وعن علي رضي الله عنه قال : نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن بيع المضطر وعن بيع الغرر وعن بيع الثمرة قبل أن تدرك . رواه أبو داود
حضرت علی کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے بیع مضطر سے بیع غرر سے اور پختہ ہونے سے پہلے پھلوں کی بیع سے منع فرمایا ہے (ابوداؤد)
تشریح
بیع مضطر میں بیع سے مراد خریدنا ہے یعنی آپ ﷺ نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ کسی سے زبردستی کچھ خریدا جائے کسی سے زبردستی خریدنا بیع فاسد کے حکم میں ہے جو منعقد ونافذ نہیں ہوتی۔ یا پھر مضطر سے مراد محتاج ہے جو کسی مصیبت کی وجہ سے اپنا سامان بیچنے پر مجبور ہو مثلا زید کسی کا قرض دار ہے اور قرض کی ادائیگی کے لئے اسے روپے چاہئیں یا اس پر کوئی مصیبت آ پڑی ہے جس کی وجہ سے اسے روپیوں کی شدید ضرورت ہے اور وہ اپنی ضرورت پوری کرنے کے لئے اپنے مال و اسباب میں سے کوئی چیز سستے داموں فروخت کر رہا ہو تو کسی کے لئے مناسب نہیں ہے کہ وہ اس کی مجبوری سے فائدہ اٹھائے اور اس کا سامان سستے داموں خریدے بلکہ مروت کا تقاضہ یہ ہے کہ اس مجبور ومضطر کی مجبوری کا خیال کیا جائے اس کا مال سستے داموں نہ خریدا جائے اور ایسے موقع پر اس کی اس مدد کی جائے کہ یا تو اسے کچھ رقم بطور قرض دیدیا جائے یا اس کا مال اصل قیمت کے عوض خریدا جائے۔ لیکن یہ بات ملحوظ رہے کہ اس صورت میں بیع فاسد نہیں ہوگی بلکہ صحیح ہوگی لیکن کراہت کے ساتھ صحیح ہوگی بیع غرر کی وضاحت اسی باب کے گذشتہ صفحات میں کی جا چکی ہے اسی طرح پختہ ہونے سے قبل پھلوں کی بیع کا مسئلہ بھی بیان کیا جا چکا ہے۔
نر کو مادہ پر چھوڑنے کی اجرت لینا ممنوع ہے
وعن أنس : أن رجلا من كلاب سأل النبي صلى الله عليه و سلم عن عسب الفحل فنهاه فقال : يا رسول الله إنا نطرق الفحل فنكرم فرخص له في الكرامة . رواه الترمذي
حضرت انس کہتے ہیں کہ قبیلہ کلاب میں سے ایک شخص نے نبی کریم ﷺ سے مادہ پر چھوڑنے کے لئے نر کو اجرت پر دینے کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے اس کو منع فرمایا کہ اجرت نہ لو پھر اس نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ ہم نر کو عاریۃً دیتے ہیں اور ہمیں اس سلسلے میں بطور انعام کچھ دیا جاتا ہے (یعنی ہم کوئی اجرت مقرر کر کے اپنا نر جانور نہیں دیتے بلکہ عاریۃً دیتے ہیں مگر جانور لے جانیوالا بلا طلب ہمیں بطور انعام کچھ دیتا ہے تو کیا ہم پھر بھی نہ لیں) آنحضرت ﷺ نے اسے انعام لے لینے کی اجازت عطا فرمائی (ترمذی)
جو چیز اپنے پاس نہ ہو اس کی بیع نہ کرو
وعن حكيم بن حزام قال : نهاني رسول الله صلى الله عليه و سلم أن أبيع ما ليس عندي . رواه الترمذي في رواية له ولأبي داود والنسائي : قال : قلت : يا رسول الله يأتيني الرجل فيريد مني البيع وليس عندي فأبتاع له من السوق قال : لا تبع ما ليس عندك
حضرت حکیم بن حزام کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے مجھے اس سے منع کیا کہ میں اس چیز کو نہ بیچوں جو میرے پاس نہیں (ترمذی) ترمذی ابوداؤد اور نسائی کی ایک روایت میں یوں ہے کہ حضرت حکیم کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ ایک شخص میرے پاس آتا ہے اور مجھ سے ایک ایسی چیز خریدنے کا ارادہ کرتا ہے جو میرے پاس نہیں ہوتی تو میں اس چیز کو بازار سے خرید لاتا ہوں یعنی میں اس چیز کا معاملہ اس سے کرلیتا ہوں پھر وہ چیز بازار سے خرید لاتا ہوں اور اس شخص کے حوالے کردیتا ہوں آنحضرت ﷺ نے یہ سن کر فرمایا کہ تم کسی ایسی چیز کو نہ بیچو جو تمہارے پاس نہیں ہے۔
تشریح
مطلب یہ ہے کہ جو چیز خریدو فروخت کا معاملہ کرتے وقت اپنی ملکیت میں نہ ہو اسے نہیں بیچنا چاہئے اب اس کی دو صورتیں ہوسکتی ہیں اول تو یہ کہ وہ چیز نہ تو اپنی ملکیت میں ہو اور نہ اپنے پاس موجود ہی ہو اس صورت میں تو اس چیز کی بیع صحیح ہی نہیں ہوگی دوم یہ کہ وہ اپنی ملکیت میں نہیں ہے ایک دوسرا شخص اس کا مالک ہے لیکن ہے اپنے ہی پاس اس صورت میں بھی مالک کی اجازت کے بغیر اس کی بیع نہیں کرنی چاہئے اور اگر مالک کی اجازت لینے سے پہلے ہی اس کی بیع کردی جائے گی تو حضرت امام ابوحنیفہ حضرت امام مالک اور حضرت امام احمد کے مسلک کے مطابق وہ بیع مالک کی منظوری پر موقوف رہے گی اگر منظوری دیدے گا تو صحیح ہوجائے گی نہیں تو کالعدم ہوجائے گی لیکن حضرت امام شافعی فرماتے ہیں کہ وہ بیع سرے سے صحیح ہی نہیں ہوگی مالک خواہ منظوری دے یا نہ دے۔ پہلی صورت کے حکم میں اس چیز کی بیع داخل ہے جس پر قبضہ حاصل نہ ہوا ہو یا وہ چیز گم ہوگئی ہو یا مفرور ہو جیسے غلام وغیرہ اور یا اس کو خریدار کے حوالے کرنے پر قادر نہ ہو جیسے ہوا میں اڑتا ہوا جانور اور وہ مچھلی جو ابھی پانی یعنی دریا وغیرہ سے نہ نکالی گئی ہو لیکن یہ بات ملحوظ رہے کہ یہ ممانعت بیع السلم کے علاوہ صورت میں ہے کیونکہ بیع السلم متعینہ و معروف شرائط کے ساتھ بالاتفاق تمام علماء کے نزدیک جائز ہے بیع السلم اور اس کی شرائط کا تفصیلی ذکر انشاء اللہ باب السلم میں کیا جائے گا۔
