مکہ میں داخل ہونے اور طواف کرنے کا بیان

Mishkaat-al-Masabih · Chapter 63 · 31 hadiths · Page 1 of 2

2603Mishkaat-al-Masabih

مکہ میں داخل ہونے اور طواف کرنے کا بیان

مکہ کے لغوی معنی ہیں ہلاک کرنا، برباد کرنا اس شہر مقدس کو مکہ اس لئے کہا جاتا ہے کہ وہ گناہوں کو تباہ و برباد کردیتا ہے اور اس شخص کو آخرت یا دنیا ہی میں ہلاک کرا دیتا ہے جو اس شہر میں ظلم و کجروی اختیار کرتا ہے۔ اس باب میں ان چیزوں کو ذکر کیا جائے گا کہ مکہ آنے والا اس مقدس شہر میں کس طرف سے داخل ہو، کس طرف سے نکلے، کس وقت آئے اور یہ کہ داخلہ کے وقت کیا اداب و قواعد ملحوظ ہونے چاہئیں، نیز طواف اور اس کے متعلقات مثلاً حجر اسود کو بوسہ دینے وغیرہ کی کیفیات اور ان کے مسائل کا بیان ہوگا۔

2604Mishkaat-al-Masabih

مکہ کا مدخل اور مخرج

عن نافع قال : إن ابن عمر كان لا يقدم مكة إلا بات بذي طوى حتى يصبح ويغتسل ويصلي فيدخل مكة نهارا وإذا نفر منها مر بذي طوى وبات بها حتى يصبح ويذكر أن النبي صلى الله عليه و سلم كان يفعل ذلك

حضرت نافع ؓ کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمر ؓ جب بھی مکہ آتے، تو ذی طوی میں رات گزارتے اور جب صبح ہوتی تو غسل کرتے اور نماز پڑھتے پھر دن کو مکہ میں داخل ہوتے اور جب مکہ سے واپس ہوتے تو اس وقت بھی ذی طویٰ سے گزرتے اور صبح تک وہیں رات بسر کرتے، نیز حضرت ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ بھی اسی طرح کرتے تھے۔ (بخاری ومسلم) تشریح ذی طوی ایک جگہ کا نام ہے جو حدود حرم میں مقام تنعیم کی طرف واقع ہے نبی کریم ﷺ جب مکہ تشریف لائے تو استراحت کے لئے رات ذی طوی گزارتے پھر صبح غسل فرماتے اور نماز پڑھ کر اس شہر مقدس میں داخل ہوتے۔ نماز سے بظاہر نماز نفل مراد ہے جو وہاں جانے کے لئے پڑھتے تھے، پھر جب آپ ﷺ مکہ سے واپس ہوتے تو اس وقت بھی ذی طویٰ میں قیام فرماتے تاکہ رفقاء وہاں جمع ہوجائیں اور سب لوگوں کا سامان وغیرہ اکٹھا ہوجائے۔ حضرت ابن ملک فرماتے ہیں کہ اس حدیث سے یہ بات معلوم ہوئی کہ مکہ میں دن کے وقت داخل ہونا مستحب ہے تاکہ شہر میں داخل ہوتے ہی بیت اللہ شریف نظر آئے اور دعا کی جائے۔

2605Mishkaat-al-Masabih

مکہ کا مدخل اور مخرج

وعن عائشة رضي الله عنها قالت : إن النبي صلى الله عليه و سلم لما جاء إلى مكة دخلها من أعلاها وخرج من أسفلها

حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ (حجۃ الوداع کے موقع پر) جب مکہ تشریف لائے تو شہر میں اس کے بلند حصہ کی طرف سے داخل ہوئے اور (واپسی کے وقت) نشیبی حصے کی طرف سے نکلے۔ (بخاری و مسلم) تشریح مکہ کے جس طرف ذی طوی ہے وہی شہر کا بلند حصہ ہے، جنت المعلی یعنی مکہ کا مشہور قبرستان بھی اسی جانب ہے۔ شہر کی دوسری جانب نشیبی حصہ ہے۔ پہلی حدیث اور اس حدیث میں کوئی تضاد نہیں کیونکہ مکہ کے نیشبی حصہ سے نکل کر جب مدینہ کا راستہ اختیار کرتے تو ذی طویٰ پہنچتے اور وہاں رات گزار کر صبح مدینہ کے لئے روانہ ہوجاتے۔

2606Mishkaat-al-Masabih

طواف کے لئے پاکی واجب ہے

وعن عروة بن الزبير قال : قد حج النبي صلى الله عليه و سلم فأخبرتني عائشة أن أول شيء بدأ به حين قدم مكة أنه توضأ ثم طاف بالبيت ثم لم تكن عمرة ثم حج أبو بكر فكان أول شيء بدأ به الطواف بالبيت ثم لم تكن عمرة ثم عمر ثم عثمان مثل ذلك

