وعن حفصة رضي الله عنها أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان إذا أراد أن يرقد وضع يده اليمنى تحت خده ثم يقول : اللهم قني عذابك يوم تبعث عبادك . ثلاث مرات رواه أبو داود
حضرت حفصہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ جب سونے کا ارادہ فرماتے تو اپنا دایاں ہاتھ اپنے رخسار کے نیچے رکھتے اور تین مرتبہ کہتے اے اللہ مجھے اس دن کے عذاب سے بچائیے جب تو اپنے بندوں کو اٹھائے گا۔ (ابوداؤد)
وعن علي رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يقول عند مضجعه : اللهم إني أعوذ بوجهك الكريم وكلماتك التامات من شر ما أنت آخذ بناصيته اللهم أنت تكشف المغرم والمأثم اللهم لا يهزم جندك ولا يخلف وعدك ولا ينفع ذا الجد منك الجد سبحانك وبحمدك . رواه أبو داود
حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ اپنے سونے کے وقت یہ دعا پڑھا کرتے تھے (اللہم انی اعوذ بوجہک الکریم وکلماتک التامات من شر ما انت اٰخذ بناصیتہ اللہم انت تکشف المغرم والمأثم اللہم لا یہزم جندک ولا یخلف وعدک ولا ینفع ذالجد منک الجد سبحانک وبحمدک۔ (ابو داؤد)
وعن أبي سعيد قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من قال حين يأوي إلى فراشه : أستغفر الله الذي لا إله إلا هو الحي القيوم وأتوب إليه ثلاث مرات غفر الله له ذنوبه وإن كانت مثل زبد البحر أو عدد رمل عالج أو عدد ورق الشجر أو عدد أيام الدنيا . رواه الترمذي وقال : هذا حديث غريب
حضرت ابوسعید ؓ روای ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص اپنے بستر پر آ کر (یعنی سونے کے وقت) تین مرتبہ یہ کلمات پڑھے تو اللہ تعالیٰ اس کے گناہ بخش دیتا ہے چاہے وہ دریا کے جھاگ کے برابر یا عالج کے ریت کے ذروں کی تعداد کے برابر یا درخت کے پتوں کے برابر اور یا دنیا کے دنوں کی تعداد کے برابر ہی کیوں نہ ہوں اور وہ کلمات یہ ہیں استغفر اللہ الذی لا الہ الا ہوالحی القیوم واتوب الیہ (یعنی میں اللہ سے بخشش چاہتا ہوں ایسا اللہ جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور جو زندہ مخلوق کی خبر گیری کرنے والا ہے اور میں اس کے سامنے توبہ کرتا ہوں۔ امام ترمذی نے اس روایت کو نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے۔
تشریح
عالج جو لام کے زیر کے ساتھ بھی پڑھا جاتا ہے اور زبر کے ساتھ بھی، مغربی علاقہ میں ایک جنگل کا نام تھا۔ جہاں ریب تہ زیادہ ہوتی تھی اس حدیث میں ان تمام چیزوں کو بطور مثال بیان کرنے کی غرض یہ بتانا ہے کہ اگر گناہ بہت زیادہ ہوں گے تب بھی بخشے جائیں گے۔
سوتے وقت قرآن کی کوئی سورت پڑھنے کی برکت
وعن شداد بن أوس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما من مسلم يأخذ مضجعه بقراءة سورة من كتاب الله إلا وكل الله به ملكا فلا يقربه شيء يؤذيه حتى يهب متى هب . رواه الترمذي
حضرت شداد بن اوس ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو بھی مسلمان اپنی خوابگاہ میں آ کر یعنی سوتے وقت قرآن کریم کی کوئی سورت پڑھتا ہے تو اللہ اس کے ساتھ ایک فرشتہ متعین کردیتا ہے اور اس فرشتے کو حکم دیتا ہے کہ ضرر پہنچانے والی کوئی بھی چیز اس کے پاس بھٹکتی بھی نہیں چاہئے وہ جب بھی (یعنی جلدی سے یا دیر) جاگے۔ (ترمذی)
تشریح