ایک بیع میں دو بیع نہ کرو
وعن أبي هريرة قال : نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن بيعتين في بيعة . رواه مالك والترمذي والنسائي
حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے ایک بیع میں دو بیع کرنے سے منع فرمایا ہے (مالک ترمذی ابوداؤ نسائی)
تشریح
ایک بیع میں دو بیع کی دو صورتیں ہوسکتی ہیں ایک تو یہ کہ کوئی شخص کسی سے یوں کہے کہ مثلًا میں اپنی بھینس ایک ہزار روپیہ کے عوض تمہارے ہاتھ بیچتا ہوں مگر شرط یہ ہے کہ تم اپنا گھوڑا پانچ سو روپے کے عوض میرے ہاتھ فروخت کردو۔ اس طرح کی بیع درست نہیں ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ مثلًا کوئی شخص کسی سے کہے کہ میں اپنا گھوڑا تمہارے ہاتھ پانچ سو روپے نقد میں اور سات سو روپے ادھار میں بیچتا ہوں یہ بھی ناجائز ہے بشرطیکہ کوئی امر طے نہ ہو اور خریدار کو اختیار حاصل رہے کہ چاہے تو اسی وقت پانچ سو روپے دے کر گھوڑا لے لے اور چاہے بعد میں سات سو روپے دے اور اگر ایک امر طے ہوجائے اور معاملہ مجمل نہ رہے یعنی یہ اسی وقت طے ہوجائے کہ نقد لیا یا ادھار لیا تو پھر یہ معاملہ درست ہوگا۔ حضرت عمرو بن شعیب اپنے والد (شعیب) سے اور وہ اپنے دادا (حضرت عبداللہ بن عمر) سے نقل کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے ایک معاملے میں دو بیع کرنے سے منع فرمایا ہے ( شرح السنۃ) تشریح یہ حدیث اور اوپر کی حدیث ہم معنی ہیں جو تشریح اوپر کی حدیث میں کی گئی ہے وہی اس حدیث کی بھی ہے۔ بیع کو قرض کے ساتھ نہ ملاؤ حضرت عمرو بن شعیب ناقل ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا قرض اور بیع ایک دوسرے سے متلق کر کے حلال نہیں بیع میں دو شرطیں کرنی درست نہیں اس چیز سے نفع اٹھانا درست نہیں جو ابھی اپنے ضمان قبضہ میں نہیں آئی اور اس چیز کو بیچنا جائز نہیں جو تمہارے پاس یعنی تمہاری ملکیت میں نہیں ہے (ترمذی وغیرہ) تشریح قرض اور بیع حلال نہیں کا مطلب یہ ہے کہ قرض اور بیع کے دو الگ الگ معاملوں کو ایک دوسرے کے ساتھ منسلک نہ کرنا چاہئے مثلا کوئی شخص کسی کے ہاتھ اس شرط کے ساتھ کوئی چیز بیچے کہ تم مجھے اتنے روپے قرض دینا یہ جائز نہیں ہے یا یہ معنی بھی مراد ہوسکتے ہیں کہ مثلًا کوئی شخص کسی کو کچھ روپے بطور قرض دے اور اسی کے ساتھ اپنی کوئی چیز اس قرض دار کے ہاتھ اصل قیمت سے زائد پر بیچے یہ حرام ہے کیونکہ اس صورت میں ظاہر ہے کہ خریدار اس چیز کی زائد قیمت محض اس لئے ادا کرے گا کہ اس نے بیچنے والے سے قرض لیا ہے اور یہ بالکل صاف مسئلہ ہے کہ جو بھی قرض کوئی نفع حاصل کرے وہ حرام ہے چونکہ یہ سود خوروں کا نکالا ہوا ایک حیلہ ہے اس لئے اس سے اجتناب ضروری ہے۔ بیع میں دو شرطیں کرنی درست نہیں کا مطلب یہ ہے کہ ایک بیع میں دو بیع نہ کرے جس کی وضاحت اوپر کی حدیث میں کی جا چکی ہے لیکن بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ بیچنے والا اپنی کوئی چیز دو شرطوں کے ساتھ نہ بیچے مثلًا وہ خریدار سے یوں کہے کہ میں نے یہ کپڑا تمہارے ہاتھ دس روپے میں بیچا بایں شرط کہ میں اس کپڑے کو دھلوا بھی دوں گا یہ ناجائز ہے اس صورت میں کہا جائے گا کہ حدیث میں دو شرطوں کی قید محض اتفاقی ہے جیسے بیع میں ایک شرط بھی جائز نہیں ہے۔ اس چیز سے نفع اٹھانا جو ابھی اپنے ضمان میں نہیں آئی کا مفہوم یہ ہے کہ مثلًا ایک شخص نے کسی سے کوئی چیز خریدی مگر وہ چیز ابھی خریدار کے قبضے میں نہیں آئی ہے اس عرصے میں بیچنے والے نے اس چیز کا کرایہ وصول کیا اب اگر خریدار چاہے کہ یہ چیز چونکہ میں نے خریدی ہے اس لئے میری خریداری کے بعد اس چیز کو جو کرایہ بیچنے والے کی ذمہ داری میں ہے فرض کیجئے اگر وہ چیز ضائع ہوجاتی ہے تو اس کا نقصان بیچنے والے ہی کو برداشت کرنا ہوگا خریدار کا کچھ بھی نہ جائے گا اسی طرح اگر اس چیز سے کوئی نفع حاصل ہوا ہے تو وہ بھی بیچنے والے ہی کا حق ہے خریدار کا اس پر کوئی حق نہیں ہے۔
ادائیگی قیمت میں سکہ کی تبدیلی جائز ہے
وعن ابن عمر قال : كنت أبيع الإبل بالنقيع بالدنانير فآخذ مكانها الدارهم وأبيع بالدراهم فآخذ مكانها الدنانير فأتيت النبي صلى الله عليه و سلم فذكرت ذلك له فقال : لا بأس أن تأخذها بسعر يومها ما لم تفترقا وبينكما شيء . رواه الترمذي وأبو داود والنسائي والدارمي
حضرت ابن عمر کہتے ہیں کہ میں نقیع میں (جو مدینہ کے قریب ایک جگہ ہے) اونٹوں کو دیناروں کے عوض بیچا کرتا تھا اور دیناروں کے بدلے درہم لے لیا کرتا تھا اسی طرح جب اونٹوں کو درہم کے عوض بیچا تو درہم کے بدلے دینار لے لیا کرتا تھا پھر جب میں رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے آپ ﷺ سے اس کا ذکر کیا آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے کہ تم دینار کے بدلے درہم اور درہم کے بدلے دینار لے لو جب کہ نرخ اس دن کے مطابق ہو اور تم دونوں ایک دوسرے سے اس حال میں جدا ہو کہ تمہارے درمیان کوئی چیز نہ ہو ( ابوداؤد نسائی)
