نفل روزہ کا بیان

Mishkaat-al-Masabih · Chapter 45 · 46 hadiths · Page 2 of 3

2065Mishkaat-al-Masabih

پیر اور جمعرات کے روزے

وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : تعرض الأعمال يوم الاثنين والخميس فأحب أن يعرض عملي وأنا صائم . رواه الترمذي

حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ پیر اور جمعرات کے دن اللہ رب العزت کی بارگاہ میں عمل پیش کئے جاتے ہیں اس لئے میں پسند کرتا ہوں کہ میرے عمل پیش کئے جائیں تو میں روزہ سے ہوں۔ (ترمذی) تشریح بندوں کے جو بھی اعمال ہوتے ہیں ملائکہ ہر صبح و شام اوپر لے جاتے ہیں اور پھر وہ بارگاہ رب العزت میں ان دو دنوں میں پیش ہوتے ہیں۔ لہٰذا اس وضاحت کے پیش نظر اس حدیث اور اس حدیث میں کوئی تعارض باقی نہیں رہا جس سے ثابت ہوا تھا کہ بندوں کے صبح کے اعمال رات کے اعمال سے پہلے اور رات کے اعمال صبح کے اعمال سے پہلے (ہر روز) اوپر لے جائے جاتے ہیں یا پھر یہ کہا جائے گا کہ روزانہ ہر عمل تفصیلی طور پر پیش کیا جاتا ہے اور پھر ان دو دونوں میں تمام اعمال اجمالی طور پر پیش ہوتے ہیں۔

2066Mishkaat-al-Masabih

ایام بیض کے روزے

وعن أبي ذر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يا أبا ذر إذا صمت من الشهر ثلاثة أيام فصم ثلاث عشرة وأربع عشرة وخمس عشرة . رواه الترمذي والنسائي

حضرت ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ابوذر اگر تم مہینہ میں تین دن روزہ رکھنا چاہو تو تیرہویں، چودھوں اور پندرہویں کو روزہ رکھو۔ (ترمذی، نسائی) تشریح ہر مہینہ میں تین دن نفل روزے رکھنے کے سلسلے میں کئی طریقے منقول ہیں لیکن بہتر اور افضل یہی ہے کہ مذکورہ بالا تین تاریخوں میں کہ انہیں ایام بیض کہا جاتا ہے روزے رکھے جائیں۔

2067Mishkaat-al-Masabih

جمعہ کے دن نفل روزے رکھنا جائز ہے

وعن عبد الله بن مسعود قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يصوم من غرة كل شهر ثلاثة أيام وقلما كان يفطر يوم الجمعة . رواه الترمذي والنسائي ورواه أبو داود إلى ثلاثة أيام

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کبھی مہینہ کے شروع کے تین دنوں میں بھی روزہ رکھا کرتے تھے اور ایسا کم ہوتا تھا کہ آپ ﷺ جمعہ کے دن روزہ رکھتے ہوں۔ (ترمذی، نسائی) ابوداؤد نے اس روایت کو ثلثۃ ایام تک نقل کیا ہے۔ تشریح پہلے کچھ احادیث گزری ہیں جن سے معلوم ہوا کہ صرف جمعہ کے روز نفل روزہ نہیں رکھنا چاہئے جب کہ یہ حدیث ان احادیث کے برعکس معلوم ہوتی ہے لہٰذا اس حدیث کی تاویل یہ ہے کہ آپ ﷺ جمعہ کے ساتھ ایک دن پہلے ایک دن بعد بھی روزہ رکھا کرتے تھے یا یہ کہ صرف جمعہ کے روز روزہ رکھنا آنحضرت ﷺ کے ساتھ خاص تھا جیسا کہ وصال کے روزے صرف آپ ﷺ کے لئے مخصوص تھے لیکن یہ تاویل ان حضرات کے مسلک کے پیش نظر ہے جو صرف جمعہ کے روز نفل روزہ رکھنے کو مکروہ قرار دیتے ہیں حنفی مسلک کے مطابق چونکہ جمعہ کے روز، روزہ رکھنا جائز ہے اس لئے حنفیہ کے ہاں اس تاویل کی کوئی ضرورت نہیں ہے بلکہ وہ جمعہ کے دن روزہ کے جواز کو اسی حدیث سے ثابت کرتے ہیں۔

2068Mishkaat-al-Masabih

آنحضرت ﷺ ہفتہ کے سب دنوں میں روزہ رکھتے تھے

وعن عائشة رضي الله عنها قالت : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يصوم من الشهر السبت والأحد والاثنين ومن الشهر الآخر الثلاثاء والأربعاء والخميس . رواه الترمذي

حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ کسی مہینہ میں ہفتہ، اتوار، پیر کے دن اور کسی مہینہ میں منگل، بدھ جمعرات کے دن روزہ رکھا کرتے تھے۔ (ترمذی) تشریح پہلی حدیث میں جمعہ کے دن روزہ رکھنے کا ذکر تھا اور اس حدیث میں ہفتہ کے بقیہ دنوں کے بارے میں ذکر کیا گیا ہے لہٰذا معلوم ہوا کہ آنحضرت ﷺ ہفتہ کے تمام دنوں میں روزہ رکھا کرتے تھے چونکہ تمام دن اللہ تعالیٰ ہی کے ہیں اس لئے آپ اسے مناسب نہیں سمجھتے تھے کہ بعض دنوں میں روزہ رکھیں اور بعض دنوں میں نہ رکھیں گویا اس بارے میں بھی آپ ﷺ نے عدل و اعتدال کی راہ اختیار کی ہوئی تھی۔

2069Mishkaat-al-Masabih

نفل روزوں کی ابتداء پیر یا جمعرات سے

وعن أم سلمة قالت : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يأمرني أن أصوم ثلاثة أيام من كل شهر أولها الاثنين والخميس . رواه أبو داود والنسائي

حضرت ام سلمہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ مجھے حکم فرماتے تھے کہ میں ہر مہینہ میں تین دن نفل روزے رکھوں اور ان کی ابتداء پیر یا جمعرات سے کروں۔ (ابو داؤد، نسائی) تشریح لفظ والخمیس میں واؤ، او کے معنی میں ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ہر مہینہ میں تین دن روزے رکھو اس طرح کہ پہلا روزہ تو پیر کے دن اور دوسرا تیسرا روزہ منگل اور بدھ کے دن ہو یا پہلا روزہ جمعرات کا ہو اور بقیہ دو روزے جمعہ اور ہفتہ کے ہوں چناچہ طبرانی میں او یعنی او الخمیس ہی مذکورہ ہے بہرکیف روزہ رکھنے والا اختیار رکھتا ہے کہ ابتداء چاہے پیر کے دن سے کرے یا جمعرات کے دن سے دنوں متبرک ہیں۔

2070Mishkaat-al-Masabih

ہمیشہ روزہ رکھنے کی ممانعت کی وجہ

وعن مسلم القرشي قال : سألت أو سئل رسول الله صلى الله عليه و سلم عن صيام الدهر فقال : إن لأهلك عليك حقا صم رمضان والذي يليه وكل أربعاء وخميس فإذا أنت قد صمت الدهر كله . رواه أبو داود والترمذي

حضرت مسلم قرشی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے یا کسی اور شخص نے رسول کریم ﷺ سے ہمیشہ روزہ رکھنے کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ تمہارے اوپر تمہارے اہل و عیال کا بھی حق ہے اس لئے رمضان میں اور ان ایام میں جو رمضان سے متصل ہیں یعنی شش عید کے روزے رکھو نیز زیادہ سے زیادہ ہر بدھ اور جمعرات کو روزہ رکھ لیا کرو، اگر تم نے یہ روزے رکھ لئے تو سمجھ کہ ہمیشہ روزے رکھے۔ ( ابوداؤد، ترمذی) تشریح مطلب یہ ہے کہ ہمیشہ روزے رکھنے کی وجہ سے چونکہ ضعف لاحق ہوجاتا ہے جس کی بناء پر نہ صرف یہ کہ ادائیگی حقوق میں تعطل پڑتا ہے بلکہ دوسری عبادات میں بھی نقصان اور حجر واقع ہوتا ہے لہٰذا اسی سبب سے ہمیشہ روزہ رکھنا مکروہ ہے ہاں جس شخص کو اس کی وجہ سے ضعف لاحق ہو تو اس کے لئے ہمیشہ روزہ رکھنا مکروہ نہیں ہوگا بلکہ مستحب ہوگا اسی طرح دائمی روزے کی ممانعت کے سلسلہ میں منقول احادیث میں اور ان مشائخ وسلف کے عمل میں کہ جو ہمیشہ روزہ رکھتے تھے مذکورہ بالا وضاحت سے تطبیق بھی ہوجاتی ہے نیز ہوسکتا ہے کہ یہاں جو حدیث ذکر کی گئی ہے وہ آپ ﷺ نے اس حدیث سے پہلے ارشاد فرمائی ہوگی جس میں بتایا گیا تھا کہ ہر مہینہ میں تین روزے رکھنے سے ہمیشہ روزہ رکھنے کا ثواب حاصل ہوتا ہے۔ ایک اور بات سمجھ لیجئے گزشتہ صفحات میں تشریحات کے ضمن میں علامہ ابن ہمام وغیرہ کے وہ اقوال نقل کئے گئے تھے جن میں سے یہ بات ثابت ہوتی تھی کہ ہمیشہ کے روزے رکھنے مستقلاً مکروہ ہیں اور درمختار میں بھی یہی منقول ہے کہ دائمی طور پر روزہ رکھنا مکروہ تنزیہی ہے جب کہ یہاں یہ بات بتائی گئی ہے کہ ہمیشہ روزہ رکھنا اسی وقت مکروہ ہے جب کہ روزہ دار کے ضعف ونا تو انی میں مبتلا ہوجانے کا خوف ہو مگر ضعف کا خوف نہ ہو تو پھر مکروہ نہیں ہوگا، لہٰذا ان تمام اقوال میں مطابقت پیدا کی جائے کہ جن اقوال سے دائمی روزوں کا مطلقاً مکروہ ہونا ثابت ہوتا ہے درحقیقت ان کا محمول بھی خوف ضعف ہے یعنی ان اقوال کا مطلب بھی یہی ہے کہ اگر ضعف کا خوف ہو تو دائمی روزے مکروہ ہوں گے ورنہ نہیں!۔

