وعن أبي أمامة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم وهب لعلي غلاما فقال : لا تضربه فإني نهيت عن ضرب أهل الصلاة وقد رأيته يصلي . هذا لفظ المصابيح أن عمر بن الخطاب رضي الله عنه قال : نهانا رسول الله صلى الله عليه و سلم عن ضرب المصلين
اور حضرت ابوامامہ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ حضرت علی کو ایک غلام عطاء کیا اور یہ حکم دیا کہ اس کو بےحکم شرعی مارنا نہیں کیونکہ میرے رب کی طرف سے مجھے نمازیوں کو مارنے سے منع کیا ہے اور میں نے اس غلام کو نماز پڑھتے دیکھا ہے ( یہ الفاظ جو مشکوۃ میں مذکور ہیں) مصابیح کے ہیں اور دارقطنی کی تصنیف مجتبی میں یہ منقول ہے کہ حضرت عمر ابن خطاب نے فرمایا کہ رسول کریم ﷺ نے ہمیں نمازیوں کو مارنے کی ممانعت فرمائی۔
تشریح
نمازیوں کو مارنے سے ممانعت اللہ کے نزدیک ان کے شرف و فضیلت کی بناء پر اور مخلوق اللہ کے درمیان ان کی عزت و توقیر کو محفوظ رکھنے کے لئے ہے۔ طیبی نے اس موقع پر یہ نکتہ بیان کیا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے دنیا میں نمازیوں کو مارنے سے منع کیا ہے تو اس کے بےپایاں فضل و کرم سے امید ہے کہ وہ آخرت میں ان کو عذاب میں مبتلا کر کے ذلیل و رسوا نہیں کرے گا۔ انشاء اللہ تعالیٰ
مملوک کی خطائیں معاف کرنے کا حکم
وعن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما قال : جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقال : يا رسول الله كم نعفو عن الخادم ؟ فسكت ثم أعاد عليه الكلام فصمت فلما كانت الثالثة قال : اعفوا عنه كل يوم سبعين مرة . رواه أبو داود (2/265) 3368 - [ 27 ] ( لم تتم دراسته ) ورواه الترمذي عن عبد الله بن عمرو
اور حضرت عبداللہ ابن عمر کہتے ہیں کہ ایک دن نبی کریم ﷺ کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ! ہم کتنی مرتبہ اپنے غلام لونڈی کی خطائیں معاف کریں آنحضرت ﷺ خاموش رہے اور کوئی جواب نہیں دیا اس شخص نے پھر یہی سوال کیا تو اس مرتبہ بھی خاموش رہے پھر جب اس نے تیسری مرتبہ یہی پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ ہر روز ستر مرتبہ (ابوداؤد ترمذی نے اس روایت کو حضرت عبداللہ بن عمر سے نقل کیا ہے۔
تشریح
ستر مرتبہ سے یہ خاص عدد مراد نہیں ہے بلکہ جیسا کہ اہل عرب کے ہاں کسی چیز کی زیادتی اور کثرت کو بیان کرنے کے لئے عام طور پر ستر کا عدد ذکر کیا جاتا تھا آپ ﷺ کا مقصد بھی واضح کرنا تھا کہ زیادہ سے زیادہ مرتبہ ان کی خطائیں معاف کردو۔ سائل کے سوال پر آنحضرت ﷺ کا خاموش رہنا سوال کی رکاکت کی بناء پر تھا کہ عفو تو مستحب اور پسندیدہ ہے کہ نہ کہ اس کو کسی خاص عدد کے ساتھ مقید کرنا مقصود ہے اور یہ ممکن ہے کہ آپ ﷺ نے وحی کے انتظار میں خاموشی اختیار فرمائی ہو۔
مملوک کے بارے میں ایک ہدایت
وعن أبي ذر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من لاءمكم من مملوكيكم فأطعموه مما تأكلون واكسوه مما تكسون ومن لا يلائمكم منهم فبيعوه ولا تعذبوا خلق الله . رواه أحمد وأبو داود
اور حضرت ابوذر کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا تمہارے مملوک لونڈی غلام میں سے جو لونڈی غلام تمہاری اطاعت و خدمت تمہاری خواہش کے مطابق کرے اور وہ تمہارے مزاج کے موافق ہو تو اس کو ہی کھلاؤ جو تم خود کھاتے ہو اور اس کو وہی پہناؤ جو تم پہنتے ہو کیونکہ جب وہ تمہارا دل خوش کرتا ہے تو تم بھی اس کا دل خوش کرو اور جو لونڈی غلام تمہارے مزاج کے موافق نہ ہو تو اس کو تکلیف نہ دو بلکہ بیچ ڈالو اللہ کی مخلوق کو تکلیف دینا درست نہیں ہے ( احمد ابوداؤد)
جانوروں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کا حکم
وعن سهل بن الحنظلية قال : مر رسول الله صلى الله عليه و سلم ببعير قد لحق ظهره ببطنه فقال : اتقوا الله في هذه البهائم المعجمة فاركبوها صالحة واتركوها صالحة . رواه أبو داود
اور حضرت سہل ابن حنظلیہ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ ایک اونٹ کے قریب سے گزرے تو دیکھا کہ بھوک و پیاس کی شدت اور سواری وبار برداری کی زیادتی سے اس کی پیٹھ پیٹ سے لگ گئی تھی آپ ﷺ نے فرمایا کہ ان بےزبان چوپایوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور ان پر ایسی حالت میں سواری کرو جب کہ وہ قوی اور سواری کے قابل ہوں اور ان کو اس اچھی حالت میں چھوڑ دو کہ وہ تھکے نہ ہوں ( ابوداؤد)
تشریح
ان بےزبان چوپایوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو، کا مطلب یہ ہے کہ یہ بولنے پر قادر نہیں ہیں کہ اپنی بھوک و پیاس وغیرہ کا حال اپنے مالک سے بیان کرسکیں اس لئے ان کے چارہ پانی کے جو بھی اوقات ہوں ان میں ان کو کھلانے پلانے میں کوتاہی نہ کرو اس میں گویا اس بات کی دلیل ہے کہ چوپایوں کا چارہ پانی ان کے مالکوں پر واجب ہے۔ ان پر ایسی حالت میں سواری نہ کر الخ، کا مقصد گھاس دانہ کے ذریعہ کی خبر گیری رکھنے کی ترغیب دلانا ہے کہ ان کے گھاس دانہ میں کمی و کوتاہی نہ کرو تاکہ یہ قوی اور سواری کے قابل رہیں نیز جب یہ تھکنے کے قریب ہوں تو ان کو چھوڑ دو اور گھاس دانہ دو جب وہ کھا پی لیں اور ان میں توانائی آجائے تو اس کے بعد ان پر سواری یا بار برداری کرو کیونکہ اس طرح چوپائے فربہ ہوتے ہیں۔
مال یتیم کے بارے حکم خداوندی
عن ابن عباس قال : لما نزل قوله تعالى ( ولا تقربوا مال اليتيم إلا بالتي هي أحسن ) وقوله تعالى : ( إن الذين يأكلون أموال اليتامى ظلما ) الآية انطلق من كان عنده يتيم فعزل طعامه من طعامه وشرابه من شرابه فإذا فضل من طعام اليتيم وشرابه شيء حبس له حتى يأكله أو يفسد فاشتد ذلك عليهم فذكروا ذلك لرسول الله صلى الله عليه و سلم فأنزل الله تعالى : ( ويسألونك عن اليتامى قل : إصلاح لهم خير وإن تخالطوهم فإخوانكم ) فخلطوا طعامهم بطعامهم وشرابهم بشرابهم . رواه أبو داود والنسائي
حضرت ابن عباس کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد نازل ہوا یتیم کے مال کے پاس نہ جاؤ مگر اس عادت کے ساتھ جو نیکی پر مبنی ہے یعنی امانت ودیانت کے ساتھ) اور بلاشبہ جو لوگ یتیموں کا مال ازراہ ظلم بلا استحقاق کھاتے برتتے ہیں تو جن لوگوں کے پاس یعنی جن کی نگرانی و پرورش میں یتیم تھے انہوں نے سخت احتیاط برتنی شروع کی اور ان کے کھانے کے سامان کو اپنے کھانے کے سامان سے اور ان کے پینے کی چیزوں کو اپنے پینے کی چیزوں سے الگ کردیا یہاں تک کہ ان یتیموں کے کھانے پینے کی چیزوں میں سے جو کچھ بچ رہتا اس کو اٹھا کر رکھ دیا جاتا جس کو وہ یتیم یا دوسرے وقت کھا پی لیتا یا وہ خراب ہوجاتا تھا۔ یہ بات ان نگرانوں کو بڑی شاق گزری چناچہ انہوں نے رسول کریم ﷺ سے اس کا ذکر کیا اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور جو لوگ آپ ﷺ سے یتیمی بچوں کا حکم پوچھتے ہیں فرما دیجئے کہ ان کی مصلحت کی رعایت رکھنا زیادہ بہتر ہے اور اگر تم ان کے ساتھ خرچ شامل رکھو تو وہ بچے تمہارے دینی بھائی ہیں چناچہ اس آیت کے نازل ہونے کے بعد ان نگرانوں نے یتیموں کے کھانے پینے کو اپنے کھانے میں ملا لیا ( ابوداؤد نسائی)
