سر منڈانے کا بیان

Mishkaat-al-Masabih · Chapter 68 · 32 hadiths · Page 1 of 2

2690Mishkaat-al-Masabih

سرمنڈانے کا بیان

دسویں ذی الحجہ کو جمرہ عقبہ پر کنکریاں مارنے کے بعد منیٰ ہی میں ہدی ذبح کی جاتی ہے اس کے بعد سر منڈا کر یا بال کتروا کر احرام کھول دیا جاتا ہے اس طرح رفث (عورت سے جماع وغیرہ) کے علاوہ ہر وہ چیز جو احرام کی حالت میں ممنوع تھی، جائز ہوجاتی ہے، چناچہ اس باب میں سر منڈوانے اور بال کتروانے دونوں چیزوں کا ذکر ہے، اگرچہ مؤلف مشکوۃ نے عنوان میں صرف سر منڈوانے کے ذکر پر اکتفاء کیا ہے کیونکہ احرام سے نکلنے کے لئے بال کتروانے کی بہ نسبت سر منڈانا افضل ہے، اس بارے میں تفصیل انشاء اللہ حسب موقع بیان ہوگی۔ یہ بات جان لیجئے کہ آنحضرت ﷺ کے بارے میں یہ کہیں ثابت نہیں ہے کہ آپ ﷺ نے حج وعمرہ کے علاوہ اور کبھی سر منڈایا ہو۔

2691Mishkaat-al-Masabih

سر منڈانا افضل ہے

عن ابن عمر : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم حلق رأسه في حجة الوداع وأناس من أصحابه وقصر بعضهم

حضرت ابن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے حجۃ الوداع میں اپنا سر منڈایا اور صحابہ میں سے کچھ نے تو اپنے سر منڈائے اور کچھ نے اپنے بال کتروائے۔ (بخاری و مسلم) تشریح جن صحابہ ؓ نے اپنے سر منڈائے انہوں نے تو آنحضرت ﷺ کی اتباع کے جذبے اور حصول فضیلت کو پیش نظر رکھا اور جن صحابہ ؓ نے بال کتروانے پر اکتفاء کیا (انہوں نے گویا جواز پر عمل کیا کہ بال کتروانا بھی جائز ہے)۔ صحیحین وغیر ہما میں یہ منقول ہے کہ آنحضرت ﷺ نے عمرۃ القضاء میں سر منڈانے کی بجائے بال کتروائے تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ آنحضرت ﷺ سے یہ دونوں چیزیں ثابت ہیں لیکن افضل سر منڈانا ہی ہے۔

2692Mishkaat-al-Masabih

آنحضرت ﷺ کا بال کتروانا

وعن ابن عباس قال : قال لي معاوية : إني قصرت من رأس النبي صلى الله عليه و سلم عند المروة بمشقص

حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ حضرت معاویہ ؓ نے مجھ سے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کے سر کے بال مروہ کے قریب تیر کی پیکان سے کترے۔ (بخاری و مسلم) تشریح مشقص کے معنی ہیں تیر کی پیکان لیکن بعض حضرات کہتے ہیں کہ مشقص بڑی قینچی کو کہتے ہیں اور یہ معنی زیادہ مناسب اور زیادہ صحیح ہیں۔ احادیث سے چونکہ یہ بات ثابت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اپنے حج میں سر کے بال کتروائے نہیں بلکہ منڈوائے تھے اس لئے حضرت معاویہ ؓ کے اس بیان کا تعلق حج سے نہیں بلکہ عمرے سے ہے، چناچہ حضرت معاویہ ؓ کے الفاظ عند المروۃ (مروہ کے قریب) بھی اس بات پر دلالت کرتے ہیں کیونکہ حضرت معاویہ ؓ اگر آپ ﷺ کے بال حج میں کترتے تو مروہ کے قریب نہ کہتے بلکہ یہ کہتے کہ میں نے آپ ﷺ کے سر کے بال منیٰ میں کترے۔

2693Mishkaat-al-Masabih

سر منڈانے والوں کے لئے آنحضرت ﷺ کی دعاء رحمت

وعن ابن عمر : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال في حجة الوداع : اللهم ارحم المحلقين . قالوا : والمقصرين يا رسول الله ؟ قال : اللهم ارحم المحلقين . قالوا : والمقصرين يا رسول الله ؟ قال : والمقصرين

حضرت ابن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے حجۃ الوداع میں فرمایا۔ اے اللہ! سر منڈانے والوں پر رحم فرما! صحابہ ؓ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! بال کتروانے والوں کے لئے دعاء رحمت کیجئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا۔ اے اللہ! سر منڈانے والوں پر رحم فرما۔ صحابہ نے جب پھر عرض کیا کہ یا رسول اللہ! بال کتروانے والوں کے لئے بھی دعاء رحمت کیجئے۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا (اے اللہ) اور بال کتروانے والوں پر بھی رحم فرما۔ (بخاری ومسلم) تشریح اس بات سے سر منڈانے کی فضیلت ثابت ہوئی کہ آپ ﷺ نے سر منڈانے والوں کے لئے تو کئی بار دعاء رحمت کی اور بال کتروانے والوں کے لئے کئی بار کے بعد ایک ہی مرتبہ دعاء رحمت کی۔

2694Mishkaat-al-Masabih

سر منڈانے والوں کے لئے آنحضرت ﷺ کی دعاء رحمت

وعن يحيى بن الحصين عن جدته أنها سمعت النبي صلى الله عليه و سلم في حجة الوداع دعا للمحلقين ثلاثا وللمقصرين مرة واحدة . رواه مسلم

حضرت یحییٰ بن حصین (تابعی) اپنی دادی محترمہ سے (کہ جن کی کنیت ام الحصین ہے) نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے حجۃ الوداع میں نبی کریم ﷺ کو سر منڈانے والوں کے لئے تین مرتبہ اور بال کتروانے والوں کے لئے آخر میں ایک مرتبہ دعا کرتے سنا۔ (مسلم) تشریح اس حدیث سے پہلے بخاری و مسلم کی جو روایت نقل کی گئی ہے اس سے معلوم ہوا کہ آنحضرت ﷺ نے سر منڈانے والوں کے لئے تو دو مرتبہ دعا کی اور تیسری مرتبہ میں بال کتروانے والوں کو بھی شامل فرمایا نیز بخاری و مسلم ہی کی ایک اور روایت میں یہ منقول ہے کہ آنحضرت ﷺ نے چوتھی مرتبہ میں بال کتروانے والوں کو شامل فرمایا جب کہ مسلم کی یہ روایت بتار ہی ہے کہ آپ ﷺ نے سر منڈانے والوں کے لئے تو تین مرتبہ دعا کی اور بال کتروانے والوں کے لئے ایک مرتبہ، اب چاہے تو ان کو تو تیسری ہی مرتبہ میں شامل کیا ہو، چاہے چوتھی مرتبہ ان کے لئے علیحدہ سے دعا کی۔ بہرکیف ان تمام روایتوں میں مطابقت پیدا کرنے کے لئے علماء لکھتے ہیں کہ آپ ﷺ نے یہ دعا کئی مجلسوں میں کی ہوگی، چناچہ کسی مجلس میں آپ ﷺ نے سر منڈانے والوں کے لئے دو مرتبہ اور تیسری مرتبہ میں بال کتروانے والوں کے لئے دعا کی اور کسی مجلس میں تین مرتبہ سر منڈانے والوں کے لئے اور چوتھی مرتبہ بال کتروانے والوں کے لئے دعا کی ہوگی، یا پھر یہ کہ جس راوی نے جو سنا اور اس پر جو حقیقت ظاہر ہوئی اس نے اسی کو ذکر کیا۔

