نفل روزہ کا بیان

Mishkaat-al-Masabih · Chapter 45 · 46 hadiths · Page 3 of 3

2085Mishkaat-al-Masabih

نفل روزہ توڑنے کے سلسلہ میں ضیافت عذر ہے یا نہیں ؟

وعن أنس قال : دخل النبي صلى الله عليه و سلم على أم سليم فأتته بتمر وسمن فقال : أعيدوا سمنكم في سقائه وتمركم في وعائه فإني صائم . ثم قام إلى ناحية من البيت فصلى غير المكتوبة فدعا لأم سليم وأهل بيتها . رواه البخاري

حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ حضرت ام سلیم ؓ کے پاس تشریف لے گئے تو وہ آپ ﷺ کے لئے گھی اور کھجور لائیں تاکہ آپ ﷺ تناول فرمائیں آپ ﷺ نے ان سے فرمایا کہ اپنے گھی کو اس کی مشک میں اور کھجور کو اس کے برتن میں رکھ دو کیونکہ میں روزہ سے ہوں پھر آپ ﷺ گھر کے ایک کونہ میں کھڑے ہو کر فرض کے علاوہ نماز پڑھنے لگے اور ام سلیم ؓ اور ان کے گھر والوں کے لئے دعا فرمائی۔ (بخاری) تشریح بظاہر معلوم یہ ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ام سلیم ؓ کی ضیافت کے باوجود اس لئے روزہ نہیں توڑا کہ آپ ﷺ جانتے تھے کہ اس سے ام سلیم ؓ رنجیدہ نہیں ہوں گی۔ اس بارے میں کہ آیا ضیافت نفل روزہ رکھنے والے کے لئے عذر ہے یا نہیں؟ اگرچہ مشائخ کے ہاں اختلاف ہے لیکن صحیح بات یہی ہے کہ مہمان اور میزبان دونوں کے لئے ضیافت عذر ہے بشرطیکہ میزبان محض مہمان کے آنے اور اپنے ساتھ کھانا نہ کھانے کی وجہ سے نہ صرف یہ کہ خوش نہ ہو بلکہ ملول بھی ہو اسی طرح کھانے میں میزبان کی عدم شرکت سے مہمان کی دل شکنی اور اس کو ناگواری اور تنگی ہو حاصل یہ کہ اگر کھانے میں شرکت نہ کرنے سے دل شکنی ہوتی ہو تو ضیافت عذر ہے لہٰذا نفل روزہ توڑ دینے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے مگر بعد میں اس روزہ کی قضا ضروری ہوگی اور اگر یہ معلوم ہو کہ دل شکنی نہیں ہوگی تو روزہ نہ توڑنا چاہئے۔ یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ روزہ دار مہمان کے لئے مستحب ہے کہ وہ میزبان اور اس کے اہل و عیال کے حق میں دعائے خیر کرے۔

2086Mishkaat-al-Masabih

نفل روزہ توڑنے کے سلسلہ میں ضیافت عذر ہے یا نہیں ؟

وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا دعي أحدكم إلى طعام وهو صائم فليقل : إني صائم . وفي رواية قال : إذا دعي أحدكم فليجب فإن كان صائما فليصل وإن كان مفطرا فيطعم . رواه مسلم

حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کسی کو کھانے پر بلایا جائے اور وہ روزہ دار ہو تو اسے چاہئے کہ یہ کہ دے کہ میں روزے سے ہوں اور ایک روایت میں یہ ہے کہ آپ ﷺ نے یہ فرمایا اگر تم میں سے کسی کی دعوت کی جائے تو اسے چاہئے کہ وہ دعوت قبول کرلے اور اگر وہ روزہ دار ہو تو دو رکعت نماز نفل پڑھ لے اور اگر روزہ دار نہ ہو تو اسے چاہئے کہ کھانے میں شریک ہو۔ (مسلم) تشریح اگر روزہ دار مہمان کے کھانا نہ کھانے کی وجہ سے میزبان کسی تشویش و پریشانی میں مبتلا ہوجائے یا کھانا نہ کھانے کی وجہ سے دشمنی یا نفرت پیدا ہوجانے کا خوف ہو تو اس صورت میں نفل روزہ توڑ دینا ہی واجب ہے۔ اور اگر مہمان یہ جانے کہ میزبان کھانا کھانے کی وجہ سے خوش تو ہوگا اور کھانا کھانے کی صورت میں وہ کسی تشویش و پریشانی میں مبتلا بھی نہیں ہوگا۔ تو اس صورت میں نفل روزہ توڑنا مستحب ہے اور اگر اس کے نزدیک دونوں امر برابر ہوں تو اس کے لئے افضل یہی ہے کہ وہ کہہ دے کہ انی صائم میں روزہ دار ہوں خواہ داعی کے یہاں جائے یا نہ جائے۔