تشریح
حدیث میں مذکورہ دوسری آیت پوری یوں ہے (اِنَّ الَّذِيْنَ يَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ الْيَتٰمٰى ظُلْمًا اِنَّمَا يَاْكُلُوْنَ فِيْ بُطُوْنِھِمْ نَارًا وَسَيَصْلَوْنَ سَعِيْرًا) 4۔ النساء 10) بلاشبہ جو لوگ یتیموں کا مال ازراہ ظلم یعنی بلا استحقاق کھاتے (برتتے) ہیں وہ دراصل اپنے پیٹ میں دوزخ کی آگ بھر رہے ہیں اور وہ عنقریب جلتی آگ میں داخل ہوں گے۔ آخری آیت یوں ہے (فِى الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ وَيَسْ َ لُوْنَكَ عَنِ الْيَتٰمٰي قُلْ اِصْلَاحٌ لَّھُمْ خَيْرٌ وَاِنْ تُخَالِطُوْھُمْ فَاِخْوَانُكُمْ وَاللّٰهُ يَعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنَ الْمُصْلِحِ وَلَوْ شَا ءَ اللّٰهُ لَاَعْنَتَكُمْ ) 2۔ البقرۃ 220) اور لوگ آپ ﷺ سے یتیم بچوں کے (مال کو علیحدہ یا شامل رکھنے) کا حکم پوچھتے ہیں آپ ﷺ ان سے فرما دیجئے کہ ان کی مصلحت کی رعایت رکھنا زیادہ بہتر ہے اور اگر تم ان کے ساتھ خرچ شامل رکھو تو وہ بچے تمہارے دینی بھائی ہیں اور اللہ تعالیٰ مصلحت کے ضائع کرنے والے اور مصلحت کی رعایت رکھنے والے کو الگ الگ جانتے ہیں اور اگر اللہ تعالیٰ چاہتے تو سخت قانون مقرر کر کے تم کو مصیب میں ڈال دیتے۔ حدیث کا حاصل یہ ہے کہ یتیموں کے مال کے بارے میں جب قرآن کریم کی مذکورہ ہدایت کے مطابق یتیموں کے نگران اور مربیوں نے سخت احتیاط برتنی شروع کی اور یتیموں کے مال کو اپنے مال و اسباب سے علیحدہ کردینے کی وجہ سے نہ صرف یہ کہ ذمہ داریوں کی مشکلات میں اضافہ ہوا بلکہ یتیموں کے مال کا نقصان بھی ہونے لگا تو ان مربیوں کی عرض پر اللہ تعالیٰ نے یہاں اجازت عطا فرمائی کہ یتیموں کے نگران ان یتیموں کے مال و اسباب کو اپنے مال و اسباب میں ملا سکتے ہیں اور آیت (وا اللہ یعلم المفسد) الخ کے ذریعہ اس طرف ارشاد فرمایا کہ ان کے مال کو اپنے مال کے ساتھ مخلوط تو کرلو لیکن ان کے خیرخواہ اور ہمدرد بہرصورت رہو اپنی نیتوں کو خراب نہ کرو اور ان کے مال کو فریب ودغا کے ذریعہ نقصان نہ پہچاؤ! کیونکہ اللہ تعالیٰ مصلحت کی رعایت رکھنے والوں اور نہ رکھنے والوں کو خوب جانتا ہے اگر کسی نگران نے بدنیتی بدخواہی اور بددیانتی کے ساتھ یتیم کے مال پر تصرف کیا تو اس کو سخت سزا دی جائے گی۔ منقول ہے کہ حضرت امام محمد کے ایک شاگرد کا انتقال ہوگیا تو انہوں نے اس کی کتابیں فروخت کر کے اس کی تجہیز وتکفین کا انتظام کیا لوگوں نے ان سے کہا کہ آپ کے اس شاگرد نے اس کی وصیت تو کی نہیں تھی آپ نے ایسا کیوں کیا؟ حضرت امام محمد نے اس کے جواب میں یہی آیت (وَاللّٰهُ يَعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنَ الْمُصْلِحِ ) 2۔ البقرۃ 220) پڑھی۔
باپ بیٹوں یا دو بھائیوں میں جدائی نہ ڈالو
وعن أبي موسى قال : لعن رسول الله صلى الله عليه و سلم من فرق بين الوالد وولده وبين الأخ وبين أخيه . رواه ابن ماجه والدارقطني (2/266) 3373 - [ 32 ] ( لم تتم دراسته ) وعن عبد الله بن مسعود قال : كان النبي صلى الله عليه و سلم إذا أتي بالسبي أعطى أهل البيت جميعا كراهية أن يفرق بينهم . رواه ابن ماجه
اور حضرت ابوموسی کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے اس شخص پر لعنت فرمائی ہے جو باپ اور اس کے بیٹے کے درمیان اور دو بھائیوں کے درمیان جدائی ڈالے ( ابن ماجہ دارقطنی)
تشریح
جدائی ڈالنے سے مراد ان دونوں میں سے کسی ایک کو بیچ ڈالنا یا ہبہ وغیرہ کردینا ہے بشرطیکہ بیٹا یا ایک بھائی چھوٹا کمسن ہو اس کی تفصیل حضرت ابوایوب کی روایت کی تشریح میں پچھلے صفحات میں گزر چکی ہے۔ یا جدائی ڈالنے کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ کسی باپ بیٹے یا دو بھائیوں کے درمیان لگائی بجھائی کے ذریعہ خفگی و ناراضگی اور جدائی پیدا کردی جائے۔ اور حضرت عبداللہ ابن مسعود کہتے ہیں کہ جب کسی غزوہ وغیرہ میں قیدی لائے جاتے تو نبی کریم ﷺ پورے گھر کو ہم میں سے کسی ایک شخص کو بطور لونڈی غلام عطا فرما دیتے تھے یعنی قیدیوں میں ایک گھر کے جتنے بھی افراد ہوتے ان سب کو آپ کسی ایک ہی شخص کے حوالے کردیتے تھے) کیونکہ ان کے درمیان جدائی ڈالنا آپ ﷺ کو ناپسند تھا ( ابن ماجہ)
وعن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : ألا أنبئكم بشراركم ؟ الذي يأكل وحده ويجلد عبده ويمنع رفده . رواه رزين
اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ کیا میں تمہیں یہ نہ بتادوں کہ تم میں برے لوگ کون ہیں تو سنو برا وہ شخص ہے کہ جو کھانا تنہا کھائے اپنے غلام کو ناحق مارے اور کسی اپنی بخشش وعطاء سے فائدہ نہ پہنچائے ( رزین)
تشریح
اس حدیث میں چند ایسی چیزوں کو ذکر کیا گیا ہے جو ناپسندیدہ ہیں اور بری ہیں اور یہ چیزیں جن لوگوں کی خصلت بن جاتی ہیں وہ ناپسندید اور برے سمجھے جاتے ہیں چناچہ سب سے تنہا ہو کر کھانا برا ہے اپنے غلام کو بلا کسی جرم وخطا کے مارنا برا ہے اور کسی کو کچھ نہ دینا برا ہے حاصل یہ کہ جو لوگ بد خلق اور بخیل ہیں وہ برے ہیں۔ جامع صغیر میں ابن عساکر نے حضرت معاویہ سے یہ روایت نقل کی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کیا میں تمہیں یہ نہ بتادوں کہ لوگوں میں برے کون ہیں؟ برا وہ شخص ہے جو کھانا تنہا کھائے کسی کو اپنی بخشش وعطا سے فائدہ نہ پہنچائے تنہاء سفر کرے اور اپنے غلام کو ناحق مارے اور کیا تمہیں یہ نہ بتاؤں کہ اس سے بھی برا کون شخص ہے؟ وہ شخص اس سے بھی برا ہے جو لوگوں سے بغض رکھے اور لوگ اس سے بغض رکھیں اور کیا تمہیں یہ نہ بتاؤں کہ اس سے بھی برا کون شخص ہے اس سے بھی برا وہ شخص ہے جس کے شر و فتنہ سے لوگ ڈریں اور اس سے کسی بھلائی کی امید نہ رکھیں اور کیا تمہیں یہ نہ بتاؤں کہ اس سے بھی برا کون شخص ہے اس سے بھی برا وہ شخص ہے جو اپنی آخرت کو دنیا کے عوض بیچ دے اور کیا تمہیں نہ بتاؤں کہ اس سے بھی برا کون شخص ہے؟ اس سے بھی برا وہ شخص ہے جو دین کے ذریعہ دنیا کمائے۔
لونڈی غلاموں کو اپنی اولاد اور اپنے بھائی کیطرح رکھو
