وعن عبد الله بن حنظلة غسيل الملائكة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : درهم ربا يأكله الرجل وهو يعلم أشد من ستة وثلاثين زنية . رواه أحمد والدراقطني وروى البيهقي في شعب الإيمان عن ابن عباس وزاد : وقال : من نبت لحمه من السحت فالنار أولى به
حضرت عبداللہ بن حنظلہ غسیل الملائکہ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا سود کا ایک درہم یہ جاننے کے باوجود کھانا کہ یہ سود ہے چھتیس مرتبہ زنا کرنے سے بھی زیادہ بڑا گنا ہے (احمد دارقطنی) اس روایت کو بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے نیز بیہقی نے اس روایت میں حضرت ابن عباس کے یہ الفاظ بھی نقل کئے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ جس شخص کا گوشت حرام مال سے پیدا ہوا ہو (یعنی جس شخص کی جسمانی نشو و نما حرام مال مثلًا سود و رشوت وغیرہ سے ہوئی ہو وہ شخص دوزخ ہی کے لائق ہے۔
تشریح
جس طرح مذکورہ بالا وعید اس شخص کے بارے میں فرمائی گئی ہے جو سود کا مال یہ جاننے کے باوجود کھائے کہ یہ مال سودی ذریعے سے حاصل شدہ ہے اسی طرح اس وعید کا تعلق اس شخص سے بھی ہے جس نے لاعلمی میں سود کا مال کھایا بشرطیکہ اس لاعلمی میں خود اس کی اپنی کوتاہی یا لاپرواہی کا دخل ہو۔ علماء کہتے ہیں کہ سود کھانے کے گناہ کو زنا کے گناہ سے بھی زیادہ سخت اور بڑا گناہ اس لئے کہا گیا ہے کہ سود کھانے والے کے حق میں اللہ تعالیٰ نے جتنی سخت اور غضب ناک تنبیہہ فرمائی ہے اتنی سخت اور غضب ناک تنبیہہ زنا کی کسی بھی گناہ کے بارے میں نہیں فرمائی ہے چناچہ سود کھانے والوں کو اللہ تعالیٰ نے یوں متنبہ کیا ہے ا یت (فاذنوا بحرب من اللہ ورسول) اعلان جنگ سن لو اللہ اور اس کے رسول کا یہ بات ہر ذی شعور شخص جانتا ہے کہ کسی کے خلاف اعلان جنگ کا کیا مطلب ہوتا ہے ظاہر ہے کہ اللہ اور اس کا رسول جس شخص کے خلاف اعلان جنگ کرے یا جو شخص اللہ اور اس کے رسول سے برسر جنگ ہو اس کی محرومی شقاوت بدبختی اور دنیا وآخرت کی مکمل تباہی و بربادی کا کیا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ علماء یہ بھی لکھتے ہیں کہ سود کھانے والے کے حق میں اتنی سخت وعید اور اتنی شدید وغضب ناک تنبیہہ کا سبب یہ ہے کہ سود کے بارے میں عملی طور پر ہی گمراہی کا صدور نہیں ہوتا بلکہ سود کی پہچان مشکل ہونے کی وجہ سے عموماً اعتقادی گمراہی میں بھی لوگ مبتلا ہوتے ہیں جس کا تنیجہ یہ ہوتا ہے کہ اکثر لوگ سود کو حرام بھی نہیں سمجھتے بلکہ ان کے ذہن وفکر اور قلب و دماغ پر گمراہی وکجروی کی اتنی ظلمت چھائی ہوئی ہے کہ وہ سود کو حلال سمجھتے ہیں اور یہ معلوم ہی ہے کہ سود کی حرمت کا اعتقاد رکھتے ہوئے اس کا مرتکب ہونا عملی گمراہی یعنی گناہ کبیرہ ہے جس پر معافی بھی ممکن ہے مگر سود کی حرمت کا اعتقاد نہ رکھنا بلکہ اس کو حلال سمجھنا اعتقادی گمراہی وکجروی ہے جس کا آخری نتیجہ کفر ہے اور اس کی معافی و بخشش ناممکن ہے جبکہ زنا ایک فعل ہے جس کی حرمت و برائی سے کوئی بھی انکار نہیں کرتا جو شخص اس فعل میں مبتلا ہوتا ہے وہ بھی اس کی برائی کا بہرصورت اعتقاد رکھتا ہے یہاں تک کہ اسلام ہی نہیں بلکہ دنیا کے ہر مذہب وفرقے میں زنا ایک برائی ہی تصور کی جاتی ہے کوئی بھی اسے جائز اور حلال نہیں سمجھتا۔ اب رہی یہ بات کہ چھتیس کا عدد بطور خاص کیوں ذکر کیا گیا ہے تو ہوسکتا ہے کہ اس کا مقصد محض سود کی حرمت کی اہمیت جتانا ہے یا اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا سود کے گناہ کے ستر درجے ہیں اور ان میں جو سب سے ادنیٰ درجہ ہے وہ ایسا جیسا کہ کوئی شخص اپنی ماں سے صحبت کرے۔ حضرت ابن مسعود کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا سود (سے حاصل شدہ مال خواہ کتنا ہی زیادہ ہو مگر آخر کار اس میں کمی یعنی بےبرکتی آجاتی ہے ان دونوں روایتوں کو ابن ماجہ نے اور شعب الایمان میں بیہقی نے نقل کیا ہے نیز دوسری روایت کو امام احمد نے بھی نقل کیا ہے۔ تشریح سودی ذرائع سے حاصل ہونیوالا مال بظاہر تو بہت زیادہ محسوس ہوتا ہے مگر چونکہ سودی مال میں خیر و برکت کا کوئی جزء نہیں ہوتا اس لئے انجام کار وہ مال اس طرح تباہ و برباد اور ختم ہوجاتا ہے کہ اس کا نام ونشان تک باقی نہیں رہتا یہ محض ایک وعیدی بات نہیں ہے بلکہ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جو روزانہ نظروں کے سامنے آتی رہتی ہے چناچہ اسی حقیقت کو قرآن کریم نے بھی ان الفاظ میں واضح کیا ہے ا یت (يَمْحَقُ اللّٰهُ الرِّبٰوا وَيُرْبِي الصَّدَقٰتِ ) 2۔ البقرۃ 276) اللہ تعالیٰ سود کو مٹا دیتا ہے اور صدقات کو بڑھا دیتا ہے اس آیت کا مطلب یہی ہے کہ انسان جو مال سود کے ذریعے حاصل کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے نیست ونابود کردیتا ہے مگر انسان اپنی جائز محنت و حلال ذریعہ سے جو مال کما کر اسے اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتا ہے اسے اللہ تعالیٰ بڑھا دیتا ہے گویا اس آیت میں سود اور صدقہ کو ایک ساتھ ذکر کر کے جہاں یہ واضح کیا گیا ہے کہ ان دونوں کی حقیقت میں تضاد ہے وہیں ان دونوں کے متضاد نتائج کی نشان دہی بھی کی گئی ہے چناچہ ان دونوں کی حقیقت میں تضاد تو یہ ہے کہ صدقہ میں بغیر کسی معاوضے اور بغیر کسی لالچ کے انسان اپنا مال محض اللہ کی خوشنودی کے لئے دوسروں کو دیتا ہے جبکہ سود میں بغیر کسی معاوضہ کے انسان محض مال وزر کی ہوس اور دولت کی فراوانی کے جذبے کے تحت دوسرے سے مال حاصل کرتا ہے اس طرح دونوں کاموں کے کرنے والوں کی نیت اور غرض بالکل جدا جدا ہوتی ہے کہ صدقہ کرنیوالا محض اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور آخرت کے ثواب کے لئے اپنے مال کو ختم کرنے یا کم کرنے کا فیصلہ کر کے ایک زبردست ایثار کرتا ہے اور سود لینے والا محض دنیاوی حرص وطمع کی بناء پر اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے غصہ و ناراضگی سے بالکل بےپرواہ ہو کر اپنے موجودہ مال میں ناجائز زیادتی کا خواہش مند ہوتا ہے یہ تو سود اور صدقہ کی حقیقت کا تضاد تھا دونوں کے نتائج کا تضاد یہ ہے کہ جو مال اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کی پرواہ کئے بغیر ناجائز طریقے یعنی سود سے حاصل کیا جاتا ہے اسے اللہ تعالیٰ مٹا دیتا ہے یا اس میں سے برکت اٹھا لیتا ہے اس کے برخلاف جو شخص اللہ تعالیٰ کی رضا مندی و خوشنودی کی خاطر اپنا مال دوسروں کو دیتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے مال کو بڑھا دیتا ہے بایں طور کہ اس کے موجودہ مال میں خیر و برکت عطاء فرماتا ہے۔ اس آیت کے ذمن میں دونوں کے نتائج میں تضاد کا مطلب مفسرین نے اس انداز میں بیان کیا ہے کہ سود کو مٹانے اور صدقہ کو بڑھانے کا تعلق آخرت سے ہے یعنی سود خوار کو اس کا مال آخرت میں کچھ نفع نہیں پہنچائے گا بلکہ عذاب ہی کا موجب بنے گا جبکہ صدقہ کرنیوالے کا مال آخرت میں اس کے لئے ابدی سعادتوں اور راحتوں کا ذریعہ بنے گا پھر سود کا مٹایا جانا اور صدقہ کا بڑھایا جانا آخرت سے تو تعلق رکھتا ہی ہے مگر اس کے کچھ آثار دنیا ہی میں مشاہدہ ہوجاتے ہیں چناچہ سود جس مال میں شامل ہوجاتا ہے بعض اوقات وہ مال اس طرح تباہ و برباد ہوجاتا ہے کہ اس کا وہم و گمان بھی نہیں جیسا کہ سود اور سٹہ کے بازاروں میں عام طور پر دیکھا جاتا ہے کہ بڑے بڑے کروڑ پتی اور سرمایہ دار دیکھتے دیکھتے دیوالیہ ہوجاتے ہیں اگرچہ بےسود کی تجارتوں میں بھی نفع ونقصانات کے احتمال ضرور ہیں اور اسی وجہ سے بعض مرتبہ بےسود کی تجارت کرنیوالوں کو بھی کسی تجارت میں نقصان ہوجاتا ہے لیکن ایسا تاجر جو کل کروڑ پتی تھا اور آج ایک ایک پیسہ کی بھیک کا محتاج ہے یہ صرف سود اور سٹہ کے بازاروں ہی میں نظر آتا ہے۔ بہرکیف جیسا کہ اوپر بتایا گیا ہے سودی مال کا وقتی طور پر بڑھنا اور آخر میں تباہ و برباد ہوجانا محض ایک شرعی وعید کے درجے کی بات نہیں ہے بلکہ اہل تجربہ کے بیانات بھی اس پر شاہد ہیں کہ سود کا مال فوری اور وقتی طور پر کتنا ہی بڑھ جائے لیکن وہ عمومًا ایسا دیر پا نہیں ہوتا کہ اس کا فائدہ نسلوں تک پہنچے اگر ایسی کوئی نہ کوئی صورت پیش آجاتی ہے جو سودی مال کو ختم یا کم کردیتی ہے۔
سود خوروں کی ظاہری خوشحالی سے دھوکہ نہ کھائیے :