2695Mishkaat-al-Masabih

سرمنڈانے میں دائیں طرف سے ابتداء کرنا سنت ہے

وعن أنس : أن النبي صلى الله عليه و سلم أتى منى فأتى الجمرة فرماها ثم أتى منزله بمنى ونحر نسكه ثم دعا بالحلاق وناول الحالق شقه الأيمن ثم دعا أبا طلحة الأنصاري فأعطاه إياه ثم ناول الشق الأيسر فقال احلق فحلقه فأعطاه طلحة فقال : اقسمه بين الناس

حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ منیٰ میں آنے کے بعد جمرہ عقبہ کے پاس تشریف لائے اور وہاں کنکریاں ماریں پھر منیٰ میں اپنی قیام گاہ پر تشریف لائے اور اپنی ہدی کے جانوروں کو ذبح کیا، اس کے بعد سر مونڈنے والے کو (جس کا نام معمر بن عبداللہ تھا) بلایا اور اپنے سر کا دایاں حصہ اس کے سامنے کیا، چناچہ اس نے آپ ﷺ نے سر (کے اس داہنے حصہ) کو مونڈا، پھر آپ ﷺ نے حضرت طلحہ انصاری ؓ کو بلایا اور ان کو اپنے وہ مونڈے ہوئے بال دئیے، اس کے بعد آپ ﷺ نے اپنے سر کا بایاں حصہ مونڈنے والے کی طرف کر کے فرمایا کہ اب اسے مونڈو، چناچہ اس نے مونڈ دیا، یہ بال بھی آپ ﷺ نے حضرت ابوطلحہ انصاری ؓ کو دے دئیے اور فرمایا کہ یہ بال لوگوں میں تقسیم کردو۔ (بخاری و مسلم) تشریح اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ سر منڈانے میں دائیں طرف سے ابتداء کرنا سنت ہے، نیز اس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ دائیں طرف میں منڈوانے والے کا اعتبار ہے کہ وہ اپنے سر کو دائیں طرف سے منڈوانا شروع کرے، جب کہ بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ مونڈنے والے کی دائیں طرف کا اعتبار ہے یعنی مونڈنے والا اپنی دائیں طرف سے سر مونڈنا شروع کرے۔

2696Mishkaat-al-Masabih

قربانی کے دن خوشبو کا استعمال

وعن عائشة رضي الله عنها قالت : كنت أطيب رسول الله صلى الله عليه و سلم قبل أن يحرم ويوم النحر قبل أن يطوف بالبيت بطيب فيه مسك

حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں رسول کریم ﷺ کو احرام باندھنے سے پہلے خوشبو لگاتی تھی (احرام خواہ حج کا ہوتا خواہ عمرہ کا اور خواہ دونوں کا) اور میں نحر (قربانی) کے دن بھی خانہ کعبہ کے طواف سے پہلے (سر منڈانے اور کپڑے پہننے کے بعد) آپ ﷺ کے خوشبو لگاتی تھی اور خوشبو بھی وہ جس میں مشک ہوتا تھا۔ (بخاری ومسلم) تشریح علماء لکھتے ہیں کہ جن مواقع پر حضرت عائشہ ؓ نے خوشبو لگانے کا ذکر کیا ہے یعنی احرام باندھنے سے پہلے اور نحر کے دن طواف خانہ کعبہ سے قبل، اگر ان اوقات میں خوشبو لگائی جائے تو مشک اور گلاب کی خوشبو لگانا سب سے بہتر اور اولیٰ ہے کیونکہ ان دونوں میں صرف خوشبو ہوتی ہے رنگ نہیں ہوتا۔ نحر (قربانی کے دن) یعنی دسویں ذی الحجہ کو سر منڈانے کے بعد حاجی احرام سے باہر ہوجاتے ہیں یعنی وہ چیزیں جو احرام کی وجہ سے ان پر حرام تھیں اس دن سب حلال ہوجاتی ہیں علاوہ رفث کے اور جب طواف زیارت سے فراغت ہوجاتی ہے تو رفث بھی حلال ہوجاتا ہے۔

2697Mishkaat-al-Masabih

نحر کے دن آنحضرت ﷺ نے ظہر کی نماز کہاں پڑھی۔

وعن ابن عمر : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم أفاض يوم النحر ثم رجع فصلى الظهر بمنى . رواه مسلم

حضرت ابن عمر ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے نحر کے دن (رمی اور قربانی سے فارغ ہو کر) مکہ تشریف لائے اور چاشت کے وقت طواف فرض کیا پھر (اس روز) وہاں سے واپس ہوئے اور ظہر کی نماز منیٰ میں پڑھی۔ (مسلم) تشریح اس حدیث سے تو یہ معلوم ہوا کہ آنحضرت ﷺ نے دسویں ذی الحجہ کو ظہر کی نماز منیٰ میں پڑھی جب کہ باب حجۃ الوداع میں حضرت جابر ؓ کی روایت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آپ ﷺ نے اس دن ظہر کی نماز مکہ میں ادا فرمائی؟ چناچہ دونوں روایتوں کے اس ظاہری تضاد کو حضرت جابر ؓ کی روایت کی تشریح میں رفع کیا جا چکا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ظہر کی نماز تو مکہ ہی میں ادا کی تھی البتہ آپ ﷺ نے منیٰ میں نفل نماز پڑھی جس کو حضرت ابن عمر ؓ نے ظہر کی نماز گمان کیا۔

2698Mishkaat-al-Masabih

عورت کو صرف بال کتروانے چاہئیں

عن علي وعائشة رضي الله عنهما قالا : نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم أن تحلق المرأة رأسها . رواه الترمذي

حضرت علی ؓ اور حضرت عائشہ ؓ دونوں راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے عورت کو اپنا سر منڈاوانے سے منع فریایا ہے۔ (ترمذی) تشریح اس ارشاد گرامی کا مطلب یہ ہے کہ عورتیں جب احرام سے باہر آئیں تو سر منڈانا ان پر واجب نہیں ہے بلکہ ان کے لئے حرام ہے ہاں بال کتروانا ان پر واجب ہے، بخلاف مردوں کے کہ ان پر دونوں چیزوں میں سے کوئی ایک واجب ہے کہ چاہے تو سر منڈائیں چاہے صرف بال کتروالیں البتہ سر منڈانا افضل ہے۔

2699Mishkaat-al-Masabih

سرمنڈانے یا بال کتروانے کی مقدار

سر منڈانے یا بال کتروانے کی مقدار حنفیہ کے ہاں فقہی مسئلہ یہ ہے کہ سر منڈانے کے سلسلہ میں صرف چوتھائی سر کا منڈنا واجب ہے اور پورے سر کا منڈانا افضل ہے، ہاں بال کتروانے کے سلسلہ میں واجب صرف چوتھائی سر کے بال کو ایک انگلی پور کے برابر کتروانا ہے اور پورے سر کے بال کتروانے مستحب ہیں، لیکن علامہ ابن ہمام نے اس قول کو اختیار کیا ہے جو حضرت امام مالک کا مسلک ہے کہ پورے سر کو منڈوانا یا پورے سر کے بال کتروانا ہی واجب ہے اور انہوں نے فرمایا ہے کہ یہی صواب ہے۔