وعن أبي بكر الصديق رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا يدخل الجنة سيئ الملكة . قالوا : يا رسول الله أليس أخبرتنا أن هذه الأمة أكثر الأمم مملوكين ويتامى ؟ قال : نعم فأكرموهم ككرامة أولادكم وأطعموهم مما تأكلون . قالوا : فما تنفعنا الدنيا ؟ قال : فرس ترتبطه تقاتل عليه في سبيل الله ومملوك يكفيك فإذا صلى فهو أخوك . رواه ابن ماجه
اور حضرت ابوبکر صدیق راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اپنے غلام لونڈی کے ساتھ برائی کرنیوالا کبھی جنت میں داخل نہیں ہوگا یہ سن کر صحابہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ! کیا آپ ﷺ نے ہمیں یہ نہیں بتایا کہ آپ ﷺ کی امت غلام لونڈی اور یتیموں کے اعتبار سے پچھلی تمام امتوں سے بڑھی ہوئی ہوگی (یعنی آپ ﷺ کی امت میں غلام لونڈی اور یتیم بہت ہوں گے تو کیا اتنی کثرت کی حالت میں سب کے ساتھ خوش خلقی کا برتاؤ کرنا ممکن ہوگا؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں میری امت میں لونڈی غلام بہت ہوں گے اور اتنی کثرت کی حالت میں سب ہی کے ساتھ خوش خلقی کا برتاؤ کرنا مشکل بھی بہت ہوگا لیکن اگر تم جنت میں داخل ہونا چاہتے ہو تو تم ان کے ساتھ دوسری طرح ایسے حسان کرو جو ان کے ساتھ تمہاری بد خلقی کا بدلہ ہوجائیں اور وہ احسان یہ ہے کہ تم ان کو اپنے کی طرح عزیز رکھ یعنی ان پر بایں طور نرمی و رحم کیا کرو کہ ان پر کسی ایسے کام کا بوجھ نہ ڈالو جو ان کے بس سے باہر ہو اور ان پر ظلم و زیادتی نہ کیا کرو) اور ان کو وہی کھلاؤ جو خود کھاتے ہو۔ صحابہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ! ہمیں دنیا میں نفع پہنچانے والی کون سی چیز ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ایک گھوڑا جس کو تم اللہ کی راہ میں لڑنے کے لئے بانجھ رکھو اور ایک غلام جو تمہیں کفایت کرے (یعنی وہ تمہارے دنیاوی امور کو انجام دیتا رہے تاکہ تم فارغ رہ کر آخرت کے امور انجام دے سکو اور اگر تمہارا غلام نماز پڑھے تو وہ تمہارا بھائی ہے، لہذا اس کے ساتھ بھائی جیسا سلوک کرو ( ابن ماجہ)
تشریح
یہ فرمایا گیا ہے کہ امت میں لونڈی غلام اور یتیم بہت زیادہ ہوں گے تو اس کا سبب یہ ہے کہ جب جہاد کثرت سے ہوگا تو کفار کے قیدی بھی کثرت سے ہاتھ آئیں گے اور جہاد کی کثرت ہی سے مسلمان شہید ہوں گے اور جب مسلمان شہید ہوں گے تو ان کے بچے یتیم ہوجائیں گے۔
چھوٹے بچوں کی تربیت وپرورش اور ان کے بالغ ہونے کا بیان
اس باب میں یہ بیان کیا جائے گا کہ لڑکے اور لڑکی کے بالغ ہونے کی علامت اور حد کیا ہے اور یہ کہ بچے کی تربیت و پرورش کرنے کا حق کس پر ہے؟ بلوغ کی علامت لڑکے کے بالغ ہونے کی علامت یہ کہ اس کو احتلام ہونے لگے اور اس میں عورت کو حاملہ کردینے کی صلاحیت پیدا ہوجائے اور انزال ہوسکتا ہو۔ اسی طرح لڑکی کے بالغ ہونے کی علامت یہ ہے کہ اس کو ماہوری آجائے اور احتلام ہوجائے اور اس کے حمل ہوسکتا ہو اگر یہ علامتیں نہ پائی جائیں تو پھر جب لڑکے اور لڑکی دونوں کی عمر پندرہ سال کی ہوجائے تو وہ بالغ کے حکم میں داخل ہوجائیں گے فتوی اسی قول پر ہے لڑکے کے بالغ ہونے کی کم سے کم مدت بارہ برس کی عمر ہے اور لڑکی کے بالغ ہونے کی کم سے کم مدت نو برس ہے۔ اگر لڑکا لڑکی بالغ ہونے کے قریب ہوں اور وہ یہ کہیں کہ ہم بالغ ہوگئے ہیں تو ان دونوں کی اس بات کو صحیح سمجھا جائے گا اور وہ دونوں حکم میں بالغ کی مانند ہوں گے۔ بچہ کی پرورش کا حق کس کو ہے؟ چھوٹے بچے کی پرورش کا حق سب سے زیادہ ماں کو ہے خواہ وہ شادی قائم ہونے کی حالت میں ہو یا اس کو طلاق دیدی گئی ہو ہاں اگر ماں مرتد یا بدکار ہے جس سے امن نہ ہو تو پھر اس کو حق سب سے زیادہ نہیں ہوگا اگر ماں طلاق کے بعد بچہ کی پرورش کرنے سے انکار کر دے تو صحیح یہ ہے کہ اس کو مجبور نہیں کیا جائے گا کیونکہ ہوسکتا ہے کہ وہ عاجز ہو لیکن اگر اس بچہ کا کوئی ذی رحم اس کی ماں کے علاوہ نہ ہو تو بچہ کو ضائع ہونے بچانے کے لئے ماں کو پرورش کرنے کے لئے مجبور کیا جائے گا اگر ماں نے بچہ کے باپ کی وفات یا طلاق کے بعد اس بچہ کے غیر محرم سے شادی کرلی تو پھر اس بچہ کی پرورش کا سب سے زیادہ حق اس کو نہیں ہوگا اور اس نے کسی محرم سے شادی کرلی ہے مثلا بچہ کے چچا سے نکاح کرلیا ہے تو اس صورت میں اس کا یہ حق ساقط نہیں ہوگا اسی طرح ماں نے پہلے کسی غیر محرم سے نکاح کرلیا اور اس کی وجہ سے اس کا حق ساقط ہوگیا مگر پھر ماں نے اس غیر محرم کی وفات یا طلاق کے بعد کسی محرم سے جیسے بچہ کے چچا سے شادی کرلی تو اب اس کو پرورش کا سب سے زیادہ حق مل جائے گا۔ اگر بچہ کی ماں پرورش کا حق نہ رکھتی ہو بایں سبب کہ اس نے غیرمحرم سے شادی کرلی ہے یا مرتد ہوگئی اور یا وہ مر گی ہو تو پھر اس بچہ کی پرورش کا حق سب سے زیادہ نانی کو ہوگا۔ اگر نانی موجود نہ ہو تو اس سے اوپر کے درجہ والی مثلا پڑنانی وغیرہ کو ہوگا نانی و پر نانی وغیرہ کے بعد پرورش کرنے کی سب سے زیادہ مستحق دادی و پردادی وغیرہ ہوگی اگر دادی اور پردادی وغیرہ موجود نہ ہو تو پرورش کا سب سے زیادہ حق بچہ کی حقیقی بہن اس کے بعد اخیافی بہن اور اس کے بعد سوتیلی بہن کو ہوگا اور اگر ان میں سے کوئی بھی موجود نہ ہو یا پرورش کرنے کی اہلیت نہ رکھتی ہو تو پھر اسی ترتیب کے مطابق پرورش کرنے کا حق سب سے زیادہ بچہ کی خالہ کو اس کے بعد بچہ کی پھوپھی کو ہوگا اور بھانجیاں بھتیجیوں اور بھتیجیاں پھوپھیوں سے اولی ہوں گی۔ استحقاق پرورش کے سلسلہ میں جن عزیزوں کا ذکر کیا گیا ہے ان کا آزاد ہونا شرط ہے لہذا باندی اور ام ولد کو پرورش کا کوئی حق نہیں ہے لیکن ذمیہ مسلمہ کے حکم میں ہے کہ ذمیہ کو پرورش کا حق حاصل ہے بشرطیکہ بچہ دین کی سمجھ بوجھ کی عمر کو نہ پہنچ گیا ہو اگر ایسی کوئی بھی عورت موجود نہ ہو جس کو پرورش کا حق پہنچتا ہے تو پھر اس بچہ کی پرورش کا حق عصبات کو ہوگا اور ان کی ترتیب وہی ہوگی جو میراث پانے میں ہوتی ہے لیکن لڑکی کسی ایسے عصبہ کی پرورش میں نہ دی جائے جو غیرمحرم ہو جیسا چچا کا لڑکا یا وہ فاسق و لاپرواہ ہو۔ حق پرورش کی مدت حق پرورش کی مدت نو سال یا سات سال کی عمر مقرر کی گئی ہے اور قدوری نے لکھا ہے کہ جب بچہ تنہا کھانے پینے لگے کپڑا پہننے لگے اور خود استنجا کرنے لگے تو حق پرورش ختم ہوجاتا ہے اس کے بعد اس بچہ کو اس کا باپ زبردستی اپنی تحویل میں اور نگہداشت میں لے سکتا ہے اور لڑکی کی صورت میں ماں اور نانی اس وقت تک مستحق رہیں گی جب تک کہ اس کی لڑکی کو حیض نہ آجائے اور حضرت امام محمد کے نزدیک لڑکی کے قابل شہوت ہونے تک ماں اور نانی کو پرورش کا استحقاق رہتا ہے جیسا کہ ماں اور نانی اور دادی کے علاوہ دوسری عورتوں کے استحقاق کے بارے میں یہ شرط ہے کہ جب لڑکی مرد کے قابل ہوجائے تو وہ ان کی پرورش سے نکل جائے گی۔