آج کل سود کا کاروبار عام ہے چپہ چپہ پر سود خوروں کا لین دین جاری ہے ان کے یہاں ظاہری طور پر مال و دولت کی ریل پیل نظر آتی ہے اسباب عیش و عشرت کی فراوانی ہر طرف رقصاں دیکھی جاتی ہے اسی لئے عام سطح میں لوگوں کو یہ شبہ ہوتا ہے کہ آج کل تو سود خوروں کو بڑی سے بڑی راحت حاصل ہے وہ کوٹھیوں بنگلوں اور عالیشان عمارتوں کے مالک ہیں نوکر چاکر اور شان و شوکت کے تمام سامان موجود ہیں اس لئے یہ کیسے کہا جاسکتا ہے کہ سود خوروں کو دنیا میں بھی راحت حاصل نہیں ہوتی اور ان کا مال وزر ان کا ساتھ نہیں دیتا حالانکہ غور کیا جائے تو یہ بات بالکل واضح نظر آئے گی کہ سامان راحت اور راحت میں بڑا فرق ہے سامان راحت تو آپ کارخانوں اور فیکٹریوں اور بازاروں سے حاصل کرسکتے ہیں وہ سونے چاندی اور سکون کے عوض مل سکتا ہے لیکن جس چیز کا نام راحت ہے وہ نہ کسی فیکٹری میں بنتی ہے اور نہ کسی بازار سے دستیاب ہوتی ہے بلکہ وہ ایک ایسے روحانی اطمینان اور قلب و دماغ کے ایسے سکون کا نام ہے جو اللہ تعالیٰ کی رحمت کی صورت میں براہ راست انسان کو عطا ہوتا ہے جو بعض اوقات بالکل بےسروسامان انسان اور جانوروں تک کو میسر آجاتا ہے اور بعض اوقات ہزاروں اسباب عیش و عشرت اور سامان راحت رکھنے کے باوجود حاصل نہیں ہوسکتا ایک نیند کو لے لیجئے یہ نیند کیا ہے ایک راحت و سکون کا نام ہے اس کو حاصل کرنے کے لئے آپ یہ تو کرسکتے ہیں کہ ایک اعلی قسم کی خواب گاہ بنوا لیں جس میں ہوا روشنی کا پورا انتظام ہو عمدہ قسم کے اور آرام دہ پلنگ ہوں دلفریب ودل کش گدیلے بستر اور ملائم تکیے ہوں لیکن آپ خود بتائیے کیا ان سامانوں کے مہیا ہوجانے پر نیند کا آجانا لازمی ہے اگر آپ کو خود اس کا تجربہ نہیں ہے تو وہ ہزاروں آدمی اس کا جواب نفی میں دیں گے جنہیں کسی عارضے کی وجہ سے نیند نہیں آتی ان کے لئے یہ سامان دھرے رہ جاتے ہیں یہاں تک کہ خواب آور دوائیاں بھی جواب دے دیتی ہیں چناچہ نیند کے سامان تو بازار سے آگئے لیکن نیند کسی بازار سے کسی بھی قیمت پر نہیں لائی جاسکتی اسی طرح دوسری لذتوں اور راحتوں کا حال ہے ان کے اسباب تو روپیہ پیسہ کے ذریعے حاصل ہوسکتے ہیں مگر ان راحتوں اور لذتوں کا حاصل ہونا ان اسباب کے باوجود بھی ضروری نہیں ہے یہ بات سمجھ لینے کے بعد سود خوروں کے حالات کا جائزہ لیجئے تو ان کے پاس آپ کو سب کچھ ملے گا مگر راحت اور اطمینان کا نام نہ پائیں گے وہ اپنی حرص وہوس میں اپنی تجوریوں کو بھرنے اور اپنے ایک کروڑ کو ڈیڑھ کروڑ دو کروڑ بنانے میں ایسے مست نظر آتے ہیں کہ نہ ان کو اپنے کھانے پینے کا ہوش رہتا ہے نہ اپنی بیوی بچوں کا خیال ایمانداری سے بتائیے کیا اطمینان و راحت اسی طرح حاصل ہوتا ہے صبح سے شام تک اور شام سے صبح تک مال و دولت کو بڑھانے کی ادھیڑ بن میں اپنے آپ کو فنا کردینے کا نام راحت ہے؟ کتنے بیوقوف ہیں وہ لوگ جنہوں نے اسباب راحت کا نام راحت رکھ لیا ہے اور جو حقیقی راحت ہے اس سے کوسوں دور ہیں۔
سود خوروں کمی حقیق عزت حاصل نہیں ہوتی
ایک دنیادار انسان مال و دولت کے انبار اسی لئے جمع کرتا ہے کہ اسے دنیا کا اطمیان سکون اور راحت حاصل ہو اور وہ سماج و معاشرہ میں عزت ووقار کی زندگی بسر کرسکے لیکن سود خوروں کی راحت کا حال تو معلوم ہوا کہ ان کے ہاں ظاہری طور پر مال و دولت کی فراوانی اور عیش و عشرت اور راحت و آرام کے تمام تر اسباب کی موجودگی کے باوجود ان بدنصیبوں کو حقیقی راحت و اطمینان کی دولت نصیب نہیں ہوتی اور سکون قلب و دماغ جیسی اعلی نعمت میں مسلسل مبتلا رہنے کی وجہ سے طبعی طور پر بھی بےرحم اور سنگ دل بن جاتا ہے اور اس کا پیشہ ہی یہ ہوتا ہے کہ وہ مصیبت زدہ اور افلاس کے مارے لوگوں کی مصیبت ومفلسی سے اور کم مایہ انسانوں کی کم مائیگی سے فائدہ اٹھائے اور ان کا خون چوس کر اپنے بدن کو سیم وزر سے پالے اس مقصد کے لئے وہ بھوک سے بلکتے معصوم بچوں کے ہاتھ سے سوکھی روٹی کا ٹکڑا چھیننے اور افلاس زدہ کی ستائی ہوئی باحیا عورت کے جسم پر لپٹے ہوئے کپڑے کا آخری چیتھڑا اتار لینے سے بھی دریغ نہیں کرتا اس شقاوت اور سنگ دلی کی موجودگی میں یہ کیسے ممکن ہوسکتا ہے کہ لوگوں کے دلوں میں سود خور کی عزت اور وقار کے لئے کوئی گوشہ ہو آپ اپنی آبادی کے کسی بھی بڑے سے بڑے سود خور پر نظر ڈالئے اس کی تجوریاں سونے چاندی اور روپیوں کے کتنے ہی بڑے ذخیروں سے بھری پڑی ہوں اس کے گھر میں مال و دولت کے کتنے ہی خزانے محفوظ ہوں لیکن کیا لوگوں کی نظروں میں اس کی ادنیٰ بھی وقعت ہوتی ہے بےکس و مجبور لوگ بھلے ہی اپنی ضرورت و احتیاج کی بناء پر اس کے آگے ہاتھ جوڑتے ہیں مگر ان کے دلوں میں بھی اس کے لئے عزت و احترام کا کوئی ادنیٰ سا جذبہ نہیں ہوتا معاشرہ میں اس کی حیثیت اس درندے کے برابر نہیں ہوتی جو اپنے پنجوں سے انسانوں کے جسم سے گوشت کے ٹکڑے نوچ کر انہیں ہڈیوں کے ڈھانچے میں تبدیل کردیتا ہے اس کا تنیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ انسانوں کے ہر طبقہ میں اس انسانی شرف و احترام سے بھی محروم رہتا ہے جو ایک انسان کو دوسرے انسان کے سامنے عزت ووقار کا پیکر بنا کر پیش کرتا ہے۔