حضرت عروہ بن زبیر ؓ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے حج کیا اور حضرت عائشہ ؓ نے مجھ سے بیان کیا کہ آنحضرت ﷺ نے مکہ پہنچ کر جو سب سے پہلے کام کیا وہ یہ تھا کہ آپ ﷺ نے وضو فرمایا اور پھر بیت اللہ کا طواف کیا (یعنی عمرہ کا طواف کیا کیونکہ آپ ﷺ قارن یا متمتع تھے اور عمرہ نہیں ہوا، پھر آپ ﷺ کے بعد حضرت ابوبکر ؓ نے حج کیا تو آپ نے بھی بیت اللہ کے طواف سے افعال حج کی ابتداء کی اور عمرہ نہیں ہوا، پھر حضرت عمر ؓ نے اور حضرت عثمان ؓ نے بھی اسی طرح کیا۔ (بخاری ومسلم) تشریح آپ ﷺ نے وضو کیا۔ کا مطلب یہ ہے کہ مکہ پہنچ کر طواف بیت اللہ سے پہلے آپ ﷺ نے دوبارہ وضو کیا، کیونکہ یہ بات پہلے ہی معلوم ہوچکی ہے کہ آنحضرت ﷺ مکہ میں داخل ہونے سے پہلے ذی طویٰ میں غسل کرتے تھے اور ظاہر ہے کہ غسل میں وضو بھی شامل ہوتا تھا۔ طواف کے صحیح ہونے کے لئے طہارت یعنی پاکی جمہور علماء کے نزدیک تو شرط ہے لیکن حنفیہ کے ہاں شرط نہیں ہے البتہ واجب ہے۔ گزشتہ احادیث میں یہ بات گزر چکی ہے کہ آنحضرت ﷺ اور صحابہ نے مکہ پہنچ کر عمرہ کیا، اس کے بعد جو لوگ قربانی کا جانور ساتھ لائے تھے وہ تو احرام باندھے رہے اور جو لوگ قربانی کا جانور ساتھ نہ لائے تھے انہوں نے احرام کھول دیا۔ لہٰذا اور عمرہ نہ ہوا کا مطلب یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حج کو فسخ یعنی موقوف کر کے عمرہ نہیں کیا اور احرام نہیں کھولا بلکہ آپ ﷺ عمرہ کے بعد احرام ہی کی حالت میں رہے کیونکہ قارن تھے اور پھر آخر میں قربانی کے دن آپ ﷺ نے احرام کھولا۔ لہٰذا راوی نے یہ بات اس لئے کہی تاکہ ان لوگوں کی تردید ہوجائے جو یہ گمان کرتے تھے کہ آنحضرت ﷺ نے حج کو فسخ کر کے عمرہ کیا۔ یا پھر اس جملہ کی مراد یہ ہے کہ ان سب نے حج کے بعد الگ سے اور عمرہ نہیں کیا بلکہ اسی عمرہ پر اکتفاء کیا جو حج کے ساتھ شامل تھا۔

2607Mishkaat-al-Masabih

طواف میں رمل کا ذکر

وعن ابن عمر رضي الله عنهما قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا طاف في الحج أو العمرة ما يقدم سعى ثلاثة أطواف ومشى أربعة ثم سجد سجدتين ثم يطوف بين الصفا والمروة

حضرت ابن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ جب حج یا عمرہ کا طواف کرتے تو پہلے تین شوط میں تیز تیز (اور اکڑ کر) چلتے (یعنی رمل کرتے) اور باقی چار شوط میں اپنی معمولی رفتار سے چلتے پھر طواف کی دو رکعت نماز پڑھتے اور اس کے بعد صفا مروہ کے درمیان سعی کرتے۔ (بخاری و مسلم) تشریح خانہ کعبہ کے گرد ایک پھیرے کو شوط کہتے ہیں اور سات شوط کا ایک طواف ہوتا ہے، چناچہ نبی کریم ﷺ طواف کے وقت تین پھیروں میں تو اس طرح تیز چلتے کہ قدم پاس پاس رکھتے اور جلد جلد اٹھاتے اور دوڑتے اور اچھلتے نہ تھے اور باقی چار پھیرے اپنی معمولی رفتار سے چل کر کرتے۔

2608Mishkaat-al-Masabih

صفا اور مروہ کے درمیان سعی واجب ہے

وعنه قال : رمل رسول الله صلى الله عليه و سلم من الحجر ثلاثا ومشى أربعا وكان يسعى ببطن المسيل إذا طاف بين الصفا والمروة . رواه مسلم

حضرت ابن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے طواف کے وقت حجر اسود سے حجر اسود تک تین پھیروں میں تو رمل کیا اور چار پھیروں میں اپنی معمولی رفتار سے چلے اور جب صفا و مرہ کے درمیان سعی کرتے تو بطن مسیل میں دوڑتے تھے۔ (مسلم) تشریح سعی کرنا یعنی صفا ومروہ کے درمیان سات پھیرے کرنا حنفیہ کے نزدیک واجب ہے جب کہ حضرت اما شافعی کے ہاں رکن ہے۔ بطن مسیل صفا ومروہ کے درمیان ایک جگہ کا نام ہے شناخت کے لئے اس کے دونوں سروں پر نشان بنے ہوئے ہیں، جنہیں میلین اخضری کہتے ہیں۔ سعی کے وقت اس جگہ تیز رفتاری سے چلنا تمام علماء کے نزدیک سنت ہے۔

