مختلف اوقات کی دعاؤں کا بیان
جو اذکار یعنی دعائیں وغیرہ شارع سے کسی بھی وقت اور کسی بھی حالت سے متعلق منقول ہیں ان کو اختیار کرنا اور ان اذکار کو ان کے منقول اوقات میں پورا کرنا ہر شخص کے لئے مسنون ہے اگر ان اذکار کو پابندی کے ساتھ اختیار کیا جائے تو کیا ہی کہنے اور اگر یہ ممکن نہ ہو تو کم سے کم ایک مرتبہ تو ضرور ہی ان کو پورا کیا جائے تاکہ آنحضرت ﷺ کی اتباع کی سعادت حاصل ہوجائے۔
اولاد کو شیطان سے کیسے محفوظ رکھا جاسکتا ہے
عن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لو أن أحدكم إذا أراد أن يأتي أهله قال : بسم الله اللهم جنبنا الشيطان وجنب الشيطان ما رزقتنا فإنه إن يقدر بينهما ولد في ذلك لم يضره شيطان أبدا
حضرت ابن عباس ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص اپنی بیوی یا لونڈی کے پاس صحبت کے لئے آئے تو دعا پڑھے اگر اس وقت (ان دونوں) مرد و عورت کے جماع کے نتیجہ میں فرزند دیا جانا مقدر ہوا یعنی بچہ پیدا ہوا تو اس بچہ کو شیطان کبھی ضرر نہیں پہنچائے گا اور وہ دعا یہ ہے کہ (بسم اللہ اللہم جنبنا الشیطان وجنب الشیطان ما رزقتنا) ہم مدد چاہتے ہیں اللہ کے نام کے ساتھ اے اللہ تو ہمیں جو اولاد نصیب کرے اس شیطان سے اور شیطان کو اس سے دور رکھ۔
تشریح
اگر یہ اشکال پیدا ہو کہ اکثر لوگ یہ دعا پڑھتے ہیں مگر اس کے باوجود ان کی اولاد شیطان کے تصرف اور اس کے ضرر سے محفوظ نہیں رہتی؟ تو اس کا جواب یہ ہوگا کہ شیطان کبھی ضرر نہیں پہنچائے گا سے مراد یہ ہے کہ شیطان انہیں کفر کی کھائیوں میں نہیں پھینک سکتا، لہٰذا اس حدیث میں اس طرف اشارہ ہے کہ صحبت کے وقت ذکر اللہ کی برکت سے اولاد خاتمہ بخیر کی سعادت ابدی سے نوازی جاتی ہے یا پھر اس کے معنی یہ ہیں کہ شیطان اس کی اولاد کو آسیب اور صرع یعنی ہاتھ پاؤں ٹیڑھے کردینے یا اسی قسم کی دوسری بلاؤں میں مبتلا کر کے ضرر پہنچانے پر قادر نہیں رہتا۔ حضرت امام جوزی کے قول کے مطابق اس کا مطلب یہ ہے کہ شیطان اس شخص کی اولاد کے دین و اعتقاد پر اثر انداز نہیں ہوتا اور جس طرح کہ شیطان دوسروں کے صحیح اعتقادات اور دینی رحجانات میں نقصان پہنچاتا ہے ان کی بہ نسبت اس شخص کی اولاد کے حق میں اس کا ضرر و نقصان بےاثر رہتا ہے۔ بعض دوسرے حضرات فرماتے ہیں کہ ضرر پہنچانے سے مراد یہ ہے کہ شیطان جو پیدائش کے وقت ہر بچہ کی کوکھ میں انگلی ماتا ہے جس کی وجہ سے بچہ روتا چلاتا پیدا ہوتا ہے اس دعا کی وجہ سے وہ زور سے انگلی نہیں مار پاتا۔
شدت فکر وغم کے وقت آپ ﷺ کی دعا
وعنه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يقول عند الكرب : لا إله إلا الله العظيم الحليم لا إله إلا الله رب العرش العظيم لا إله إلا الله رب السماوات ورب الأرض رب العرش الكريم
حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ شدت فکر و غم کے وقت یہ دعا پڑھتے (لا الہ الا اللہ العظیم الحلیم لا الہ اللہ رب العرش العظیم لا الہ الا اللہ رب السموات ورب الارض رب العرش الکریم) نہیں کوئی معبود سوائے اللہ کے جو بزرگ اور بردبار ہے نہیں کوئی معبود سوائے اللہ کے جو پروردگار ہے عرش عظیم کا نہیں کوئی معبود سوائے اللہ کے جو پروردگار ہے آسمانوں کا پروردگار ہے زمین کا اور پروردگار ہے عرش کریم کا۔
وعن سليمان بن صرد قال : استب رجلان عند النبي صلى الله عليه و سلم ونحن عنده جلوس وأحدهما يسب صاحبه مغضبا قد احمر وجهه فقال النبي صلى الله عليه و سلم : إني لأعلم كلمة لو قالها لذهب عنه ما يجد أعوذ بالله من الشيطان الرجيم . فقالوا للرجل : لا تسمع ما يقول النبي صلى الله عليه و سلم ؟ قال : إني لست بمجنون
