صدقہ کی فضیلت کا بیان

Mishkaat-al-Masabih · Chapter 37 · 41 hadiths · Page 2 of 3

1904Mishkaat-al-Masabih

رشتہ داروں سے حسن سلوک کا حکم

عن عبد الله بن سلام قال : لما قدم النبي صلى الله عليه و سلم المدينة جئت فلما تبينت وجهه عرفت أن وجهه ليس بوجه كذاب . فكان أول ما قال : أيها الناس أفشوا السلام وأطعموا الطعام وصلوا الأرحام وصلوا بالليل والناس نيام تدخلوا الجنة بسلام . رواه الترمذي وابن ماجه والدارمي

حضرت عبداللہ بن سلام ؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ جب مدینہ تشریف لائے تو میں آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا چناچہ میں نے آپ ﷺ کے روئے انور کو دیکھا تو مجھے یقین ہوگیا کہ آپ ﷺ کا یہ چہرہ اقدس کسی جھوٹے کا چہرہ نہیں ہوسکتا، پھر آپ ﷺ کا ارشاد جو سب سے پہلے آپ ﷺ نے فرمایا تھا وہ یہ تھا کہ لوگو! سلام کو ظاہر کرو۔ (یعنی السلام علیکم بآواز بلند کہو تاکہ جس کو سلام کیا جا رہا ہے وہ سن لے نیز یہ کہ ہر ایک سے سلام کرو چاہے وہ آشنا ہو یا بےگانہ) اور (بھوکوں کو) کھانا کھلاؤ۔ رشتہ داروں سے حسن سلوک کرو، نیز رات میں اس وقت تہجد کی نماز پڑھو جب کہ لوگ سوتے ہو (اگر یہ کرو گے) تو جنت میں سلامتی کے ساتھ (یعنی بغیر عذاب کے) داخل ہو گے۔ (ترمذی، ابن ماجہ، دارمی)

1905Mishkaat-al-Masabih

غریبوں کو کھانا کھلانے کا حکم

وعن عبد الله بن عمرو قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : اعبدوا الرحمن وأطعموا الطعام وأفشوا السلام تدخلوا الجنة بسلام . رواه الترمذي وابن ماجه

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ روای ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ اللہ رب العزت کی بندگی کرو (غریبوں کو) کھانا کھلاؤ اور سلام کو ظاہر کرو جنت میں سلامتی کے ساتھ داخل ہوجاؤ گے۔ (ترمذی، ابن ماجہ)

1906Mishkaat-al-Masabih

صدقہ خاتمہ بخیر کی سعادت سے نوازتا ہے

وعن أنس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الصدقة لتطفئ غضب الرب وتدفع ميتة السوء . رواه الترمذي

حضرت انس ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا صدقہ کرنا اللہ کے غضب کو ٹھنڈا کرتا ہے اور بری موت سے بچاتا ہے۔ (ترمذی) تشریح اللہ کے غضب کو ٹھنڈا کرتا ہے کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص اللہ کی راہ میں اپنا مال خرچ کرتا ہے اسے اللہ تعالیٰ دنیا میں عافیت و سکون کے ساتھ رکھتا ہے اور اس پر بلائیں نازل نہیں کرتا۔ بری موت سے بچاتا ہے کا مطلب یہ ہے کہ صدقہ و خیرات کرنے والا مرنے کے وقت بری حالت سے محفوظ رہتا ہے یعنی نہ تو اسے شیطان اپنے وسوسوں میں مبتلا کر پاتا ہے اور نہ وہ شخص کسی ایسی سخت بیماری و تکلیف میں مبتلا ہوتا ہے جس کی وجہ سے وہ ضبط کا دامن چھوڑ کر کفر و کفران کی دلدل میں پھنس جائے، حاصل یہ کہ اللہ کی خوشنودی و رضا کی خاطر اپنا مال و زر خرچ کرنے والا خاتمہ بالخیر کی ابدی سعادت سے نوازا جاتا ہے۔

1907Mishkaat-al-Masabih

ہر نیکی صدقہ ہے

وعن جابر قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : كل معروف صدقة وإن من المعروف أن تلقى أخاك بوجه طلق وأن تفرغ من دلوك في إناء أخيك . رواه أحمد والترمذي

حضرت جابر ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہر نیکی صدقہ ہے اور نیکیوں میں سے ایک نیکی یہ بھی ہے کہ تم اپنے مسلمان بھائی سے چہرہ کی بشاشت کے ساتھ ملاقات کرو اور اپنے کسی بھائی کے برتن میں اپنے ڈول سے پانی ڈال دو۔ (احمد، ترمذی)

1908Mishkaat-al-Masabih

ہر نیکی صدقہ ہے

وعن أبي ذر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : تبسمك في وجه أخيك صدقة وأمرك بالمعروف صدقة ن ونهيك عن المنكر صدقة وإرشادك الرجل في أرض الضلال لك صدقة ونصرك الرجل الرديء البصر لك صدقة وإماطتك الحجر والشوك والعظم عن الطريق لك صدقة وإفراغك من دلوك في دلو أخيك لك صدقة . رواه الترمذي وقال : هذا حديث غريب

حضرت ابوذر غفاری ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ اپنے مسلمان بھائی کے سامنے مسکرانا یعنی کسی سے خندہ پیشانی کے ساتھ پیش آنا صدقہ ہے نیک کام کے لئے حکم کرنا صدقہ ہے۔ بری بات سے روکنا صدقہ ہے۔ بےنشان زمین میں کسی کو راستہ بتانا صدقہ ہے (یعنی جہاں راستے کا کوئی نشان اور کوئی علامت نہ ہونے کی وجہ سے لوگ اپنا راستہ بھول جاتے ہیں) وہاں کسی راستہ بھولے ہوئے مسافر کو اس کا راستہ بتادینے سے صدقہ جیسا ثواب ملتا ہے کسی اندھے یا کمزور نظر شخص کی مدد کرنی، (بایں طور کہ اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے لے جانا) صدقہ ہے، راستے سے پتھر، کانٹا اور ہڈی ہٹا دینا صدقہ ہے اور اپنے ڈول سے اپنے بھائی کے ڈول میں پانی بھر دینا صدقہ ہے۔ (امام ترمذی نے اس روایت کو نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے) تشریح حدیث کے آخری الفاظ سے معلوم ہوا کہ جب اپنے ڈول میں پانی بھر دینا صدقہ جیسے ثواب کا باعث ہے تو اس شکل میں جب کہ کسی کے پاس ڈول ہی موجود نہ ہو اسے اپنے ڈول سے پانی دینا اس سے کہیں زیادہ ثواب کا باعث ہوگا۔

