جن بیوع سے منع کیا گیا ہے ان کا بیان

Mishkaat-al-Masabih · Chapter 78 · 35 hadiths · Page 1 of 2

2882Mishkaat-al-Masabih

جن بیوع سے منع کیا گیا ہے ان کا بیان

شریعت اسلامی نے خریدو فروخت کے بعض معاملات اور لین دین کی کچھ صورتوں سے منع کیا ہے اسی طرح کچھ چیزیں اور اشیاء ایسی ہیں جن کی خریدو فروخت شرعی نقطہ نظر سے ممنوع ہے پھر بعض معاملات اور بعض چیزوں کی ممانعت ونہی بطریق حرمت (یعنی ان معاملات اور ان چیزوں کے حرام ہونے کی وجہ سے ہے جیسے بیع باطل اور بیع فاسد کی ممانعت اور بعض ممانعت کا تعلق محض کراہت سے ہے جیسے جمعہ کی اذان کے وقت خریدو فروخت کا معاملہ کرنے کی ممانعت۔ چنانچہ خریدو فروخت کے جن معاملات یا جن چیزوں کی خریدو فروخت کی ممانعت اس وجہ سے ہے کہ وہ معاملات یا وہ چیزیں شریعت کی نظر میں حرام ہیں ان کی حنفی مسلک کے مطابق دو قسمیں ہیں 1 بیع فاسد 2 بیع باطل بیع فاسد خریدو فروخت اور لین دین کے اس معاملہ کو کہتے ہیں جو اصول بیع کے پائے جانے کی وجہ سے تو یہ صحیح ہوجاتا ہے مگر بیع کے صحیح ہونے کی جو شرائط ہیں ان میں سے بعض شرطوں کے فوت ہوجانے کی وجہ سے وہ معاملہ جائز نہیں رہتا اس لئے ایسے معاملہ کو ختم کردینا ہی ضروری ہوتا ہے اسی کو فقہاء کی اصطلاح میں مشروع بنفسہ اور ممنوع بوصفہ کہا جاتا ہے یعنی ایسی بیع باعتبار اصول مشروع و صحیح ہے اور باعتبار مشروط و اوصاف ممنوع ہے۔ بیع باطل خریدو فروخت اور لین دین کے اس معاملہ کو کہتے ہیں جو شرعی نقطہ نظر سے کوئی بھی حیثیت نہیں رکھتا کیونکہ وہ معاملہ نہ تو اصول بیع کے اعتبار سے صحیح ہوتا ہے اور نہ باعتبار شروط و اوصاف جائز ہوتا ہے۔ مناسب ہے کہ اس ضمن میں کچھ مسائل ذکر کر دئے جائیں جن سے نہ صرف مذکورہ بالا اقسام کی تعریفات سمجھنے میں آسانی ہوگی بلکہ باب کے موضوع کے اعتبار سے ان کا جاننا بھی ضروری ہے۔ اگر مبیع (یعن بیچی اور خریدی جانیوالی چیز) شرعی اعتبار سے مال نہ ہو جیسے خون مردار آزاد شخص ام الولد مکاتب پیشاب اور بالکل نکمی چیز تو ایسی کسی بھی چیز کی بیع باطل ہے اسی طرح مبیع مال تو ہو مگر متقوم نہ ہو جیسے شراب اور سور (خنزیر) تو اس کی بیع اس صورت میں تو باطل ہوگی جبکہ اسے روپے کے عوض فروخت کیا جائے اور اگر اس کی بیع اسباب کے عوض کی جائے گی تو اس صورت میں اسباب کی بیع تو فاسد ہوگی اور اس مال غیر متقوم کی بیع باطل ہوگی۔ بیع باطل اور بیع فاسد میں فرق یہ ہے کہ بیع باطل میں تو بیع (بیچی جانیوالی چیز) شرعی نقطہ نظر سے مشتری (خریدنے والا) یعنی خریدار کی ملکیت میں سرے سے آتی ہیں نہیں جبکہ بیع فاسد میں بیع قبل قبضہ تو کوئی حکم نہیں رکھتی مگر بعد قبضہ بطور حرام مشتری (خریدنے والا) کی ملیکت میں آجاتی ہے اور نقود سے اس کی قیمت کی ادائیگی اس کے ذمہ ضروری ہوتی ہے لیکن قبضہ کے بعد بھی اس بیع کو فسخ کردینا واجب ہوتا ہے بشرطیکہ مبیع بعینہ خریدار کے پاس موجود ہے۔ جانور کے تھن میں دودھ کی بیع باطل ہے کیونکہ وہ مشکوک الوجود ہوتا ہے ہوسکتا ہے کہ جانور کے تھن کی ظاہری حالت دیکھ کر اس میں دودھ کی موجودگی کا یقین کرایا جائے اور اس دودھ کی بیع کردی جائے مگر بعد میں پتہ لے کہ تھن میں سرے سے دودھ تھا ہی نہیں بلکہ ہوا وغیرہ کی وجہ سے تھن پھولا ہوا تھا ایسی صورت میں یہ فریب اور دھوکہ دھی کا معاملہ ہوجائے گا۔ ہوا میں اڑتے ہوئے پرندے بھی بیچنا جائز نہیں ہیں بشرطیکہ وہ جانور ایسا نہ ہو جو لوٹ پھر کر آجاتا ہو جیسے کبوتر تو اس کو ہوا میں اڑتے ہوئے بھی بیچنا درست ہے اسی طرح اس مچھلی کی بیع بھی ناجائز ہے جو ابھی پکڑی نہ گئی ہو بلکہ پانی مثلا دریا وغیرہ ہی میں ہو یا پکڑی جا چکی ہو مگر پھر اسے کسی ایسے حوض وغیرہ میں ڈال دیا گیا ہو جس میں سے اسے بغیر جال وغیرہ کے پکڑنا ممکن نہ ہو ایسے ہی لونڈی یا جانور کا حمل وہ موتی جو سیپ میں ہو اور جانور کے ذبح ہونے اور کٹھنے سے پہلے اس کے گوشت کی بیع کرنا جائز نہیں ہے سو (خنزیر) کے بالوں کی بیع کرنا بھی جائز نہیں ہے البتہ ان بالوں سے فائدہ اٹھانا مثلا گون یعنی غلہ وغیرہ بھر کر جانور کی پیٹھ پر لادے جانیوالے تھیلے اور بورے کو سینے کے مصرف میں لانا جائز ہے لیکن آدمی کے بالوں کی بیع بھی ناجائز ہے اور ان سے فائدہ اٹھانا بھی ناجائز ہے۔ جو بیع آپس کے نزاع کا باعث بنتی ہو وہ فاسد ہے جیسے بکری وغیرہ کی پیٹھ پر اس کی پشم کی بیع یا چھت میں لگی ہوئی لکڑی کی بیع یا ایک بڑے کپڑے میں ایک گز کپڑے کی بیع یا ایسی بیع کرنا جس میں ادائیگی قیمت کی مدت کو مجہول رکھا جائے مثلا یوں کہے کہ جس روز بارش بر سے گی یا جس روز تیز ہوا چلے گی اس روز اس کی قیمت ادا کروں گا لیکن اگر ان تمام صورتوں میں خریدار نے یع کو فسخ نہ کیا اور بیچنے والے نے خریدار کو دینے کے لئے چھت میں کڑی کو جدا کردیا یا بڑے کپڑے میں سے گز بھر کپڑا جدا کردیا خریدار نے ادائیگی قیمت کی مدت مجہول کو موقوف کردیا تو بیع صحیح ہوجائے گی۔ شرط فاسد کے ساتھ کی جانیوالی بیع فاسد ہوتی ہے اور شرط فاسد اسے کہتے ہیں جو اقتضائے عقد کے خلاف ہو اور اس میں یا بیچنے والے کا فائدہ ہو جیسے بیچنے والا یہ شرط عائد کرے کہ میں نے یہ مکان بیچا مگر ایک ماہ تک میں اسی مکان میں رہوں گا یا خریدار کا فائدہ ہو جیسے خریدار یہ شرط عائد کرے کہ میں نے یہ کپڑا خرید لیا لیکن یہ کپڑا مجھے سی کر دے مبیع کا فائدہ ہو جب کہ انسان یعنی غلام و لونڈی ہو اور وہ نفع کا مستحق ہو جیسے بیچنے والا خریدار سے کہے کہ اس غلام کو آزاد کردینا یا اس غلام کا نکاح کردینا اس قسم کی شرطیں فاسد ہیں ان کی وجہ سے بیع بھی فاسد ہوجاتی ہے۔ خریدار کی ملکیت کی شرط کرنا چونکہ اقتضائے عقد کے خلاف نہیں ہے اس لئے فاسد نہیں اسی طرح اگر کوئی تاجر مثلا کوئی کپڑا بیچتے ہوئے خریدار پر یہ شرط عائد کرے کہ اس کپڑے کو فروخت نہ کرنا تو یہ شرط اگرچہ اقتضائے عقد کے خلاف ہے لیکن چونکہ اس شرط میں کسی کی بھی منفعت نہیں ہے اس لئے یہ شرط فاسد نہیں ہوگی نیز گھوڑا بیچنے والا اگر خریدار پر یہ شرط عائد کرے کہ اس گھوڑے کو فربہ کرنا اگرچہ اس شرط میں مبیع کی منفعت ہے لیکن مبیع چونکہ انسان نہیں کہ وہ نفع کا مستحق ہو اس لئے یہ شرط بھی فاسد نہیں یہ شرط لغو وساقط ہوگی اور بیع صحیح ہوجائے گی۔ بیع فاسد و باطل کی مزید تفصیل فقہ کی کتابوں میں درج ہے ان کو جاننا چاہئے تاکہ خریدو فروخت کے ان معاملات سے جو شریعت کی نظر میں ناقابل اعتبار ہیں اور جن کا آج کل بہت رواج ہے اجتناب کیا جاسکے اس موقع پر چند دیگر مسائل کی وضاحت بھی ضروری ہے مثلا بیچنے والے کی طرف سے بیع کے ناپ تول میں کمی یا خریدار کی طرف سے قیمت میں کٹوتی حرام ہے جس طرح بیچنے والے کے لئے ضروری ہے کہ وہ بیع کو پورا پورا ناپ تول کر دے اسی طرح خریدار کے لئے بھی ضروری ہے کہ جو قیمت طے ہوچکی ہے اس میں ادائیگی کے وقت کمی نہ کرے جو لوگ اس کے خلاف کرتے ہیں ان کے بارے میں قرآن کریم نے یوں تنبیہ کی ہے ا یت (ویل للمطففین) (بڑی خرابی ہیں ناپ تول میں کمی کرنیوالوں کیلئے) مبیع کی قیمت دیون معجلۃ اور مزدوروں کی ادائیگی میں بلا عذر تاخیر کرنا حرام ہے چناچہ آنحضرت ﷺ کا یہ ارشاد گرامی ہے کہ غنی صاحب استطاعت کی طرف سے ادائیگی مطالبہ میں تاخیر ظلم ہے لہذا مزدور کو اس کی مزدوری اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے دیدو۔ منقول ہے کہ آنحضرت ﷺ جب کسی کا دین ادا کرتے تو مقدار واجب سے زیادہ ادا فرماتے مقدار واجب اگر آدھا وسق ہوتی تو اس کی بجائے ایک وسق دیتے اور اگر ایک وسق واجب ہوتا تو اس کی بجائے دو وسق عطا کرتے اور یہ فرماتے کہ یہ تو تمہارا حق ہے اور اس قدر مزید میری طرف سے عطاء ہے لیکن یہ ذہن میں رہے کہ اس طرح مقدار واجب سے زیادہ دینا سود کے حکم میں داخل نہیں ہے کیونکہ سود تو اس وقت ہوتا ہے جب اس زیادتی کو پہلے سے مشروط کردیا گیا ہو بغیر شرط زیادہ دینا جائز بلکہ مستحب ہے۔ معاملات میں عہد شکنی مکروفریب اور جھوٹ کی آمیزش کسب حلال کو بھی حرام کردیتی ہے لہذا ان سے اجتناب ضروری ہے۔ آنحضرت ﷺ کے بارے میں منقول ہے کہ ایک دن آپ ﷺ نے بازار میں ایک دکان پر رکھے ہوئے گیہوں کے ایک ڈھیر کو دیکھا اور جب آپ ﷺ نے اس ڈھیر میں اپنا دست مبارک ڈالا تو اندر سے گیہوں تر معلوم ہوئے آپ ﷺ نے دکاندار سے پوچھا یہ کیا ہے اس نے کہا کہ ان گیہوں تک بارش کا پانی پہنچ گیا تھا جس کی وجہ سے یہ اندر کی جانب سے گیلے ہوگئے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا کہ تو پھر تم نے ان گیلے گیہوں کو ڈھیر کے اوپر کیوں نہیں رکھا (تاکہ کوئی لاعلم شخص ان کی وجہ سے دھوکہ نہ کھائے یاد رکھو جو شخص مسلمانوں کو فریب دیتا ہے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ بیع مرابحت (قیمت خرید پر نفع لے کر بیچنے کی صورت) اور بیع تولیت ( قیمت خرید پر بلانفع بیچنے کی صورت) میں خریدار کے سامنے پہلی قیمت (یعنی جس قیمت پر خود بیچنے والے نے خریدا ہو) کو بلاکم وبیش ظاہر کردینا واجب ہے اگر بیچنے والے نے بیع پر قیمت کے علاوہ کچھ اور مثلا مزدوری ڈھلائی اور چنگی وغیرہ کا خرچ برداشت کیا ہو تو اس کو بھی قیمت کے ساتھ ملا لے اور خریدار سے یوں کہے کہ اس چیز پر میرے اتنے روپے خرچ ہوئے ہیں یہ نہ کہے کہ میں نے یہ چیز اتنے روپے میں خریدی ہے تاکہ جھوٹا نہ بنے۔ اگر کسی شخص نے ایک کپڑا مثلًا دس روپے میں بیچا اور ہنوز خریدار نے بیچنے والے کو وہ دس روپے ادا نہیں کئے تھے کہ بیچنے والے نے پھر وہی کپڑا خریدار سے پانچ روپے میں خرید لیا یا اس کپڑے کو ایک اور کپڑے کے ساتھ دس درہم میں خریدا تو یہ بیع صحیح نہیں ہوگی۔ کیونکہ یہ سود کے حکم میں آجائیگی بیع پر قبضے سے پہلے تصرف جبکہ مبیع منقول ہو حرام ہے چناچہ منقول چیز کو قبضہ کرنے سے پہلے بیچنا جائز نہیں ہے۔ کسی شخص نے ایک کیلی چیز جو پیمانہ میں ناپ کرلی دی جاتی ہو) بشرطیکہ کیل خریدی اور بیچنے والے سے وہ چیز پیمانہ میں نپوا کرلے لی اور پھر اسی چیز کو اس نے کسی دوسرے کے ہاتھ بشرط کیل بیچی تو اب اس دوسرے خریدار کے لئے ضروری ہے کہ جب تک وہ خود بھی اس پہلے خریدار سے اس چیز کو پیمانہ میں نپوا نہ لے نہ تو اس چیز کو اپنے تصرف میں لائے اور نہ کسی اور کے ہاتھ یچے کیونکہ پہلا ناپ کافی نہیں ہے احتیاط کا تقاضہ یہی ہے کہ اس کو پھر ناپ لیا جائے کہ مبادا وہ چیز پیمانہ میں کچھ زائد نکلے اور وہ بائع (بچنے والا) کا مال نہ ہو۔ اگر ایک مسلمان کسی چیز کی خریدو فروخت کا کوئی معاملہ کرتے ہوئے ایک نرخ متعین کرتا ہے یا ایک مسلمان نے کسی عورت سے نکاح کا پیغام دیا ہے تو تاوقتیکہ اس کا معاملہ طے یا موقوف نہ ہوجائے کسی دوسرے کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ اس چیز کا معاملہ کرے یا اپنا پیغام بھیجے۔ بوقت اذان جمعہ خریدو فروخت کا کوئی معاملہ کرنا مکروہ ہے کیونکہ اس کی وجہ سے سعی واجب یعنی نماز جمعہ کی ضروری تیاریوں میں خلل آتا ہے اگر متعدد مسجدوں میں جمعہ کی نماز ہوتی ہو تو جس مسجد میں نماز پڑھنے کا ارادا ہو اس کی اذان سے بیع ترک کرے۔ اگر دو بڑے چھوٹے غلام آپس میں محرمیت کی قرابت رکھتے ہوں تو ان کی علیحدہ علیحدہ بیع کرنا مکروہ و ممنوع ہے اسی طرح اگر ایک ان میں سے چھوٹا ہو اور دوسرا بڑا تب بھی مکروہ و ممنوع ہے بلکہ بعض علماء کے نزدیک تو یہ بیع ہی جائز نہیں ہوگی۔ مردار کی چربی بیچنا جائز نہیں ہے نجس کا تیل بیچنا حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کے ہاں تو جائز ہے لیکن دوسرے ائمہ کے ہاں جائز نہیں ہے انسان کی غلاظت کی بیع جب کہ اس میں کچھ ملا نہ ہو حضرت حضرت امام اعظم کے نزدیک مکروہ ہے اور اگر راکھ غیر ملی ہوئی ہو تو جائز ہے حضرت امام اعظم کے ہاں گوبر کا بیچنا بھی جائز نہیں اس سے فائدہ اٹھانا بھی جائز نہیں ہے۔ بادشاہ وحاکم کے لئے یہ مکروہ ہے کہ وہ اشیاء کے نرخ متعین کردیں ہاں اگر تاجر غلہ و دیگر اشیاء کی گرانی میں حد سے تجاوز کرنے لگیں اور عوام پریشانی میں مبتلا ہوجائیں تو پھر حاکم کے لئے جائز ہے کہ وہ تجربہ کار اور ماہرین کے مشورہ سے متعین کرے۔