حضرت سلیمان بن صرد ؓ کہتے ہیں کہ ایک دن ہم نبی کریم ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ ﷺ کی مجلس میں دو آدمی آپس میں ایک دوسرے کو برا بھلا کہنے لگے ان میں سے ایک آدمی تو دوسرے کو بہت ہی برا بھلا کہہ رہا تھا وہ غصہ میں بھرا ہوا تھا اس کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا نبی کریم ﷺ نے اس کی یہ کیفیت دیکھ کر فرمایا کہ میں ایک کلمہ جانتا ہوں اگر یہ شخص اس کلمہ کو پڑھے تو اس کا غصہ جاتا رہے جو اس پر سوار ہے اور وہ کلمہ یہ ہے۔ (اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم۔ میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں شیطان مردود سے۔ صحابہ نے جب یہ دیکھا کہ اس شخص نے کلمہ نہیں پڑھا تو اس سے کہا کیا تم سن نہیں رہے، آنحضرت ﷺ کیا فرما رہے ہیں؟ اس شخص نے کہا کہ میں کوئی دیوانہ نہیں ہوں۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ غصہ فرو کرنے کا بڑا آسان طریقہ یہ ہے کہ اعوذ باللہ پڑھ لیا جائے اس سے غصہ فرو ہوجائے گا اس حدیث کی بنیاد یہ آیت ہے (وَاِمَّا يَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ اِنَّه سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ ٢٠٠) 7۔ الاعراف 200) اور اگر تمہیں شیطان بہکا کر اپنے جال میں پھانسے تو اللہ سے پناہ مانگو بلاشبہ وہ سننے والا اور جاننے والا ہے۔ جس شخص کو آنحضرت ﷺ نے یہ کلمہ تعلیم فرمایا وہ علم شریعت کے زیور سے آراستہ نہیں تھا ور دین کی سمجھ سے بالکل کورا تھا۔ چناچہ اس کے ذہن میں یہ بات آئی کہ یہ کلمہ پڑھنے کے لئے اس شخص کو کہا جاتا ہے جو دیوانگی میں مبتلا ہو میں دیوانگی میں مبتلا نہیں ہوں اس لئے یہ کلمہ کیوں پڑھوں اسی لئے جب صحابہ نے اس کو آنحضرت ﷺ کی تعلیم کی طرف متوجہ کیا تو اس نے اس بد فہمی کی بنا پر کہ اس کلمہ کو تو دیوانے پڑھتے ہیں یہی جواب دیا کہ میں دیوانہ نہیں ہوں جو اس کلمہ کو پڑھوں حالانکہ اس نے نہیں سمجھا کہ غصہ بھی شیطان کے بہکانے کا ہی اثر ہوتا ہے جو بسا اوقات دیوانگی کا ہی روپ دھار لیتا ہے اس لئے غصہ کے وقت بھی اس کلمہ کو پڑھنا نافع ہے۔ آنحضرت ﷺ کی اس تعلیم کی طرف اس شخص کے بےاعتنائی کے سلسلہ میں علامہ طیبی تو یہ فرماتے ہیں کہ ہوسکتا ہے کہ وہ شخص منافق رہا ہو یا پھر پرلے درجے کا بدخو، اجڈ اور گنوار۔
مرغ فرشتے کو دیکھ کر بانگ دیتا ہے اور گدھا شیطان کو دیکھ کر رینگتا ہے
وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا سمعتم صياح الديكة فسلوا الله من فضله فإنها رأت ملكا وإذا سمعتم نهيق الحمار فتعوذوا بالله من الشيطان الرجيم فإنه رأى شيطانا
حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جب تم مرغ کو بانگ دیتے سنو تو اللہ تعالیٰ سے اس کا فضل مانگو کیونکہ وہ فرشتے کو دیکھتے ہیں اور جب گدھے کا رینگنا سنو تو شیطان مردود سے اللہ کی پناہ مانگو۔ وہ شیطان کو دیکھتا ہے۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
اس ارشاد گرامی کا مطلب یہ ہے کہ مرغ فرشتے کو دیکھ کر بانگ دیتا ہے اس سے اس وقت تم اللہ سے دعا مانگو تاکہ وہ آمین کہے۔ اور تمہارے لئے بخشش چاہے اور جب گدھے کی آواز سنو تو۔ اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم پڑھو کیونکہ وہ شیطان کو دیکھ کر رینگتا ہے۔ یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ نیک ہستیوں کے آنے کے وقت اللہ کی رحمت اور برکت نازل ہوتی ہے اور لہٰذا اس وقت دعا مانگنی مستحب ہے نیز اس میں اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ کافروں پر چونکہ اللہ کا غضب اور عذاب نازل ہوتا ہے اس لئے کفار کے سامنے گزرنے کے وقت اللہ کی پناہ مانگنا مستحب ہے اس خوف سے کہ کہیں ان بدبختوں کی نحوست اور ان کی برائی کے جراثیم اپنے تک نہ پہنچ جائیں۔
وعن ابن عمر أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان إذا استوى على بعيره خارجا إلى السفر كبر ثلاثا ثم قال : ( سبحان الذي سخر لنا هذا وما كنا له مقرنين وإنا إلى ربنا لمنقلبون ) اللهم إنا نسألك في سفرنا هذا البر والتقوى ومن العمل ما ترضى اللهم هون علينا سفرنا هذا واطو لنا بعده اللهم أنت الصاحب في السفر والخليفة في الأهل والمال اللهم إني أعوذ بك من وعثاء السفر وكآبة المنظر وسوء المنقلب في المال والأهل . وإذا رجع قالهن وزاد فيهن : آيبون تائبون عابدون لربنا حامدون . رواه مسلم
