صدقہ کی فضیلت کا بیان

Mishkaat-al-Masabih · Chapter 37 · 41 hadiths · Page 1 of 3

1884Mishkaat-al-Masabih

صدقہ کی فضیلت کا بیان

صدقہ مال کا وہ حصہ کہلاتا ہے جسے کوئی شخص اپنے مال میں سے اللہ تعالیٰ کی رضا مندی اور اس کا قرب حاصل کرنے کے لئے نکالے خواہ واجب ہو یا نفل۔

1885Mishkaat-al-Masabih

خدا کی راہ میں خرچ کیا جانے والا غیر حلال مال قبول نہیں ہوتا

وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من تصدق بعدل تمرة من كسب طيب ولا يقبل الله إلا الطيب فإن الله يتقبلها بيمينه ثم يربيها لصاحبها كما يربي أحدكم فلوه حتى تكون مثل الجبل

حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص کھجور برابر (خواہ صورت میں خواہ قیمت میں) حلال کمائی میں خرچ کرے (اور یہ جان لو کہ) اللہ تعالیٰ صرف مال حلال قبول کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے اپنے داہنے ہاتھ سے قبول کرتا ہے اور پھر اس صدقہ کو صدقہ دینے والے کے لئے اسی طرح پالتا ہے۔ جیسا کہ تم میں سے کوئی شخص اپنا بچھڑا پالتا ہے یہاں تک کہ وہ (صدقہ یا اس کا ثواب) پہاڑ کی مانند ہوجاتا ہے۔ (بخاری ومسلم) تشریح کسب کے معنی ہیں جمع کرنا یہاں کسب طیب سے مراد وہ مال ہے جسے حلال ذریعوں سے جمع کیا جائے یعنی شرعی اصولوں کے تحت ہونے والی تجارت و صنعت زراعت و ملازمت اور وراثت یا حصہ میں حاصل ہونے والا مال۔ ولا یقبل اللہ الا الطیب (اللہ تعالیٰ صرف حلال مال قبول کرتا ہے) میں اسی طرف اشارہ ہے کہ بارگاہ الوہیت میں صرف وہی صدقہ قبول ہوتا ہے جو حلال مال کا ہو، غیر حلال مال قبول نہیں ہوتا نیز اس سے یہ نکتہ بھی پیدا ہوا کہ حلال مال اچھی اور نیک جگہ ہی خرچ ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اسے اپنے داہنے ہاتھ سے قبول کرتا ہے۔ کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی راہ میں خرچ کیا جانے والا حلال مال بارگاہ الوہیت میں کمال قبول کو پہنچتا ہے اور اللہ تعالیٰ حلال مال خرچ کرنے والے سے بہت زیادہ خوش ہوتا ہے اسی مفہوم کو یہاں داہنے سے لینے سے اس لئے محاورۃ اور عرفا تعبیر کیا گیا ہے کہ پسندیدہ اور محبوب چیز داہنے ہاتھ ہی سے لی جاتی ہے۔ پالتا ہے سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس صدقے کے ثواب کو بڑھاتا جاتا ہے تاکہ وہ قیامت کے روز میزان عمل میں گراں ثابت ہو۔

1886Mishkaat-al-Masabih

ایک سبق آموز حکایت :