2883Mishkaat-al-Masabih

وہ بیوع جن سے منع کیا گیا ہے

عن ابن عمر قال : نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن المزابنة : أن يبيع تمر حائطه إن كان نخلا بتمر كيلا وإن كان كرما أن يبيعه زبيب كيلا أو كان وعند مسلم وإن كان زرعا أن يبيعه بكيل طعام نهى عن ذلك كله . متفق عليه . وفي رواية لهما : نهى عن المزابنة قال : والمزابنة : أن يباع ما في رؤوس النخل بتمر بكيل مسمى إن زاد فعلي وإن نقص فعلي ) 2835 - [ 2 ] ( صحيح ) وعن جابر قال : نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن المخابرة والمحاقلة والمزابنة والمحاقلة : أن يبيع الرجل الزرع بمائة فرق حنطة والمزابنة : أن يبيع التمر في رؤوس النخل بمائة فرق والمخابرة : كراء الأرض بالثلث والربع . رواه مسلم 2836 - [ 3 ] ( صحيح ) وعنه قال : نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن المحاقلة والمزابنة والمخابرة والمعاومة وعن الثنيا ورخص في العرايا . رواه مسلم 2837 - [ 4 ] ( متفق عليه ) وعن سهل بن أبي حثمة قال : نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن بيع التمر بالتمر إلا أنه رخص في العرية أن تباع بخرصها تمرا يأكلها أهلها رطبا 2838 - [ 5 ] ( متفق عليه ) وعن أبي هريرة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم أرخص في بيع العرايا بخرصها من التمر فيما دون خمسة أوسق أو خمسة أوسق شك داود ابن الحصين 2839 - [ 6 ] ( متفق عليه ) وعن عبد الله بن عمر : نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن بيع الثمار حتى يبدو صلاحها نهى البائع والمشتري . متفق عليه وفي رواية لمسلم : نهى عن بيع النخل حتى تزهو وعن السنبل حتى يبيض ويأمن العاهة 2840 - [ 7 ] ( متفق عليه ) وعن أنس قال : نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن بيع الثمار حتى تزهي قيل : وما تزهي ؟ قال : حتى تخمر وقال : أرأيت إذا منع الله الثمرة بم يأخذ أحدكم مال أخيه ؟