حضرت ابن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ جب سفر کے لئے نکلتے اور اونٹ پر سوار ہوجاتے تو پہلے تین بار اللہ اکبر اور پھر یہ پڑھتے دعا (سبحان الذی سخرلنا ہذا وما کنا لہ مقرنین وانا الی ربنا لمنقلبون اللہم انا نسألک فی سفرنا ہذا البر والتقوی ومن العمل ماترضی اللہم ہون علینا سفرنا ہذا اطولنا بعدہ اللہم انت الصاحب فی السفر والخلیفۃ فی الاہل والمال اللہم انی اعوذبک من وعثاء السفر وکابۃ المنظر وسورء المنقلب فی المال والاہل)۔ پاک ہے وہ ذات جس نے اس سواری کو ہمارا تابعدار بنایا جب کہ ہم اس کی طاقت نہیں رکھتے تھے اور بلاشبہ ہم اپنے پروردگار کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں اے اللہ! ہم مانگتے ہیں تجھے اپنے اس سفر میں نیکی اور تقویٰ ایسا عمل ہے جس سے تو راضی ہوتا ہے یعنی اسے قبول کرتا ہے اے پروردگار! آسان کر دے ہمارے لئے ہمارے اس سفر کو اور لپیٹ دے ہمارے لئے اس کی درازی کو یعنی سفر کی طوالت کو جلد ختم کر دے) اے اللہ! سفر میں تو ہی ہمارا نگہبان ہے اور ہمارے گھر والوں کا تو ہی خبر گیراں ہے اے اللہ میں تیری پناہ چاہتا ہوں سفر کی مشقت سے اور بری حالت دیکھنے سے یعنی اس بات سے پناہ مانگتا ہوں کہ اپنے اہل و عیال اور اپنے اسباب و مال میں نقصان دیکھ کر غمگین ہوں اور اس سے بری حالت ہو اور واپسی کی برائی سے اپنے گھر والوں اور اپنے مال میں یعنی اس سے بھی پناہ مانگتا ہوں کہ سفر سے واپس آنے کے بعد اپنے گھر والوں میں اور اپنے مال میں کوئی نقصان دیکھوں اور اس کی وجہ سے میں رنج اٹھاؤں۔ جب آپ ﷺ سفر سے واپس ہوتے تو یہی دعا پڑھتے اور اس میں ان الفاظ کا اضافہ کرتے۔ دعا (اٰئبون تائبون عابدون لربنا حامدون)۔ ہم سفر سے پھرنے والے ہیں سلامتی کے ساتھ اپنے وطن کو توبہ کرنے والے ہیں اپنے رب کی عبادت کرنے والے ہیں اور تعریف کرنے والے ہیں۔ (مسلم)
آنحضرت ﷺ سفر کے وقت کن چیزوں سے پناہ مانگتے تھے
وعن عبد الله بن سرجس قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا سافر يتعوذ من وعثاء السفر وكآبة المنقلب والحور بعد الكور ودعوة المظلوم وسوء المنظر في الأهل والمال . رواه مسلم
حضرت عبداللہ بن سرجس ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ جب سفر کرتے تو پناہ مانگتے، سفر کی مشقت اور محنت سے واپسی سے بری حالت سے (اعمال صالح اور اہل و مال میں) زیادتی کے بعد نقصان سے، مظلوم کی بد دعا سے اور واپس آ کر اہل و مال کو بری حالت میں دیکھنے سے (مسلم)
تشریح
مظلوم کی بد دعا سے پناہ مانگنے سے مراد یہ ہے کہ درحقیقت آپ ﷺ ظلم سے پناہ مانگتے تھے کہ خدایا مجھے اس بات سے محفوظ و مامون رکھ کہ دانستہ یا نادانستہ کسی پر ظلم نہ کراؤں تاکہ کوئی مظلوم میرے لئے بد دعا نہ کرسکے۔
کسی نئی جگہ ٹھہرتے وقت کی دعا
وعن خولة بنت حكيم قالت : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : من نزل منزلا فقال : أعوذ بكلمات الله التامات من شر ما خلق لم يضره شيء حتى يرحل من منزله ذلك . رواه مسلم
حضرت خولہ بنت حکیم ؓ کہتی ہیں کہ میں نے سنا کہ رسول کریم ﷺ فرماتے تھے جو شخص کسی نئی جگہ (خواہ سفر کی حالت میں یا حضر میں) آئے اور پھر یہ کلمات کہے تو اس کو کوئی چیز نقصان نہیں پہنچائے گی یہاں تک کہ وہ اس جگہ سے کوچ کر جائے اور وہ کلمات یہ ہیں دعا (اعوذ بکلمات اللہ التامات من شر ماخلق) پناہ مانگتا ہوں میں اللہ تعالیٰ کے کامل کلمات (یعنی اس کے اسماء وصفات یا اس کی کتابوں) کے ذریعہ اس چیز کی برائی سے جو پیدا کی ہے۔ (مسلم )
رات میں ضرر ونقصان سے بچانے والی دعا
وعن أبي هريرة قال : جاء رجل إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : يا رسول الله ما لقيت من عقرب لدغتني البارحة قال : أما لو قلت حين أمسيت : أعوذ بكلمات الله التامات من شر ما خلق لم تضرك . رواه مسلم
حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک دن ایک شخص رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا یا رسول اللہ! میں ایک بچھو کی وجہ سے اذیت میں مبتلا ہوگیا ہوں۔ جس نے گزشتہ رات میں مجھے ڈس لیا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا جان لو اگر تم شام کے وقت یہ کلمات کہہ لیتے تو بچھو تمہیں ضرر نہ پہنچاتا اور وہ کلمات یہ ہیں دعا (اعوذ بکلمات اللہ التامات من شر ماخلق)۔ (مسلم)