حضرت انس ؓ سے بطریق مرفوع روایت ہے کہ (آپ ﷺ نے فرمایا) جب تم اپنے بستر پر اپنا پہلو رکھو یعنی سونے لگو اور اس وقت سورت فاتحہ اور سورت قل ہو اللہ پڑھ لو تو (جب تک سوتے رہو گے، موت کے علاوہ ہر چیز سے حفاظت میں رہو گے۔
ہر نماز کے بعد اور سوتے وقت تسبیح، تحمید تکبیر پڑھنے کی فضیلت
وعن عبد الله بن عمرو بن العاص رضي الله عنهما قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : خلتان لا يحصيهما رجل مسلم إلا دخل الجنة ألا وهما يسير ومن يعمل بهما قليل يسبح الله في دبر كل صلاة عشرا ويحمده عشرا ويكبره عشرا قال : فأنا رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم يعقدها بيده قال : فتلك خمسون ومائة في اللسان وألف وخمسمائة في الميزان وإذا أخذ مضجعه يسبحه ويكبره ويحمده مائة فتلك مائة باللسان وألف في الميزان فأيكم يعمل في اليوم والليلة ألفين وخمسمائة سيئة ؟ قالوا : وكيف لا نحصيها ؟ قال : يأتي أحدكم الشيطان وهو في صلاته فيقول : اذكر كذا اذكر كذا حتى ينفتل فلعله أن لا يفعل ويأتيه في مضجعه فلا يزال ينومه حتى ينام . رواه الترمذي وأبو داود والنسائي وفي رواية أبي داود قال : خصلتان أو خلتان لا يحافظ عليهما عبد مسلم . وكذا في روايته بعد قوله : وألف وخمسمائة في الميزان قال : ويكبر أربعا وثلاثين إذا أخذ مضجعه ويحمد ثلاثا وثلاثين ويسبح ثلاثا وثلاثين . وفي أكثر نسخ المصابيح عن : عبد الله بن عمر
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا دو چیزیں ایسی ہیں جنہیں جو بھی مرد مسلمان مداومت کے ساتھ اختیار کرتا ہے وہ جنت میں داخل ہوتا ہے (یعنی وہ شخص جنت میں نجات پانے والوں کے ساتھ ہوگا) اور جان لو وہ دونوں چیزیں آسان تو بہت ہیں (بایں طور کہ اللہ تعالیٰ ان چیزوں پر عمل کرنا جن لوگوں کے لئے آسان کر دے ان کے لئے وہ کوئی مشکل نہیں ہیں) مگر ان پر عمل کرنے والے بہت کم ہیں (یعنی اللہ تعالیٰ کی توفیق نہ ہونے کے سبب ان پر مداومت کے ساتھ عمل کرنے میں شاذ و نادر ہی ہیں) ان میں سے ایک چیز تو یہ ہے کہ ہر فرض نماز کے بعد اللہ کو پاکی کے ساتھ یاد کیا جائے یعنی سبحان اللہ پڑھا جائے دس مرتبہ اللہ کی حمد کی یعنی الحمد للہ کہا جائے اور دس مرتبہ اللہ اکبر کہا جائے۔ ابن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا آپ ﷺ نے ان کو اپنے ہاتھ کی انگلیوں پر شمار کیا اور فرمایا پس (پانچوں نمازوں کی مجموعی تعداد کے اعتبار سے) یہ زبان سے کہنے میں تو ڈیڑھ سو ہیں لیکن اعمال کے ترازو میں ان کی تعداد ڈیڑھ ہزار ہوگی (بایں طور کہ ہر نیکی پر دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور دوسری چیز یہ ہے کہ اپنے بستر پر آ کر (یعنی سونے کے وقت) سبحان اللہ، اللہ الکبر اور الحمد للہ سو مرتبہ کہے (یعنی سبحان للہ تینتیس بار اور الحمدللہ تینتیس بار اور اللہ اکبر چونتیس بار کہا جائے ان کی مجموع تعداد سو ہوتی ہے اور یہ زبان میں کہنے سے تو سو بار ہیں لیکن میزان اعمال میں ایک ہزار ہوں گی۔ پس تم میں سے وہ کون ہے جو دن رات میں اڑھائی ہزار برائیاں کرتا ہوگا؟ صحابہ نے عرض کیا (جب یہ ہے تو پھر) ہم ان چیزوں کی بھلا کیونکر محافظت نہ کریں گے آپ ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھتا ہوا آتا ہے تو اس کے پاس شیطان آتا ہے اور کہتا ہے کہ فلاں چیز یاد کرو فلاں بات یاد کرو (یعنی اسے نماز کی حالت میں دنیا کی باتیں یا آخرت کی باتیں ایسی کہ جن کا تعلق نماز سے ہوتا نہیں ہے یاد دلاتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ نماز پڑھ کر فارغ ہوتا ہے پس ہوسکتا ہے کہ وہ ان کلمات پر محافظت نہ کرے اور اسی طرح شیطان اس کی خوابگاہ میں آتا ہے اس کو سلاتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ سو جاتا ہے (ترمذی، ابوداؤد، نسائی) اور ابوداؤد کی روایت میں بعض الفاظ میں اختلاف ہے چناچہ ان کی روایت میں یوں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا دو خصلتیں ایسی ہیں یا دو چیزیں ایسی ہیں راوی کو شک ہوا کہ آپ ﷺ نے لفظ خصلتین فرمایا تھا یا خلتین ویسے دونوں کے معنی ایک ہی ہیں۔ جنہیں جو بھی بندہ مسلمان اختیار کرتا ہے یعنی اس روایت میں لایحصیہما رجل مسلم کے بجائے لا یحافظ علیہما عبد مسلم ہے اسی طرح ابوداؤد کی روایت میں والف خمسائۃ فی المیزان کے بعد یہ الفاظ ہیں کہ تکبیر کہے چونتیس بار جب کہ اپنے بستر پر آئے اور حمد کرے تینتیس بار اور تسبیح کرے تینتیس بار نیز مصابیح کے اکثر نسخوں میں یہ روایت عبداللہ بن عمر سے منقول ہے یعنی مؤلف مشکوۃ نے تو اس روایت کو عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ سے نقل کیا ہے جب کہ مصابیح کے اکثر نسخوں میں اس حدیث کا راوی عبداللہ بن عمر ؓ ہیں۔
تشریح
پس تم میں سے کون ہے؟ یہ جواب ہے شرط محذوف کا اور اس استفہام میں ایک طرح کا انکار ہے یعنی اس استفہامیہ جملہ کا حاصل یہ ہے کہ جب ان دونوں چیزوں پر محافظ کی اور اس کے بدلہ میں دن رات میں اڑھائی ہزار نیکیاں حاصل ہوئی تو ان میں سے ہر نیکی کے بدلہ برائیاں دور کی جاتی ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت (ان الحسنات یذھبن السیأت) بلاشبہ نیکیاں برائیوں کو دور کرتی ہیں۔ لہٰذا تم میں سے ایسا کون ہے جو دن رات میں ان نیکیوں سے زیادہ برائیاں کرتا ہے اور جتنی بھی برائیاں کرتا ہو وہ ان نیکیوں کی وجہ سے معاف نہ ہوجاتی ہوں۔ اس لئے ایسی صورت میں تمہارے لئے یہ بات کیسے بہتر ہوسکتی ہے کہ تم ان دونوں چیزوں پر محافظت نہ کرو حاصل یہ کہ ان دونوں چیزوں پر عمل کرنے سے نیکیاں برائیوں سے کہیں زیادہ ہوجاتی ہیں اور پھر نہ صرف یہ کہ وہ برائیاں ان نیکیوں کی وجہ سے دور ہوجاتی ہیں بلکہ نیکیوں کی زیادتی کی وجہ سے درجات بھی بلند ہوجاتے ہیں لہٰذا تمہیں چاہیے کہ تم پابندی کے ساتھ دونوں چیزوں پر عمل کرتے رہو پھر جب صحابہ ؓ نے ان دونوں چیزوں کا اتنا زیادہ ثواب اور ان کی اتنی فضیلت سنی تو کہنے لگے کہ جب یہ بات ہے تو پھر ہمارے لئے ایسی کوئی چیز مانع نہیں ہوسکتی کہ ہم ان دونوں چیزوں پر محافظت نہ کریں گویا انہوں نے ان چیزوں کے ترک کرنے کو بعید جانا مگر آپ ﷺ نے ان کے اس استبعاد (یعنی بعید جاننے کی تردید فرمائی کہ شیطان جو انسان کی نیکی کا ازلی دشمن ہے۔ اپنی گھات میں رہتا ہے وہ کب برداشت کرتا ہے کہ کوئی شخص اتنی عظیم سعادت کو حاصل کرلے اس لئے وہ نماز میں وسوسے پیدا کرتا ہے یہاں تک کہ نماز کے بعد کے اوراد و افکار سے غافل کردیتا ہے اسی طرح وہ سوتے وقت ذکر سے غافل کر کے سلا دیتا ہے۔
دن رات میں حاصل ہونے والی نعمتوں کے شکر کی ادائیگی
