وعن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : من أعتق شقصا في عبد أعتق كله إن كان له مال فإن لم يكن له مال استسعي البعد غير مشقوق عليه
اور حضرت ابوہریرہ نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا جو شخص ( مشترک) غلام کے اپنے حصہ کو آزاد کرے گا تو وہ غلام پورا آزاد ہوجائے گا ( اور یہ آزادی اس آزاد کرنے والے شخص کی طرف سے متصور ہوگی) اور اگر اس شخص کے پاس ( اتنا) مال ہو ( کہ وہ اپنے حصہ کے علاوہ باقی حصوں کی قیمت کی ادائیگی کرسکے تو دوسرے شرکاء کو ان کے حصوں کی قیمت دے دے) اور اگر اس کے پاس اتنا مال نہ ہو تو پھر ہو غلام ( ان باقی حصوں) کے بقدر محنت مزدوری یا دوسرے شرکاء کی خدمت پر مامور کیا جائے لیکن غلام کو ( کسی ایسے کام اور محنت کی) مشقت میں مبتلا نہ کیا جائے ( جو اس کی طاقت سے باہر ہو )۔ ( بخاری ومسلم )
مرض الموت میں اپنے تمام غلام آزاد کر کے اپنے ورثاء کی حق تلفی نہ کرو
وعن عمران بن حصين : أن رجلا أعتق ستة مملوكين له عند موته لم يكن له مال غيرهم فدعا بهم رسول الله صلى الله عليه و سلم فجزأهم أثلاثا ثم أقرع بينهم فأعتق اثنين وأرق أربعة وقال له قولا شديدا . رواه مسلم ورواه النسائي عنه وذكر : لقد هممت أن لا أصلي عليه بدل : وقال له قولا شديدا وفي رواية أبي داود : قال : لو شهدته قبل أن يدفن لم يدفن في مقابر المسلمين
اور حضرت عمران ابن حصین راوی ہیں کہ ایک شخص نے اپنی موت کے وقت اپنے چھ غلام آزاد کردیئے اور اس شخص کے پاس ان غلاموں کے علاوہ اور کوئی مال نہ تھا ( پھر اس شخص کی وفات کے بعد جب) رسول کریم ﷺ کو اس کا علم ہوا تو آپ ﷺ نے ان غلاموں کو بلایا اور ( دو دو کی تعداد میں) ان کے تین حصے کئے اور ان کے درمیان قرعہ ڈالا، اس طرح ان سے دو کو تو آزاد کردیا اور چار کو غلام رکھا اور آزاد کرنے والے کے حق میں ( اظہار ناراضگی) کے لئے سخت الفاظ فرمائے۔ اور نسائی کی روایت میں جو حضرت عمران ہی سے منقول ہے، ان الفاظ سخت الفاظ فرمائے کی بجائے یہ الفاظ ہیں کہ میں نے تو یہ ارادہ کرلیا تھا کہ اس شخص کی نماز جنازہ نہ پڑھوں اور ابوداؤد کی روایت میں یوں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اس ( شخص کے حق میں بطور تنبیہ وتہدید) یہ فرمایا کہ اگر میں اس کی تدفین سے پہلے اس کے جنازہ پر پہنچتا تو وہ مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہ کیا جاتا۔
تشریح
دو کو تو آزاد کردیا الخ کا مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ نے یہ حکم جاری فرمایا کہ جن دو کے نام قرعہ نکلا ہے وہ آزاد ہیں اور باقی چاروں غلام رہیں گے۔ اس سے یہ ثابت ہوا کہ اگر کوئی شخص اپنے مرض الموت میں اپنے سارے غلاموں کو آزاد کر دے تو اس آزادی کا اجراء ان غلاموں کی صرف تہائی تعداد میں ہوگا کیونکہ مرض الموت میں اس کے مال کے ساتھ اس کے ورثاء کا حق متعلق ہوجاتا ہے، اسی طرح وصیت، صدقہ، ھبہ اور ان کے مثل کا اجراء بھی تہائی مال میں ہوگا۔ زین العرب نے کہا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے یہ حکم اس لئے جاری فرمایا کہ اس وقت عام طور پر غلام زنگی ہوا کرتے تھے جو قیمت میں مساوی ہوتے تھے۔ اور امام نووی نے حضرت امام ابوحنیفہ کا یہ قول نقل کیا ہے کہ ایسی صورت میں ( مساوی سلوک کے پیش نظر) ہر غلام کا تہائی حصہ تو آزاد متصور ہوگا اور باقی دو حصوں کے بقدر اس سے محنت یا خدمت لی جائے گی۔ ا نحضرت ﷺ نے اس شخص پر اس لئے اظہار ناراضگی فرمایا کہ اس نے چھ کے چھ غلاموں کو آزاد کر کے اپنے ورثاء کو بالکل محروم کردیا تھا جو آپ ﷺ کی نظر میں سخت مکروہ عمل تھا، اس لئے آپ ﷺ نے اس کے ورثاء پر اس طرح شفقت و کرم کیا کہ اس شخص کی طرف سے دی گئی آزادی کو دو غلاموں کے حق میں جاری کیا اور باقی چار کو ان کو ورثاء کا حق قرار دے دیا۔ حدیث کے اس جزو سے یہ معلوم ہوا کہ میت کو اس کے کسی نا مشروع اور ظالمانہ عمل پر برا کہہ سکتے ہیں اور یہ اس ارشاد گرامی حدیث (اذکروا امواتکم بالخیر) ( اپنے مرے ہوئے لوگوں کو بھلائی کے ساتھ یاد کرو) کے منافی نہیں ہے۔
غلام باپ کو خرید نے کا مسئلہ
وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا يجزي ولد والده إلا أن يجده مملوكا فيشتر به فيعتقه . رواه مسلم
اور حضرت ابوہریرہ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کوئی بیٹا اپنے باپ کا بدلہ نہیں اتار سکتا مگر اس صورت میں کہ وہ اپنے باپ کو کسی کا غلام پائے اور اس کو خرید کر آزاد کر دے۔ ( مسلم)
تشریح
اس حدیث کے ظاہری مفہوم سے معلوم ہوتا ہے کہ باپ محض بیٹے کے خرید لینے سے ہی آزاد ہوجاتا بلکہ جب اسے اس کا بیٹا خرید کر آزاد کرے تب آزاد ہوتا ہے۔ چناچہ اصحاب ظواہر کا یہی مسلک ہے۔ لیکن جمہور علماء کا یہ مسلک ہے کہ باپ اپنے بیٹے کی محض ملکیت میں آجانے سے آزاد ہوجاتا ہے، اس کی صراحت دوسری فصل کی پہلی حدیث سے بھی ہوتی ہے اور اس حدیث کے معنی بھی یہی ہیں۔ چناچہ حضرت مظہر فرماتے ہیں کہ (فیعتقہ) میں حرف فا سبب کے لئے ہے۔ اس صورت میں حدیث کے آخری جزء کا ترجمہ یہ ہوگا کہ جب کہ وہ اپنے باپ کو کسی کا غلام پائے اور اس کو آزاد کرنے کے لئے خرید لے لہٰذا خریدنے کے بعد اس کی ضرورت نہیں ہوگی کہ بیٹا اس باپ سے یوں کہے کہ میں نے تمہیں آزاد کیا بلکہ وہ محض بیٹے کے خرید لینے ہی سے آزاد ہوجائے گا۔
مدبر غلام کو بیچنا جائز ہے یا نہیں ؟
وعن جابر : أن رجلا من الأنصار دبر مملوكا ولم يكن له مال غيره فبلغ النبي صلى الله عليه و سلم فقال : من يشتريه مني ؟ فاشتراه نعيم بن النحام بثمانمائة درهم . متفق عليه . وفي رواية لمسلم : فاشتراه نعيم بن عبد الله العدوي بثمانمائة درهم فجاء بها إلى النبي صلى الله عليه و سلم فدفعها إليه ثم قال : ابدأ بنفسك فتصدق عليها فإن فضل شيء فلأهلك فإن فضل عن أهلك شيء فلذي قرابتك فإن فضل عن ذي قرابتك شيء فهكذا وهكذا يقول : فبين يديك وعن يمينك وعن شمالك
اور جابر کہتے ہیں کہ ایک انصاری نے اپنے غلام کو مدبر کیا اور اس کے پاس اس غلام کے علاوہ اور کوئی مال نہیں تھا، جب نبی کریم ﷺ کو اس کی خبر پہنچی تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس غلام کو مجھ سے کون خریدتا ہے؟ چناچہ ایک شخص نعیم ابن نحام نے اس غلام کو آٹھ سو درہم کے عوض خرید لیا۔ ( بخاری ومسلم) مسلم کی ایک روایت میں یوں ہے کہ چناچہ نعیم ابن عبداللہ عدوی نے اس غلام کو آٹھ سو درہم کے عوض خرید لیا۔ انہوں نے آٹھ سو درہم نبی کریم ﷺ کی خدمت میں پیش کئے اور نبی کریم ﷺ نے وہ درہم اس شخص کو دے دیئے ( جس کا وہ غلام تھا) اور فرمایا کہ تم اس رقم کو سب سے پہلے اپنی ذات پر خرچ کرو اور اس کے ذریعہ ثواب حاصل کرو اور اس کے بعد اگر کچھ بچ جائے تو اس کو اپنے اہل و عیال پر خرچ کرو، اگر ان پر خرچ کرنے کے بعد بھی بچ جائے تو رشتہ داروں پر خرچ کرو اور اگر ان پر خرچ کرنے کے بعد بھی کچھ بچ جائے تو اس کو اس طرح اور اس طرح خرچ کرو۔ راوی کہتے ہیں کہ اس طرح سے مراد یہ ہے کہ اس کو اپنے آگے اپنے دائیں اور اپنے بائیں خرچ کرو ( یعنی تمہارے لئے آگے اور دائیں بائیں جو سائل جمع ہوں ان کو اللہ واسطے دے دو )۔
تشریح
مدبر کرنے کے معنی یہ ہیں کہ کوئی شخص اپنے غلام سے یہ کہہ دے کہ تم میرے مرنے کے بعد آزاد ہو، چناچہ اس حدیث کے ظاہری مفہوم کے مطابق ایسے غلام کو بیچنا حضرت امام شافعی اور حضرت امام محمد کے نزدیک جائز ہے، حضرت امام اعظم ابوحنیفہ یہ فرماتے ہیں کہ مدبر دو طرح کے ہوتے ہیں ایک تو مدبر مطلق اور دوسرا مدبر مقید۔ مدبر مطلق تو وہ غلام ہے جس کا مالک اسے یوں کہے کہ میرے مرنے کے بعد تم آزاد ہو۔ اور مدبر مقید وہ غلام ہے جس سے اس کا مالک یوں کہے کہ اگر میں اس بیماری میں مرجاؤں تو تم آزاد ہو۔ مدبر مطلق کا حکم تو یہ ہے کہ ایسے غلام کو آزادی کے علاوہ کسی اور صورت میں اپنی ملکیت سے نکالنا مالک کے لئے جائز نہیں ہے یعنی وہ مالک اس غلام کو آزاد تو کرسکتا ہے لیکن نہ تو اس کو فروخت کرسکتا ہے اور نہ ہبہ کرسکتا ہے، ہاں اس سے خدمت لینا جائز ہے، اسی طرح اگر لونڈی ہو تو اس سے جماع کرنا بھی جائز ہے اور اس کی مرضی کے بغیر اس کا نکاح کرنا بھی جائز ہے ایسا غلام اپنے مالک کے مرنے کے بعد اس کے تہائی مال میں سے آزاد ہوجاتا ہے اور اگر تہائی مال میں سے پورا آزاد نہ ہوسکا ہو تو پھر تہائی مال کے بقدر ( جزوی طور پر ہی آزاد ہوگا) مدبر مطلق کے برخلاف مدبر مقید کو بیچنا جائز ہے اور اگر وہ شرط پوری ہوجائے یعنی مالک اس مرض میں مرجائے تو پھر جس طرح مدبر مطلق اپنے مالک کے مرجانے کے بعد آزاد ہوجاتا ہے اسی طرح مدبر مقید بھی آزاد ہوجائے گا! لہٰذا امام ابوحنیفہ اس حدیث کے مفہوم میں تاویل کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے جس مدبر کو فروخت فرمایا وہ مدبر مقید ہوگا۔ مشکوٰۃ کے تمام نسخوں میں نعیم ابن نحام لکھا ہے لیکن علماء نے یہ وضاحت کی ہے کہ یہ کتابت کی غلطی ہے اصل میں نعیم ہی کا دوسرا نام نحام ہے، اس دوسرے نام کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ان کے بارے میں فرمایا تھا کہ میں جنت میں داخل ہوا تو وہاں نعیم کی نحمہ ( یعنی آواز سنی) اس مناسبت سے انہیں نحام کہا جانے لگا۔
ذی رحم محرم ملکیت میں آتے ہی آزاد ہوجاتا ہے