1909Mishkaat-al-Masabih

کنواں کھدوانا بہترین صدقہ ہے

وعن سعد بن عبادة قال : يا رسول الله إن أم سعد ماتت فأي الصدقة أفضل ؟ قال : الماء . فحفر بئرا وقال : هذه لأم سعد . رواه أبو داود والنسائي

حضرت سعد بن عبادہ ؓ راوی ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ ام سعد (یعنی میری ماں) کا انتقال ہوگیا ہے (ان کے ایصال ثواب کے لئے) کونسا صدقہ بہتر ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا پانی چناچہ حضرت سعد ؓ نے آنحضرت ﷺ کا یہ ارشاد سن کر کنواں کھودا اور کہا کہ یہ ام سعد یعنی میری ماں کے لئے صدقہ ہے۔ (ابو داؤد، نسائی) تشریح یوں تو اللہ نے جو بھی چیز پیدا کی ہے وہ بندہ کے حق میں اللہ کی نعمت ہے لیکن انسانی زندگی میں پانی کو جو اہمیت ہے اس کے پیش نظر بجا طور پر کہا جاسکتا ہے کہ یہ اللہ کی ان بڑی نعمتوں میں سے ایک عظیم نعمت ہے جن کے بغیر انسانی زندگی کی بقاء ممکن نہیں پھر مخلوق اللہ کے لئے اس کی ضرورت اتنی ہی وسیع اور ہمہ گیر ہے کہ قدم قدم پر انسانی زندگی اس کے وجود اور اس کی فراہمی کی محتاج ہوتی ہے، چناچہ کیا دنیا اور کیا آخرت سب ہی امور کے لئے اس کی بہت زیادہ ضرورت ہوتی ہے خاص طور پر ان شہروں اور علاقوں میں پانی کی اہمیت کی اہمیت کہیں زیادہ محسوس ہوتی ہے جو گرم ہوتے ہیں جہاں پانی کی فراہمی آسانی سے نہیں ہوتی، اسی لئے آنحضرت ﷺ نے پانی کو بہترین صدقہ ارشاد فرما کر اس طرف اشارہ فرمایا ہے کہ پانی کے حصول کا ہر ذریعہ خواہ کنواں ہو یا نل والا تالاب بہترین صدقہ جاریہ ہے کہ جب تک وہ ذریعہ موجود رہتا ہے اس کو قائم کرنے والا اللہ تعالیٰ کی رحمتوں سے نوازا جاتا ہے۔

1910Mishkaat-al-Masabih

غرباء ومساکین کو کپڑا پہنانے کی فضیلت

وعن أبي سعيد قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أيما مسلم كسا مسلما ثوبا على عري كساه الله من خضر الجنة وأيما مسلم أطعم مسلما على جوع أطعمه الله من ثمار الجنة . وأيما مسلم سقا مسلما على ظمأ سقاه الله من الرحيق المختوم . رواه أبو داود والترمذي

حضرت ابوسعید ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو مسلمان کسی ننگے مسلمان کو کپڑا پہنائے گا تو اللہ تعالیٰ اسے جنت کے سبز لباسوں میں سے لباس پہنائے گا، جو مسلمان کسی بھوکے مسلمان کو کھانا کھلائے گا تو اللہ تعالیٰ اسے جنت کے میوے کھلائے گا اور جو مسلمان کسی پیاسے مسلمان کی پیاس بجھائے گا تو اللہ تعالیٰ اسے مہر بند شراب سے سیراب کرے گا۔ (ابو داؤد، ترمذی) تشریح مہر بند شراب، سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے جنت کی وہ شراب پلائے گا جو سیل و مہر کے ذریعے تغیر و تبدل سے محفوظ اور اس شخص کے لئے مخصوص ہے جس کے علاوہ اسے کوئی اور نہیں پی سکتا گویا اس سے شراب کی عمگی ونفاست کی طرف اشارہ فرمایا جارہا ہے کہ جس طرح جو چیز نہایت اعلی ونفیس اور عمدہ ہوتی ہے اس کو مہر بند کردیا جاتا ہے تاکہ وہ زمانہ کی سرد گرم ہوا اور دوسروں کی دستبرد سے محفوظ رہے اسی طرح وہ شراب بھی نہایت اعلیٰ ونفیس اور عمدہ ہے کہ اس دنیا میں اس کے ذائقے اور اس کی نفاست کا صحیح ادراک بھی نہیں کیا جاسکتا پھر یہ کہ اس پر مہر بھی مشک کی ہے جیسا کہ ارشاد ربانی ہے۔ یسقون من رحیق مختوم ختامہ مسک۔ ان کو شراب خالص سر بمہر پلائی جائے گی جس کی مہر مشک کی ہوگی۔ یعنی اس مشروب کو موم اور لاکھ وغیرہ کے ذریعے نہیں بلکہ مشک کے ذریعے مہر بند کیا گیا ہے۔

1911Mishkaat-al-Masabih

زکوۃ کے علاوہ دوسرے صدقات بھی ہیں

وعن فاطمة بنت قبيس قالت : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن في المال لحقا سوى الزكاة ثم تلا : ( ليس البر أن تولوا وجوهكم قبل المشرق والمغرب ) الآية . رواه الترمذي وابن ماجه والدارمي