وعن عبد الله بن غنام قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من قال حين يصبح : اللهم ما أصبح بي من نعمة أو بأحد من خلقك فمنك وحدك لا شريك لك فلك الحمد ولك الشكر فقد أدى شكر يومه ومن قال مثل ذلك حين يمسي فقد أدى شكر ليلته . رواه أبو داود
حضرت عبداللہ بن غنام ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص صبح کے وقت یوں کہے دعا (اللہم ما اصبح بی من نعمۃ او باحد من خلقک فمنک وحدک لا شریک لک فلک الحمد ولک الشکر تو اس نے اس دن کا شکر ادا کیا اور جس نے ایسے کلمات شام کے وقت کہے اس نے رات کا شکر ادا کیا شام کے وقت جب یہ دعا پڑھی جائے تو صبح کی بجائے امسیٰ کہا جائے۔ ( ابوداؤد )
تشریح
منقول ہے کہ ایک دن حضرت داؤد (علیہ السلام) نے عرض کیا کہ پروردگار تیری بہت زیادہ نعمتیں مجھے حاصل ہیں میں ان کا شکر کیسے ادا کروں! پروردگار نے فرمایا داؤد! اگر تم نے یہ جانا کہ تمہیں نعمتیں جو حاصل ہیں وہ سب میری ہی طرف سے ہیں تو سمجھ لو کہ تم نے ان کا شکر ادا کیا۔
وعن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه كان يقول إذا أوى إلى فراشه : اللهم رب السماوات ورب الأرض ورب كل شيء فالق الحب والنوى منزل التوراة والإنجيل والقرآن أعوذ بك من شر كل ذي شر أنت آخذ بناصيته أنت الأول فليس قبلك شيء وأنت الآخر فليس بعدك شيء وأنت الظاهر فليس فوقك شيء وأنت الباطن فليس دونك شيء اقض عني الدين وأغنني من الفقر . رواه أبو داود والترمذي وابن ماجه ورواه مسلم مع اختلاف يسير
حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ جب اپنے بستر پر تشریف لاتے تو یہ دعا پڑھتے (اللہم رب السموات والارض و رب کل شیء فالق الحب والنوی منزل توراۃ والانجیل والقرآن اعوذبک من شر کل ذی شر انت اخذ بناصیتہ انت الاول فلیس قبلک شیء وانت الاخر فلیس بعد ک شیء وانت الظاہر فلیس فوقک شیء وانت الباطن فلیس دونک شیء اقض عنی الدین واغننی من الفقر (حصن حصین میں ہے کہ یہ دعا سوتے وقت لیٹ کر پڑھی جائے) (ابوداؤد، ترمذی، ابن ماجہ) امام مسلم نے اس روایت کو تھوڑے سے فرق کے ساتھ نقل کیا ہے۔
وعن أبي الأزهر الأيماري أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان إذا أخذ مضجعه من الليل قال : بسم الله وضعت جنبي لله اللهم اغفر لي ذنبي واخسأ شيطاني وفك رهاني واجعلني في الندي الأعلى . رواه أبو داود
حضرت ابوازہر انماری ؓ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ جب رات میں اپنے بستر پر آتے تو یہ فرماتے بسم اللہ وضعت جنبی للہ اللہم اغفرلی ذنبی واخسأ شیطانی وفک رہانی واجعلنی فی الندی الاعلیٰ (ابوداؤد)
تشریح
رہن (گروی) سے مراد نفس ہے مطلب یہ ہے کہ میرے نفس کو بندوں کے حق سے آزاد بری الذمہ کر اور میری لغزشوں کو معاف فرما کر اپنے عذاب سے مجھے نجات بخش۔
وعن ابن عمر : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان إذا أخذ مضجعه من الليل قال : الحمد لله الذي كفاني وآواني وأطعمني وسقاني والذي من علي فأفضل والذي أعطاني فأجزل الحمد لله على كل حال اللهم رب كل شيء ومليكه وإله كل شيء أعوذ بك من النار . رواه أبو داود
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ جب رات میں اپنے اپنے بستر پر آتے یہ پڑھتے دعا (الحمد للہ الذی کفانی واوانی واطعمنی وسقانی والذی من علی فافضل والذی اعطانی فاجزل الحمد للہ علی کل حال اللہم رب کل شیء وملیکہ والہ کل شیء اعوذبک من النار۔ (ابو داؤد)
