس مبارک دن اور اس مقدس شہر میں ایک دوسرے کا خون بہانے، ایک دوسرے کا مال ہڑپ کرنے اور ایک دوسرے کی بےآبروئی کو حرام اور برا سمجھتے ہو اسی طرح یہ چیزیں ہر جگہ اور ہر وقت حرام وبری ہیں۔ کوئی ظالم اپنے بیٹے پر ظلم نہیں کرتا الخ زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ یہ جملہ، نفی کو ظاہر کر رہا ہے یعنی اگر کسی کا بیٹا کسی پر ظلم کرتا ہے یا کسی کا باپ کسی پر ظلم کرتا ہے تو وہ ایک دوسرے کے ظلم کی وجہ سے ماخوذ نہیں ہوتے، یہ نہیں ہوتا کہ کسی پر ظلم تو کرے بیٹا اور اس کی وجہ سے پکڑا جائے باپ، یا کسی پر ظلم کرے باپ اور اس کی وجہ سے پکڑا جائے بیٹا، بلکہ جو ظلم کرتا ہے وہی پکڑا جاتا ہے، چناچہ یہ ارشاد گرامی اس آیت کی مانند ہے کہ۔ (وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى) 35۔ فاطر 18)۔ کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھاتا اور یہ بات صرف باپ بیٹے ہی پر منحصر نہیں ہے بلکہ عمومی طور پر کوئی بھی شخص کسی دوسرے کے ظلم و جرم کی وجہ سے ماخوذ نہیں ہوتا۔ چناچہ یہاں باپ بیٹے کو بطور خاص محض اس مقصد سے ذکر کیا گیا ہے کہ یہ دونوں سب سے زیادہ قریبی اقرباء ہیں جب ان میں سے کوئی ایک دوسرے کے فعل کی وجہ سے ماخوذ نہیں ہوں گے۔ لہٰذا اس طرح یہ جملہ ماقبل کی عبارت لایجنی جان الخ ظلم کرنے والا صرف اپنی جان پر ظلم کرتا ہے کی تاکید کے طور پر ہوگا۔ بعض شارحیں نے اس جملہ لایجنی الا علی نفسہ میں لفظ الا نقل نہیں کیا ہے اور لکھا ہے یہ جملہ نفی بمعنی نہی ہے یعنی اس جملہ کے ذریعہ منع کیا جا رہا ہے کہ کوئی ظالم اپنے نفس پر ظلم نہ کرے جس سے مراد یہ ہے کہ کوئی کسی پر ظلم نہ کرے کیونکہ جو شخص کسی پر ظلم کرتا ہے وہ درحقیقت اپنی جان پر ظلم کرتا ہے بایں طور کہ وہ کسی پر ظلم کر کے اپنے کو سزا اور عذاب کا مستحق بنا لیتا ہے۔ وان الشیطان قد ایس الخ کا مطلب یہ ہے کہ شیطان ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اس بات سے ناامید ہوگیا ہے کہ اس شہر مکہ میں غیر اللہ کی عبادت کے ذریعہ اس کی فرمانبرداری ہو۔ لہٰذا یہاں اب کبھی بھی کوئی شخص شیطان کے فریب میں آکر غیر اللہ کی عبادت و پرستش کھلم کھلا نہیں کرے گا۔ اس سے گویا اس طرف اشارہ مقصود ہے کہ یہ مقدس شہر ہمیشہ کے لئے کفر و شرک کی غلاظت سے پاک کردیا گیا ہے اور اب کبھی بھی اس پاک سر زمین پر کسی غیر مسلم کو قدم رکھنے کی اجازت نہ ہوگی۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ کوئی غیر مسلم چوری چھپے اس شہر میں آجائے اور وہ خفیہ طور پر غیر اللہ کی عبادت کرنے لگے۔ ہاں تمہارے ان اعمال میں شیطان کی فرمانبرداری ہوگی میں اعمال سے مراد گناہ کے اعمال ہیں جیسے ناحق قتل کرنا، کسی کا مال لوٹنا یا اسی قسم کے دوسرے اعمال بد اور صغیرہ گناہوں کو اہمیت نہ دینا۔ اس جملہ کا مطلب یہ ہے کہ ان اعمال بد میں مبتلا ہونے والا جب ان کو حقیر سمجھتا ہے اور جس کے نتیجہ میں وہ ان اعمال سے اجتناب نہیں کرتا تو گویا وہ شیطان کی اطاعت کرتا ہے کیونکہ شیطان ان باتوں سے خوش ہوتا ہے اور پھر وہی اعمال بڑے فتنہ و فساد کا باعث بن جاتے ہیں۔
قربانی کے دن آپ ﷺ کی تذکیر ونصیحت
وعن رافع بن عمرو والمزني قال : رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم يخطب الناس بمنى حين ارتفع الضحى على بغلة شهباء وعلي يعبر عنه والناس بين قائم وقاعد . رواه أبو داود