2071Mishkaat-al-Masabih

عرفات میں عرفہ کے دن روزہ مکروہ ہے

وعن أبي هريرة رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم : نهى عن صوم يوم عرفة بعرفة . رواه أبو داود

حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے عرفات میں عرفہ کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا۔ ( ابوداؤد ) تشریح حج کرنے والا اگر عرفہ کے دن روزہ رکھے تو ہوسکتا ہے کہ اس کی وجہ سے ضعف لاحق ہوجائے جس کی بناء پر عرفات میں دوسرے افعال وارکان میں نقصان وخلل واقع ہو اس لئے ایسے شخص کے لئے عرفہ کا روزہ رکھنے کی ممانعت فرمائی گئی لیکن یہ ممانعت تحریمی کے طور پر نہیں ہے بلکہ یہ نہی تنزیہی ہے۔

2072Mishkaat-al-Masabih

صرف ہفتہ کے دن روزہ رکھنے کی ممانعت

وعن عبد الله بن بسر عن أخته الصماء أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : لا تصوموا يوم السبت إلا فيما افترض عليكم فإن لم يجد أحدكم إلا لحاء عنبة أو عود شجرة فليمضغه . رواه أحمد وأبو داود والترمذي وابن ماجه والدارمي

حضرت عبداللہ بن بسر ؓ اپنی ہمشیرہ عزیزہ سے جن کا نام صماء ؓ تھا نقل کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا تم لوگ تنہا ہفتہ کے دن روزہ نہ رکھو الاّ یہ کہ اس دن روزہ رکھنا ضروری ہی ہو، لہٰذا اگر تم میں سے کوئی شخص انگور کے درخت کی چھال یا درخت کی لکڑی کے علاوہ کچھ نہ پائے تو وہی چبائے۔ (احمد، ابوداؤد، ترمذی، ابن ماجہ، دارمی) تشریح اس دن روزہ رکھنا ضروری ہو، کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی ضروری روزہ ہو مثلا فرض یعنی رمضان کا روزہ ہو یا کفارہ یا نذر یا قضا کا ہو، ایسے ہی سنت موکدہ روزہ جیسے عرفہ اور عاشورہ کا روزہ ہو کہ یہ بھی ضروری روزہ ہی کے حکم میں ہیں یا اور کوئی مسنون ومستحب روزہ ہو تو اگر ان میں سے کوئی روزہ ہفتہ کے دن پڑجائے تو اس کو ہفتہ کے دن رکھنا ممنوع نہیں ہوگا۔ فان لم یجد احدکم الخ (اگر کوئی شخص تم میں سے الخ) کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی شخص نے ہفتہ کے دن روزہ رکھ لیا تو اسے چاہئے کہ اگر اسے کچھ نہ ملے تو انگور کے درخت کی چھال یا درخت کی لکڑی چبا کر افطار کردے اور روزہ توڑڈالے اور اگر اس قسم کی بھی کوئی چیز نہ ملے تو بھی کسی نہ کسی طرح روزہ توڑڈالے۔ ہفتہ کے دن روزہ رکھنا اس لئے منع ہے کہ اس طرح اس دن کی تعظیم لازم آتی ہے اور اس تعظیم میں یہود کی مشابہت ہوتی ہے اگرچہ یہود اس دن روزہ نہیں رکھتے کیونکہ ان کے ہاں یہ یوم عید ہے تاہم وہ اس دن کی بہت زیادہ تعظیم کرتے ہیں لیکن اکثر علماء کے نزدیک ہفتہ کے دن کے روزہ کی ممانعت نہی تنزیہی کے طور پر ہے۔