تشریح
درہم اور دینار دو سکوں کے نام ہیں درہم چاندی کا ہوتا ہے اور دینار سونے کا اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ اگر کوئی شخص کسی سے کوئی چیز روپے کے عوض خریدے اور روپے کے بدلے اشرفیاں دے دے یا کوئی چیز اشرفیوں کے عوض خریدے اور اشرفیوں کے بدلے روپے دے دے تو جائز ہے۔ اس دن کے نرخ کی قید استحبابی ہے یعنی مستحب و مناسب یہ ہے کہ اس دن کے نرخ کا لحاظ رکھا جائے ورنہ تو جہاں تک فقہی مسئلہ کا تعلق ہے یہ جائز ہے کہ جس نرخ سے چاہے لے۔ تمہارے درمیان کوئی چیز نہ ہو میں کوئی چیز سے مراد مبیع یا قیمت اور یا دونوں پر قبضہ نہ ہونا ہے مطلب یہ ہے کہ درہم و دینار کو آپس میں بدلنا بایں شرط جائز ہے جس مجلس میں خریدو فروخت کا معاملہ ہو اسی مجلس میں فریقین اپنی اپنی چیز پر قابض ہوجائیں تاکہ اس کے برخلاف ہونے کی صورت میں نقد کی بیع ادھار کے ساتھ لازم نہ آئے جو ربا کی ایک شکل ہو نیکی وجہ سے حرام ہے چناچہ حضرت شیخ علی متقی کے بارے میں منقول ہے کہ وہ جب مکہ معظمہ میں اپنے خادم کو بازار بھیجتے تو اسی حدیث کے پیش نظر اسے بطور خاص یہ نصیحت کرتے کہ خبردار باہمی قبضہ کرنے میں معاملہ دست بدست کرنا درمیان میں فرق واقع نہ ہو۔ علامہ ابن ہمام فرماتے ہیں کہ درہم سکہ خلقی ہو نیکی وجہ سے چونکہ غیر متعین ہے اس لئے اگر کوئی شخص دکاندار کو ایک درہم دکھا کر کہے کہ اس کے عوض فلاں چیز میرے ہاتھ بیچ دو اور پھر جب دکاندار وہ چیز اسے بیچ دے تو اس درہم کی بجائے دوسرا درہم دے دینا جائز ہے بشرطیکہ وہ دونوں درہم مالیت میں یکساں ہوں
آپ ﷺ سے متعلق ایک بیعانہ کا ذکر
وعن العداء بن خالد بن هوذة أخرج كتابا : هذا ما اشترى العداء بن خالد بن هوذة من محمد رسول الله صلى الله عليه و سلم اشترى منه عبدا أو أمة لا داء ولا غائلة ولا خبثة بيع المسلم المسلم . رواه الترمذي وقال : هذا حديث غريب
حضرت عداء بن خالد بن ہوذہ کے بارے میں منقول ہے کہ انہوں نے ایک تحریر نکال کر دکھائی جس میں یہ لکھا تھا کہ یہ بیع نامہ ہے جو محمد رسول اللہ ﷺ اور عداء بن خالد بن ہوذہ کی خریداری سے متعلق ہے عداء نے محمد ﷺ سے ایک غلام یا لونڈی خریدی جس میں کوئی بیماری نہیں ہے کوئی بدی نہیں ہے اور کوئی برائی نہیں ہے عداء نے اس کو اس طرح خریدا ہے جس طرح ایک مسلمان ایک مسلمان سے خریدتا ہے (ترمذی)
تشریح
ایک غلام یا لونڈی خرید کی میں لفظ یا راوی کے شک کو ظاہر کر رہا ہے یعنی حدیث کے کسی راوی کو شک ہوا ہے کہ اس بیع نامہ میں غلام لکھا ہوا تھا یا لونڈی؟ جس میں کوئی بیماری نہیں ہے میں بیماری سے مراد جنون جذام اور کوڑھ جیسے موذی امراض ہیں اسی طرح کوئی بدی نہیں ہے میں بدی سے مراد وہ عیب ہے جو خریدار کے مال کے نقصان و ہلاکت کا باعث بنے جیسے غلام کا چور ہونا یا بھگوڑا ہونا۔ اور کوئی برائی نہیں ہے کا مطلب یہ ہے کہ اس کی خلقت وجبلت میں ایسی کوئی برائی نہیں ہے جس سے بڑے اور غلط اخلاق و افعال پیدا ہوں جیسے اس کا ولدالزنا ہونا یا فاسق یا جھوٹا اور یا جواری ہونا۔ آخری جملے ایک مسلمان ایک مسلمان سے خریدتا ہے سے رعایت وخیر خواہی اور حقوق اسلام کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اسلامی تعلیم کا یہ تقاضا ہے کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے ہاتھ ہر معاملہ وعقد میں رعایت و خیر خواہی مروت و ہمدردی اور ان حقوق کا جو ایک مسلمان کے تئیں دوسرے مسلمان پر عائد ہوتے ہیں پورا پورا لحاظ رکھے بہرکیف مذکورہ بالا تحریر کا حاصل یہ ہوا کہ یہ غلام اچھا ہے اس میں کوئی عیب نہیں ہے اور خریدو فروخت کے اس معاملہ میں فریقین نے ایک دوسرے کے ساتھ کوئی دغا اور فریب نہیں کیا ہے۔ امام ترمذی نے اس حدیث کو غریب کہا ہے کیونکہ یہ حدیث عباد بن لیث کی سند کے علاوہ کسی سند سے ثابت نہیں ہے نیز محدثین کے نزدیک عباد روایت حدیث میں ضعیف شمار کئے جاتے ہیں۔ علماء نے لکھا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ہجرت کے بعد کوئی بیع نہیں کی ہے اور اگر آپ ﷺ نے کوئی بیع کی ہے تو وہ شاذ ونادر کے درجے کی چیز ہے ہاں ہجرت سے پہلے آپ ﷺ بیع وشراء دونوں کرتے تھے۔ بخاری میں یہ حدیث یوں ہے حدیث (ہذا ما اشتری محمد رسول اللہ ﷺ من عداء بن خالد) (یعنی یہ بیع نامہ ہے جو عداء بن خالد سے محمد رسول اللہ ﷺ کی خریداری سے متعلق ہے) گویا بخاری کی روایت سے یہ معلوم ہوا کہ خریدار تو آنحضرت ﷺ تھے اور بیچنے والے عداء بن خالد جب کہ یہاں جو روایت نقل کی گئی ہے وہ اس کے برعکس ہے کیونکہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ عداء بن خالد خریدار تھے اور آنحضرت ﷺ بیچنے والے۔
وعن أنس : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم باع حلسا وقدحا فقال : من يشتري هذا الحلس والقدح ؟ فقال رجل : آخذهما بدرهم . فقال النبي صلى الله عليه و سلم : من يزيد على درهم ؟ فأعطاه رجل درهمين فباعهما منه . رواه الترمذي وأبو داود وابن ماجه