وعن بريدة قال : شكا خالد بن الوليد إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقال يا رسول الله ما أنام من الليل من الأرق فقال نبي الله صلى الله عليه و سلم : إذا أويت إلى فراشك فقل : اللهم رب السماوات السبع وما أظلت ورب الأرضين وما أقلت ورب الشياطين وما أضلت كن لي جارا من شر خلقك كلهم جميعا أن يفرط علي أحد منهم أو أن يبغي عز جارك وجل ثناؤك ولا إله غيرك لا إله إلا أنت . رواه الترمذي وقال هذا حديث ليس إسناده بالقوي والحكم بن ظهير الراوي قد ترك حديثه بعض أهل الحديث
حضرت بریدہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت خالد بن ولید ؓ نے رسول کریم ﷺ کی خدمت میں شکایت کی کہ یا رسول اللہ! میں بےخوابی کے سبب رات میں سو نہیں پاتا؟ آپ ﷺ نے فرمایا جب تم بستر پر آؤ تو یہ دعا پڑھو (اللہم رب السموات السبع وما اطلت ورب الارضین وما اقلت و رب الشیاطین وما اضلت کن لی جارا من شر خلقک کلہم جمیعا ان یفرط علی احد منہم ان یبتغی عز جارک وجل ثناؤک ولا الہ غیرک لا الہ الا انت۔ ترمذی نے اس روایت کو نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ اس روایت کی اسناد قوی نہیں ہے۔ اس حدیث کے ایک راوی حکیم بن ظہیر کی روایت کو بعض محدثین نے ترک کردیا ہے۔
تشریح
حصن حصین میں ہے کہ اس روایت کو طبرانی نے اوسط میں اور ابن ابی شیبہ نے نقل کیا ہے لیکن ان کی روایتوں میں لفظ جمیعا کی بجائے اجمعین ہے اور لفظ یبغی کی بجائے یطغی اور اسی طرح وجل ثناؤک سے آخر تک کے الفاظ ان کی روایت میں نہیں ہیں بلکہ عز جارک کے بعد و تبارک اسمک ہے اور اسی جملہ پر روایت ختم ہوگئی ہے۔
وعن أبي مالك أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إذا أصبح أحدكم فليقل : أصبحنا وأصبح الملك لله رب العالمين اللهم إني أسألك خير هذا اليوم فتحه ونصره ونوره وبركته وهداه وأعوذ بك من شر ما فيه ومن شر ما بعده ثم إذا أمسى فليقل مثل ذلك . رواه أبو داود
حضرت ابومالک ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جب صبح ہو تو تم میں سے ہر شخص کو چاہئے کہ وہ یہ دعا پڑھے دعا (اصبحنا واصبح الملک للہ رب العالمین اللہم انی اسألک خیر ہذا الیوم فتحہ ونصرہ ونورہ وبرکتہ وہداہ واعوذبک من شر مافیہ ومن شرمابعدہ) اور پھر جب شام ہو تو اسی طرح یہ دعا پڑھے۔ (ابوداؤد)
وعن عبد الرحمن بن أبي بكرة قال : قلت لأبي : يا أبت أسمعك تقول كل غداة : اللهم عافني في بدني اللهم عافني في سمعي اللهم عافني في بصري لا إله إلا أنت تكررها ثلاثا حين تصبح وثلاثا حين تمسي فقال : يا بني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يدعو بهن فأنا أحب أن أستن بسننه . رواه أبو داود
حضرت عبدالرحمن بن ابی بکرہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد صاحب سے کہا کہ ابا جان میں سنتا ہوں آپ روزانہ یہ دعا پڑھتے ہیں دعا (اللہم عافنی فی بدنی اللہم عافنی فی سمعی اللہم عافنی فی بصری لا الہ الا انت) اور آپ ﷺ یہ دعا تین مرتبہ صبح کے وقت اور تین مرتبہ شام کے وقت پڑھتے ہیں انہوں نے کہا میرے بیٹے میں نے رسول کریم ﷺ کو انہیں کلمات کے ذریعے دعا مانگتے سنا ہے لہٰذا میں اسے پسند کرتا ہوں کہ آنحضرت ﷺ کی سنت کی پیروی کرو۔ (ابوداؤد)
تشریح