حضرت ابن عمر کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے مزابنہ سے منع فرمایا ہے اور مزابنہ یہ ہے کہ کوئی شخص اپنے باغ کا میوہ تازہ پھل اگر وہ کھجور ہو تو خشک کھجوروں کے بدلے پیمانہ کے ذریعہ مثلا دس پیمانے کے بقدر بیچے یعنی ایک شخص کے باغ میں تازہ کھجوریں لگی ہوئی ہوں اور ایک دوسرے شخص کے پاس خشک کھجوریں رکھی ہوئی ہوں تو باغ والا شخص اس دوسرے شخص سے دس پیمانے بھر کر خشک کھجوریں لے لے اور اس کے عوض اپنے درخت پر لگی ہوئی تازہ کھجوریں اسی پیمانے کے مطابق اندازہ کر کے بیچ دے اور اگر میوہ انگور ہو تو اس کو خشک انگور کے بدلے پیمانہ کے ذریعہ بیچے ( حاصل یہ کہ بیع مزابنہ کا مطلب ہے درخت پر لگے ہوئے تازہ میوہ کو خواہ وہ کھجور ہو یا کوئی اور پھل رکھے ہوئے خشک میوہ کے عوض بیچنا اور مسلم میں یہ بھی ہے کہ اگر کھیتی ہو تو اس میں بیع مزابنہ کی شکل یہ ہے کہ اس کو غلہ کے عوض پیمانہ کے ذریعہ بیچے یعنی کھیت میں کھڑی ہے اور ایک دوسرے شخص کے پاس گیہوں رکھا ہوا ہے تو پہلا شخص اپنے کھیت میں کھڑے ہوئے گیہوں کا اندازہ کر کے اس کو دوسرے شخص کے ہاتھ بیچے اور اس کے عوض اس شخص سے وہ رکھا ہوا گیہوں اپنے اندازے کے مطابق پیمانہ بھر کے لے لے آنحضرت ﷺ نے بیع کی ان تمام قسموں سے منع فرمایا ہے (بخاری ومسلم) اور بخاری ومسلم ہی کی ایک روایت میں یوں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے بیع مزابنہ سے منع فرمایا ہے نیز فرمایا کہ بیع مزابنہ یہ ہے کہ کوئی شخص اپنے درخت پر لگی ہوئی تازہ کھجوروں کو کسی شخص کو ہاتھ اس کے پاس رکھی ہوئی خشک کھجوروں کے عوض پیمانہ معین کرکے بیچے اور خریدار سے کہہ دے کہ اگر درخت کی کھجوریں معین پیمانہ سے زائد ہوں گی تو میری ہیں یعنی اسے لے لوں گا اور اگر کم نکلیں تو اس کا میں ذمہ دار ہوں کہ اس کمی کو میں پورا کروں گا۔ تشریح مزابنہ لفظ زبن سے مشتق ہے جس کے معنی ہیں دفع کرنا دور کرنا بیع مزابنہ سے اس لئے منع فرمایا گیا ہے کہ اس بیع کی بنیاد قیاس اور اندازے پر ہوتی ہے اس میں فریقین کے لئے زیادتی اور نقصان دونوں کا احتمال رہتا ہے اس کی وجہ سے دونوں یعنی بیچنے والے اور خریدار کے درمیان نزاع و فساد بھی پیدا ہوسکتا ہے اور آپس میں ایک دوسرے کے دفعیہ اور دوری کی نوبت بھی آسکتی ہے۔ یہاں دو روایتیں نقل کی گی ہیں ان دونوں میں فرق یہ ہے کہ پہلی روایت میں مزابنہ کی تعریف لفظ ثمر کے ذکر سے کی گئی ہے جو عمومیت کے لئے ہوئے ہے۔ دوسری روایت میں مزابنہ کی تعریف لفظ تمر کے ذکر سے کی گئی ہے جس سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ بیع مزابنہ کا تعلق صرف کھجور سے ہے حالانکہ ایسا نہیں ہے بلکہ دوسری روایت میں بھی عمومیت ہی مراد ہے خاص طور پر کھجور کا ذکر محض تمثیل ہے۔ حضرت جابر کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ مخابرۃ محاقلہ اور مزابنہ سے منع فرمایا ہے اور محاقلہ یہ ہے کہ کوئی شخص اپنی کھیتی کو سو فرق گیہوں کے بدلے میں بیچ دے اور مزابنہ یہ ہے کہ کوئی شخص درختوں پر لگی ہوئی کھجوروں کو سو فرق رکھی ہوئی کھجوروں کے بدلے میں بیچ دے اور مخابرۃ یہ ہے کہ کوئی شخص اپنی زمین کو ایک معین حصہ جیسے تہائی یا چوتھائی پر کاشت کے لئے دیدے (مسلم) تشریح فرق راء کے زبر کے ساتھ ایک پیمانہ کا نام تھا جس میں سولہ رطل یعنی تقریبا سات سیر غلہ آتا تھا اور فرق راء کے جزم کے ساتھ اس پیمانے کو کہتے تھے جس میں ایک سو بیس رطل غلہ آتا تھا حدیث میں سو فرق کا ذکر محض تمثیل کے طور پر آیا ہے مقصود تو صرف یہ بتانا ہے کہ کٹنے سے پہلے کھیت میں کھڑے ہوئے گیہوں کو رکھے ہوئے گیہوں کے عوض بیچنا محاقلہ کہلاتا ہے۔ یہی مفہوم گذشتہ حدیث میں مزابنہ کے ضمن میں بھی ذکر کیا جا چکا ہے لیکن مزابنہ وسیع وعام کا حامل ہے کہ اس کا اطلاق میووں اور پھلوں پر بھی آتا ہے اور کھیتی اور غلوں کے لئے بھی یہ لفظ استعمال ہوتا ہے جبکہ محاقلہ کا استعمال صرف کھیتی اور غلوں ہی کے لئے کیا جاتا ہے اگرچہ بعض مواقع پر مزابنہ بھی صرف میوؤں اور پھلوں ہی کے بارے میں استعمال ہوتا ہے۔ مخابرۃ کا مطلب ہے کہ اپنی زمین کو بٹائی پر کاشت کے لئے کسی دوسرے کو دیدینا مثلا کوئی شخص اپنی زمین کسی دوسرے کو اس شرط کے ساتھ دیدے کہ اس زمین کو جوتنا بونا اور جو کچھ اس میں پیدا ہو اس میں سے تہائی یا چوتھائی مجھے دیدینا۔ حدیث بالا میں اس کی بھی ممانعت فرمائی گئی ہے کیونکہ اول تو یہ اجرت کی ایک شکل ہوتی ہے اور اس میں اجرت مجہول رہتی ہے دوسرے حاصل ہونیوالی چیز معدوم ہوتی ہے اور جو چیز معدوم ہوتی ہے اس کا کوئی معاملہ مقرر نہیں ہوتا مخابرت کو مزارعت بھی کہتے ہیں لیکن ان دونوں میں فرق یہ ہے کہ مخابرت کی صورت میں تو تخم وبیج کاشت کرنیوالے کا ہوتا ہے اور مزارعت میں زمین کے مالک کا ٫ مزارعت اور مخابرت بھی حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کے نزدیک جائز نہیں ہے جیسا کہ مذکورہ بالا حدیث میں حکم ہے لیکن صاحبین یعنی حضرت امام ابویوسف اور حضرت امام محمد کے نزدیک درست ہے حنفی مسلک میں فتوی صاحبین ہی کے قول پر ہے کیونکہ یہ کثیر الوقوع اور بہت زیادہ احتیاج کی چیز ہے اس کو جائز نہ رکھنے کی صورت میں لوگوں کو بہت زیادہ پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اور حضرت جابر کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے محاقلت مزابنت مخابرت معاومت اور ثنیا سے منع فرمایا ہے لیکن آپ ﷺ نے عرایا کی اجازت دی ہے (مسلم) تشریح محاقلت مزابنت اور مخابرت کے معنی تو بیان کئے جا چکے ہیں معاومت کے معنی یہ ہیں کہ درختوں کے پھلوں کو نمودار ہونے سے پہلے ایک سال دو سال تین سال یا زیادہ مدت کے لئے فروخت کردیا جائے اور ثنیا کا مطلب یہ ہے کہ درختوں پر موجود پھلوں کو بیچا جائے لیکن ان میں سے ایک غیر معین مقدار مستثنی کرلی جائے یعنی اسے نہ بیچا جائے۔ عرایا جمع ہے عریت کی اور عریت کھجور کے اس درخت کو کہتے ہیں جسے اس کا مالک کسی محتاج و فقیر کو پھل کھانے کے لئے عاریتًا دیدے عرایا کی اجازت دی ہے کی وضاحت یہ ہے کہ بعض لوگ اپنے باغ میں سے ایک درخت یا دو درخت کسی محتاج کو پھل کھانے کے لئے دیدیا کرتے تھے جیسا کہ معمول تھا وہ باغ کا مالک اپنے اہل و عیال کے ساتھ جب باغ میں آتا ہے اور ان سب لوگوں کی موجودگی میں وہ محتاج آجاتا تو اپنے باغ میں ایک شخص کے آجانے کی وجہ سے ان کو کچھ کبیدگی ہوتی اس لئے اس محتاج کو وہ اس درخت کی بجائے اپنے پاس سے کچھ پھل دے کر رخصت کردیتے اور اس درخت کا پھل خود رکھ لیتے چناچہ آپ ﷺ نے اس کو روا رکھا لیکن یہ پانچ وسق سے کم میں تو جائز ہے اس سے زیادہ میں درست نہیں جیسا کہ آگے حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت میں آجائے گا۔ حضرت سہل ابن ابی حثمہ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے درخت پر لگی ہوئی کھجوروں کو خشک کھجوروں کے بدلے بیچنے سے منع فرمایا ہے لیکن آپ ﷺ نے عریہ کسی محتاج کو دئیے گئے درخت کے متعلق یہ اجازت دی ہے کہ اس درخت پر لگے ہوئے پھل کو اس کے خشک ہونے کے بعد کی مقدار کا اندازہ کر کے بیچا جائے یعنی یہ اندازہ کرلیا جائے کہ اس درخت پر لگی ہوئی تازہ کھجوریں خشک ہونے کے بعد کتنی رہیں گی اور پھر اتنی ہی مقدار میں خشک کھجوریں اس محتاج کو دے کر اس درخت پر لگی ہوئی کھجوریں لے لی جائیں اس طرح اس کے مالک اس درخت کا تازہ پھل کھائیں ( بخاری ومسلم)

2884Mishkaat-al-Masabih

بیع عرایا کا مسئلہ

وعن أبي هريرة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم أرخص في بيع العرايا بخرصها من التمر فيما دون خمسة أوسق أو خمسة أوسق شك داود ابن الحصين

حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے عاریتًا (محتاجوں کو عاریتا دئیے گئے درختوں کے پھلوں) کو خشک کھجوروں کے ساتھ اندازہ کر کے بیچنے کی اجازت دیدی ہے یعنی اگر عرایا پر لگی ہوئی کھجوروں کو خشک کھجوروں سے بدلنا ہو تو پہلے یہ اندازہ کرلیا جائے کہ یہ تازہ کھجوریں خشک ہونے کے بعد کتنی رہیں گی پھر اتنی ہی مقدار میں خشک کھجوریں لے کر وہ تازہ کھجوریں دیدی جائیں مگر اس اجازت کا تعلق اس صورت سے ہے جبکہ وہ پانچ وسق سے کم ہوں یہ حدیث کے ایک راوی داؤد ابن حصین کا شک ہے کہ آنحضرت ﷺ کے ارشاد میں پانچ وسق سے کم کا تذکرہ تھا یا پانچ وسق کا تذکرہ تھا (بخاری ومسلم) تشریح پانچ وسق سے کم کی قید اس لئے ہے کہ اس اجازت کا تعلق احتیاج اور ضرورت سے ہے اور احتیاج و ضرورت پانچ وسق سے کم ہی ہوتی ہے چناچہ عرایا کے پھلوں کی مذکورہ بالا بیع و تبادلہ پانچ وسق سے کم میں سب ہی علماء کے نزدیک جائز ہے پانچ وسق سے زیادہ میں جائز نہیں ہے البتہ پورے پانچ وسق کے بارے میں علماء کے اختلافی اقوال ہیں زیادہ صحیح قول عدم جواز ہی کا ہے کیونکہ بیان مقدار میں راوی نے شک کا اظہار کیا ہے لہذا ایسی صورت میں احتیاط کا تقاضہ یہی ہونا چاہئے کہ پانچ وسق سے کم مقدار پر عمل کیا جائے جو بہرحال متعین ہے اس بات میں علماء کے اختلافی اقوال ہیں کہ اس اجازت کا تعلق صرف محتاجوں ہی سے ہے یا اغنیاء سے بھی اس اجازت کے دائرہ میں آتے ہیں چناچہ زیادہ صحیح قول یہی ہے کہ یہ اجازت دونوں کے لئے ہے۔ وسق ایک پیمانہ کا نام ہے ایک وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے اور ایک صاع کے پیمانہ میں تقریبا سڑھے تین سیر غلہ آتا ہے انگریزی سیر کے اعتبار سے پانچ وسق تقریبا چھبیس من کا ہوتا ہے)