تشریح
ترمذی کی ایک روایت میں ہے کہ جو شخص ان مذکورہ بالا کلمات کو شام کے وقت تین مرتبہ پڑھ لے تو اسے اس رات میں کسی بھی زہریلے جانور کا زہر ضرر نہیں پہنچائے گا۔ نیز ایک روایت میں ان کلمات کو صبح کے وقت بھی پڑھنا منقول ہے یعنی اگر ان کلمات کو صبح کے وقت پڑھا جائے تو اس دن زہریلے جانوروں سے حفاظت حاصل رہتی ہے۔ حضرت معقل بن یسار ؓ جو صحابی ہیں سے منقول ہے کہ جو شخص ان کلمات کو پڑھتا ہے اس کے ساتھ ستر ہزار فرشتے متعین کئے جاتے ہیں جو اس شخص کے لئے بخشش کی دعا کرتے ہیں نیز وہ شخص اگر اسی حالت میں مرجاتا ہے تو شہید مرتا ہے۔
حالت سفر میں صبح کے وقت کی دعا
وعنه أن النبي صلى الله عليه و سلم كان إذا كان في سفر وأسحر يقول : سمع سامع يحمد الله وحسن بلائه علينا وربنا صاحبنا وأفضل علينا عائذا بالله من النار . رواه مسلم
حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ جب سفر میں ہوتے تو بوقت سحر یہ کہتے۔ سنی سننے والے نے اللہ کی تعریف کو جو میں نے کی اور اس کی نعمتوں کی خوبی کے اقرار کو جو میں نے کیا، اے ہمارے پروردگار ہماری نگہبانی کر اور ہم دوزخ کی آگ سے پناہ مانگتے ہیں۔ (مسلم)
جہاد، حج اور عمرہ سے واپسی کے وقت آپ ﷺ کی دعا
وعن ابن عمر قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا قفل من غزو أو حج أو عمرة يكبر على كل شرف من الأرض ثلاث تكبيرات ثم يقول : لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير آيبون تائبون عابدون ساجدون لربنا حامدون صدق الله وعده ونصر عبده وهزم الأحزاب وحده
حضرت ابن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ جب جہاد یا حج یا عمرہ سے واپس میں سفر میں ہوتے ہر بلند جگہ (ٹیلا وغیرہ) پر چڑھتے ہوئے پہلے تین مرتبہ تکبیر اللہ اکبر کہتے اور پھر یہ کلمات فرماتے۔ لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وہو علی کل شیء قدیر اٰئبون تائبون عابدون ساجدون لربنا حامدون صدقہ اللہ وعدہ ونصر عبدہ وہزم الاحزاب وحدہ۔ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اس کے لئے ملک ہے اور اسی کے لئے حمد ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے ہم اپنے وطن کی طرف واپس ہونے والے ہیں، توبہ کرنے والے ہیں اللہ کی عبادت کرنے والے ہیں اللہ ہی کے آگے سر جھکانے والے ہیں اور اپنے پروردگار کی تعریف کرنے والے ہیں اللہ نے دین کو پھیلانے کا وعدہ پورا کیا اپنے بندہ محمد کی مدد کی اور کفار کے گروہوں کو تنہا شکست دی۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
ونصر عبدہ وہزم الاحزاب وحدہ سے غزوہ خندق کے موقع پر تائید و نصرت الٰہی کی طرف اشارہ ہے کہ علاوہ یہود قریظہ و نضیر کے تقریبا دس یا بارہ ہزار کفار مدینہ پر چڑھ آئے تھے اور نبی کریم ﷺ سے جنگ کا ارادہ رکھتے تھے مگر اللہ نے ہوا اور ملائکہ کی جماعت کو کفار کے لشکر پر مسلط کردیا۔ جس کی وجہ سے جنگ کے بغیر ہی وہ ہلاک و خراب ہوگئے۔
غزوہ احزاب کے موقع پر مشرکین کے حق میں آپ ﷺ کی بددعا
وعن عبد الله بن أبي أوفى قال : دعا رسول الله صلى الله عليه و سلم يوم الأحزاب على المشركين فقال : اللهم منزل الكتاب سريع الحساب اللهم اهزم الأحزاب اللهم اهزمهم وزلزلهم
حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے جنگ احزاب کے دن مشرکین کے لئے بد دعا فرمائی چناچہ آپ ﷺ بارگاہ حق میں یوں عرض رسا ہوئے اے اللہ نازل کرنے والے کتاب اور جلد لینے والے حساب کے، اے اللہ کفار کے گروہ کو شکست دے اے اللہ ان کو شکست دے اور ان کو ہلا کے رکھدے (یعنی ان کو مقابل میں جمنے نہ دے) (بخاری و مسلم)
مہمان اور میزبان کے لئے کچھ مسنون باتیں