اس حدیث میں اس طرف اشارہ ہے کہ دعا اور اعمال خیر کا اصل مقصد آنحضرت ﷺ کے حکم کی بجا آوری اور آپ کی سنت کی پیروی ہونا چاہئے نہ کہ جزاء عمل اور قبولیت دعا۔
صبح کے وقت آنحضرت ﷺ کی دعا
وعن عبد الله بن أبي أوفى قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا أصبح قال : أصبحنا وأصبح الملك لله والحمد لله والكبرياء والعظمة لله والخلق والأمر والليل والنهار وما سكن فيهما لله اللهم اجعل أول هذا النهار صلاحا وأوسطه نجاحا وآخره فلاحا يا أرحم الراحمين . ذكره النووي في كتاب الأذكار برواية ابن السني
حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ ؓ کہتے ہیں کہ جب صبح ہوتی رسول کریم ﷺ یہ دعا پڑھتے۔ دعا (اصبحنا واصبح الملک للہ والحمدللہ والکبریاء والظمۃ للہ والخلق الامر واللیل والنہار وماسکن فیہم اللہ اللہم اجعل اول ہذا النہار صلاح واوسطہ نجاحا واخرہ فلاح یا ارحم الراحمین)۔ صبح کی میں نے اور صبح کی ملک نے جو اللہ کے لئے ہے تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں اور بزرگی ذات وصفات کی اللہ ہی کے لئے ہے اور حکم دن اور رات اور چیزیں دن رات میں آرام پاتی ہیں سب اللہ ہی کے لئے ہیں اے اللہ اس دن کے ابتدائی حصہ کو نیکی کا بنا یعنی یہ کہ ہم اسے طاعات میں صرف کریں اور اس کا درمیانی حصہ حاجات کے پورا ہونے کا اور اس کے آخری حصہ کو نجات کا سبب بنا اے رحم کرنے والوں میں سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔ اس حدیث کو نووی نے ابن سنی کی روایت کے ساتھ کتاب الاذکار میں نقل کیا ہے۔
تشریح
جیسا کہ ایک حدیث میں آیا ہے جس دعا کو یا ارحم الراحمین پر ختم کیا جائے وہ جلد قبول ہوتی ہے اسی لئے آنحضرت ﷺ نے اس دعا کو انہیں الفاظ پر ختم کیا۔ حاکم نے مستدرک میں ابوامامہ سے بطریق مرفوع بیان کیا ہے کہ یا ارحم الراحمین کہنے والوں پر اللہ تعالیٰ فرشتہ متعین فرما دیتا ہے چناچہ جو شخص اس جملہ کو تین بار کہتا ہے تو وہ فرشتہ اس سے کہتا ہے کہ ارحم الراحمین تیری طرف متوجہ ہے جو مانگنا ہے مانگ لو۔
صبح کے وقت آنحضرت ﷺ کی دعا
وعن عبد الرحمن بن أبزى قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول إذا أصبح : أصبحنا على فطرة الإسلام وكلمة الإخلاص وعلى دين نبينا محمد صلى الله عليه و سلم وعلى ملة أبينا إبراهيم حنيفا وما كان من المشركين . رواه أحمد والدارمي
حضرت عبدالرحمن ابن ابزی ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ صبح کے وقت یہ فرماتے دعا (اصبحنا علی فطرۃ الاسلام وکلمۃ الاخلاص وعلی دین نبینا محمد ﷺ وعلی ملۃ ابینا ابراہیم حنیفا وماکان من المشرکین) صبح کی ہم نے دین اسلام پر اور کلمہ توحید پر کہ وہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ہے اور اپنے نبی محمد ﷺ کے دین پر اور اپنے باپ ابراہیم کے دین پر جو باطل سے بیزار ہو کر دین حق کی طرف متوجہ تھے اور ابراہیم شرک کرنے والوں سے نہیں تھے۔ (احمد، دارمی)
تشریح
اپنے نبی محمد ﷺ کے دین پر ان الفاظ سے ظاہری طور یہی معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ جس طرح دوسروں کی طرف مبعوث فرمائے گئے اسی طرح آپ ﷺ خود بھی اپنی ذات کی طرف مبعوث تھے یا پھر ان الفاظ کے بارے میں یہ کہا جائے گا کہ آپ ﷺ نے امت کو سکھانے کے لئے فرمایا کہ دعا میں اس طرح کہا جائے۔