2885Mishkaat-al-Masabih

بیع ثمرخام کی ممانعت

وعن ابن عمر قال : كانوا يبتاعون الطعام في أعلى السوق فيبيعونه في مكانه فنهاهم رسول الله صلى الله عليه و سلم عن بيعه في مكانه حتى ينقلوه . رواه أبو داود ولم أجده في الصحيحين

حضرت عبداللہ بن عمر کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے پھلوں کو اس وقت تک بیچنے سے منع فرمایا ہے جب تک کہ ان کی پختگی ظاہر نہ ہوجائے یہ ممانعت بیچنے والے اور خریدنے والے دونوں کے لئے ہے ( بخاری ومسلم) مسلم کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ آپ ﷺ نے کھجوروں کے پھل اس وقت تک بیچنے سے منع فرمایا ہے کہ جب تک کہ وہ سرخ و زرد نہ ہوجائیں نیز آپ ﷺ نے کھیتی کے خوشوں کو اس وقت تک بیچنے سے منع فرمایا ہے جب تک کہ وہ پختہ نہ ہوجائیں اور کسی آفت سے محفوظ نہ ہوں۔ تشریح بیچنے والے کے لئے ممانعت اس لئے ہے کہتا کہ وہ خریدار کا مال بغیر کسی چیز کے عوض کے حاصل نہ کرے اور خریدار کے لئے ممانعت اس لئے ہے تاکہ وہ اپنے مال کے نقصان و تباہی میں مبتلا نہ ہو کیونکہ ہوسکتا ہے کہ وہ غیر پختہ وغیر تیار پھل خرید لے اور اس کی قیمت ادا کر دے مگر پھل تیار و پختہ ہونے سے پہلے ہی کسی آفت مثلا آندھی اور بارش وغیرہ کی وجہ سے ضائع ہوجائیں۔ حضرت انس کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے پھلوں کو درختوں پر اس وقت تک بیچنے سے منع فرمایا ہے جب تک کہ وہ خوش رنگ نہ ہوجائیں عرض کیا گیا کہ خوش رنگ ہونے کا کیا مطلب ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ جب تک وہ سرخ نہ ہوجائیں یعنی پک نہ جائیں اور پھر فرمایا کہ تم ہی بتاؤ جب اللہ تعالیٰ پھلوں کو پکنے سے روک دے تو تم میں سے کوئی کیونکر اپنے بھائی کا مال لے گا ( بخاری ومسلم) تشریح مطلب یہ ہے کہ پختہ و تیار ہونے سے پہلے پھلوں کی بیع میں اس بات کا خطرہ رہتا ہے کہ شاید کوئی آفت مثلًا آندھی وغیرہ آجائے اور پھل درختوں سے جھڑ کر ضائع ہوجائیں اس صورت میں بیچنے والا خریدار سے پھلوں کی قیمت کے طور پر جو کچھ لے گا وہ اسے بلا عوض اور مفت مل جائے گا لہذا یہ ضروری ہے کہ پھلوں کے پختہ و تیار ہونے تک صبر و انتظار کیا جائے جب وہ پک کر تیار ہوجائیں تو اس وقت خریدو فروخت کا کوئی معاملہ کیا جائے۔

2886Mishkaat-al-Masabih

پھلداردرختوں کو کئی سالوں کے لئے پیشگی بیچ ڈالنے کی ممانعت

وعن جابر قال : نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن بيع السنين وأمر بوضع الجوائح . رواه مسلم

حضرت جابر کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے چند سالوں کا پھل بیچنے سے منع فرمایا ہے یعنی ایک سال یا دو سال یا تین سال اور یا اس سے زائد سالوں کے لئے درختوں کا پھل پیشگی نہیں بیچنا چاہئے) نیز آپ ﷺ نے آفت زدہ کے ساتھ رعایت کرنے کا حکم دیا ہے ( مسلم) تشریح حدیث کے آخری جزء کا مطلب یہ ہے کہ مثلًا کسی شخص نے درخت پر لگے ہوئے پھل پختہ و تیار ہونے کے بعد خرید لئے مگر سوء اتفاق سے قبل اس کے کہ خریدار پھلوں کو اپنے تصرف میں لاتا کسی بھی وجہ سے وہ پھل جھڑ گئے اور ضائع ہوگئے اس صورت میں بیچنے والے کو چاہئے کہ اگر اس نے ابھی تک قیمت وصول نہیں کی ہے تو اس میں کچھ کمی کر دے اور اگر قیمت وصول کرلی ہے تو اس میں سے کچھ خریدار کو واپس کر دے اگرچہ بیع ہوچکی ہے اور قاعدہ کے اعتبار سے وہ اس کے لئے مجبور نہیں ہے چناچہ آنحضرت ﷺ کا اس بارے میں مذکورہ بالا حکم صرف استحباب کے لئے ہے اور اس کا مقصد آفت زدہ خریدار کے ساتھ ممکنہ رعایت کے لئے بیچنے والے کو ایک اخلاقی توجہ دلانا ہے ورنہ تو جہاں تک فقہی مسئلہ کا تعلق ہے یہ بات بالکل صاف ہے کہ خریدار کے قبضہ و ملکیت میں آجانے کے بعد مبیع خریدی ہوئی چیز کے ہر نفع و نقصان کا ذمہ دارخریدار ہی ہوتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ قبضہ میں آجانے کے بعد اگر مبیع کسی آفت کی وجہ سے ہلاک وضائع ہوجاتی ہے تو وہ خریدار ہی کا نقصان ہوتا ہے بیچنے والے پر اس کا کوئی بدلہ وغیرہ واجب نہیں ہوتا۔

2887Mishkaat-al-Masabih

ضائع ہوجانیوالی مبیع کا ذمہ دار کون ہے

وعنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لو بعت من أخيك ثمرا فأصابته جائحة فلا يحل لك أن تأخذ منه شيئا بم تأخذ مال أخيك بغير حق ؟ . رواه مسلم

حضرت جابر راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اگر تم نے اپنے مسلمان بھائی کے ہاتھ پھل بیچا اور کوئی ایسی آفت آئی کہ وہ پھل ضائع ہوگیا تو تمہارے لئے اس سے کچھ لینا حلال نہیں ہے ( تم خود سوچو کہ ایسی صورت میں) ایک بھائی کا مال ناحق کیسے لو گے) مسلم) تشریح ا یت (فلا یحل لک) اس سے کچھ بھی لینا حلال نہیں ہے یہ حکم اس صورت میں ہے جب کہ میع بالکلیۃ اور مطلقًا ضائع ہوجائے اور اگر کوئی ایسی آفت آئے کہ جس سے مبیع کا کچھ حصہ نقصان ہو تو اس صورت میں قیمت میں کچھ کمی کر دینی چاہئے جیسا کہ گذشتہ حدیث کی تشریح میں بتایا گیا ہے اس حدیث کے بارے میں بھی وہی تشریح سامنے رہنی چاہئے جو گذشتہ حدیث کے سلسلے میں گذری ہے چناچہ اس موقع پر حضرت ابن مالک نے بھی یہ وضاحت کی ہے کہ اگر مبیع خریدار کی سپردگی میں جانے سے پہلے ضائع ہوجائے تو اس کا نقصان بیچنے والے کو برداشت کرنا ہوگا اس صورت میں حدیث کی کوئی تاویل کرنے ہی کی ضرورت نہیں ہوگی اور اگر مبیع خریدار کی سپردگی و قبضہ میں جانے کے بعد ضائع ہو تو پھر کہا جائے گا کہ حدیث گرامی کے الفاظ اس سے کچھ بھی لینا حلال نہیں ہے کا مطلب یہ ہے کہ ازروئے تقوی وورع اور ازراہ اخلاق و احسان خریدار سے کچھ بھی لینا حلال (مناسب) نہیں ہے۔

2888Mishkaat-al-Masabih

بیع اشیاء منقولہ میں قبل قبضہ دوسری بیع جائز نہیں ہے

وعن ابن عمر قال : كانوا يبتاعون الطعام في أعلى السوق فيبيعونه في مكانه فنهاهم رسول الله صلى الله عليه و سلم عن بيعه في مكانه حتى ينقلوه . رواه أبو داود ولم أجده في الصحيحين