2087Mishkaat-al-Masabih

نفل روزہ توڑنے کے سلسلہ میں ضیافت عذر ہے یا نہیں ؟

عن أم هانئ رضي الله عنها قالت : لما كان يوم الفتح فتح مكة جاءت فاطمة فجلست على يسار رسول الله صلى الله عليه و سلم وأم هانئ عن يمينه فجاءت الوليدة بإناء فيه شراب فناولته فشرب منه ثم ناوله أم هانئ فشربت منه فقالت : يا رسول الله لقد أفطرت وكنت صائمة فقال لها : أكنت تقضين شيئا ؟ قالت : لا . قال : فلا يضرك إن كان تطوعا . رواه أبو داود والترمذي والدارمي وفي رواية لأحمد والترمذي نحوه وفيه فقالت : يا رسول الله أما إني كنت صائمة فقال : الصائم أمير نفسه إن شاء صام وإن شاء أفطر

حضرت ام ہانی ؓ سے روایت ہے کہ جب مکہ فتح ہوا تو اس دن حضرت فاطمہ ؓ آئیں اور نبی کریم ﷺ کے بائیں طرف بیٹھ گئیں اور ام ہانی ؓ آپ ﷺ کے دائیں طرف بیٹھی ہوئی تھیں اتنے میں ایک لونڈی ایک برتن لے کر آئی جس میں پینے کی کوئی چیز تھی لونڈی نے وہ برتن آنحضرت ﷺ کو دیا آپ ﷺ نے اس میں سے کچھ پی کر وہ برتن ام ہانی ؓ کو عنایت فرمایا۔ ام ہانی ؓ نے بھی اس میں سے پیا اور کہنے لگیں کہ یا رسول اللہ ﷺ! میں نے افطار کرلیا کیونکہ میں روزے سے تھی آپ ﷺ نے ان سے فرمایا کہ کیا تم نے رمضان کا کوئی قضا یا نذر کا روزہ رکھا تھا؟ انہوں نے کہا نہیں! بلکہ نفل روزہ رکھا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا اگر یہ نفل روزہ تھا تو کوئی حرج نہیں (ابو داؤد، ترمذی، دارمی) ایک اور روایت میں جو احمد اور ترمذی نے اسی کی مانند نقل کیا ہے یہ الفاظ بھی ہیں کہ ام ہانی ؓ نے کہا یا رسول اللہ ﷺ کو معلوم ہونا چاہئے کہ میں روزہ سے تھی آپ ﷺ نے فرمایا نفل روزہ رکھنے والا اپنے نفس کا مالک ہے چاہے روزہ رکھے چاہے افطار کرے۔ تشریح اپنے نفس کا مالک ہے کا مطلب یہ ہے کہ نفل روزہ رکھنے والا خود مختار ہے کہ ابتدا چاہے تو روزہ رکھے یعنی روزہ کی نیت کرے، چاہے افطار کرے یعنی روزہ نہ رکھنے کو اختیار کرے، یا پھر اس کا مطلب یہ ہوگا کہ نفل روزہ رکھنے والا روزہ رکھنے کے بعد بھی مختار ہے کہ چاہے تو اپنا روزہ پورا کرے چاہے تو توڑ ڈالے، اس صورت میں اس کی تاویل یہ ہوگی کہ نفل روزہ دار کو اس بات کا اختیار ہے کہ اگر اس کے پیش نظر کوئی مصلحت ہو مثلا کوئی شخص اس کی ضیافت کرے یا کسی جماعت کے پاس جائے جس کے بارے میں یہ معلوم ہو کہ اگر روزہ توڑ کر ان کے ساتھ کھانے پینے میں شریک نہیں ہوگا تو لوگ وحشت و پریشانی میں مبتلا ہوجائیں گے تو اس صورت میں وہ روزہ توڑ سکتا ہے تاکہ آپس میں میل ملاپ اور محبت و الفت کی فضا برقرار رہے لہٰذا ان الفاظ و معانی سے یہ استدلال نہیں کیا جاسکتا کہ نفل روزہ توڑنے کے بعد اس کی قضا ضروری نہیں ہے جب کہ اس کے بعد آنے والی حدیث بڑی وضاحت کے ساتھ قضا کے ضروری ہونے کو ثابت کر رہی ہے۔ ام ہانی ؓ کی اس روایت کے بارے میں محدثین کے ہاں کلام ہے چناچہ امام ترمذی فرماتے ہیں کہ اس کی اسناد محل بحث ہے اور منذری (رح) نے کہا ہے کہ یہ ثابت نہیں ہے اور اس کی اسناد میں بہت اختلاف ہے۔

2088Mishkaat-al-Masabih

نفل روزہ توڑنے کے سلسلہ میں ضیافت عذر ہے یا نہیں ؟

وعن الزهري عن عروة عن عائشة قالت : كنت أنا وحفصة صائمتين فعرض لنا طعام اشتهيناه فأكلنا منه فقالت حفصة : يا رسول الله إنا كنا صائمتين فعرض لنا طعام اشتهيناه فأكلنا منه . قال : أقضيا يوما آخر مكانه . رواه الترمذي وذكر جماعة من الحفاظ رووا عن الزهري عن عائشة مرسلا ولم يذكروا فيه عن عروة وهذا أصح ورواه أبو داود عن زميل مولى عروة عن عروة عن عائشة

