کسی سائل کو واپس لوٹانے سے بہتر ہے کہ اسے کچھ نہ کچھ دے دیا جائے۔
وعن أم بجيد قالت : قلت يا رسول الله إن المسكين ليقف على بابي حتى أستحيي فلا أجد في بيتي ما أدفع في يده . فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ادفعي في يده ولو ظلفا محرقا . رواه أحمد وأبو داود والترمذي
حضرت ام مجید ؓ کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! جب کوئی سائل میرے دروازے پر کھڑا ہوتا ہے اور مجھ سے کچھ مانگتا ہے تو مجھے بڑی شرم محسوس ہوتی ہے کیونکہ میں اپنے گھر میں کوئی ایسی چیز نہیں پاتی جو اس کے ساتھ میں دے دو؟ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ اس کے ہاتھ میں کچھ نہ کچھ دے دو خواہ وہ جلا ہوا گھر ہی کیوں نہ ہو۔ (احمد، ابوداؤد، ترمذی) اور امام ترمذی نے فرمایا ہے کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
تشریح
آنحضرت ﷺ نے صدقہ و خیرات کے بارے میں یہ حکم گویا بطور مبالغہ ارشاد فرمایا کہ سائل کو خالی ہاتھ واپس کرنے سے بہتر ہے کہ اس کے ہاتھ میں کچھ نہ کچھ ضرور دیا جائے خواہ وہ کتنی حقیر اور کم تر چیز کیوں نہ ہو۔
وعن مولى لعثمان رضي الله عنه قال : أهدي لأم سلمة بضعة من لحم وكان النبي صلى الله عليه و سلم يعجبه اللحم فقالت للخادم : ضعيه في البيت لعل النبي صلى الله عليه و سلم يأكله فوضعته في كوة البيت . وجاء سائل فقام على الباب فقال : تصدقوا بارك الله فيكم . فقالوا : بارك الله فيك . فذهب السائل فدخل النبي صلى الله عليه و سلم فقال : يا أم سلمة هل عندكم شيء أطعمه ؟ . فقالت : نعم . قالت للخادم : اذهبي فأتي رسول الله صلى الله عليه و سلم بذلك اللحم . فذهبت فلم تجد في الكوة إلا قطعة مروة فقال النبي صلى الله عليه و سلم : فإن ذلك اللحم عاد مروة لما لم تعطوه السائل . رواه البيهقي في دلائل النبوة
حضرت عثمان ؓ کے آزاد کردہ غلام کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ام المومنین حضرت ام سلمہ ؓ کی خدمت میں پکے ہوئے گوشت کا ٹکڑا تحفہ کے طور پر آیا، نبی کریم ﷺ کو گوشت بہت مرغوب تھا۔ اس لئے حضرت ام سلمہ ؓ نے اپنی لونڈی سے فرمایا۔ کہ اس گوشت کو گھر میں حفاظت سے رکھ دو شاید نبی کریم ﷺ اسے تناول فرمائیں چناچہ لونڈی نے وہ گوشت گھر کے ایک طاق میں رکھ دیا اتفاق اسی وقت ایک سائل نے دروازے پر کھڑے ہو کر صدا بلند کی کہ اے گھر والو اللہ کی راہ میں کچھ عنایت کرو۔ اللہ تعالیٰ تمہیں برکت دے گھر والوں نے کہا اللہ تمہیں برکت دے یعنی سائل کو جواب دیا جیسا کہ ہمارے یہاں جب کسی سائل کو کچھ دینا نہیں ہوتا تو کہہ دیتے ہیں کہ بابا معاف کرو سائل واپس چلا گیا جب نبی کریم ﷺ گھر میں تشریف لے گائے تو فرمایا کہ ام سلمہ ؓ تمہارے پاس کھانے کے لئے کوئی چیز بھی ہے ام سلمہ ؓ نے کہا کہ ہاں! پھر انہوں نے لونڈی سے کہا جاؤ رسول اللہ ﷺ کے واسطے وہ گوشت لے آؤ لونڈی گوشت لانے چلی گئی مگر طاق کے پاس پہنچ کر اس کی حیرت کی کوئی انتہا نہ رہی جب اس نے دیکھا کہ وہاں گوشت کا کہیں نام نہیں تھا۔ بلکہ گوشت کی جگہ سفید پتھر کا ایک ٹکڑا رکھا ہوا تھا۔ آنحضرت ﷺ نے یہ دیکھ کر فرمایا کہ تم نے سائل کو کچھ نہ دیا اور اسے خالی ہاتھ واپس کردیا اس لئے یہ گوشت سفید پتھر کی شکل اختیار کر گیا۔ بیہقی نے اس روایت کو دلائل النبوۃ میں نقل کیا ہے۔