حضرت انس کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب ایک ٹاٹ اور ایک پیالہ بیچنے لگے تو فرمایا کہ اس ٹاٹ اور پیالہ کا خریدار کون ہے جو خریدنا چاہتا ہو وہ اس کی قیمت لگائے) ایک شخص نے عرض کیا کہ میں ان دونوں چیزوں کو ایک درہم کے عوض لے سکتا ہوں آپ ﷺ نے پھر فرمایا کہ ایک درہم سے زیادہ قیمت دینے والا کوئی ہے؟ چناچہ ایک دوسرے شخص نے آپ ﷺ کو دو درہم پیش کئے اور آپ ﷺ نے وہ دونوں چیزیں اس شخص کے ہاتھ دو درہم کے عوض فروخت کردیں (ترمذی ابوداؤد)
تشریح
اس بیع کا اصل واقعہ یوں ہے کہ ایک شخص نے رسول کریم ﷺ کے سامنے دست سوال دراز کیا اور یہ خواہش ظاہر کی کہ آپ ﷺ اسے کچھ عنایت فرما دیں تاکہ وہ اپنا پیٹ بھر سکے آپ ﷺ نے اس سے فرمایا کہ تمہارے پاس کچھ سامان بھی ہے اس نے عرض کیا کہ جی نہیں میرے پاس کوئی سامان نہیں ہے ہاں ٹاٹ کا ایک ٹکڑا اور ایک پیالہ ضرور پڑا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ پھر ان دونوں چیزوں کو بیچ دو اور اس کی قیمت کے طے طور پر جو کچھ وصول ہو اس سے اپنا پیٹ بھرو اس کے بعد جب تمہارے پاس کچھ بھی نہ رہ جائے تب صدقہ و خیرات مانگو چناچہ وہ شخص دونوں چیزیں لے آیا اور آپ ﷺ نے مذکورہ بالا طریقے پر گویا بصورت نیلام ان چیزوں کو فروخت فرمایا۔ بیع کی صورت کو عربی میں بیع من یزید اور حراج کہتے ہیں شرعی طور پر یہ بیع درست ہے۔ اب رہی یہ بات کہ شارع نے چونکہ اس سے منع کیا ہے کہ کوئی شخص کسی ایسی چیز کے دام نہ لگائے جس کے دام کسی دوسرے شخص کی جانب سے لگ رہے ہوں تو بیع کی یہ صورت کیسے جائز ہوگی تو اس بارے میں سمجھ لینا چاہئے کہ دام پر دام لگانے کی ممانعت کا تعلق اس صورت سے ہے جب کہ بیچنے والا اور خریدار دونوں ہی کسی ایک دام پر راضی ہوگئے ہوں اور معاملہ طے پا گیا ہو ایسی صورت میں اب کسی دوسرے شخص کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ اس بیع میں مداخلت کرے اور اپنی طرف سے بھی دام لگانے لگے لیکن یہاں بیع کی جو صورت ذکر کی گئی اس کی نوعیت بالکل دوسری ہے اس بیع میں تو بیچنے والے کا ارادہ ہی یہ ہوتا ہے کہ جو سب سے زیادہ دام لگائے گا اسی کو چیز دی جائے گی چناچہ نیلام میں یہی ہوتا ہے کہ لوگ ایک دوسرے سے بڑھ بڑھ کر دام لگاتے رہتے ہیں جس شخص کی آخری بولی ہوتی ہے اسی کے ہاتھ چیز بیچ دی جاتی ہے۔ یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ معاملات یعنی بیچنے والے کا چیز دینا اور خریدار کا قیمت دے دینا کافی ہے اگرچہ وہ دونوں منہ سے کچھ نہ کہیں یعنی زبانی ایجاب و قبول نہ ہو۔
عیب دارچیز دھوکہ سے بیچنے والے کے لئے وعید
عن واثلة بن الأسقع قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : من باع عيبا لم ينبه لم يزل في مقت الله أو لم تزل الملائكة تلعنه . رواه ابن ماجه
حضرت واثلہ ابن اسقع کہتے ہیں کہ میں نے سنا کہ رسول کریم ﷺ فرماتے تھے کہ جو شخص کسی عیب دار چیز کو اس طرح بیچے کہ اس کے عیب سے خریدار کو مطلع نہ کرے تو وہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے غضب میں رہتا ہے یا یہ فرمایا کہ اس پر فرشتے ہمیشہ لعنت بھیجتے رہتے ہیں۔ (ابن ماجہ)
پھلدار درخت کی بیع کا مسئلہ
عن ابن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من ابتاع نخلا بعد أن تؤبر فثمرتها للبائع إلا أن يشترط المبتاع ومن ابتاع عبدا وله مال فماله للبائع إلا أن يشترط المبتاع . رواه مسلم وروى البخاري المعنى الأول وحده
حضرت ابن عمر کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اگر کسی شخص نے تابیر کئے ہوئے کھجور کا درخت خریدا تو اس کا پھل بیچنے والے کا ہے الاّ یہ کہ خریدنے والا پھل مشروط کر دے اسی طرح اگر کسی شخص نے کوئی ایسا غلام خریدا جس کے پاس مال ہو تو اس کا وہ مال بیچنے والے کا ہے ( مسلم و بخاری) نے اس حدیث کا صرف پہلا جزء یعنی (من ابتاع نخلا) نقل کیا ہے۔
تشریح
تابیر کی صورت یہ ہے کہ کھجور کے نر درخت کا پھول کھجور کے مادہ درخت میں رکھدیتے ہیں عربوں کا اعتقاد تھا کہ اس وجہ سے زیادہ پھل پیدا کرتا ہے۔ حدیث بالا میں ایسے ہی درخت کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ اگر کوئی شخص تابیر کیا ہوا درخت خریدے اور خریداری کے وقت اس درخت پر پھل لگے ہوئے ہوں تو وہ بیچنے والے کے ہوتے ہیں ہاں اگر خریدار خریداری کرتے وقت یہ طے کرے کہ میں اس درخت کو اس کے پھل سمیت خریدتا ہوں تو پھر وہ پھل خریدار کے ہوں گے۔ حنفیہ کے نزدیک بغیر تابیر کئے ہوئے درخت کا بھی یہی حکم ہے۔ لیکن امام شافعی امام مالک امام احمد کا مسلک یہ ہے کہ بغیر تابیر کئے ہوئے درخت کا پھل بیع میں شامل نہیں ہے بلکہ یہ میرے ہوں گے تو پھر اس صورت میں وہ بیچنے والے کے ہوتے ہیں۔ غلام چونکہ کسی مال کا مالک نہیں ہوتا اس لئے حدیث میں اس کی طرف مال کی ملکیت کی نسبت ظاہر کے اعتبار سے ہے کہ اگر بیع کے وقت اس کے ہاتھ میں کوئی مال ہو تو وہ مال بیچنے والے کا ہے ہاں اگر خریدار اس مشروط طریقہ پر اسے خریدے کہ غلام کی خریداری میں یہ مال بھی شامل ہے جو اس کے ہاتھ میں ہے تو اس صورت میں وہ مال خریدار کا ہوگا۔ یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ غلام کی بیع کے وقت وہ کپڑے جو اس کے جسم پر ہوں بیع میں داخل نہیں ہوتے الاّ یہ کہ خریدار ان کپڑوں سے بیع کو مشروط کر دے حنفیہ کے بعض علماء کی رائے یہ ہے کہ کپڑے بیع میں داخل ہوتے ہیں۔ بعض علماء کا یہ قول ہے کہ صرف اسی قدر بیع میں داخل ہوتے ہیں جو سترپوشی کے لئے کافی ہوں لیکن زیادہ صحیح بات یہی ہے کہ حدیث کے ظاہر مفہوم کے مطابق اس کا کوئی بھی سامان اور سامان یعنی کپڑے وغیرہ کا کوئی بھی حصہ بیع میں داخل نہیں ہوتا۔
وعن جابر : أنه كان يسير على جمل له قد أعيي فمر النبي صلى الله عليه و سلم به فضربه فسار سيرا ليس يسير مثله ثم قال : بعنيه بوقية قال : فبعته فاستثنيت حملانه إلى أهلي فلما قدمت المدينة أتيته بالجمل ونقدني ثمنه وفي رواية فأعطاني ثمنه ورده علي . متفق عليه . وفي رواية للبخاري أنه قال لبلال : اقضه وزده فأعطاه وزاده قيراطا
حضرت جابر کے بارے میں مروی ہے کہ (وہ ایک سفر کے دوران جب کہ وہ مدینہ آرہے تھے) اپنے اونٹ پر سوار چل رہے تھے اور وہ اتنا تھک گیا تھا کہ چلنے سے معذور ہو رہا تھا چناچہ رسول کریم ﷺ جب جابر کے قریب سے گزرے تو آپ ﷺ نے ان کے اونٹ کو لکڑی سے یا اس چابک سے جو آپ ﷺ کے دست مبارک میں تھا مارا پھر تو وہ آپ ﷺ کے دست مبارک کی برکت سے اتنی تیز رفتاری سے چلا کہ پہلے کبھی اتنی تیز رفتاری سے نہ چلا تھا پھر اس کے بعد آپ ﷺ نے حضرت جابر سے فرمایا کہ تم اس اونٹ کو میرے ہاتھ ایک اوقیہ کے عوض بیچ دو حضرت جابر نے کہا میں نے یہ اونٹ آپ ﷺ کے ہاتھ بیچ دیا لیکن میں اپنے گھر تک اس پر سواری کو مستثنی کرتا ہوں یعنی میں اس شرط کے ساتھ اس کو فروخت کرتا ہوں کہ اپنے گھر تک اسی اونٹ پر سوار ہو کر جاؤں گا۔ چناچہ حضرت جابر کہتے ہیں کہ جب میں مدینہ آیا تو وہ اونٹ لے کر آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ ﷺ نے مجھے اس کی قیمت عطا فرما دی ایک روایت میں یوں ہے کہ آپ ﷺ نے مجھے قیمت عطا فرمائی اور اونٹ واپس کردیا یعنی اس کی قیمت بھی دی اور اونٹ بھی عطا فرما دیا (بخاری ومسلم) بخاری کی ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ جب حضرت جابر نے آپ ﷺ کو اونٹ دیا تو آپ ﷺ نے حضرت بلال سے فرمایا کہ جابر کو اونٹ کی قیمت دے دو کچھ زیادہ بھی دیدو چناچہ حضرت بلال نے انہیں اونٹ کی قیمت بھی دی اور ایک قیراط جو درہم کا چھٹا حصہ ہوتا تھا زیادہ بھی دیا۔
تشریح
وقیہ کہ جسے اوقیہ بھی کہا جاتا ہے چالیس درہم یعنی ساڑھے دس تولہ (47 ء 122 گرام) چاندی کے بقدر ہوتا ہے حدیث (فاستثنیت حملانہ الی اھلی) سے حضرت جابر کا مطلب یہ تھا کہ میں اس اونٹ کو آپ ﷺ کے ہاتھ اس شرط کے ساتھ بیچتا ہوں کہ مدینہ تک اسی اونٹ پر سوار چلوں گا یا اپنا سامان لاد کرلے چلوں گا۔ لہذا اس کے ظاہر مفہوم سے یہ معلوم ہوا کہ اگر کوئی شخص اپنے کسی جانور کو اس شرط کے ساتھ بیچے کہ یہ جانور فلاں مدت تک میرے زیر سواری رہے گا تو جائز ہے چناچہ حضرت امام احمد کا یہی مسلک ہے حضرت امام مالک کے ہاں اتنی قید ہے کہ اگر مسافت نزدیک ہو تو اس شرط کے ساتھ بیع کرنا جائز ہے چناچہ یہاں یہی صورت پیش آئی کہ حضرت جابر کو صرف مدینہ تک جانا تھا اس لئے اس کم مسفات کی وجہ سے انہوں نے سواری کی شرط رکھی اور ان کی یہ شرط منظور کی گئی۔ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ اور حضرت امام شافعی کے ہاں ایس کسی بھی شرط کے ساتھ بیع جائز نہیں ہے جس میں بیچنے والے کا یا خریدنے والے کا نفع ہو خواہ مسافت قریب ہو یا بعید ان کی دلیل وہ حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے مشروط بیع کرنے سے منع فرمایا ہے۔ اس حدیث کا جواب ان کی طرف سے یہ دیا جاتا ہے کہ یا تو یہ ایک وقتی رعایت تھی کہ حضرت جابر کو اس مشروط بیع کی بطور خاص اجازت دیدی گئی تھی کسی دوسرے کے لئے یہ جائز نہیں ہے یا پھر یہ کہ حضرت جابر نے مدینہ تک اپنی سواری کو بیع کرنے کے بعد مشروط کیا ہوگا۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ جب انہوں نے اونٹ کی بیع کردی اور آنحضرت ﷺ نے اسے خرید لیا تو اس کے بعد حضرت جابر نے آپ ﷺ سے یہ رعایت چاہی کے مجھے مدینہ تک اس پر سوار چلنے یا اپنا سامان لادنے کی اجازت دیدی جائے جسے آنحضرت ﷺ نے منظور کرلیا۔
حق ولاء آزاد کرنیوالے کو حاصل ہوتا ہے
وعن عائشة قالت : جاءت بريرة فقالت : إني كاتبت على تسع أواق في كل عام وقية فأعينيني فقالت عائشة : إن أحب أهلك أن أعدها لهم عدة واحدة وأعتقك فعلت ويكون ولاؤك لي فذهبت إلى أهلها فأبوا إلا أن يكون الولاء لهم فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : خذيها وأعتقيها ثم قام رسول الله صلى الله عليه و سلم في الناس فحمد الله وأثنى عليه ثم قال : أما أبعد فما بال رجال يشترطون شروطا ليست في كتاب الله ما كان من شرط ليس في كتاب الله فهو باطل وإن كان مائة شرط فقضاء الله أحق وشرط الله أوثق وإنما الولاء لمن أعتق
حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ ایک دن بریرہ میرے پاس آئی اور کہنے لگی کہ میں نے نو اوقیہ پر اس شرط کے ساتھ مکاتبت کی ہے کہ ہر سال ایک اوقیہ ادا کیا کروں گی لہذا آپ میری مدد کیجئے حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ یہ سن کر میں نے کہا کہ اگر تمہارے مالکوں کو یہ پسند ہو کہ میں سب کے سب اوقیے ایک ہی مرتبہ میں انہیں دے دوں اور پھر تجھے آزاد کر دوں تو ایسا کرسکتی ہوں لیکن اس صورت میں حق ولاء مجھے حاصل ہوگا بریرہ یہ سن کر اپنے مالکوں کے پاس گئی اور ان کے سامنے یہ صورت رکھی مگر انہوں نے اسے نامنظور کردیا اور کہا کہ ہم صرف اس شرط کے ساتھ تجھے بیچ سکتے ہیں کہ حق ولاء ہمیں حاصل ہو آنحضرت ﷺ کو جب اس کا علم ہوا تو آپ ﷺ نے حضرت عائشہ ؓ فرمایا کہ تم اسے لے کر آزاد کردو اس کا حق ولاء تمہیں ہی حاصل ہوگا پھر آپ ﷺ نے لوگوں کے سامنے خطبہ دیا اور اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء کے بعد فرمایا کہ لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ وہ ایسی شرطیں کرتے ہیں جو کتاب اللہ میں نہیں ہے یعنی مشروع نہیں ہیں جو شرط کتاب اللہ میں نہیں ہے وہ باطل ہے اگرچہ وہ سو شرطیں ہوں (یعنی جو شرط ناجائز ونامشروع ہے اسے چاہے کوئی سو بار ہی کیوں نہ عائد کرے وہ باطل ہی رہے گی اور اس کی کوئی حیثیت نہیں رہے گی)۔ اور اللہ ہی کا حکم سب سے زیادہ اس لائق ہے کہ اس پر عمل کیا جائے اور اللہ تعالیٰ ہی کی شرط سب سے زیادہ مضبوط ہے یعنی بیع وشراء کے معاملات میں اللہ نے جو احکام دئیے ہیں بہرصورت ان ہی کی تعمیل ضروری ہے اور اللہ نے جو شرائط مقرر کی ہیں صرف انہی کا لحاظ ضروری ہے اپنی طرف سے عائد کردہ کوئی شرط بھی قابل عمل نہیں ہوگی جان لو حق ولاء اسی شخص کو حاصل ہوتا ہے جو آزاد کرے (بخاری مسلم)
تشریح
مکاتبت غلام اور اس کے مالک کے درمیان ایک خاص نوعیت کے معاہدہ کا اصطلاحی نام ہے جس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ غلام کا مالک اسے اس شرط پر آذاد کرتا ہے کہ روپیہ کی اتنی مقدار اتنی مدت میں دینی ہوگی غلام اسے قبول و منظور کرلیتا ہے چناچہ غلام اگر روپیہ کی وہ مقدار اس متعینہ مدت میں ادا کرلیتا ہے تو اپنے مالک کی غلام سے آزاد ہوجاتا ہے اور اگر وہ مقدار ادا نہیں کر پاتا تو پھر جوں کا تو اس کی غلامی میں رہتا ہے اس معاملہ کو مکاتبت یا کتابت اور اس غلام کو مکاتب کہتے ہیں۔ ولاء آزاد کرنے کے اس حق کو کہتے ہیں جو غلام کے مالک کو حاصل ہوتا ہے یعنی اگر کوئی شخص اپنے کسی غلام کو آزاد کر دے اور وہ آزادی ہی کی حالت میں مرجائے اور اپنے پیچھے کچھ مال و اسباب چھوڑ جائے تو اس کے عصبہ نہ ہونے کی صورت میں اس کے تمام مال و اسباب کا حق دار وہی آزاد کرنیوالا شخص ہوتا ہے یہی حق ولاء کہلاتا ہے۔ بریرہ حضرت عائشہ کی لونڈی کا نام ہے یہ حضرت عائشہ کی خدمت میں آنے سے پہلے ایک یہودی کی ملکیت میں تھی جب انہوں نے اپنے مالکوں سے کتابت کی تو وہ حضرت عائشہ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور ان سے کہا کہ میں نے اپنے مالکوں سے نو اوقیہ پر اس شرط کے ساتھ کتابت کی ہے کہ ہر سال ایک اوقیہ جو چالیس درہم کا ہوتا ہے دیا کروں گی اب میں آپ کے پاس اس لئے آئی ہوں کہ آپ میری مدد کریں اور مجھے اتنا دیدیں جو میں بدل کتابت کے طور پر اپنے مالکوں کو دیدوں۔ حضرت عائشہ نے کہا کہ اگر تمہارے مالکوں کو پسند ہو تو میں یہ کرسکتی ہوں کہ انہیں یہ نو اوقیہ یک مشت تمہاری قیمت کے طور پر انہیں دیدوں اور تمہیں خرید کر آزاد کر دوں اگر مکاتب بدل کتابت ادا کرنے سے عاجز ہو تو اسے بیچنا خریدنا جائز ہے ظاہر ہے کہ اس صورت میں تمہاری طرف سے حق ولاء مجھے ہی حاصل ہوگا لیکن جب یہ بات بریرہ کے مالکوں کو پہنچی تو انہوں نے اس سے انکار کردیا کیونکہ وہ بریرہ کو حضرت عائشہ کے ہاتھ اس شرط پر فروخت کرنا چاہتے تھے کہ بریرہ کا حق ولاء ان کو حاصل ہو چونکہ ان کی یہ شرط کہ بریرہ کو خرید کر آزاد تو کریں عائشہ اور حق ولاء پہنچے ان کو بالکل نادانی کی بات تھی اور شرعی طور پر مطلقًا ناجائز اس لئے جب حضرت عائشہ نے اس کا تذکرہ آنحضرت ﷺ سے کیا تو آپ ﷺ ناراض ہوئے اور حدیث میں مذکورہ کلمات ارشاد فرمائے۔ حق ولاء کو بیچنا یا اس کو ہبہ کرنا ناجائز ہے حضرت ابن عمر کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے ولاء کو بیچنے یا اس کو ہبہ کرنے سے منع فرمایا ہے ( بخاری ومسلم) تشریح یعنی مثلًا ایک شخص نے اپنے غلام کو آزاد کیا جس کی وجہ سے حق ولاء اس کے لئے ثابت ہوگیا اب اگر وہ یہ چاہے کہ اس حق ولاء کو کسی کے ہاتھ بیچ دے یا کسی کو ہبہ کر دے تو یہ جائز نہیں ہے کیونکہ ولاء کوئی مال نہیں ہے کہ اس کو بیچا یا ہبہ کیا جاسکے اس بارے میں تمام علماء کا متفقہ طور پر یہی مسلک ہے۔