وعن عبد الله بن يسر قال : نزل رسول الله صلى الله عليه و سلم على أبي فقربنا إليه طعاما ووطبة فأكل منها ثم أتي بتمر فكان يأكله ويلقي النوى بين أصبعيه ويجمع السبابة والوسطى وفي رواية : فجعل يلقي النوى على ظهر أصبعيه السبابة والوسطى ثم أتي بشراب فشربه فقال أبي وأخذ بلجام دابته : ادع الله لنا فقال : اللهم بارك لهم فيما رزقتهم واغفر لهم وارحمهم . رواه مسلم
حضرت عبداللہ بن بسر ؓ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول کریم ﷺ میرے والد کے پاس بطور مہمان تشریف لائے چناچہ ہم نے کھانا اور مالیدہ کی مانند ایک چیز آپ ﷺ کی خدمت میں پیش کی آپ ﷺ نے اسے تناول فرمایا پھر خشک کھجور پیش کی گئی آپ ﷺ کھجور کھاتے اور اس کی گٹھلی بائیں ہاتھ کی انگلیوں کے درمیان ڈالتے جاتے اور اس کے لئے آپ اپنی شہادت کی اور بیچ کی انگلی یکجا کئے ہوئے تھے۔ ایک اور روایت کے الفاظ یہ ہے کہ آپ ﷺ (بائیں ہاتھ کی) اپنی دونوں انگلیوں یعنی شہادت کی انگلی اور بیچ کی انگلی کی پشت پر گٹھلیاں ڈالتے جاتے تھے بہرکیف اس کے بعد پانی پیش کیا گیا جسے آپ ﷺ نے پیا پھر میرے والد نے جو آپ ﷺ کی سواری کی لگام پکڑے ہوئے تھے عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ سے میرے لئے دعا فرمائیے چناچہ آپ ﷺ نے یہ دعا فرمائی دعا (اللہم بارک لہم فیما رزقتہم واغفر لہم وارحمہم)۔ اے اللہ تعالیٰ انہیں جو کچھ روزی رزق دیا ہے اس میں برکت فرما ان کو بخش دے اور ان پر رحم فرما۔ (مسلم)
تشریح
کھجوریں کھاتے ہوئے آپ ﷺ ان کی گٹھلیوں کو اپنے بائیں ہاتھ کی انگلیوں پر جمع کرتے جاتے تھے۔ اب ایک روایت تو یہ بتاتی ہے کہ آپ ﷺ گٹھلیاں دونوں انگلیوں کے درمیان رکھتے جاتے تھے اور ایک روایت یہ بتارہی ہے کہ دونوں انگلیوں کی پشت پر ڈالتے تھے بظاہر اس میں اختلاف نظر آتا ہے لیکن اگر ذہن میں یہ بات رہے کہ آپ ﷺ گٹھلیوں کو دوں انگلیوں کے درمیان کبھی رکھے جاتے ہوں گے اور کبھی دونوں انگلیوں کی پشت پر ڈالتے جاتے ہوں گے تو ان دونون روایتوں میں کوئی تعارض نظر نہیں آئے گا۔ اور پھر پشت پر انگلیوں کی، گٹھلیوں کو ڈالنے کی وجہ یہ تھی تاکہ ہاتھ کے اندر کا رخ گٹھلیوں میں لگے ہوئے لعاب وغیرہ سے ملوث نہ ہو کیونکہ اندر کی صفائی اور ستھرائی باہر کی صفائی اور ستھرائی سے اولیٰ ہے۔ یہ حدیث ایسی کئی باتوں کی طرف اشارہ کر رہی ہے جو مہمان اور میزبان کے لئے مسنون کا درجہ رکھتی ہے۔ مثلا اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اکابر اور مہمان کی سواری کی رکاب اور لگام کو از راہ تواضع اور خطر داری پکڑنا مسنون ہے۔ اسی طرح مہمان کو رخصت کرنے کے لئے مکان کے دروازے یا باہر کچھ دور تک اس کے ساتھ جانا سنت ہے۔ نیز اس سے یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ میز بان کے لئے تو یہ مسنون ہے کہ وہ مہمان سے طلب دعا کرے اور مہمان کے لئے یہ مسنون ہے کہ میزبان کے لئے دعا کرے۔
ہلال دیکھنے کے وقت کی دعا
عن طلحة بن عبيد الله أن النبي صلى الله عليه و سلم كان إذا رأى الهلال قال : اللهم أهله علينا بالأمن والإيمان والسلامة والإسلام ربي وربك الله . رواه الترمذي . وقال : هذا حديث حسن غريب
حضرت طلحہ بن عبیداللہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ ہلال دیکھتے تو یہ دعا پڑھتے۔ دعا (اللہم اھلہ علینا بالامن والایمان والسلامۃ والاسلام ربی وربک اللہ) اے اللہ طلوع فرما اور دکھا ہم کو یہ چاند امن و ایمان اور سلامتی و اسلام کے ساتھ (اے چاند) میرا پروردگار اور تیرا پروردگار اللہ ہے۔ امام ترمذی نے اس روایت کو نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث حسن غریب ہے۔
تشریح
ہلال کہتے ہیں قمری مہینے کی پہلی، دوسری اور تیسری رات کے چاند کو، اس کے بعد کی راتوں کا چاند قمر کہلاتا ہے لہٰذا حدیث بالا سے معلوم ہوا کہ آنحضرت ﷺ جب ہلال دیکھتے تو یہ دعا پڑھتے۔ اس دعا کا حاصل یہ ہے کہ اے اللہ اس مہینے میں ہم امن و ایمان کے ساتھ ہر آفت و مصیبت سے محفوظ و سلامت اور اسلام کے احکام پر ثابت قدم اور مستقیم رہیں اس کے بعد چاند کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے کہ میرا اور تیرا دونوں کا رب اللہ ہی ہے۔ جس طرح میں اس کی ایک مخلوق ہوں اسی طرح تو بھی اس کی ایک مخلوق ہے اس سے گویا ان لوگوں کے اعتقادات کی تردید مقصود ہوتی تھی جو چاند اور سورج کو پوجتے ہیں اور انہیں اپنا معبود اور رب مانتے ہیں۔ نعوذ باللہ۔