حضرت ابن عمر کہتے ہیں کہ بازار کے اس حصے میں جو جانب بلندی واقع تھا لوگ غلہ خریدتے اور پھر اس کی اسی جگہ قبضہ میں لینے سے پہلے بیچ ڈالتے تھے چناچہ آنحضرت ﷺ نے ان کو اس بات سے منع فرمایا کہ جب تک غلہ کو خریدنے کے بعد وہاں سے منتقل نہ کیا جائے اس کو اسی جگہ فروخت نہ کیا جائے اس روایت کو ابوداؤد نے نقل کیا اور مجھے یہ روای بخاری ومسلم میں نہیں ملی۔ تشریح وہاں سے منتقل نہ کیا جائے کا مطلب یہ ہے کہ جب تک اسے اپنے قبضہ میں نہ لے لیا جائے اور اشیاء منقولہ کا قبضہ میں لینا یہ ہے کہ اس کو خریدنے کے بعد اس کی جگہ سے اٹھا کر کسی دوسری جگہ رکھ دیا جائے چاہے وہ دوسری جگہ کتنی ہی قریب کیوں نہ ہو۔ یہ بات بھی ملحوظ رہے کہ اگر اس چیز کو پیمانے یا وزن کے ذریعے لیا ہے تو پیمانے میں نپوا کر یا وزن کرانے کے بعد ہی اسے اٹھائے اور اگر بلا پیمانہ و وزن لیا ہے تو پھر اس کے بغیر ہی اٹھا کر رکھ دے۔ حاصل یہ ہے کہ اگر کوئی شخص اشیاء منقولہ میں سے کوئی چیز خریدے اور پھر اسے کسی دوسرے کو فروخت کرنا چاہیے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ پہلے اس چیز کو اپنے قبضے میں لے اس کے بعد اسے فروخت کرے کیونکہ بیع اشیاء منقولہ میں قبل قبضہ دوسری بیع جائز نہیں ہے۔ صاحب مشکوۃ نے مجھے یہ روایت بخاری ومسلم میں نہیں ملی ہے۔ کے ذریعے دراصل صاحب مصابیح پر اعتراض کیا ہے کہ اس روایت کو پہلی فصل میں ذکر کیا گیا ہے جب کہ یہ روایت نہ تو بخاری میں ہے اور نہ مسلم میں بلکہ ابوداؤد میں ہے اس لئے یہ روایت قاعدہ کے اعتبار سے دوسری فصل میں نقل کی جانی چاہئے تھی۔ حضرت ابن عمر کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص غلہ خریدے تو اس کو اس وقت تک فروخت نہ کرے جب تک کہ اسے پوری طرح نہ لے لے اور حضرت ابن عباس کی روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ جب تک اس کو ناپ نہ لے (بخاری ومسلم) تشریح جب تک کہ اسے پوری طرح نہ لے لے کا مطلب یہ ہے کہ جب تک کہ اسے اپنے قبضہ میں نہ لے لے اس کی وضاحت گذشتہ حدیث کے ضمن میں کی جا چکی ہے اس موقع پر اس بارے میں فقہی اختلاف بھی جان لیجئے کہ حضرت امام شافعی اور حنفیہ میں سے حضرت امام محمد کے نزدیک کسی چیز کو خرید کر پھر اسے کسی دوسرے کے ہاتھ قبضہ سے پہلے بیچنا جائز نہیں ہے وہ چیز خواہ اشیاء منقولہ میں سے ہو جیسے غلہ وغیرہ یا عقار یعنی زمین ہو۔ حضرت امام مالک کے نزدیک قبل قبضہ صرف غلے کا بیچنا تو جائز نہیں ہے اور سب چیزوں کا بیچنا جائز ہے حضرت امام ابوحنیفہ اور حضرت امام ابویوسف کے ہاں قبل قبض عقار یعنی زمین کا بیچنا تو جائز ہے لیکن اشیاء منقولہ میں سے کسی بھی چیز کا بیچنا جائز نہیں ہے حضرت امام احمد کا مسلک بھی بظاہر یہی ہے۔ حضرت ابن عباس کی روایت کے الفاظ جب تک کہ اس کو ناپ نہ لے سے بعض علماء نے یہ استدلال کیا ہے کہ اگر بیچنے والا خریدار کے سامنے غلہ کو ناپ کر یا وزن کر کے دے تو یہ کافی نہیں ہے بلکہ خریدار کے لئے ضروری ہے کہ وہ اس کو اپنے قبضے میں لے لینے کے بعد پھر دوبارہ خود بھی ناپے یا وزن کرے لیکن اس بارے میں زیادہ صحیح بات یہی ہے کہ خریدار کے سامنے بیچنے والے کا ناپنا یا وزن کرنا کافی ہے کیونکہ خریدار کے سامنے بیچنے والے کا ناپنا یا وزن کرنا ایسا ہی ہے جیسا کہ خود خریدار ناپے یا وزن کرے۔ حضرت ابن عباس کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے جس چیز کو منع کیا ہے وہ غلہ ہے کہ اس کو قبضے میں لانے سے پہلے فروخت کرنا ممنوع ہے حضرت ابن عباس کہتے ہیں کہ میرا گمان ہے کہ اس بارے میں ہر چیز غلہ کی مانند ہے ( بخاری ومسلم) تشریح حضرت ابن عباس کے قول کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح غلہ کو قبل قبضہ بیچنا جائز نہیں ہے اسی طرح کسی بھی چیز کو اس وقت تک بیچنا جائز نہیں ہے جب تک کہ وہ قبضہ میں نہ آجائے یہ گویا حضرت ابن عباس کا اپنا گمان و خیال ہے کہ انہوں نے اس مسئلے میں غلے پر غیر غلے کو قیاس کیا ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ تم آگے جا کر غلہ وغیرہ لانے والے قافلے سے خریدو فروخت کے لئے نہ ملو اور تم میں سے کوئی شخص کسی کی بیع پر بیع نہ کرے اور نجش نہ کرو اور شہر کا آدمی کسی دیہاتی کا مال فروخت نہ کرے اور اونٹ وبکری کے تھنوں میں دودھ جمع نہ کرو اور اگر کوئی شخص ایسا جانور خریدے جس کے تھنوں میں دودھ جمع کیا گیا ہو تو دوھ دوہنے کے بعد اسے اس جانور کو رکھ لینے یا پھیر لینے کا اختیار ہوگا اگر اس کی مرضی ہو تو اس جانور کو رکھ لے اور مرضی ہو تو اس کو پھیر دے اور اس کے ساتھ ہی صاع (ساڑھے تین سیر) کھجوریں دیدے ( بخاری ومسلم) مسلم کی ایک روایت میں یوں ہے کہ جو شخص ایسی بکری خریدے جس کے تھنوں میں دودھ جمع کیا گیا ہو تو اس بکری کو رکھ لینے یا پھیر دینے کا تین دن تک اختیار رہتا ہے چناچہ اگر وہ ان تین دنوں میں اس بکری کو واپس کرے تو اس کے ساتھ ایک صاع کھجوریں دیدے مگر گیہوں نہ دے۔ تشریح پہلی ہدایت کا مطلب یہ ہے کہ مثلًا تمہیں معلوم ہو کہ بیوپاریوں کا کوئی گروہ غلہ وغیرہ لے کر شہر آ رہا ہے تو قبل اس کے کہ وہ بیوپاری شہر میں پہنچیں اور وہاں بازار کا بھاؤ وغیرہ معلوم کریں تم راستے میں جا کر ان سے خریدو فروخت کا کوئی معاملہ نہ کرلو یہ حکم آپ ﷺ نے اس لئے دیا کہ تاکہ ان بیوپاریوں اور تاجروں کو فریب دینے یا ان کو نقصان پہنچانے کا کوئی موقع پیدا نہ ہوجائے۔ تم میں سے کوئی شخص کسی کی بیع پر بیع نہ کرے یعنی دو شخصوں میں خریدو فروخت کا کوئی معاملہ ہو رہا ہو تو تم اس میں دخل نہ دو بایں طور کہ نہ تو چیز کے دام بڑھا کر یا کسی اور ذریعے سے اس کو خریدنے کا اظہار کہ اس میں خریدار کا نقصان ہوگا اور نہ اپنا مال دکھا کر کم قیمت پر اسے بیچو کہ اس میں بیچنے والے کو نقصان ہوگا یا مثلا اگر کوئی شخص کسی سے کوئی چیز بشرط خیار خریدے تو تم اس خریدار کے پاس جا کر یوں کہو کہ تم اس معاملے کو فسخ کر کے اسے واپس کردو میں ایسی ہی چیز تمہیں اس سے سستے داموں دیدوں گا اس طرح اپنے فائدے کے لئے کسی کا معاملہ بگاڑنا برا ہے اگر مقصد خود خرید نا یا خو بیچنا نہ ہو بلکہ محض معاملہ بگاڑنا ہی منظور ہو تو یہ بہت ہی برا ہے۔ بعض علماء کہتے ہیں کہ اس مخالفت کا تعلق اس چیز سے ہے کہ جس میں کوئی شرعی قباحت نہ ہو اور اگر کسی چیز میں کوئی شرعی قباحت ہو جیسے کوئی شخص کسی کو غبن یا چوری کا مال بیچتا ہو تو اس صورت میں معاملہ کو فسخ کرا دینا جائز ہے۔ نجش کے معنی ہیں رغبت دلانا اور فریب دینا اس کی صورت یہ ہے کہ دو شخصوں کے درمیان معاملہ ہو رہا ہو تو تیسرا شخص آکر اس چیز کی تعریف کرنے لگے جس کا معاملہ ہو رہا ہے یا اس چیز کی قیمت زیادہ لگا دے اور اس سے اس کا مقصد خریداری نہ ہو بلکہ منظور یہ ہو کہ خریدار میری دیکھا دیکھی اس چیز کی خریداری کی طرف زیادہ راغب ہوجائے یا اس چیز کی قیمت اور زیادہ لگا دے آنحضرت ﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے کیونکہ یہ اصل خریدار کو فریب میں مبتلا کرنے کی ایک بدترین صورت ہے۔ شہری آدمی کسی دیہاتی کا مال فروخت نہ کرے مثلا کوئی دیہاتی اپنا مال جیسے غلہ وغیرہ بازار کے بھاؤ فروخت کرنے کے لئے شہر لائے اور کوئی شہری اس سے آ کر یہ کہے کہ تم اپنا یہ مال میرے پاس چھوڑ جاؤ میں اس کو بڑی آسانی کے ساتھ گراں نرخ پر بیچ دوں گا اس سے آپ ﷺ نے اس لئے منع فرمایا ہے کہ اس میں مخلوق اللہ کو نفع سے باز رکھنا ہے چناچہ یہ حضرت امام شافعی کے نزدیک حرام ہے اور حنفی مسلک کے مطابق مکروہ ہے۔ اونٹ وبکری کے تھنوں میں دودھ جمع نہ کرو مثلا ایک شخص کے پاس دودھ والا کوئی جانور جیسے بکری وبھینس وغیرہ ہے وہ اس کو بیچنا چاہتا ہے اس جانور کی زیادہ قیمت وصول کرنے کے لئے وہ یہ کرتا ہے کہ بیچنے سے دو تین دن یا دو تین وقت پہلے اس جانور کا دودھ دوہتا نہیں بلکہ اس کے تھن میں چھوڑے رکتا ہے تاکہ تھن میں زیادہ دودھ جمع ہوجائے اور خریدار یہ سمجھ کر کہ یہ جانور زیادہ دودھ دینے والا ہے اس کی زیادہ قیمت دیدے اس سے آپ ﷺ نے اس لئے منع فرمایا کہ یہ فریب دہی کا معاملہ ہے اس ضمن میں آپ ﷺ نے جو مسئلہ بیان فرمایا اس کی وضاحت یہ ہے کہ اگر اور کوئی شخص ایسا جانور خرید لائے جس کا کئی دن یا کئی وقت کا دودھ اس کے تھن میں جمع رکھا گیا اور پھر اس کا دودھ دوہنے کے بعد معلوم ہو کہ یہ جانور کم دودھ دیتا ہے تو اسے اختیار حاصل ہوگا کہ چاہے تو اس جانور کو واپس کر دے اور چاہے رکھ لے مگر جب جانور کو واپس کرے تو اس کے ساتھ ایک صاع کھجوریں اس دودھ کے عوض میں دے جو اس نے دوہا ہے۔ اس موقع پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس دودھ کے عوض میں ایک صاع کھجوروں کا تعین کیوں کیا گیا ہے جب کہ اس دودھ ہی کو واپس کر دئیے یا اس دودھ کی قیمت دے دینے کا حکم بھی دیا جاسکتا تھا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ خریدار نے اس جانور کا جو دودھ دوہا ہے اس میں کچھ حصہ تو وہ ہوگا جو خریدار کی ملکیت میں آنے کے بعد جانور کے تھن میں پیدا ہوا ہے اور کچھ حصہ وہ ہے جو جانور کی خریداری کے وقت اس کے تھن میں تھا اور جانور کے ساتھ اس دودھ کی بھی بیع ہوئی تھی ظاہر ہے کہ اس صورت میں دودھ کے ان دونوں حصوں کا تعین و امتیاز ناممکن ہونے کی وجہ سے نہ تو دودھ واپس کیا جاسکتا ہے اور نہ اس کی قیمت ہی متعین کر کے دی جاسکتی ہے لہذا شارع نے اس کا حل یہ نکالا کہ طرفین میں فتنہ و فساد کے دفعیہ کے لئے شارع نے خون ناحق کی دیت یعنی قتل کا مالی معاوضہ ایک سو اونٹ مقرر کیا ہے حالانکہ مراتب و حیثیت کے اعتبار سے ہر جان اور ہر خون یکساں نہیں ہوتا لیکن اس بارے میں شریعت نے اس تفاوت کو بنیاد نہیں بنایا۔ اس حدیث پر امام شافعی نے عمل کیا ہے اور کہا ہے کہ اس طرح کے جانور کی بیع میں خیار (یعنی بیع کو فسخ کردینے یا باقی رکھنے کا اختیار) حاصل ہوتا ہے لیکن حضرت امام اعظم ابوحنیفہ نے کہا ہے کہ اس میں خیار نہیں ہے ان کے نزدیک حدیث میں مذکورہ بالا حکم متروک ہے وہ کہتے ہیں کہ یہ حکم ربا کے حرام ہونے سے پہلے تھا جب کہ معاملات میں اس قسم کی چیزیں جائز تھی اب یہ منسوخ ہوگیا ہے۔ حدیث کے آخری جملے ایک صاع غلہ دیدے مگر گیہوں نہ دے کے بارے میں علامہ ابن حجر شافعی کہتے ہیں کہا اس سے معلوم ہوا کہ جانور واپس کرتے ہوئے اس کے دودھ کے عوض میں کھجوروں کے علاوہ اور کچھ دینا جائز نہیں ہے اگرچہ بیچنے والا کوئی بھی چیز لینے پر راضی ہو اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اہل عرب کی غذا کا زیادہ تر تعلق کھجور اور دودھ ہی سے تھا اس لئے دودھ کی بجائے کھجور دینا مقرر کیا گیا لیکن بعض حضرات فرماتے ہیں کہ اگر بیچنے ولا راضی ہو تو کھجور کے علاوہ اور کوئی چیز بھی دی جاسکتی ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا تم آگے جا کر غلہ وغیرہ لانے والے قافلے سے نہ ملو اگر کوئی شخص جا کر ملا اور کچھ سامان خرید لیا اور پھر سامان کا مالک بازار میں آیا تو اس کو اختیار ہوگا (کہ چاہے بیع کو قائم رکھے چاہے فسخ کر دے) مسلم تشریح لفظ جلب اور لفظ رکبان جو گذشتہ حدیث میں منقول تھا دونوں کے ایک ہی معنی ہیں اور ان کی وضاحت گذشتہ حدیث کی تشریح میں کی جا چکی ہے۔ علماء لکھتے ہیں کہ اس ممانعت کا تعلق اس صورت میں ہے جب کہ آنیوالے بیوپاریوں سے راستے ہی میں خریداری کرنے کی وجہ سے اہل شہر کو نقصان وضرر پہنچے اور خریدار شہر وبازار کے نرخ کو پوشیدہ رکھ کر بیوپاریوں کو فریب دے اور اگر اہل شہر کو نقصان وضرر نہ ہو نیز نہ تو خریدار بیوپاریوں سے شہر کا نرخ چھپائے اور نہ ان کو فریب میں مبتلا کرے تو اس صورت میں یہ ممانعت نہیں ہوگی۔ حدیث میں جس اختیار کو ذکر کیا گیا ہے اس کے بارے میں شافعیہ تو یہ کہتے ہیں کہ جب مالک (یعنی باہر سے مال لانے ولا بیوپاری) شہر میں آئے اور اسے یہ معلوم ہو کہ خریدار نے اس شہر کی بنسبت سستا لیا ہے تو اس صورت میں اسے اختیار ہوگا کہ چاہے تو بیع کو فسخ کر کے اپنا مال واپس لے لے اور چاہے بیع کو باقی رکھے اور اگر اسے یہ معلوم ہو کہ خریدار نے شہر کے بھاؤ سے گراں لیا ہے یا شہر کے بھاؤ کے مطابق لیا ہے تو پھر اس صورت میں بیوپاری کو اختیار حاصل نہیں ہوگا۔ اس مسئلے میں فقہ حنفی کی کتابوں سے معلوم ہوتا ہے کہ بیوپاری کو یہ اختیار اسی وقت حاصل ہوگا جب کہ اسے شہر میں آنے کے بعد معلوم ہو کہ خریدار نے اس سے کھلا ہوا فریب کیا ہے اور اگر ایسا نہ ہو تو پھر اسے یہ اختیا رحاصل نہیں ہوگا۔ حضرت ابن عمر کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا سامان لانیوالوں سے ان کے شہر پہنچنے سے پہلے راستے ہی میں جا کر نہ ملو اور اس وقت تک ان سے کوئی معاملہ نہ کرو جب تک کہ ان کا سامان بازار میں آ کر اتر نہ جائے ( بخاری ومسلم)