2700Mishkaat-al-Masabih

افعال حج میں تقدیم وتاخیر

عن عبد الله بن عمرو بن العاص : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم وقف في حجة الوداع بمنى للناس يسألونه فجاءه رجل فقال : لم أشعر فحلقت قبل أن أذبح . فقال : اذبح ولا حرج فجاء آخر فقال : لم أشعر فنحرت قبل أن أرمي . فقال : ارم ولا حرج . فما سئل النبي صلى الله عليه و سلم عن شيء قدم ولا أخر إلا قال : افعل ولا حرج وفي رواية لمسلم : أتاه رجل فقال : حلقت قبل أن أرمي . قال : ارم ولا حرج وأتاه آخر فقال : أفضت إلى البيت قبل أن أرمي . قال : ارم ولا حرج وعن ابن عباس قال : كان النبي صلى الله عليه و سلم يسأل يوم النحر بمنى فيقول : لا حرج فسأله رجل فقال : رميت بعد ما أمسيت . فقال : لا حرج . رواه البخاري

حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاصؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ حجۃ الوداع کے موقع پر جب منیٰ میں ٹھہرے تاکہ لوگ آپ ﷺ سے مسائل دریافت کریں تو ایک شخص آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ ناواقفیت کی وجہ سے میں نے ذبح کرنے سے پہلے اپنا سر منڈا لیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا اب ذبح کرلو، اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ پھر ایک اور شخص نے آ کر عرض کیا کہ میں نے ناواقفیت کی بناء پر کنکریاں مارنے سے پہلے جانور ذبح کرلیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا اب کنکریاں مار لو، اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اسی طرح آپ ﷺ سے جس فعل کی بھی تقدیم یا تاخیر کے بارے میں سوال کیا گیا آپ ﷺ نے یہی فرمایا کہ اب کرلو۔ اس میں کوئی حرج نہیں۔ (بخاری و مسلم) مسلم کی ایک اور روایت میں یوں ہے کہ ایک شخص آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا کہ میں نے کنکریاں مارنے سے پہلے سر منڈا لیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اب کنکریاں مار لو، اس میں کوئی حرج نہیں ہے، ایک اور شخص آیا اور کہنے لگا کہ میں نے خانہ کعبہ کا فرض طواف کنکریاں مارنے سے پہلے کرلیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا اب کنکریاں مار لو، اس میں کوئی حرج نہیں۔ تشریح اس روایت میں ان افعال حج کی تقدیم و تاخیر کے سلسلے میں فرمایا گیا ہے اور سائلین کے جواب دئیے گئے ہیں جو قربانی کے دن یعنی ذی الحجہ کی دسویں تاریخ کو کئے جاتے ہیں، چناچہ اس دن چار چیزیں ہوتی ہیں جن کی ترتیب یہ ہے کہ پہلے منیٰ میں پہنچ کر جمرہ عقبہ پر جو ایک مینار ہے سات کنکریاں ماری جائیں، پھر جانور کہ جن کی تفصیل پہلے بیان ہوچکی ہے ذبح کئے جائیں اس کے بعد سر منڈایا جائے یا بال کتروائے جائیں اور پھر مکہ جا کر خانہ کعبہ کا طواف کیا جائے، اس ترتیب کے ساتھ ان افعال کی ادائیگی اکثر علماء کے نزدیک مذکورہ بالا حدیث کی روشنی میں سنت ہے چناچہ حضرت امام شافعی اور حضرت امام احمد بھی انہیں میں شامل ہیں۔ ان حضرات کے نزدیک اگر ان افعال کی ادائیگی میں تقدیم و تاخیر ہوجائے تو بطور جزاء (اس کے بدلہ میں) دم یعنی جانور ذبح کرنا واجب نہیں ہوتا۔ علماء کی ایک جماعت کا کہنا یہ ہے کہ مذکورہ بالا ترتیب واجب ہے۔ حضرت امام اعظم اور حضرت امام مالک بھی اس جماعت کے ساتھ ہیں۔ یہ حضرات کہتے ہیں کہ ارشاد گرامی اس میں کوئی حرج نہیں ہے کا مطلب صرف اتنا ہے کہ یہ تقدیم و تاخیر چونکہ ناواقفیت یا نسیان کی وجہ سے ہوئی ہے اس لئے اس میں کوئی گناہ نہیں ہے لیکن جزاء کے طور پر دم یعنی جانور ذبح کرنا واجب ہوگا۔ لہٰذا ان حضرات کے مسلک کے مطابق ان چاروں چیزوں میں سے کوئی چیز اگر مقدم یا مؤخر ہوگئی تو بطور جزاء ایک بکری یا اس کے مانند کوئی جانور ذبح کرنا ضروری ہوگا۔ علامہ طیبی فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباسؓ نے ایسی ہی ایک حدیث روایت کی ہے جب کہ خود انہوں نے مذکورہ افعال کی تقدیم و تاخیر کے سلسلہ میں دم واجب کیا ہے اگر وہ حدیث کے وہ معنی نہ سمجھتے جو حضرت امام اعظم اور ان کے ہمنواء علماء نے سمجھے ہیں تو وہ خود دم واجب کیوں کرتے؟