حضرت فاطمہ بنت قیس ؓ کہتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ مال و زر میں زکوٰۃ کے علاوہ اور حق بھی ہیں پھر آپ ﷺ نے یہ پوری آیت کریمہ تلاوت فرمائی۔ نیکی یہی نہیں ہے کہ اپنے منہ کو مشرق و مغرب کی طرف متوجہ کرو الخ۔ ( ترمذی، ابن ماجہ، دارمی) تشریح مطلب یہ ہے کہ مال کی زکوٰۃ دینا تو فرض ہے ہی کہ وہ ضرور دینی چاہئے۔ مگر زکوٰۃ کے علاوہ کچھ اور نفل صدقات بھی مستحب ہیں کہ ان کا دیا جانا بھی بہت زیادہ ثواب کا باعث ہے اور وہ صدقات یہ ہیں کہ سائل اور قرض مانگنے والے کو محروم و مایوس نہ کیا جائے گھر گرہستی کا سامان مثلا ہانڈی و دیگچی اور پیالہ وغیرہ یا اور ایسا وہ سامان جو اپنے قبضے و ملکیت میں ہو اگر کوئی عاریۃ مانگے تو اسے دینے میں دریغ نہ کیا جائے کسی کو پانی، نمک اور آگ لینے سے منع نہ کیا جائے۔ وغیرہ وغیرہ۔ حق سے مراد وہ چیزیں ہیں جن کو مذکورہ آیت میں بیان کیا گیا ہے، یعنی اپنے رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں، مسافر کے ساتھ احسان اور حسن سلوک کا معاملہ کرنا اور غلام کو آزاد کرنے کے لئے مال خرچ کرنا وغیرہ، مذکورہ بالا آیت پوری پوری یوں ہے۔ آیت (لَيْسَ الْبِرَّ اَنْ تُوَلُّوْا وُجُوْھَكُمْ قِ بَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلٰكِنَّ الْبِرَّ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَالْمَلٰ ى ِكَةِ وَالْكِتٰبِ وَالنَّبِي ّنَ وَاٰتَى الْمَالَ عَلٰي حُبِّه ذَوِي الْقُرْبٰى وَالْيَ تٰمٰى وَالْمَسٰكِيْنَ وَابْنَ السَّبِيْلِ وَالسَّا ى ِلِيْنَ وَفِي الرِّقَابِ وَاَقَامَ الصَّلٰوةَ وَاٰتَى الزَّكٰوةَ ) 2۔ البقرۃ 177)۔ نیکی یہی نہیں ہے کہ تم مشرق و مغرب کو قبلہ سمجھ کر ان کی طرف منہ کرلو، بلکہ نیکی یہ ہے کہ لوگ اللہ پر اور فرشتوں پر اور اللہ کی کتاب پر اور پیغمبروں پر ایمان لائیں۔ اور مال باوجود عزیز رکھنے کے رشتہ داروں اور یتیموں اور محتاجوں اور مسافروں اور مانگنے والوں کو دیں اور گردنوں کے چھڑانے میں خرچ کریں اور نماز پڑھیں اور زکوٰۃ دیں۔ آنحضرت ﷺ نے یہ آیت بطور استنباط تلاوت فرمائی کہ اس میں حق تعالیٰ نے پہلے تو ان مومنین کی تعریف بیان فرمائی ہے جو اپنے رشتہ داروں، ت یتیموں اور مساکین وغیرہ پر اپنا مال خرچ کرتے ہیں اس کے بعد نماز پڑھنے والوں اور زکوٰۃ دینے والوں کی تعریف بیان کی لہٰذا اس سے معلوم ہوا کہ مال خرچ کرنا زکوٰۃ دینے کے علاوہ ہے جو صدقہ نفل کہلاتا ہے۔ گویا آنحضرت ﷺ نے جو یہ فرمایا تھا کہ مال و زر کے بارے میں زکوٰۃ کے علاوہ اور بھی حق یعنی صدقات نافلہ ہیں وہ اس آیت سے ثابت ہوا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے پہلے صدقات نافلہ کو ذکر کیا اس کے بعد صدقہ واجب یعنی زکوٰۃ کا ذکر کیا گیا۔

1912Mishkaat-al-Masabih

پانی ونمک دینے سے انکار نامناسب ہے

وعن بهيسة عن أبيها قالت : قال : يا رسول الله ما لشيء الذي لا يحل منعه ؟ قال : الماء . قال : يا نبي الله ما الشيء الذي لا يحل منعه ؟ قال : الملح . قال : يا نبي الله ما لاشيء الذي لا يحل منعه ؟ قال : أن تفعل الخير خير لك . رواه أبو داود

حضرت بہیسہ ؓ اپنے والد مکرم سے نقل کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ انہوں نے ( یعنی ان کے والد نے) عرض کیا کہ یا رسول اللہ! وہ کونسی چیز ہے جس سے منع کرنا اور اس کے دینے سے انکار کرنا حلال نہیں ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا۔ پانی انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! اور کون سی چیز ہے جس کو دینے سے انکار کرنا حلال نہیں ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا نمک۔ انہوں نے پھر عرض کیا کہ یا رسول اللہ وہ کونسی چیز ہے جس سے منع کرنا حلال ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا۔ بھلائی کرنا جو تمہارے لئے بہتر ہے۔ ( ابوداؤد ) تشریح پانی کا مطلب یہ ہے کہ اگر تمہاری زمین میں کنواں و تالاب ہے یا تمہارے گھر میں نل وغیرہ ہے اس سے کوئی شخص پانی لیتا ہے تو اسے پانی لینے روکنا مناسب نہیں ہے۔ اسی طرح اگر تم میں سے کوئی شخص پانی مانگتا ہے اور تمہارے پاس تمہاری ضرورت سے زائد پانی موجود ہے تو اسے دینے سے انکار نہ کرو، اسی طرح نمک دینے سے انکار نہ کرو، کیونکہ لوگوں کو نمک کی بہت زیادہ احتیاج و ضرورت رہتی ہے اور لوگ اسے لیتے دیتے ہی رہتے ہیں۔ پھر یہ کہ نمک جیسی چیز سے انکار کرنا ویسے بھی کوئی معنی نہیں رکھتا۔ کیونکہ یہ انتہائی عام اور سستی چیز ہے جس کی کوئی وقعت و قدر نہیں ہوتی۔ حدیث کا آخری جملہ تمام بھلائیوں اور نیکیوں پر حاوی ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ تم سے جو کچھ بھی ہو سکے دیتے رہو اور جو نیکی و بھلائی کرسکو کرو، نیکی و بھلائی کے کاموں سے نہ تو اپنے آپ کو باز رکھنا درست ہے اور نہ دوسروں کو نیکی و بھلائی سے روکنا حلال ہے، گویا حدیث میں پہلے چند بھلائیوں کو بطور خاص ذکر کرنے کے بعد یہ جملہ ارشاد فرمانا تعمیم بعد تخصیص ہے اور اس طرف اشارہ ہے کہ لایحل مفہوم کے اعتبار سے لاینبغی کے معنی میں استعمال کیا گیا ہے اس طرح حدیث کا مفہوم یہ ہوگا کہ ان چیزوں سے منع کرنا اور ان کے دینے سے انکار کرنا مناسب نہیں ہے۔

1913Mishkaat-al-Masabih

بنجر زمین کو قابل کاشت بنانا کارثواب ہے

وعن جابر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من أحيى أرضا ميتة فله فيها أجر وما أكلت العافية منه فهو له صدقة . رواه النسائي والدارمي