آج کی بین الاقوامی بے چینی اور اقتصادی بدحالی سود خوروں ہی کی مسلط کی ہوئی ہے
بات جب چل نکلی ہے تو پھر سود خوری کے ایک اور پہلو پر بھی نظر ڈال لیجئے۔ بڑی مصیبت یہ ہے کہ سائنسی ارتقاء اور مادی عروج نے انسان کو یہ لینے کا سلیقہ کیا بخشا کہ سوچنے سمجھنے کے ڈھنگ تک بدل گئے آج کا انسانی ذہن علم و دانش کی فراوانی اور فہم و فراست کی پختگی کے دعوے کے باوجود غور وفکر کے ایک مخصوص نہج سے آگے نہیں بڑھ سکا آج کی دنیا نے انسان کے گرد خالص مادی سانچے میں ڈھلے ذہن جدید کے مصنوعی نظریات کا جو حصار کھینچ دیا ہے اس نے سوجھ بوجھ کی تمام صلاحیتوں کو سیم وزر کے ایک خالص ماحول میں مقید کردیا ہے اور احساسات فکر ونظر کو حقیقی اچھائی اور برائی کی قوت امتیاز سے محروم کر کے صرف دینا کے وقتی اور ظاہری فائدوں اور تن آسانیوں کا اسیربنا دیا ہے اسی لئے آج ہمیشہ کی تسلیم شدہ صداقتیں قابل انکار ہوگئی ہیں اور ہزاروں سال پرانے اٹل اور حقیقی نظریات قابل شکست وریخت سمجھے جانے لگے ہیں۔ اسلام کی یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ سود حرام ہے ہر فرد کے لئے ہر طبقہ کے لئے ہر زمانہ کے لئے اور ہر حالت میں لیکن کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اگرچہ بظاہر پڑھے لکھے ہیں لیکن عہد حاضر کے مصنوعی افکار ونظریات نے انہیں دین و شریعت کے حقیقی راستے سے دور کر رکھا ہے اور ان کے ذہن وفکر پر موجودہ دور کی مخصوص چھاپ نے انہیں جہالت کی وادیوں میں بھٹکا رکھا ہے ان کے نزدیک نہ صرف حرمت سود جیسی مسلمہ حقیقت آج کے زمانہ میں ایک ناقبل عمل چیز ہے بلکہ مادی خوشحالی اور تجارتی کامیابیوں کی راہ میں ایک رکاوٹ بھی ہے ان کے نقطہ نظر سے آج کا معاشی نظام جو سود کی جکڑ بندیوں میں محصور ہے صرف ایک فرد ایک قوم ملک ہی کے لئے نہیں بلکہ پوری دنیا کے اقتصادی استحکام اور بنی نوع انسان کی معاشی خوشحالی کا ضامن ہے وہ بڑے بڑے سرمایہ دار ملک جنہوں نے سود کی شکل میں غریب قوموں اور ترقی پذیر ملکوں کی اقتصادیات ومعاشیات کی روح کھینچ کر ان کو دنیا کا گرویدہ بنادیا ہے ان دیوانوں کی نظر میں بنی نوع انسان کی معاشی فلاح و بہبود اور ان کے اقتصادی اطمینان کے واحد سہارے ہیں یہ لوگ اس خوش فہمی میں مبتلا ہیں کہ سرمایہ دار طاقتوں نے غریب ملکوں اور اقتصادی بدحالی کی شکار قوموں کے لئے اپنے خزانوں کے جو منہ کھول رکھے ہیں وہ درحقیقت عالمی بھائی چارگی اور بین الاقوامی اقتصادی خوشحالی کے تئیں ان کے حقیقی جذبات ایثار و ہمدردی کا مظہر ہیں حالانکہ اگر ذرا بھی غور وفکر سے کام لیا جائے تو یہ حقیقت روز روشن کی طرح واضح ہو کر سامنے آجائیگی کہ یہ سب کچھ اسی ہوس و عیاری کا ترقی یافتہ راستہ ہے جس پر چل کر پہلے تو ایک انسان نے دوسرا انسان کا خون چوسا ہے اور اب اسی راستہ پر گامزن ایک قوم اور ایک ملک دوسری قوموں اور دوسرے ملکوں کا خون چوس رہے ہیں بس فرق اتنا ہی ہے کہ پہلے ایک فرد یا ایک طبقہ سود کی اقتصادی تباہ کاری کا شکار ہوا کرتا تھا اور اسے محسوس بھی کرتا تھا لیکن آج پورے پورے ملک اور پوری پوری قومیں سود کی اقتصادی تباہ کاری کا غیر محسوس طور پر شکار ہو کر اپنے باوقار وجود کو سود خوروں کے پاس رہن رکھ چکی ہیں۔ جن دانشوروں کی نظر دنیا کے ان اقتصادی منصوبوں پر ہے جن کے تحت سرمایہ دار ممالک پسماندہ قوموں اور ترقی پذیر ملکوں کو ہر سال اربوں ڈالروں کے امدادی قرض دیتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ یہ ممالک کس طرح سودی شکل میں ان غریب ملکوں کی اقتصادی دولت کو دونوں ہاتھو سے لوٹ کر اپنے ملک کے خزانے بھر رہے ہیں۔ اس حقیقت سے کون باخبر اور با ہوش انسان انکار کرسکتا ہے کہ ان سود خور ملکوں کی سود خوری نے دنیا کے ان تمام غریب ملکوں کے اقتصادی نظام میں جو شومی قسمت سے اپنے وسائل اور اپنے دست وبازو کی قوت محنت پر بھروسہ نہ کر کے سرمایہ دار ملکوں کے جال فریب میں پھنس گئے ہیں غربت و افلاس اور مالی بدحالی کا ایسا زہر گھول دیا ہے کہ ان تمام ترمعاشی ڈھانچہ اپنی جگہ چھوڑ چکا ہے اور اقتصادی موت کے دروازے پر پہنچ گیا ہے۔ اس صورت حال نے دنیا کے امن و سکون کو بھی متزلزل کر کے رکھ دیا ہے آج آپ کو کتنے ہی ایسے ملک نظر آئیں گے جو ان کی سیاسی اور ملکی پالیسیوں کی بھینٹ پڑھ گئے ہیں کہ ان کی اقتصادی زندگی کا تمام دارومدار انہیں سود خوروں کے امدادی اور سودی قرضوں پر ہے ان مسائل کا حل چونکہ ان کی سیاسی اور اقتصادی پالیسی کے خلاف ہے اس لئے وہ ان کو دنیا پر اس طرح معلق کئے ہوئے کہ آج ان کی وجہ سے قوموں کی قومیں اور ملک کے ملک اپنی داخلی بےچینیوں بےاطمینانیوں اور مایوسیوں کا شکار ہو کر موت وحیات کی کش مکش میں مبتلا ہیں اس لئے بجا طور پر کہا جاسکتا ہے کہ آج پوری دنیا پر سیاسی بےاطمینانی اور اتقصادی بےچینی کا جو مہیب بادل چھایا ہوا ہے وہ دراصل سود خوروں کا مسلط کیا ہوا ہے جس سے کوندنے والی برق کسی بھی لمحہ بنی نوع انسان کے پورے وجود کو بھسم کرسکتی ہے۔
سود کے بارے میں ایک شبہ اور اس کا جواب
بعض پڑھے لکھے لوگ اس شبہ میں بھی مبتلا ہیں کہ قرآن کریم نے جس ربا کو حرام قرار دیا ہے وہ ایک خاص قسم کا ربا تھا جو زمانہ جاہلیت میں رائج تھا کہ کوئی غریب مصیبت زدہ شخص اپنی مصیبت دور کرنے کے لئے کسی سے قرض لے لیتا تھا اور قرض خواہ اس پر ایک متعین نفع سود لیا کرتا تھا یہ بیشک ایک سنگدلی کی بات تھی کہ کوئی شخص کسی کی مصیبت میں اس کی مدد کرنے کی بجائے الٹا اس کی مصیبت سے فائدہ اٹھائے۔ قرآن نے سود کی اس صورت کو حرام قرار دیا۔ زیادہ سے زیادہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس حرمت کا اطلاق آج کے زمانہ میں بھی سود کی اس صورت پر ہوسکتا ہے جو مہاجنوں اور دوسرے سود خوروں کے ہاں شخصی اور انفرادی طور پر رائج ہے کہ کوئی ضرورت مند و غریب اپنی ضرورت پوری کرنے کے لئے خواہ کوئی چیز رہن وگروی رکھ کر یا اور کسی اعتماد پر ان سے قرض لیتا ہے اور اس پر حسب شرط و تعیین سود ادا کرتا ہے لیکن آ جکل تجارتوں بینکوں کمپنیوں اور اجتماعی اداروں کے ذریعہ جو سودی کاروبار ہوتا ہے اس کی صورت بالکل مختلف ہے جس کی وجہ سے اب سود دینے والے مصیبت زدہ لوگ نہیں رہے بلکہ متمول اور سرمایہ دار تجار ہیں جو غریبوں سے سود لینے کی بجائے خود ان کو دیتے ہیں ظاہر ہے کہ اس صورت میں غریبوں کا ہی فائدہ ہے کہ بہت سے قلیل سرمایہ والے لوگ مذکورہ بالا ذرائع سے کچھ نہ کچھ حاصل کرلیتے ہیں لہذا موجودہ دور کے تجارتی سود پر حرمت کا اطلاق نہیں ہونا چاہئے۔ اس کے جواب کے سلسلے میں پہلے تو ایک بنیادی بات یہ جان لین چاہئے کہ شریعت کے کسی بھی حکم کا تعلق اصول اور کلیہ سے ہوتا ہے جو نیات اور اقسام کے اختلاف سے اس حکم کے نفاذ پر اثر انداز نہیں ہوتے۔ شریعت نے جس چیز کو اصولی طور پر حرام قرار دیا ہے وہ چیز اپنے تمام اجزاء اور اپنی تمام اقسام کے ساتھ حرام ہوگی یہ حق کسی کو حاصل نہیں ہوگا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم میں اس چیز کے کسی جزء یا کسی قسم کو محض اپنے خیال سے مستثنی کر دے یا اس حکم کے اطلاق کو بلا کسی شرعی دلیل کے مقید و محدود کرسکے۔ اگر کوئی شخص یہ کہنے لگے کہ اس حرمت کا تعلق اس شراب سے ہے جو پہلے زمانہ میں خراب قسم کے برتنوں میں سڑا کر بنائی جاتی تھی اب تو چونکہ صفائی ستھرائی کا بڑا اہتمام ہے مشینوں کے ذریعے سب کام ہوتا ہے اعلي درجہ کی شرابیں بنتی ہیں لہذا موجودہ دور کی شراب پر حرمت کا اطلاق نہیں ہونا چاہئے تو ظاہر ہے کہ یہ بات وہی شخص کہہ سکتا ہے جو اسلامی شریعت کا ذرا سا بھی علم نہ رکھتا ہے یا اسلامی شریعت کے مزاج سے قطعًا ناواقف ہو۔ اس کے علاوہ اس پر بھی غور کیجئے کہ اس طرح احکام قرآن کو اپنے خیالات کے تابع کرنے کا دروازہ کھل جائے تو پھر کس چیز کی حرمت باقی رہ جائے گی قمار جوا چوری ڈاکہ زنا فواحش ان میں سے کون سی برائی ایسی ہے جس کی موجودہ صورت پہلے زمانہ کی صورت سے مختلف نہیں ہے اس کا مطلب تو یہ ہوگا کہ ان سبھی برائیوں کو جائز کہنا پڑے گا لہذا جب محض چولہ بدلنے سے کسی شخص کی حقیقت نہیں بدلا کرتی تو کوئی بھی برائی خواہ وہ کتنی صورت اختیار کے اس کا حکم بھی کی حال میں نہیں بدلے گا۔ اس بات کو سمجھ لینے کے بعد اب ربا کا جائزہ لیجئے تو معلوم ہوگا کہ قرآن کریم میں ربا کی مخالفت کا ذکر ایک جگہ نہیں مختلف سورتوں کی کئی آیتوں میں آیا ہے اور چالیس سے زائد احادیث میں مختلف عنوان سے اس کی حرمت بیان کی گئی ہے ان میں سے کسی ایک جگہ کسی ایک لفظ میں بھی یہ اشارہ نہیں ہے کہ حرمت کا یہ حکم کسی خاص صورت یا کسی خاص مصلحت کے پیش نظر ہے۔ حرمت ربا کی کسی بھی آیت یا کسی بھی حدیث سے یہ اشارہ بھی ثابت نہیں ہوتا کہ یہ حرمت صرف اس ربا کی ہے جو شخصی اغراض کے لئے لیا دیا جاتا تھا تجارتی سود اس سے مستثنی ہے بلکہ اگر اس مسئلہ پر تاریخی نقطہ نظر سے غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ سرے سے یہ خیال ہی غلط ہے کہ نزول قرآن کے زمانہ میں سود کی صرف یہی صورت رائج تھی کہ کوئی مصیبت زدہ شخص یا غریب آدمی اپنی ضرورت پوری کرنے کے لے سود پر قرض کا معاملہ کرتا تھا اور تجارتی معاملات کے لئے سود پر روپیہ لینے دینے کا رواج نہیں تھا بلکہ آیات ربا کا شان نزول دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ حرمت ربا جب نزول ہوا ہے تو اس وقت شخصی اغراض کے لئے سودی لین دین کے علاوہ تجارتی معاملات کے لئے بھی سود کا لین دین رائج تھا کیونکہ عرب اور بالخصوص قریش تجارت پیشہ لوگ تھے جو تجارتی اغراض ہی کے لئے سود کا لین دین کرتے تھے چناچہ حضرت عباس اور حضرت خالد بن ولید کے بارے میں امام بغوی نے لکھا ہے کہ یہ دونوں شرکت میں کاروبار کرتے تھے اور ان کا لین دین طائف کے بنوثقیف کے ساتھ تھا۔ حضرت عباس کی ایک بڑی رقم سود کے طور پر بنوثقیف کے ذمہ واجب الادا تھی انہوں نے بنو ثقیف سے اپنی سابقہ رقم کا مطالبہ کیا تو آنحضرت ﷺ نے قرآن کے اس حکم کے تحت کہ ربا حرام قرار دیدیا گیا ہے اپنے چچا حضرت عباس کو سود کی اپنی اتنی بڑی رقم چھوڑ دینے کا حکم دیدیا جس کا اعلان آپ ﷺ نے حجۃ الوداع کے خطبہ میں بھی یوں فرمایا حدیث (وربا الجاہلیۃ موضوع واول ربا اضع من ربانا ربا عباس بن عبدالمطلب) زمانہ جاہلیت کا سود چھوڑ دیا گیا ہے اور سب سے پہلا سود جسے میں اپنے سودوں میں سے چھوڑتا ہوں عباس بن عبد المطلب کا سود ہے اس کے علاوہ اور بہت سے ایسے واقعات منقول ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ ایک قبیلہ کا دوسرے قبیلہ کے ساتھ اور ایک خاندان کے ساتھ سودی لین دین تھا پھر اس کے ساتھ یہ بات بھی قابل نظر ہے کہ جن قبائل یا خاندان کے باہمی سودی لین دین کا ذکر منقول ہے وہ کسی فوری ضرورت یا مصیبت کے تحت قرض لینے کی حیثیت سے نہیں تھا بلکہ اس اندازے سے تھا کہ ان کے درمیان یہ لین دین کاروباری اور تجارتی حیثیت سے مسلسل جاری تھا جیسے ایک تاجر سے یا ایک کمپنی دوسری کمپنی سے معاملہ کیا کرتی ہے بلکہ سودی کاروبار کرنے والے لوگ ربا کو بھی ایک قسم کی تجارت ہی سمجھا کرتے تھے جس کی تردید قرآن کو کرنی پڑی اور خریدو فروخت کے معاملات کو سود ہی کی ایک قسم سمجھنے والوں کے لئے سخت تہدید ووعید نازل ہوئی۔ اب رہی یہ بات کہ بینکوں کے سودی کاروبار سے غریب عوام کا نفع ہے کہ انہیں اپنی رقموں پر کچھ نہ کچھ مل جاتا ہے تو یاد رکھئے کہ یہی وہ حسین فریب ہے جس کی بنیاد پر یورپین اقوام نے سود جیسی بدیہی اور ہمیشہ کی مسلم لعنت کو کاروبار کا ایک خوب صورت جام پہنایا اور عوام نے اس فریب میں مبتلا ہو کر سود کے چند ٹکوں کے لالچ میں اپنی پونجی کو بینکوں کے حوالہ کردیا اس طرح پوری قوم کا سرمایہ سمٹ کر بینکوں میں آگیا اور ادھر اس سرمایہ کو بڑے بڑے تاجروں اور بیوپاریوں نے بینکوں سے بطور قرض لے کر اپنے اپنے کاروبار کو وسعت دی اور اس سے جو عظیم الشان نفع حاصل ہوا اس میں سے چند ٹکے بینکوں کو دے کر باقی سب اپنی تجوریوں میں بھر لیا بینک والوں نے ان ٹکوں میں کچھ حصہ پوری قوم کے ان لوگوں کو بانٹ دیا جنہوں نے اپنی پونجی بینک کے حوالہ کی تھی اس طرح سرمایہ دار نے تو اپنے دس ہار روپیہ سے ایک لاکھ روپیہ کما لیا اور بےچارے غریبوں کے حصہ میں کیا آیا صرف چند ٹکے اب بتائیے کہ ان بینکوں سے بھی اصل فائدہ کسے حاصل ہوا ہے؟ سرمایہ دار کو یا غریب کو؟ فریب خوردہ غریب تو اس متوقع فائدہ سے بھی محروم رہا جو وہ اپنی پونجی کو بینک کے حوالے کردینے کی بجائے کسی چھوٹی موٹی تجارت میں لگا دینے حاصل کرتا اسے تو اتنی بھی سہولت نہ ملی کہ وہ بینک سے کوئی بڑی رقم قرض لے کر کاروبار کرسکتا کیونکہ بینک تو کسی غریب کو پیسہ دینے سے رہا وہ تو بڑے بڑے سرمایہ داروں اور ساکھ والوں کو قرض دیتا ہے لیکن اس کے برخلاف سرمایہ دار نے بینک سے کیا فائدہ حاصل کیا اس نے بینک سے بڑی بڑی رقمیں قرض کے نام پر لیں ان رقموں سے تجارت وصنعت کی بڑی بڑی منڈیوں پر اپنا اجارہ جمایا اور ہر قسم کے کاروبار پر قابض ہوگیا۔ کسی کم سرمایہ والے کو مقابلہ ومسابقت (Competion) کے ذریعہ تجارت کے کسی میدان میں جمنے نہیں دیا اور انجام کار تجارت کا کاروبار جو پوری قوم کے لئے فائدہ مند اور ترقی کا ذریعہ تھا چند مخصوص لوگوں میں محدود ہو کر رہ گیا اور پھر آخر میں جا کر اس سودی کاروبار کی تان غریبوں ہی پر اس طرح ٹوٹی کہ جب تجارت کے اڈوں پر مخصوص سرمایہ دار ناگ بن کر بیٹھ گئے تو اشیاء کے نرخ بھی ان کے رحم و کرم پر رہ گئے جس کا نتیجہ وہ ہے جو آج ہر جگہ سامنے آ رہا ہے کہ سامان معیشت میں روز بروز گرانی بڑھتی ہی جا رہی ہے اور اشیاء کی قیمتیں اس طرح چڑھ رہی ہیں کہ حکومتوں کی تمام تر کوششوں کے باوجود قابو میں نہیں آرہی ہیں اور انجام کا فریب خود وہ عوام کو سود کے نام پر جو چند ٹکے ملے تھے ان کے تنیجہ میں سامان معیشت دوگنی تگنی قیمتوں تک پہنچا تو ان غریبوں کی جیب سے سود کے وہ چند ٹکے کچھ اور سود لے کر نکل گئے اور پھر لوٹ پھر کر انہیں سرمایہ داروں کی جیب میں پہنچ گئے لہذا بینکوں اور تجارتی اداروں کے سودی کاروبار کے اس فریب کا پردہ اٹھا کر دیکھئے تو معلوم ہوگا کہ سودی کاروبار کا عام نتیجہ کسی بھی طرح غریبوں کے حق میں مفید نہیں ہوتا بلکہ یہ درحقیقت پوری قوم کی غربت و افلاس اور چند سرمایہ داروں کے سرمایہ میں بےپناہ اضافہ کا ذریعہ ہے اور یہی وہ معاشی بےاعتدالی اور اقتصادی تباہ کاری ہے جو پوری قوم اور پورے ملک کی تباہی کا سبب بنتی ہے اس لئے اسلام نے سود کے ہر طریقہ اور ہر ذریعہ پر قدغن لگائی ہے خواہ وہ انفرادی و شخص اغراض کے لئے قرض لینے کی صورت میں ہو یا اجتماعی تجارت اور بینکوں کے کاروبار کی شکل میں کیونکہ دونوں ہی صورتوں میں غریب کا خون سود خوروں کی غذا بنتا ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا معراج کی رات میرا گزر کچھ ایسے لوگوں پر ہوا جن کے پیٹ گھروں مکانوں کی مانند بڑے بڑے تھے اور ان کے پیٹوں میں سانپ بھرے ہوئے تھے جو پیٹوں کے باہر سے بھی نظر آ رہے تھے میں نے انہیں دیکھ کر بڑی حیرت کے ساتھ جبرائیل (علیہ السلام) سے پوچھا کہ جبرائیل یہ کون لوگ ہیں انہوں بتایا کہ یہ سود خور ہیں (احمد ابن ماجہ)
وعن علي رضي الله عنه أنه سمع رسول الله صلى الله عليه و سلم لعن آكل الربا وموكله وكاتبه ومانع الصدقة وكان ينهى عن النوح . رواه النسائي
حضرت علی کرمہ اللہ وجہہ کے بارے میں منقول ہے کہ انہوں نے سنا کہ رسول کریم ﷺ سود لینے والے سود دینے والے سود کا تمسک لکھنے والے سود کا حساب کتاب لکھنے والے اور صدقہ سے منع کرنیوالے پر لعنت فرماتے تھے نیز آپ ﷺ نوحہ کرنے سے منع فرماتے تھے (نسائی)
تشریح
صدقہ سے منع کرنیوالے سے مراد یا تو وہ شخص ہے جو کسی دوسرے کو صدقہ و خیرات کرنے سے منع کرے اور روکے چناچہ آپ ﷺ نے ایسے شخص پر لعنت فرمائی ہے یا پھر اس سے وہ شخص مراد ہے جو واجب صدقہ یعنی زکوٰۃ وغیرہ ادا نہ کرتا ہو۔ کسی مردہ شخص کے اوصاف بیان کر کے اور چلا چلا کر رونا نوحہ کہلاتا ہے چونکہ یہ ایک انتہائی نازیبا اور خلاف وقار و دانش فعل ہے اس لئے شریعت نے اس سے منع فرمایا ہے۔
ربا کی تشریح کے متعلق حضرت عمر کا ارشاد
وعن عمر بن الخطاب رضي الله عنه إن آخر ما نزلت آية الربا وإن رسول الله صلى الله عليه و سلم قبض ولم يفسرها لنا فدعوا الربا والريبة . رواه ابن ماجه والدارمي
حضرت عمر فاروق ؓ کا یہ ارشاد منقول ہے کہ جو چیز نازل ہوئی یعنی قرآن کریم اس کا معاملات سے متعلق جو حصہ سب سے آخر میں نازل ہوا ہے وہ ربا کی آیت ہے چناچہ آپ ﷺ اس دنیا سے اس حالت میں تشریف لے گئے کہ آپ ﷺ نے اس کی تفصیل بیان نہیں فرمائی لہذا سود کو بھی چھوڑ دو اور جس چیز میں سود کا شبہ ہو اسے بھی چھوڑ دو ( ابن ماجہ دارمی)
تشریح