2609Mishkaat-al-Masabih

حجراسود کا بوسہ

وعن جابر قال : إن رسول الله صلى الله عليه و سلم لما قدم مكة أتى الحجر فاستلمه ثم مشى على يمينه فرمل ثلاثا ومشى أربعا . رواه مسلم

حضرت جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ (جب حج یا عمرہ کے لئے) مکہ تشریف لائے تو حجر اسود کے پاس آئے اور اس کو بوسہ دیا پھر (طواف کے لئے) داہنے ہاتھ کی طرف چلے، چناچہ تین مرتبہ تو بازو ہلاکر اور جلدی جلدی چلے (جس طرح پہلوان چلتے ہیں) اور چار مرتبہ اپنی معمولی رفتار سے چلے۔ (مسلم)

2610Mishkaat-al-Masabih

حجراسود کا بوسہ

وعن الزبير بن عربي قال : سأل رجل ابن عمر عن استلام الحجر فقال : رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم يستلمه ويقبله . رواه البخاري

حضرت زبیر ابن عربی ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرت ابن عمر ؓ سے حجر اسود کو بوسہ دینے کے سلسلہ میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ اسے ہاتھ لگاتے اور چومتے تھے۔ (بخاری)

2611Mishkaat-al-Masabih

استلام رکن یمانی

وعن ابن عمر قال : لم أر النبي صلى الله عليه و سلم يستلم من البيت إلا الركنين اليمانيين

حضرت ابن عمر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو خانہ کعبہ کے صرف دو رکن کا استلام کرتے دیکھا ہے جو یمن کی سمت ہیں۔ (بخاری مسلم) تشریح کعبہ مقدسہ کے چار رکن یعنی چار کونے ہیں، ایک رکن تو وہ ہے جس میں حجر اسود نصب ہے، دوسرا اس کے سامنے ہے اور حقیقت میں یمانی اسی رکن کا نام ہے، مگر اس طرف کے دونوں ہی رکن کو تغلیبا رکن یمانی ہی کہتے ہیں۔ ان کے علاوہ دو رکن اور ہیں جن میں سے ایک تو رکن عراقی ہے اور دوسرا رکن شامی مگر ان دونوں کو رکن شامی ہی کہتے ہیں۔ جن میں رکن حجر اسود ہے اس کو دوہری فضیلت حاصل ہے، ایک فضیلت تو اسے اس لئے حاصل ہے کہ یہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا بنایا ہوا ہے اور دوسری فضیلت یوں حاصل ہے کہ اس میں حجر اسود ہے، جب کہ رکن یمانی کو صرف یہی ایک فضیلت حاصل ہے کہ اسے حضرت ابراہیم نے بنایا ہے۔ حاصل یہ ہے کہ ان دونوں رکن کو رکن شامی و عراقی پر فضیلت و برتری حاصل ہے۔ اسی لئے اسلام انہیں دونوں رکن کے ساتھ مختص ہے۔ استلام کے معنی ہیں لمس کرنا یعنی چھونا یہ چھونا خواہ ہاتھ وغیرہ کے ذریعہ ہو یا بوسہ کے ساتھ اور یا دونوں کے ساتھ لہٰذا جب یہ لفظ رکن اسود کے ساتھ استعمال ہوتا ہے تو اس سے حجر اسود کو چومنا مقصود ہے اور جب رکن یمانی کی نسبت استعمال ہوتا ہے تو اس سے رکن یمانی کو صرف چھونا مراد ہوتا ہے۔ چونکہ رکن اسود، رکن یمانی سے افضل ہے اس لئے اس کو بوسہ دیتے ہیں یا ہاتھ وغیرہ لگا کر یا کسی چیز سے اس کی طرف اشارہ کر کے چومتے ہیں اور رکن یمانی کو صرف چوما جاتا ہے اس کو بوسہ نہیں دیا جاتا، بقیہ دونوں رکن یعنی شامی اور عراقی کو نہ بوسہ دیتے ہیں اور نہ ہاتھ لگاتے ہیں، چناچہ مسئلہ یہی ہے کہ حجر اسود اور رکن یمانی کے علاوہ کسی اور پتھر وغیرہ کو نہ چومنا چاہئے اور نہ ہاتھ لگانا چاہئے۔

2612Mishkaat-al-Masabih

اونٹ پر سوار ہو کر طواف کرنے کا مسئلہ

وعن ابن عباس قال : طاف النبي صلى الله عليه و سلم في حجة الوداع على بعير يستلم الركن بمحجن

حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے حجۃ الوداع میں اونٹ پر سوار ہو کر طواف کیا اور محجن کے ذریعہ حجر اسود کو بوسہ دیا۔ (بخاری و مسلم) تشریح حنفیہ کے ہاں چونکہ پیادہ پا طواف کرنا واجب ہے اس لئے اس حدیث کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے کسی عذر اور مجبوری کی بناء پر اس طرح طواف کیا ہوگا۔ لہٰذا یہ طواف آنحضرت ﷺ کے ساتھ مختص ہے کسی اور کو سواری پر بیٹھ کر طواف کرنا جائز نہیں ہے۔ علامہ طیبی شافعی فرماتے ہیں کہ اگرچہ پیادہ پا طواف کرنا افضل ہے لیکن آنحضرت ﷺ نے اونٹ پر سوار ہو کر اس لئے طواف کیا تاکہ سب لوگ آپ ﷺ کو دیکھتے رہیں۔ یہاں ایک اشکال بھی واقع ہوتا ہے وہ یہ کہ احادیث سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر طواف کرتے ہوئے پہلے تین پھیروں میں رمل کیا تھا، جب کہ اس حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ نے اونٹ پر سوار ہو کر طواف کیا اور ظاہر ہے کہ اس صورت میں رمل کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کا پیادہ پا طواف کرنا اور اس کے تین پھیروں میں رمل کرنا طواف قدوم کے موقع پر تھا اور اونٹ پر سوار ہو کر طواف کرنے کا تعلق طواف افاضہ سے ہے جو فرض ہے اور قربانی کے دن (دسویں ذی الحجہ کو) ہوا تھا اور جسے طواف الرکن بھی کہتے ہیں۔ اور اس موقع پر اونٹ پر سوار ہو کر طواف کرنے کی وجہ یہی تھی کہ لوگ آپ ﷺ کو دیکھتے رہیں۔ تاکہ طواف افعال و مسائل سیکھ لیں۔ محجن اس لکڑی کو کہتے ہیں جس کا سرا خمدار ہوتا ہے ا، اس کے ذریعہ حج اسود کو بوسہ دینے کی صورت یہ تھی کہ آپ ﷺ اس لکڑی سے حجر اسود کی طرف اشارہ کر کے اس کو چومتے تھے۔

2613Mishkaat-al-Masabih

طریق استلام حجر اسود

وعنه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم طاف بالبيت على بعير كلما أتى على الركن أشار إليه بشيء في يده وكبر . رواه البخاري

حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے خانہ کعبہ کا طواف اونٹ پر سوار ہو کر کیا، جب آپ ﷺ حجر اسود کے سامنے آئے تو ایک چیز سے (یعنی لکڑی سے) کہ جو آپ ﷺ کے ہاتھ میں تھی اس کی طرف اشارہ کرتے اور اللہ اکبر کہتے۔ (بخاری) تشریح حجر اسود کو بوسہ دینے کا طریق تو یہ ہے کہ دونوں ہاتھ حجر اسود پر رکھ کر دونوں ہونٹوں کو حجر اسود پر لگایا جائے۔ لیکن آنحضرت ﷺ ہجوم کی زیادتی اور لوگوں کے ازدحام کی وجہ سے حجر اسود کی طرف اشارہ کرتے اور اسے چومتے ہوں گے، چناچہ حنفیہ کا یہی مسلک ہے کہ حجر اسود کی طرف اشارہ کر کے اس کو نہ چوما جائے۔ ہاں اگر کسی وجہ سے حجر اسود پر ہاتھ رکھنا اور اس کو چومنا ممکن نہ ہو تو پھر اشارہ کے ذریعہ ہی یہ سعادت حاصل کی جاسکتی ہے۔

2614Mishkaat-al-Masabih

طریق استلام حجر اسود

وعن أبي الطفيل قال : رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم يطوف بالبيت ويستلم الركن بمحجن معه ويقبل المحجن . رواه مسلم

حضرت ابوالطفیل کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ سوار ہو کر خانہ کعبہ کا طواف کرتے تھے اور ایک خمدار سرے والی لکڑی سے کہ جو آپ ﷺ کے ساتھ تھی حجر اسود کی طرف اشارہ کرتے اور اس لکڑی کو چومتے تھے۔ (مسلم) تشریح آنحضرت ﷺ کے بارے میں بعض روایت سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ نے حجر اسود کو چوما، بعض روایتیں یہ بتاتی ہیں کہ آپ ﷺ نے حجر اسود کو ہاتھ لگا کر بوسہ دیا اور بعض روایتوں سے حجر اسود کی طرف اشارہ کر کے بوسہ دینا ثابت ہے۔ لہٰذا ان تمام روایتوں میں یوں مطابقت پیدا کی جائے کہ کسی طواف میں تو آپ ﷺ نے حجر اسود کو بوسہ دیا ہوگا کسی طواف میں ہاتھ لگا کر چوما ہوگا اور کسی طواف میں کثرت ہجوم و ازدحام کی وجہ سے حجر اسود کی طرف اشارہ کے ذریعہ استلام کرلیا ہوگا، یا پھر یہ کہ ایک طواف میں ہر شوط اور کسی شوط میں ازدحام کی وجہ سے اشارہ کے ذریعہ استلام کرلیتے ہوں گے۔