2701Mishkaat-al-Masabih

افعال حج میں تقدیم وتاخیر

اور حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ قربانی کے دن منیٰ میں لوگ نبی کریم ﷺ سے (تقدیم و تاخیر کے سلسلسہ میں) مسائل دریافت کررہے تھے اور آپ ﷺ جواب میں یہی فرماتے تھے کہ کوئی حرج نہیں ہے چناچہ ایک شخص نے آپ ﷺ سے پوچھا کہ میں نے شام ہونے کے بعد کنکریں ماری ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ کوئی حرج نہیں ہے۔ (بخاری) تشریح دوسرے ائمہ کا مسلک تو یہ ہے کہ اگر کوئی شخص قربانی کے دن کنکریاں مارنے میں اتنی تاخیر کرے کہ آفتاب غروب ہوجائے تو اس پر دم واجب ہوگا، چناچہ ان کے نزدیک حدیث میں شام کے بعد سے مراد بعد عصر ہے۔ حنفیہ کے ہاں اس بارے میں تفصیل ہے اور وہ یہ کہ دسویں ذی الحجہ کو طلوع فجر کے بعد اور طلوع آفتاب سے پہلے کا وقت کنکریاں مارنے کے لئے وقت جواز ہے مگر اساء ۃ کے ساتھ، یعنی اگر کوئی شخص طلوع فجر کے بعد ہی کنکریاں مارے تو یہ جائز ہوجائے گا مگر یہ اچھا نہیں ہوگا۔ طلوع آفتاب کے بعد سے زوال آفتاب تک کا وقت، وقت مسنون ہے۔ زوال آفتاب کے بعد سے غروب آفتاب تک کا وقت، وقت جواز ہے مگر بغیر اساء ۃ کے یعنی اگر کوئی شخص زوال آفتاب کے بعد سے غروب آفتاب تک کے کسی حصہ میں کنکریاں مارے تو یہ جائز بھی ہوگا اور اس کے بارے میں یہ بھی نہیں کہیں گے کہ اس نے اچھا نہیں کیا۔ البتہ وقت مسنون کی سعادت اسے حاصل نہیں ہوگی۔ اور غروب آفتاب کے بعد یعنی رات کا وقت، وقت جواز ہے مگر کراہت کے ساتھ۔ مگر اتنی بات ذہن میں رہے کہ کراہت اس صورت میں ہے جب کہ کوئی شخص بلا عذر اتنی تاخیر کرے کہ آفتاب بھی غروب ہوجائے اور پھر وہ رات میں کنکریاں مارے، چناچہ اگر چرواہے یا ان کے مانند وہ لوگ جو کسی عذر کی بناء پر رات ہی میں کنکریاں مار سکتے ہوں تو ان کے حق میں کراہت نہیں ہے، البتہ اس حدیث میں آپ ﷺ کا یہ فرمانا کہ کوئی حرج نہیں ہے اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ سائل کوئی چرواہا ہوگا جس نے شام کے بعد یعنی رات میں کنکریاں ماریں اس لئے آپ ﷺ نے اس کے بارے میں فرمایا کہ تم چونکہ دن میں کنکریاں مارنے سے معذور تھے اس لئے رات میں کنکریاں مارنے کی وجہ سے تم پر کوئی گناہ نہیں۔ علامہ ابن ہمام فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص بلا عذر رمی کنکریاں مارنے میں اتنی تاخیر کرے کہ صبح ہوجائے تو وہ رمی کرے گا مگر اس پر بطور جزاء دم یعنی جانور ذبح کرنا واجب ہوجائے گا، یہ حضرت امام اعظم کا قول ہے صاحبین کا اس سے اختلاف ہے۔ یوم نحر کے بعد کے دو دنوں یعنی ذی الحجہ کی گیارہویں اور بارہویں تاریخ میں کنکریاں مارنے کا وقت مسنون زوال آفتاب کے بعد سے غروب آفتاب تک ہے اور غروب آفتاب کے بعد سے فجر طلوع ہونے تک مکروہ ہے، لہٰذا فجر طلوع ہوتے ہی حضرت امام اعظم کے نزدیک وقت ادا ختم ہوجاتا ہے جب کہ صاحبین یعنی حضرت امام ابویوسف اور حضرت امام محمد کے نزدیک وقت ادا طلوع فجر کے بعد بھی باقی رہتا ہے، گویا رمی کا وقت طلوع فجر کے بعد بالاتفاق باقی رہتا ہے فرق صرف اتنا ہے کہ اس وقت کی رمی حضرت امام اعظم کے ہاں وقت قضا میں ہوگی اور صاحبین کے ہاں وقت ادا ہی میں! اور چوتھے دن یعنی ذی الحجہ کی تیرہویں تاریخ کو آفتاب غروب ہوتے ہی متفقہ طور پر سب کے نزدیک رمی کا وقت ادا بھی فوت ہوجاتا ہے اور وقت قضا بھی۔

2702Mishkaat-al-Masabih

افعال حج میں تقدیم وتاخیر

عن علي قال : أتاه رجل فقال : يا رسول الله إني أفضت قبل أن أحلق فقال : احلق أو قصر ولا حرج . وجاء آخر فقال : ذبحت قبل أن أرمي . قال : ارم ولا حرج . رواه الترمذي

حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میں نے طواف افاضہ یعنی فرض طواف سر منڈانے سے پہلے کرلیا؟ آپ ﷺ نے فرمایا اب سر منڈالو یا بال کتروا لو۔ اس میں کوئی گناہ نہیں ہے۔ اسی طرح ایک اور شخص نے آ کر عرض کیا کہ میں نے کنکریاں مارنے سے پہلے جانور ذبح کرلیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا اب کنکریاں مار لو، اس میں کوئی گناہ نہیں ہے۔ (ترمذی)

2703Mishkaat-al-Masabih

افعال حج میں تقدیم وتاخیر

عن أسامة بن شريك قال : خرجت مع رسول الله صلى الله عليه و سلم حاجا فكان الناس يأتونه فمن قائل : يا رسول الله سعيت قبل أن أطوف أو أخرت شيئا أو قدمت شيئا فكان يقول : لا حرج إلا على رجل اقترض عرض مسلم وهو ظالم فذلك الذي حرج وهلك . رواه أبو داود

حضرت اسامہ بن شریکؓ کہتے ہیں کہ مجھے رسول کریم ﷺ کے ہمراہ ادائیگی حج کی سعادت حاصل ہوئی ہے چناچہ حج کے دوران جو لوگ مسائل پوچھنے کے لئے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں آتے تھے، ان میں کوئی یہ کہتا کہ یا رسول اللہ! میں نے طواف کعبہ سے پہلے سعی کرلی ہے یا افعال منیٰ میں سے یہ کام میں نے پہلے کرلیا یا یہ کام میں نے بعد میں کیا؟ آپ ﷺ اس سے فرماتے کہ اس میں کوئی گناہ نہیں ہے، بلکہ گناہ اس شخص پر ہے جو ظالم ہونے کی وجہ سے کسی مسلمان کی آبروریزی کرے پس یہ وہ شخص ہے جو گنہگار ہے اور ہلاک ہوا۔ (ابوداؤد) تشریح اگر احرام باندھنے اور طواف قدوم یا طواف نفل سے پہلے سعی کرلی جائے تو صحیح نہیں ہوگی یعنی طواف افاضہ سے پہلے سعی کرلینے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے لیکن یہ ضروری ہے کہ سعی، احرام اور طواف کے بعد ہو خواہ نفل ہی طواف ہو۔ اس لئے میں طوف کعبہ سے پہلے سعی کرلی ہے کے بارے میں یہ کہا جائے گا کہ سائل اگر آفاقی (یعنی غیر مکی) تھا تو اس کا مطلب یہ تھا کہ میں نے حج کے احرام اور طواف قدوم کے بعد اور طواف افاضہ سے پہلے سعی کرلی ہے۔ اور اگر سائل مکی تھا تو پھر اس کا مطلب یہ ہوگا کہ میں نے حج کے احرام اور طواف نفل کے بعد طواف افاضہ سے پہلے سعی کرلی ہے۔ حدیث کے آخری الفاظ کا مطلب یہ ہے کہ اگر افعال منیٰ میں نادانستگی کی وجہ سے کوئی تقدیم و تاخیر ہوجائے تو کوئی گناہ کی بات نہیں ہے، بلکہ دراصل گناہگار تو وہ شخص ہے جو از راہ ظلم و ایذاء رسانی ناحق کسی کی آبروریزی کرے مثلاً کسی کی اہانت کرے یا کسی کی غیبت کرے۔ گویا وہ شخص اس حکم میں داخل نہیں رہا جو دین کی خاطر کسی کی آبروریزی کرے چناچہ ایسا شخص گنہگار نہیں ہوتا۔