حضرت جابر ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص خشک زمین کو آباد کرے یعنی افتادہ و بنجر زمین کو قابل کاشت بنائے تو اس کے لئے اس کام میں ثواب ہے اور اگر اس کی کھیتی میں سے جانور یا آدمی کچھ کھا لیں تو اس کے لئے صدقہ ہے (بشرطیکہ وہ اس پر صابر و شاکر ہو) (دارمی)

1914Mishkaat-al-Masabih

کوئی چیز عاریۃ یا قرض دینے کی فضیلت

وعن البراء قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من منح منحة لبن أو روق أو هدى زقاقا كان له مثل عتق رقبة . رواه الترمذي

حضرت براء ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ جو شخص دودھ کا جانور عاریۃ دے یا چاندی (یعنی روپیہ وغیرہ) قرض دے یا کسی راستہ بھولے ہوئے اور اندھے کو کوچہ و راستہ میں راہ بتائے تو اس کو ایک غلام آزاد کرنے کی مانند ثواب ہوگا۔ (ترمذی)

1915Mishkaat-al-Masabih

نصائح نبوی ﷺ

وعن أبي جري جابر بن سليم قال : أتيت المدينة فرأيت رجلا يصدر الناس عن رأيه لا يقول شيئا إلا صدروا عنه قلت من هذا قالوا : هذا رسول الله صلى الله عليه و سلم قلت : عليك السلام يا رسول الله مرتين قال : لا تقل عليك السلام فإن عليك السلام تحية الميت قل السلام عليك قلت : أنت رسول الله ؟ قال : أنا رسول الله الذي إذا أصابك ضر فدعوته كشفه عنك وإن أصابك عام سنة فدعوته أنبتها لك وإذا كنت بأرض قفراء أو فلاة فضلت راحلتك فدعوته ردها عليك . قلت : اعهد إلي . قال : لا تسبن أحدا قال فما سببت بعده حرا ولا عبدا ولا بعيرا ولا شاة . قال : ولا تحقرن شيئا من المعروف وأن تكلم أخاك وأنت منبسط إليه وجهك إن ذلك من المعروف وارفع إزارك إلى نصف الساق فإن أبيت فإلى الكعبين وإياك وإسبال الإزار فإنها من المخيلة وإن الله لا يحب المخيلة وإن امرؤ شتمك وعيرك بما يعلم فيك فلا تعيره بما تعلم فيه فإنما وبال ذلك عليه . رواه أبو داود وروى الترمذي منه حديث السلام . وفي رواية : فيكون لك أجر ذلك ووباله عليه