2615Mishkaat-al-Masabih

حائضہ طواف وسعی نہ کرے

وعن عائشة قالت : خرجنا مع النبي صلى الله عليه و سلم لا نذكر إلا الحج فلما كنا بسرف طمثت فدخل النبي صلى الله عليه و سلم وأنا أبكي فقال : لعلك نفست ؟ قلت : نعم قال : فإن ذلك شيء كتبه الله على بنات آدم فافعلي ما يفعل الحاج غير أن لا تطوفي بالبيت حتى تطهري

حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ ہم نبی کریم ﷺ کے ہمراہ حج کے لئے روانہ ہوئے تو ہم لبیک کہتے وقت صرف حج کا ذکر کرتے تھے بعض حضرات نے یہ معنی لکھے ہیں کہ ہم صرف حج کا قصد کرتے تھے یعنی مقصود اصلی حج تھا عمرہ نہیں تھا، لہٰذا عمرہ کا ذکر نہ کرنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ عمرہ نیت میں بھی نہیں تھا۔ پھر جب ہم مقام سرف میں پہنچے تو میرے ایام شروع ہوگئے، چناچہ نبی کریم ﷺ میرے پاس تشریف لائے تو میں اس خیال سے رو رہی تھی کہ حیض کی وجہ سے میں حج نہ کر پاؤں گی۔ آنحضرت ﷺ نے میری کیفیت دیکھ کر فرمایا کہ شاید تمہارے ایام شروع ہوگئے ہیں؟ میں نے عرض کیا کہ ہاں آپ ﷺ نے فرمایا یہ تو ایک ایسی چیز ہے جسے اللہ تعالیٰ نے آدم کی بیٹیوں کے لئے مقرر فرما دیا ہے اس کی وجہ سے رونے اور مضطرب ہونے کی کیا ضرورت ہے تم بھی وہی افعال کرو جو حاجی کرتے ہیں۔ ہاں جب تک پاک نہ ہوجاؤ (یعنی ایام ختم نہ ہوجائیں اور اس کے بعد نہا نہ لو۔ اس وقت تک بیت اللہ کا طواف نہ کرنا اور نہ سعی کرنا کیونکہ سعی طواف کے بعد ہی صحیح ہوتی ہے۔ (بخاری و مسلم) تشریح سرف ایک جگہ کا نام ہے جو مکہ مکرمہ سے تقریبا چھ میل اور مقام تنعیم سے جانب شمال تین یا چار میل کے فاصلہ پر واقع ہے، اس جگہ ام المؤمنین حضرت میمونہ ؓ کی قبر ہے اور یہ عجیب اتفاق ہے کہ حضرت میمونہ ؓ کا نکاح بھی اسی جگہ ہوا، شب زفاف بھی یہیں گزری اور انتقال بھی یہیں ہوا۔ اس حدیث کے پیش نظر ایک خلجان پیدا ہوسکتا ہے اور وہ یہ کہ حضرت عائشہ ؓ کے یہ الفاظ لا نذکر الا لحج (ہم صرف حج کا ذکر کرتے تھے) خود حضرت عائشہ ؓ ہی کی اس روایت کے بالکل متضاد ہیں جو گزشتہ باب میں (دو ) گزر چکی ہے جس میں حضرت عائشہ ؓ نے اپنے بارے میں یہ بتایا تھا کہ ولم اہلل الا بعمرۃ (یعنی میں نے صرف عمرہ کا احرام باندھا تھا) لہٰذا اس ظاہر تضاد کو دفع کرنے کے لئے یہ تاویل کی جائے گی کہ یہاں حضرت عائشہ ؓ کے الفاظ لانذکر الا الحج کی مراد یہ ہے کہ اس سفر سے ہمارا اصل مقصد حج تھا اور چونکہ حج کی تین قسمیں ہیں یعنی افراد، تمتع اور قران، اس لئے ہم میں سے بعض تو مفرد تھے اور بعض متمتع اور بعض قارن۔ میں نے تمتع کا قصد کیا تھا، چناچہ میں نے میقات سے عمرہ کا احرام باندھا مگر مکہ پہنچنے سے پہلے ہی میرے ایام شروع ہوگئے جس کا سلسلہ جاری رہا یہاں تک کہ عرفہ کا دن اور وقوف عرفات کا وقت آگیا اور اس طرح عمرہ کا وقت گزر کر ایام حج شروع ہوگئے چناچہ آنحضرت ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ میں عمرہ کا احرام تو کھول دوں اور حج کا احرام باندھ لوں اور پھر طواف اور سعی کے علاوہ دیگر افعال حج کروں۔

2616Mishkaat-al-Masabih

مشرکین کو طواف کعبہ کی ممانعت

وعن أبي هريرة قال : بعثني أبو بكر في الحجة التي أمره النبي صلى الله عليه و سلم عليها قبل حجة الوداع يوم النحر في رهط أمره أن يؤذن في الناس : ألا لا يحج بعد العام مشرك ولا يطوفن بالبيت عريان

حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ حجۃ الوداع سے پہلے جس حج میں نبی کریم ﷺ نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو لوگوں کا امیر حج بنا کر بھیجا تھا اس حج میں نحر (قربانی) کے دن حضرت ابوبکر ؓ نے مجھے بھی اس جماعت کے ساتھ بھیجا جس کو یہ حکم دیا تھا کہ یہ وہ یہ اعلان کر دے کہ خبردار! اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہ کرے اور نہ کوئی شخص ننگا ہو کر بیت اللہ کا طواف کرے۔ (بخاری و مسلم) تشریح پہلے یہ بتایا جا چکا ہے کہ حج 9 ھ کے آخر میں فرض ہوا ہے آنحضرت ﷺ تو اس سال دیگر دینی امور میں مشغولیت کی وجہ سے خود حج کو تشریف نہ لے جاسکے بلکہ حضرت ابوبکر ؓ کو قافلہ حجاج کا امیر بنا کر حج کے لئے روانہ کیا۔ یہ واقعہ حجۃ الوداع سے ایک سال پہلے کا ہے، چناچہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ جب وہاں پہنچے تو ایک جماعت کو کہ جس میں حضرت ابوہریرہ ؓ بھی شامل تھے لوگوں کے پاس بھیجا اور اسے یہ حکم دیا کہ لوگوں میں یہ اعلان کردیا جائے کہ اس سال کے بعد آئندہ کوئی مشرک یعنی کافر بیت اللہ کا حج کرنے کے لئے نہ آئے کیونکہ حج کی سعادت عظمی صرف مسلمانوں کے لئے مخصوص کی گئی ہے اور انہوں نے یہ اعلان اس آیت کریمہ کے پیش نظر کرایا کہ۔ آیت ( اِنَّمَا الْمُشْرِكُوْنَ نَجَسٌ فَلَا يَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِهِمْ هٰذَا) 9۔ التوبہ 28)۔ تمام مشرک نجس (ناپاک ہیں لہٰذ کوئی بھی مشرک اس سال کے بعد مسجد حرام کے پاس نہ آئے۔ نیز حضرت ابوبکر ؓ نے اس جماعت کو یہ اعلان کرنے کا بھی حکم دیا کہ کوئی بھی شخص برہنہ ہو کر خانہ کعبہ کا طواف نہ کرے۔ یہ تو معلوم ہی ہوگا کہ ایام جاہلیت میں لوگ برہنہ ہو کر خانہ کعبہ کا طواف کیا کرتے تھے اور اس کی وجہ یہ بیان کرتے تھے کہ ہم اللہ کی یہ عظیم الشان عبادت ان کپڑوں میں کس طرح کرسکتے ہیں جن میں دن رات گناہ کیا کرتے تھے چناچہ اسلام نے اس لغویت کو بند کیا اور حکم دیا کہ آئندہ کوئی بھی اس غیر اخلاقی و انسانی اور سراسر جہالت آمیز حرکت کی جرات نہ کرے۔

2617Mishkaat-al-Masabih

خانہ کعبہ کو دیکھ کر ہاتھ اٹھانے کا مسئلہ

عن المهاجر المكي قال : سئل جابر عن الرجل يرى البيت يرفع يديه فقال قد حججنا مع النبي صلى الله عليه و سلم فلم نكن نفعله . رواه الترمذي وأبو داود

حضرت مہاجر مکی (تابعی) کہتے ہیں کہ حضرت جابر ؓ سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو خانہ کعبہ کو دیکھ کر اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے کہ آیا یہ مشروع ہے یا نہیں؟ تو حضرت جابر ؓ نے کہا کہ جب ہم نے نبی کریم ﷺ کے ہمراہ حج کیا تو ایسا نہ کرتے تھے (یعنی خانہ کعبہ کو دیکھ کر دعا مانگنے کے لئے اپنے ہاتھ نہیں اٹھاتے تھے۔ (ترمذی ابوداؤد) تشریح زائر بیت اللہ، مکہ پہنچ کر جب مسجد حرام میں داخل ہوتا ہے وہ خانہ کعبہ کو دیکھتے ہی دعا مانگتا ہے تو اس کی دعا قبول ہوتی ہے۔ اس لئے مسئلہ یہ ہے کہ کعبہ مقدس کے جمال دل ربا پر نظر پڑتے ہی جو کچھ دل چاہے اپنے پروردگار سے مانگ لیا جائے۔ اب سوال یہ ہے کہ اس وقت دعا مانگتے ہوئے اپنے دونوں ہاتھ بھی اٹھائے جائیں یا نہیں؟ چناچہ یہ حدیث اس کا انکار کر رہی ہے اور حضرت امام اعظم ابوحنیفہ، حضرت امام شافع اور حضرت امام مالک کا مسلک بھی یہی ہے کہ خانہ کعبہ کو دیکھ کر دعا مانگنے والا اپنے ہاتھ نہ اٹھائے، جب کہ حضرت امام احمد کا مسلک یہ ہے کہ خانہ کعبہ کو دیکھ کر ہاتھ اٹھائے جائیں اور دعا مانگی جائے۔ (طیبی) ملا علی قاری نے مرقات میں حضرت امام اعظم ابوحنیفہ اور حضرت امام شافعی کا مسلک اس کے برخلاف لکھا ہے یعنی ان کی نقل کے مطابق ان دونوں ائمہ کے ہاں ہاتھ اٹھانا مشروع ہے لیکن انہیں ملا علی قاری نے اپنی ایک اور کتاب مناسک میں اس کو مکروہ لکھا ہے اگرچہ بعض علماء سے اس کا جواز بھی نقل کیا ہے۔ فقہ حنفی کی مشہور و معتمد کتاب ہدایہ اور در مختار سے بھی یہی بات ثابت ہوتی ہے کہ اس موقع پر ہاتھ نہ اٹھانا چاہئے۔