2073Mishkaat-al-Masabih

خدا کی راہ میں ایک دن روزہ رکھنے کی فضیلت

وعن أبي أمامة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من صام يوما في سبيل الله جعل الله بينه وبين النار خندقا كما بين السماء والأرض . رواه الترمذي

حضرت ابوامامہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص اللہ کی راہ میں ایک دن روزہ رکھے گا، اللہ تعالیٰ اس کے اور دوزخ کی آگ کے درمیان ایک ایسی خندق حائل کر دے گا جو آسمان و زمین کے درمیانی فاصلہ کی برابر ہوگی۔ (ترمذی) تشریح فی سبیل اللہ (خدا کی راہ میں) کا یہ مطلب ہے کہ جہاد میں یا حج کے راستہ میں یا عمرہ میں طلب علم کے عرصہ میں اور یا محض اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی کی خاطر ایک دن روزہ رکھے خندق سے مراد ہے بڑی زبردست رکاوٹ اور سخت پردہ و حصار۔

2074Mishkaat-al-Masabih

جاڑے میں روزہ رکھنا بلا مشقت ثواب حاصل کرنا ہے

وعن عامر بن مسعود قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الغنيمة الباردة الشتاء . رواه أحمد والترمذي وقال : هذا حديث مرسلوذكر حديث أبي هريرة : ما من أيام أحب إلى الله في باب الأضحية

اور حضرت عامر بن مسعود راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ٹھنڈی غنیمت (یعنی بلا تعب و مشقت ثواب پانا) جاڑے میں روزہ رکھنا ہے (احمد ترمذی) امام ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث مرسل ہے کیونکہ بعض حضرات کے نزدیک حضرت عامر بن مسعود صحابی نہیں بلکہ تابعی ہیں اور حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ما من ایام احب الی اللہ قربانی کے باب میں ذکر کی جا چکی ہے۔

2075Mishkaat-al-Masabih

یوم عاشورہ کا روزہ کیوں؟

عن ابن عباس أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قدم المدينة فوجد اليهود صياما يوم عاشوراء فقال لهم رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما هذا اليوم الذي تصومونه ؟ فقالوا : هذا يوم عظيم : أنجى الله فيه موسى وقومه وغرق فرعون وقومه فصامه موسى شكرا فنحن نصومه فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : فنحن أحق وأولى بموسى منكم فصامه رسول الله صلى الله عليه و سلم وأمر بصيامه

حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ جب مدینہ تشریف لائے تو آپ ﷺ نے یہودیوں کو عاشورہ کے دن کا روزہ رکھتے ہوئے دیکھا، رسول اللہ ﷺ نے ان سے پوچھا کہ اس دن کی کیا خصوصیت ہے کہ تم روزہ رکھتے ہو؟ یہودیوں نے کہا کہ یہ بڑا عظیم دن ہے اسی دن اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی جماعت کو نجات دی اور فرعون اور اس کی قوم کو ڈبویا چناچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بطور شکر اس دن روزہ رکھا اس لئے ہم بھی اس دن روزہ رکھتے ہیں آنحضرت ﷺ نے فرمایا تمہارے مقابلے میں ہم موسیٰ سے زیادہ قریب اور (ان کی طرف سے بطور شکر روزہ رکھنے کے) زیادہ حقدار ہیں چناچہ آپ ﷺ نے یوم عاشورہ کو خود بھی روزہ رکھا اور دوسروں کو روزہ رکھنے کا حکم فرمایا۔ (بخاری ومسلم)

2076Mishkaat-al-Masabih

ہفتہ وا تو ار کے دن روزہ رکھنے میں یہود ونصاریٰ کی مخالفت

وعن أم سلمة قالت : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يصوم يوم السبت ويوم الأحد أكثر ما يصوم من الأيام ويقول : إنهما يوما عيد للمشركين فأنا أحب أن أخالفهم . رواه أحمد