2704Mishkaat-al-Masabih

قربانی کے دن خطبہ

عن أبي بكرة رضي الله عنه قال : خطبنا النبي صلى الله عليه و سلم يوم النحر قال : إن الزمان قد استدار كهيئته يوم خلق الله السماوات والأرض السنة اثنا عشر شهرا منها أربعة حرم ثلاث متواليات ذو القعدة وذو الحجة والمحرم ورجب مضر الذي بين جمادى وشعبان وقال : أي شهر هذا ؟ قلنا : الله ورسوله أعلم فسكت حتى ظننا أنه سيسميه بغير اسمه فقال : أليس ذا الحجة ؟ قلنا : بلى . قال : أي بلد هذا ؟ قلنا : الله ورسوله أعلم فسكت حتى ظننا أنه سيسميه بغير اسمه قال : أليس البلدة ؟ قلنا : بلى قال فأي يوم هذا ؟ قلنا : الله ورسوله أعلم فسكت حتى ظننا أنه سيسميه بغير اسمه . قال : أليس يوم النحر ؟ قلنا : بلى . قال : فإن دماءكم وأموالكم وأعراضكم عليكم حرام كحرمة يومكم هذا في بلدكم هذا في شهركم هذا وستلقون ربكم فيسألكم عن أعمالكم ألا فلا ترجعوا بعدي ضلالا يضرب بعضكم رقاب بعض ألا هل بلغت ؟ قالوا : نعم . قال : اللهم اشهد فليبلغ الشاهد الغائب فرب مبلغ أوعى من سامع

حضرت ابوبکرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے قربانی کے دن ہمارے سامنے خطبہ ارشاد کرتے ہوئے فرمایا۔ لوگو! یعنی سال کی گردش پوری ہوگئی اپنی اس وضع کے موافق جس پر کہ وہ اس روز تھا جس روز اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کو پیدا کیا تھا (یعنی سال اپنی وضع کے مطابق بارہ مہینے کا پورا ہوگیا ہے) سال بارہ مہینے کا ہوتا ہے جس میں سے چار مہینے باحرمت ہیں تین تو مسلسل ہیں یعنی ذی قعدہ، ذی الحجہ، محرم اور چھوتا مضر کا رجب جو جمادی الثانی اور شعبان کے درمیان ہے۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا۔ یہ کون سا مہینہ ہے؟ ہم نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول! زیادہ جانتا ہے۔ آپ ﷺ نے سکوت فرمایا یہاں تک کہ ہم نے گمان کیا کہ آپ ﷺ نے اس مہینہ کا کوئی اور نام رکھیں گے مگر آپ ﷺ نے فرمایا کیا یہ ذی الحجہ نہیں ہے؟ ہم نے کہا بیشک ذی الحجہ ہے۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا۔ یہ کون سا شہر ہے؟ ہم نے کہا اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتا ہے۔ آپ ﷺ پھر خاموش رہے یہاں تک کہ ہم نے گمان کیا کہ آپ ﷺ اس شہر کا کوئی اور نام رکھیں گے مگر آپنے فرمایا کیا یہ بلدہ (مکہ کا ایک نام ہے) نہیں ہے؟ ہم نے عرض کیا کہ بیشک! بلدہ ہی ہے۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا یہ کون سا دن ہے؟ ہم نے کہا کہ اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتا ہے۔ آپ ﷺ نے پھر سکوت فرمایا یہاں تک کہ ہم نے گمان کیا کہ آپ ﷺ اس دن کا کوئی اور نام رکھیں گے مگر آپ ﷺ نے فرمایا کیا یہ یوم نحر (قربانی کا دن) نہیں ہے؟ ہم نے عرض کیا کہ بیشک یہ یوم نحر ہی ہے۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ یاد رکھو تمہارے خون تمہارے مال اور تمہاری آبروئیں تم پر ہمیشہ کے لئے اسی طرح حرام ہیں جس طرح کہ تمہارے اس دن میں، تمہارے اس شہر میں اور تمہارے اس مہینہ میں! اور اے لوگو! تم عنقریب اپنے پروردگار سے ملو گے وہ تم سے تمہارے اعمال کے بارے میں سوال کرے گا! خبردار! میری وفات کے بعد تم ضلالت کی طرف نہ لوٹ جانا کہ تم ایک دوسرے کی گردن مارنے لگو! آگاہ! کیا میں نے (احکام الٰہی کا پہنچانے کا) اپنا فرض ادا کردیا؟ ہم نے عرض کیا بیشک آپ ﷺ نے اپنا فرض پورا کردیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا۔ پروردگار تو (ان لوگوں کے اس اقرار پر) گواہ رہ (تاکہ یہ قیامت کے دن اپنے اس اقرار کا انکار نہ کریں) پھر (آپ ﷺ نے ہم سے فرمایا کہ) جو لوگ یہاں موجود ہیں وہ ان تک پہنچا دیں جو یہاں موجود نہیں ہیں، کیونکہ بعض وہ لوگ جنہیں کوئی بات پہنچائی جائے اس بات کو سننے والے سے زیادہ یاد رکھتے ہیں۔ (بخاری ومسلم) تشریح شافعیہ کے نزدیک ایام نحر کے پہلے دن یعنی دسویں ذی الحجہ کو خطبہ پڑھنا مستحب ہے، جب کہ حنفیہ کے ہاں نحر کے دوسرے دن یعنی گیارہویں ذی الحجہ کو مستحب ہے، چناچہ حنفی مسلک کے مطابق ایک خطبہ تو ذی الحجہ کی ساتویں کو، ایک خطبہ نویں کو اور ایک خطبہ گیارہویں کو پڑھا جاتا ہے اور ان خطبات میں حج کے احکام بیان کئے جاتے ہیں جن احادیث صحیحہ میں دوسرے دن (یعنی گیارہویں) کو آنحضرت ﷺ کے خطبہ کا ذکر کیا گیا ہے وہ حنفی مسلک کی مؤید ہیں لہٰذا اس حدیث کے بارے میں کہا جائے گا کہ آپ ﷺ نے بطور تذکیر و نصیحت یہ خطبہ دیا ہوگا اور اصل خطبہ آپ ﷺ نے دوسرے ہی دن ارشاد فرمایا تھا۔ ارشاد گرامی کے ابتدائی جملوں کا مطلب یہ ہے کہ ابتداء پیدائش میں اللہ تعالیٰ نے سال کے جو بارہ مہینے مقرر فرمائے تھے اس کے مطابق بارہ مہینے کا یہ سال پورا ہوگیا، چناچہ قرآن کریم میں سال کے بارہ مہینوں کے سلسلہ میں یوں فرمایا گیا ہے۔ آیت (ان عدۃ الشہور عند اللہ اثنا عشر شہرا فی کتاب اللہ یوم خلق السموات والارض منہا اربعۃ حرم) الخ۔ یقینا شمار مہینوں کا کتاب الٰہی میں اللہ کے نزدیک بارہ مہینے ہیں جس روز اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین پیدا کئے تھے۔ آنحضرت ﷺ کے اس ارشاد کا پس منظر یہ ہے کہ ایام جاہلیت میں اہل عرب نے سال کے مہینوں میں تغیر کردیا تھا جس کی صورت یہ تھی کہ وہ ایک سال کو بارہ مہینے کا رکھتے تو ایک سال کو تیرہ مہینوں کا، اس طرح وہ حج کی ادائیگی کو ہر دو برس بعد ایک مہینہ مؤخر کردیتے تھے، مثلاً ایک سال وہ کسی مہینہ میں حج کرتے پھر دوسرے سال کو تیرہ مہینے کا قرار دے کر اس مہینہ میں حج کرتے جو پہلے سال کے ماہ حج کے بعد آتا۔ اس صورت میں نہ صرف یہ کہ حج کا مہینہ بدلتا رہتا تھا بلکہ جو مہینے اشہر حرام ہوتے ان کو تو وہ اشہر حلال قرار دے لیتے اور جو مہینے اشہر حلال ہوتے ان کو اشہر حرام بنا لیتے تھے، مثلاً جن مہینوں میں جنگ و جدل حرام نہ ہوتا، اس میں تو وہ جنگ و جدل سے اجتناب کرتے اور ان مہینوں کی خوب تعظیم کرتے اور جن مہینوں میں جنگ وجدال حرام ہوتا اس میں پوری طرح جنگ وجدال کرتے، گویا جو مہینہ واقعۃً محرم کا مہینہ ہوتا اسے وہ احمق اپنے حساب کی رو سے محرم کا مہینہ نہ سمجھتے نتیجہ اس میں خوب لڑتے مرتے، اسی طرح صفر یا کسی دوسرے مہینے کو اپنے حساب سے حرام ٹھہرا لیتے اور اس میں لڑنے مرنے سے باز رہتے، چناچہ حق تعالیٰ نے ان کے اس احمقانہ طرز عمل کے بارے میں یہ حکم فرمایا۔ آیت (انما النسیء زیادۃ فی الکفر)۔ اور ان کی طرف سے مہینوں میں یہ تبدیلی ان کے کفر میں زیادتی ہے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے ان کے حساب کو باطل قرار دیا اور سال کے ہر مہینے کو اس کی اصل پر برقرار رکھا، چناچہ آنحضرت ﷺ نے جس سال حجۃ الوداع کیا ہے اس سال ذی الحجہ کا مہینہ اپنی اصل پر تھا، اسی لئے آنحضرت ﷺ نے ان الزمان قد استدار کہیئۃ (سال کی گردش اپنی وضع کے موافق پوری ہوگئی) ارشاد فرما کر لوگوں کو آگاہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ یہ مہینہ ماہ ذی الحجہ ہے اور حج کا یہی مہینہ ہے، لہٰذا اس مہینہ کو یاد رکھو، اسی مہینہ میں حج کیا کرو اور آئندہ ایک مہینہ کو دوسرے مہینہ سے تبدیل نہ کرو۔ مشہور مفسر بیضاوی فرماتے ہیں کہ ایام جاہلیت میں اہل عرب کا یہ دستور ہوگیا تھا کہ جب ماہ حرام آتا اور ان کو اس مہینہ میں لڑنا منظور ہوتا تو وہ اس ماہ حرام کو حلال قرار دے لیتے اور اس کے بعد کسی اور حلال مہینہ کو ماہ حرام بنا لیتے اس طرح مہینوں کی جو اصل خصوصیت تھی اسے تو انہوں نے ترک کردیا تھا صرف عدد کا اعتبار رکھا تھا۔ حدیث کے الفاظ۔ السنۃ اثنا عشر شہرا۔ جملہ مستانفہ ہے یعنی علیحدہ ایک جملہ ہے جو ماقبل جملہ کا بیان اور اس کی وضاحت ہے۔ منہا اربعۃ حرم (جس میں چار مہینے باحرمت ہیں) جیسا کہ حدیث نے ان چار مہینوں کی وضاحت کی ہے وہ ذی قعدہ، ذی الحجہ، محرم اور رجب کے مہینے ہیں ان مہینوں میں قتل و قتال اور جنگ و جدل ممنوع ہے چناچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ آیت (فَلَا تَظْلِمُوْا فِيْهِنَّ اَنْفُسَكُمْ ) 9۔ التوبہ 36)۔ پس ان مہینوں میں اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو۔ لیکن علماء کی اکثریت یہ کہتی ہے کہ ان مہینوں میں قتل و قتال اور جنگ و جدل کی حرمت منسوخ ہے، ان کے نزدیک مذکورہ بالا آیت میں ظلم سے مراد ارتکاب معاصی ہے۔ اس طرح آیت بالا کا مطلب یہ ہوگا کہ ان مہینوں میں گناہ کر کے اپنے نقصان مت کرو کیونکہ جس طرح حرم میں اور حالت احرام میں گناہ کرنا بہت ہی برا ہے اسی طرح ان مہینوں میں ارتکاب معاصی بھی بہت بری بات ہے، ان علماء کے اس قول کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے شوال اور ذی قعدہ کے مہینوں میں طائف کا محاصرہ اور قبیلہ ہوزن کے ساتھ غزوہ کیا تھا۔ بعض علماء کہتے ہیں کہ ان مہینوں میں حرمت قتل کا حکم اب بھی باقی ہے۔ مضر عرب کے ایک قبیلہ کا نام تھا، یہ قبیلہ ماہ رجب کی بہت زیادہ تعظیم کرتا تھا، اسی وجہ سے رجب کی نسبت اس قبیلہ کی طرف کرتے ہوئے آپ ﷺ نے رجب مضر (مضر کا رجب) فرمایا۔ آنحضرت ﷺ نے لوگوں سے مہینہ، دن اور شہر کا نام اس لئے پوچھا تاکہ لوگوں کے ذہن و قلوب میں اس مہینہ دن اور شہر کی حرمت پوری طرح جاگزیں ہو اور اس طرح وہ اس بات کی اہمیت کو سمجھ سکیں اور اس پر عمل کرنے کا پورا عزم و یقین پیدا کریں جسے بعد میں بیان کرنا مقصود تھا۔ اسی طرح آنحضرت ﷺ کے سوال پر لوگوں کا جواب میں یہ کہنا کہ اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتا ہے۔ نہ صرف از راہ ادب تھا بلکہ اس سے یہ جاننا بھی مقصود تھا کہ اس سوال سے آنحضرت ﷺ کی غرض کیا ہے۔ بعض احادیث میں فلا ترجعوا بعدی ضلالا (میری وفات کے بعد تم ضلالت کی طرف نہ لوٹ جانا) میں لفظ ضلالا کی بجائے لفظ کفارا ذکر کیا گیا ہے اس صورت میں اس جملہ کے معنی یہ ہوں گے کہ میری وفات کے بعد اعمال میں کافروں کے مشابہ نہ ہوجانا کہ ان کافروں کی طرح تم بھی ایک دوسرے کی گردن مارنے لگو۔