عن الحسن عن سمرة عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : من ملك ذا رحم محرم فهو حر . رواه الترمذي وأبو داود وابن ماجه
حضرت حسن بصری حضرت سمرہ سے اور وہ رسول کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا جو شخص خواہ خریدنے کی وجہ سے خواہ ہبہ یا وراثت کے ذریعہ) اپنے ذی رحم محرم کا مالک ہوگا تو وہ آزاد ہوجائے گا۔ ( ترمذی، ابن ماجہ)
تشریح
مثلاً باپ نے اپنے اس بیٹے کو خریدا جو کسی دوسرے شخص کی غلامی میں تھا یا بیٹے نے اپنے غلام باپ کو خریدا یا بھائی نے غلام خریدا تو محض خرید لینے کی وجہ سے وہ غلام آزاد ہوجائے گا۔ ذی رحم اس قرابت دار کو کہتے ہیں جو ولادت کی قرابت رکھے جس کا تعلق رحم سے ہوتا ہے ذی رحم میں بیٹا، باپ، بھائی چچا، بھتیجا اور اسی قسم کے دوسرے قرابت دار شامل ہیں اور محرم اس قرابت دار کو کہتے ہیں جس سے نکاح جائز نہ ہو۔ اس سے معلوم ہوا کہ چچا کا بیٹا اور اسی قسم کے دوسرے رشتہ دار ذی رحم محرم کے زمرہ میں شامل نہیں ہیں۔ علامہ نووی فرماتے ہیں کہ اس مسئلہ میں قرابت دار محض ملکیت میں آجانے کی وجہ سے آزاد ہوجاتا ہے یا نہیں؟ علماء کے اختلافی اقوال ہیں چناچہ اہل ظواہر کا قول یہ ہے کہ ان قرابت داروں میں سے کوئی بھی محض ملکیت میں آجا نے سے آزاد نہیں ہوجاتا بلکہ آزاد کرنا ضروری ہوتا ہے، ان کی دلیل حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے جو پہلی فصل میں گذری ہے۔ جمہور علماء یہ فرماتے ہیں کہ محض ملکیت میں آجانے کی وجہ سے اصول کے درجہ کے قرابت دار ( جیسے باپ داد ا، پڑ دادا وغیرہ) اور فروع کے درجہ کے قرابت دار، ( جیسے بیٹا، پوتا پڑپوتا وغیرہ) آزاد ہوجاتے ہیں، البتہ اصول اور فروع کے علاوہ دوسرے قرابت داروں کے بارے میں جمہور علماء کے بھی مختلف اقوال ہیں، چناچہ حضرت امام شافعی کا مسلک تو یہ ہے کہ یہ خصوصیت صرف اصول و فروع کے قرابت داروں ہی کے حاصل ہے وہ محض ملکیت میں آجانے کی وجہ سے آزاد ہوجاتے ہیں جب کہ حضرت امام مالک نے اس خصوصیت میں بھائی کو بھی شامل کیا ہے، ان کا دوسرا قول یہ ہے کہ تمام ذی رحم محرم آزاد ہوجا تے ہیں۔ نیز ان کی تیسری روایت امام شافعی کے مسلک کے مطابق ہے۔ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کا مسلک یہ ہے کہ ہر وہ قرابت دار جو ذی رحم محرم ہو محض ملکیت میں آجانے کی وجہ سے آزاد ہوجاتا ہے۔
ام ولد، اپنے آقا کی وفات کے بعد آزاد ہوجاتی ہے
وعن ابن عباس عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : إذا ولدت أمة الرجل منه فهي معتقة عن دبر منه أو بعده . رواه الدارمي (2/273) 3395 - [ 8 ] ( صحيح ) وعن جابر قال : بعنا أمهات الأولاد على عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم وأبي بكر فلما كان عمر نهانا عنه فانتهينا . رواه أبو داود
اور حضرت عباس نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا جب کسی شخص کی لونڈی اس کے ( نطفہ) سے بچہ جنے تو وہ لونڈی اس شخص کے مرنے کے پیچھے۔ یا یہ فرمایا کہ اس شخص کے مرنے کے بعد آزاد ہوجائے گی۔ ( دارمی)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ جو لونڈی اپنے مالک کے بچہ کو جنم دے وہ اس مالک کے مرنے کے بعد آزاد ہوجاتی ہے وہ مالک کی زندگی میں آزاد نہیں ہوتی لیکن مالک اس لونڈی کو نہ تو فروخت کرسکتا ہے اور نہ ہبہ کرسکتا ہے اس مسئلہ پر علماء کا اجماع و اتفاق ہے، اس کے برخلاف جو روایت منقول ہے وہ منسوخ ہے اس کی تفصیل اگلی حدیث کے ضمن میں آئے گی۔ اور حضرت جابر کہتے ہیں کہ ہم نے رسول کریم ﷺ اور حضرت ابوبکر صدیق کے زمانہ میں بچوں کی ماؤں کو بیچا لیکن حضرت عمر فاروق خلیفہ ہوئے تو انہوں نے ہمیں ان کو بیچنے سے منع کردیا اور ہم اس سے باز رہے۔ ( ابوداؤد) تشریح بچوں کی ماؤں سے مراد وہ لونڈیاں ہیں جن سے ان کے مالکوں کی اولاد ہوچکی تھی۔ یہاں ایک اعتراض پیدا ہوتا ہے کہ جب آنحضرت ﷺ اور حضرت ابوبکر صدیق کے زمانہ میں ان لونڈیوں کو بیچا جاتا تھا تو حضرت عمر نے اس سے کیوں منع کیا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس بات کا قوی احتمال ہے کہ ان لونڈیوں کو بیچنے کی اجازت کی منسوخی کا حکم آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں عام لوگوں تک نہ پہنچا ہوگا اور ان لونڈیوں کو بیچے جانے کی خبر آنحضرت ﷺ تک نہ پہنچی ہوگی۔ لہٰذا اس صورت میں حضرت جابر کا یہ ارشاد ایسی لونڈیوں کے بیچنے کے جواز کی دلیل نہیں ہوسکتا۔ دلیل تو جب ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کو ان لونڈیوں کے بیچے جانے کی اطلاع ہوتی اور آپ ﷺ اس کو جائز رکھتے۔ نیز ایک احتمال یہ بھی ہے کہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں ان لونڈیوں کو بیچے جانے کا واقعہ اس کی اجازت کی منسوخی سے پہلے کا ہوگا، اسی طرح حضرت ابوبکر صدیق کے زمانے کے بارے میں بھی یہ احتمال ہے کہ حضرت ابوبکر کا زمانہ خلافت چونکہ بہت قلیل تھا اس میں بھی وہ دوسری مہمات میں مشغول رہے اس لئے انہیں اس کی علم نہ ہوا ہوگا، اگر ان کو اس کی خبر ہوتی تو وہ اس فعل سے ضرور باز رکھتے۔ حضرت ابوبکر کے بعد جب حضرت عمر فاروق خلیفہ ہوئے تو انہوں نے لوگوں کو اس سے روک دیا کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ رسول کریم ﷺ نے ام ولد کو بیچنے کی ممانعت فرما دی تھی۔
اگر آزادی کے وقت غلام کے پاس کچھ مال ہو تو آقا کی اجازت کے بعد ہی وہ اس مال کا مالک ہو گا
وعن ابن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من أعتق عبدا وله مال فمال العبد له إلا أن يشترط السيد . رواه أبو داود وابن ماجه
اور حضرت ابن عمر کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اگر کوئی شخص اپنے غلام کو آزاد کرے اور اس غلام کے پاس کچھ مال ہو تو غلام کا وہ مال اس کے مالک ہی کا ہے ہاں اگر مالک اس کی شرط کر دے ( تو پھر وہ مال اس غلام کا ہوجائے گا۔ ( ابوداؤد و ابن ماجہ)
تشریح
ظاہر ہے کہ کوئی بھی غلام کسی بھی مال کا مالک ہوتا ہی نہیں تو اس کے پاس مال کہاں سے ہوگا لہٰذا اور اس غلام کے پاس کچھ مال ہو اس سے مراد یہ ہے کہ اس غلام نے اپنے مالک کی اجازت سے جو محنت مزدوری یا تجارت وغیرہ کی ہے اور اس کے نتیجہ میں جو مال حاصل ہوا ہے اگر وہ مال اس غلام کے پاس ہو تو اس کے بارے میں بھی حکم یہ ہے کہ وہ دراصل اس غلام کے آقا ہی کی ملکیت ہے کیونکہ غلام اور اس کے پاس جو کچھ ہوتا ہے سب کا مالک اس کا آقا ہی ہوتا ہے لہٰذا یہ گمان نہ کیا جائے کہ غلام جب آزاد ہوجانے کی وجہ سے ملکیت قائم کرنے کا اہل ہوگیا ہے تو وہ مال جو اس کے پاس پہلے سے موجود تھا وہ اس کی ملکیت میں آگیا ہے کیونکہ وہ مال تو پہلے بھی اس کے آقا کی ملکیت تھا اور اب اس کے آقا کی ملکیت رہے گا۔ غلام کو اس سے کوئی سروکار نہیں ہوگا، ہاں اگر اس کا آقا اس کو آزاد کرتے وقت یہ کہہ دے کہ یہ مال غلام کی ملکیت ہے تو اس صورت میں وہ مال اس آقا کی طرف سے اس غلام کے لئے صدقہ اور ہبہ ہوجائے گا اور وہ آزاد ہونے کے بعد اس کا مالک ہوجائے گا۔
آزادی جزوی طور پر واقع ہوتی ہے یا نہیں ؟
وعن المليح عن أبيه : أن رجلا أعتق شقصا من غلام فذكر ذلك للنبي صلى الله عليه و سلم فقال : ليس لله شريك فأجاز عتقه . رواه أبو داود
اور حضرت ابوملیح ( تابعی) اپنے والد مکرم ( حضرت اسامہ ابن عمیر صحابی) سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنے ایک غلام میں سے کچھ حصہ آزاد کیا، جب نبی کریم ﷺ سے اس کا ذکر کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا اللہ کا کوئی شریک نہیں ہے اور پھر یہ حکم دیا کہ اس غلام کو بالکل آزاد کردیا جائے۔ ( ابوداؤد)
تشریح
آنحضرت ﷺ کے ارشاد گرامی کا حاصل یہ ہے کہ جو بھی کام اللہ تعالیٰ کے لئے کیا جائے اور وہ عبادت کی قسم سے ہو تو اس میں اپنے حصہ کو شریک نہ کرنا چاہئے۔ لہٰذا ایک غلام کے بعض حصوں کو آزاد کردینا اور بعض حصوں کو بدستور غلام رکھنا مناسب نہیں ہے۔ حدیث کے آخری الفاظ سے بظاہر یہ ثابت ہوتا ہے کہ آزادی اور غلامی متجزی نہیں ہوتی، لیکن حضرت امام اعظم ابوحنیفہ چونکہ متجزی کے قائل ہیں اس لئے ان کے نزدیک ان الفاظ کے معنی یہ ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے اس غلام کو بالکل آزاد کردینے کا حکم دیا بایں طور کہ آپ ﷺ نے اس کے مالک کو اس کی ترغیب دلائی کہ وہ اس غلام کو بالکل آزاد کر دے۔
وعن سفينة قال : كنت مملوكا لأم سلمة فقالت : أعتقك وأشترط عليك أن تخدم رسول الله صلى الله عليه و سلم ما عشت فقلت : إن لم تشترطي علي ما فارقت رسول الله صلى الله عليه و سلم ما عشت فأعتقتني واشترطت علي . رواه أبو داود وابن ماجه
اور حضرت سفینہ کہتے ہیں کہ ( ابتداءً ) میں حضرت ام سلمہ کی ملکیت میں تھا ( ایک دن) انہوں نے مجھ سے فرمایا کہ میں تمہیں آزاد کرنا چاہتی ہوں، لیکن یہ شرط عائد کرتی ہوں کہ تم جب تک زندہ رہو رسول کریم ﷺ کی خدمت کرتے رہو گے میں نے عرض کیا ( کہ رسول کریم ﷺ کی خدمت تو میرے لئے سعادت وخوش بختی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے) اگر آپ یہ شرط عائد نہ کرتیں تب بھی میں اپنے جیتے جی رسول کریم ﷺ سے جدا نہ ہوتا چناچہ حضرت ام سلمہ نے مجھے آزاد کردیا اور آنحضرت ﷺ کی خدمت کی شرط مجھ پر عائد کردی۔ ( ابوداؤد، ابن ماجہ)