حضرت ام سلمہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ دوسرے دنوں میں روزہ رکھنے کی بہ نسبت ہفتہ و اتوار کے دن زیادہ روزہ رکھا کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ یہ دو دن مشرکین کے لئے عید ہیں کہ جن میں وہ روزہ نہیں رکھتے لہٰذا میں اسے پسند کرتا ہوں کہ میں ان دنوں میں روزہ رکھ کر ان کی مخالفت کروں۔ (احمد) تشریح مشرکین سے مراد یہود و نصاری ہیں اور انہیں مشرک اس لئے فرمایا کہ یہود تو حضرت عزیر (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا کہتے تھے نصاریٰ (عیسائی) حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا کہتے ہیں۔ پہلے ایک حدیث گزری ہے جس میں ہفتہ کے دن روزہ رکھنے کے لئے منع فرمایا گیا ہے جب کہ یہ حدیث اس کے بالکل برعکس ہے ان دونوں حدیثوں میں تطبیق یہ ہے کہ اس کا تعلق تو صرف آنحضرت ﷺ کی ذات گرامی سے ہے یعنی یہ آپ ﷺ کی خصوصیات میں سے ہے اور گزشتہ حدیث کا تعلق صرف امت سے ہے۔ یعنی وہ ممانعت امت کی خصوصیات میں سے ہے یا پھر یہ کہا جائے گا کہ روزہ سے منع کیا گیا ہے وہ روزہ وہ ہے جو اس دن کی تعظیم کے طور پر رکھا جائے اور پسندیدہ روزہ وہ ہے جو یہود و نصاریٰ کی مخالفت کے پیش نظر رکھا جائے۔

2077Mishkaat-al-Masabih

فرضیت رمضان سے قبل عاشوراء کے روزے کی زیادہ تاکید تھی

وعن جابر بن سمرة قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يأمر بصيام يوم عاشوراء ويحثنا عليه ويتعاهدنا عنده فلما فرض رمضان لم يأمرنا ولم ينهنا عنه ولم يتعاهدنا عنده . رواه مسلم

حضرت جابربن سمرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ پہلے ہمیں یوم عاشورہ کا روزہ رکھنے کا حکم دیا کرتے تھے اس کی ترغیب دلاتے تھے اور اس دن کے آنے کے وقت ہماری خبر گیری کرتے تھے یعنی عاشورہ کا دن جب نزدیک آتا تو اس کے روزہ رکھنے کی نصیحت فرمایا کرتے تھے مگر جب رمضان کے روزے فرض ہوگئے تو نہ آپ ﷺ نے ہمیں اس دن روزہ رکھنے کا حکم فرمایا اور نہ اس سے منع کیا اور نہ ہی اس دن کے آنے کے وقت ہماری خبر گیری کی۔ (مسلم) تشریح لفظ یا مرنا مشکوۃ کے اکثر نسخوں میں نا کے بغیر یعنی صرف یامر ہے مگر صحیح مسلم میں یا مرنا ہی منقول ہے۔

2078Mishkaat-al-Masabih

سنت موکدہ روزے

وعن حفصة قالت : أربع لم يكن يدعهن النبي صلى الله عليه و سلم : صيام عاشوراء والعشر وثلاثة أيام من كل شهر وركعتان قبل الفجر . رواه النسائي

حضرت حفصہ ؓ فرماتی ہیں کہ چار چیزیں ایسی ہیں کہ جنہیں رسول کریم ﷺ ترک نہیں فرماتے تھے کیونکہ سنت مؤکدہ ہیں اول یوم عاشورہ کا روزہ، دوم عشرہ ذی الحجہ یعنی ذی الحجہ کے ابتدائی نو دونوں کے روزے، سوم ہر مہینہ میں تین دنوں کے روزے، چہارم فجر سے پہلے دو رکعتیں فجر کی دو سنتیں۔ (نسائی)

2079Mishkaat-al-Masabih

ایام بیض کے روزے

وعن ابن عباس قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم لا يفطر أيام البيض في حضر ولا في سفر . رواه النسائي

حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ ایام بیض میں بغیر روزہ نہیں رہا کرتے تھے نہ گھر میں اور نہ سفر میں۔ (نسائی) تشریح ایام بیض سے مراد چاندنی راتوں کے دن ہیں یعنی قمری مہینوں کی تیرہویں، چودہویں اور پندرہویں تاریخ لہٰذا ایام بیض میں بیض سفید روشن، لیالی یعنی ان راتوں کی صفت ہے جن کے دنوں کو ایام بیض کہا جاتا ہے ان راتوں کو بیض اس لئے کہتے ہیں کہ ان راتوں میں چاندی اول سے آخر تک رہتی ہے گویا پوری رات روشن و چمکدار رہتی ہے یا پھر کہا جائے گا کہ بیض ایام ہی یعنی دنوں کی صفت ہے اور ان دنوں کو بیض اس لئے کہتے ہیں کہ ان ایام کے روزے گناہوں کی تاریکی کو دور کرتے ہیں اور قلوب کو روشن و مجلیٰ کرتے ہیں یا یہ دن ایام بیض اس لئے کہلاتے ہیں کہ جب حضرت آدم (علیہ السلام) کو جنت سے زمین پر اتارا گیا تو ان کا تمام بدن سیاہ ہوگیا تھا جب ان کی توبہ قبول ہوئی تو انہیں حکم دیا گیا کہ ان دنوں میں تین روزے رکھو چناچہ انہوں نے تیرہویں کو روزہ رکھا تو ان کا تہائی بدن سفید اور روشن ہوگیا، چودہویں کو روزہ رکھا تو دو تہائی بدن سفید و روشن ہوگیا اور جب پندرہویں کو روزہ رکھا تو تمام بدن سفید روشن ہوگیا۔

2080Mishkaat-al-Masabih

ہر مہینہ میں تین روزے رکھنے کی ترتیب

اس موقع پر یہ بات جان لینی چاہئے کہ وہ تین روزے جو ہر مہینہ میں رکھنے مسنون ہیں بارہ طرح سے منقول ہیں ایک تو غیر معین کہ پورے مہینہ میں جب چاہے تین روزے رکھ لے، دوسرے یہ کہ مہینہ کے ابتدائی تین دنوں میں یعنی پہلی تاریخ سے تیسری تاریخ تک تیسرے یہ کہ مہینہ کے کسی بھی سنیچر، اتوار، پیر کے دن، چوتھے یہ کہ مہینہ کے کسی بھی منگل، بدھ، جمعرت کے دن، پانچویں یہ کہ ایام بیض یعنی تیرہیوں، چودہویں، پندرہویں تاریخ کو چھٹے یہ کہ ان روزوں میں پہلا روزہ پیر کے دن اور دو منگل اور بدھ کے دن، ساتویں یہ کہ ان روزوں میں پہلا روزہ جمعرات کے دن ہو اور دو روزے جمعہ اور ہفتہ کے دن آٹھویں یہ کہ پہلا روزہ نوچندا پیر کو اور دو روزے دو جمع راتوں کو، نویں ایک نو چندی جمعرات کو اور دو دو شن بےکو، دسویں پیر اور جمعرات اور پھر اگلے ہفتے کا پیر، گیارہویں ہر عشرہ میں ایک روزہ، بارہویں مہینہ کے آخری دنوں میں تین روزے۔ یہ بات پہلے بتائی جا چکی ہے کہ بہتر اور اولیٰ یہی ہے کہ ایام بیض یعنی تیرہویں چودہویں اور پندرہویں تاریخ کو یہ روزے رکھے جائیں ویسے اختیار ہے کہ جب بھی اور جس طرح بھی یہ روزے رکھے جائیں ثواب بہر صورت حاصل ہوگا۔ ایک بات اور پورے سال میں مسنون روزوں کی تعداد اکیاون ہے تینتیس روزے تو یہی ہیں یعنی بحساب تین روزے فی مہینہ نو روزے ذی الحجہ کے مہینہ میں پہلی تاریخ سے نویں تاریخ تک، ایک دن یوم عاشورہ کا ایک روزہ عاشورہ سے ایک دن پہلے ایک دن بعد کا ایک روزہ شعبان کی پندرہویں تاریخ کا اور چھ روزے شوال کے جو شش عید کے روزے کہلاتے ہیں۔

2081Mishkaat-al-Masabih

بدن کی زکوٰۃ روزہ رکھنا ہے

وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لكل شيء زكاة وزكاة الجسد الصوم . رواه ابن ماجه

حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہر چیز کے لئے زکوٰۃ ہے اور بدن کی زکوٰۃ روزہ رکھنا ہے۔ (ابن ماجہ) تشریح چونکہ زکوٰۃ کا مفہوم ہے بڑھنا اور طہارت اس لئے ہر چیز کے لئے زکوٰۃ ہے کا مطلب یہ ہوگا کہ ہر چیز کے لئے بڑھوتی ہے جو اس چیز میں سے کچھ دے کر حاصل ہوتی ہے یا ہر چیز کے لئے پاکیزگی و طہارت کا ایک ذریعہ مقرر ہے جس کی وجہ سے وہ چیز پاکیزہ و طاہر ہوتی ہے۔ لہذا بدن کی زکوٰۃ یعنی بدن کی جسمانی صحت و تندرستی اور بدن کی روحانی پاکیزگی و طہارت کا ذریعہ روزہ ہے کہ روزہ کی وجہ سے اگرچہ بظاہر جسم کی طاقت و قوت کا کچھ حصہ گھلتا اور ناقص ہوتا ہے مگر حقیقت میں روزہ جسم کے نشو نما اور صحت و تندرستی میں برکت و اضافہ کا ایک ذریعہ بنتا ہے نیز اس کی وجہ سے بدن گناہوں سے پاک ہوتا ہے لہٰذا زکوٰۃ عبادت مالیہ ہے اور روزہ طاعت بدنیہ۔

2082Mishkaat-al-Masabih

پیر اور جمعرت کی فضیلت کیون؟

وعن أبي هريرة رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه و سلم : كان يصوم يوم الاثنين والخميس . فقيل : يا رسول الله إنك تصوم يوم الاثنين والخميس . فقال : إن يوم الاثنين والخميس يغفر الله فيهما لكل مسلم إلا ذا هاجرين يقول : دعهما حتى يصطلحا . رواه أحمد وابن ماجه

حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ نبی کریم ﷺ پیر اور جمعرات کے دن روزہ رکھا کرتے تھے چناچہ آپ ﷺ سے عرض کیا گیا کہ یا رسول اللہ آپ ﷺ پیر اور جمعرات کے دن اکثر روزہ رکھتے ہیں؟ آپ نے فرمایا پیر اور جمعرات وہ دن ہیں جس میں اللہ رب العزت ہر مسلمان کی بخشش کرتا ہے علاوہ ان دو لوگوں کے جو ترک تعلقات کئے ہوئے ہیں چناچہ اللہ تعالیٰ (ان کے بارے میں ان فرشتوں سے جو آثار مغفرت ظاہر ہونے کے وقت برائیوں کو مٹانے پر مامور ہوتے ہیں) فرماتا ہے کہ انہیں چھوڑ دو تاوقتیکہ یہ آپس میں صلح کرلیں اس کے بعد ان کی مغفرت ہوگی۔ (احمد، ابن ماجہ) تشریح گویا آپ ﷺ نے سوال کے پیش نظر ان دونوں دنوں کی بزرگی و فضیلت ظاہر فرمائی کہ میں اس بزرگی و فضیلت کے پیش نظر اور اللہ تعالیٰ کی رحمت عام اور اس کی طرف سے مغفرت و بخشش کے کی نعمت عظمی کے شکر کے طور پر ان دونوں دنوں میں روزہ رکھتا ہوں۔

2083Mishkaat-al-Masabih

اللہ کی خوشنودی کے پیش نظر روزہ رکھنے والے کی فضیلت

وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من صام يوما ابتغاء وجه الله بعده الله من جهنم كبعد غراب طائر وهو فرخ حتى مات هرما . رواه أحمدوروى البيهقي في شعب الإيمان عن سلمة بن قيس

حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص اللہ رب العزت کی رجا و خوشنودی کی خاطر ایک دن روزہ رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ سے دوزخ سے اڑتے ہوئے کوے کی مسافت کے بقدر دور رکھتا ہے جو بچہ ہو اور بوڑھا ہو کر مرے۔ (احمد، بیہقی) تشریح کہا جاتا ہے کہ کوے کی عمر ہزار ہزار برس کی ہوتی ہے لہٰذا فرمایا کہ اگر کوا ابتداء عمر سے اپنی عمر کے آخری حصہ تک اڑتا رہے تو غور کرو وہ کتنی زیادہ مسافت طے کرے گا جتنی مسافت وہ طے کرے گا اتنا ہی اللہ تعالیٰ روزہ دار کو دوزخ سے دور رکھتا ہے۔ بیہقی سے منقول ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا روزہ دار کا سونا عبادت اس کی خاموشی تسبیح ہے اس کا عمل مضاعف ہے اس کی دعا مقبول ہے اور اس کے گناہ بخشے ہوئے ہیں۔ بیہقی سے یہ بھی منقول ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے ایک نبی کے پاس یہ وحی بھیجی کہ اپنی قوم کو خبر دو کہ جو بھی بندہ محض میری خوشنودی کے حصول کی خاطر کسی دن روزہ رکھتا ہے تو میں نہ صرف یہ کہ اس کے جسم و بدن کو تندرست و توانا کرتا ہوں بلکہ اسے بہت زیادہ ثواب بھی دیتا ہوں۔ خطیب سے منقول ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جو شخص اس طرح نفل روزے رکھتا ہے کہ کسی کو بھی اس کے روزہ کی خبر نہیں ہوتی تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت کے علاوہ اور کسی ثواب پر راضی نہیں ہوتا یعنی اس کا ثواب یہی ہے کہ اسے جنت میں داخل کرتا ہے۔ عبرانی (رح) سے منقول ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص اس طرح نفل روزے رکھتا ہے کہ کسی کو بھی اس کے روزہ کی خبر نہیں ہوتی تو اللہ رب العزت کے پاس ایک خوان ہے جس پر ایسی ایسی نعمتیں ہیں کہ ویسی نعمتیں نہ کسی آنکھ نے دیکھی ہیں اور نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی کے دل میں ان کا خیال بھی گزرتا ہے اس خوان پر صرف رزے دار بیٹھیں گے۔