خدا نام پر سوال کرنے والے کا سوال پورا نہ کرنے والوں کی مذمت
وعن ابن عباس رضي الله عنهما قالت : قال النبي صلى الله عليه و سلم : ألا أخبركم بشر الناس منزلا ؟ قيل : نعم قال : الذي يسأل بالله ولا يعطي به . رواه أحمد
حضرت ابن عباس ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کیا میں تمہیں یہ بتلاؤں کہ اللہ کے نزدیک بااعتبار مرتبہ کے بدترین شخص کون ہے؟ صحابہ نے عرض کیا کہ ہاں یا رسول اللہ! آپ ﷺ نے فرمایا وہ شخص جس سے اللہ کے نام پر سوال کیا جائے اور وہ اس سوال کو پورا نہ کرے۔ (احمد)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ کوئی سائل کسی شخص سے اللہ کے واسطے سے بایں طور سوال کرے کہ اللہ کے نام پر مجھے کچھ عطا کرو اور اس کے باوجود وہ شخص سائل کو کچھ نہ دے تو وہ اللہ کے نزدیک تمام لوگوں میں بااعتبار مرتبہ کے برا ہے ہاں اگر سائل مستحق نہ ہو یا سائل نے جس شخص سے سوال کیا اس کے پاس اس کی اپنی حاجت و ضرورت اور اس کے اہل و عیال کی ضرورت و حاجت سے زائد مال نہ ہو تو پھر اس سائل کا سوال پورا نہ کرنے کی صورت میں نہ تو وہ گنہگار ہوگا اور نہ وہ اس حدیث کے مطابق قابل مذمت اور گنہگار ہوگا جب کہ سائل اس کے مال کا مستحق ہو نیز یہ کہ اس کے پاس اتنا مال ہو جو اس کی ضروریات سے زائد ہو۔
مال وزر کے بارے میں حضرت ابوذر کا مسلک اور ان کا جذبہ زہد
وعن أبي ذر أنه استأذن على عثمان فأذن له وبيده عصاه فقال عثمان : يا كعب إن عبد الرحمن توفي وترك مالا فما ترى فيه ؟ فقال : إن كان يصل فيه حق الله فلا بأس عليه . فرفع أبو ذر عصاه فضرب كعبا وقال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : ما أحب لو أن لي هذا الجبل ذهبا أنفقه ويتقبل مني أذر خلفي منه ست أواقي . أنشدك بالله يا عثمان أسمعته ؟ ثلاث مرات . قال : نعم . رواه أحمد
حضرت ابوذر غفاری ؓ کے بارے میں مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے حضرت عثمان غنی ؓ سے حاضری کی اجازت چاہی تو حضرت عثمان ؓ نے انہیں اجازت دی جب وہ حاضر ہوئے تو اس وقت ان کے ہاتھ میں عصا تھا اسی موقع پر حضرت عثمان ؓ نے حضرت کعب ؓ سے جو اس وقت وہاں موجود تھے فرمایا کہ کعب! کیا حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ کا انتقال ہوگیا اور انہوں نے اپنے پیچھے بہت زیادہ مال چھوڑا ہے آپ ان کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ آیا ان کے مال کی بےانتہا کثرت و زیادتی ان کے کمال ایمان کے لئے مضرت تھی یا نہیں؟ حضرت کعب ؓ نے کہا کہ اگر حضرت عبدالرحمن ؓ اس مال میں سے اللہ تعالیٰ کا حق یعنی زکوٰۃ صدقات وغیرہ ادا کرتے تھے تو ان کے بارے میں کسی خوف کی گنجائش نہیں یہ سنتے ہی حضرت ابوذر ؓ نے اپنا عصا اٹھا کر حضرت کعب کو مارا اور کہا کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر میرے پاس سونے کا یہ پہاڑ احد ہو اور میں اسے اللہ کی راہ میں خرچ کروں تو باوجودیکہ وہ مقبول بھی ہوجائے میں اسے پسند نہیں کروں گا کہ میں اس چھ اوقیہ یعنی دو سو چالیس درہم بھی اپنے پیچے چھوڑ جاؤں۔ پھر حضرت ابوذر ؓ نے حضرت عثمان ؓ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ عثمان ؓ میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا تم نے یہ ارشاد گرامی نہیں سنا ہے؟ حضرت ابوذر ؓ نے یہ تین مرتبہ فرمایا حضرت عثمان ؓ نے فرمایا کہ ہاں میں نے بھی یہ ارشاد گرامی سنا ہے۔ (احمد)
تشریح
حضرت ابوذر غفاری ؓ صحابہ کی ایک جماعت میں سے تھے جس کا فقر و زہد امیتازی شان رکھتا تھا بلکہ اگر یہ کہا جائے تو بےجا نہ ہوگا کہ حضرت ابوذر غفاری ؓ کی ذات گرامی فقر و زہد اور استغنا کے بارے میں پوری امت میں ایک مثالی حیثیت رکھتی تھی یہی وجہ ہے کہ ان کا یہ رجحان و نظریہ تھا کہ اپنے پاس مال و زر کا ادنیٰ ترین حصہ بھی جمع نہ کیا جائے بلکہ جو کچھ بھی اپنے قبضے وقدرت میں آئے سب اللہ کی راہ میں خرچ کردیا جائے چناچہ اس موقع پر بھی ان کا یہ جذبہ ان پر غالب آگیا اور جب انہوں نے حضرت کعب ؓ سے اپنے مزاج اور رجحان کے خلاف بات سنی تو انہیں مار بیٹھے۔ اس بارے میں جہاں تک مسئلے کا تعلق ہے وہ پہلے بتایا جا چکا ہے کہ جمہور علماء کا یہ فیصلہ ہے کہ اگر مال کی زکوٰۃ ادا ہوتی ہے تو اس کو جمع کرنے میں مضائقہ نہیں ہے خواہ وہ مال کتنا ہی زیادہ کیوں نہ ہو۔ آنحضرت ﷺ کے ارشاد گرامی میں جملہ و یتقبل منی بطور مبالغہ استعمال فرمایا گیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اتنا زیادہ مال و زر اللہ کی راہ میں خرچ کروں اس کے باوجود بھی کاش کہ قبول ہوجائے۔ لفظ اذر حذف ان کے ساتھ احب کا مفعول ہے گویا اس پورے جملے کے معنییہ ہوں گے کہ اگر اللہ اتنا زیادہ مال عطا فرما دے اور میں اسے اللہ کی راہ میں خرچ کردو اور پھر وہ بارگاہ الوہیت میں قبول بھی ہوجائے تو جب بھی میں یہ گوارا نہیں کروں گا کہ اس مال میں سے کم از کم چھ اوقیہ ہی اپنے پیچھے چھوڑ جاؤں۔
ماسوا اللہ کی طرف التفات مقام قرب سے باز رکھتا ہے
وعن عقبة بن الحارث قال : صليت وراء النبي صلى الله عليه و سلم بالمدينة العصر فسلم ثم قام مسرعا فتخطى رقاب الناس إلى بعض حجر نسائه ففزع الناس من سرعته فخرج عليهم فرأى أنهم قد عجبوا من سرعته قال : ذكرت شيئا من تبر عندنا فكرهت أن يحبسني فأمرت بقسمته . رواه البخاري . وفي رواية له قال : كنت خلفت في البيت تبرا من الصدقة فكرهت أن أبيته
حضرت عقبہ بن حارث ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن کا واقعہ ہے کہ میں نے مدینہ میں نبی کریم ﷺ کے پیچھے عصر کی نماز پڑھی چناچہ جب آنحضرت ﷺ سلام پھیر چکے تو بڑی سرعت کے ساتھ کھڑے ہوئے اور لوگوں کی گردنیں پھلانگتیں ہوئے اپنی ازواج مطہرات کے بعض حجروں کی طرف چلے گئے۔ صحابہ ؓ آپ کی اس سرعت سے گھبرا گئے پھر جب آپ ﷺ حجرے سے باہر تشریف لائے اور صحابہ کو اپنی سرعت پر متعجب دیکھا تو فرمایا کہ اچانک مجھے یاد آیا کہ ہمارے پاس سونے کی ایک چیز موجود ہے اور میں نے اسے ناپسند کیا کہ وہ مجھے مقام قرب سے روکے لہٰذا فورا جا کر اہل بیت کو میں نے حکم دیا کہ سونے کی وہ چیز تقسیم کردی جائے۔ (بخاری) اور بخاری کی ہی ایک دوسری روایت میں الفاظ ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا میں زکوٰۃ میں آیا ہوا سونے کا ایک ڈلا گھر میں چھوڑ آیا تھا جو تقسیم کرنے کے بعد بچ گیا تھا لہٰذا میں نے یہ پسند نہیں کیا کہ میں اسے ایک رات کے لئے بھی اپنے پاس رکھوں۔