مبتلاء مصیبت کو دیکھ کر پڑھنے کی دعا
وعن عمر بن الخطاب وأبي هريرة قالا : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما من رجل رأى مبتلى فقال : الحمد لله الذي عافاني مما ابتلاك به وفضلني على كثير ممن خلق تفضيلا إلا لم يصبه ذلك البلاء كائنا ما كان . رواه الترمذيورواه ابن ماجه عن ابن عمر . وقال الترمذي هذا حديث غريب وعمرو بن دينار الراوي ليس بالقوي
حضرت عمر بن خطاب ؓ اور حضرت ابوہریرہ ؓ دونوں کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص کسی مبتلاء مصیبت کو دیکھے اور دیکھ کر یہ دعا پڑھے (الحمدللہ الذی عافانی مماابتلاک بہ وفضلنی علی کثیر ممن خلق تفضیلا) (یعنی تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے مجھ کو اس چیز سے بچایا جس میں تجھے مبتلا کیا اور فضیلت بخشی اپنی بہت سی مخلوقات پر تو وہ اس مصیبت میں مبتلا نہیں ہوگا وہ جو مصیبت ہو۔ (ترمذی) اس روایت کو ابن ماجہ نے ابن عمر ؓ سے نقل کیا نیز امام ترمذی نے فرمایا ہے یہ حدیث غریب ہے اور اس کے ایک راوی عمرو بن دینار قوی نہیں ہیں۔
تشریح
اس ارشاد گرامی کا حاصل یہ ہے کہ جو شخص مبتلاء بلاء اور مصیبت زدہ کو دیکھ کر یہ دعا پڑھتا ہے دعا (الحمد للہ الذی عافانی مماابتلاک بہ وفضلنی علی کثیر ممن خلق تفضیلا) تو وہ اس بلا و مصیبت میں گرفتار نہیں ہوتا چاہے وہ بلاء و مصیبت بدنی ہو، جیسے برص، جذام، بینائی سے محرومی وغیرہ چاہے وہ بلاء دنیوی ہو، جیسے مال و جاہ کی محبت اور دنیا کی ہوس وغیرہ اور خواہ وہ بلاء دینی ہو، جیسے فسق ظلم اور شرک و کفر وغیرہ غرض کہ ہر طرح کے مبتلا کو دیکھ کر یہ دعا پڑھنی چاہئے لیکن علماء نے یہ بھی وضاحت کردی ہے کہ اگر کوئی بیماری کی مصیبت میں مبتلا ہو تو اسے دیکھ کر یہ دعا آہستہ سے پڑھنی چاہئے تاکہ وہ بیمار آزردہ خاطر نہ ہو اور اگر کسی ایسے شخص کو دیکھے جو گناہ یا دنیا کی محبت میں مبتلا ہو تو اسے اس صورت میں یہ دعا بلند آواز سے پڑھنی چاہئے تاکہ اسے اپنے احوال پر ندامت ہو اور وہ اس سے باز آجائے اور اگر یہ دعا بآواز بلند پڑھنے سے کسی فتنہ و فساد کا خوف ہو تو پھر اس صورت میں بھی یہ دعا آہستہ آواز میں پڑھی جائے۔
بازار میں پڑھنے کی دعا اور اس کی فضیلت
وعن عمر أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : من دخل السوق فقال : لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد يحيي ويميت وهو حي لا يموت بيده الخير وهو على كل شيء قدير كتب الله له ألف ألف حسنة ومحا عنه ألف ألف سيئة ورفع له ألف ألف درجة وبنى له بيتا في الجنة . رواه الترمذي وابن ماجه وقال الترمذي : هذا حديث غريب وفي شرح السنة : من قال في سوق جامع يباع فيه بدل من دخل السوق
حضرت عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص بازار میں پہنچ کر یہ کلمات پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے دس لاکھ نیکیاں لکھتا ہے اس سے دس لاکھ برائیاں دور کرتا ہے اس کے لئے دس لاکھ درجے بلند کرتا ہے اور اس کے لئے جنت میں گھر بناتا ہے اور وہ کلمات یہ ہیں لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ لہ الملک ولہ الحمد یحییٰ ویمیت وہو حی لا یموت بیدہ الخیر وہو علی کل چیز قدیر (یعنی اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اسی کے لئے بادشاہت ہے اور اس کے لئے تعریف ہے وہ زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے زندہ ہے اس کے لئے موت نہیں ہے۔ اس کے ہاتھ میں بھلائی ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے (ترمذی، ابن ماجہ) امام ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث غریب ہے نیز شرح السنۃ میں من دخل السوق (جو شخص بازار میں پہنچ کر) کی بجائے یہ ہے من قال فی سوق جامع یباع فیہ۔ (جو بازار میں جہاں خریدو فروخت ہوتی ہو جہاں اکثر چیزیں بکتی ہوں یہ کلمات کہے۔