حضرت رافع بن عمرو ؓ مزنی کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا رسول کریم ﷺ منیٰ میں قربانی کے دن چاشت کے وقت لوگوں کے سامنے خطبہ ارشاد فرما رہے تھے آپ ﷺ ایسے خچر پر سوار تھے جس کے بال اوپر کی جانب سے سرخ اور اندر کی جانب سفید تھے اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ آپ ﷺ کی طرف سے بیان کر رہے تھے (یعنی آنحضرت ﷺ جو کچھ فرماتے حضرت علی ؓ اسے دہراتے تھے تاکہ دور کے لوگ بھی آپ ﷺ کی بات سن لیں) اور لوگوں میں سے کچھ تو کھڑے تھے اور کچھ بیٹھے تھے۔ (ابوداؤد)
وعن عائشة وابن عباس رضي الله عنهم أن رسول الله صلى الله عليه و سلم أخر طواف الزيارة يوم النحر إلى الليل . رواه الترمذي وأبو داود وابن ماجه
حضرت عائشہ ؓ وحضرت ابن عباس ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے طواف زیارۃ میں قربانی کے دن رات تک تاخیر کی۔ (ترمذی، ابوداؤد، ابن ماجہ)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے عورتوں کے لئے یا یہ کہ سب ہی کے لئے طواف زیارت میں قربانی کے دن رات تک تاخیر کو جائز قرار دیا۔ حدیث کا یہ مطلب نہیں ہے کہ آپ ﷺ نے اپنے طواف زیارت میں رات تک تاخیر کی، کیونکہ آپ ﷺ کے بارے میں تو یہ صراحت کے ساتھ ثابت ہوچکا ہے کہ آپ ﷺ نے قربانی کے وقت طواف زیارۃ کیا اور اس کے بعد مکہ میں یا منیٰ میں ظہر کی نماز پڑھی۔ طیبی کہتے ہیں کہ طواف زیارۃ کا وقت امام شافعی کے نزدیک بقر عید کی آدھی رات کے بعد ہی شروع ہوجاتا ہے جب کہ دیگر ائمہ کا مسلک یہ ہے کہ اس کا وقت بقر عید کے دن طلوع فجر کے بعد شروع ہوتا ہے اور آخری وقت کا کوئی تعین نہیں ہے جب بھی کیا جائے گا جائز ہوجائے گا لیکن امام ابوحنیفہ کے ہاں طواف زیارت کی ادائیگی ایام نحر میں واجب ہے لہٰذا اگر کوئی شخص اتنی تاخیر کرے کہ ایام نحر پورے گزر جائیں گے اور پھر وہ بعد میں طواف زیارۃ کرے تو اس پر دم یعنی بطور جزاء جانور ذبح کرنا واجب ہوگا۔
طواف زیارۃ میں رمل نہیں ہے
وعن ابن عباس : أن النبي صلى الله عليه و سلم لم يرمل في السبع الذي أفاض فيه . رواه أبو داود وابن ماجه
حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے طواف زیارت میں رمل نہیں کیا۔ (ابوداؤد، ابن ماجہ)
تشریح
جیسا کہ پہلے بھی بتایا جا چکا ہے کہ شانہ ہلاتے ہوئے چھاتی نکال کر کچھ تیزی کے ساتھ چلنا رمل کہلاتا ہے۔ چناچہ آنحضرت ﷺ نے طواف زیارۃ میں جو کہ فرض ہے رمل نہیں کیا کیونکہ طواف قدوم میں آپ ﷺ یہ کرچکے تھے۔ اس بارے میں مسئلہ بھی یہی ہے جو شخص طواف قدوم میں رمل و سعی کرچکا ہو وہ طواف زیارۃ میں نہ تو رمل کرے اور نہ طواف کے بعد سعی کرے اور جو شخص طواف قدوم میں یہ دونوں چیزیں نہ کرچکا ہو تو پھر وہ طواف زیارت میں رمل بھی کرے اور اس کے بعد سعی بھی کرے۔
محرم کے لئے ممنوع چیزیں کب جائز ہوتی ہیں
وعن عائشة أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : إذا رمى أحدكم جمرة العقبة فقد حل له كل شيء إلا النساء . رواه في شرح السنة وقال : إسناده ضعيفوفي رواية أحمد والنسائي عن ابن عباس قال : إذا رمى الجمرة فقد حل له كل شيء إلا النساء
حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ جب تم میں سے کوئی رمی جمرہ عقبہ سے فارغ ہوجاتا ہے اور سر منڈوا لیتا ہے یا بال کتروا لیتا ہے تو اس کے لئے عورت کے علاوہ ہر چیز حلال ہوجاتی ہے یعنی بیوی کے ساتھ جماع ان چیزوں کے بعد بھی حلال نہیں ہوتا، بلکہ یہ طواف زیارت سے فراغت کے بعد ہی حلال ہوتا ہے اس روایت کو صاحب مصابیح نے شرح السنہ میں نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ اس کی اسناد ضعیف ہے۔ اور احمد و نسائی نے اس روایت کو حضرت ابن عباس ؓ سے یوں نقل کیا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے رمی جمرہ عقبہ کرلی تو سر منڈوانے یا بال کتروانے کے بعد اس کے لئے عورت کے علاوہ ہر چیز حلال ہوجاتی ہے۔