عن ابن عمر رضي الله عنهما قال : عرضت على رسول الله صلى الله عليه و سلم عام أحد وأنا ابن أربع عشرة سنة فردني ثم عرضت عليه عام الخندق وأنا ابن خمس عشرة سنة فأجازني فقال عمر بن عبد العزيز : هذا فرق ما بين المقاتلة والذرية
حضرت ابن عمر کہتے ہیں کہ تین ہجری میں غزوہ احد کے موقع پر جہاد میں جانے کے لئے مجھے رسول کریم ﷺ کے سامنے پیش کیا گیا جب کہ میری عمر چودہ سال تھی مگر آنحضرت ﷺ نے مجھے واپس کردیا یعنی جہاد میں شرکت کے لئے مجھ کو نہ لے گئے) پھر غزوہ خندق کے موقع پر جب کہ میری عمر پندہ سال تھی مجھے آنحضرت ﷺ کے سامنے پیش کیا گیا تو آپ ﷺ نے مجھے جہاد میں جانے کی اجازت عطاء فرما دی کیونکہ بالغ ہونے کی عمر پندرہ سال ہے) حضرت عمر بن عبدالعزیز فرماتے ہیں کہ عمر لڑنے والوں اور لڑکوں کے درمیان فرق کرنیوالی ہے (بخاری ومسلم)
تشریح
جب حضرت عمر بن عبدالعزیز نے یہ حدیث سنی تو مذکورہ بالاجملہ ارشاد فرمایا کہ جس سے ان کی مراد یہ تھی کہ جب لڑکا پندرہ سال کی عمر کو پہنچ جائے اور جو پندرہ سال کی عمر کو نہ پہنچے اس کو نابالغ لڑکوں میں شمار کیا جائے اس سے معلوم ہوا کہ بالغ ہونے کی عمر پندرہ سال ہے۔
حضرت حمزہ کی صاحبزادی کی پرورش کا تنازعہ اور اس کا تصفیہ
وعن البراء بن عازب قال : صالح النبي صلى الله عليه و سلم يوم الحديبية على ثلاثة أشياء : على أن من أتاه من المشركين رده إليهم ومن أتاهم من المسلمين لم يردوه وعلى أن يدخلها من قابل ويقيم بها ثلاثة أيام فلما دخلها ومضى الأجل خرج فتبعته ابنة حمزة تنادي : يا عم يا عم فتناولها علي فأخذ بيدها فاختصم فيها علي وزيد وجعفر قال علي : أنا أخذتها وهي بنت عمي . وقال جعفر : بنت عمي وخالتها تحتي وقال زيد : بنت أخي فقضى بها النبي صلى الله عليه و سلم لخالتها وقال : الخالة بمنزلة الأم . وقال لعلي : أنت مني وأنا منك وقال لجعفر : أشبهت خلقي وخلقي . وقال لزيد : أنت أخونا ومولانا
اور حضرت براء ابن عازب کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے حدیبیہ کے دن کفار مکہ سے تین باتوں پر صلح کی تھی ایک تو یہ کہ مشرکوں میں جو شخص آپ ﷺ کے پاس آجائے آپ ﷺ اسے واپس فرما دیں گے دوسرے یہ کہ آپ ﷺ آئندہ سال مدینہ سے مکہ تشریف لائیں اور اپنا عمرہ قضا کریں اور ارکان عمرہ کی ادائیگی اور استراحت کے لئے) مکہ میں صرف تین دن قیام فرمائیں چناچہ آئندہ سال جب آپ ﷺ مکہ تشریف لائے اور متعینہ مدت پوری ہوگئی ( یعنی تین دن گزر گئے) اور آپ ﷺ نے مکہ سے واپسی کا ارادہ کیا تو حضرت حمزہ کی بیٹی اے میرے چچا اے میرے چچا کہتی ہوئی آپ ﷺ کے پیچھے لگ گئی، حضرت علی نے اس کو پکڑنے یعنی اپنے ہمراہ لینے کا ارادہ کیا اور اس کا ہاتھ پکڑ لیا یعنی اپنے ہمراہ لے لیا اس کے بعد حضرت حمزہ کی اس بیٹی کی پرورش کے بارے میں حضرت علی حضرت زید اور حضرت جعفر کے درمیان تنازعہ پیدا ہوگیا حضرت علی تو یہ کہتے تھے کہ پہلے میں نے اس بچی کو لیا ہے اور یہ میرے چچا کی بیٹی ہے اس لئے اس کی پرورش کا سب سے زیادہ حق مجھ کو ہے) اور حضرت جعفر یہ کہتے تھے کہ یہ میرے چچا کی بیٹی ہے اور اس کی خالہ میرے نکاح میں ہے اس لئے اس کی پرورش کا سب سے زیادہ حق مجھ کو ہے) نبی کریم ﷺ نے اس تنازعہ کا فیصلہ اس طرح کیا کہ اس کو اس کی خالہ کے سپرد کردیا جو جعفر کے نکاح میں تھیں) اور فرمایا کہ خالہ ماں کے برابر ہے پھر آپ ﷺ نے حضرت علی ؓ سے فرمایا کہ میں تم سے ہوں اور تم مجھ سے ہو یعنی ہم دونوں میں کمال اخلاص و یگانگت ہے اور حضرت جعفر سے فرمایا کہ تم میری پیدائش اور میرے خلق میں مشابہ ہو اور حضرت زید سے فرمایا کہ تم ہمارے بھائی اور ہمارے محبوب ہو ( بخاری ومسلم)
تشریح
حدیبیہ مکہ سے تقریبا پندرہ میل کے فاصلہ پر بجانب جدہ ایک جگہ کا نام ہے ٦ ھ میں آنحضرت ﷺ اپنے صحابہ کی معیت میں عمرہ کرنے کے لئے مدینہ سے مکہ کو روانہ ہوئے جب حدیبیہ پہنچے تو کفار مکہ نے وہیں سے روک دیا اور مکہ نہ آنے دیا اور پھر اس مقام پر آنحضرت ﷺ اور کفار مکہ کے درمیان ایک معاہدہ کے تحت صلح ہوئی جس کی تین بنیادی دفعات کا ذکر اس حدیث میں کیا گیا ہے یہ صلح حدیبیہ بڑا مشہور واقعہ ہے اور اس کا تفصیلی بیان انشاء اللہ کتاب الجہاد میں آئے گا۔ حضرت حمزہ آنحضرت ﷺ کے چچا اور دودھ شریک بھائی تھے کیونکہ آنحضرت ﷺ نے اور حضرت حمزہ نے ابولہب کی لونڈی ثوبیہ کا دودھ پیا تھا اسی رشتہ رضاعت کی بناء پر حضرت حمزہ کی بیٹی نے آنحضرت ﷺ کو چچا کہا۔ حضرت جعفر آنحضرت ﷺ کے چچا زاد بھائی یعنی ابوطالب کے لڑکے اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے بھائی تھے اور عمر میں حضرت علی ؓ سے دس سال بڑے تھے۔ حضرت زید بن ثابت ایک غلام تھے جن کو آنحضرت ﷺ نے آزاد کیا تھا اور اپنا متبنی (منہ بولا بیٹا) بنایا تھا ان سے آنحضرت ﷺ کو بہت محبت تھی چونکہ آپ نے دوسرے صحابہ کی مانند حضرت حمزہ اور حضرت زید کے درمیان بھائی چارہ کا تعلق قائم کردیا تھا اس لئے حضرت زید نے حضرت حمزہ کی بیٹی کو بھتیجی کہا۔ حضرت علی جب حضرت حمزہ کی بیٹی کو مدینہ لے آئے تو اس کی پرورش کے بارے میں مذکورہ بالا تینوں حضرات کے درمیان تنازعہ ہوا ان میں سے ہر ایک یہ دعوی کرتا تھا کہ اس بچی کی پرورش کرنا سب سے زیادہ میرا حق ہے اور ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ یہ میری تربیت و کفالت میں رہے چناچہ آنحضرت ﷺ نے اس تنازعہ کا فیصلہ اس طرح فرمایا کہ اس بچی کو اس کی خالہ کی پرورش میں دیدیا جو حضرت جعفر کے نکاح میں تھیں اور ان تینوں حضرات کی تسلی اور ان کا دل خوش کرنے کے لئے مذکورہ کلمات ارشاد فرمائے تاکہ وہ آزردہ نہ ہوں۔
کس بچہ کی پرورش کا سب سے زیادہ حق اس کی ماں کو ہے۔
وعن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده عبد الله بن عمرو : أن امرأة قالت : يا رسول الله إن ابني هذا كان بطني له وعاء وثديي له سقاء وحجري له حواء وإن أباه طلقني وأراد أن ينزعه مني فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أنت أحق به ما لم تنكحي . رواه أحمد وأبو داود
حضرت عمرو ابن شعیب اپنے والد مکرم (حضرت شعیب) اور وہ اپنے دادا حضرت عبداللہ ابن عمرو سے نقل کرتے ہیں کہ ایک عورت نے عرض کیا یا رسول اللہ میرا یہ بیٹا ایک مدت تک میرا پیٹ اس کا برتن رہا میری چھاتی اس کی مشک رہی یعنی مدتوں میری چھاتی سے دودھ پیتا رہا اور میری گود اس کا گہوارہ رہی یعنی مدتوں میں نے اس کو اپنی گود میں پالا ہے اب اس کے باپ نے مجھے طلاق دیدی ہے اور میرے بیٹے کو بھی مجھ سے چھین لینا چاہتا ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تک تم کسی سے نکاح نہ کرو اس بچہ کی پرورش کرنے کی تم سب سے زیادہ مستحق ہو۔ (احمد، ابوداؤد)