ایک سبق اموز حکایت حدیث بالا کی روشنی میں جو یہ نکتہ بیان کیا گیا ہے کہ حلال مال اچھی جگہ ہی خرچ ہوتا ہے۔ اس سلسلے میں ایک سبق آموز حکایت سنیے شیخ علی متقی عارف باللہ (رح) فرماتے ہیں کہ ایک متقی و صالح شخص کسب معاش کرتے تھے اور ان کا معمول تھا کہ جو کچھ کماتے پہلے تو اس میں ایک تہائی اللہ کی راہ میں خرچ کردیتے پھر ایک تہائی اپنی ضروریات پر صرف کرتے اور ایک تہائی اپنی کسب معاش کے ذریعے میں لگا دیتے ایک دن ان کے پاس ایک دنیا دار شخص آیا اور کہنے لگا کہ شیخ! میں چاہتا ہوں کہ کچھ مال اللہ کی راہ میں خرچ کروں، لہٰذا آپ مجھے کسی مستحق کا پتہ دیجیے انہوں نے کہا پہلے تو حلال مال حاصل کرو اور پھر اس میں سے اللہ کی راہ میں خرچ کرو، وہ مستحق شخص ہی کے پاس پہنچے گا۔ دنیا دار شخص نے اسے مبالغہ پر محمول کیا، شیخ نے کہا اچھا تم جاؤ تمہیں جو شخص بھی ایسا ملے جس کے تمہارے دل میں جذبہ ترحم پیدا ہو اسے صدقہ کا مال دے دینا، چناچہ وہ شخص جب شیخ کے پاس سے اٹھ کر آیا تو اس نے ایک بوڑھے اندھے کو دیکھا جس کے لئے اس کے دل میں جذبہ ترحم پیدا ہوا اور یہ سمجھ کر کہ صدقہ کے مال کا اس بےچارے سے زیادہ کون مستحق ہوسکتا ہے؟ اپنے کمائے ہوئے مال میں سے اسے کچھ حصہ خیرات کردیا۔ جب دوسرے دن وہ ضعیف و نابینا شخص کے پاس سے گزرا تو اس نے سنا کہ وہ اپنے پاس کھڑے ہوئے ایک دوسرے شخص سے کل کا واقعہ بیان کر رہا تھا کہ کل میرے پاس سے ایک مالدار شخص گزرا اس نے مجھ پر ترس کھا کر اتنا مال مجھے دیا جسے میں نے فلاں بدکار شخص کے ساتھ شراب نوشی میں لٹا دیا۔ وہ دنیا دار یہ سنتے ہی شیخ کے پاس آیا اور ان سے پورا ماجرا بیان کیا، شیخ نے یہ واقعہ سن کر اپنی کمائی میں سے ایک درہم اسے دیا اور کہا کہ اسے رکھو اور یہاں سے نکلتے ہی سب سے پہلے تمہاری نظر جس پر پڑے اسے یہ درہم بطور خیرات دے دینا چناچہ وہ شیخ کا دیا ہوا درہم لے کر گھر سے باہر نکلا تو اس کی نظر سب سے پہلے ایک اچھے شخص پر پڑی جو بظاہر کھاتا پیتا معلوم ہو رہا تھا پہلے تو وہ دیتے ہوئے جھجکا مگر چونکہ شیخ کا حکم تھا اس لئے مجبورا وہ درہم اس شخص کو دے دیا۔ اس شخص نے وہ درہم لے لیا اور اپنے پیچھے مڑ کر چل دیا، اس کے ساتھ ساتھ وہ مالدار بھی چلا اس نے دیکھا وہ شخص ایک کھنڈر میں داخل ہوا ور وہاں سے دوسری طرف نکل کر شہر راہ پکڑی، مالدار بھی اس کے پیچھے کھنڈر میں داخل ہوا وہاں اسے کوئی چیز نظر نہ آئی البتہ اس نے ایک مرا ہوا کبوتر دیکھا وہ پھر اس شخص کے پیچھے پیچھے ہو لیا، پھر اسے قسم دے کر پوچھا کہ بتاؤ تم کون ہو؟ اور کس حال میں ہو؟ اس نے کہا کہ میں ایک غریب انسان ہوں، میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں وہ بہت بھوکے تھے جب مجھ سے ان کی بھوک کی شدت نہ دیکھی گئی اور انتہائی اضطراب و پریشانی کے عالم میں میں ان کے لئے کچھ انتظام کرنے کی خاطر گھر سے نکل کھڑا ہوا تو میں سرگرداں پھر رہا تھا کہ مجھے یہ مرا ہوا کبوتر نظر آیا مرتا کیا نہ کرتا؟ میں نے یہ کبوتر اٹھا لیا اور اسے لے کر اپنے گھر کی طرف چلا تاکہ اس کے ذریعے بھوک سے بلکتے بچوں کو کچھ تسکین دلاؤں مگر جب اللہ نے تمہارے ذریعے یہ درہم مجھے عنایت فرما دیا تو یہ کبوتر جہاں سے اٹھایا تھا وہیں پھینک دیا۔ اب اس مالدار کی آنکھ کھلی اور اسے معلوم ہوا کہ شیخ کا وہ قول مبالغہ پر محمول نہیں تھا بلکہ حقیقت یہی ہے کہ حلال مال اچھی جگہ اور حرام مال بری جگہ خرچ ہوتا ہے۔

1887Mishkaat-al-Masabih

صدقہ مال میں کمی نہیں کرتا۔

وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما نقصت صدقة من مال شيئا وما زاد الله عبدا بعفو إلا عزا وما تواضع أحد لله إلا رفعه الله . رواه مسلم

حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ صدقہ دینا مال میں کمی نہیں کرتا اور جو شخص کسی کی خطا معاف کردیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی عزت میں اضافہ کرتا ہے نیز جو شخص اللہ کے لئے تواضع و عاجزی اختیار کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کا مرتبہ بلند کرتا ہے۔ (مسلم) تشریح یہاں تین باتیں بتائی جا رہی ہیں ایک تو یہ کہ اپنے مال میں سے کچھ حصہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنا اگرچہ ظاہری طور پر مال میں کمی و نقصان کا سبب ہوتا ہے۔ مگر حقیقت میں صدقہ و خیرات مال میں زیادتی کا سبب ہوتا ہے بایں طور کہ صدقہ و خیرات کرنے والے کے مال میں برکت عطا فرمائی جاتی ہے وہ اور اس کا مال آفت و بلاء سے محفوظ رہتا ہے اور اس کے نامہ اعمال میں ثواب کی زیادتی ہوتی ہے بلکہ دنیا میں بھی اسے اس طرح نعم البدل عطا فرمایا جاتا ہے کہ اس کا مال بڑھتا رہتا ہے۔ دوسری بات یہ بیان فرمائی گئی ہے کہ جو شخص کسی دوسرے کا قصور لینے پر قادر ہونے کے باوجود معاف کردیتا ہے اور اس کی خطا سے درگزر کرتا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اس کی عزت بڑھاتا ہے چناچہ ایک عارف کا قول منقول ہے کہ کوئی بھی انتقال عفو و درگزر کے برابر نہیں ہے۔ تیسری بات یہ بتائی گئی ہے کہ جو شخص کسی غرض و منفعت کی خاطر نہیں بلکہ صرف اللہ جل شانہ کی رضاء و خوشنودی اور اس کا قرب حاصل کرنے کے جذبے سے تواضع و عاجزی اختیار کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اس کا مرتبہ بلند کرتا ہے۔

1888Mishkaat-al-Masabih

اعمال خیر سے منسوب جنت کے دروازے

وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من أنفق زوجين من شيء من الأشياء في سبيل الله دعي من أبواب الجنة واللجنة أبواب فمن كان من أهل الصلاة دعي من باب الصلاة ومن كان من أهل الجهاد دعي من باب الجهاد ومن كان من أهل الصدقة دعي من باب الصدقة ومن كان من أهل الصيام دعي من باب الريان . فقال أبو بكر : ما علي من دعي من تلك الأبواب من ضرورة فهل يدعى أحد من تلك الأبواب كلها ؟ قال : نعم وأرجو أن تكون منهم

حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص اپنی چیزوں میں دوہری چیز اللہ کی راہ میں (یعنی اس کی رضاء و خوشنودی کی خاطر) خرچ کرے گا تو اسے جنت کے دروازوں سے بلایا جائے گا اور جنت کے کئی یعنی آٹھ دروازے ہیں چناچہ جو شخص اہل نماز (یعنی بہت زیادہ نماز پڑھنے والا) ہوگا اسے جنت کے باب الصلوۃ سے بلایا جائے گا جو اہل نماز ہی کے لئے مخصوص ہوگا اور اس سے کہا جائے گا کہ اے بندے اس دروازے کے ذریعے جنت میں داخل ہوجاؤ اور جو شخص جہاد کرنے والا یعنی اللہ کی راہ میں بہت زیادہ لڑنے والا ہوگا اسے باب الجہاد سے بلایا جائے گا۔ جو شخص صدقہ دینے والا ہوگا اسے باب الصدقہ سے بلایا جائے۔ اور جو شخص بہت زیادہ روزے رکھنے والا ہوگا اسے باب الریان (یعنی باب الصیام سے کہ جنت میں روزہ کے دروازے کا یہی نام ہے) بلایا جائے یہ سن کر حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے عرض کیا اگرچہ جو شخص ان دروازوں میں سے کسی ایک دروازے سے بھی بلایا جائے گا اس کو تمام دروازوں سے بلائے جانے کی حاجت نہیں ہے کیونکہ ایک دروازے سے بلایا جانا بھی کافی ہوگا بایں طور کہ مقصد تو جنت میں داخل ہونا ہوگا اور یہ ایک ہی دروازے سے بھی حاصل ہوجائے گا۔ پھر بھی میں صرف علم کی خاطر جاننا چاہتا ہوں کہ کیا کوئی ایسا خوش نصیب و باسعادت شخص بھی ہوگا، جسے ان تمام دروازوں سے بلایا جائے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا۔ ہاں! اور مجھے امید ہے کہ تم انہیں لوگوں میں سے ہوگے۔ (جنہیں تمام دروازوں سے بلایا جائے گا) (بخاری ومسلم) تشریح دوہری چیز مثلا دو درہم، دو روپے، دو غلام، دو گھوڑے اور یا دو کپڑے وغیرہ۔ دعی من ابواب الجنہ (تو اسے جنت کے دروازوں سے بلایا جائے گا) کا مطلب یہ ہے کہ وہ شخص جس نے دیان میں دوہری چیزیں اللہ کی راہ میں خرچ کی تھیں جب جنت میں داخل ہونے جائے گا تو جنت کے تمام دروازوں کے داروغہ اسے بلائیں گے اور ہر ایک کی یہ خواہش ہوگی کہ یہ خوش نصیب شخص اس کے دروازے سے جنت میں داخل ہو۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ ایک عمل ان اعمال کے برابر ہے جن کے سبب جنت کے تمام دروازوں میں داخل ہونے کی سعادت حاصل ہوتی ہے۔ ریان کے معنی ہیں سیراب۔ چناچہ منقول ہے کہ باب الریان کہ جس کے ذریعے زیادہ روزے رکھنے والے جنت میں داخل ہوں گے وہ دروازہ ہے جہاں روزہ دار کو جنت میں اپنے مستقر پر پہنچنے سے پہلے شراب طہور پلائی جاتی ہے گویا جو شخص یہاں دنیا میں اللہ کی خوشنودی کی خاطر روزے رکھ کر پیاسا رہا وہ اس عظیم فعل کے بدلے میں مذکورہ دروازے سے سیراب ہونے کے بعد جنت میں داخل ہو گے۔ ایک روایت میں منقول ہے رسول کریم ﷺ نے فرمایا جنت کا ایک دروازہ ہے جسے باب الضحی کہا جاتا ہے، چناچہ قیامت کے دن پکارنے والا فرشتہ پکارے گا کہ کہاں ہیں وہ لوگ جو نماز ضحی یعنی چاشت یا اشراق کی نماز پر مداومت کرتے تھے؟ سن لو یہ دروازہ تمہارے ہی لئے ہے لہٰذا تم لوگ اللہ کی رحمت کے ساتھ اس میں داخل ہوجاؤ۔ ایک حدیث میں منقول ہے کہ جنت کے ایک دروازے کا نام باب التوبۃ ہے کہ توبہ کرنے والے اس دروازے کے ذریعے جنت میں داخل ہوں گے ایک دروازہ ان لوگوں کے لئے مخصوص ہے جو غصہ کو ضبط اور دوسروں کی خطاؤں کو معاف کرنے والے ہوں گے ایسے لوگ اس دروازے سے جنت میں داخل ہوں گے اسی طرح ایک دروازہ ایسا ہوگا جس کے ذریعے اللہ کی رضا پر راضی رہنے والوں کا داخلہ ہوگا۔ حضرت ابوبکر ؓ کے ارشاد میں فہل یدعی سے ما قبل جملہ ما علی من دعی ان کے سوال فہل یدعی الخ کی تمہید کے طور پر ہے۔ آخر میں حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی امتیازی شان کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے کہ چونکہ ان میں یہ تمام اوصاف اور خوبیان پائی جاتی تھیں اس لئے انہیں جنت کے تمام دروازوں سے بلایا جائے گا۔