2618Mishkaat-al-Masabih

سعی کے دوران صفا سے کعبہ کو دیکھنا اور ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنا

وعن أبي هريرة قال : أقبل رسول الله صلى الله عليه و سلم فدخل مكة فأقبل إلى الحجر فاستلمه ثم طاف بالبيت ثم أتى الصفا فعلاه حتى ينظر إلى البيت فرفع يديه فجعل يذكر الله ما شاء ويدعو . رواه أبو داود

حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ جب (حج وعمرہ کے لئے) تشریف لائے اور مکہ میں داخل ہوئے تو حجر اسود کے پاس گئے اور اس کو بوسہ دیا، پھر خانہ کعبہ کا طواف کیا اس کے بعد نماز طواف پڑھ کر صفا کی طرف آئے اور اس پر چڑھے یہاں تک کہ جب خانہ کعبہ کی طرف نظر اٹھائی تو دعا کے لئے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے اور جس قدر چاہا اللہ کا ذکر (یعنی تکبیر و تہلیل) کرتے رہے اور دعا مانگتے رہے۔ (ابوداؤد) تشریح سعی کے وقت جب صفا پر چڑھا جائے تو وہاں بیت اللہ کی طرف منہ کر کے کھڑا ہونا چاہئے اور پھر تکبیر و تہلیل کرنے اور درود پڑھنے کے بعد دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنی چاہئے۔ کبھی یہ طریقہ رہا ہوگا اور شاید اب بھی ہو کہ بعض لوگ اس موقع پر تکبیر کے ساتھ ہاتھ اٹھاتے ہیں جیسا کہ نماز میں تکبیر کے ساتھ رفع یدین کیا جاتا ہے، خوب اچھی طرح سمجھ لیجئے کہ شریعت میں اس کی کوئی اصل نہیں ہے یہ ایک غیر مشروع و غیر مسنون طریقہ ہے۔

2619Mishkaat-al-Masabih

نماز وطواف میں مماثلت

وعن ابن عباس أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : الطواف حول البيت مثل الصلاة إلا أنكم تتكلمون فيه فمن تكلم فيه فلا يتكلمن إلا بخير . رواه الترمذي والنسائي والدارمي وذكر الترمذي جماعة وقفوه على ابن عباس

حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا خانہ کعبہ کے گرد طواف کرنا نماز کی مانند ہے اگرچہ تم اس میں کلام کرتے ہو، لہٰذا جو شخص طواف میں کلام کرے تو وہ لغو لا یعنی اور تغیر پسندیدہ کلام نہ ہو بلکہ نیک کلام ہی کرے۔ (ترمذی، نسائی، دارمی) اور امام ترمذی نے ذکر کیا ہے کہ کچھ لوگ اس روایت کو حضرت ابن عباس ؓ پر موقوف کرتے ہیں (یعنی یہ حضرت ابن عباس ؓ کا ارشاد ہے ) تشریح نماز و طواف میں مماثلت کا تعلق ثواب سے ہے کہ جیسے نماز کا ثواب بہت زیادہ ہے ویسے ہی خانہ کعبہ کا طواف بھی کثیر ثواب حاصل ہے۔ البتہ دونوں میں فرق یہ ہے کہ جس طرح نماز میں بات چیت اور کلام مفسد ہے۔ اس طرح طواف میں کلام مفسد نہیں ہے۔ لہٰذا حدیث کی مراد یہ ظاہر کرنا ہے کہ کلام اور جو چیزیں کہ کلام کے حکم میں آتی ہیں جیسے کھانا پینا اور افعال کثیرہ وغیرہ طواف کے لئے مفسد نہیں ہیں۔ حدیث کا یہ مطلب قطعا نہیں ہے کہ نماز اور طواف دونوں یکساں ہیں کیونکہ ایک فرق تو خود حدیث نے بتادیا ہے اس کے علاوہ بھی بعض چیزیں ایسی ہیں جو دونوں کے ظاہری فرق کو واضح کرتی ہیں، مثلاً آنحضرت ﷺ کے عمل سے یہ بات ثابت ہے کہ جس طرح نماز میں استقبال قبلہ اور وقت شرط ہے اسی طرح طواف میں قبلہ رو ہونا اور کسی خاص وقت کا متعین ہونا شرط نہیں ہے۔ اسی طرح نماز کی اور شرطیں جیسے طہارت حقیقیہ اور حکمیہ اور ستر کا چھپا ہونا، اگرچہ امام شافعی کے نزدیک طواف کے لئے اسی درجہ میں ہیں جس درجہ میں نماز کے لئے ہیں یعنی جس طرح یہ چیزیں نماز کی شرائط میں سے ہیں کہ ان کے بغیر نماز اداء ہی نہیں ہوتی اسی طرح طواف کے لئے بھی شرط ہیں لیکن حنفیہ کے ہاں یہ چیزیں طواف کے لئے صرف واجب کے درجہ میں ہیں شرط نہیں۔ چناچہ حدیث کے الفاظ طواف کرنا نماز کی مانند ہے، سے یہ لازم نہیں آتا کہ طواف بعینہ نماز کے درجہ کا عمل ہوجائے، بلکہ طواف کو نماز کی مانند کہنا خود اس طرف اشار کرتا ہے کہ نماز طواف سے افضل ہے۔