تشریح
اتنا زیادہ ثواب ملنے کی وجہ یہ ہے کہ بازار غفلت کی جگہ ہے نیز بازار ایک ایسی جگہ ہے جہاں عام طور پر جھوٹ، دغا، مکر و فریب اور چالبازیوں کی کثرت ہوتی ہے پھر یہ کہ بازاروں کو شیاطین کی سلطنت کہا جاتا ہے اس لئے اسی جگہ میں اللہ کو یاد کرنے سے بہت زیادہ ثواب ملتا ہے۔
دنیا کی نعمت پوری نعمت نہیں ہے
وعن معاذ بن جبل قال : سمع النبي صلى الله عليه و سلم رجلا يدعو يقول : اللهم إني أسألك تمام النعمة فقال : أي شيء تمام النعمة ؟ قال : دعوة أرجو بها خيرا فقال : إن من تمام النعمة دخول الجنة والفوز من النار . وسمع رجلا يقول : يا ذا الجلال والإكرام فقال : قد استجيب لك فسل . وسمع النبي صلى الله عليه و سلم رجلا وهو يقول : اللهم إني أسألك الصبر فقال : سألت الله البلاء فاسأله العافية . رواه الترمذي
حضرت معاذ بن جبل ؓ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ایک شخص کو دعا مانگتے سنا جو اس طرح کہہ رہا تھا اے اللہ میں تجھ سے پوری نعمت مانگتا ہوں، نبی کریم ﷺ نے فرمایا پوری نعمت کیا چیز ہے؟ اس شخص نے کہا یہ دعا ہے جس کے ذریعہ میں زیادہ مال کے حصول کی امید رکھتا ہوں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا نادان! جان لے جنت میں داخل ہونا اور دو خ سے نجات پانا پوری نعمت ہے۔ نیز آپ ﷺ نے ایک شخص کو دعا مانگتے سنا جو بارگاہ حق میں ان الفاظ کے ذریعہ عرض رساں تھا یا ذالجلال والاکرام یعنی اے بزرگی و بخشش کے مالک آپ ﷺ نے فرمایا تمہاری دعا قبول کی گئی لہٰذا جو مانگنا ہو مانگ لو۔ ایک دفعہ آپ ﷺ نے سنا ایک شخص یہ دعا مانگ رہا تھا اے اللہ میں تجھ سے صبر مانگتا ہوں۔ آپ نے فرمایا تم تو اللہ تعالیٰ سے بلا مانگ رہے ہو۔ حالانکہ چاہئے تھا کہ تم اس سے عافیت مانگو۔ (ترمذی)
تشریح
حدیث کے پہلے جز کا حاصل یہ ہے کہ وہ شخص دنیا کی نعمت کو پوری نعمت سمجھ کر اللہ تعالیٰ سے اس کے حصول کی دعا مانگ رہا تھا چناچہ آنحضرت ﷺ نے اسے متنبہ فرمایا کہ دنیا کی نعمت ایسی نعمت نہیں ہے جس کو اس طرح طلب کیا جائے کیونکہ یہ فنا ہوجانے والی ہے پوری نعمت اور حقیقی نعمت تو جنت میں داخل ہونا اور دوزخ سے نجات پانا ہے اس لئے اس نعمت کے حصول کی دعا مانگنی چاہئے۔ حدیث کے آخری جز کا حاصل یہ ہے کہ وہ شخص صبر مانگ رہا تھا ظاہر ہے صبر کی ضرورت مصیبت و بلاء کے بعد ہی ہوتی ہے اس لئے صبر مانگنے کا مطلب یہ ہے کہ بالواسطہ بلا مانگ رہا تھا۔ چناچہ آپ ﷺ نے فرمایا صبر نہ مانگو کیونکہ اس طرح بلاء کا مانگنا مفہوم ہوتا ہے بلکہ اللہ تعالیٰ سے عافیت طلب کرو کہ وہ تمہیں تمام مصائب اور تمام بلاؤں سے محفوظ رکھے۔ ہاں اگر کسی مصیبت و بلاء میں مبتلا ہو تو پھر صبر کی طاقت مانگنا اور بلاء و مصیبت پر صبر کرنا چاہئے۔
وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من جلس مجلسا فكثر فيه لغطه فقال قبل أن يقوم : سبحانك اللهم وبحمدك أشهد أن لا إله إلا أنت أستغفرك وأتوب إليك إلا غفر له ما كان في مجلسه ذلك . رواه الترمذي والبيهقي في الدعوات الكبير
حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص کسی ایسی مجلس میں شریک ہو جہاں بےفائدہ باتیں ہو رہی ہوں اور وہاں سے اٹھنے سے پہلے یہ دعا پڑھے تو اس مجلس میں جو کچھ ہوا وہ اس کے لئے بخش دیا جاتا ہے (دعا یہ ہے) سبحانک اللہم وبحمدک اشہد ان لا الہ الا انت استغفرک واتوب الیک) یعنی تو پاک ہے اے الٰہی اور تیری تعریف کے ساتھ تیری پاکی بیان کرتے ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں میں تجھ سے بخشش چاہتا ہوں اور میں تیرے سامنے توبہ کرتا ہوں۔ ترمذی، بیہقی)
تشریح
لفظ لغط سے یہاں مراد ایسا کلام ہے اور ایسی بات چیت ہے جس کی وجہ سے گناہ ہوتا ہو اور بعض حضرات کہتے ہیں کہ لغط کے معنی ہیں بےفائدہ کلام، بہرکیف حدیث بالا میں جو دعا ذکر کی گئی ہے اسے کفارۃ المجلس کہتے ہیں یعنی جس مجلس میں گناہ یا بےفائدہ باتیں ہوتی ہوں یا ہنسی ٹھٹھا ہوا ہو تو اس دعا کے پڑھنے سے اللہ تعالیٰ ان چیزوں کو معاف کردیتا ہے گویا یہ مجلس کی غیر شرع اور غیر پسندیدہ باتوں کا کفارہ ہوجاتی ہے۔