2705Mishkaat-al-Masabih

گیارہویں اور بارہویں کو رمی کا وقت

وعن وبرة قال : سألت ابن عمر : متى أرمي الجمار ؟ قال : إذا رمى إمامك فارمه فأعدت عليه المسألة . فقال : كنا نتحين فإذا زالت الشمس رمينا . رواه البخاري

حضرت وبرہ (تابعی) کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر ؓ سے پوچھا کہ میں (گیارہویں اور بارہویں ذی الحجہ کو) رمی جمار کس وقت کروں؟ تو انہوں نے فرمایا کہ جس وقت تمہارا امام رمی کرے، اسی وقت تم بھی رمی کرو (یعنی رمی میں اس شخص کی پیروی کرو جو رمی کے وقت کے بارے میں تم سے زیادہ جانتا ہو) میں نے ان کے سامنے پھر یہ مسئلہ رکھا (یعنی میں نے ان سے رمی کے وقت کی مزید وضاحت چاہی) انہوں نے فرمایا ہم رمی کے وقت کا انتظار کرتے تاآنکہ جب دوپہر ڈھلتی تو ہم کنکریاں مارتے۔ (بخاری)

2706Mishkaat-al-Masabih

رمی جمرات کی ترتیب

وعن سالم عن ابن عمر : أنه كان يرمي جمرة الدنيا بسبع حصيات يكبر على إثر كل حصاة ثم يتقدم حتى يسهل فيقوم مستقبل القبلة طويلا ويدعو ويرفع يديه ثم يرمي الوسطى بسبع حصيات يكبر كلما رمى بحصاة ثم يأخذ بذات الشمال فيسهل ويقوم مستقبل القبلة ثم يدعو ويرفع يديه ويقوم طويلا ثم يرمي جمرة ذات العقبة من بطن الوادي بسبع حصيات يكبر عند كل حصاة ولا يقف عندها ثم ينصرف فيقول : هكذا رأيت النبي صلى الله عليه و سلم يفعله . رواه البخاري

حضرت سالم، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ (یعنی ابن عمر) نزدیک کے جمرہ یعنی جمرہ اولیٰ پر سات کنکریاں مارنے اور ہر کنکری کے بعد اللہ اکبر کہتے پھر آگے بڑھتے یہاں تک کہ جب نرم زمین پر پہنچتے تو دیر تک (یعنی بقدر تلاوت سورت بقرہ) قبلہ رو کھڑے رہتے اور دعا مانگتے اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے، پھر جمرہ وسطی پر سات کنکریاں مارتے اور ہر کنکری مارتے وقت اللہ اکبر کہتے، پھر بائیں جانب کو بڑھتے اور نرم زمین پر پہنچ کر قبلہ رو کھڑے ہوجاتے اور دعا مانگتے اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے اور دیر تک کھڑے رہتے، پھر وہ وہاں سے واپس ہوتے اور کہتے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ (بخاری) تشریح مذکورہ بالا ترتیب کے مطابق رمی اگرچہ حنفیہ کے ہاں سنت ہے لیکن احتیاط کا تقاضہ یہی ہے کہ اس ترتیب کو ترک نہ کیا جائے کیونکہ یہ ترتیب حضرت امام شافعی وغیرہ کے نزدیک واجب ہے! موالات یعنی تمام جمرات پر پے در پے رمی بھی سنت ہے جب کہ یہ حضرت امام مالک کے مسلک میں واجب ہے۔ من بطن الوادی (بطن وادی سے) یہ بات معلوم ہوئی کہ رمی جمرہ عقبہ، بطن وادی سے (یعنی نشیبی حصہ میں کھڑے ہو کر) کی جائے چناچہ نشیب میں کھڑے ہو کر رمی کرنا مسنون ہے۔ لیکن ہدایہ میں لکھا ہے کہ اگر اوپر کی جانب سے جمرہ عقبہ پر کنکریاں پھینکی جائیں تو اس طرح بھی رمی ہوجائے گی مگر یہ خلاف سنت ہے۔ جمرہ اولیٰ اور جمرہ وسطی کے پاس ٹھہرنا اور حمد و صلوٰۃ اور وہاں دعا میں مشغول ہونا تو ثابت ہے لیکن تیسرے جمرہ یعنی جمرہ عقبی کے پاس ٹھہرنا اور دعا مانگنا ثابت نہیں ہے اور اس کی کوئی وجہ علت منقول نہیں ہے اگرچہ بعض علماء نے اس بارے میں کچھ نہ کچھ لکھا ہے۔

2707Mishkaat-al-Masabih

منیٰ میں رات کو ٹھہرنا واجب ہے یا سنت؟

وعن ابن عمر قال : استأذن العباس بن عبد المطلب رسول الله صلى الله عليه و سلم أن يبيت بمكة ليالي منى من أجل سقايته فأذن له

حضرت ابن عمر ؓ کہتے ہیں کہ حضرت عباس بن عبدالمطلب ؓ نے رسول کریم ﷺ سے اس بات کی درخواست کی کہ جن راتوں میں منیٰ میں قیام کیا جاتا ہے ان میں انہیں سبیل زمزم کی خدمت کے لئے مکہ رہنے کی اجازت دے دی جائے چناچہ آپ ﷺ نے انہیں اجازت دے دی۔ (بخاری و مسلم) تشریح طواف افاضہ کے بعد آب زمزم پینا مستحب ہے چناچہ اس زمانہ میں زمزم کے کنوئیں کے قریب ہی کئی حوض زمزم کے پانی سے بھرے رہتے تھے تاکہ اگر کوئی شخص اژدحام وغیرہ کی وجہ سے کنوئیں سے پانی نہ پی سکے تو وہ ان حوضوں میں سے پی لے، سبیل زمزم کی نگرانی کی سعادت آنحضرت ﷺ کے چچا حضرت عباس بن عبدالمطلب ؓ کو حاصل تھی، اس طرح زمزم کا پانی پلانے کی اس عظیم السعادت خدمت کو وہ اپنے کئی مددگاروں کے ذریعہ انجام دیتے تھے! چناچہ جن راتوں میں حاجی منیٰ میں قیام کرتے ہیں انہیں راتوں میں حضرت عباس ؓ نے نبی کریم ﷺ سے اجازت مانگی کہ اگر حکم ہو تو میں ان راتوں میں مکہ میں رہوں تاکہ سبیل زمزم کی جو مقدس خدمت میرے سپرد ہے اسے انجام دے سکوں آنحضرت ﷺ نے انہیں اس کی اجازت دے دی۔ اب مسئلہ کی طرف آئیے، جو راتیں منیٰ میں گزاری جاتی ہیں ان میں منیٰ میں قیام اکثر علماء کے نزدیک واجب ہے جب کہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کے ہاں ان راتوں میں منیٰ میں رہنا سنت ہے، حضرت امام شافعی اور حضرت امام احمد کا ایک قول بھی یہی ہے۔ اس ضمن میں یہ بات ذہن میں رہے کہ رات کے قیام کے سلسلہ میں رات کے اکثر حصہ یعنی آدھی رات سے زیادہ کے قیام کا اعتبار ہے اور یہی حکم ان راتوں کا بھی ہے جن میں عبادت وغیرہ کے لئے شب بیداری مستحب ہے مثلاً لیلۃ القدر وغیرہ کہ ان راتوں کے اکثر حصہ کی شب بیداری کا اعتبار ہے۔ بہرکیف جن علماء کے نزدیک منیٰ میں رات کا قیام سنت ہے جیسے حضرت امام اعظم ابوحنیفہ، ان کی دلیل مذکورہ بالا حدیث ہے کہ اگر منیٰ میں رات میں قیام واجب ہوتا تو آنحضرت ﷺ حضرت عباس ؓ کو ان راتوں میں مکہ میں رہنے کی اجازت کیسے دیتے۔ بعض حنفی علماء کہتے ہیں حضرت عباس ؓ کی طرح جس شخص کے سپرد زمزم کا پانی پلانے کی خدمت ہو یا جس کو کوئی شدید عذر لاحق ہو تو اس کے لئے جائز ہے کہ جو راتیں منیٰ میں گزاری جاتی ہیں وہ ان میں منیٰ کا قیام ترک کر دے، گویا اس سے اس طرف اشارہ مقصود ہے کہ بلاعذر سنت کو ترک کرنا جائز نہیں ہے اور یہ کہ کسی عذر کی بناء پر سنت کو ترک کرنے میں اساء ۃ بھی نہیں ہے۔