1889Mishkaat-al-Masabih

حضرت ابوبکر (رض) کا مرتبہ عبودیت

وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من أصبح منكم اليوم صائما ؟ قال أبو بكر : أنا قال : فن تبع منكم اليوم جنازة ؟ قال أبو بكر : أنا . قال : فمن أطعم منكم اليوم مسكينا ؟ قال أبو بكر : أنا . قال : فمن عاد منكم اليوم مريضا ؟ . قال أبو بكر : أنا . فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما اجتمعن في امرئ إلا دخل الجنة . رواه مسلم

حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ ایک دن صحابہ کو مخاطب کرتے ہوئے رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ آج تم میں کون شخص روزہ سے ہے؟ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے فرمایا کہ میں روزے سے ہوں آپ ﷺ نے فرمایا آج تم میں سے کون شخص جنازہ کے ساتھ نماز جنازہ کے لئے گیا ہے؟ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے فرمایا کہ میں۔ آپ ﷺ نے فرمایا آج تم میں سے کس شخص نے مسکین کو کھانا کھلایا ہے۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے فرمایا کہ میں نے۔ پھر آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ آج تم میں سے کس شخص نے بیمار کی عیادت کی ہے۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے فرمایا کہ میں نے۔ پھر آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ سن لو! جس شخص میں یہ ساری باتیں جمع ہوتی ہیں وہ جنت میں داخل ہوگا۔ (مسلم) تشریح مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص ایک ہی دن روزہ بھی رکھے نماز جنازہ میں بھی شریک ہوا اور جنازہ کے ساتھ قبرستان جا کے کسی مسکین کو کھانا بھی کھلائے اور کسی بیمار کی عیادت کرنے بھی جائے تو ایسا شخص جنت میں داخل ہوگا اس طرح جنت میں داخل ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ بغیر حساب کے جنت میں جائے گا۔ کیونکہ ویسے تو مطلقاً دخول جنت کے لئے صرف ایمان ہی کافی ہے یا پھر اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسا شخص جس دروازے سے چاہے گا جنت میں جائے گا۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ایسے مواقع پر انا (میں) کہنا اور حصول ثواب کی غرض نیز اپنے احوال کی خبر دینے کے طور پر اپنی فضیلت بیان کرنا منع نہیں ہے چناچہ بعض صوفیہ اور مشائخ نے جو سالکین کو منع کیا ہے کہ اپنی زبان پر انا جاری نہ کیا جائے تو اس سے ان کی مراد یہ ہے کہ بقصد تکبر اور دعویٰ ہستی و انانیت کے طور پر انا کہا جائے جیسا کہ ابلیس ملعون نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرنے کے حکم کے وقت از راہ غرور وتکبر اور بطور انانیت کہا تھا کہ انا خیر منہ

1890Mishkaat-al-Masabih

کم تر چیز کے تحفے کو حقیر نہ سمجھا جائے

وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يا نساء المسلمات لا تحقرن جارة لجارتها ولو فرسن شاة

حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اے مسلمان عورتو! کوئی پڑوسن اپنی پڑوسن کو (تحفہ بھیجنے یا صدقہ دینے کو) حقیر نہ جانے اگرچہ وہ بکری کا کھر ہی کیوں نہ ہو۔ (بخاری ومسلم) تشریح مطلب یہ ہے کہ اپنی پڑوسن کے پاس وہ چیز جو تمہارے پاس موجود ہے بطور تحفہ و صدقہ بھیجنے کو حقیر نہ جانو، گویا تمہارے پاس جو بھی چیز موجود ہو اور جو کچھ بھی ہو سکے خواہ وہ کتنی کم تر کیوں نہ ہو اپنی پڑوسن کو بھیجتی رہا کرو۔ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ اس ارشاد گرامی میں ان عورتوں کو خطاب کیا گیا ہے جن کے پاس تحفہ بھیجا جائے لہٰذا اس صورت میں اس کے معنی یہ ہوں گے کہ تم میں سے کوئی اپنے ہمسایہ کے تحفے کو حقیر نہ جانے بلکہ اسے برضاء رغبت قبول کرے۔ اگرچہ وہ کتنا ہی کم تر کیوں نہ ہو۔ بکری کا کھر ظاہر ہے کہ نہ تو تحفہ میں لینے دینے کے قابل ہوتا ہے اور نہ اس کو بطور صدقہ کسی کو دیا جاسکتا ہے لہٰذا کہا جائے گا یہ یہاں اسے مبالغہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے، جس سے مراد یہ ہے کہ تحفے میں بھیجی جانے والی یا آنے والی چیز کتنی ہی حقیر اور کمتر کیوں نہ ہو۔ یہاں بطور خاص عورتوں کو اس لئے خطاب کیا گیا ہے کہ ان کے مزاج میں غصہ اور کم تر و حقیر چیزوں کو واپس کردینے کا رجحان زیادہ ہوتا ہے۔

1891Mishkaat-al-Masabih

ہر نیک عمل صدقہ ہے

وعن جابر وحذيفة قالا : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : كل معروف صدقة

حضرت جابر ؓ و حضرت حذیفہ ؓ نقل کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہر نیکی صدقہ ہے (بخاری ومسلم) تشریح مطلب یہ ہے کہ نیکی کے جو بھی عمل ہیں خواہ ان کا تعلق زبان سے ہو یا فعل سے اور یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کی مرضی کے موافق ہوں تو ان کا ثواب ایسا ہی ہے جیسا کہ اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے کا ثواب ہوتا ہے۔

1892Mishkaat-al-Masabih

کسی بھی نیک کام کو کمتر نہ جانو

وعن أبي ذر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا تحقرن من المعروف شيئا ولو أن تلقى أخاك بوجه طليق . رواه مسلم