وعنها قالت : أفاض رسول الله صلى الله عليه و سلم من آخر يومه حين صلى الظهر ثم رجع إلى منى فمكث بها ليالي أيام التشريق يرمي الجمرة إذا زالت الشمس كل جمرة بسبع حصيات يكبر مع كل حصاة ويقف عند الأولى والثانية فيطيل القيام ويتضرع ويرمي الثالثة فلا يقف عندها . رواه أبو داود
حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے قربانی کے دن آخری حصہ میں اس وقت فرض طواف کیا جب کہ آپ ﷺ نے ظہر کی نماز پڑھی اس کے بعد منیٰ میں واپس آگئے اور منیٰ میں ایام تشریق (یعنی گیارہویں، بارہویں اور تیرہویں تاریخوں) کی راتیں بسر کیں، ان ایام میں آپ ﷺ جمروں پر اس وقت کنکریاں مارتے جب دوپہر ڈھل جاتی ہر جمرہ پر سات سات کنکریاں مارتے، ہر کنکری مارتے وقت اللہ اکبر کہتے اور پہلے دوسرے جمرہ (یعنی جمرہ اولیٰ اور جمرہ وسطی) دعا و اذکار کے لئے دیر تک ٹھہرتے اور اس وقت مختلف دعاؤں اور عرض حاجات کے لئے تضرع اختیار کرتے اور پھر جب تیسرے جمرہ یعنی جمرہ عقبہ پر کنکریاں مارتے تو اس کے پاس نہ ٹھہرتے۔ (ابوداؤد)
تشریح
یہ حدیث اس بات کی صریح دلیل ہے کہ آنحضرت ﷺ نے دسویں ذی الحجہ کو ظہر کی نماز مکہ میں پڑھی منیٰ میں نہیں پڑھی تھی۔ فلا یقف عندہا کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ ﷺ جمرہ عقبہ کے پاس یا اس کے بعد ذکر و دعا نہیں کرتے تھے بلکہ مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ جس طرح دعا و اذکار کے لئے جمرہ اولیٰ اور جمرہ وسطی کے پاس دیر تک کھڑے رہتے تھے اس طرح دعا و اذکار کے لئے جمرہ عقبہ کے پاس کھڑے نہیں ہوتے تھے بلکہ وہاں چلتے چلتے ہی دعا وغیرہ کرلیا کرتے تھے۔
ایام تشریق کی رمی جمرات میں تقدیم وتاخیر کا مسئلہ
وعن أبي البداح بن عاصم بن عدي عن أبيه قال : رخص رسول الله صلى الله عليه و سلم لرعاء الإبل في البيتوتة : أن يرملوا يوم النحر ثم يجمعوا رمي يومين بعد يوم النحر فيرموه في أحدهما . رواه مالك والترمذي والنسائي وقال الترمذي : هذا حديث صحيح
حضرت ابوالبداح بن عاصم بن عدی (تابعی) اپنے والد مکرم سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ رسول کریم ﷺ نے اونٹ چرانے والوں کو اجازت دے دی تھی کہ وہ منیٰ میں شب باشی نہ کریں اور یہ کہ نحر کے دن (یعنی دسویں ذی الحجہ کو جمرہ عقبہ پر) کنکریاں ماریں اور پھر دونوں کی رمی جمرات کو یوم نحر کے بعد ایک ساتھ کریں اس طرح دونوں دن کی رمی جمرات ان میں سے کسی ایک دن کریں۔ (مالک، ترمذی، نسائی) اور امام ترمذی نے کہا ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے۔
تشریح
طیبی کہتے ہیں کہ حدیث کی مراد یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے چرواہوں کو یہ اجازت عطا فرما دی تھی کہ وہ ایام تشریق کی راتوں میں منیٰ میں نہ رہیں کیونکہ وہ اپنے جانوروں کی دیکھ بھال اور ان کے چرانے وغیرہ میں مشغول رہتے ہیں، نیز انہیں اس بات کی بھی اجازت دے دی کہ وہ صرف بقر عید کے دن جمرہ عقبہ پر کنکریاں ماریں اس کے بعد دوسرے دن یعنی گیارہویں کو رمی جمرات نہ کریں بلکہ تیسرے دن یعنی بارہویں کو دونوں دن کی ایک ساتھ رمی کریں اس طرح گیارہویں کی رمی تو بطور قضا ہوگی اور بارہویں کی ادا ہی ہوگی۔ اس بارے میں مسئلہ یہ ہے کہ ائمہ کے نزدیک عید کے دوسرے دن کی رمی کی تقدیم جائز نہیں ہے یعنی اگر کوئی عید کے دوسرے دن یعنی گیارہویں کو اس دن کی رمی کے ساتھ تیسرے دن یعنی بارہویں کی رمی بھی کرے تو یہ درست نہیں ہوگا ہاں تاخیر درست ہے کہ دوسرے دن کی رمی بھی تیسرے دن کی رمی کے ساتھ کی جاسکتی ہے جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ہے۔