تشریح
سفینہ نبی کریم ﷺ کے آزد کردہ غلام تھے، لیکن بعض حضرات یہ فرماتے تھے کہ یہ حضرت ام سلمہ کے غلام تھے جو آپ ﷺ کی زوجہ مطہرہ تھیں، پھر حضرت ام سلمہ نے ان کو مذکورہ بالا شرط کے ساتھ آزاد کردیا تھا سفینہ کا اصل نام مہران یا رومان اور یا رباح تھا ان کی کنیت ابوعبد الرحمٰن یا ابوالبختری تھی، سفینہ ان کا لقب تھا اور اسی نام کے ساتھ زیادہ مشہور تھے، اس لقب کا پس منظر یہ تھا کہ آنحضرت ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام کی خدمت کیا کرتے تھے جب غزوات میں جاتے تو لوگوں کا سامان اپنی پیٹھ پر لاد کر ادھر ادھر پہنچاتے تھے۔ سفینہ کشتی کو کہتے ہیں جس طرح کشتی بار برداری کے کام آتی ہے اس طرح یہ بھی لوگوں کے بوجھ ڈھوتے تھے، اسی اعتبار سے ان کا لقب سفینہ ہوگیا۔ منقول ہے کہ ایک مرتبہ حضرت سفینہ اسلامی لشکر کے ہمراہ تھے کہ قافلہ سے بچھڑ گئے اور جنگل میں راستہ بھول گئے، وہ راستہ کی تلاش میں سر گرداں تھے کہ اتنے میں قریب کی جھاڑیوں سے ایک شیر نمودار ہوا اور ان کے سامنے آگیا، انہوں نے شیر کو دیکھتے ہی کہا کہ ابوالحارث! میں سفینہ ہوں جو رسول کریم ﷺ کا آزاد کردہ غلام ہے! یہ سنتے ہی شیر دم ہلانے لگا اور پھر ان کے آگے ہو لیا اور ان کو منزل مقصود تک پہنچا دیا۔
مکاتب جب تک پورا بدل کتابت ادا نہ کر دے غلام ہی رہے گا
وعن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : المكاتب عبد ما بقي عليه من مكاتبته درهم . رواه أبو داود
اور حضرت عمرو ابن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے اور نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا مکاتب ( اس وقت تک) غلام رہے گا جب تک کہ اس کے بدل کتابت میں سے ایک درہم بھی باقی رہے گا۔ ( ابوداؤد)
تشریح
مکاتب اس غلام کو کہتے ہیں جس کو اس کا مالک یہ لکھ کر دے دے کہ جب تم اتنے روپے ادا کرو گے آزاد ہوجاؤ گے، چناچہ اسی کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ مالک نے اس کی آزادی کے لئے جتنے روپے مقرر کئے ہیں جب تک وہ پورے مالک کو ادا نہ ہوجائیں گے وہ مکاتب، غلام ہی رہے گا، اگر اس مقدار میں سے مثلاً ایک روپیہ بھی باقی رہ گیا تو وہ آزاد نہیں ہوگا، یہ نہیں ہوگا کہ اس نے جتنا روپیہ مالک کو ادا کردیا ہے اس کے حساب سے اس کا کچھ حصہ آزاد ہوجائے اور جو روپیہ باقی رہ گیا اس کے مطابق کچھ حصہ غلام رہے۔
عورتوں کو اپنے مکاتب غلام سے پردہ کا حکم
وعن أم سلمة قالت : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا كان عند مكاتب إحداكن وفاء فلنحتجب منه . رواه الترمذي وأبو داود وابن ماجه
اور حضرت ام سلمہ کہتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے ( عورتوں) سے فرمایا کہ جب تم میں سے کسی ( عورت) کے مکاتب غلام کے پاس اتنا روپیہ ہوجائے جس سے وہ اپنا پورا بدل کتابت ادا کرسکے تو اس ( مالکہ) کو چاہئے کہ وہ اس مکاتب سے پردہ کرے۔ ( ترمذی، ابوداؤد، ابن ماجہ)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ مکاتب نے جب تک پورا بدل کتابت ادا نہیں کردیا غلام اور محرم ہے اس سے پردہ کرنا ضروری نہیں ہے اگر اس کے پاس اتنا مال و زر ہوگیا ہے جس سے وہ اپنا پورا بدل کتابت ادا کرسکتا ہے تو ازراہ تقویٰ و احتیاط اس سے پردہ کرنا چاہئے کیونکہ جب وہ پورا بدل کتابت ادا کرنے کی قدرت واستطاعت رکھتا ہے تو گویا اس نے واقعی اپنے بدل کتابت ادا کردیا ہے اس حدیث کے سلسلہ میں زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے یہ حکم مخصوص طور پر اپنی ازواج مطہرات کے لئے فرمایا تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد آیت (لستن کا حد من النساء) کے مطابق ازواج مطہرات کا پردہ بھی دوسری عورتوں کی بنسبت زیادہ سخت تھا
مکاتب کی طرف سے بدل کتابت کی جزوی عدم ادائے گی کا مسئلہ
وعن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : من كاتب عبده على مائة أوقية فأداها إلا عشر أواق أو قال : عشرة دنانير ثم عجز فهو رقيق . رواه الترمذي وأبو داود وابن ماجه وعن ابن عباس عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : إذا أصاب المكاتب حدا أو ميراثا ورث بحساب ما عتق منه . رواه أبو داود والترمذي وفي رواية له قال : يودى المكاتب بحصة ما أدى دية حر وما بقي دية عبد . وضعفه الفص الثالث
اور حضرت عمرو ابن شعیب اپنے والد ( حضرت شعیب) سے اور وہ اپنے دادا سے نقل کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اگر کسی شخص نے اپنے غلام کو سو اوقیہ کے بدلے مکاتب کیا اور اس غلام نے سب اوقیے ادا کردیئے مگر دس اوقیے ادا نہ کرسکا یا یہ فرمایا کہ دس دینار ادا نہ کرسکا ( یہاں راوی کو شک ہوا ہے کہ آپ ﷺ نے دس اوقیہ فرمایا تھا یا دس دینار کا ذکر کیا تھا) اور پھر وہ اس باقی کی ادائے گی سے عاجز ہوگیا تو وہ مکاتب ( بدستور) غلام ہی رہے گا۔ ( ترمذی، ابوداؤد، ابن ماجہ)
تشریح
ابن مالک فرماتے ہیں کہ یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ مکاتب کا اپنے بدل کتابت کے کچھ حصے کی ادائے گی سے قاصر رہنا پورے بدل کتابت کی ادائیگی سے قاصر رہنا ہے لہٰذا ایسی صورت میں مالک کو اس کی کتاب فسخ کردینے کا حق حاصل ہوجاتا ہے اور فسخ کتابت کے بعد وہ مکاتب بدستور غلام رہتا ہے، نیز حدیث کے الفاظ (فھو رقیق) سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس مکاتب نے اپنے بدل کتابت کا جو کچھ حصہ مالک کو ادا کردیا ہے وہ اس مالک ہی کی ملکیت رہے گا۔ اور حضرت ابن عباس نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا اگر کوئی مکاتب دیت یا میراث کا مستحق ہوجائے تو اس کو ( اس دیت یا میراث کا) صرف اس قدر حصہ ملے گا جس قدر وہ آزاد ہوا ہے۔ ( ابوداؤد، ترمذی) اور ترمذی کی ایک روایت میں یوں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا مکاتب کو دیت میں اس حصہ کے بقدر مال دیا جائے گا جو وہ اپنی آزادی کی قیمت ( یعنی بدل کتابت) میں سے ادا کرچکا تھا اور اس حصہ کے بقدر قیمت دی جائے گی اور ابھی بطور غلام باقی ہے، اس روایت کو ترمذی نے ضعیف کہا ہے۔ تشریح دیت یا میراث کا مستحق ہوجائے کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی مکاتب کسی دیت یا کسی میراث کا حقدار ہوجائے تو اس دیت یا میراث میں سے اس کو اسی قدر ملے گا جس قدر وہ آزاد ہوا ہے اس کو مثال کے طور پر یوں سمجھا جاتا ہے کہ زید کسی شخص کا غلام تھا اس کے مالک نے اس کو مکاتب کیا اور زید نے ابھی اپنے بدل کتابت میں سے آدھا ہی حصہ اپنے مالک کو ادا کیا تھا کہ اس کا باپ مرگیا جو ایک آزاد شخص تھا لیکن اس نے اپنے اس مکاتب بیٹے یعنی زید کے علاوہ اور کوئی وارث نہیں چھوڑا تو اس صورت میں زید اپنے مرحوم باپ کی وراثت میں صرف آدھے حصے کا حقدار ہوگا۔ یا دوسری صورت جس کو دوسروں نے بیان کیا ہے، یہ ہو کہ اس مکاتب نے اپنے بدل کتابت میں سے آدھا حصہ اپنے مالک کو ادا کیا تھا کہ کسی نے اس ( زید) کو قتل کردیا تھا، اس صورت میں قاتل اس مکاتب کے آدھے آزاد حصہ کی دیت تو اس کے ورثاء کو ادا کرے گا اور اس کے آدھے غلام حصہ کی دیت جو اس کی قیمت کا بھی آدھا حصہ ہے، اس کے مالک کو ادا کرے مثلاً بکر نے اپنے غلام زید کو ایک ہزار کے بدلے مکاتب کیا ویسے زید نے غلام ہونے کی حی ثیت سے سو روپے کی قیمت کا تھا، مکاتب ہونے کے بعد زید اپنے مالک بکر کو اپنے بدلے کتابت کے مقررہ ایک ہزار روپے میں سے پانچ سو روپے ہی ادا کر پایا تھا کہ کسی شخص نے اس کو قتل کردیا، اس صورت میں قاتل زید کے ورثاء کو پانچ سو روپے ادا کرے گا جو اس کی آزادی کی قیمت ( یعنی بدل کتابت) کا نصف حصہ ہے اور اس کے ساتھ ہی اس کے مالک بکر کو پچاس روپے ادا کرے گا جو اس کی اصل قیمت کا نصف حصہ ہے۔ اس حدیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مکاتب اپنے بدل کتابت میں سے جو مقدار مالک کو ادا کر دے گا اس کے بقدر وہ آزاد ہوجائے گا اور جو مقدار ادا نہیں کرے گا اس کے بقدر غلام رہے گا چناچہ اس حدیث پر صرف امام نخعی نے عمل کیا ہے لیکن جمہور علماء یہ فرماتے ہیں کہ نہ صرف یہ کہ یہ حدیث ضعیف ہے جس کو کسی مسلک کی بنیاد نہیں بنایا جاسکتا بلکہ یہ ان دونوں حدیثوں کے معارض بھی ہے جو اس سے پہلے بروایت حضرت عمرو ابن شعیب نقل ہوچکی ہیں جن سے یہ بات بصراحت ثابت ہوتی ہے کہ مکاتب کے ذمہ جب تک بدل کتابت کا کچھ حصہ بھی باقی رہے گا وہ غلام ہی رہے گا۔
مالی عبادت کا ثواب میت کو پہنچتا ہے
عن عبد الرحمن بن أبي عمرة الأنصاري : أن أمه أرادت أن تعتق فأخرت ذلك إلى أن تصبح فماتت قال عبد الرحمن : فقلت للقاسم بن محمد : أينفعها أن أعتق عنها ؟ فقال القاسم : أتى سعد بن عبادة رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : إن أمي هلكت فهل ينفعها أن أعتق عنها ؟ فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : نعم . رواه مالك (2/274) 3404 - [ 17 ] ( لم تتم دراسته ) وعن يحيى بن سعيد قال : توفي عبد الرحمن بن أبي بكر في نوم نامه فأعتقت عنه عائشة أخته رقابا كثيرة . رواه مالك