حضرت ابوذر غفاری ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا تم کسی بھی نیک کام کو حقیر (کم تر) نہ جانو اگرچہ تم اپنے بھائی سے خوش روئی کے ساتھ ملو۔ (مسلم) تشریح اگر کوئی شخص کسی سے خوش خلقی اور خوش روئی کے ساتھ ملتا ہے تو وہ خوش ہوتا ہے لہٰذا کسی مسلمان کا دل خوش کرنا چونکہ اچھا اور پسندیدہ ہے اس لئے یہ بھی نیک کام ہے اور اگرچہ خوش روئی کے ساتھ کسی سے ملنا کوئی عظیم الشان کام نہیں ہے مگر اسے بھی کم تر درجے کی نیکی نہ سمجھنا چاہئے۔

1893Mishkaat-al-Masabih

کماؤ اور خیرات کرو

وعن أبي موسى الأشعري قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : على كل مسلم صدقة . قالوا : فإن لم يجد ؟ قال : فليعمل بيديه فينفع نفسه ويتصدق . قالوا : فإن لم يستطع ؟ أو لم يفعل ؟ قال : فيعين ذا الحاجة الملهوف . قالوا : فإن لم يفعله ؟ قال : فيأمر بالخير . قالوا : فإن لمي فعل ؟ قال : فيمسك عن الشر فإنه له صدقة

حضرت ابوموسیٰ اشعری ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا نعمت الٰہی کے پیش نظر ہر مسلمان پر صدقہ لازم ہے۔ صحابہ نے یہ سن کر عرض کیا کہ اگر کسی کے پاس صدقہ کرنے کے لئے کچھ ہو ہی نہ؟ تو وہ کیا کرے۔ آپ ﷺ نے فرمایا ایسے شخص کو چاہئے کہ وہ اپنے دونوں ہاتھوں کے ذریعے مال و زر کمائے اور اس طرح اپنی ذات کو بھی فائدہ پہنچائے اور صدقہ و خیرات بھی کرے۔ صحابہ ؓ نے کہا اگر وہ اس کی بھی طاقت نہ رکھتا ہو کہ محنت مزدوری کر کے کما ہی سکے یا کہا کہ اگر وہ یہ بھی نہ کرسکتا ہو۔ آپ ﷺ نے فرمایا اسے چاہئے کہ وہ جس طرح بھی ہو سکے غمگین و حاجت مند داد خواہ کی مدد کرے۔ صحابہ نے عرض کیا کہ اگر وہ یہ بھی نہ کرسکے؟ آپ ﷺ نے فرمایا اسے چاہئے کہ وہ دوسروں کو نیکی و بھلائی کی ہدایت کرے۔ صحابہ نے عرض کیا کہ اگر وہ یہ بھی نہ کرسکے؟ آپ ﷺ نے فرمایا پھر اسے چاہئے کہ وہ خود اپنے تئیں یا دوسروں کو برائی تکلیف پہنچانے سے روکے اس کے لئے یہی صدقہ ہے یعنی اسے صدقہ کا ثواب ملے گا۔ (بخاری ومسلم) تشریح برائی پہنچانے سے مراد یہ ہے کہ نہ تو خود کسی کو اپنی زبان اور اپنے ہاتھوں سے تکلیف اور ایذاء پہنچائے اور اگر اس کے امکان میں ہو تو ان لوگوں کو بھی روکے جو دوسروں کو ایذاء اور تکلیف پہنچاتے ہیں اسی مضمون کو کسی شاعر نے یوں ادا کیا ہے۔ ع مرا بخیر تو امید نیست بد مرساں

1894Mishkaat-al-Masabih

اپنے جسم کے مفاصل کی طرف سے بطور شکر صدقہ دینا چاہئے

وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : كل سلامي من الناس عليه صدقة : كل يوم تطلع فيه الشمس يعدل بين الاثنين صدقة ويعين الرجل على دابته فيحمل عليها أو يرفع عليها متاعه صدقة والكلمة الطيبة صدقة وكل خطوة تخطوها إلى الصلاة صدقة ويميط الأذى عن الطريق صدقة

حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا انسان کے بدن میں جو مفاصل (جوڑ) ہیں ان پر (یعنی ان کی طرف سے) ہر روز صدقہ دینا لازم ہے اور دو آدمیوں کے درمیان عدل کرنا بھی صدقہ ہے کسی انسان کی بایں طور مدد کرنی کہ اس کے جانور پر اسے سوار کرا دینا یا اس کا مال و اسباب رکھوا دینا بھی صدقہ ہے اچھی بات بھی صدقہ ہے ہر وہ قدم جو نماز کے لئے رکھا جائے وہ بھی صدقہ ہے اور راستہ سے تکلیف دہ چیز کو ہٹا دینا بھی صدقہ ہے۔ (بخاری ومسلم) تشریح مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے جسم میں جو مفاصل (جوڑ) پیدا کئے ہیں اس میں بھی چونکہ اس کی حکمتیں اور اس کی بیشمار نعمتیں پنہاں ہیں لہٰذا ان کے شکرانے ہر روز انسان پر صدقہ لازم ہے۔ یعدل بین الثنین الخ سے یہ بات بیان فرمائی جا رہی ہے کہ صدقہ محض اسی کا نام نہیں ہے کہ کسی شخص کو اللہ کے راستہ میں مال و زر دے دیا جائے بلکہ یہ چیزیں یعنی دو آدمیوں کے درمیان عدل کرنا وغیرہ بھی صدقہ ہی ہے کہ جس طرح اللہ کے راستہ میں مال خرچ کرنے سے ثواب ملتا ہے اسی طرح ان چیزوں کا بہت زیادہ ثواب ملتا ہے لہٰذا جو انسان روزانہ ان میں سے کوئی بھی نیک کام کرلیتا ہے تو گویا اس نے وہ صدقہ ادا کیا جو اللہ نے اس پر اس کے جوڑوں کی طرف سے شکرانہ کے طور پر لازم کیا ہے۔ اچھی بات سے مراد وہ بات اور کلام ہے جس سے ثواب حاصل ہو یا سائل وغیرہ سے نرم لہجہ میں گفتگو بھی ہوسکتی ہے۔ وکل خطوۃ سے صرف وہی قدم مراد نہیں ہیں جو نماز میں جانے کے لئے رکھے جاتے ہوں بلکہ ہر وہ قدم مراد ہے جو نیک راہ میں نیک مقصد کے لئے اٹھتے ہیں۔ مثلاً طواف کے لئے بیمار کی عیادت کے لئے جنازے میں شریک ہونے کے لئے اور علم کی طلب کے لئے۔ تکلیف دہ چیز سے مراد ہر وہ چیز ہے جس سے راہ گیر کو تکلیف پہنچنے کا خدشہ ہو جیسے کانٹے، ہڈی، پتھر، اینٹ اور نجاست وغیرہ۔