2889Mishkaat-al-Masabih

کسی کے معاملہ میں اپنی ٹانگ نہ اڑاؤ

وعنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من ابتاع طعاما فلا يبيعه حتى يستوفيه

حضرت ابن عمر کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کوئی شخص اپنے مسلمان بھائی کی بیع پر بیع نہ کرے اور نہ کوئی شخص اپنے مسلمان بھائی کے نکاح کے پیغام پر اپنے نکاح کا پیغام بھیجے الاّ یہ کہ اس کو اس کی اجازت دیدی جائے ( مسلم) تشریح کوئی شخص اپنے بھائی کی بیع پر بیع نہ کرے کی وضاحت حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت نمبر 13 کے ضمن میں کی جا چکی ہے۔ حدیث کے دوسرے جزء کا مطلب یہ ہے کہ مثلا کسی شخص نے کسی عورت کے پاس اس سے اپنے نکاح کا پیغام بھیجا ہے تو اب کسی دوسرے مرد کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ بھی اس عورت کے پاس اپنا پیغام بھیج دے مگر یہ ممانعت اس صورت میں ہے کہ جب کہ طرفین مہر کی ایک معین مقدار پر راضی ہوگئے ہوں تمام معاملات طے ہوچکے ہوں اور صرف نکاح ہونا باقی رہ گیا ہو۔ حدیث کے آخری جزء کا مطلب یہ ہے کہ کسی کے معاملات خریدو فروخت یا پیغام نکاح میں مداخلت نہ کرنے کا حکم اسی وقت تک کے لئے ہے جب تک کہ فریقین معاملے کو ترک نہ کردیں مثلا اگر صاحب معاملہ یہ کہہ دے کہ میں یہ چیز نہیں خرید رہا ہوں نیز تم خرید لو یا اس عورت سے میں نکاح نہیں کروں گا تم اپنا پیغام بھیج دو تو اس صورت میں اس چیز کو خریدنا یا نکاح کا پیغام بھیجنا جائز ہوگا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کوئی شخص اپنے مسلمان بھائی کے سودے پر سودا نہ کرے یعنی کسی سے خریدو فروخت کا معاملہ ہو رہا ہو تو اس میں مداخلت نہ کرے اور چیز کے زیادہ دام نہ لگائے ( مسلم) تشریح یہ حکم اس صورت میں ہے جب کہ بیچنے والا اور خریدار دونوں کسی ایک قیمت پر راضی ہوگئے ہوں لہذا اب کسی اور کے لئے مناسب نہیں ہے کہ وہ اس چیز کو لینے کا ارادہ کرے اور زیادہ دام لگا کر ان کا معاملہ خراب کرے ایسا کرنا مکروہ ہے اگرچہ بیع صحیح ہوجائے گی۔ علامہ ابن حجر فرماتے ہیں کہ اس بارے میں مسلمان کے حکم میں ذمی (وہ غیر مسلم جو اسلامی سلطنت میں رہے اور جزیہ ادا کرے) معاہد ( جس سے کسی مسلمان کا معاہدہ ہو) اور مستامن ( جو کسی مسلمان کے زیرپناہ ہو) بھی داخل ہیں۔

2890Mishkaat-al-Masabih

شہری آدمی کسی دیہاتی کا مال فروخت نہ کرے

وعن جابر رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا يبع حاضر لباد دعوا الناس يرزق الله بعضهم من بعض . رواه مسلم

حضرت جابر کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا شہری آدمی دیہاتی کا مال فروخت نہ کرے لوگوں کو ان کے حال پر چھوڑ دو کہ اللہ تعالیٰ کسی کے ذریعہ کسی کو رزق پہنچاتا ہے (مسلم) تشریح حدیث کے آخری جملے کا مطلب یہ ہے کہ دیہاتیوں کو ان کے حال پر چھوڑ دو کہ وہ باہر سے غلہ لا شہر میں سستے داموں فروخت کریں اور اسطرح وہ اہل شہر کے رزق میں وسعت وفراخی کا باعث بنیں بقیہ حدیث کی وضاحت حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت کی تشریح میں کی جا چکی ہے۔

2891Mishkaat-al-Masabih

بیع بلا صورت ومنابذت کی ممانعت

وعن أبي سعيد الخدري قال : نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن لبستين وعن بيعتين : نهى عن الملامسة والمنابذة في البيع والملامسة : لمس الرجل ثوب الآخر بيده بالليل أو بالنهار ولا يقلبه إلا بذلك والمنابذة : أن ينبذ الرجل إلى الرجل بثوبه وينبذ الآخر ثوبه ويكون ذلك بيعهما عن غير نظر ولا تراض واللبستين : اشتمال الصماء والصماء : أن يجعل ثوبه على أحد عاتقيه فيبدو أحد شقيه ليس عليه ثوب واللبسة الأخرى : احتباؤه بثوبه وهو جالس ليس على فرجه منه شيء

