جامع دعاؤں کا بیان

Mishkaat-al-Masabih · Chapter 59 · 23 hadiths · Page 2 of 2

2531Mishkaat-al-Masabih

دنیا وآخرت کی عافیت اور عذاب سے نجات کی دعا مانگو

وعن أنس : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم عاد رجلا من المسلمين قد خفت فصار مثل الفرخ فقال له رسول الله صلى الله عليه و سلم : هل كنت تدعو الله بشيء أو تسأله إياه ؟ . قال : نعم كنت أقول : اللهم ما كنت معاقبي به في الآخرة فعجله لي في الدنيا . فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : سبحان الله لا تطيقه ولا تستطيعه أفلا قلت : اللهم آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا عذاب النار . قال : فدعا الله به فشفاه الله . رواه مسلم

حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول کریم ﷺ نے ایک مسلمان کی عیادت کی جو پرندے کے ایک بچے کی مانند ضعیف ہوگیا تھا رسول کریم ﷺ نے اس کی حالت دیکھ کر فرمایا کہ کیا تم اللہ تعالیٰ سے کسی چیز کی دعا مانگا کرتے تھے؟ یا فرمایا کہ تم اللہ تعالیٰ سے کسی چیز کی دعا مانگتے تھے؟ اس نے کہا کہ ہاں! میں اللہ تعالیٰ سے یہ دعا مانگا کرتا تھا کہ خدایا اگر تو آخرت میں مجھے عذاب میں مبتلا کرنے والا ہو تو اس کے بدلے دنیا ہی میں وہ عذاب دینے میں جلدی کر۔ آنحضرت ﷺ نے یہ سن کر فرمایا تم نے بڑی عجیب دعا مانگی نہ تم دنیا ہی میں اللہ تعالیٰ کے عذاب کو برداشت کرنے کی طاقت رکھتے ہو اور نہ آخرت ہی میں تم اللہ کے عذاب کے متحمل ہوسکتے ہو۔ تم نے اس طرح کیوں نہ دعا مانگی۔ (اللہم اتنا فی الدنیا حسنۃ وفی الاخرہ حسنہ وقنا عذاب النار)۔ اے اللہ! ہمیں عطا فرما دنیا میں بھللائی یعنی عافیت اور آخرت میں بھلائی یعنی عفو تقصیرات اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا۔ راوی کا بیان ہے کہ اس شخص نے آنحضرت ﷺ کے اس ارشاد کے مطابق اللہ تعالیٰ سے یہ دعا مانگنی شروع کی چناچہ اللہ تعالیٰ نے اسے شفاء عطا فرمائی۔ (مسلم)

2532Mishkaat-al-Masabih

غیر متحمل چیزوں کی دعا نہ مانگو

وعن حذيفة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا ينبغي للمؤمن أن يذل نفسه . قالوا : وكيف يذل نفسه ؟ قال : يتعرض من البلاء لما لا يطيق رواه الترمذي وابن ماجه والبيهقي في شعب الإيمان . وقال الترمذي : هذا حديث حسن غريب

حضرت حذیفہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا مومن کے لئے مناسب نہیں ہے کہ وہ اپنے آپ کو ذلیل و خوار کرے۔ صحابہ نے عرض کیا کہ اپنے آپ کو ذلیل و خوار کس طرح کرتا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا ایسی بلائیں اپنے سر لے لے جس کی وہ طاقت نہیں رکھتا۔ ترمذی، ابن ماجہ، بیہقی، امام ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث غریب ہے۔ تشریح یہ بات مومن کی فراست کے منافی ہے کہ وہ ایسی چیز یا کسی ایسے کام کی ذمہ داری قبول کرے جو اس کی طاقت اور اس کی رسائی سے باہر ہو۔ ایسا کرنا اپنے آپ کو خوار کرنا اور اپنی سبکی کرانا ہے۔ مثلا کوئی شخص حساب کتاب کے فن سے ناواقف ہو اور ایسے امور اپنے ذمہ لے لے جن کا تعلق حساب کتاب سے ہو تو ظاہر ہے کہ وہ ذمہ داری کو پورا نہیں کرسکے گا، جس کا نتیجہ اپنی خواری و سبکی کے علاوہ اور کیا نکلے گا۔ چناچہ یہ ارشاد گرامی مسلمانوں کو اسی نکتہ کی طرف توجہ دلا رہا ہے کہ وہ صرف ایسے ہی امور اپنے ذمہ لیں جن کی انجام دہی کی وہ طاقت و لیاقت رکھتے ہوں۔ کسی غرض، کسی لالچ یا کسی جذبہ کی تسکین کی خاطر غیر متحمل چیزوں کی ذمہ داری قبول کرنا مآل کار اپنی ذلت و خواری میں مبتلا ہونا ہے۔ بظاہریہ حدیث اس باب سے متعلق معلوم نہیں ہوتی لیکن اگر اس حدیث کے مفہوم کو پچھلی حدیث کے مفہوم کی روشنی میں دیکھا جائے تو یہ معلوم ہوگا کہ اس باب سے اس حدیث کا گہرا تعلق ہے اور وہ یہ کہ آدمی جس چیز کا متحمل نہ ہو اس کی دعا بھی نہ مانگے۔

2533Mishkaat-al-Masabih

باطن کی ظاہر سے بہتری اور ظاہر کی شائستگی کی دعا

وعن عمر رضي الله عنه قال : علمني رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : قل : اللهم اجعل سريرتي خيرا من علانيتي واجعل علانيتي صالحة اللهم إني أسألك من صالح ما تؤتي الناس من الأهل والمال والولد غير الضال ولا المضل رواه الترمذي

حضرت عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے مجھے تعلیم دیتے ہوئے فرمایا کہ یہ دعا مانگو۔ دعا (اللہم اجعل سریرتی خیرا من علانیتی واجعل علانیتی صالحۃ اللہم انی اسئلک من صالح ماتوتی الناس من الاہل والمال والولد غیر الضال ولا المضل)۔ اے اللہ! میرے باطن کو میرے ظاہر سے بہتر بنا اور میرے ظاہر کو شائستگی عطا فرما اے اللہ! میں تجھ سے بھلائی مانگتا ہوں اس چیز کی جو تو لوگوں کو دیتا ہے یعنی اہل، مال، اولاد کہ نہ گمراہ ہوں اور نہ گمراہ کریں۔ (ترمذی)