1895Mishkaat-al-Masabih

مفاصل جسم کی تعداد اور ان کی نار دوزخ سے حفاظت

وعن عائشة رضي الله عنها قالت : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : خلق كل إنسان من بني آدم على ستين وثلاثمائة مفصل فمن كبر الله وحمد الله وهلل الله وسبح الله واستغفر الله وعزل حجرا عن طريق الناس أو شوكة أو عظما أو أمر بمعروف أو نهى عن منكر عدد تلك الستين والثلاثمائة فإنه يمشي يومئذ وقد زحزح نفسه عن النار . رواه مسلم

حضرت عائشہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اولاد آدم میں سے ہر انسان تین سو ساٹھ مفاصل کے ساتھ پیدا کیا گیا ہے لہٰذا جو کوئی اللہ اکبر، الحمد للہ، لا الہ الا اللہ اور سبحان اللہ کہے اور اللہ سے استغفار کرے نیز لوگوں کے راستے سے پتھر، کانٹا اور ہڈی (یعنی ہر تکلیف دہ چیز) ہٹا دے یا نیک کام کرنے کا حکم دے یا برے افعال و اقوال سے روکے اور یہ سب یا بعض اقوال و افعال جوڑوں کی تین سو ساٹھ تعداد کے مطابق کرے تو وہ اس دن اس حالت میں چلتا ہے گویا اس نے اپنے آپ کو آگ سے بچا رکھا ہے۔ (مسلم) تشریح مطلب یہ ہے کہ مذکورہ افعال کرنا اور اپنے جسم کو جوڑوں کے بقدر مذکورہ کلمات کا ورد روزانہ کرنا چاہئے تاکہ اس کے گناہوں کا کفارہ ادا ہوتا رہے۔

1896Mishkaat-al-Masabih

صدقات معنوی

وعن أبي ذر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن بكل تسبيحة صدقة وكل تكبيرة صدقة وكل تحميدة صدقة وكل تهليلة صدقة وأمر بالمعروف صدقة ونهي عن المنكر صدقة وفي بضع أحدكم صدقة قالوا : يا رسول الله أيأتي أحدنا شهوته ويكون له فيها أجر ؟ قال : أرأيتم لو وضعها في حرام أكان عليه فيه وزر ؟ فكذلك إذا وضعها في الحلال كان له أجر . رواه مسلم

حضرت ابوذر ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہر تسبیح یعنی سبحان اللہ کہنا صدقہ ہے ہر تکبیر یعنی اللہ اکبر کہنا صدقہ ہے ہر تحمید یعنی الحمد للہ کہنا صدقہ ہے ہر تہلیل یعنی لا الہ الا اللہ کہنا صدقہ ہے نیکی کا حکم کرنا صدقہ ہے ہر برائی سے روکنا بھی صدقہ ہے اور اپنی بیوی یا لونڈی سے صحبت کرنا بھی صدقہ ہے۔ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! ہم میں کوئی اپنی شہوت پوری کرے تو اسے اس میں ثواب ملے؟ آپ ﷺ نے فرمایا مجھے بتاؤ کہ اگر کوئی شخص حرام ذریعے یعنی زنا سے اپنی شہوت پوری کرے تو آیا اسے گناہ ملے گا یا نہیں؟ نہیں (ظاہر ہے کہ یقینا اسے گناہ ملے گا) لہٰذا اسی طرح جب وہ حلال ذریعہ (یعنی بیوی اور لونڈی) سے شہوت پوری کرے گا۔ تو اسے ثواب ملے گا۔ (مسلم) تشریح جیسے ظاہر طور پر صدقہ اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے کو کہتے ہیں اور جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ثواب عطا فرماتا ہے اسی طرح مذکورہ کلمات کا ورد اور مذکورہ اعمال کو معنوی طور پر صدقہ سے تعبیر کیا جاتا ہے بایں طور کہ ان کی وجہ سے بھی اللہ تعالیٰ وہی ثواب عطا فرماتا ہے جو صدقہ کے طور پر مال دینے والوں کو ملتا ہے۔ اپنی بیوی اور اپنی لونڈی سے صحبت اگرچہ بذات خود عبادت اور صدقہ نہیں ہے اسی صحابہ کو بھی اشکال ہوا لیکن چونکہ اس طرح بیوی کے حق کی ادائیگی ہوتی ہے اور نفس کے حرام کاری کی طرف بہت زیادہ مائل ہونے اور شیطان کی ترغیب و تحریص کے باوجود اللہ تعالیٰ کے حکم کے پیش نظر اپنے آپ کو حرام ذریعے سے بچا کر حلال اور جائز ذریعے کی طرف مائل کرنا ہوتا ہے۔ اس لئے اپنی بیوی اور اپنی لونڈی سے صحبت کرنے والا صدقہ کا ثواب پاتا ہے۔