تشریح
اس حدیث کے بعد جو حدیث آرہی ہے اس میں یہ ذکر کیا گیا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے لڑکے کو اختیار دے دیا تھا کہ وہ چاہے تو اپنی تو ماں کے پاس رہے اور چاہے تو اپنے باپ کے ہاں رہے اس طرح دونوں حدیثوں کے مفہوم میں بظاہر تضاد معلوم ہوتا ہے چناچہ طیبی فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں جس لڑکے کا ذکر ہے ہوسکتا ہے کہ وہ کم سن رہا ہو اور سن تمیز کو نہ پہنچا ہو اس لئے آنحضرت ﷺ نے اس کی پرورش کا سب سے زیادہ حق ماں کو دیا جب کہ آگے آنے والی حدیث میں جس لڑکے کا ذکر کیا گیا ہے وہ سن تمیز کو پہنچ چکا تھا اس لئے آپ ﷺ نے اس کو یہ حق دے دیا کہ وہ اپنے اختیار تمیزی کی بنا پر ماں باپ میں سے جس کو چاہے پسند کرے اور اس کے پاس چلا جائے جب تک کہ تم کسی سے نکاح نہ کرو اس بارے میں یہ حدیث مطلق ہے لیکن علماء نے اس مسئلہ کو غیر محرم کے ساتھ مقید کیا ہے یعنی اگر مطلقہ ماں وغیرہ کسی ایسے شخص کے ساتھ شادی کرلے جو لڑکے کا غیر محرم ہے تو اس کو اس لڑکے کی پرورش کا حق نہیں رہتا۔ اور اگر کسی ایسے شخص سے شادی کرے جو لڑکے کا محرم ہے جیسے اس کے چچا سے نکاح، تو اس صورت میں اس کو پرورش کا حق رہتا ہے کیونکہ وہ محرم لڑکے کے حق میں یقینا شفیق و مہربان ثابت ہوگا۔
مدت پرورش کے بعد لڑکے کو ماں باپ میں سے کسی کے بھی پاس رہنے کا اختیار ہے۔
وعن أبي هريرة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم خير غلاما بين أبيه وأمه . رواه الترمذي
اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے ایک لڑکے کو یہ اختیار دیا کہ وہ چاہے اپنے باپ کے پاس رہے اور چاہے اپنی ماں کے پاس رہے۔ (ترمذی)
تشریح
جیسا کہ اس سے پہلے کی حدیث کی تشریح میں بتایا گیا ہے یہ لڑکا چونکہ سن تمیز کو پہنچ گیا تھا یعنی بالغ ہوگیا تھا۔ اس لئے اس کو یہ اختیار دے دیا گیا کہ وہ خواہ اپنے باپ کے پاس چلا جائے۔ خواہ وہ اپنی ماں کے پاس رہے لہٰذا اس کا تعلق حضانتہ (یعنی پرورش کرنے) کے باب اور مسئلہ سے نہیں ہے جب کہ پہلی حدیث میں جس لڑکے کا ذکر کیا گیا ہے اس کا تعلق حضانتہ کے مسئلہ سے ہے اس لئے آپ ﷺ نے حضانتہ یعنی پرورش کرنے کے حق کے بارے میں ماں کو مقدم رکھا۔ چنانچہ حنفیہ کے نزدیک یہی مسئلہ ہے کہ مدت پرورش میں لڑکے کو یہ اختیار نہیں ہوتا کہ وہ چاہے تو اپنی ماں کے پاس رہے اور چاہے تو باپ کے پاس رہے جب کہ حضرت امام شافعی کے نزدیک لڑکے کو مدت پرورش میں بھی یہ اختیار حاصل ہوتا ہے۔ اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک عورت رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا کہ میرا خاوند چاہتا ہے کہ میرے بیٹے کو لے جائے حالانکہ وہ مجھے پانی پلاتا ہے اور نفع پہنچاتا ہے ( یعنی وہ اب اس عمر کو پہنچ گیا ہے کہ میں اس کی خدمت سے فائدہ اٹھاتی ہوں) نبی کریم ﷺ نے ( اس لڑکے سے) فرمایا کہ یہ تمہارا باپ اور یہ تمہاری ماں ہے ان میں سے تم جس کو پسند کرو اس کا ہاتھ پکڑ لو۔ چناچہ اس لڑکے نے اپنی ماں کا ہاتھ پکڑ لیا اور وہ اس کو اپنے ساتھ لے گئی۔ ( ابوداؤد، نسائی، دارمی) حضرت بلال ابن اسامہ حضرت میمونہ سے کہ جن کا نام سلیمان تھا اور اہل مدینہ میں سے کسی کے آذاد کردہ غلام تھے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا ( ایک دن) جب کہ میں حضرت ابوہریرہ ؓ کے ہاں بیٹھا ہوا تھا ان کے پاس فارس کی ایک عورت آئی جس کے ساتھ اس کا لڑکا بھی تھا اور اس کے خاوند نے اس کو طلاق دے دی تھی اور میاں بیوی کے درمیان اس لڑکے کے بارے میں تنازعہ تھا اس عورت نے ابوہریرہ ؓ فارسی زبان میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ابوہریرہ میرا شوہر میرے بیٹے کو لے جانا چاہتا ہے! حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا کہ تم دونوں اس پر قرعہ ڈالو ( جس کے نام قرعہ نکل آئے وہ اس لڑکے کو لے لے) حضرت ابوہریرہ ؓ نے بھی اس عورت کے سامنے اسی مفہوم کو فارسی زبان میں ادا کیا پھر اس عورت کا خاوند آگیا کہ میرے بیٹے کے بارے میں مجھ سے کون جھگڑا کرتا ہے؟ حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا کہ یا اللہ! میں یہ بات ( اپنی طرف سے) نہیں کہہ رہا ہوں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ میں ( ایک دن) رسول کریم ﷺ کی خدمت میں بیٹھا ہوا تھا۔ ایک عورت آئی اور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میرا شوہر چاہتا ہے کہ میرے بیٹے کو مجھ سے چھین لے جب کہ یہ مجھے فائدہ پہنچاتا ہے اور ابوعنبہ کے کنوئیں سے مجھ کو پانی اور نسائی میں یہ الفاظ ہیں کہ وہ ( شہر کے باہر کافی فاصلہ سے) میٹھا پانی ( لاکر) مجھ کو پلاتا ہے۔ یہ سن کر رسول کریم ﷺ نے فرمایا تم دونوں اس پر قرعہ ڈالو خاوند نے کہا کہ میرے بیٹے کے بارے میں مجھ سے کون جھگڑتا ہے؟ پھر رسول کریم ﷺ نے ( اس لڑکے سے) فرمایا یہ تمہارا باپ ہے اور یہ تمہاری ماں ہے ان دونوں میں سے جس کو تم پسند کرو، اس کو ہاتھ پکڑ لو! چناچہ اس لڑکے نے اپنی ماں کا ہاتھ پکڑ لیا۔ ( اور وہ اس کو اپنے ساتھ لے گئی )۔ ( ابوداؤد، نسائی، دارمی) تشریح حضرت ابوہریرہ ؓ نے اس عورت سے جو فارسی زبان میں گفتگو کی اس سے معلوم ہوا کہ بعض صحابہ اہل عجم کے ساتھ میل جول رکھنے اور ان کے ساتھ رہنے سہنے کی وجہ سے ان کی زبان سیکھ گئے تھے۔ اس حدیث میں جس لڑکے کا ذکر کیا گیا ہے وہ بھی بالغ تھا اور چونکہ بالغ کو یہ حق حاصل ہوتا ہے کہ وہ چاہے ماں کے پاس رہے اور چاہے باپ کے ساتھ رہے اسی لئے آنحضرت ﷺ نے اس کو یہ حق دے دیا اور اس نے ماں کے پاس رہنے کو اختیار کیا، اس لڑکے کے بالغ ہونے کی دلیل یہ ہے کہ وہ شہر کے باہر بہت دور دور سے پانی بھر کر لاتا تھا اگر وہ نابالغ ہوتا تو نہ صرف یہ کہ وہ اپنی کم سنی کی وجہ سے شہر کے باہر اتنی دور سے پانی بھر لانے کی ہمت نہ کرتا بلکہ اس کی ماں بھی اس خوف سے کہ کہیں یہ اپنی نادانی کی وجہ سے کنوئیں میں گر نہ جائے۔ اس کی اتنی دور سے پانی لانے کے لئے ہرگز نہ بھیجتیں۔
غلام کو آزاد کرنے کا بیان۔