حضرت عبد الرحمٰن ابن ابوعمرہ انصاری ( تابعی) کے بارے میں منقول ہے کہ ان کی والدہ نے ( ایک دن) بردے کو آزاد کرنے کا ارادہ کیا مگر وہ اگلی صبح ہونے تک اس ارادہ کو عملی جامہ نہ پہنا سکی تھیں، کہ اس دنیا سے رخصت ہوگئیں۔ عبد الرحمٰن کہتے ہیں کہ میں نے حضرت قاسم ابن محمد سے ( اس صورت حال کو ذکر کیا اور ان سے پوچھا کہ اگر میں اپنی والدہ کی طرف سے ( بردہ کو) آزاد کروں تو کیا اس سے ان کو نفع پہنچے گا؟ حضرت قاسم نے فرمایا کہ ( ایک مرتبہ) حضرت سعد ابن عبادہ رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ میری والدہ کا ( اچانک) انتقال ہوگیا ہے، اگر میں ان کی طرف سے بردہ آزاد کروں تو کیا اس سے ان کو نفع پہنچے گا؟ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ ہاں نفع پہنچے گا۔ ( مالک)
تشریح
حضرت قاسم ابن محمد، حضرت ابوبکر صدیق کے پوتے تھے، اس وقت مدینہ میں جو سات فقہاء مشہور تھے ان میں سے ایک یہ بھی تھے ہاں نفع پہنچے گا کا مطلب یہ ہے کہ تم ان کی طرف سے جو بردہ آزاد کرو گے اس کا ثواب تمہاری والدہ کو پہنچے گا، چناچہ علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ مالی عبادت کا ثواب میت کو پہنچتا ہے البتہ بدنی عبادت کے ثواب پہنچنے کے بارے میں اختلافی اقوال ہیں لیکن زیادہ صحیح قول یہی ہے کہ بدنی عبادت کا ثواب بھی پہنچتا ہے۔ اور حضرت یحییٰ ابن سعید ( تابعی) کہتے ہیں کہ حضرت عبدالرحمٰن ابن ابوبکر سوئے ہوئے تھے کہ اسی سونے کی حالت میں ( اچانک) انتقال کر گئے، چناچہ حضرت عائشہ جو ان کی بہن تھیں ان کی طرف سے بہت سے بردے آزاد کئے۔ ( مالک) تشریح حضرت عائشہ نے جو بہت سے بردے آزاد کئے ان کا سبب یا تو یہ تھا کہ حضرت عبدالرحمن پر کسی وجہ سے بردے آزاد کرنے واجب ہوں گے جس پر وہ اپنی زندگی میں عمل نہ کرسکے اور وہ پھر ناگہانی موت کی وجہ سے اس کی وصیت بھی نہ کرسکے۔ چناچہ حضرت عائشہ نے ازخود ان کی طرف سے بردے آزاد کردیئے، یا پھر یہ کہ بعض حالات میں ناگہانی موت کو اچھا نہیں سمجھا جاتا، ظاہر ہے کہ اس صورت میں حضرت عائشہ بہت زیادہ غمگین ہوئی ہوں گی، اس لئے انہوں نے بہت سارے بردے آزاد کئے تاکہ اس صورت میں نقصان کا تدارک ہو سکے۔
غیر مشروط طور پر غلام خرید نے والا اس غلام کے مال کا حق دار نہیں ہو گا
وعن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من اشترى عبدا فلم يشترط ماله فلا شيء له . رواه الدارمي
اور حضرت عبداللہ ابن عمر کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص کسی غلام کو خریدے اور اس کے مال کو شرط نہ کرے تو خریدنے والے کو اس مال میں سے کچھ نہیں ملے گا۔ ( دارمی)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ کسی شخص نے غلام کو خریدا اور خریداری کے معاملہ میں اس مال کو شامل نہیں کیا جو غلام کے ساتھ ہے تو وہ اس مال کا حق دار نہیں ہوگا کیونکہ وہ مال تو دراصل اس مالک کی ملکیت ہے۔ جس سے اس نے غلام کو خریدا ہے۔
قسم کی قسمیں اور ان کے احکام
قسم کی تین قسمیں ہیں۔ ١ غموس۔ ٢ لغو۔ ٣ منعقدہ۔ غموس اس قسم کو کہتے ہیں کہ کسی گزشتہ یا حالیہ بات پر جھوٹی قسم کھائی جائے، مثلاً یوں کہا جائے اللہ کی قسم میں نے یہ کام کیا تھا حالانکہ واقعتًا وہ کام نہیں کیا تھا یا یوں کہا جائے اللہ کی قسم میں نے یہ کام نہیں کیا تھا حالانکہ واقعتًا وہ کام کیا گیا تھا! اسی طرح مثلاً زید نے یہ کہا کہ اللہ کی قسم! خالد کے ذمہ میرے ہزار روپے ہیں۔ یا اللہ کی قسم! میرے ذمہ خالد کے ہزار روپے نہیں ہیں حالانکہ حقیقت میں خالد کے ذمہ اس کے ہزار روپے نہیں ہیں یا اس کے ذمہ خالد کے ہزار روپے ہیں۔ غموس کا حکم یہ ہے کہ اس طرح جھوٹی قسم کھانے والا شخص گنہگار ہوتا ہے۔ لیکن اس پر کفارہ واجب نہیں ہوتا البتہ توبہ و استغفار ضروری ہوتا ہے لغو اس قسم کو کہتے ہیں کہ جو کسی گزشتہ یا حالیہ بات پر کھائی جائے اور قسم کھانے والے کو یہ گمان ہو کہ وہ اسی طرح ہے جس طرح میں کہہ رہا ہوں لیکن واقعہ کے اعتبار سے وہ بات اس طرح نہ ہو جس طرح وہ کہہ رہا ہے۔ مثلاً کوئی شخص یوں کہے کہ واللہ! یہ کام میں نے نہیں کیا تھا حالا ن کہ اس شخص نے یہ کام کیا تھا مگر اس کو یہی گمان ہے کہ میں نے کام نہیں کیا ہے! یا اس شخص نے دور سے کسی شخص کو دیکھا اور کہا کہ اللہ کی قسم! یہ زید ہے حالانکہ وہ زید نہیں تھا۔ بلکہ خالد تھا لیکن! یہ قسم اس شخص نے یہی گمان کر کے کھائی تھی کہ وہ زید ہے۔ قسم کی اس نوعیت کا حکم یہ ہے کہ اس طرح کھانے والے کے بارے میں امید یہی ہے کہ اس سے مواخذہ نہیں ہوگا۔ منعقدہ اس قسم کو کہتے ہیں کہ کسی آئندہ کام کے کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں قسم کھائی جائے، اس کا حکم یہ ہے کہ اگر قسم کے خلاف کیا جائے گا تو کفارہ واجب ہوگا۔ مثلاً زید نے یوں کہا کہ! اللہ کی قسم، میں آنے والی کل میں خالد کو سو روپے دوں گا۔ اب اگر اس نے آنے والی کل میں خالد کو سو روپے نہیں دیئے تو اس پر قسم کو توڑنے کا کفارہ واجب ہوگا۔ منعقدہ قسم کی بعض صورتیں ایسی ہوتیں ہیں جن میں قسم کا پورا کرنا واجب ہوتا ہے، جیسے فرائض کے کرنے یا گناہ کو ترک کرنے کی قسم کھائی جائے، مثلاً یوں کہا جائے کہ اللہ کی قسم! میں ظہر کی نماز پڑھوں گا۔ یا۔ اللہ کی قسم! میں زنا کرنا چھوڑ دوں گا ان صورتوں میں قسم کو پورا کرنا واجب ہے۔ بعض صورتیں ایسی ہوتیں ہیں جن میں قسم کو پورا نہ کرنا واجب ہوتا ہے، جیسے کوئی نادان کسی گناہ کو کرلے یا کسی واجب پر عمل نہ کرنے کی قسم کھائے تو اس قسم کو توڑنا ہی واجب ہے۔ اسی طرح منعقدہ قسم کی بعض صورتوں میں قسم کو توڑنا واجب تو نہیں ہوتا مگر بہتر ہوتا ہے جیسے کوئی یوں کہے کہ اللہ کی قسم! میں کسی مسلمان سے ملاقات نہیں کروں گا تو اس قسم کو پورا نہ کرنا بہتر ہے ان کے علاوہ اور صورتوں میں محافظت قسم کے پیش نظر قسم کو پورا کرنا افضل ہے۔ وجوب کفارہ کے سلسلے میں یہ ذہن نشین رہنا چاہئے کہ منعقدہ قسم توڑنے پر بہر صورت کفارہ واجب ہوتا ہے۔ قسم خواہ قصداً کھائی گئی ہو اور خواہ قسم کھانے والے کو قسم کھانے پر یا قسم توڑنے پر زبردستی مجبور کیا گیا ہو۔ قسم کا کفارہ قسم توڑنے کا کفارہ یہ ہے کہ بردہ کو آزاد کیا جائے، یا دس مسکینوں کو کھانا کھلایا جائے۔ ان دونوں ہی صورتوں میں ان شرائط و احکام کو سامنے رکھا جائے جو کفارہ ظہار میں بردہ کو آزاد کرنے یا مسکینوں کو کھانا کھلانے کے سلسلے میں منقول ہیں اور یا دس مسکینوں کو پہننے کا کپڑا دیا جائے اور ان میں سے ہر ایک کو ایسا کپڑا دیا جائے جس سے بدن کا اکثر حصہ چھپ جائے، لہٰذا اگر صرف پاجامہ دیا جائے گا تو یہ کافی نہیں ہوگا۔ اور اگر کوئی شخص ان تینوں صورتوں میں سے کسی ایک صورت پر بھی قادر نہ ہو یعنی نہ تو بردہ آزاد کرسکتا ہو، نہ دس مسکینوں کو کھانا کھلا سکتا ہو اور نہ دس مسکینوں کو لباس دے سکتا ہو تو پھر وہ تین روزے پے درپے رکھے۔ قسم توڑنے سے پہلے کفارہ دے دینا جائز ہے، کافر کی قسم میں کفارہ واجب نہیں ہوتا اگرچہ وہ حالت اسلام میں اس قسم کو توڑے۔ اسی طرح چونکہ بچے، سوئے ہوئے شخص اور دیوانے کی قسم، سرے سے صحیح ہی نہیں ہوتی اس لئے ان پر قسم توڑنے کا کفارہ بھی واجب نہیں ہوتا۔ قسم کے دیگر احکام و مسائل عربی میں قسم کے لئے تین حروف ہیں۔ ١ و۔ ٢ ب ٣ ت مثلاً یوں کہا جائے واللہ یا باللہ یا تاللہ ان تینوں کا مفہوم یہ ہے۔ میں اللہ کی قسم کھاتا ہوں، عربی زبان و اسلوب کے مطابق بسا اوقات یہ حروف مقدر ہوتے ہیں یعنی لفظوں میں تو ان کا ذکر نہیں ہوتا لیکن حقیقت میں ان کے معنی مراد ہوتے ہیں۔ جیسے یوں کہا جائے اللہ افعلہ۔ یہ معنی مفہوم کے اعتبار سے واللہ افعلہ ہے۔ قسم باری تعالیٰ کی اسم ذات اللہ کے ساتھ یا اس کے دوسرے ناموں میں سے کسی اور نام مثلاً۔ رحمٰن، رحیم اور حق وغیرہ کے ساتھ کھائی جاتی ہے اور ان ناموں میں سے نیت کی ضرورت نہیں ہوتی ہاں اگر ایسے ناموں کے ساتھ قسم کھائی جائے جو اللہ تعالیٰ کے علاوہ دوسروں کی ذات کے لئے بھی استعمال ہوتے ہیں جیسے علیم و حکیم وغیرہ تو ان میں نیت کی احتیاج ہوتی ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کے ان صفات کے ساتھ قسم کھانا بھی صحیح ہے جن کے ساتھ عام طور پر قسم کھانے کا رواج ہو جیسے اللہ کی عزت و جلال کی قسم! اللہ کی بڑائی و بزرگی کی قسم اور اللہ کی عظمت وقدرت کی قسم! ہاں ان صفات کے ساتھ قسم کھانا صحیح نہیں ہوتا۔ جن کے ساتھ قسم کھانے کا عام طور پر رواج نہ ہو، جیسے رحمت، علم، رضا، غضب اور عذاب۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کی قسم کھانا جائز نہیں ہے جیسے باپ اور دادا کی قسم، قرآن کی قسم، انبیاء کی قسم، ملائکہ کی قسم کعبہ کی قسم، نماز روزہ کی قسم، مسجد حرام اور زم زم کی قسم اور دیگر تمام شعائر کی قسم یا اسی طرح بعض لوگ اس طرح قسم کھاتے ہیں اپنی جوانی کی قسم اپنے سر کی قسم، تمہاری جان کی قسم، تمہاری قسم اپنے اولاد کی قسم، یہ سب ناجائز ہے، لیکن اگر اس طرح کی کوئی قسم کھائی جائے اور پھر اس کے خلاف کیا جائے تو قسم توڑنے کا کفارہ دینا پڑے گا۔ عربی میں لعمر اللہ قسم ہے، اسی طرح سوگند اللہ یا اللہ کی سوگند کھاتا ہوں بھی قسم ہے، نیز عبداللہ میثاق اللہ قسم کھاتا ہوں، حلف کرتا ہوں اور اشہد ( اگرچہ اس کے ساتھ لفظ اللہ ذکر نہ کیا جائے) یہ سب بھی قسمیں ہیں۔ اسی طرح کہنا مجھ پر نذر ہے یا مجھ پر یمین ہے یا مجھ پر عہد ہے ( اگرچہ اس کی اضافت اللہ کی طرف نہ کرے) بھی قسم ہے ایسے ہی اگر کوئی شخص یوں کہے کہ اگر میں فلاں کام کروں تو کافر ہوجاؤں یا یہودی ہوجاؤں یا عیسائی ہوجاؤں یا یوں کہے کہ اگر میں فلاں کام کروں تو میں اللہ تعالیٰ سے بری ہوں تو اس طرح کہنے سے بھی قسم ہوجاتی ہے، اس کے خلاف کرنے سے قسم توڑنے کا حکم ثابت ہوجاتا ہے لیکن اپنے کہنے کے مطابق وہ کافر یا یہودی یا عیسائی نہیں ہوجاتا۔ خواہ اس فلاں کام کا تعلق گزشتہ زمانہ سے ہو یا آئندہ زمانہ سے، بشرطیکہ اسے یہ علم ہو کہ اس طرح کہنا قسم ہے، ہاں اگر اس طرح کہتے وقت اس کے ذہن میں قسم کا تصور نہ ہو بلکہ واقعتًا کفر ہی کا تصور رکھتا ہو پھر اس صورت میں اس وجہ سے کہ اس نے خود کفر کو اختیار کیا ہے وہ کافر ہوجائے گا۔ اگر یہ کہا جائے کہ اگر فلاں شخص یہ کام کرے تو اس پر اللہ کا غضب ٹوٹے یا اس پر اللہ کی لعنت ہو یا یوں کہے کہ اگر فلاں شخص یہ کام کرے تو وہ زانی ہے، یا چور ہے، یا شرابی ہے، یا سود خور ہے، تو اس کو قسم نہیں کہیں گے، اسی طرح یہ کہنا حقاً یا وحق اللہ بھی قسم نہیں ہے، لیکن اس میں حضرت امام ابویوسف کا اختلافی قول ہے۔ اسی طرح کہنا کہ میں اللہ کی سوگند کھاؤں یا۔ بیوی پر طلاق کی سوگند کھاؤں بھی قسم نہیں ہے، اگر کوئی شخص اپنی کسی مملوکہ چیز کو اپنے اوپر حرام کرلے تو وہ چیز اس پر حرام نہیں ہوجاتی۔ لیکن اس کو استعمال کرنے سے کفارہ واجب نہیں ہوتا ہے مثلاً کوئی شخص یوں کہے کہ میں نے اپنے اوپر روٹی کو حرام کرلیا ہے، اس طرح کہنے سے روٹی اس پر حرام نہیں ہوجاتی، لیکن اگر وہ اس کے بعد روٹی کھائے گا تو قسم کا کفارہ دینا لازم ہے۔ اگر کوئی شخص یوں کہے کہ تمام حلال چیزیں مجھ پر حرام ہیں تو اس کا اطلاق کھانے پینے کی تمام چیزوں پر ہوگا یعنی اگر وہ کوئی حلال چیز کھائے گا تو اس پر قسم کا کفارہ واجب ہوجائے گا، نیز اس پر فتویٰ ہے کہ اس طرح کہنے سے بیوی پر طلاق واقع ہوجائے گی اگرچہ اس نے اس کی نیت نہ کی ہو، اسی طرح یوں کہنا کہ حلال چیز مجھ پر حرام ہے یا یہ کہنا کہ اپنے دائیں ہاتھ میں جو چیز بھی لوں وہ مجھ پر حرام ہے۔ کا بھی یہی حکم ہے۔ اگر کوئی شخص قسم کے ساتھ لفظ انشاء اللہ بھی ادا کرے تو وہ حانث نہیں ہوگا یعنی چونکہ وہ سرے سے قسم ہی نہیں ہوگی اس لئے اس کے خلاف کرنے سے کفارہ بھی واجب نہیں ہوگا۔ یہ تو قسموں کے بارے میں کچھ تفصیل تھی، اب باب کے دوسرے جزو نذر کے متعلق بھی چند باتیں ذہن نشین کرلیجئے۔ نذر اور اس کے احکام نذر منت کو کہتے ہیں یعنی کسی ایسی چیز کو اپنے اوپر واجب کرلینا جو واجب نہیں تھی مثلاً کوئی شخص یوں کہے کہ اے اللہ! اگر میرا فلاں کام ہوگیا تو میں پانچ روزے رکھوں گا۔ بعض علماء نے لکھا ہے کہ تمام اہل علم کا اس بات پر اجماع و اتفاق ہے کہ نذر ماننا صحیح ہے اور اس نذر کو پورا کرنا واجب ہے بشرطیکہ وہ نذر کوئی گناہ کی چیز نہ ہو اور اس نذر کا تعلق کسی گناہ کی چیز سے ہو تو حضرت امام شافعی اور جمہور علماء کے نزدیک وہ نذر صحیح نہیں ہوگی اور حضرت امام اعظم ابوحنیفہ اور حضرت امام احمد یہ فرماتے ہیں کہ نہ صرف یہ کہ نذر صحیح نہیں ہوگی بلکہ ایسی نذر ماننے والے پر قسم کا کفارہ واجب ہوگا۔ کیونکہ آنحضرت ﷺ کا یہ ارشاد ہے حدیث (لا نذر فی معصیۃ و کفارتہ کفارۃ یمین ) معصیت کی نذر کا کوئی اعتبار نہیں لیکن اس پر قسم کا کفارہ واجب ہوگا۔ ملتقی میں لکھا ہے کہ جس شخص نے نذر مانی یعنی اس نذر کو کسی شرط کے ساتھ معلق نہیں کیا مثلاً یوں کہا کہ میں اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لئے روزے رکھوں گا۔ یا ایسی نذر مانی جو کسی شرط کے ساتھ متعلق ہو اور وہ شرط بھی ایسی ہو جس کے پورے ہونے کی وہ خواہش و ارادہ رکھتا ہو مثلاً یوں کہے کہ اگر میں صحت یاب ہوجاؤں تو روزے رکھوں گا۔ اور پھر وہ شرط پوری ہوجائے۔ یعنی وہ صحت یاب ہوجائے تو ان دونوں ہی صورتوں میں اس نذر کو پورا کرنا ضروری ہوگا اور اگر اس نے اپنی نذر کو کسی ایسی شرط کے ساتھ متعلق کیا جس کے پورا ہونے کی وہ خواہش نہ رکھتا ہو مثلاً یوں کہے کہ اگر میں زنا کروں تو مجھ پر غلام آزاد کرنا واجب ہوگا۔ تو اس صورت میں اسے اختیار ہے کہ چاہے تو قسم کا کفارہ دے اور چاہے اس نذر کو پورا کرے یعنی غلام آزاد کرے۔ نذر کے سلسلے میں دیگر مسائل و احکام تفصیل کے ساتھ فقہ کی کتابوں اور فتاویٰ عالمگیری میں تفصیل کے ساتھ مذکور ہیں ان میں دیکھے جاسکتے ہیں البتہ اس موقع پر نذر کے سلسلہ میں بڑی اور اہم فائدے کی بات ذکر کردینا یقینا ضروری معلوم ہوتا ہے اور وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کسی کی نذر ماننا جائز نہیں ہے، نہ نبی کی، نہ فرشتے کی، نہ اولیاء اللہ کی نہ کسی اور کی۔ مثلاً یوں کہنا کہ اگر میرا فلاں کام ہوگیا تو مولود پڑھاؤں گا۔ یا۔ اگر میرا فلاں کام ہوگیا تو فلاں بزرگ کے مزار پر چادر چڑھاؤں گا۔ یا اگر فلاں کام ہوگیا تو مولیٰ مشکل کشا کا روزہ رکھوں گا۔ اسی طرح غیر اللہ کی نذر ماننا بڑے گناہ کی بات ہے۔ اس سلسلہ میں حضرت مولانا محمد اسحاق نے اپنی کتاب ماتہ مسائل، معتبر و مستند کتابوں کے حوالہ سے جو مفید اور کار آمد باتیں لکھی ہیں ان سب کو یہاں نقل کیا جاتا ہے۔ مولانا لکھتے ہیں کہ اس طرح نذر ماننی کہ اگر اللہ تعالیٰ نے میری فلاں حاجت پوری کردی تو میں فلاں بزرگ کے مزار پر اتنے روپے یا اتنے کھانے چڑھاؤں گا درست نہیں ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی نذر ماننے میں چند ایسی شرائط ہیں جو پائی جائیں تو نذر صحیح ہوتی ہے اور اگر وہ شرائط پوری نہ ہوں تو پھر نذر صحیح نہیں ہوتی۔ ایک شرط تو یہ ہے کہ جو چیز اپنی طرف سے نذر مانی جائے وہ ایسی ہونی چاہئے جس کی جنس شرعی طور پر واجب ہو ( جیسے نماز روزہ وغیرہ) چناچہ اسی لئے اگر کوئی شخص مریض کی عیادت کرنے کی نذر مانے ( یعنی یوں کہے کہ اگر میرا فلاں کام ہوگیا تو میں فلاں فلاں مریض کی عیادت کروں گا) تو اس کی نذر صحیح نہیں ہوگی کیونکہ مریض کی عیادت ایسی جنس سے ہے جو شرعاً واجب نہیں ہے۔ تیسری شرط یہ کہ جو چیز نذر مانی جائے وہ فی الحال یا ثانی الحال اس پر واجب نہ ہو جیسے نماز پنجگانہ۔ اور چوتھی شرط یہ کہ جو چیز نذر مانی جائے وہ خود کوئی گناہ کی چیز نہ ہو۔ ان شرائط کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ ثابت ہوا کہ اس طرح نذر ماننا کہ فلاں بزرگ کے مزار پر اتنے روپے یا اتنے کھانے چڑھاؤں گا، صحیح نہیں ہے کیونکہ کسی مزار پر روپے یا کھانا پہنچانا کوئی عبادت نہیں ہے، ہاں اگر اس طرح نذر مانی گئی کہ اگر اللہ تعالیٰ نے میری فلاں حاجت پوری کردی تو میں فلاں بزرگ کے مزار کے خدام و فقراء کو کھانا کھلاؤں گا تو یہ نذر صحیح ہوگی اور اس کو پورا کرنا لازم ہوگا، لیکن نذر کو پورا کرنے کے لئے اس مزار کے خدام و فقراء کے درمیان تخصیص کرنا ضروری نہیں ہوگا بلکہ جس خادم و فقیر کو بھی کھانا کھلا دے گا تو نذر پوری ہوجائے گی اور اگر یوں کہے کہ اگر میری فلاں حاجت بر آئے گی تو میں فلاں بزرگ کے نام پر یا فلاں بزرگ کے واسطے اتنے روپے یا اتنا کھانا دوں گا ناجائز ہے، اس طرح کی نذر نہ صرف یہ کہ باطل ولغو ہے، بلکہ اس نذر کا روپیہ یا کھانا استعمال کرنا حرام بھی ہے اس مسئلہ کو بحر الرائق میں تفصیل کے ساتھ یوں بیان کیا گیا ہے۔ اور جہاں تک نذر کا سوال ہے تو جیسا کہ مشاہدہ ہے، عام طور پر ( جاہل) لوگ اس طرح نذر مانتے ہیں کہ اگر کسی شخص کا ( کوئی عزیز) غائب ہوجاتا ہے، یا بیمار ہوجاتا ہے اور یا اس کی ضروری مراد ہوتی ہے تو وہ کسی بزرگ کے مزار پر آتا ہے اور اس کا پردہ اپنے سر پر ڈال کر ( یا قبر کی) چادر پکڑ کر یوں کہتا ہے کہ اے میرے فلاں سردار! اگر میرا وہ عزیز جو غائب ہوگیا ہے واپس ہوگیا، یا اس کو مرض سے صحت یابی ہوگئی اور یا میری فلاں مراد پوری ہوگئی تو میں آپ کے مزار پر اس قدر سونا چڑھاؤں گا یا اس قدر چاندی چڑھاؤں گا، یا اس قدر کھانا چڑھاؤں گا، یا اس قدر پانی چڑھاؤں گا، یا اس قدر شمع یا زیت ( یعنی تیل ( چڑھاؤں گا تو اس طرح نذر ماننا تمام علماء کے نزدیک باطل ہے اور اس کے باطل ہونے کے کئی سبب ہیں، اول تو یہ مخلوق ( یعنی غیر اللہ) کی نذر ہے اور غیر اللہ کی نذر جائز نہیں ہے کیونکہ نذر ( دراصل عبادت ہے) اور مخلوق کی عبادت جائز نہیں ہے، دوم یہ کہ جس کے نام کی ( یعنی صاحب مزار) کی نذر مانی گئی ہے وہ ایک بےجان ہے اور بےجان مالک نہیں ہوتا۔ سوم یہ کہ اگر ( اسطرح نذر ماننے کے وقت) یہ گمان کیا تھا کہ اللہ کے علاوہ یہ میت ( یعنی صاحب مزار) بھی بندوں کے معاملات میں تصرف کرتا ہے تو ایسا اعتقاد کرنا کفر ہے۔ لہٰذا اے اللہ ( اس بات کی ہدایت دے کہ) اس طرح نذر ماننے کی بجائے یوں نذر مانی جائے کہ اے اللہ میں تیری نذر مانتا ہوں کہ اگر تو میرے بیمار کو شفاء بخشے گا۔ یا میرے غائب عزیز کو واپس کرا دے گا، یا میری مراد کو پوری کرے گا تو میں ( مثلاً ) ان فقراء و خدام کو کھانا کھلاؤں گا، جو بی بی نفیسہ کے دروازے ( یعنی مزار) پر ہیں، یا ان فقراء و خدام کو کھانا کھلاؤں گا جو حضرت امام شافعی یا حضرت امام ابواللیث کے دروازے ( یعنی مزار) پر ہیں یا میں ان کی مسجدوں کے لئے بوریے یا ان کی مسجدوں کی روشنی کے لئے تیل خریدوں گا، یا میں ان لوگوں کو روپے دوں گا، جو ان بزرگوں کی مسجدوں کے شعائر قائم رکھتے ہیں ( یعنی مؤذن اور ائمہ ( یا ان کے علاوہ کسی بھی ایسی چیز کا ذکر کرے جس میں فقراء و مساکین کا نفع ہو۔ لہٰذا اس طرح نذر ماننے میں نذر تو دراصل اللہ عزوجل کے لئے ہوگی اور بزرگ کا ذکر کرنا محض نذر کے مصرف کو بیان کرنے کے پیش نظر ہوگا اور وہ مصرف نذر کے وہ مستحقین ہیں جو ان بزرگ کی خانقاہ یا ان کی مسجد اور یا ان کی جامع مسجد میں رہتے ہیں پس اس طرح نذر ماننی درست ہے، کیونکہ نذر کے مصرف فقراء ہی ہیں اور وہ مصرف یہاں پایا گیا، نیز نذر کی ہوئی چیز کو مستطیع ( غیر محتاج) پر خرچ کرنا جائز نہیں ہے اور نہ کسی شریف النسب پر خرچ کرنا جائز ہے کیونکہ جب تک کہ وہ محتاج نہ ہو اس کے لئے نذر کی ہوئی چیز کا لینا درست نہیں ہے اور نہ کسی منصب والے پر خرچ کرنا جائز ہے اس کے منصب کی وجہ سے جب تک کہ وہ محتاج نہ ہو اور نہ کسی اہل علم پر خرچ کرنا جائز ہے، اس کے علم کی وجہ سے جب تک کہ وہ مستحق نہ ہو۔ اور شریعت میں نذر کی ہوئی چیز کا مستطیع لوگوں پر خرچ کرنے کا جواز ثابت نہیں ہے، نیز اس بات پر علماء امت کا اجماع و اتفاق ہے کہ مخلوق کی نذر ماننا حرام ہے اور اگر کوئی شخص کسی مخلوق ( یعنی بزرگ) کی نذر مانے تو وہ نذر صحیح نہیں ہوتی اور نہ اس نذر کو پورا کرنا اس پر واجب ہوتا ہے اور وہ نذر نہ صرف حرام بلکہ رشوت کے حکم میں ہے لہٰذا اس بزرگ کے خادم اور مجاور کے لئے اس نذر کا لینا اس کا کھانا اور اس میں کسی طرح کا تصرف کرنا جائز نہیں ہے ہاں اگر کوئی خادم یا مجاور محتاج ہو اور اپنے ان نادار بچوں کا کفیل ہو جو کمانے سے معذور ہوں اور وہ حالت اضطرار میں ہوں تو ان کو اس نذر کا مال ابتدائی صدقہ کے طور پر لینا جائز ہے لیکن اس صورت میں بھی اس مال کو اس وقت تک لینا مکروہ ہوگا جب کہ نذر کرنے والے کی نیت اس بزرگ کی نذر سے قطع نظر تقرب الی اللہ اور فقراء پر خرچ کرنے کی نہ ہو! پس جب کہ تمہیں یہ تفصیل معلوم ہوگئی تو ( جان لو) کہ اولیاء اللہ کے تقرب کی نیت سے جو روپے پیسے اور موم بتی وتیل وغیرہ ان کی قبروں پر چڑھایا جاتا ہے وہ تمام مسلمانوں کے نزدیک متفقہ طور پر حرام ہے جب تک کہ نذر کرنے والا اس کو فقیروں پر خرچ کرنے کی نیت نہ کرے۔ ( النہر الفائق)۔ اور الدر مختار میں بھی اسی طرح منقول ہے۔ حضرت مولانا محمد اسحاق کے مذکورہ منقولات کے علاوہ اس سلسلہ میں مولانا رشید الدین خان مرحوم نے ایک سوال کا جو جواب لکھا ہے۔ وہ بھی اس قابل ہے کہ اس کو مع سوال کہ یہاں نقل کردیا جائے۔
قسم کی قسمیں اور ان کے احکام
عن ابن عمر رضي الله عنهما أكثر ما كان النبي صلى الله عليه و سلم يحلف : لا ومقلب القلوب . رواه البخاري
سوال جو کھانا بزرگوں کی نذر ونیاز کے طور پر مانا جاتا ہے اس کو کھانا اور اس طرح ( یعنی بزرگوں کی نذر ماننا اور ان کی نیاز کرنا جائز ہے یا نہیں؟ اگر جائز ہے تو کس طرح؟ نیز بعض نذر بشرط حاجت براری مانی جاتی ہے اور بعض نذر بلاشرط مانی جاتی ہے ان دونوں میں کچھ فرق ہے یا نہیں؟ جواب شریعت میں نذر کا مفہوم ہے اپنے اوپر کسی غیر واجب کو واجب کرلینا، چناچہ جامع الرموز میں لکھا ہے کہ (النذر ایجاب علی النفس ما لیس علیھا بالقبول ) کسی ایسی چیز کو اپنے اوپر واجب کرلینے کو نذر کہتے ہیں جس پر عمل کرنا اس کے لئے ضروری نہیں تھا۔ اور امام رازی نے تفسیر کبیر میں آیت کریمہ (او نذرتم من نذر) کی تفسیر کے تحت فرمایا ہے کہ (النذر ما الزمہ الانسان علی نفسہ)۔ نذر وہ ہے جس کو انسان اپنے اوپر لازم کرے۔ نذر کی مختصر توضیح تو یہ ہے اور اس کی تفصیل فقہ اور اصول فقہ کی کتابوں میں مذکور ہے۔ نیاز فارسی کا لفظ ہے جس کے کتنے ہی معنی ہیں ان میں سے ایک معنی یہ بھی ہیں تحفہ درویشاں وکذافی البرہان القاطع ان دونوں لفظوں یعنی نذر ونیاز کے ان لغوی اور اصطلاحی معنی کو ذہن میں رکھتے ہوئے ان کا شرعی حکم ماننا چاہئے کے نذر اللہ کے علاوہ اور کسی کے لئے جائز نہیں ہے اور اگر کوئی شخص غیر اللہ کی نذر مانے تو وہ صحیح نہیں ہوگی، نیز ایسی نذر کی چیز کو لینا یا کھانا صحیح ومستند فقہی روایات کے بموجب قطعاً ناروا ہے یہ تو نذر کا حکم ہے اب رہا نیاز کا معاملہ تو جیسا کہ معلوم ہوا لفظ نیاز کے معنی ہیں، تحفہ درویشاں اور وہ بر و صلہ ہے ( یعنی بخشش و ہدیہ ہے) لہٰذا اگر کوئی شخص کسی زندہ بزرگ کی خدمت میں کوئی چیز بطریق نیاز یعنی عطاء و ھدیہ اور تحفہ کے طور پر پیش کرے تو وہ نیاز جائز ہے اور اس بزرگ کو وہ چیز کھانا یا استعمال کرنا جائز ہے۔ اسی طرح اگر کسی مرحوم بزرگ کی نیاز یعنی فاتحہ وایصال ثواب کی جائے تو یہ نیاز بھی جائز ہے لیکن اس نیاز کی چیز کو کھانے کے سلسلے میں کچھ تفصیل ہے اور وہ یہ کہ اگر نیاز دینے والے نے وفات پائے ہوئے بزرگ کو صدقہ ماکولی کا ثواب پہنچانے کی نیت کی ہو تو اس چیز کو کھانا صرف فقراء کے لئے جائز ہے مستطیع لوگوں کے لئے جائز نہیں ہے، اگر نیاز دینے والے نے مسلمانوں کے حق میں اباحت ماکولی کا ثواب اس بزرگ کو پہنچانے کی نیت کی ہو تو اس صورت میں اس چیز کو کھانا ہر بھوکے کے لئے جائز ہے خواہ وہ فقیر ہو یا مستطیع ہو۔ حاصل یہ ہے کہ کسی بزرگ کا تقرب حاصل کرنے کی نیت سے یا حاجت براری کی شرط کے ساتھ اس بزرگ کی جو نذر مانی جاتی ہے وہ منقولات بالا کی روشنی میں ناجائز ہے اور اس نذر کی چیز کو کھانا یا استعمال کرنا ناروا ہے۔ ہاں جس نذر کا تعلق نہ تو بزرگ کا تقرب حاصل کرنے کی نیت سے ہوتا ہے اور نہ وہ کسی حاجت براری کے ساتھ مشروط ہوتی ہے بلکہ پہلے وہ چیز اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور اس کا تقرب حاصل کرنے کے لئے صدقہ کی جاتی ہے اور پھر اس بزرگ کو پہنچایا جاتا ہے تو اس چیز کو کھانا اور استعمال کرنا مستطیع لوگوں کے لئے تو جائز نہیں ہے بشرطیکہ نذر ماننے والے نے اس بزرگ کو صدقہ ماکولی کا ثواب پہنچانے کی نیت کی ہو اور اگر نذر ماننے والے نے اس بزرگ کو اباحت ماکولی کا ثواب پہنچانے کی نیت کی ہو تو اس چیز کا کھانا اور استعمال کرنا مستطیع لوگوں کے لئے بھی جائز ہے اور فقراء کے لئے بھی جائز ہے۔ اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ اسی طرح نیاز کا مسئلہ بھی یہ ہے کہ بزرگوں کی نیاز اگر محض ایصال ثواب کے طور پر ہو تو جائز ہے اور ان کا تقرب یا ان کی خوشنودی حاصل کرنے کی نیت سے کسی چیز کو ان کے نام پر اپنے اوپر واجب کرنا جائز نہیں ہے۔ خواہ اس چیز کو اپنے اوپر واجب کرنا کسی حاجت براری کے ساتھ معلق ہو اور خواہ اس کے بغیر ہو، کیونکہ یہ نذر ہے اور نذر اللہ کے علاوہ کسی اور کے لئے جائز نہیں ہے۔ لہٰذا واضح ہو کہ خواہ حاجت براری کے ساتھ معلق کر کے اور خواہ اس کے بغیر کسی چیز کو اپنے اوپر اللہ کے علاوہ کسی اور کے نام پر واجب کرنا دونوں ہی صورتوں میں ناجائز ہے۔ ہاں بزرگوں کی نیاز اس معنی میں جائز ہے کہ اس سے کسی بزرگ کا تقرب یا حاجت براری کی نیت نہ ہو بلکہ اس کا مقصد محض اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کا حصول اور اس کا ثواب اس بزرگ کو پہنچانا ہو اور نیاز کی ہوئی چیز کو مذکورہ بالا تفصیل کی روشنی میں کھانا اور استعمال کرنا جائز ہے۔ دلیل الضالین میں لکھا ہے کہ نذر صرف اللہ تعالیٰ کے لئے ہوتی ہے اور کسی کے لئے نہیں ہوتی، لہٰذا اگر کسی شخص نے انبیاء میں سے کسی نبی یا اولیاء میں سے کسی ولی کی نذر مانی تو اس پر کچھ واجب نہیں ہوتا یعنی اس نذر کو پورا کرنا اس شخص پر لازم نہیں ہوتا، نیز اگر وہ شخص اس نذر کی چیز کو اپنی اسی نیت کے ساتھ کسی آدمی کو دے دے تو اس آدمی کو وہ چیز لینا جائز ہے اگر وہ کھانے کی کوئی چیز ہو تو اس کو کھانا حلال نہیں ہے اور اگر وہ چیز کوئی ذبح کیا ہوا جانور ہو تو وہ مردار کے حکم میں ہے بلکہ اگر لوگ اس کو بسم اللہ کر کے کھائیں تو سب کافر ہوجائیں گے، ہاں اگر کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے لئے نذر مانے اور پھر نذر کی ہوئی چیز کو لوگ کھائیں اور اس کا ثواب کسی میت کا بخشیں تو یہ جائز ہے۔ اور حضرت ابن عمر راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ اکثر اس طرح قسم کھایا کرتے تھے قسم ہے دلوں کو پھیرنے والے کی۔ ( بخاری)
تشریح
یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے کسی صفت کی قسم کھانا جائز ہے۔
غیر اللہ کی قسم کھانے کی ممانعت
وعنه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إن الله ينهاكم أن تحلفوا بآبائكم من كان حالفا فليحلف بالله أو ليصمت وعن عبد الرحمن بن سمرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا تحلفوا بالطواغي ولا بآبائكم . رواه مسلم وعن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من حلف فقال في حلفه : باللات والعزى فليقل : لا إله إلا الله . ومن قال لصاحبه : تعال أقامرك فليتصدق
اور حضرت ابن عمر راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ تمہیں اس بات سے منع فرماتا ہے کہ تم اپنے باپوں کی قسم کھاؤ! جس شخص کو قسم کھانا ہو تو اسے چاہئے کہ وہ اللہ ( کے نام یا اس کی صفات) کی قسم کھائے یا چپ رہے۔ ( بخاری ومسلم)
تشریح