جو نقصان کا ذمہ دار ہے وہی نفع کا بھی حق دار ہے
عن مخلد بن خفاف قال : ابتعت غلاما فاستغللته ثم ظهرت منه على عيب فخاصمت فيه إلى عمر بن عبد العزيز فقضى لي برده وقضى علي برد غلته فأتيت عروة فأخبرته فقال : أروح إليه العشية فأخبره أن عائشة أخبرتني أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قضى في مثل هذا : أن الخراج بالضمان فراح إليه عروة فقضى لي أن آخذ الخراج من الذي قضى به علي له . رواه في شرح السنة
حضرت مخلد بن خفاف کہتے ہیں کہ میں نے ایک غلام خریدا جس کی کمائی میں وصول کرتا رہا پھر مجھے اس کے ایک ایسے عیب کا علم ہوا جو اس میں خریداری سے پہلے کا تھا اور بیچنے والے نے مجھے اس سے مطلع نہیں کیا تھا چناچہ اس غلام کے معاملہ کو میں نے حضرت عمر بن عبد العزیز (خلیفہ وقت) کی خدمت میں پیش کیا انہوں نے مجھے یہ فیصلہ سنایا کہ غلام کو واپس کردیا جائے اور اس کے ساتھ ہی اس کی کمائی بھی واپس کردی جائے پھر میں حضرت عروہ بن زبیر کی خدمت میں حاضر ہوا جو ایک جلیل القدر تابعی اور فقہاء میں سے تھے اور حضرت عمر بن عبدالعزیز کے فیصلہ سے انہیں آگاہ کیا حضرت عروہ نے فرمایا کہ میں شام کے وقت حضرت عمر بن عبدالعزیز کی خدمت میں جاؤں گا اور ان کو بتاؤں گا کہ حضرت عائشہ نے مجھ سے یہ نقل کیا ہے کہ رسول کریم ﷺ نے اسی قسم کے ایک معاملہ میں یہ فیصلہ دیا تھا کہ منفعت ضمان یعنی تاوان کے ساتھ ہے چناچہ حضرت عروہ حضرت عمر بن عبدالعزیز کے پاس تشریف لے گئے اور ان کو آنحضرت ﷺ کے اس ارشاد سے مطلع کیا حضرت عمر بن عبدالعزیز نے یہ ارشاد گرامی سننے کے بعد پھر مجھے یہ حکم دیا کہ میں غلام کی کمائی اس شخص سے لے لوں جسے دینے کے لئے مجھے پہلے حکم دیا گیا تھا ( شرح السنۃ)
تشریح
منفعت ضمان یعنی تاوان کے ساتھ ہے کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح اگر وہ غلام خریدنے والے کے پاس مرجاتا یا اس میں کوئی نقص پیدا ہوجاتا تو ظاہر ہے کہ اس خریدار کا نقصان ہوتا بیچنے والے کا کچھ نہ جاتا اسی طرح غلام سے کوئی منفعت حاصل ہوگی تو اس کا حقدار خریدار ہی ہوگا بیچنے والے کا اس پر کوئی حق نہیں ہوگا۔
بائع ومشتری کے نزاع کی صورت میں کس کا قول معتبر ہوگا
وعن عبد الله بن مسعود قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا اختلف البيعان فالقول قول البائع والمبتاع بالخيار . رواه الترمذي وفي رواية ابن ماجه والدارمي قال : البيعان إذا اختلفا والمبيع قائم بعينه وليس بينهما بينة فالقول ما قال البائع أو يترادان البيع
حضرت عبداللہ بن مسعود راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ جب خریدار اور بیچنے والے میں اختلاف پیدا ہوجائے تو اس صورت میں بیچنے والے کا قول معتبر ہوگا اور خریدار کو بیع فسخ کردینے یا باقی رکھنے کا اختیار حاصل ہوگا (ترمذی) ابن ماجہ اور دارمی کی روایت میں یوں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جب خریدار بیچنے والے کے درمیان اختلاف پیدا ہوجائے اور مبیع بیچی یا خریدی جانے والی چیز جوں کی توں باقی ہو اور ان دونوں کے درمیان کوئی گواہ نہ ہو تو اس صورت میں بیچنے والے کا قول معتبر ہوگا یا پھر وہ دونوں بیع کو فسخ کردیں (ترمذی)
تشریح
خریدار بیچنے والے کے درمیان بسا اوقات اختلاف ونزاع کی صورت پیدا ہوجاتی ہے کبھی تو یہ اختلاف ونزاع قیمت کے تعین کے سلسلہ میں پیدا ہوتا ہے کہ خریدار کہتا ہے میں نے تم سے اس چیز کا معاملہ دس روپے میں طے کیا ہے اور بیچنے والا کہتا ہے کہ نہیں میں نے یہ چیز بارہ روپے میں فروخت کی ہے شرط خیار یا تعین مدت میں اختلاف ہوجاتا ہے اور کبھی ان کے علاوہ دیگر شروط میں نزاع کی صورت پیدا ہوجاتی ہے ایسے ہی مواقع کے لئے حدیث نے واضح ہدایات کی ہے کہ ان صورتوں میں بیچنے والے کا قول معتبر ہوگا بشرطیکہ اس کا قول قسم کے ساتھ ہو یعنی اس سے کہا جائے گا کہ تم قسم کھاؤ کہ تم نے یہ چیز اس قیمت پر نہیں بیچی ہے جو خریدار بتارہا ہے پھر خریدار کو اختیار ہوگا کہ چاہے تو بیچنے والے کی اس بات پر راضی ہوجائے جو اس نے قسم کھا کر کہی ہے اور بیع کو برقرار رکھے اور چاہے وہ بھی قسم کھائے اور کہے کہ میں نے یہ چیز اس قیمت پر نہیں خریدی ہے جو بیچنے والا بتارہا ہے اور جب دونوں اپنی اپنی بات پر قسم کھائیں گے تو ان کا معاملہ اسی صورت میں باقی رہے گا جب کہ ان میں سے کوئی بھی ایک دوسرے کی بات کو تسلیم کرلے گا اگر ان میں سے کوئی بھی اپنے دوسرے فریق کی بات کو تسلیم کرنے پر تیار نہیں ہوگا تو پھر آخری درجہ پر قاضی وحاکم کو اختیار ہوگا کہ وہ اس بیع و معاملہ کو فسخ کرا دے خواہ بیع فروخت شدہ چیز بعینہ باقی ہو یا بعینہ باقی نہ جیسا کہ حضرت امام شافعی کا مسلک ہے لیکن حضرت امام ابوحنیفہ اور حضرت امام مالک یہ کہتے ہیں کہ اگر مبیع باقی نہ ہو تو پھر دونوں فریق قسم نہ کھائیں بلکہ اس صورت میں خریدار کا قول قسم کے ساتھ معتبر ہوگا۔ حدیث کے الفاظ المبیع قائم ان دونوں کے قول کی تائید کرتے ہیں چناچہ دوسری روایت جیسے ابن ماجہ اور دارمی نے نقل کیا ہے کے الفاظ (فالقول ما قال البائع) ( تو اس صورت میں بیچنے والے کا قول معتبر ہوگا) کا مطلب بھی حنفی مسلک کے مطابق یہ ہی ہے کہ اگر مبیع بعینہ باقی ہو تو بیچنے والے سے قسم کھلائی جائے اگر وہ قسم کھالے تو خریدار کو اختیار ہوگا کہ چاہے تو بیچنے والے کی بات کو تسلیم کر دے اور چاہے خود بھی قسم کھائے یا پھر دونوں فریق بیع کو فسخ کردیں اور اگر اختلاف ونزاع کے وقت مبیع بعینہ باقی نہ ہو تو پھر دونوں فریق قسم نہ کھائیں بلکہ اس صورت میں خریدار کا قول قسم کے ساتھ معتبر ہوگا۔ اس صورت میں قسم کے ساتھ خریدار ہی کا قول معتبر ہوگا بیچنے والے سے قسم نہ کھلائی جائے۔ یہ مسئلہ یہاں اجمالی طور پر ذکر کیا گیا ہے ہدایہ میں اسے بہت وضاحت و تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے اہل علم ہدایہ میں یہ تفصیل دیکھ سکتے ہیں۔
وعن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من أقال مسلما أقاله الله عثرته يوم القيامة . رواه أبو داود وابن ماجه وفي شرح السنة بلفظ المصابيح عن شريح الشامي مرسلا
حضرت ابوہریرہ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص مسلمان کی بیع کو واپس کرے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے گناہ بخش دے گا (ابوداؤد ابن ماجہ) اور شرح السنۃ میں یہ روایت ان الفاظ میں ذکر کی گئی ہے جو مصابیح میں شریح شامی سے بطریق ارسال اقالہ جائز ہے۔
تشریح
اقالہ کا مطلب ہے بیع کو واپس کردینا یعنی فسخ کردینا شرح السنہ میں لکھا ہے کہ بیع اور سلم میں قبل قبضہ بھی اور بعد قبضہ بھی اقالہ جائز ہے۔ اس روایت کو ابوداؤد اور ابن ماجہ نے متصل نقل کیا ہے اسی طرح حاکم نے بھی اس روایت کو حضرت ابوہریرہ ؓ متصل ہی نقل کیا ہے لیکن مصابیح میں یہ روای بطریق ارسال ان الفاظ میں منقول ہے حدیث (من اقال اخاہ المسلم صفقۃ کرہہا اقال اللہ عثرتہ یوم القیامۃ) جو شخص مسلمان کی کسی ناپسندیہ بیع کو واپس کرے گا تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے گناہ بخش دے گا چناچہ مؤلف مشکوۃ نے روایت کے آخری الفاظ کے ذریعہ گویا مصابیح کے مصنف علامہ بغوی پر اعتراض کیا ہے کہ انہوں نے اپنی کتاب مصابیح میں اولی کو ترک کیا ہے بایں طور کہ ابوداؤد وابن ماجہ کی نقل کردہ یہ متصل روایت تو نقل نہیں کی بلکہ حدیث مرسل نقل کی ہے۔
عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : اشترى رجل ممن كان قبلكم عقارا من رجل فوجد الذي اشترى العقار في عقاره جرة فيها ذهب فقال له الذي اشترى العقار : خذ ذهبك عني إنما اشتريت العقار ولم ابتع منك الذهب . فقال بائع الأرض : إنما بعتك الأرض وما فيها فتحاكما إلى رجل فقال الذي تحاكما إليه : ألكما ولد ؟ فقال أحدهما : لي غلام وقال الآخر : لي جارية . فقال : أنكحوا الغلام الجارية وأنفقوا عليهما منه وتصدقوا
حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے یہ واقعہ بیان فرمایا کہ تم سے پہلے (زمانہ کے) لوگوں میں سے ایک شخص نے ایک دوسرے شخص سے زمین کا ایک قطعہ خریدا اور اس کو اپنے تصرف میں لایا اتفاق کی بات کہ جس شخص نے زمین خریدی تھی اس نے اپنی اس خرید کردہ زمین میں ایک ایسا گھڑا پایا جس میں سونا بھرا ہوا تھا اس نے زمین بیچنے والے سے کہا کہ تم اپنا یہ سونا لے لو کیونکہ میں نے تو صرف زمین خریدی تھی یہ سونا میں نے نہیں خریدا تھا بیچنے والے نے کہا کہ میں نے تمہارے ہاتھ صرف زمین ہی نہیں بیچی تھی بلکہ ہر وہ چیز بیچ دی تھی جو اس زمین میں ہے اس لئے یہ سونا بھی تمہارا ہے اسے تمہی رکھو مگر خریدار اس پر تیار نہ ہوا یہاں تک کہ دونوں اپنا معاملہ ایک شخص حاکم و ثالث کے پاس لے گئے اس حکم نے واقعہ کی تفصیل سن کر ان دونوں سے پوچھا کہ تم دونوں کے ہاں اولاد کیا ہے ان میں سے ایک نے تو کہا کہ میرے ہاں لڑکا ہے اور دوسرے نے کہا کہ میرے ہاں لڑکی ہے حاکم نے یہ سن کر کہا کہ اس لڑکے کا نکاح لڑکی سے کردو اور اس سونے کو اس دونوں پر خرچ کرو اور پھر جو کچھ بچے اسے اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کردو۔
تشریح
یہ واقعہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کے زمانہ کا ہے جیسا کہ بعض علماء نے کہا ہے کہ ان دونوں نے جس شخص کا اپنا حاکم و ثالث بنایا تھا وہ حضرت داؤد (علیہ السلام) تھے چناچہ حضرت داؤد (علیہ السلام) نے صدور فیصلہ میں کمال ذہانت وذکاوت کا ثبوت دیا اور ایسا معتدل و معقول فیصلہ دیا کہ جو نبوت ہی کا خاصہ ہوسکتا ہے۔ علامہ نووی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث بیچنے والے اور خریدنے والے کے درمیان صلح صفائی کرانے کی فضیلت پر دلالت کرتی ہے نیز علماء لکھتے ہیں کہ مخالف اشخاص میں صلح کرانا قاضی وحاکم کے لئے اسی طرح مستحب ہے جس طرح غیر قاضی کے لئے مستحب ہے۔