تشریح
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ما سو اللہ کی طرف التفات کرنا ان بندگان اللہ کو بھی کہ جو مقربین بارگاہ الوہیت ہوتے ہیں مقام قرب سے باز رکھتا ہے یا پھر یہ کہا جائے گا کہ آپ ﷺ کا یہ ارشاد گرامی امت کے لئے بطور تعلیم و تنبیہ ہے کہ دنیا اور دنیا کی چیزوں کی رغبت اور خواہش نہیں ہونی چاہئے۔
نبی اپنے پیچھے مال نہیں چھوڑتا
وعن عائشة رضي الله عنها قالت : كان لرسول الله صلى الله عليه و سلم عندي في مرضه ستة دنانير أو سبعة فأمرني رسول الله صلى الله عليه و سلم أن أفرقها فشغلني وجع نبي الله صلى الله عليه و سلم ثم سألني عنها : ما فعلت الستة أو السبعة ؟ قلت : لا والله لقد كان شغلني وجعك فدعا بها ثم وضعها في كفه فقال : ما ظن نبي الله لو لقي الله عز و جل وهذه عنده ؟ . رواه أحمد
ام المومنین حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ کی بیماری کے دوران میرے پاس آپ ﷺ کی (عرب میں اس وقت رائج) چھ یا سات اشرفیاں تھیں لہٰذا آپ نے مجھے حکم دیا کہ میں انہیں تقسیم کر دوں لیکن آپ ﷺ کی بیماری نے ان کو تقسیم کرنے سے باز رکھا۔ (یعنی آپ ﷺ کی بیماری کی وجہ سے مجھے ان کو تقسیم کرنے کی مہلت ہی نہیں ملی) چناچہ مجھ سے آنحضرت ﷺ نے پھر دریافت فرمایا کہ ان چھ یا سات اشرفیوں کا کیا ہوا؟ حضرت عائشہ ؓ (کہتی ہیں کہ) میں نے عرض کیا کہ میں انہیں ابھی تقسیم نہیں کیا ہے۔ اللہ کی قسم آپ کی بیماری نے مجھے اسے تقسیم کرنے سے باز رکھا ہے یہ سن کر آنحضرت ﷺ نے ان اشرفیوں کو منگوایا اور انہیں اپنے اپنے ہاتھوں پر رکھ کر فرمایا کہ کیا یہ گمان کیا جاسکتا ہے کہ اللہ کا نبی اللہ عز وجل سے اس حال میں ملاقات کرے کہ یہ اشرفیاں اس کے پاس ہوں۔ (احمد)
تشریح
حدیث کے الفاظ کا مطلب یہ ہے کہ یہ بات مقام نبوت کے منافی ہے کہ اللہ کا نبی جب اس دنیا سے رخصت ہو کر اپنے مالک حقیقی سے ملے تو اس کے گھر میں موجود مال و زر موجود ہو آپ ﷺ نے اس انداز سے حضرت عائشہ ؓ کو تنبیہ فرمائی کہ ان اشرفیوں کا گھر میں پڑے رہنا مجھے قطعی پسند نہیں ہے انہیں فورا تقسیم کردو۔
ذخیرہ اندوزی کی بجائے توکل علی اللہ کی تعلیم
وعن أبي هريرة رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه و سلم دخل على بلال وعنده صبرة من تمر فقال : ما هذا يا بلال ؟ قال : شيء ادخرته لغد . فقال : أما تخشى أن ترى له غدا بخارا في نار جهنم يوم القيامة أنفق بلال ولا تخش من ذي العرش إقلالا
حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ ایک دن نبی کریم ﷺ حضرت بلال ؓ کے پاس تشریف لائے تو دیکھا کہ ان کے نزدیک کھجوروں کا ڈھیر پڑا تھا۔ آنحضرت ﷺ نے ان سے پوچھا کہ بلال! یہ کیا ہے؟ حضرت بلال ؓ نے کہا کہ وہ چیز ہے جسے میں نے کل (یعنی آئندہ پیش آنے والی اپنی ضرورت) کے لئے جمع کیا ہے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ کیا تم اس بات سے نہیں ڈرتے کہ کل قیامت کے دن دوزخ کی آگ میں تم اس کا بخار دیکھو (پھر فرمایا) بلال اس ذخیرہ کو (خدا کی راہ) میں خرچ کردو اور صاحب عرش سے فقر و افلاس کا خوف نہ کرو۔
تشریح
ارشاد گرامی اما تخشی ان تری لہ غدا الخ میں غد (کل) سے مراد قیامت کا دن ہے لہٰذا کہا جائے گا کہ اس جملے میں یوم القیامۃ کے الفاظ عند کی تاکید کے طور پر ارشاد فرمائے گئے ہیں بخار سے مراد اثر ہے مطلب یہ ہے کہ کیا تم چاہتے ہو کہ قیامت کے دن اس کے سبب دوزخ کی آگ کا اثر تمہیں پہنچے، گویا یہ اس بات سے کنایہ ہے کہ ذخیرہ اندوزی دوزخ سے قریب ہے اور اس کا حاصل یہ ہے کہ اگر تم اللہ پر توکل نہیں کرو گے اور فقر و افلاس کے خوف سے ذخیرہ اندوزی کرو گے تو اس کی وجہ سے دوزخ کے قریب ہوجاؤ گے۔ حدیث کے آخری الفاظ کا مطلب یہ ہے کہ ذخیرہ اندوزی نہ کرو۔ بلکہ جو جمع کیا ہے اسے اللہ کے نام پر خرچ کر ڈالو، فقر و افلاس کا خوف نہ کرو بلکہ اللہ پر اعتماد اور بھروسہ رکھ کیونکہ جس قادر مطلق نے عرش عظیم کو پیدا کیا ہے اور تمہاری تخلیق کی ہے وہی تمہیں روزی بھی پہنچائے گا۔ گویا آنحضرت ﷺ نے حضرت بلال کو یہ حکم بطور تعلیم دیا کہ مقام کمال حاصل کرو جو توکل اور ذات حق پر کامل اعتماد ہے ورنہ تو جہاں تک مسئلے کا تعلق ہے علماء لکھتے ہیں کہ اپنی اور اپنے اہل و عیال کی ضروریات زندگی کے بقدر ذخیرہ کرنا جائز ہے۔
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : السخاء شجرة في الجنة فمن كان سخيا أخذ بغصن منها فلم يتركه الغصن حتى يدخله الجنة . والشح شجرة في النار فمن كان شحيحا أخذ بغصن منها فلم يتركه الغصن حتى يدخله النار . رواهما البيهقي في شعب الإيمان
حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا سخاوت بہشت میں ایک درخت ہے لہٰذا جو شخص سخی ہوگا وہ اس کی ٹہنی پکڑ لے گا چناچہ وہ ٹہنی اسے نہیں چھوڑے گی یہاں تک کہ اسے بہشت میں داخل نہ کرا دے (اگرچہ وہ آخر الامر ہو) اسی طرح بخل دوزخ میں ایک درخت ہے لہٰذا جو شخص بخیل ہوگا وہ اس کی ٹہنی پکڑ لے گا چناچہ وہ ٹہنی اسے نہیں چھوڑے گی یہاں تک اسے دوزخ میں داخل نہ کرا دے۔ یہ دونوں روایتیں بیہقی نے شعب الایمان میں نقل کی ہیں۔
تشریح
مطلب یہ ہے کہ سخاوت درخت کی مانند ہے گویا اس وصف کو درخت کے ساتھ مشابہت دی گئی ہے کہ جس طرح درخت بڑا ہوتا ہے اور اس کی کتنی ہی شاخیں اور ٹہنیاں ہوتی ہیں اسی طرح سخاوت بھی ایک وصف عظیم ہے جس کی بہت زیادہ شاخیں اور قسمیں ہیں وہ اس کی ٹہنی کو پکڑ لے گا کا مطلب یہ ہے کہ سخاوت کی جو قسمیں ہیں ان میں سے ایک قسم کو پکڑ لے گا۔
وعن علي رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : بادروا بالصدقة فإن البلاء لا يتخطاها . رواه رزين
حضرت علی ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے میں جلدی کرو (یعنی موت یا بیماری سے پہلے صدقہ دو کیونکہ صدقہ دینے سے بلا نہیں بڑھتی یعنی اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے بلائیں ٹلتی ہیں۔ (رزین)