حضرت زہری (رح) حضرت عروہ (رح) سے اور وہ حضرت عائشہ ؓ سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا ایک دن میں اور حفصہ ؓ دونوں روزے سے تھیں کہ ہمارے سامنے کھانا لایا گیا ہمیں اس کو کھانے کی خواہش ہوئی چناچہ ہم نے کھالیا اب ہمارے بارے میں کیا حکم ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا اس کے بدلہ بطور قضا ایک دن روزہ رکھو۔ امام ترمذی نے اس روایت کو نقل کیا ہے اور حفاظ حدیث کی ایک ایسی جماعت کا ذکر کیا ہے جنہوں نے اس روایت کو زہری سے اور زہری نے حضرت عائشہ ؓ سے بطریق ارسال نقل کیا ہے اس میں عروہ کا واسطہ مذکور نہیں ہے اور یہی زیادہ صحیح ہے۔ نیز اس روایت کو امام ابوداؤد نے زمیل (رح) سے نقل کیا ہے جو حضرت عروہ کے آزاد کردہ غلام تھے زمیل نے عروہ سے اور عروہ نے حضرت عائشہ ؓ سے نقل کیا ہے۔ تشریح چونکہ حنفیہ کا مسلک یہ ہے کہ اگر کوئی شخص اپنا نفل روزہ توڑ دے تو اس کی قضا ضروری ہے اس لئے ان حضرات کی دلیل یہی حدیث ہے کیونکہ آنحضرت ﷺ کا یہ حکم کہ اس کے بدلہ بطور قضا ایک دن روزہ رکھو بطور وجوب ثابت ہوتا ہے لیکن شوافع کے ہاں چونکہ نفل روزہ کی قضا واجب نہیں ہے اس لئے ان کے نزدیک یہ حکم بطور استحباب ہے۔ روایت کے آخری جزء زہری نے حضرت عائشہ ؓ سے بطریق ارسال نقل کیا ہے لفظ ارسال اسناد سے سقوط راوی کے معنی میں ہے جس کا مطلب ہے انقطاع واسطہ یعنی پہلی روایت کے سلسلہ اسناد میں زہری (رح) اور عائشہ ؓ کے درمیان عروہ کا جو واسطہ تھا وہ اس روایت میں نہیں ہے اگرچہ یہ اصطلاح اس معنی میں بھی استعمال ہوتی ہے مگر مشہور یہی ہے کہ مرسل اس حدیث کو کہتے ہیں کہ جسے تابعی صحابی کا واسطہ ذکر کئے بغیر نقل کرے۔

2089Mishkaat-al-Masabih

روزہ دار کے سامنے کھانا

وعن أم عمارة بنت كعب أن النبي صلى الله عليه و سلم دخل عليها فدعت له بطعام فقال لها : كلي . فقالت : إني صائمة . فقال النبي صلى الله عليه و سلم : إن الصائم إذا أكل عنده صلت عليه الملائكة حتى يفرغوا . رواه أحمد والترمذي وابن ماجه والدارمي

حضرت ام عمارہ بنت کعب ؓ کے بارے میں مروی ہے کہ ایک دن نبی کریم ﷺ ان کے یہاں تشریف لے گئے تو انہوں نے آنحضرت ﷺ کے لئے کھانا منگوایا آپ ﷺ نے ام عمارہ سے فرمایا کہ تم بھی کھاؤ انہوں نے عرض کیا کہ میں روزہ سے ہوں تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ جب کسی روزہ دار کے سامنے کھانا کھایا جاتا ہے (اور اس کا دل کھانے کی خواہش کرتا ہے جس کی بناء پر اس کے لئے روزہ بڑا سکت ہوجاتا ہے) تو جب تک کھانے والے کھانے سے فارغ نہیں ہوجاتے فرشتے اس پر رحمت بھیجتے رہتے ہیں۔ (احمد، ترمذی، ابن ماجہ، دارمی)

2090Mishkaat-al-Masabih

روزہ دار کے سامنے کھانا

عن بريدة قال : دخل بلال على رسول الله صلى الله عليه و سلم وهو يتغدى فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الغداء يا بلال . قال : إني صائم يا رسول الله فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : نأكل رزقنا وفضل رزق بلال في الجنة أشعرت يا بلال أن الصائم نسبح عظامه وتستغفر له الملائكة ما أكل عنده ؟ . رواه البيهقي في شعب الإيمان

حضرت بریدہ ؓ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت بلال ؓ رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ ﷺ صبح کا کھانا کھا رہے تھے۔ چناچہ رسول کریم ﷺ نے حضرت بلال سے فرمایا کہ بلال آؤ کھانا کھاؤ! حضرت بلال نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ! میں روزہ سے ہوں آپ ﷺ نے فرمایا ہم تو اپنا رزق یہاں کھا رہے ہیں اور بلال ؓ کا بہترین رزق جنت میں ہے بلال کیا تم جانتے ہو کہ جب روزہ دار کے سامنے کھانا کھایا جاتا ہے تو روزہ دار کی ہڈیاں تسبیح کرتی ہیں۔ اور فرشتے اس کے لئے بخشش چاہتے ہیں جب تک کہ اس کے سامنے کھایا جاتا ہے۔ (بیہقی)