آزادی کی شرعی حیثیت شرعی نقطہ نظر سے آزادی دراصل ایک ایسی قوت حکمیہ کا نام ہے جو انسان کو اس کا یہ فطری اور پیدائشی حق دیتی ہے کہ وہ مالک ہونے، سرپرست بننے اور شہادت ( گواہی) دینے کا اہل بن جائے، چناچہ جس انسان کا یہ فطری اور پیدائشی حق مسلوب ہوتا ہے بایں طور کہ وہ کسی غلامی میں ہوتا ہے اور پھر اسے آزادی کی صورت میں یہ قوت حکمیہ حاصل ہوجاتی ہے تو اس میں نہ صرف مالک ہونے کی لیاقت، سرپرست بننے کی قابلیت اور شہادت دینے کی اہلیت پیدا ہوجاتی ہے بلکہ وہ اس قوت حکمیہ یا یہ کہیے کہ اس آزادی کی وجہ سے دوسروں پر تصرف کرنے اور دوسروں کے تصرف کو اپنے سے روکنے پر قادر ہوجاتا ہے اور وہ آزاد و خود مختار انسانوں کی صف میں آکھڑا ہوتا ہے۔ آزاد کرنے کی شرط کسی بردہ ( غلام باندی) کو آزاد کرنے کے لئے شرط یہ ہے کہ آزاد کرنے والا خود مختار ہو بالغ ہو، عقلمند ہو اور جس بردہ کو آزاد کر رہا ہے اس کا مالک ہو آزاد کرنے کی قسمیں غلام کو آزاد کرنا بعض صورتوں میں واجب ہے جیسے کفارہ، بعض صورتوں میں مستحب ہے اور بعض صورتوں میں گناہ بھی ہے، جیسے اگر یہ ظن غالب ہو کہ اگر اس غلام کو آزاد کردیا جائے گا تو یہ دارالحرب بھاگ جائے گا یا مرتد ہوجائے گا یا یہ خوف ہو کہ چوری قزاقی کرنے لگے گا! بعض صورتوں میں مباح ہے۔ جیسے کسی شخص کی خاطر یا کسی شخص کو ثواب پہنچانے کے لئے بردہ کو آزاد کردیا جائے اور بعض صورتوں میں عبادت ہے جیسے کسی بردہ کو محض اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی کے لئے آزاد کیا جائے۔
بردہ ( غلام یا باندی) کو آزاد کرنے کا اجر
عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من أعتق رقبة مسلمة أعتق الله بكل عضو منه عضوا من النار حتى فرجه بفرجه
حضرت ابوہریرہ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص کسی مسلمان بردہ کو غلامی سے نجات دے گا اللہ تعالیٰ اس کے ہر عضو کو اس بردہ کے ہر عضو کے بدلے دوزخ کی آگ سے نجات دے گا یہاں تک کہ اس کی شرم گاہ کو اس بردہ کی شرم گاہ کے بدلے ( نجات دے گا )۔ ( بخاری ومسلم)
تشریح
مسلمان بردہ میں اسلام کی قید اس لئے لگائی گئی ہے تاکہ اس فعل ( آزاد کرنے) کا ثواب زیادہ ہو۔ مطلب یہ ہے کہ یوں تو کسی بھی بردہ کو آزاد کرنا اجر کا باعث ہے لیکن اگر کسی مسلمان کو آزاد کیا جائے تو اس کے اجر کی حیثیت اور ثواب کی مقدار کہیں زیادہ ہوگی۔ ہر عضو کے ذکر کے بعد پھر شرم گاہ کو بطور خاص اس لئے ذکر کیا گیا ہے کہ وہ زنا کی جگہ ہے اور زنا شرک کے بعد سب سے بڑا گناہ ہے لہٰذا وضاحت فرمائی گئی کہ اللہ تعالیٰ جسم کے اس حصہ کو بھی نجات دے گا۔ اس کے پیش نظر بعض علماء نے یہ لکھا ہے کہ اس سے یہ بات مفہوم ہوتی ہے کہ آزاد کرنے والے کو چاہیے کہ وہ اس غلام کو آزاد کرے جو خصی یا ستر بریدہ نہ ہو نیز یہ اولی ہے کہ اگر آزاد کرنے والا مرد ہو تو وہ مرد ( یعنی غلام) کو آزاد کرے اور اگر آزاد کرنے والی عورت ہو تو وہ عورت ( یعنی باندی) کو آزاد کرے۔
گراں قیمت اور اپنا پسندیدہ غلام آزاد کرنا زیادہ بہتر ہے
وعن أبي ذر قال : سألت النبي صلى الله عليه و سلم : أي العمل أفضل ؟ قال : إيمان بالله وجهاد في سبيله قال : قلت : فأي الرقاب أفضل ؟ قال : أغلاها ثمنا وأنفسها عند أهلها . قلت : فإن لم أفعل ؟ قال : تعين صانعا أو تصنع لأخرق . قلت : فإن لم أفعل ؟ قال : تدع الناس من الشر فإنها صدقة تصدق بها على نفسك
اور حضرت ابوذر کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ سے پوچھا کہ کونسا عمل بہتر ہے؟ تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اللہ پر ایمان لانا اور اس کی راہ میں جہاد کرنا ابوذر کہتے ہیں کہ پھر میں نے عرض کیا کونسا بردہ آزاد کرنا بہتر ہے؟ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جو گراں قیمت ہو اور اپنے مالک کو بہت پیارا ہو میں نے عرض کیا کہ اگر ایسا نہ کرسکوں؟ ( یعنی از راہ کسل نہیں بلکہ از راہ عجز و عدم استطاعت ایسا غلام آزاد نہ کرسکوں؟ ) آنحضرت ﷺ نے فرمایا کام کرنے والے کی مدد کرو یا جو شخص کسی چیز کو بنانا نہ جانتا ہو اس کی وہ چیز بنادو میں نے عرض کیا اگر میں یہ ( بھی) نہ کرسکوں ( تو کیا کروں؟ ) آنحضرت ﷺ نے فرمایا لوگوں کو برائی پہنچانے سے اجتناب کرو یاد رکھو یہ ایک اچھی خصلت ہے جس کے ذریعہ تم اپنے نفس کے ساتھ بھلائی کرتے ہو۔ ( بخاری ومسلم)
تشریح
ایمان کا بہتر ہونا تو بالکل بدیہی بات ہے کہ خیر و بھلائی کی بنیاد ہی ایمان ہے، اگر ایمان کی روشنی موجود نہ ہو تو پھر کوئی بھی عمل مقبول نہیں ہوتا خواہ وہ کتنا ہی اہم ہو اور کتنا ہی افضل کیوں نہ ہو! اور جہاد اس اعتبار سے بہتر عمل ہے کہ وہ دین کی تقویت اور مسلمانوں کی برتری و عظمت اور غلبہ کا باعث ہوتا ہے۔ جہاں تک نماز روزہ کا تعلق ہے وہ تو دوسری حیثیات اور دوسری وجوہ کی بناء پر ( ایک دوسرے) عمل سے برتر اور بہتر ہیں لہٰذا یہاں جہاد کو نماز و روزہ پر فوقیت دینا مراد نہیں ہے۔ یا پھر یہ کہ اس موقع پر جہاد سے مراد مطلق مشقت برداشت کرنا ہے جس کا تعلق جہاد سے بھی ہے اور دوسری طاعات و عبادات سے بھی، چناچہ مامورات پر عمل کرنے اور منہیات سے بچنے کی نفسانی مشقت اور ریاضت کو جہاد اکبر فرمایا گیا ہے اس صورت میں آنحضرت ﷺ کے مذکورہ بالا جواب کا حاصل یہ ہوگا کہ سب سے بہتر عمل، ایمان لانا اور ایمان کے تقاضوں پر عمل کرنا ہے جیسا کہ فرمایا گیا ہے حدیث (قل اٰمنت باللہ ثم استقم) کام کرنے والے کی مدد کرو میں کام سے مراد ہر وہ چیز ہے جو انسان کے معاش کا ذریعہ ہو خواہ وہ صنعت و کاریگری ہو یا تجارت ہو۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ جو شخص اپنے کسی پیشہ و کسب میں لگا ہوا ہو اور اس کا وہ پیشہ و کسب اس کی اور اس کے اہل و عیال کی ضروریات کو پورا نہ کرتا ہو وہ شخص اپنے ضعف و مجبوری کی وجہ سے اس کسب و پیشہ کو پوری طرح انجام نہ دے سکتا ہو تو تم اس شخص کی مدد کرو! اسی طرح جو شخص کسی چیز کو بنانا نہ جانتا ہو الخ کا مطلب بھی یہ ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی کسی مجبوری کی وجہ سے اپنے پیشے کے کام کو نہ کرسکتا ہو تو تم اس کا کام کردو تاکہ وہ تمہارے سہارے اپنی ضروریات زندگی کو پورا کرسکے۔ لوگوں کو برائی پہنچانے سے اجتناب کرو کا مطلب یہ ہے کہ کسی کو برے کام میں مبتلا نہ کرو کسی کو اپنی زبان اور اپنے ہاتھ سے ایذاء نہ پہنچاؤ اور نہ کسی کو کسی بھی قسم کا نقصان پہنچاؤ کیونکہ لوگوں کو برائی پہنچانے سے اجتناب کرنا بھی خیر و بھلائی ہے خصوصًا ایسی صورت میں جب کہ برائی ( یعنی کسی کو ایذاء ونقصان) پہنچانے پر قدرت بھی حاصل ہو۔ مراز خیر تو امید نیست شرمرساں اس موقع پر عبارت کے ظاہری اسلوب کا تقاضہ یہ تھا کہ آپ ﷺ یوں فرماتے کہ یہ ایک اچھی خصلت ہے جس کے ذریعہ تم لوگوں کے ساتھ بھلائی کرتے ہو لیکن چونکہ لوگوں کے ساتھ بھلائی کرنا درحقیقت اپنے نفس کے ساتھ بھلائی کرنا ہے بایں طور کے اس بھلائی کے مختلف فوائد اسے حاصل ہوتے ہیں اس لئے آپ ﷺ نے یہ فرمایا کہ جس کے ذریعہ تم اپنے نفس کے ساتھ بھلائی کرتے ہو۔