2708Mishkaat-al-Masabih

آنحضرت ﷺ سبیل زمزم پر

وعن ابن عباس : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم جاء إلى السقاية فاستسقى . فقال العباس : يا فضل اذهب إلى أمك فأت رسول الله صلى الله عليه و سلم بشراب من عندها فقال : اسقني فقال : يا رسول الله إنهم يجعلون أيديهم فيه قال : اسقني . فشرب منه ثم أتى زمزم وهم يسقون ويعملون فيها . فقال : اعملوا فإنكم على عمل صالح . ثم قال : لولا أن تغلبوا لنزلت حتى أضع الحبل على هذه . وأشار إلى عاتقه . رواه البخاري

حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ سبیل پر تشریف لائے اور زمزم کا پانی مانگا، حضرت عباس ؓ نے اپنے صاحبزادے سے کہا کہ فضل! اپنی والدہ کے پاس جاؤ اور رسول کریم ﷺ کے لئے ان سے (زمزم کا وہ) پانی مانگ لاؤ جو ان کے پاس رکھا ہوا ہے اور ابھی استعمال نہیں ہوا ہے۔ آنحضرت ﷺ نے یہ سن کر فرمایا کہ تم تو مجھے اسی سبیل سے پانی پلا دو۔ حضرت عباس ؓ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! لوگ اس میں اپنے ہاتھ ڈالتے ہیں! آپ ﷺ نے فرمایا کوئی مضائقہ نہیں ہے مجھے اسی میں سے پلا دو۔ چناچہ آپ ﷺ نے اس پانی میں سے پیا اور پھر زمزم کے کنویں کے پاس تشریف لائے جہاں لوگ (یعنی عبدالمطلب کے خاندان والے) لوگوں کو پانی پلا رہے تھے اور اس خدمت میں پوری طرح مصروف تھے، آپ ﷺ نے ان سے فرمایا اپنا کام کئے جاؤ، کیونکہ تم ایک نیک کام میں لگے ہوئے ہو۔ پھر فرمایا۔ اگر مجھے یہ خوف نہ ہوتا کہ لوگ تم پر غلبہ پالیں گے تو میں اپنی اونٹنی پر سے اترتا جس پر آپ ﷺ سوار تھے تاکہ آپ ﷺ سب کے سامنے رہیں اور لوگ آپ ﷺ سے حج کے عملی احکام سیکھیں اور آپ ﷺ نے اپنے مونڈھے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ رسی اس پر رکھتا (یعنی اگر مجھے اس بات کا خدشہ نہ ہوتا کہ لوگ مجھے پانی کھینچتا دیکھ کر میری سنت کی اتباع میں پانی کھینچنے لگیں گے اور اس سعادت کے حصول کے لئے اتنا اژدحام کریں گے کہ وہ تم پر غالب آجائیں گے اور تمہیں پانی نہ کھینچنے دیں گے جس کی وجہ سے یہ مقدس خدمت تمہارے ہاتھ سے جاتی رہے گی تو میں بھی اپنی اونٹنی سے اتر کر اس کنویں سے پانی کھینچتا۔ (بخاری) تشریح لوگ اس میں اپنے ہاتھ ڈالتے ہیں اس بات سے حضرت عباس ؓ کا مطلب یہ تھا کہ یہاں پانی پینے والوں کا اژدحام رہتا ہے اس میں ہر طرح کے لوگ ہوتے ہیں، اکثریت ایسے لوگوں کی ہوتی ہے جن کے ہاتھ صاف ستھرے نہیں ہوتے اور وہ پانی پینے کے لئے اس حوض میں اپنے ہاتھ ڈالتے رہتے ہیں اس لئے میں آپ ﷺ کے لئے اس پانی میں سے منگایا ہے جو بالکل الگ رکھا ہوا ہے لیکن آنحضرت ﷺ نے اسے منظور نہیں کیا اور فرمایا کہ اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے تم تو مجھے اسی حوض میں سے پانی پلا دو چناچہ آپ ﷺ نے اسی حوض سے پانی پیا گویا یہ بات اس روایت کی مانند ہے جس میں منقول ہے کہ رسول کریم ﷺ کا بچا ہوا پانی از راہ تبرک پینا پسند فرماتے تھے! نیز حضرت انس ؓ نے بطریق مرفوع (یعنی آنحضرت ﷺ کا ارشاد گرامی) نقل کیا ہے کہ یہ چیز تواضع میں داخل ہے کہ انسان اپنے (کسی) بھائی کا جھوٹا پئے۔ لیکن لوگوں میں جو یہ حدیث مشہور ہے کہ سورت المؤمنین شفاء (مومنین کا جھوٹا شفا ہے) تو اس کے بارے میں علماء لکھتے ہیں کہ یہ حدیث غیر معروف ہے۔ اس کے صحیح ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ مذکورہ بالا روایت سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ زمزم کے کنوئیں سے پانی کھینچنے اور پینے کے لئے اونٹنی سے اترے نہیں، جب کہ ایک اور روایت میں جو حضرت عطاء ؓ سے منقول ہے یہ بیان کیا گیا ہے کہ آنحضرت ﷺ جب طواف افاضہ کرچکے تو آپ ﷺ نے زمزم کے کنویں سے ڈول (میں پانی کھینچا اور اس کھینچنے میں آپ ﷺ کے ساتھ کوئی اور شریک نہیں تھا پھر آپ ﷺ نے اس میں سے پیا اور ڈول میں جو پانی بچ گیا اسے کنویں میں ڈال دیا۔ ان دونوں روایتوں میں مطابقت یہ ہے کہ پہلے تو آنحضرت ﷺ بھیڑ کی وجہ سے اونٹنی سے نہ اترے ہوں گے پھر دوبارہ تشریف لائے تو بھیڑ دیکھ کر پانی کھینچا اور پیا چناچہ حضرت ابن عباس ؓ کی مذکورہ بالا روایت کا تعلق پہلی مرتبہ سے ہے اور حضرت عطاء ؓ کی روایت کا تعلق دوسری مرتبہ سے ہے۔

2709Mishkaat-al-Masabih

آنحضرت ﷺ کا طواف وداع

وعن أنس رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه و سلم صلى الظهر والعصر والمغرب والعشاء ثم رقد رقدة بالمحصب ثم ركب إلى البيت فطاف به . رواه البخاري

حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ذی الحجہ کی تیرہویں تاریخ کو منیٰ سے روانہ ہو کر محصب میں ظہر، عصر، مغرب اور عشاء کی نماز پڑھی اور وہیں کچھ دیر تک سو رہے پھر خانہ کعبہ کے لئے سوار ہوئے اور وہاں پہنچ کر طواف (طواف وداعی) کیا۔ (بخاری) تشریح محصب اصل میں تو اس زمین کو کہتے ہیں جہاں بہت زیادہ کنکریاں ہوں، لیکن یہ ایک خاص جگہ کا نام بھی ہے جو مکہ و مدینہ کے درمیان منیٰ کے قریب واقع ہے اور چونکہ اس جگہ کو محصب کے علاوہ ابطح، بطحاء اور خیف بنی کنانہ بھی کہتے ہیں، اسی لئے راوی نے یہاں تو یہ کہا کہ آپ نے محصب میں نماز پڑھی اور دوسری روایت میں یہ کہا گیا کہ ابطح میں نماز پڑھی۔