حضرت ابوسعید خدری کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے دو طرح کے پہناوے سے اور دو طرح کی بیع سے منع کیا ہے وہ ملامست اور منابذت ہیں۔ ملامست یہ ہے کہ ایک شخص یعنی خریدار دوسرے شخص یعنی تاجر کے کپڑے کو جسے وہ لینا چاہتا ہے دن میں یا رات میں صرف ہاتھ سے چھو لے اسے کھول کر الٹ کر دیکھے نہیں اور اس کا یہ چھونا بیع کے لئے ہو اور منابذت یہ ہے کہ معاملہ کرنیوالوں میں سے ہر ایک اپنے کپڑے کو دوسرے کی طرف پھینک دے اور اس طرح بغیر دیکھے بھالے اور بغیر اظہار رضا مندی کے بیع ہوجائے اور جن دو طرح کے پہناوے سے منع فرمایا ہے ان میں سے ایک کپڑے کو (صماء) کے طور پر پہننا ہے اور (صماء) کا طریقہ یہ ہے کہ کوئی شخص اپنے ایک مونڈھے پر اس طرح کپڑا ڈال لے کہ اس کی دوسری سمت کہ جس پر کپڑا نہ ہو ظاہر وبرہنہ رہے اور دوسرا پہناوا جس سے منع کیا گیا ہے یہ ہے کہ کوئی شخص اپنے گرد اس طرح کپڑا لپیٹ لے کہ جب وہ بیٹھے تو اس کی شرم گاہ اس کپڑے سے بالکل عاری ہو (بخاری ومسلم) تشریح ملامست کا طریقہ یہ تھا کہ ایک شخص کوئی چیز مثلا کپڑا خریدنے جاتا تو کپڑے کو ہاتھ لگا دیتا کپڑے کو ہاتھ لگاتے ہی بیع ہوجاتی تھی نہ تو آپس میں قولی ایجاب و قبول ہوتا تھا کہ دکاندار تو یہ کہتا ہے کہ میں نے تمہارے ہاتھ یہ چیز بیچ دی اور خریدار یہ کہتا ہے کہ میں نے تم سے یہ چیز خرید لی اور نہ فعلی لین دین جسے اصطلاح فقہ میں تعاطی کہتے ہیں ہوتا تھا کہ دکاندار برضاء ورغبت خاموشی کے ساتھ وہ چیز دیتا اور خریدار اس کی قیمت ادا کردیتا بلکہ خریدار کا اس چیز کو ہاتھ سے چھو دینا ہی کافی سمجھا جاتا تھا۔ علامہ طیبی نے حدیث کے الفاظ (لا یقلبہ الا بذلک) ( اسے کھول الٹ کر دیکھے نہیں) کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ کپڑے کو علاوہ چھونے کے نہ الٹے نہ کھولے یعنی چاہئے تو یہ کہ کپڑے کو کھولا جائے اور اچھی طرح دیکھا بھالا جائے مگر بیع ملامست کرنیوالا نہ کھولتا تھا نہ اسے دیکھتا بھالتا تھا البتہ صرف اسے چھولیتا تھا ظاہر ہے کہ کسی چیز کو محض چھو لیا اس کو الٹ کھول کر دیکھنے بھالنے کا درجہ حاصل نہیں کرسکتا۔ بہرکیف ملامست ایام جاہلیت میں خرید فروخت کا ایک خاص طریقہ تھا کہ جہاں ایک نے دوسرے کے کپڑے کو ہاتھ لگایا بس بیع ہوگئی نہ وہ اس کو دیکھتے بھالتے تھے اور نہ شرط خیار کرتے تھے کہ اس کو دیکھنے کے بعد اگر چاہیں گے تو رکھ لیں گے انہیں تو واپس کردیں گے چونکہ یہ ایک بالکل غلط طریقہ تھا اس لئے آپ ﷺ نے اس سے منع فرمایا۔ منابذت کی صورت یہ ہوتی تھی کہ دونوں صاحب معاملہ نے جہاں آپس میں ایک دوسرے کی طرف کپڑا ڈالا بس بیع ہوگئی مبیع کو دیکھنے بھالنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے تھے۔ یہ بھی ایام جاہلیت میں رائج بیع کا ایک طریقہ تھا لہذا اس کی ممانعت بھی فرمائی گئی۔ (صماء) کے ایک معنی تو وہی ہیں جو ترجمے میں ظاہر کئے گئے لیکن اس کا زیادہ واضح اور مشہور مفہوم یہ ہے کہ کوئی شخص ایک کپڑا لے کر اسے سر سے پاؤں تک اپنے بدن پر اس طرح لپیٹ لے کہ دونوں ہاتھ بھی اس کے اندر لپٹے رہیں اور جسم کہیں سے کھلا نہ رہے ظاہر ہے کہ اس طرح آدمی بالکل مفلوج وناکارہ ہو کر رہ جاتا ہے اس لئے آنحضرت ﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے۔ دوسرا پہناوا جس سے آپ ﷺ نے منع فرمایا ہے یہ ہے کہ کوئی شخص کو لہوں پر بیٹھ جائے اور دونوں زانوں کو کھڑا کرے اور پھر اپنے زانوں اور کمر کے گرد کوئی کپڑا اس طرح لپیٹ لے کہ ستر کھلا رہے آپ ﷺ نے اس سے اس لئے منع فرمایا کہ اس میں ستر کی پردہ پوشی نہیں ہوتی چناچہ اگر کوئی شخص مذکورہ بالا صورت میں اس طرح کپڑا لپیٹے کہ اس کا ستر چھپا رہے تو پھر یہ ممانعت نہیں رہے گی۔ بطور نکتہ ایک بات ذہن میں رہے کہ زانوں کے گرد ہاتھوں کا حلقہ بنا کر بیٹھنا مسنون ہے۔

2892Mishkaat-al-Masabih

بیع حصاۃ اور بیع غرر کی ممانعت

وعن أبي هريرة قال : نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن بيع الحصاة وعن بيع الغرر . رواه مسلم

حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بیع حصات اور بیع غرر سے منع فرمایا ہے۔ تشریح بیع حصات کی صورت یہ ہے کہ خریدار دکاندار سے کہے کہ جب میں تیری اس چیز یعنی مبیع پر کنکری مار دوں تو سمجھ لینا کہ بیع واجب ہوگی یا دکاندار خریدار سے کہے کہ میں نے اپنی چیزوں میں سے وہ چیز تمہیں بیچی جس پر تمہاری پھینکی ہوئی کنکری آ کر گرے یا میں نے یہ زمین وہاں تک تمہارے ہاتھ فروخت کی جہاں تک تمہاری پھینکی ہوئی کنکری جا کر گرے بیع کا یہ طریقہ ایام جاہلیت میں رائج تھا آپ ﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے۔ بیع غرر اس بیع کو کہتے ہیں جس میں مبیع یعنی بیچی جانیوالی چیز مجہول یا بیچنے والے کے قبضہ وقدرت سے باہر ہو جیسے اس مچھلی کو بیچنا جو دریا میں ہو یا ہوا میں اڑتے ہوئے جانور اور مفرور غلام کو بیچنا۔

2893Mishkaat-al-Masabih

بیع حبل الحبلہ کی ممانعت

وعن ابن عمر قال : نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن بيع حبل الحبلة وكان بيعا يتبايعه أهل الجاهلية كان الرجل يبتاع الجزور إلى أن تنتج الناقة ثم تنتج التي في بطنها

حضرت ابن عمر کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے بیع حبل الحبلہ یعنی جانور کا حمل بیچنے سے منع فرمایا ہے حضرت ابن عمر کہتے ہیں کہ بیع حبل الحبلہ ایام جاہلیت میں رائج ایک بیع تھی جس کی صورت یہ ہوتی تھی کہ کوئی شخص اس وقت تک کے وعدے پر اونٹنی خریدتا تھا جب تک کہ اس کے پیٹ سے بچہ پیدا ہو اور پھر اس بچے کے پیٹ سے بچہ پیدا ہو یعنی وہ اس وعدے پر اونٹنی خریدتا تھا کہ جب اس اونٹنی کے پیٹ سے پیدا ہونیوالے بچے کے پیٹ سے بچے پیدا ہوگا تب اس کی قیمت ادا کروں گا (بخاری ومسلم) تشریح جانور کے حمل کے حمل کی بیع کا مطلب یہ ہے کہ مثلا ایک اونٹنی کے پیٹ میں بچہ ہے اب اس کا مالک اس طرح خریدار سے معاملہ کرے کہ اس اونٹنی کے پیٹ سے جو اونٹنی پیدا ہوگی اور وہ اونٹنی جو بچہ دے گی اس کی بیع کرتا ہوں اس سے آنحضرت ﷺ نے منع فرمایا ہے کیونکہ یہ ایک معدوم چیز یعنی اس بچہ کی بیع ہے جو ابھی پیدا ہی نہیں ہوا ہے ظاہر ہے کہ جب کسی جانور کے حمل ہی کو بیچنا جائز نہیں ہے تو اس بچہ کی بیع کیسے جائز ہوسکتی ہے جو اس حمل کے حمل سے پیدا ہوگا۔ بعض حضرات کے نزدیک بیع حبل الحبلہ کا مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص اپنی حاملہ اونٹنی کو اس وعدے پر بیچے کہ اس کی قیمت اس وقت ادا ہوگی جب وہ بچہ جنے گی۔ حضرت ابن عمر نے یہی مطلب مراد لیا ہے جیسا کہ روایت کے آخر میں (وکان مبیعا) الخ سے انہوں نے خود اس کی وضاحت کی ہے

2894Mishkaat-al-Masabih

نرکو مادہ پر چھوڑ نے کی اجرت لینے ممانعت

وعنه قال : نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن عسب الفحل . رواه البخاري

حضرت ابن عمر کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے نر کو مادہ پر چھوڑنے کی اجرت وصول کرنے سے منع فرمایا ہے۔ تشریح نر جانور خواہ اونٹ ہو خواہ گھوڑا اور خواہ کوئی اور جانور اس کو مادہ پر چھوڑنے کے لئے کسی کو دینا اور اس کی اجرت وصول کرنا منع ہے کیونکہ اس میں ایک ایسے کام کی اجرت وصول کرنا لازم آتا ہے جس کا وقوع پذیر ہونا متیقن نہیں ہوتا بایں طور کہ نر جانور کبھی تو جست کرجاتا ہے اور کبھی جست نہیں کرتا اسی طرح مادہ کبھی تو بار آور ہوتی ہے اور کبھی نہیں اسی لئے اکثر صحابہ اور فقہاء نے اسے حرام قرار دیا ہے ہاں نر جانور کو مادہ پر جست کرنے کے لئے عاریۃً دینا مستحب ہے البتہ عاریۃ دینے کے بعد اگر مادہ کا الگ اپنی طرف سے اسے کچھ بطریق انعام دے تو اس کو قبول کرلینا درست ہے۔

2895Mishkaat-al-Masabih

پانی بیچنے کی ممانعت

وعن جابر : قال : نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن بيع ضراب الجمل وعن بيع الماء والأرض لتحرث . رواه مسلم

حضرت جابر کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے اونٹ کو جفتی کے لئے کرایہ پر دینے اور پانی و زمین کو کاشت کے لئے بیچنے سے منع فرمایا ہے (مسلم) تشریح زمین وپانی کو کاشت کے لئے بیچنے کا مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص اپنی زمین اور وہ پانی جو اس زمین سے متعلق ہو کسی شخص کو اس شرط کے ساتھ دے کہ یہ زمین پانی تو میرا ہے اور تخم اور محنت تمہاری ہے زمین کو جو تو بوؤ اس میں سے جو کچھ پیدا ہوگا اس کا اتنا حصہ مثلا تہائی یا چوتھائی میں لے لوں گا اس کو مخابرت کہتے ہیں۔ مخابرت کے بارے میں تفصیلی حکم حضرت جابر کی گذشتہ روایت نمبر 2 کی تشریح میں بیان کی جا چکا ہے