حضرت ابوجری ؓ کہ جن کا نام جابر بن سلیم ہے کہتے ہیں کہ جب میں مدینہ آیا تو میں ایک شخص کو دیکھا کہ لوگ ان کی عقل پر بھروسہ کرتے ہیں (یعنی ان کے کہنے پر لوگ عمل کرتے ہیں، چناچہ خود راوی اس کی وضاحت کرتے ہیں کہ) وہ جو کچھ بھی فرماتے ہیں لوگ اس پر عمل کرتے ہیں میں نے پوچھا کہ یہ کون ہیں؟ لوگوں نے کہا کہ یہ اللہ کے رسول ہیں راوی کہتے ہیں کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ کی خدمت میں حاضر ہو کردو مرتبہ یہ کہا علیک السلام آپ ﷺ پر سلام ہو۔ اے رسول خدا! رسول کریم ﷺ نے یہ سن کر کہا کہ علیک السلام نہ کہو کیونکہ علیک السلام کہنا میت کے لئے دعا ہے البتہ السلام علیک کہو! اس کے بعد میں نے عرض کیا کہ آپ ﷺ کے رسول ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ہاں میں اللہ کا رسول ہوں وہ اللہ کہ اگر تمہیں کوئی تکلیف و مصیبت پہنچے اور تم اسے پکارو تو وہ تمہاری تکلیف و مصیبت کو دور کرے اگر تمہیں قحط سالی اپنی لپیٹ میں لے اور تم اسے پکارو تو زمین تمہارے لئے سبزہ (غلہ وغیرہ) اگادے اور اگر تم زمین کے کسی ایسے حصہ میں اپنی سواری گم کر بیٹھو کہ جہاں نہ پانی کا نام و نشان ہو نہ درخت کا، یا کہ کوئی ایسا جنگل جو آبادی سے دور ہو اور پھر تم اسے پکارو تو وہ تمہاری سواری تمہارے پاس واپس بھیج دے۔ جابر کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ مجھے کوئی نصیحت فرما دیجئے آپ ﷺ نے فرمایا کسی کو برا نہ کہو۔ حضرت جابر ؓ کہتے ہیں کہ اس کے بعد میں نے کسی کو برا نہیں کہا نہ آزاد کو، نہ غلام کو، نہ اونٹ کو اور نہ بکری کو (یعنی کسی انسان کو برا کہنا کیسا، حیوانات کو بھی برا نہ کہا جیسا کہ عام لوگوں کی عادت ہوتی ہے) آنحضرت ﷺ نے فرمایا کسی بھی نیکی کو حقیر نہ جانو (یعنی اگر تم کسی کے ساتھ نیکی کرو یا کوئی دوسرا تمہارے ساتھ نیکی کرے تو اسے بہت جانو اور اس کا شکریہ ادا کرو اور خود تم سے جو بھی نیکی ہو سکے اس کے کرنے کو غنیمت جانو) اور جب تم اپنے کسی بھائی سے ملاقات کرو تو خندہ پیشانی اختیار کرو (یعنی جب تم کسی سے ملو، تو اس سے تواضع اور خوش کلامی سے پیش آؤ تاکہ تمہارے اس حسن خلق کی وجہ سے اس کا دل خوش ہو) کیونکہ یہ بھی ایک نیکی ہے اور تم اپنی ازار (یعنی پاجامہ لنگی وغیرہ) کو نصف پنڈلی تک اونچا رکھو، اگر اتنا اونچا رکھنا تم پسند نہ کرسکو تو ٹخنوں تک رکھو مگر (ٹخنوں سے نیچے) لٹکانے سے بچو! اس لئے کہ (ٹخنوں سے نیچے) لٹکانا تکبر کی علامت ہے اور اللہ تعالیٰ تکبر کو پسند نہیں کرتا۔ نیز اگر کوئی شخص تمہیں گالی دے اور تمہارے کسی ایسے عیب پر تمہیں عار دلائے جسے وہ جانتا ہے تو تم انتقاما اس کے کسی عیب پر کہ جسے تم جانتے ہو اسے عار نہ دلاؤ کیونکہ اس کا گناہ اسے ہی ملے گا۔ (ابو داؤد) ترمذی نے اس روایت کا صرف ابتدائی حصہ نقل کیا ہے جس میں سلام کا ذکر ہے (باقی روایت نقل نہیں کی ہے) اور (ترمذی کی) ایک دوسری روایت میں اس کا گناہ اسے ہی ملے گا کے بجائے یہ الفاظ ہیں کہ تمہارے لئے اس کا ثواب ہوگا اور اس کے لئے اس کا گناہ۔ تشریح حضرت جابر ؓ نے دو مرتبہ سلام اس لئے کیا کہ یا تو آنحضرت ﷺ نے پہلا سلام سنا نہیں ہوگا یا پھر یہ کہ آپ ﷺ نے ان کو سلام کا طریقہ سکھانے کی غرض سے پہلے سلام کا جواب نہیں دیا ہوگا۔ ارشاد گرامی علیک السلام نہ کہو۔ نہی تنزیہی کے طور پر ہے۔ نیز حدیث کے الفاظ، علیک السلام کہنا میت کے لئے دعا ہے، اس سے بظاہر یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ جب کوئی شخص میت کے پاس جائے علیک السلام کہے السلام علیک نہ کہے جیسا کہ کسی زندہ شخص کے لئے کہا جاتا ہے حالانکہ تحقیقی بات یہ ہے کہ میت کے لئے بھی السلام علیک کہنا ہی مسنون ہے۔ کیونکہ آنحضرت ﷺ کے بارے میں یہ بات ثابت ہے کہ آپ ﷺ جب زیارت موتی کے لئے تشریف لے جاتے تو السلام علیکم فرماتے تھے۔ لہٰذا آپ ﷺ کے ارشاد، علیک السلام کہنا میت کے لئے دعا ہے، کے معنی یہ بیان کئے جائیں گے کہ ایام جاہلیت میں علیک السلام میت کے لے دعا تھی۔ چناچہ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ عرب میں پہلے یہ معمول تھا کہ جب کوئی قبر پر جاتا تو وہاں سلام کے لئے یہی کہتا تھا کہ علیک السلام، لہٰذا آنحضرت ﷺ نے اپنے ارشاد کے ذریعے اسی طرف اشارہ فرمایا کہ علیک السلام، کہنا اہل عرب کے معمول و عادت کے مطابق مردہ کے لئے دعا ہے نہ یہ کہ اس ارشاد سے آپ کی مراد یہ تھی کہ میت کو اس طرح سلام کیا جائے۔ حضرت جابر ؓ کا یہ کہنا ہے کہ اس کے بعد میں نے کسی کو برا نہیں کہا۔ سد باب اور احتیاط کے طور پر ہے ورنہ تو جہاں تک مسئلہ کا تعلق ہے علماء لکھتے ہیں کہ کسی ایسے شخص کو برا کہنا کہ جس کا کفر کی حالت میں مرنا یقینی طور پر معلوم ہوجائے جائز ہے تاہم افضل اور بہتر یہی ہے کہ اپنی زبان کو اللہ رب العزت کے ذکر میں مشغول رکھا جاے کسی کو برا نہ کہا جائے اس لئے کہ ماسوی اللہ میں مشغول ہونا نقصان ہی کا باعث ہے جب کہ کسی کو برا نہ کہنے میں کوئی حرج و نقصان نہیں ہے بلکہ علماء تو یہاں تک لکھتے ہیں کہ شیطان کو بھی لعنت نہ کرنے میں کوئی ضرر نہیں ہے۔ جس طرح پائجامہ اور لنگی وغیرہ ٹخنوں سے نیچے لٹکانا ممنوع ہے اسی طرح کرتہ وغیرہ بھی ٹخنوں سے نیچے کرنا ممنوع ہے۔ حدیث کے آخری الفاظ کا مطلب یہ ہے کہ کہ اگر کوئی شخص تمہیں گالی دیتا ہے یا تمہارے کسی عیب سے تمہیں عار دلا کر شرمندہ و ذلیل کرنا چاہتا ہے تو تمہارا اس میں کیا نقصان ہے؟ وہ خود ہی گناہ گار ہوگا لہٰذا تم بھی اس کی طرح اپنی زبان خراب کر کے اور اسے برا بھلا کہہ کر خواہ مخواہ کے لئے اپنے ذمہ کیوں وبال لیتے ہو۔ بدی رابدی سہل باشد جزاء اگر مردی احسن الی من اساء روایت کے آخر میں وفی رواۃ الخ کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ ترمذی نے بھی یہ پوری روایت نقل کی ہے چناچہ بعض حواشی میں لکھا ہوا ہے کہ ترمذی نے بھی پوری روایت نقل کی ہے اگرچہ اس کے الفاظ مختلف ہیں یہاں جو روایت نقل کی گئی ہے وہ ابوداؤد کی نقل کردہ روایت کے الفاظ ہیں۔ جو اللہ کی راہ میں کردیا وہ باقی ہے اور جو موجود رہا وہ فانی ہے

1916Mishkaat-al-Masabih

نصائح نبوی ﷺ

وعن عائشة أنهم ذبحوا شاة فقال النبي صلى الله عليه و سلم : ما بقي منها ؟ قالت : ما بقي منها إلا كتفها قال : بقي كلها غير كتفها . رواه الترمذي وصححه

حضرت عائشہ ؓ روای ہیں کہ ایک مرتبہ صحابہ نے یا اہل بیت نے ایک بکری ذبح کی، جب اس کا گوشت تقسیم ہوچکا تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اس میں سے کیا باقی رہ گیا ہے؟ حضرت عائشہ ؓ نے عرض کیا کہ بجز شانہ کے اور کچھ باقی نہیں رہا یعنی اس کا سب گوشت تقسیم کردیا ہے صرف شانہ باقی رہ گیا ہے۔ آپ ﷺ بجز شانہ کے اور سب باقی ہے۔ (امام ترمذی نے اس روایت کو نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے) تشریح بجز شانہ کے اور سب باقی ہے۔ کا مطلب یہ ہے کہ اصل میں تو گوشت کا وہی حصہ باقی ہے جو لوگوں کو تقسیم کردیا گیا بایں طور کہ آخرت میں اس کا ثواب محفوظ اور ثابت ہوگیا اس کے بر خلاف جو حصہ گھر میں موجود رہ گیا ہے وہ فانی ہے گویا اس آیت کریمہ کی طرف اشارہ ہے۔ آیت (مَا عِنْدَكُمْ يَنْفَدُ وَمَا عِنْدَ اللّٰهِ بَاقٍ ) 16۔ النحل 46)۔ جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ فانی ہے اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ باقی رہنے والا ہے۔