بردہ کو آزاد کرنے یا بردہ کی آزادی میں مدد کرنے کی فضیلت
عن البراء بن عازب قال : جاء أعرابي إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقال : علمني عملا يدخلني الجنة قال : لئن كنت أقصرت الخطبة لقد أعرضت المسألة أعتق النسمة وفك الرقبة . قال : أو ليسا واحدا ؟ قال : لا عتق النسمة : أن تفرد بعتقها وفك الرقبة : أن تعين في ثمنها والمنحة : الوكوف والفيء على ذي الرحم الظالم فإن لم تطق ذلك فأطعم الجائع واسق الظمآن وأمر بالمعروف وانه عن المنكر فإن لم تطق فكف لسانك إلا من خير . رواه البيهقي في شعب الإيمان (2/270) 3385 - [ 4 ] ( لم تتم دراسته ) وعن عمرو بن عبسة أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من بنى مسجدا ليذكر الله فيه بني له بيت في الجنة ومن أعتق نفسا مسلمة كانت فديته من جهنم . ومن شاب شيبة في سبيل الله كانت له نورا يوم القيامة . رواه في شرح السنة (2/270) الفصل الثالث (2/270) 3386 - [ 5 ] ( ضعيف ) عن الغريف بن عياش الديلمي قال : أتينا واثلة بن الأسقع فقلنا : حدثنا حديثا ليس فيه زيادة ولا نقصان فغضب وقال : إن أحدكم ليقرأ ومصحفه معلق في بيته فيزيد وينقص فقلنا : إنما أردنا حديثا سمعته من النبي صلى الله عليه و سلم فقال : أتينا رسول الله صلى الله عليه و سلم في صاحب لنا أوجب يعني النار بالقتل فقال : أعتقوا عنه بعتق الله بكل عضو منه عضو أمنه من النار . رواه أبو داود والنسائي
حضرت براء ابن عازب کہتے ہیں کہ ( ایک دن) نبی کریم ﷺ کی خدمت میں ایک دیہاتی آیا اور عرض کیا کہ مجھے کوئی ایسا عمل بتایئے جس کے ذریعہ میں ( ابتدائی مرحلہ میں نجات یافتہ لوگوں کے ساتھ) جنت میں داخل ہوجاؤں؟ آپ ﷺ نے فرمایا اگرچہ تم نے سوال کرنے میں بہت اختصار سے کام لیا ہے لیکن بڑی اہم بات دریافت کی ہے ( پھر آپ ﷺ نے اس کو یہ عمل بتایا کہ) تم جان کو آزاد کرو اور بردہ کو نجات دو دیہاتی نے عرض کیا کہ کیا یہ دونوں باتیں ( یعنی جان کو آزاد کرنے اور غلام کو نجات دینا) ایک ہی نہیں ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا نہیں! جان کو آزاد کرنا تو یہ ہے کہ تم اس کو آزاد کرنے میں تنہا اور مستقل ہو اور بردہ کو نجات دینا یہ ہے کہ تم اس کی قیمت کی ادائے گی) میں اس کی مدد کرو ( نیز جنت میں داخل کرنے والا یہ بھی عمل ہے کہ) تم کسی محتاج کو) شیردار منحہ دو اور اس ظالم رشتہ دار پر مہربانی اور احسان کرو جو تم پر ظلم کرتا ہے! اگر تم سے یہ نہ ہو سکے تو بھوکے کو کچھ کھلاؤ اور پیاسے کو پانی پلاؤ۔ نیز ( لوگوں کو) بھلائی کی تلقین و تبلیغ کرو اور برائی سے روکو۔ اور اگر تم یہ ( بھی) نہ کرسکو تو پھر ( کم سے کم اتنا ہی کرو کہ) بھلی بات کے علاوہ اپنی زبان کو بند رکھو۔ ( بیہقی)
تشریح
جان یعنی بردہ کو آزاد کرنا اور بردہ کو نجات دینا، ان دونوں باتوں میں جو فرق واضح کیا گیا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ جان کو آزاد کرنا تو یہ ہے کہ تم خود اپنے بردہ کو آزاد کرو اور بردہ کو نجات دینا یہ ہے کہ تم کسی دوسرے شخص کے بردہ کی آزادی کے لئے سعی و کوشش کرو، بایں طور کہ اس کی قیمت کی ادائیگی میں اس بردہ کی مدد کرو! مثال کے طور پر زید نے اپنے غلام کو لکھ کر دے دیا کہ جب تم مجھے اتنے روپے ادا کردو گے تو تم آزاد ہوجاؤ گے، اب اس غلام کی روپے پیسے سے امداد کرنا تاکہ وہ متعینہ رقم اپنے مالک زید کو ادا کر کے آزاد ہوجائے، دوسرے شخص کے بردہ کی آزادی کے لئے سعی و کوشش کرنا ہے، یاد رہے کہ ایسے غلام کو مکاتب کہا جاتا ہے۔ منحہ سے مراد وہ بکری یا اونٹنی ہے جو کسی محتاج کو اس مقصد سے عارضی طور پردے دی جائے کہ وہ اس بکری یا او نٹنی کے دودھ یا ان کے بالوں سے نفع حاصل کرے اور وکوف بہت دودھ دینے والے جانور کو کہتے ہیں۔ بھلی بات کے علاوہ اپنی زبان کو بند رکھو اس مضمون کو ایک دوسری حدیث میں یوں فرمایا گیا ہے۔ (من کان یومن باللہ والیوم الاخر فلیقل خیرا او لیصمت ) جو شخص اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہئے کہ وہ اپنی زبان سے بھلائی ( کی بات) نکالے یا خاموشی اختیار کرے۔ ان دونوں فرمودات کا حاصل یہ ہے کہ اپنی زبان پر پوری طرح قابو رکھنا چاہئے۔ یا وہ گوئی اور بدکلامی اور بری باتوں کا زبان سے صدور نہ ہونا چاہئے، زبان جب بھی حرکت میں آئے، اس سے بھلائی ہی کی بات نکلنی چاہئے۔ کیونکہ یہ ایک ایسا نکتہ ہے جس پر عمل کر کے بہت سی خرابیوں اور دینی و دنیاوی نقصانات سے محفوظ رہا جاسکتا ہے۔ علماء لکھتے ہیں کہ ان دونوں حدیثوں میں بھلائی سے مراد وہ چیز ہے جس میں ثواب ہو اس صورت میں وہ کلام جس پر مباح کا اطلاق ہوتا ہو، بھلائی کے زمرہ میں نہیں آئے گا لیکن زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ بھلائی سے مراد وہ چیز ہے جو برائی کے مقابل ہو لہٰذا اس صورت میں مباح کلام بھلائی کے زمرہ میں آئے گا ورنہ حصر غیرموزوں رہے گا۔ اور حضرت عمرو ابن عبسہ راوی ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص کوئی ( چھوٹی یا بڑی) مسجد ( نام و نمود کے لئے نہیں بلکہ اس نیت سے) بنائے کہ اس میں اللہ کا ذکر کیا جائے تو اس کے لئے جنت میں ایک بڑا مکان بنایا جائے گا اور جو شخص کسی مسلمان بردہ کو آزاد کرے گا تو وہ بردہ اس شخص کے لئے دوزخ کی آگ سے نجات کا سبب ہوگا اور جو شخص اللہ کی راہ میں ( یعنی جہاد میں یا حج میں، یا طلب علم میں اور یا اسلام میں جیسا کہ ایک روایت میں فرمایا گیا ہے) بوڑھا ہوا تو اس کا بڑھاپا قیامت کے دن اس کے لئے نور ہوگا ( جس کے سبب وہ اس دن کی تاریکیوں سے نجات پائے گا) اس روایت کو صاحب مصابیح نے ( اپنی اسناد کے ساتھ) شرح السنتہ میں نقل کیا ہے۔ تشریح ان الفاظ رواہ فی شرح السنتہ میں اس طرف اشارہ ہے کہ مشکوٰۃ کے مصنف کو یہ حدیث شرح السنتہ کے علاوہ حدیث کی کسی اور کتاب میں نہیں ملی ہے۔ اور حضرت غریف ابن دیلمی ( تابعی) کہتے ہیں کہ ہم حضرت واثلہ ابن اسقع ( صحابی) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ ہم سے کوئی حدیث بیان کیجئے جس میں کمی بیشی نہ ہو۔ حضرت واثلہ ( یہ بات سن کر) غصہ ہوئے اور کہنے لگے کہ تم لوگ ( شب و روز) قرآن کریم پڑھتے ہو اور تمہارا قرآن کریم تمہارے گھر میں لٹکا رہتا ہے لیکن اس کے باوجود ( ازراہ سہو و خطا) کمی بیشی ہو ہی جاتی ہے ( یعنی جب کوئی شخص قرآن کریم کی تلاوت کرتا ہے تو اس کا قرآن کریم اس کے گھر میں یا اس کے پاس موجود ہوتا ہے اور اس صورت میں اگر اسے کہیں کوئی شبہ ہو تو وہ قرآن دیکھ سکتا ہے لیکن اس کے باوجود تلاوت میں غلطی سے کوئی لفظ چھوڑ دیتا ہے یا کوئی لفظ بڑھا دیتا ہے، لہٰذا معلوم ہوا کہ ضبط و تکرار اور پوری احتیاط کے باوجود نقل روایت میں الفاظ کی کمی بیشی کا ہوجانا ضروری ہے) ہم نے عرض کیا کہ ہمارا مطلب تو صرف یہ ہے کہ آپ نے آنحضرت ﷺ سے جو حدیث سنی ہو ہمیں سنائیے، چناچہ حضرت واثلہ نے یہ حدیث بیان کی کہ ( ایک دن) ہم نبی کریم ﷺ کی خدمت میں اپنے ایک دوست کا معاملہ لے کر آئے جس نے ( خود کشی کر کے یا کسی دوسرے کو ناحق) قتل کر کے اپنے لئے دوزخ کی آگ کو واجب کرلیا تھا، آنحضرت ﷺ نے ( واقعہ سن کر) فرمایا کہ اس شخص کی طرف سے ( غلام آزاد کردو اللہ تعالیٰ اس کے ہر عضو کے بدلے قاتل کے ہر عضو کے ( دوزخ) کی آگ سے نجات دے گا۔ ( ابوداؤد) تشریح حضرت واثلہ سمجھے کہ غریف کی مراد یہ ہے کہ حدیث بیان کرتے ہوئے آنحضرت ﷺ کے الفاظ بعینہ روایت کیئے جائیں۔ چناچہ ان کو اس بات پر غصہ آیا اور مذکورہ بالا جواب دیا۔ لیکن حضرت غریف نے اپنی بات کو وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا مطلب یہ نہیں تھا جو آپ سمجھے ہیں بلکہ ہماری مراد تو یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی حدیث اس طرح بیان فرمائیں کہ اس کے مضمون و مفہموم میں کوئی تغیر نہ ہو اگرچہ الفاظ میں کمی بیشی ہوجائے۔ اس سے معلوم ہوا کہ حدیث کو اس طرح بیان کرنا کہ اس کا مضمون و مفہوم بعینہ نقل ہوجائے گو الفاظ میں کچھ تضاد ہو تو جائز ہے۔
کسی غلام کے حق میں سفارش کرنا بہترین صدقہ ہے
وعن سمرة بن جندب قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أفضل الصدقة الشفاعة بها تفك الرقبة . رواه البيهقي في شعب الإيمان
اور حضرت سمرہ ابن جندب کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا بہترین صدقہ وہ سفارش ہے جس کے نتیجہ میں ( بردہ کی) گردن کو نجات حاصل ہوجائے۔ ( بیہقی)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ سفارش کر کے کسی غلام کو آزاد کرا دینا یا کوئی شخص اپنے غلام کو قتل کردینا چاہتا ہو یا اس کو مارتا دھاڑتا ہو تو سفارش کر کے اس غلام کے بچا دینا بہترین صدقہ ہے۔
مشترک غلام کو آزاد کرنے، قرابت دار کو خرید نے اور بیماری کی حالت میں آزاد کرنے کا بیان
اس باب میں جن مسائل و احکام سے متعلق احادیث نقل کی جائیں گی ان میں سے ایک تو یہ ہے کہ اگر کوئی غلام مشترک ہو مثلاً دو شخص زید اور بکر مشترک طور پر ایک غلام کے مالک ہوں اور ان میں سے ایک شریک مثلاً زید اپنا حصہ آزاد کر دے تو دوسرا کیا کرے؟ چناچہ اس بارے میں جزوی آزادی ( یعنی ایک غلام کا مثلاً آدھا حصہ آزاد ہوجائے اور آدھا غلام ہی رہے) معتبر ہے یا نہیں خود حنفیہ کے ہاں مختلف اقوال ہیں، حضرت امام اعظم ابوحنیفہ تو یہ فرماتے ہیں کہ جزوی آزادی معتبر ہے لیکن صاحبین یعنی حضرت امام ابویوسف اور حضرت امام محمد کا قول یہ ہے کہ جزوی آ زادی معتبر نہیں ہے، اقوال کے اس ختلاف کا تعلق مسئلہ کے صرف اسی ایک جزو سے نہیں ہے بلکہ اس سے دوسرے احکام و مسائل بھی پیدا ہوتے ہیں جن کا ذکر آگے آئے گا۔ باب کا دوسرا جزء یہ ہے کہ اگر کوئی شخص کسی ایسے غلام کو خریدے جو اس کا قرابت دار ہو تو وہ غلام محض خرید لینے ہی سے آزاد ہوجائے گا خواہ وہ شخص اس کو آزاد کرے یا نہ کرے! البتہ اس بارے میں اختلافی اقوال ہیں کہ قرابت دار سے کس کس رشتہ کے لوگ مراد ہیں اس کی تفصیل بھی آگے آئے گی۔ باب کا تیسرا جزء یہ ہے کہ اگر کوئی شخص بیماری کی حالت میں غلام کو آزاد کرے تو اس کا کیا حکم ہے؟ چناچہ اس کے متعلق احکام و مسائل بھی حسب موقع احادیث کی
تشریح
کے ضمن میں بیان کئے جائیں گے۔
مشترک غلام کو آزاد کرنے کے بارے میں ایک ہدایت
عن ابن عمر رضي الله عنهما قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من أعتق شركا له في عبد وكان له مال يبلغ ثمن العبد قوم العبد قيمة عدل فأعطي شركاؤه حصصهم وعتق عليه العبد وإلا فقد عتق منه ما عتق
حضرت ابن عمر کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص کسی ( مشترک) غلام کے اپنے حصہ کو آزاد کرے ( تو اس کے لئے بہتر یہ ہے کہ) اگر اس کے پاس اتنا مال موجود ہو جو ( اس غلام کے باقی حصوں) کی قیمت کے بقدر ہو تو انصاف کے ساتھ ( یعنی بغیر کمی بیشی کے) اس غلام کے ( باقی ان حصوں) کی قیمت لگائی جائے گی اور وہ اس غلام کے دوسرے شریکوں کو ان کے حصوں کی قیمت دے دے وہ غلام اس کی طرف سے آزاد ہوجائے گا اور اگر اس کے پاس اتنا مال نہ ہو تو پھر اس غلام کا جو حصہ اس شخص نے آزاد کیا ہے وہ آزاد ہوجائے گا ( اور دوسرے شرکاء کے حصے مملوک رہیں گے۔ ( بخاری ومسلم)
تشریح
اس حدیث کا ظاہری مفہوم اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اگر ایک غلام کے مثلاً دو مالک ہوں اور ان میں سے ایک حصہ دار اپنا حصہ آزاد کرنا چاہے تو اگر وہ آزاد کرنے والا شخص صاحب مقدور ہو تو وہ دوسرے شریک کو اس کے حصہ کے بقدر قیمت ادا کر دے اس صورت میں وہ غلام اس کی طرف سے آزاد ہوجائے گا اور اگر آزاد کرنے والا شخص صاحب مقدور نہ ہو ( اور دوسرے شریک کو اس کے حصہ کی قیمت ادا نہ کرسکتا ہو) تو اس صورت میں وہ غلام اس شخص کے حصہ کے بقدر تو آزاد ہوجائے گا اور دوسرے شریک کے حصہ کے بقدر غلام رہے گا۔ نیز حدیث کا ظاہری مفہوم اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ آزادی اور غلامی متجزی ہوسکتی ہیں ( یعنی کسی غلام کا کچھ حصہ آزاد ہوجانا اور کچھ حصہ غلام رہنا جائز رہتا ہے) اور دوسرے شریک کو اپنا حصہ آزاد کرنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا اور نہ اس غلام سے استسعاء ( محنت) کرائی جائے! چناچہ حضرت امام شافعی کا یہی مسلک ہے۔ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ باوجودیکہ آزادی اور غلامی کے متجزی ہونے کا قائل ہیں لیکن اس صورت میں ان کا مسلک یہ ہے کہ اگر آزاد کرنے والا شخص صاحب مقدور ہو تو وہ دوسرے شریک کا حصہ بھر دے ( یعنی وہ اس کو اس کے حصہ کی قیمت ادا کر دے) یا دوسرا شریک اپنے حصے کے بقدر اس غلام سے استسعاء کرائے یا وہ شریک بھی اپنا حصہ آزاد کر دے اور اگر آزاد کرنے والا شخص صاحب مقدور نہ ہو تو پھر وہ اپنے شریک کو اس کا حصہ نہ پھیر دے۔ بلکہ وہ شریک یا تو اس غلام سے استسعاء کے ذریعہ اپنے حصے کی قیمت وصول کرلے یا اپنا حصہ آزاد کر دے اس صورت میں حق ولاء دونوں کو حاصل ہوگا! اس بارے صاحبین یعنی حضرت امام ابویو سف اور امام محمد کا یہ قول ہے کہ آزاد کرنے والا شخص اگر صاحب مقدور ہو تو دوسرے شریک کا حصہ پھیر دے اور اگر صاحب مقدور نہ ہو دوسرا شریک اس غلام سے استسعاء کے ذریعہ اپنے حصہ کی قیمت حاصل کرلے اور چونکہ آزادی متجزی نہیں ہوتی اس لئے اس صورت میں حق ولاء صرف آزاد کرنے والے کو حاصل ہوگا۔