باپ کی قسم کھانے سے منع کرنا مثال کے طور پر ہے، اصل مق صد تو یہ ہدایت دینا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کی قسم نہ کھایا کرو۔ بطور خاص باپ کو ذکر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ لوگوں کی عادت ہے کہ وہ باپ کی قسم بہت کھاتے ہیں! نیز عبداللہ کی قسم کھانے کی ممانعت کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے کمال عظمت و جلالت کے سبب چونکہ قسم اسی ذات کے ساتھ مخت ص ہے، اس لئے کسی غیر اللہ کو اللہ کے مشابہ نہ قرار دیا جائے، چناچہ حضرت ابن عباس کے بارے میں منقول ہے کہ وہ فرمایا کرتے تھے کہ میں سو مرتبہ اللہ تعالیٰ کی قسم کھاؤں اور پھر اس کو توڑ ڈالوں، اس کو اس سے بہتر سمجھتا ہوں کہ کسی غیر اللہ کی قسم کھاؤں اور اس کو پورا کروں۔ ہاں جہاں تک اللہ تعالیٰ کی ذات پاک کا سوال ہے تو اس کو سزاوار ہے کہ وہ اپنی عظمت و جلالت کے اظہار کے لئے اپنی مخلوقات میں سے جس کی چاہے قسم کھائے۔ اس حدیث کے ضمن میں ایک اشکال پیدا ہوسکتا ہے کہ ایک موقع پر آنحضرت ﷺ سے یوں منقول ہوا ہے (افلح وابیہ) یعنی آپ ﷺ نے باپ کی قسم کھائی جب کہ یہ حدیث اس کے سراسر خلاف ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کا باپ کی قسم کھانا اس ممانعت سے پہلے کا واقعہ ہوگا۔ اس صورت میں دونوں حدیثوں میں کوئی تضاد باقی نہیں رہتا، یا پھر یہ کہ آنحضرت ﷺ نے یہ باپ کی قسم قصدًا نہ کھائی ہوگی بلکہ قسم کہ یہ الفاظ قدیم عادت کی بناء پر اضطرارًا آپ ﷺ کی زبان سے نکل گئے ہوں گے۔ اور حضرت عبد الرحمٰن ابن سمرہ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا نہ بتوں کی قسم کھاؤ اور نہ اپنے باپوں کی قسم کھاؤ۔ ( مسلم) تشریح ایام جاہلیت میں عام طور پر لوگ بتوں اور باپوں کی قسم کھایا کرتے تھے، چناچہ آنحضرت ﷺ نے لوگوں کو قبولیت اسلام کے بعد اس سے منع فرمایا تاکہ وہ اس بارے میں احتیاط رکھیں اور قدیم عادت کی بنا پر اس طرح کی قسمیں ان کی زبان پر نہ چڑھیں۔ اور حضرت ابوہریرہ نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا جو شخص قسم کھائے اور اپنی قسم میں یہ الفاظ ادا کرے میں لات و عزیٰ کی قسم کھاتا ہوں تو اسے چاہئے کہ وہ لاالہ الا اللہ کہے۔ اور جو شخص اپنے کسی دوست سے یہ کہے کہ آؤ ہم دونوں جوا کھیلیں تو اس کو چاہئے کہ وہ صدقہ و خیرات کرے۔ ( بخاری ومسلم) تشریح وہ لا الہ الا اللہ کہے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے توبہ و استغفار کرے۔ اس حکم کے دو معنی ہیں ایک تو یہ کہ اگر لات و عزیٰ کے نام کسی نو مسلم کی زبان سے سہواً نکل جائیں تو اس کے کفارہ کے طور پر کلمہ پڑھے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ا یت (فان الحسنات یذھبن السیاٰت ) بلا شبہ نیکیاں، برائیوں کو دور کر دیتیں ہیں۔ پس اس صورت میں غفلت و سہو سے توبہ ہوجائے گی۔ دوسرے معنی یہ ہیں کہ اگر ان کی زبان سے لات و عزیٰ کے نام ان بتوں کی تعظیم کے قصد سے نکلے ہوں گے تو یہ صراحتاً ارتداد اور کفر ہے لہٰذا اس کے لئے ضروری ہوگا کہ وہ تجدید ایمان کے لئے کلمہ پڑھے اس صورت میں معصیت سے توبہ ہوگی۔ صدقہ و خیرات کرے کا مطلب یہ ہے کہ اس نے اپنے دوست کو جوا کھیلنے کی دعوت دے کر چونکہ ایک بڑی برائی کی ترغیب دی ہے، لہٰذا اس کے کفارہ کے طور پر وہ اپنے مال میں سے کچھ حصہ اللہ کی راہ میں خرچ کرے۔ بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ اس نے جس مال کے ذریعہ جوا کھیلنے کا ارادہ کیا تھا اسی مال کو صدقہ و خیرات کر دے! اس سے معلوم ہوا کہ جب محض جوا کھیلنے کی دعوت دینے کا کفارہ یہ ہے کہ صدقہ و خیرات کرنے چاہیے تو یہ شخص واقعتا کھیلے گا تو اس کا کیا حشر ہوگا۔
اسلام کے خلاف کسی دوسرے مذہب کی قسم کھانے کا مسئلہ
وعن ثابت بن الضحاك قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من حلف على ملة غير الإسلام كاذبا فهو كما قال وليس على ابن آدم فيما لا يملك ومن قتل نفسه بشيء في الدنيا عذب به يوم القيامة ومن لعن مؤمنا فهو كقتله ومن قذف مؤمنا بكفر فهو كقتله ومن ادعى دعوى كاذبة ليتكثر بها لم يزده الله إلا قلة
اور حضرت ثابت ابن ضحاک کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص اسلام کے خلاف کسی دوسرے مذہب کی جھوٹی قسم کھائے تو وہ ایسا ہی ہوجاتا ہے جیسا کہ اس نے کہا اور کسی انسان پر اس چیز کی نذر پوری کرنا واجب نہیں جس کا وہ مالک نہ ہو اور جس شخص نے ( دنیا میں) اپنے آپ کو کسی چیز ( مثلاً چھری وغیرہ) سے ہلاک کرلیا تو وہ قیامت کے دن اسی چیز کے عذاب میں مبتلاء کیا جائے گا (یعنی اگر کسی شخص نے چھری گھونپ کر خود کشی کرلی تو قیامت میں اس کے ہاتھ میں وہی چھری دی جائے گی جس کو وہ اپنے جسم میں گھونپتا رہے گا اور جب تک کہ حق تعالیٰ کی طرف سے نجات کا حکم نہ ہوگا وہ مسلسل اسی عذاب میں مبتلا رہے گا اور جس شخص نے کسی مسلمان پر لعنت کی تو وہ (اصل گناہ کے اعتبار سے) ایسا ہی ہے جیسا کہ اس نے اس مسلمان کو قتل کردیا ہو اور اسی طرح جس شخص نے کسی مسلمان پر کفر کی تہمت لگائی تو گویا اس نے اس مسلمان کو قتل کردیا (کیو ن کہ کفر کی تہمت لگانا اسباب قتل سے ہے لہٰذا کفر کی تہمت قتل کردینے کی مانند ہے) اور جھوٹا دعوی کرے تاکہ اس کے مال و دولت میں اضافہ ہو تو اللہ تعالیٰ اس کے مال و دولت میں کمی کر دے گا۔ ( بخاری ومسلم)
تشریح
حدیث کے پہلے جزو کا مطلب یہ ہے کہ کسی شخص نے مثلاً یوں قسم کھائی کہ اگر میں فلاں کام کروں تو یہودی یا نصرانی ہوں، یا دین اسلام سے یا پیغمبر اسلام سے اور یا قرآن سے بیزار ہوں۔ اور پھر اس نے اس کے برخلاف کیا یعنی قسم کو جھوٹی کردیا، بایں طور کہ اس نے وہ کام کرلیا جس کے نہ کرنے کی اس نے قسم کھائی تھی تو وہ ایسا ہی یہودی و نصرانی ہوگیا یا دین اسلام یا پیغمبر اسلام یا قرآن سے بیزار ہوگیا کیونکہ قسم دراصل اس کام کو روکنے کے واسطے ہوتی ہے جس کے لئے وہ قسم کھائی گئی ہے۔ لہٰذا قسم کا سچ ہونا تو یہ ہے کہ قسم کھانے والا وہ کام نہ کرے اور اگر وہ اس کام کو کرے گا تو اپنی قسم میں جھوٹا ہوگا تو لا محالہ ویسا ہی ہوگا جیسا کہ اس نے کہا ہے۔ حدیث کے اس ظاہری مفہوم سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس طرح کی قسم کھانے والا محض قسم کھانے کی وجہ سے اس قسم کو توڑنے کے بعد کافر ہوجاتا ہے کیونکہ وہ اس طرح کی قسم کھا کر ایک صریح حرام فعل کا ارتکاب کرتا ہے اور پھر اس قسم کو جھوٹی کر کے گویا کفر کو برضا ورغبت اختیار کرتا ہے۔ لیکن یہ بھی احتمال ہے کہ اس ارشاد گرامی کی مراد یہ بتانا ہو کہ اس طرح کی قسم کھانے والا واقعۃً یہودی وغیرہ ہوجاتا ہے بلکہ اس کی مراد بطور تہدید و تنبیہ یہ ظاہر کرنا ہو کہ وہ شخص یہودیوں وغیرہ کی مانند عذاب کا مستوجب ہوتا ہے، چناچہ اس کی نظیر آنحضرت ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ (من ترک الصلوۃ فقد کفر) ( یعنی جس شخص نے نماز چھوڑ دی وہ کافر ہوگیا) اس ارشاد کا بھی یہی مطلب ہے کہ نماز چھوڑنے والا کافروں کے عذاب سے مستوجب ہوتا ہے۔ اب ہی یہ بات کہ اس طرح قسم کھانا اگرچہ حرام ہے لیکن اگر کوئی شخص اس طرح قسم کھا ہی لے تو کیا شرعی طور پر اس کو قسم کہیں گے اور کیا اس قسم کو توڑنے کا کفارہ واجب ہوگا یا نہیں؟ تو اس بارے میں علماء کے مختلف اقوال ہیں، حضرت امام اعظم ابوحنیفہ اور بعض علماء کا قول تو یہ ہے کہ یہ قسم ہے اور اگر اس قسم کو توڑا جائے گا تو اس شخص پر کفارہ واجب ہوگا، ان کو دلیل ہدایہ وغیرہ میں منقول ہے۔ حضرت امام مالک اور حضرت امام شافعی فرماتے ہیں کہ اس طرح کہنے پر قسم کا اطلاق نہیں ہوگا یعنی شرعی طور پر اس کو قسم نہیں کہیں گے اور جب یہ قسم ہی نہیں ہے تو اس کو توڑنے پر کفارہ بھی واجب نہیں ہوگا، ہاں اس طرح کہنے والا سخت گناہگار ہوگا خواہ وہ اپنی بات کو پورا کرے یا توڑ ڈالے۔ درمختار میں لکھا ہے کہ ( مذکورہ بالا مسئلہ میں) زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ اس طرح کی قسم کھانے والا ( اس قسم کے برخلاف عمل کرنے کی صورت میں کافر نہیں ہوجاتا خواہ وہ اس طرح کا تعلق گذرے ہوئے زمانہ سے ہو یا آنے والے زمانہ سے ہو بشرطیکہ وہ اس طرح کہنے کے بارے میں قسم ہی کا اعتقاد رکھتا ہو لیکن اگر وہ اس قسم کے ہونے سے لا علم ہو اور اس اعتقاد کے ساتھ یہ الفاظ ادا کرے کہ اس طرح کہنے والا اپنی بات کو جھوٹا ہونے کی صورت میں کافر ہوجاتا ہے تو خواہ وہ اس بات کا تعلق گذرے ہوئے زمانہ سے ہو یا آنے والے زمانہ میں کسی شرط کے پورا ہونے کے ساتھ وہ دونوں ہی صورتوں میں کفر کو خود برضا ورغبت اختیار کرنے کی وجہ سے کافر ہوجائے گا۔ اور کسی انسان پر اس چیز کی نذر پوری کرنا واجب نہیں جس کا وہ مالک نہ ہو کا مطلب یہ ہے کہ مثلاً اگر کوئی شخص یوں کہے اگر میرا فلاں عزیز صحت یاب ہوجائے تو میں فلاں غلام آزاد کر دوں گا جب کہ ہو فلاں غلام درحقیقت اس کی ملکیت میں نہ ہو، تو اس صورت میں اس نذر کو پورا کرنا واجب نہیں ہے، اگر اس کے بعد وہ غلام اس کی ملکیت ہی میں کیوں نہ آجائے ہاں اگر اس نے آزادی کو ملکیت کے ساتھ مشروط کردیا یعنی یوں کہا کہ اگر میرا فلاں عزیز صحت یاب ہوگیا اور فلاں غلام میری ملکیت میں آگیا یا فلاں غلام کو میں نے خرید لیا تو میں اس کو آزاد کر دوں گا تو اس صورت میں وہ غلام ملکیت میں آنے کے بعد یا خریداری کے بعد اس نذر کے مطابق آزاد ہوجائے گا۔ تاکہ اس کے مال و دولت میں اضافہ ہو یہ اکثر کے اعتبار سے دعویٰ کی علت و سبب کی طرف اشارہ ہے کہ اکثر لوگ محض اپنے مال و دولت میں اضافہ کی خاطر جھوٹے وعدے کرتے ہیں مذکورہ ثمرہ ( یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے مال میں کمی کردیا جانا) مرتب ہوگا۔ جھوٹے وعدے کا مذکورہ ثمرہ محض مال و دولت ہی سے تعلق نہیں رکھتا بلکہ یہی ثمرہ ان لوگوں کے حق میں بھی مرتب ہوتا ہے جو اپنے احوال و فضائل اور کمالات کے بارے میں محض اس مقصد سے جھوٹا دعویٰ کرتے ہیں کہ عام انسانوں کی نظروں میں ان کا جاہ و مرتبہ زیادہ سے زیادہ بڑھے جیسا کہ نام نہاد اور بناوٹی صوفیوں اور پیروں کا شیوہ ہے۔