2084Mishkaat-al-Masabih

نفل روزہ کی نیت دن میں کی جاسکت ہے

وعن عائشة رضي الله عنها قالت : دخل علي النبي صلى الله عليه و سلم ذات يوم فقال : هل عندكم شيء ؟ فقلنا : لا قال : فإني إذا صائم . ثم أتانا يوما آخر فقلنا : يا رسول الله أهدي لنا حيس فقال : أرينيه فلقد أصبحت صائما فأكل . رواه مسلم

ام المومنین حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ ایک دن نبی کریم ﷺ میرے پاس تشریف لائے اور فرمانے لگے کہ کیا تمہارے پاس کھانے کی کوئی چیز ہے میں نے عرض کیا کہ نہیں آپ ﷺ نے فرمایا میں نے اب روزہ رکھ لیا ہے، پھر اس کے بعد ایک دن اور آپ ﷺ تشریف لائے اور پوچھا کہ تمہارے پاس کھانے کی کوئی چیز ہے؟ تو میں نے کہا کہ یا رسول اللہ ﷺ! ہمارے لئے حیس ہدیہ میں آیا ہے آپ ﷺ نے فرمایا کہ لاؤ مجھے وہ دکھاؤ میں نے صبح روزہ رکھ لیا تھا پھر آپ ﷺ نے وہ حیس کھالیا۔ (مسلم) تشریح میں نے اب روزہ رکھ لیا ہے، کا مطلب یہ ہے کہ میں نے روزہ کی نیت کرلی ہے اس سے معلوم ہوا کہ نفل روزہ کی نیت دن میں کرنی چاہئے چناچہ اکثر ائمہ کا یہی مسلک ہے مگر حضرت امام مالک (رح) فرماتے ہیں کہ روزہ کسی بھی قسم کا ہو خواہ فرض ہو یا نفل اس کی نیت رات ہی سے کرنی واجب ہے۔ اس مسئلہ کی پوری تفصیل گزشتہ صفحات میں بیان کی جا چکی ہے۔ حیس ایک کھانے کا نام ہے جو مالیدہ کی طرح ہوتا تھا اور کھجور، گھی اور قروت سے بنایا جاتا تھا بہرکیف حدیث کے آخری الفاظ کا مفہوم یہ ہے کہ آپ ﷺ نے روزہ کی حالت میں حضرت عائشہ ؓ سے حیس لے کر تناول فرمایا۔ اس سے معلوم ہوا کہ بغیر عذر کے بھی نفل روزہ توڑ ڈالنا جائز ہے چناچہ اکثر علماء کا یہی مسلک ہے مگر حضرت امام ابوحنیفہ اور ان کے متبعین علماء رحمھم اللہ فرماتے ہیں کہ نفل روزہ شروع کردینے کے بعد اسے پورا کرنا واجب ہے اس کو توڑ ڈالنا جائز نہیں ہے ہاں کسی عذر کی بناء پر مثلا مہمانداری وغیرہ کے پیش نظر نفل روزہ توڑا جاسکتا ہے، تاہم اس صورت میں بھی قضا واجب ہوتی ہے، چونکہ یہ حدیث اس بارے میں حنفیہ کے مسلک کے خلاف ہے اس لئے اس کی تاویل یہ کی جاتی ہے کہ آپ ﷺ نے بلا عذر روزہ نہیں توڑا تھا۔ بلکہ آپ ﷺ کو کوئی ایسا عذر لاحق تھا جس کی بناء پر آپ ﷺ نے روزہ توڑ ڈالا جس کو یہاں ذکر نہیں کیا گیا، اس مسئلہ میں حنفیہ کی دلیل آگے آرہی ہے۔