1917Mishkaat-al-Masabih

دوسروں کی ستر پوشی کرنے والے کا اللہ محافظ

وعن ابن عباس قال ك سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : ما من مسلم كسا مسلما ثوبا إلا كان في حفظ من الله مادام عليه منه خرقة . رواه أحمد والترمذي

حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو مسلمان کسی دوسرے مسلمان کو کپڑا یعنی پاجامہ کرتہ اور چادر وغیرہ پہناتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے زبردست حفاظت میں رہتا ہے۔ جب تک کہ اس مسلمان کے بدن پر اس کے کپڑے کا ایک ٹکڑا بھی ہوتا ہے۔ (احمد و ترمذی) تشریح یہ دنیا کا فائدہ ہے کہ اس کے دئیے ہوئے کپڑے کا ایک ٹکڑا بھی جب تک اس مسلمان کے بدن پر رہتا ہے وہ اللہ رب العزت کی حفاظ وامان میں رہتا ہے مگر آخرت میں جو اس کو ثواب ملے گا وہ ان گنت ہے۔

1918Mishkaat-al-Masabih

پوشیدہ طور پر صدقہ دینے کی فضیلت

وعن عبد الله بن مسعود يرفعه قال : ثلاثة يحبهم الله : رجل قام من الليل يتلوا كتاب الله ورجل يتصدق بصدقة بيمينه يخفيها أراه قال : من شماله ورجل كان في سرية فانهزم أصحابه فاستقبل العدو . رواه الترمذي وقال : هذا حديث غير محفوظ أحد رواته أبو بكر بن عياش كثير الغلط

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ بطریق مرفوع نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا تین شخص ایسے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ دوست رکھتا ہے ایک تو وہ شخص جو رات کے وقت کھڑا ہوتا ہے اور کتاب اللہ کی تلاوت کرتا ہے اور دوسرا وہ شخص جو نفل صدقہ اپنے داہنے ہاتھ سے دے اور اسے چھپائے راوی کہتے ہیں کہ میرا گمان ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا بائیں ہاتھ سے اور تیسرا وہ شخص جو میدان جنگ میں اس وقت دشمن کے سامنے ڈٹ گیا جب کہ اس کے ساتھیوں کو شکست ہوگئی۔ امام ترمذی نے اس روایت کو نقل کیا ہے اور فرمایا ہے کہ یہ روایت غیر محفوظ (ضعیف) ہے۔ اس کے ایک راوی ابوبکر بن عیاش ہیں جو بہت زیادہ غلطی کرتے ہیں۔ تشریح بیمینہ، سے صدقہ دینے کے ادب کی طرف اشارہ فرمایا جا رہا ہے کہ صدقہ کا مال اپنے داہنے ہاتھ سے دیا جائے یا یہ کہ پہلے اس شخص کو صدقہ و خیرات کا مال دے جو اپنے دائیں طرف ہو۔ بائیں ہاتھ سے چھپائے کا مطلب یہ ہے کہ جب دائیں ہاتھ سے صدقہ کا مال دے تو بائیں ہاتھ کو بھی اس کی خبر نہ ہو یہ دراصل کمال پوشیدگی کے لئے مبالغہ کے طور پر فرمایا گیا ہے یعنی صدقہ کا مال انتہائی پوشیدگی کے ساتھ دیا جائے تاکہ صدقہ کا مال لینے والا عام نظروں میں اپنی کمتری محسوس نہ کرے، یا پھر ان الفاظ کے یہ معنی ہوں گے کہ صدقہ کا مال جب دائیں طرف والے کو دے تو اس کی خبر بائیں طرف والے کو بھی نہ ہونی چاہئے۔ حاصل یہ کہ اللہ تعالیٰ کی رضاء و خوشنودی کی خاطر اور ریاء و نمائش سے بچنے کے لئے اس طرح چھپا کردینا بہت زیادہ ثواب کا باعث ہے۔

1919Mishkaat-al-Masabih

پوشیدہ طور پر صدقہ دینے کی فضیلت

وعن أبي ذر عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : ثلاثة يحبهم الله وثلاثة يبغضهم الله فأما الذين يحبهم الله فرجل أتى قوما فسألهم بالله ولم يسألهم بقرابة بينه وبينهم فمنعوه فتخلف رجل بأعيانهم فأعطاه سرا لا يعلم بعطيته إلا الله والذي أعطاه وقوم ساروا ليلتهم حتى إذا كان النوم أحب إليهم مما يعدل به فوضعوا رءوسهم فقام يتملقني ويتلو آياتي ورجل كان في سرية فلقي العدو فهزموا وأقبل بصدره حتى يقتل أو يفتح له والثلاثة الذين يبغضهم الله الشيخ الزاني والفقير المختال والغني الظلوم . رواه الترمذي والنسائي