2896Mishkaat-al-Masabih

ضرورت سے زائد پانی کو بیچنے کی ممانعت

وعنه قال : نهى رسول الله عن بيع فضل الماء . رواه مسلم

حضرت جابر کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے اپنی ضرورت سے زائد پانی کو بیچنے سے منع فرمایا ہے (مسلم) تشریح یعنی اگر کسی شخص کی ملکیت میں اتنا پانی ہو تو جو اس کی ضروریات کو پورا کرنے کے بعد بچ جائے اور دوسرے لوگ اس کے حاجت مند ہوں تو اس بچے ہوئے پانی کو روکا اور ضرورت مند لوگوں کے ہاتھ بیچنا جائز نہیں ہے بلکہ وہ پانی انہیں مفت ہی دیدینا چاہئے لیکن یہ حکم اس صورت میں ہے جب کہ ان لوگوں کی ضرورت کا تعلق اس پانی کو خود پینے یا جانوروں کو پلانے سے ہو اگر کوئی شخص اپنے کھیتوں یا درختوں کو سیراب کرنے کے لئے وہ پانی چاہے تو پھر مالک کے لئے جائز ہے کہ وہ اس پانی کو بغیر معاوضے کے نہ دے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اپنی ضرورت سے زائد پانی کو نہ بیچو کہ اس کی وجہ سے گھاس کا بکنا لازم آئے (بخاری ومسلم) تشریح پانی کے بیچنے سے گھاس کا بکنا اس طرح لازم آتا ہے کہ مثلًا ایک شخص کسی دوسرے شخص کے پانی کے گرد اپنے جانوروں کو چرائے اور ظاہر ہے کہ وہ جانور چرنے کے بعد پانی ضرور پئیں گے لیکن چونکہ پانی کا مالک کسی دوسرے کے جانوروں کو بلا قیمت پانی پینے نہیں دیتا اس لئے لا محالہ وہ شخص اس بات کے لئے مجبور ہوگا کہ پانی خریدے اور اپنے جانوروں کو پلائے اس طرح پانی کا بیچنا دراصل گھاس کا بیچنا ہوگا اور یہ معلوم ہی ہے کہ گھاس بیچنی جائز نہیں ہے۔ علماء کا اس بارے میں اختلاف ہے کہ یہ ممانعت آیا تحریمی ہے یا تنزیہی بعض تو تحریمی کے قائل ہیں اور بعض تنزیہی کے لیکن زیادہ صحیح یہی ہے کہ یہ ممانعت تنزیہی ہے۔

2897Mishkaat-al-Masabih

فریب دیہی سے بچو

وعنه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم مر على صبرة طعام فأدخل يده فيها فنالت أصابعه بللا فقال : ما هذا يا صاحب الطعام ؟ قال : أصابته السماء يا رسول الله قال : أفلا جعلته فوق الطعام حتى يراه الناس ؟ من غش فليس مني . رواه مسلم

حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول کریم ﷺ ایک ڈھیر کے پاس سے گزرے اور اپنا ہاتھ اس ڈھیر میں داخل کیا تو آپ ﷺ کی انگلیوں کو کچھ تری محسوس ہوئی آپ ﷺ نے فرمایا اے غلے کے مالک یہ تری کیسی ہے؟ یعنی ڈھیر کے اندر یہ تری کہاں سے پہنچی اور تم نے غلہ کو تر کیوں کیا؟ اس نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ اس تک بارش کا پانی پہنچ گیا تھا (جس کی وجہ سے غلہ کا کچھ حصہ تر ہوگیا ہے میں نے قصدًا تر نہیں کیا ہے) آپ ﷺ نے فرمایا تو پھر تم نے غلہ کو اوپر کی جانب کیوں نہیں رکھا تاکہ لوگ اس کو دیکھ لیتے اور کسی فریب میں مبتلا نہ ہوتے) یاد رکھو جو شخص فریب دے وہ مجھ سے نہیں (یعنی میرے طریقہ پر نہیں ہے) مسلم

2898Mishkaat-al-Masabih

بیع ثنیا کی ممانعت

عن جابر قال : إن رسول الله صلى الله عليه و سلم نهى عن الثنيا إلا أن يعلم . رواه الترمذي

حضرت جابر کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے بیع ثنیا یعنی استثناء کرنے سے منع فرمایا ہے الاّ یہ کہ مقدار متعین کردی جائے ( ترمذی) تشریح کوئی شخص اپنی کوئی چیز کسی کو بیچتے وقت یہ کہے کہ میں نے یہ چیز تمہارے ہاتھ بیچی مگر اس میں سے کچھ حصہ میں نے نہیں بیچا پس مبیع میں سے کچھ حصہ کا استثناء کرنا ثنیا کہلاتا ہے شارع نے اس سے منع فرمایا ہے کیونکہ اس میں مقدار معین نہیں ہوتی ہاں اگر مبیع کی کوئی مقدار معین کر کے مستثنی کی جائے مثلا بیچنے والا اس طرح کہے کہ میں نے تمہیں یہ چیز فروخت کی مگر اس کی اتنی مقدار جیسے چوتھائی یا تہائی اور یا اتنے سیر اتنے من میں نے اپنے لئے مستثنی کرلیا ہے جو فروخت نہیں کر رہا ہوں تو یہ جائز ہے۔

2899Mishkaat-al-Masabih

پھل اور کھیتی پکنے کے بعد ہی فروخت کی جائے

وعن أنس رضي الله عنه قال : نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن بيع العنب حتى يسود وعن بيع الحب حتى يشتد هكذا . رواه الترمذي وأبو داود عن أنس . والزيادة التي في المصابيح وهو قوله : نهى عن بيع التمر حتى تزهو إنما ثبت في روايتهما : عن ابن عمر قال : نهى عن بيع النخل حتى تزهو وقال الترمذي : هذا حديث حسن غريب

حضرت انس کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے انگور کو اس وقت تک بیچنے سے منع فرمایا ہے جب تک کہ وہ سیاہ نہ ہوجائے یعنی پک نہ جائے) اسی طرح آپ ﷺ نے غلہ کو بھی اس وقت تک بیچنے سے منع فرمایا ہے جب تک کہ وہ سخت نہ ہوجائے (یعنی قابل انتفاع نہ ہوجائے) اس روایت کو ترمذی اور ابوداؤد نے حضرت انس ؓ سے اسی طرح نقل کیا ہے اور صاحب مصابیح نے اس روایت میں یہ الفاظ آپ ﷺ نے کھجور کو اس وقت تک بیچنے سے منع فرمایا ہے جب تک کہ وہ خوش رنگ نہ ہوجائے جو مزید نقل کئے ہیں وہ ترمذی و ابوداؤد میں حضرت انس ؓ سے منقول نہیں ہیں بلکہ حضرت ابن عمر سے منقول ہیں اور وہ بھی اس طرح ہیں کہ حضرت ابن عمر نے کہا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے کھجور کو اس وقت تک بیچنے سے منع فرمایا ہے جب تک کہ وہ خوش رنگ نہ ہوجائے امام ترمذی نے کہا ہے کہ یہ حدیث حسن غریب ہے۔ تشریح روایت کے آخر میں مشکوۃ کے مؤلف نے مصابیح کے مؤلف حضرت امام بغوی پر دو اعتراض وارد کئے ہیں اول تو یہ کہ روایت میں مذکورہ بالا مزید الفاظ کا ناقل انہوں نے حضرت انس کو بتایا ہے جب کہ یہ الفاظ حضرت ابن عمر سے منقول ہیں دوم یہ کہ انہوں نے ان مزید الفاظ میں بیع التمر نقل کیا ہے جب کہ اصل روایت میں بیع النخل ہے۔

2900Mishkaat-al-Masabih

ادھار کو ادھار کے ساتھ بیچنے کی ممانعت

وعن ابن عمر : أن النبي صلى الله عليه و سلم نهى عن بيع الكالئ بالكالئ . رواه الدارقطني

حضرت ابن عمر کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے ادھار کو ادھار کے ساتھ بیچنے سے منع فرمایا ہے (رواہ الدارقطنی) تشریح لفظ کا لئی ہمزہ کے ساتھ بھی لکھا پڑھا جاتا ہے اور بغیر ہمزہ یعنی کالی بھی استعمال ہوتا ہے دونوں کلاء سے مشتق ہیں جس کے معنی ہیں تاخیر یا ادھار۔ ادھار کو ادھار کے ساتھ بیچنے کی صورت یہ ہے کہ مثلا ایک شخص کسی سے کوئی چیز ایک متعین مدت کے وعدے پر خریدے اور یہ طے ہوجائے کہ خریدار اس چیز کی قیمت جب اگلے ماہ کی فلاں تاریخ کو ادا کرے گا تو بیچنے والا وہ چیز اسے دیدے گا مگر جب وہ متعین تاریخ آجائے اور اس وقت بھی خریدار قیمت ادا کرنے پر قادر نہ ہو تو بیچنے والے سے یہ کہے کہ اب اس چیز کو ایک اور مدت کے لئے کچھ زیادہ قیمت پر فروخت کردو مثلًا اس نے وہ چیز دس روپے میں خریدی تھی اب یہ کہے کہ اسی چیز کو گیارہ روپے میں بیچ دو میں اگلے ماہ کی فلاں تاریخ کو گیارہ روپے ادا کر دوں گا بیچنے والا کہے کہ میں نے بیچ دی اس طرح یہ معاملہ آپس کے قبضہ کے بغیر طے ہوجائے کہ نہ تو بیچنے والا مبیع دے اور نہ خریدار اس کی قیمت ادا کرے بلکہ مبیع بیچنے والے کے پاس رہے اور قیمت خریدار کے پاس اور خریدو فروخت کا معاملہ طے ہوجائے اس طرح کی بیع کرنے سے آپ ﷺ نے منع فرمایا کیونکہ یہ ایک ایسی بیع ہے جس میں قبضہ حاصل نہیں ہوتا۔ بعض حضرات نے اس کی ایک دوسری صورت یہ بیان کی ہے کہ مثلا عمرو کے پاس زید کا ایک کپڑا ہے اور عمرو ہی کے ذمہ بکر کے دس روپے ہیں اب زید بکر سے یہ کہے کہ عمرو کے پاس میرا جو کپڑا ہے اسے میں تمہارے ہاتھ ان دس روپوں کے عوض کہ جو تہمارے عمرو کے ذمہ ہیں بیچتا ہوں میں عمرو سے دس روپے لے لوں گا تم اس سے کپڑا لے لینا اور بکر کہے کہ مجھے یہ منظور ہے یہ بیع بھی ناجائز ہے کیونکہ اس میں بھی قبضہ حاصل نہیں ہوتا۔

2901Mishkaat-al-Masabih

بیعانہ یا سائی کا مسئلہ

وعن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده قال : نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن بيع العربان . رواه مالك وأبو داود وابن ماجه

حضرت عمرو بن شعیب اپنے والد اور وہ اپنے دادا سے نقل کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے بیع عربان سے منع فرمایا ہے (مالک ابوداؤد ابن ماجہ) تشریح بیع عربان کی وضاحت یہ ہے کہ مثلًا ایک شخص کسی سے کوئی چیز خریدے اور بیچنے والے کو کچھ رقم پیشگی دیدے اور یہ طے کر دے کہ اگر یہ معاملہ مکمل ہوگیا تو یہ رقم قیمت میں مجرا ہوجائے گی اور اگر معاملہ نہ ہوا بایں طور کہ میں پوری قیمت ادا کر کے اس چیز کو اپنے قبضے میں نہ لے سکا تو پھر یہ رقم تمہارے ہی پاس رہے گی میں اسے واپس نہ لوں گا اسے ہماری زبان میں بیعانہ یا سائی کہتے ہیں۔ آپ ﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے کیونکہ شرعی طور پر یہ بیع باطل ہے لیکن حضرت ابن عمر اور امام احمد اس کے جواز کے قائل ہیں حنفیہ کے ہاں یہ اس صورت میں جائز ہے جب کہ یہ طے ہو کہ اگر معاملہ مکمل ہوجائے تو وہ رقم بیچنے والے کا حق ہو بایں طور کہ وہ قیمت میں مجرا ہوجائے اور اگر معاملہ مکمل نہ ہوا تو پھر وہ خریدار ہی کا حق رہے کہ وہ رقم اسے واپس مل جائے۔