1897Mishkaat-al-Masabih

بہترین صدقہ

وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : نعم الصدقة اللقحة الصفي منحة والشاة الصفي منحة تغدو بإناء وتروح بآخر

حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا بہت دودھ والی اونٹنی کسی کو دودھ پینے کے لئے عاریۃ دینا بہترین صڈقہ ہے بہت دودھ دینے والی بکری کسی کو دودھ پینے کے لے عاریۃ دینا بہترین صدقہ ہے۔ وہ صبح کو باسن بھر دودھ دیتی ہے اور شام کو باسن بھر دودھ دیتی ہے۔ (بخاری ومسلم) تشریح عرب میں یہ معمول تھا کہ جسے اللہ تعالٰ توفیق دیتا تھا وہ اپنی دودھ دینے والی بکری یا اونٹنی کسی ضرورت مند و محتاج کو عاریۃ دے دیتا تھا۔ جس کے ذریعے وہ ضرورت مند اپنی حاجت ضرورت پوری کرنے کے بعد اسے اس کے مالک کو واپس کردیتا تھا۔ آنحضرت ﷺ نے اسی طرز عمل کی تعریف فرمائی ہے کہ یہ عمل بہترین صدقہ ہے۔

1898Mishkaat-al-Masabih

کھیتی کا نقصان اور اس پر ثواب

وعن أنس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما من مسلم يغرس غرسا أو يزرع زرعا فيأكل منه إنسان أو طير أو بهيمة إلا كانت له صدقة

حضرت انس ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو مسلمان کوئی درخت لگاتا ہے یا کھیت بوتا ہے اور پھر انسان یا پرند اور چرند مالک کی مرضی کے بغیر اس میں سے کچھ کھاتے ہیں تو یہ نقصان مالک کے لئے صدقہ ہوجاتا ہے۔ (بخاری ومسلم) اور مسلم کی ایک روایت میں حضرت جابر ؓ سے منقول ہے یہ الفاظ بھی ہیں کہ اور اس میں سے جو کچھ چوری ہوجاتا ہے وہ مالک کے لئے صدقہ ہے۔ تشریح مطلب یہ ہے کہ اگر کسی مسلمان کے درخت کا پھل وغیرہ یا اس کی کھیتی میں سے اگر کوئی چرند پرند کسی بھی طرح یا کسی بھی سبب سے کچھ کھالیتے ہیں تو مالک کو وہی ثواب ملتا ہے جو اللہ کی راہ میں اپنا مال خیرات کرنے کا ثواب ہوتا ہے گویا اس ارشاد گرامی کے ذریعے مالک کو نقصان مال پر تسلی دلائی جا رہی ہے کہ وہ ایسے موقع پر صبر کرے کیونکہ اس نقصان کے بدلے میں اسے بہت زیادہ ثواب ملتا ہے۔ ایک اشکال اور اس کا جواب اس موقع پر ایک اشکال پیدا ہوتا ہے کہ اعمال کا ثواب تو نیت پر موقوف ہے اور ظاہر ہے کہ صورت مذکورہ میں مالک کی طرف سے نیت کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تو پھر ثواب کیسے ملتا ہے شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی (رح) اس کے جواب میں فرماتے ہیں کہ کھیتی کا مقصود اصلی مطلقاً نوع انسانی و حیوانی کی حیات وبقاء ہے یعنی کاشتکار کسان جب کھیت میں بیج ڈالتا ہے۔ یا درخت کا کوئی پودا لگاتا ہے تو اس کے پیش نظر کسی فرد کی تخصیص کے بغیر مطلقاً نوع انسانی و حیوانی کی ضروریات زندگی کی تکمیل کی نیت ہوتی ہے۔ اب اس کھیت یا درخت سے انسان و حیوان کا جو فرد بھی فائدہ اٹھائے گا خواہ وہ ناجائز طریقہ سے فائدہ اٹھایا جائز طریقے سے اس کی اجمالی نیت کا تعلق اس سے ہوگا، یہ الگ بات ہے کہ جو شخص ناجائز طریقے سے فائدہ اٹھائے گا وہ اپنے جرم کی سزا پائے گا۔ مگر مالک کے حق میں اس کی اجمالی نیت کافی ہوجائے گی کیونکہ حصول ثواب کے لئے اجمالی نیت کافی ہے اس کے مالک کو نقصان کے بدلے میں صدقہ کا ثواب مل جائے گا۔

1899Mishkaat-al-Masabih

جانوروں کے ساتھ حسن سلوک ثواب کا باعث ہوتا ہے

وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : غفر لامرأة مومسة مرت بكلب على رأس ركي يلهث كاد يقتله العطش فنزعت خفها فأوثقته بخمارها فنزعت له من الماء فغفر لها بذلك . قيل : إن لنا في البهائم أجرا ؟ قال : في كل ذات كبد رطبة أجر

حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے ایک دن فرمایا کہ ایک بدکار عورت کی بخشش کردی گئی کیونکہ ایک مرتبہ اس کا گزر ایک ایسے کتے پر ہوا جو کنویں کے قریب کھڑا پیاس کی وجہ سے اپنی زبان نکال رہا تھا کہ پیاس کی شدت اسے ہلاک کر دے چناچہ اس عورت نے اپنا چری موزہ اتار کر اسے اپنی اوڑھنی سے باندھا اور اس کے ذریعے کتے کے لئے پانی نکالا اور اسے پلا دیا چناچہ اس کے اس فعل کی بنا پر اس کی بخشش کردی گئی۔ صحابہ نے یہ سن کر عرض کیا کہ کیا جانوروں کے ساتھ حسن سلوک کرنے میں ہمارے لئے ثواب ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں ہر صاحب جگر تر یعنی ہر جاندار (یعنی ہر جاندار) کے ساتھ حسن سلوک کرنے میں ثواب ہے (خواہ انسان ہو یا جانور)۔ (بخاری ومسلم) تشریح حضرت مظہر (رح) فرماتے ہیں کہ ہر جانور کے ساتھ حسن سلوک کرنے یعنی انہیں کھلانے پلانے کا ثواب ملتا ہے ہاں موذی جانور کہ جنہیں مار ڈالنے کا حکم ہے اس سے مستثنی ہیں جیسے سانپ اور بچھو وغیرہ۔ یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ جب چاہتا ہے تو کسی شخص کے کبیرہ گناہ بغیر توبہ کے بھی بخش دیتا ہے چناچہ اہل سنت والجماعت کا یہی مسلک ہے۔

1900Mishkaat-al-Masabih

جانوروں کے ساتھ بے رحمی باعث گناہ ہے

وعن ابن عمر وأبي هريرة قالا : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : عذبت امرأة في هرة أمسكتها حتى ماتت من الجوع فلم تكن تطعمها ولا ترسلها فتأكل من خشاش الأرض

حضرت ابن عمر ؓ اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ ایک عورت کو محض اس لئے عذاب میں مبتلا کیا گیا کہ اس نے ایک بلی کو باندھے رکھا یہاں تک کہ وہ بھوک کی وجہ سے مرگئی وہ عورت نہ تو اس بلی کو کچھ کھلاتی تھی اور نہ ہی اسے چھوڑتی تھی کہ وہ زمین کے جانوروں میں سے کچھ (یعنی چوہا وغیرہ) کھاتی۔ (بخاری ومسلم) تشریح اس حدیث سے جہاں یہ بات معلوم ہوئی کہ جانوروں کے ساتھ بدسلوکی و بےرحمی کا معاملہ کرنا اللہ کے عذاب میں اپنے آپ کو گرفتار کرنا ہے وہیں یہ بات بھی ثابت ہوئی کہ صغیرہ گناہ پر بھی عذاب ہوسکتا ہے اس عورت کا یہ فعل ظاہر ہے کہ صغیرہ گناہ ہی تھا چناچہ عقائد کا یہ ایک مسئلہ ہے کہ صغیرہ گناہ پر عذاب ہونا خلاف امکان نہیں ہے۔

1901Mishkaat-al-Masabih

راستے سے تکلیف دہ چیز دور کردینے کا اجر

وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : مر رجل بغصن شجرة على ظهر طريق فقال : لأنحين هذا عن طريق المسلمين لا يؤذيهم فأدخل الجنة

حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ایک شخص درخت کی ایک ٹہنی کے پاس گزرا جو راستے کے اوپر تھی اور وہ راہ گیروں کو تکلیف پہنچاتی تھی اس شخص نے اپنے دل میں کہا کہ میں اس ٹہنی کو مسلمانوں کے راستے سے صاف کر دوں گا تاکہ انہیں تکلیف نہ پہنچے چناچہ وہ شخص جنت میں داخل کیا گیا۔ (بخاری ومسلم) تشریح مطلب یہ ہے کہ اس شخص نے ٹہنی کو راستہ سے صاف کرنے کا ارادہ کیا اور پھر اسے صاف کردیا چناچہ اسے جنت میں داخل کردیا گیا یا یہ کہ وہ شخص اپنی نیک و باخلوص نیت ہی کی بنا پر جنت کا مستحق قرار پایا۔

1902Mishkaat-al-Masabih

راستے سے تکلیف دہ چیز دور کردینے کا اجر

وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لقد رأيت رجلا يتقلب في الجنة في شجرة قطعها من ظهر الطريق كانت تؤذي الناس . رواه مسلم

حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا میں نے ایک شخص کو دیکھا جو جنت میں پھرتا تھا اور چین کرتا تھا کیونکہ اس نے ایک ایسے درخت کو کاٹ ڈالا تھا جو راستے پر تھا اور لوگوں کو تکلیف پہنچاتا تھا۔ (مسلم)

1903Mishkaat-al-Masabih

راستے سے تکلیف دہ چیز دور کردینے کا اجر

وعن أبي برزة قال : قلت : يا نبي الله علمني شيئا أنتفع به قال : اعزل الأذى عن طريق المسلمين . رواه مسلم وسنذكر حديث عدي ابن حاتم : اتقوا النار في باب علامات النبوة

حضرت ابوبرزہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک دن میں نے نبی کریم ﷺ سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! مجھے کوئی ایسی بات بتا دیجئے جس کی وجہ سے میں آخرت میں فائدہ حاصل کروں۔ آپ ﷺ نے فرمایا۔ مسلمانوں کے راستے سے تکلیف دہ چیزیں ہٹا دیا کرو۔ (بخاری ومسلم) اور عدی بن حاتم کی روایت اتقوا النار الخ انشاء اللہ تعالیٰ ہم باب علامات النبوۃ میں نقل کریں گے۔