حضرت ابوذر ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا تین شخص ایسے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ دوست رکھتا ہے اور تین شخص ایسے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ دشمن رکھتا ہے چناچہ وہ اشخاص کہ جنہیں اللہ تعالیٰ دوست رکھتا ہے ان میں سے ایک تو وہ شخص ہے کہ جس نے ایسے شخص کو صدقہ دیا جو ایک جماعت کے پاس آیا اور اس سے اللہ کی قسم دے کر کچھ مانگا یعنی یوں کہا کہ میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں کہ مجھے اتنا مال یا اتنی چیز دو اس نے جماعت سے حق قرابت کی وجہ سے دیا جو اس کے اور جماعت کے درمیان تھا۔ مگر جماعت والوں نے اسے کچھ بھی نہیں دیا، چناچہ ایک شخص نے جماعت کو پس پشت ڈالا اور آگے بڑھ کر سائل کو پوشیدہ طور پردے دیا، سوائے اللہ کے اور اس شخص کے کہ جسے اس نے دیا اور کسی نے اس کے عطیہ کو نہیں جانا اور دوسرا وہ شخص ہے جو جماعت کے ساتھ تمام رات چلا یہاں تک کہ جب ان کے لئے نیند ان تمام چیزوں سے زیادہ جو نیند کے برابر ہیں پیاری ہوئی تو جماعت کے تمام فرد سو گئے مگر وہ شخص کھڑا ہوا (اللہ فرماتا ہے کہ) اور میرے سامنے گڑ گڑانے لگا اور میری آیتیں (یعنی قرآن کریم) پڑھنے لگا۔ اور تیسرا شخص وہ ہے جو لشکر میں شامل تھا جب دشمن سے مقابلہ ہوا تو اس کے لشکر کو شکست ہوگئی مگر وہ شخص دشمن کے مقابلے پر سینہ سپر ہوگیا یہاں تک کہ شہید ہوگیا یا فتح یاب اور وہ تین شخص جو اللہ کے نزدیک مبغوض ہیں ان میں سے ایک شخص تو وہ ہے جو بوڑھا ہونے کے باوجود زنا کرے، دوسرا شخص تکبر کرنے والا فقیر ہے اور تیسرا شخص دولت مند ظلم کرنے والا ہے (یعنی وہ شخص دولت مند ہوتے ہوئے قرض دینے والے کو قرض کی ادائیگی نہ کرے یا دوسروں کے ساتھ اور کسی ظلم کا معاملہ کرے) (ترمذی) تشریح حدیث کی ابتدا جس اسلوب سے ہوئی اس سے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ آنحضرت ﷺ کا ارشاد گرامی ہے مگر بعد کے اسلوب یعنی حدیث کے الفاظ یتملقنی۔ اور میرے سامنے گڑ گڑانے لگا۔ سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ یہ ارشاد نبوی نہیں ہے بلکہ کلام الٰہی یعنی حدیث قدسی ہے اسلوب کے اس اختلاف کی توجیہ یہ کی جاتی ہے کہ یہ حدیث حقیقت میں تو ارشاد نبوی ﷺ ہی ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے چونکہ اپنے نبی سے وہ کیفیت بیان کی جو اس کے اور اس کے بندے کے درمیان واقع ہوتی ہے اس لئے آنحضرت ﷺ نے اس موقع پر اس اصل کیفیت کو بیان کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کا بعینہ قول نقل فرما دیا۔ الشیخ الزانی، جو بوڑھا ہونے کے باوجود زنا کرے، میں لفظ شیخ سے یا تو اس کے اصل معنی یعنی بوڑھا ہی مراد ہے یا پھر کہا جائے کہ یہاں شیخ سے بکر (کنوارے) کی ضد محصن (شادی شدہ) مراد ہے خواہ وہ بوڑھا ہو یا جوان، جیسا کہ اس آیت منسوخ میں ہے۔ الشیخ والشیخۃ اذا زنیا فارجمواہا البتۃ نکال من اللہ واللہ عزیز حکیم، شادی شدہ مرد شادی شدہ عورت جب دونوں زنا کریں تو دونوں کو سنگسار کردو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ سزا ضروری ہے اللہ تعالیٰ غالب اور حکمت والا ہے۔ میں شیخ سے مراد شادی شدہ ہے خواہ وہ جوان ہو یا بوڑھا۔ تکبر کرنے والے فقیر کو بھی اللہ کے نزدیک مبغوض قرار دیا گیا ہے لیکن فقیر کا وہ تکبر مستثنی ہے جو کسی متکبر کے ساتھ ہو بلکہ ایسے تکبر کو تو صدقہ قرار دیا گیا ہے یعنی اگر کوئی فقیر کسی متکبر کے ساتھ تکبر کرے تو وہ اللہ کے نزدیک مبغوض نہیں ہوگا۔ بلکہ اسے صدقہ کا ثواب ملے گا، چناچہ حضرت بشیر بن حارث کے بارے میں منقول ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے امیرالمومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو خواب میں دیکھا تو ان سے عرض کیا کہ اے امیرالمومنین مجھے کوئی نصیحت فرمائیے، حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا مالداروں کو ثواب الٰہی کے حصول کی خاطر فقیروں سے مہربانی کا معاملہ کرنا بہت ہی بہتر ہے اور فقیروں کو اللہ پر توکل اور اعتماد کے جذبے سے مالداروں سے تکبر کا معاملہ کرنا بہت بہتر ہے۔ جن بری خصلتوں کا ذکر کیا گیا اگرچہ وہ سب ہی کے حق میں بری ہیں لیکن ان تینوں کے حق میں چونکہ بہت ہی زیادہ بری ہیں جس کا سبب ظاہر ہے اس لئے یہ اللہ کے دشمن قرار دئیے گئے ہیں۔

1920Mishkaat-al-Masabih

پوشیدہ طور پر صدقہ دینے کی فضیلت

وعن أنس بن مالك عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : لما خلق الله الأرض جعلت تميد فخلق الجبال فقال بها عليها فاستقرت فعجبت الملائكة من شدة الجبال فقالوا يا رب هل من خلقك شيء أشد من الجبال قال نعم الحديد قالوا يا رب هل من خلقك شيء أشد من الحديد قال نعم النار فقالوا يا رب هل من خلقك شيء أشد من النار قال نعم الماء قالوا يا رب فهل من خلقك شيء أشد من الماء قال نعم الريح فقالوا يا رب هل من خلقك شيء أشد من الريح قال نعم ابن آدم تصدق بصدقة بيمينه يخفيها من شماله . رواه الترمذي وقال : هذا حديث غريب وذكر حديث معاذ : الصدقة تطفئ الخطيئة . في كتاب الإيمان