اگر قسم کو توڑ دینے ہی میں بھلائی ہو تو اس قسم کو توڑ دینا چاہئے
وعن أبي موسى قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إني والله إن شاء الله لا أحلف على يمين فأرى غيرها خيرا منها إلا كفرت عن يميني وأتيت الذي هو خير (2/276) 3412 - [ 7 ] ( متفق عليه ) وعن عبد الرحمن بن سمرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يا عبد الرحمن بن سمرة لا تسأل الإمارة فإنك إن أوتيتها عن مسألة وكلت إليها وإن أوتيتها عن غير مسألة أعنت عليها وإذا حلفت على يمين فرأيت غيرها خيرا منها فكفر عن يمينك وأت الذي هو خير . وفي رواية : فأت الذي هو خير وكفر عن يمينك وعن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : من حلف على يمين فرأى خيرا منها فليكفر عن يمينه وليفعل . رواه مسلم (2/277) 3414 - [ 9 ] ( متفق عليه ) وعنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : والله لأن يلج أحدكم بيمينه في أهله آثم له عند الله نم أن يعطي كفارته التي افترض الله عليه (2/277)
اور حضرت ابوموسیٰ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اللہ کی قسم اگر میں کسی چیز پر قسم کھاؤں اور پھر اس قسم کے خلاف کرنے ہی کو بہتر سمجھوں تو میں اپنی قسم توڑ دوں گا اور اس کا کفارہ ادا کر دوں گا اس طرح اس چیز کو اختیار کروں گا جو بہتر ہو۔ ( بخاری ومسلم)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ اگر کسی کام کے بارے میں قسم کھاؤں کہ وہ کام نہ کروں گا مگر پھر سمجھوں کہ اس کام کو کرنا ہی بہتر ہے تو میں قسم کو توڑ کر کفارہ ادا کروں گا اور اس کام کو کرلوں گا، اس مسئلہ کی مثالیں آگے آنے والی حدیث کی تشریح میں بیان ہونگی۔ اور حضرت عبد الرحمٰن ابن سمرہ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے ( ایک دن مجھ سے) فرمایا کہ عبد الرحمٰن! سرداری کی خواہش نہ کرو ( یعنی اس بات کی طلب نہ کرو کہ مجھے فلاں جگہ کا حاکم و سردار بنادیا جائے) کیونکہ اگر تمہاری طلب پر تمہیں سرداری دی جائے گی تو تم اس سرداری کے سپرد کر دئے جاؤ گے اور اگر بغیر طلب کے کہیں سرداری ملے گی تو اس میں تمہاری مدد کی جائے گی، نیز اگر تم کسی بات پر قسم کھاؤ اور پھر دیکھو کہ اس قسم کا خلاف کرنا ہی اس قسم کو پوری کرنے سے بہتر ہے، تو تم اس قسم کا کفارہ دے دو اور وہی کام کرو جو بہتر ہے۔ اور ایک روایت میں یوں ہے کہ اس چیز کو عمل میں لاؤ جو بہتر ہے اور اپنی قسم کا کفارہ دے دو۔ ( بخاری ومسلم) تشریح سرداری کی خواہش نہ کرو کا مطلب یہ ہے کہ سرداری وسیاست کوئی معمولی چیز نہیں ہے بلکہ ایک بہت ہی دشوار اور سخت ذمہ داری کی چیز ہے اس کے فرائض اور حقوق کی ادائیگی ہر شخص کے بس کی بات نہیں ہے بلکہ صرف چند ہی لوگ اس کا بار اٹھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں لہٰذا نفس کی حرص میں مبتلا ہو کر سرداری وسیاست کی خواہش نہ کرو کیونکہ اگر تم اپنی طلب پر سرداری وسیاست پاؤ گے تو پھر تمہیں اسی کے سپرد کردیا جائے گا بایں معنی کہ اس کے فرائض کی ادائیگی میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہاری مدد نہیں کی جائے گی جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ہر چہار طرف شر و فساد برپا ہوں گے اور تم مخلوق اللہ کی نظروں میں بڑی بےآبروئی کے ساتھ اس منصب کے نااہل قرار دے دیئے جاؤ گے، ہاں اگر بلا طلب تمہیں سرداری وسیاست کے مرتبہ سے نوازا جائے گا تو اس صورت میں حق تعالیٰ کی طرف سے تمہاری مدد کی جائے گی۔ جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ تمہارے معاملات انتظام و انصرام درست ہوں گے اور مخلوق اللہ کی نظروں میں تمہاری بہت زیادہ عزت و وقعت ہوگی۔ اور وہی کام کرو گے جو بہتر ہے کا مطلب یہ ہے کہ اگر تم کسی گناہ کی بات پر قسم کھاؤ مثلاً یوں کہو کہ اللہ کی قسم! میں نماز نہیں پڑھوں گا۔ یا۔ اللہ کی قسم میں فلاں شخص کو جان سے مار ڈالوں گا۔ یا۔ اللہ کی قسم میں اپنے باپ سے کلام نہیں کروں گا۔ تو اس صورت میں اس قسم کو توڑ ڈالنا ہی واجب ہوگا اور اس قسم کے توڑنے کا کفارہ دینا ہوگا۔ اور اگر کسی ایسی بات پر قسم کھائی جائے جس کے خلاف کرنا، اس سے بہتر ہو مثلاً یوں کہا جائے کہ اللہ کی قسم! میں اپنی بیوی سے ایک مہینہ تک صحبت نہیں کروں گا یا اسی طرح کی کسی اور بات پر قسم کھائی جائے تو اس صورت میں اس قسم کو توڑ دینا محض اولیٰ ہوگا۔ اس بارے میں زیادہ تفصیل ابتداء باب میں گذر چکی ہے۔ یہاں جو روایتیں نقل کی گئی ہیں ان دونوں میں فرق یہ ہے کہ پہلی روایت سے تو یہ مفہوم ہوتا ہے کہ قسم توڑنے سے پہلے کفارہ ادا کردینا چاہئے۔ جب کہ دوسری روایت سے یہ مفہوم ہوتا ہے کہ کفارہ قسم توڑنے کے بعد ادا کرنے چاہئے، چناچہ اس مسئلہ پر تینوں ائمہ کا مسلک یہ ہے کہ کفارہ قسم توڑنے سے پہلے ادا کردینا جائز ہے لیکن حضرت امام شافعی کے ہاں یہ جواز اس تفصیل کے ساتھ ہے کہ اگر کفارہ کی ادائیگی روزہ کی صورت میں ہو تو قسم توڑنے سے پہلے کفارہ ادا کرنا جائز نہیں ہوگا اور اگر کفارہ کی ادائیگی غلام آزاد کرنے، یا مستحقین کو کھانا کھلانے اور یا کپڑا پہنانے کی صورت میں ہو تو پھر قسم توڑنے سے پہلے کفارہ کی ادائیگی جائز ہوگی، حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کا مسلک یہ ہے کہ قسم توڑنے سے پہلے کفارہ کی ادائیگی کسی صورت میں جائز نہیں ہے، وہ فرماتے ہیں کہ جن احادیث سے تقدیم کفارہ مفہوم ہوتا ہے ان میں حرف واو محض جمع کے لئے ہے اس سے تقدیم و تاخیر کا مفہوم مراد نہیں ہے اور نہ حقیقتا وہ احادیث تقدیم و تاخیر پر دلالت کرتی ہیں۔ اور حضرت ابوہریرہ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اگر کوئی شخص کسی بات پر قسم کھائے اور پھر وہ یہ سمجھے کہ ( اس کے خلاف کرنا ہی) قسم پوری کرنے سے بہتر ہے تو اسے چاہیے کہ وہ کفارہ ادا کر دے اور اس کام کو کرلے ( یعنی قسم توڑ دے )۔ ( مسلم) اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اللہ کی قسم! تم میں سے کسی شخص کا اپنی قسم پر اصرار کرنا ( یعنی اس قسم کو پوری کرنے ہی کی ضد کرنا) جو اپنے اہل و عیال سے متعلق ہو، اللہ تعالیٰ کے نزیک اس کو زیادہ گناہگار بناتا ہے بہ نسبت اس کے کہ وہ اس قسم کو توڑ دے اور اس کا کفارہ ادا کر دے جو اس پر فرض کردیا گیا ہے۔ ( بخاری ومسلم) تشریح مطلب یہ ہے کہ اگر قسم توڑنے میں بظاہر حق تعالیٰ کے نام کی عزت و حرمت کی ہتک ہے اور قسم کھانے والا بھی اس کو اپنے خیال کے مطابق گناہ ہی سمجھتا ہے لیکن اس قسم کو پوری کرنے ہی پر اصرار کرنا جو اہل و عیال کی کسی حق تلفی کا باعث ہوتی ہے زیادہ گناہ کی بات ہے! گویا اس حدیث کا مقصد بھی یہ واضح کرنا ہی کہ قسم کے برخلاف عمل کی بھلائی ظاہر ہونے کی صورت میں قسم کو توڑ دینا اور اس کا کفارہ ادا کرنا لازم ہے۔
کسی تنازعہ کی صورت میں قسم دینے والے کی نیت کا اعتبار ہو گا
3415 - [ 10 ] ( صحيح ) وعنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يمينك على ما يصدقك عليه صاحبك . رواه مسلم (2/277) 3416 - [ 11 ] ( صحيح ) وعنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : اليمين على نية المستحلف . رواه مسلم
اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا تمہاری قسم اس وقت صحیح ہوتی ہے جب تمہارا ساتھی ( یعنی قسم دینے والا) تمہیں سچا سمجھے۔ ( مسلم)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ قسم سچی ثابت ہونے کے سلسلے میں اس شخص کی نیت و ارادہ کا اعتبار ہوگا جس نے تمہیں قسم دی ہے اس میں قسم کھانے والے کی نہ تو نیت کا اعتبار ہوگا اور نہ اس کے توریہ و تاویل کا اعتبار کیا جائے گا لیکن اس حکم کا تعلق کسی تنازعہ کی اس صورت سے ہے جب کہ، قسم دینے والے کا کوئی حق و مطالبہ قسم کھانے والے پر ہو اور قسم کھانے والے کے توریہ و تاویل سے اس کا حق ساقط ہوتا ہو یہ ایسا ہی ہے جیسا کہ کسی مقدمہ کے سلسلہ میں اگر قاضی وحاکم مدعا علیہ کو قسم دلائے تو اس میں قاضی وحاکم کی نیت کا اعتبار ہوتا ہے، ہاں اگر کسی کی حق تلفی کا کوئی معاملہ نہ ہو یا کوئی قسم دینے والا نہ ہو تو پھر توریہ میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ بطور خاص جب کہ اس توریہ کی وجہ سے کسی کا فائدہ ہوتا ہو جیسا کہ حضرت ابراہیم کی مراد یہ تھی کہ یہ میری دینی بہن ہیں۔ اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا قسم کا اعتبار، قسم دینے والے کی نیت پر ہوتا ہے۔ ( مسلم )