2620Mishkaat-al-Masabih

حجر اسود کی حقیقت وماہیت

وعنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : نزل الحجر الأسود من الجنة وهو أشد بياضا من اللبن فسودته خطايا بني آدم . رواه أحمد والترمذي وقال : هذا حديث حسن صحيح

حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا حجر اسود بہشت سے اترا ہے یہ پتھر (پہلے) دودھ سے بھی زیادہ سفید تھا مگر ابن آدم کے گناہوں نے اسے سیاہ کردیا ہے (احمد، ترمذی) نیز امام ترمذی نے فرمایا کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تشریح وہ مقدس پتھر جسے آج حجر اسود (کالا پتھر) کہا جاتا ہے جب جنت سے اتر کر ظلم و جہل سے معمور اس دنیا میں آیا اور دنیا کے گنہگار باسیوں نے اس کو چھونا اور اس کو ہاتھ لگانا شروع کیا تو ان کے گناہوں نے کی تاثیر نے اس کا رنگ بدل دیا اور وہ پتھر جو دودھ سے زیادہ سفید تھا انسانوں کے گناہوں سے سیاہ ہوگیا۔ اب غور کیجئے جب پتھر پر انسان کے گناہوں کا یہ اثر ہوسکتا ہے تو خود انسان کے قلوب پر ان گناہوں کا کیا اثر ہوتا ہوگا۔ معاذاللہ۔

2621Mishkaat-al-Masabih

قیامت کے دن حجر اسود کی گواہی

وعنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم في الحجر : والله ليبعثنه الله يوم القيامة له عينان يبصر بهما ولسان ينطق به يشهد على من استلمه بحق . رواه الترمذي وابن ماجه والدارمي

حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے حجر اسود کے بارے میں فرمایا کہ اللہ کی قسم! قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسے اٹھا لے گا، پھر اس کو دو آنکھیں دی جائیں گی جن کے ذریعہ وہ دیکھے گا اور اس کو زبان دی جائے گی جس کے ذریعہ وہ بولے گا، چناچہ وہ اس شخص کے حق میں گواہی دے گا جس نے حق کے ساتھ اس کو بوسہ دیا ہوگا۔ (ترمذی، ابن ماجہ، دارمی) تشریح جس نے حق کے ساتھ اس کو بوسہ دیا ہوگا، کا مطلب یہ ہے کہ جس شخص نے ایمان، صدق اور یقین کے ساتھ اور محض طلب ثواب کی خاطر حجر اسود کو بوسہ دیا ہوگا قیامت میں وہ اس شخص کے بارے میں گواہی دے گا کہ اس شخص نے مجھے بوسہ دیا تھا۔ یہ حدیث بھی اپنے ظاہری معنی پر محمول ہے، اس میں ذرہ برابر بھی شبہ نہیں کہ قیامت کے دن حجر اسود کو بالکل اسی طرح آنکھیں اور زبان عطا ہوں گی جس طرح انسان کو عطا کی گئی ہیں کیونکہ اللہ رب العزت جمادات میں بینائی اور گویائی پیدا کرنے پر قادر ہے۔ وہ اگر خون و گوشت کے ایک لوتھڑے کو دیکھنے اور بولنے کی قوت دے سکتا ہے تو اسی طرح ایک پتھر کو بھی دیکھنے اور بولنے پر قادر کرسکتا ہے۔

2622Mishkaat-al-Masabih

حجر اسود اور مقام ابراہیم جنت کے یاقوت ہیں

وعن ابن عمر قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : إن الركن والمقام ياقوتتان من ياقوت الجنة طمس الله نورهما ولو لم يطمس نورهما لأضاءا ما بين المشرق والمغرب . رواه الترمذي

حضرت ابن عمر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے سنا سرکار دو عالم ﷺ فرماتے تھے۔ حجر اسود اور مقام ابراہیم جنت کے یا قوتوں میں سے دو یاقوت ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان کا نور اٹھا لیا ہے (تاکہ ایمان بالغیب رہے) اگر ان کا نور باقی رہتا تو اس میں شک نہیں کہ مشرق و مغرب کے درمیان ساری چیزوں کو روشن کردیتا۔