وعن علي : أنه أتي بدابة ليركبها فلما وضع رجله في الركاب قال : بسم الله فلما استوى على ظهرها قال : الحمد لله ثم قال : ( سبحان الذي سخر لنا هذا وما كنا له مقرنين وإنا إلى ربنا لمنقلبون ) ثم قال : الحمد لله ثلاثا والله أكبر ثلاثا سبحانك إني ظلمت نفسي فاغفر لي فإنه لا يغفر الذنوب إلا أنت ثم ضحك فقيل : من أي شيء ضحكت يا أمير المؤمنين ؟ قال : رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم صنع كما صنعت ثم ضحك فقلت : من أي شيء ضحكت يا رسول الله ؟ قال : إن ربك ليعجب من عبده إذا قال : رب اغفر لي ذنوبي يقول : يعلم أنه لا يغفر الذنوب غيري رواه أحمد والترمذي وأبو داود
حضرت علی ؓ کے بارے میں منقول ہے کہ ایک مرتبہ ان کی خدمت میں سواری کا جانور لایا گیا تاکہ وہ اس پر سوار ہوں چناچہ انہوں نے اپنا پاؤں رکاب میں ڈالا یعنی (سوار ہونے کے لئے رکاب میں پاؤں ڈالنے کا ارادہ کیا) تو کہا بسم اللہ پھر جب اس کی پیٹھ پر چڑھے تو کہا الحمدللہ یعنی سواری کی نعمتوں اور اس کے علاوہ دوسری نعمتوں پر اللہ کا شکر ہے۔ اور پھر یہ کلمات پڑھے آیت (سبحان الذی سخرلنا ھذا وما کنا لہ مقرنین وانا الی ربنا لمنقلبون) (یعنی پاک ہے وہ ذات جس نے اس جانور کو ہمارا تابعدار کیا جب کہ ہمیں اس کی طاقت حاصل نہیں تھی اور بلاشبہ ہم اپنے پروردگار کی طرف ضرور لوٹ کر جانے والے ہیں) اس کے بعد انہوں نے تین مرتبہ الحمدللہ اور تین بار اللہ اکبر کہہ کر یہ پڑھا سبحانک انی ظلمت نفسی فاغفرلی فانہ لایغفر الذنوب الا انت (یعنی اے پروردگار تو پاک ہے بیشک میں نے اپنے نفس پر ظلم کیا ہے پس تو مجھے بخش دے بلاشک گناہوں کو تیرے علاوہ کوئی بخشنے والا نہیں ہے) پھر حضرت علی کرم اللہ وجہہ ہنسے ان سے پوچھا گیا کہ امیر المؤمنین آپ کیوں ہنسے ہیں؟ حضرت علی ؓ نے فرمایا میں نے رسول کریم ﷺ کو دیکھا آپ ﷺ نے اسی طرح کیا جس طرح میں نے کیا اور پھر آپ ﷺ ہنسے میں نے عرض کیا! یا رسول اللہ! آپ کس چیز کی وجہ سے ہنسے؟ آپ ﷺ نے فرمایا تمہارا پروردگار! اپنے بندہ سے راضی ہوتا ہے جب وہ یہ کہتا ہے کہ اے میرے پروردگار میرے لئے گناہوں کو بخش دے۔ چناچہ جب بندہ پروردگار سے بخشش چاہتا ہے تو پروردگار فرماتا ہے کہ یہ بندہ جانتا ہے کہ گناہوں کو میرے سوا کوئی نہیں بخشتا۔ (احمد، ترمذی، ابوداؤد)
تشریح
نبی کریم ﷺ تو اللہ تعالیٰ کے راضی ہونے کی وجہ سے ہنسے اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا ہنسنا آنحضرت ﷺ کی اتباع اور پیروی کی بناء پر تھا۔
وعن ابن عمر قال : كان النبي صلى الله عليه و سلم إذا ودع رجلا أخذ بيده فلا يدعها حتى يكون الرجل هو يدع يد النبي صلى الله عليه و سلم ويقول : أستودع الله دينك وأمانتك وآخر عملك وفي رواية خواتيم عملك . رواه الترمذي وأبو داود وابن ماجه وفي روايتهما لم يذكر : وآخر عملك
حضرت ابن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ جب کسی شخص (مسافر) کو رخصت کرتے تو آپ ﷺ اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ہاتھ میں لیتے اور اس کے ہاتھ کو اس وقت تک نہ چھوڑتے جب تک کہ وہ آنحضرت ﷺ کے دست مبارک کو نہ چھوڑ دیتا (یعنی آپ ﷺ بسبب حسن اخلاق و تواضع ایسا کرتے) اور پھر فرماتے استودع اللہ دینک وامانتک واخر عملک (میں نے تیرا دین، تیری امانت اور تیرا آخری عمل اللہ کے سپرد کیا (یعنی میں تیرے دین اور تیری امانت کی حفاظت کا طلبگار ہوں اور اللہ کرے تیرا خاتمہ بخیر ہو) اور ایک روایت میں واخر عملک کی بجائے وخواتیم عملک ہے یعنی تیرے آخری اعمال میں بھی اللہ کے سپرد کرتا ہوں (دونوں کا مطلب ایک ہی ہے) اس روایت کو ترمذی، ابوداؤد اور ابن ماجہ نے نقل کیا ہے لیکن ابوداؤد اور ابن ماجہ کی روایتوں میں واخر عملک کے الفاظ نہیں ہیں)
تشریح
امانت سے مراد وہ اموال ہیں جن سے لوگوں کے ساتھ لین دین کیا جاتا ہے اور بعض حضرات کہتے ہیں کہ امانت سے مراد وہ اہل و اولاد ہیں جنہیں مسافر گھر میں چھوڑ کر راہ سفر اختیار کرتا ہے۔