حضرت انس ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ جب اللہ تعالیٰ نے زمین پیدا کی تو وہ ہلنے لگی پھر اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کو پیدا فرما کر انہیں زمین پر کھڑا کیا۔ چناچہ زمین ٹھہر گئی فرشتوں کو پہاڑ کی سختی سے بڑا تعجب ہوا، وہ کہنے لگے کہ ہمارے پروردگار کیا تیری مخلوقات میں کوئی چیز پہاڑوں سے بھی زیادہ سخت ہے؟ پروردگار نے فرمایا ہاں لوہا ہے (کہ وہ پتھر کو بھی توڑ ڈالتا ہے) انہوں نے پوچھا کہ ہمارے پروردگار! کیا تیری مخلوقات میں کوئی چیز لوہے سے بھی زیادہ سخت ہے؟ پروردگار نے فرمایا ہاں آگ ہے (کہ وہ لوہے کو پگھلا دیتی ہے) پھر انہوں نے عرض کیا کہ ہمارے پروردگار کیا تیری مخلوق میں کوئی چیز آگ سے بھی زیادہ سخت ہے؟ پروردگار نے فرمایا ہاں پانی ہے ( کہ وہ آگ کو بھی بجھا دیتا ہے) پھر انہوں نے پوچھا کہ ہمارے پروردگار کیا تیری مخلوقات میں کوئی چیز پانی سے بھی زیادہ سخت ہے؟ پروردگار نے فرمایا ہاں ہوا ہے (کہ وہ پانی کو بھی خشک کردیتی ہے) پھر انہوں نے عرض کیا ہمارے پروردگار کیا تیری مخلوقات میں کوئی چیز ہوا سے بھی زیادہ سخت ہے؟ پروردگار نے فرمایا ہاں اور وہ ابن آدم کا صدقہ دینا ہے کہ وہ اللہ کی راہ میں اپنے دائیں ہاتھ سے اس طرح مال خرچ کرتا ہے کہ اسے بائیں ہاتھ سے بھی چھپاتا ہے امام ترمذی نے اس روایت کو نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے۔ تشریح ابن آدم کا صدقہ دینا اس فعل کو اس لئے سب سے زیادہ سخت فرمایا ہے کہ انتہائی پوشیدگی سے کسی کو صدقہ دینے میں نفس امارہ کی مخالفت، طبیعت و مزاج پر جبر اور شیطان ملعون کی مدافعت لازم آتی ہے جب کہ اس کے علاوہ مذکورہ بالا چیزوں یعنی پہاڑ، لوہا ور آگ وغیرہ میں یہ بات نہیں پائی جاتی۔ چھپا کر صدقہ دینے میں نفس کی مخالفت اور شیطان کی مدافعت بایں طور لازم آتی ہے کہ فطری طور پر نفس یہ چاہتا ہے کہ جب میں کسی کو مال دوں تو لوگ دیکھیں اور میری تعریف کریں تاکہ مجھے دوسرے لوگوں پر فخر و امتیاز حاصل ہو لہٰذا جب اس نے عام نظروں سے چھپا کر اپنا مال کسی کو دیا تو اس نے گویا نفس امارہ کی مخالفت کی اور شیطان کو اپنے سے دور کیا۔ بعض علماء فرماتے ہیں کہ یہ زیادہ سخت اس لئے ہے کہ اس کی وجہ سے رضاء مولیٰ حاصل ہوتی ہے۔ اور ظاہر ہے کہ رضاء مولیٰ سب سے بڑی چیز ہے۔ وذکر حدیث معاذ الصدقۃ تطفیء الخطیئۃ فی کتاب الایمان۔ اور حضرت معاذ ؓ کی روایت تطفیء الخطیئۃ کتاب الایمان میں نقل کی جا چکی ہے۔

1921Mishkaat-al-Masabih

دو دو چیزیں خیرات کرنے کا ثواب

عن أبي ذر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما من عبد مسلم ينفق من كل مال له زوجين في سبيل الله إلا استقبلته حجبة الجنة كلهم يدعوه إلى ما عنده . قلت : وكيف ذلك ؟ قال : إن كانت إبلا فبعيرين وإن كانت بقرة فبقرتين . رواه النسائي

حضرت ابوذر ؓ راوی ہیں رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ جو مسلمان بندہ اپنے ہر مال میں سے دو دو چیزیں اللہ کی راہ میں خرچ کرے تو بہشت کے تمام دربان اس کا استقبال کریں گے اور اسے اپنے پاس کی چیزوں کی طرف بلائیں گے۔ حضرت ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے یہ سن کر عرض کیا کہ دو دو چیزیں خرچ کرنے کا مطلب کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا۔ اگر اس کے پاس اونٹ ہو توں دو اونٹ دے اور اگر گائیں تو دو گائیں دے۔ (نسائی) تشریح اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اپنا مال اس جگہ خرچ کرے جہاں خرچ کرنے سے اللہ تعالیٰ خوش و راضی ہوتا ہے جیسے حج، جہاد، طلب علم، غریبوں اور محتاجوں کی امداد و اعانت وغیرہ وغیرہ۔ اپنے پاس کی چیزوں سے مراد جنت کی اچھی اچھی چیزیں اور وہاں کی نعمتیں ہیں یا اس کا مطلب یہ ہے کہ وہاں کے دربان اسے جنت کے ہر دروازہ کی طرف بلائیں گے۔

1922Mishkaat-al-Masabih

قیامت کے دن مومن کا سایہ اس کا صدقہ ہوگا

وعن مرثد بن عبد الله قال : حدثني بعض أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه سمع رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : إن ظل المؤمن يوم القيامة صدقته . رواه أحمد

حضرت مرثد بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے بعض صحابہ نے مجھ سے یہ حدیث بیان کی کہ انہوں نے آپ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا قیامت کے دن مومن کا سایہ اس کا صدقہ ہوگا۔ (احمد) تشریح جس طرح سائبان دھوپ کی گرمی اور تپش سے بچاتا ہے اسی طرح قیامت کے دن صدقہ نجات اور آرام و راحت کا سبب ہوگا یا یہ کہ قیامت کے دن صدقہ کو یا اس کے ثواب کو سائبان کی شکل دے کر صدقہ دینے والے کے سر پر تان دیا جائے گا تاکہ وہ اس دن کی گرمی سے بچ جائے۔

1923Mishkaat-al-Masabih

عاشورہ کے دن زیادہ خرچ کرو

وعن ابن مسعود قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من وسع على عياله في النفقة يوم عاشوراء وسع الله عليه سائر سنته . قال سفيان : إنا قد جربناه فوجدناه كذلك . رواه رزين

حضرت ابن مسعود ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص عاشورہ کے دن اپنے اہل و عیال کے خرچ میں وسعت اختیار کرے تو اللہ تعالیٰ سارے سال اس کے مال و زر میں وسعت عطا فرمائے گا۔ حضرت سفیان ثوری (رح) کہتے ہیں کہ ہم نے اس کا تجربہ کیا تو ایسا ہی پایا۔ (رزین) اس روایت کو بیہقی نے شعب الایمان میں، ابن مسعود، ابوہریرہ، ابوسعید اور جابر ؓ سے نقل کیا ہے نیز انہوں نے اس روایت کو ضعیف قرار دیا ہے۔ تشریح بیہقی نے اس روایت کو ضعیف کہا ہے لیکن انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ اگرچہ اس کے طرق ضعیف ہیں مگر ایک کو دوسرے سے تقویت حاصل ہوجاتی ہے۔ بعض لوگوں نے عاشورہ کے سرمہ لگانے کے بارے میں جو حدیث نقل کی ہے اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے اسی طرح عاشورہ کے دن اور دس افعال کے سلسلے میں جو حدیث نقل کی جاتی ہے اس کی بھی کوئی اصل نہیں ہے البتہ عاشورہ کے صحیح احادیث کے ذریعے صرف روزہ رکھنا اور کھانے میں وسعت اختیار کرنا ثابت ہے۔