یہ بات ابتداء میں بتائی جا چکی ہے کہ سود کی مروجہ شکل یعنی قرض وادھار پر متعین نفع لینا اسلام سے قبل زمانہ جاہلیت میں بھی رائج تھی اور لوگوں میں اس طرح کے سود کا بہت زیادہ رواج تھا چناچہ قرآن کریم نے جب ربا کی حرمت بیان کی اور آیت ربا نازل ہوئی تو آنحضرت ﷺ نے حرمت کے اس حکم کو نہ صرف اس وقت کے رائج و متعارف سود پر نافذ کیا بلکہ ربا کے مفہوم کو وسعت دیکر اشیاء کے باہمی لین دین اور خریدو فروخت کی بعض صورتوں کو بھی ربا کے حکم میں داخل فرمایا جس کی تفصیل گذشتہ صفحات میں ذکر کی جا چکی ہے لیکن صورت یہ ہوئی کہ آیت ربا نازل ہونے کے بعد آنحضرت ﷺ اس دنیا میں بہت کم عرصہ تشریف فرما رہے اس تھوڑی مدت میں دیگر دینی وضروی مصروفیات میں اتنا انہماک رہا کہ آپ ﷺ نے لین دین کی ان صورتوں کو زیادہ تفصیل سے بیان نہیں فرمایا یہاں تک آپ واصل بحق ہوگئے چناچہ حضرت فاروق اعظم کے اس ارشاد میں تفصیل سے مراد انہیں صورتوں کی تشریح و تفصیل ہے کہ آنحضرت ﷺ نے جن چھ چیزوں (سونا چاندی گیہوں جو کھجور نمک) کے باہمی لین دین کی بعض صورتوں کو ربا کے حکم میں داخل فرمایا تھا آیا یہ حکم ان چھ چیزوں کے ساتھ مخصوص ہے یا یہ چیزیں بطور مثال کے بیان فرمائیں اور بقیہ چیزوں کو قیاس و اجتہاد پر موقوف رکھا؟ یہی وجہ ہے کہ بعد میں آنیوالے ائمہ مجتہدین امام ابوحنیفہ امام شافعی امام مالک امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ نے اپنے اپنے اجتہاد سے ان چیزوں کا ایک ضابطہ بنایا اور دوسری چیزوں کو بھی اس ضابطہ کے ماتحت اس حکم میں داخل قرار دیا اس کی تفصیل بھی گذشتہ صفحات میں ذکر کی جا چکی ہے۔ حاصل یہ کہ نزول قرآن سے سود کا ایک مخصوص معاملہ یعنی قرض دے کر اس پر نفع لینا عربی زبان میں لفظ ربا کے ساتھ متعارف چلا آرہا تھا اور پورے عرب میں اس کا رواج تھا چناچہ اہل عرب صرف اسی خاص معاملہ کو ربا کہتے اور سمجھتے تھے اسی ربا کو قرآن کریم نے حرام فرمایا لہذا ربا کی اس صورت میں نہ کوئی ابہام تھا نہ اجمال اور اسی لئے جب قرآن کریم نے ربا کی حرمت کا ذکر کیا تو نہ کسی کو اس کے سمجھنے میں دقت ہوئی اور نہ کسی کو اس پر عمل کرنے میں ایک منٹ کا بھی تامل وتردد ہوا البتہ جب رسول کریم ﷺ نے باشارات وحی الٰہی ربا کے مفہوم میں اور چند معاملات کا اضافہ فرمایا تو چونکہ وہ معاملات اہل عرب کے متعارف مفہوم سے الگ اور ان کے مروجہ سود سے ایک زائد چیز تھی اور پھر اتفاق کی بات کہ آنحضرت ﷺ ربا کے اس وسیع مفہوم کی تفصیلات پوری تشریح کے ساتھ بیان فرمانے سے پہلے اس دنیا سے تشریف لے گئے اسی وجہ سے اس کی تشریحات میں حضرت فاروق اعظم کو کچھ اشکالات پیش آئے بالآخر انہوں نے اپنے اجتہاد سے احتیاط کا پہلو اختیار کرتے ہوئے فرمایا کہ ربا کی جو صورتیں بالکل واضح اور متعین ہیں جیسی مروجہ سود یا اشیاء کے باہمی لین دین کی وہ صورتیں جو آنحضرت ﷺ نے بیان فرما دی ہیں ان کو بھی ترک کردو اور ان سے مکمل اجتناب کرو اور جس چیز میں سود کا شبہ اور شائبہ بھی محسوس ہوجائے ازارہ ورع و احتیاط اسے بھی چھوڑ دو اور اس سے پرہیز کرو۔
سود کے بارے میں بعض لوگوں نے حضرت فاروق اعظم کے اس ارشاد کو آڑ بنا لیا جو سود کی اس خاص قسم کے بارے میں تھا جس کا مروجہ سود کے مسئلہ سے کوئی تعلق نہیں یعنی چھ چیزوں کا باہمی بیع وشراء اور لین دین ان لوگوں نے اس ارشاد کا یہ نتیجہ نکالا کہ ربا کی حقیقت ہی مبہم رہ گئی تھی۔ اس کے متعلق علماء اور فقہاء نے جو کچھ لکھا ہے وہ صرف ان کا اپنے اجتہاد تھا لیکن جیسا کہ ابھی اوپر بتایا گیا حضرت فاروق اعظم کو ربا کی صرف اس قسم کے بارے میں تردد پیش آیا جو قرآن کے الفاظ سے ثابت نہیں تھا بلکہ آنحضرت ﷺ نے اپنے ارشاد کے ذریعہ اس کی حرمت کو بیان فرمایا تھا اور وہ چھ چیزوں کی آپس میں خریدو فروخت کا معاملہ تھا جو سود آج کل رائج ہے اور جو ایام جاہلیت میں بھی عام تھا۔ اس سے حضرت عمر کے اس ارشاد کا دور کا تعلق بھی نہ تھا اور ہو بھی کیسے سکتا ہے جب کہ زمانہ جاہلیت ہی سے اس کے معاملات رائج اور جاری تھے پھر اس ارشاد کہ ان چھ چیزوں کے سود کے بارے میں حضرت عمر کو جو اشکال پیش آیا وہ بھی اس بات میں نہیں تھا کہ انہیں ان چھ چیزوں کے لین دین میں سود کو حرام سمجھنے میں تردد تھا بلکہ اشکال صرف یہ تھا کہ یہ حکم شاید ان چھ چیزوں (یعنی سونا چاندی اور گیہوں وغیرہ) تک ہی محدود نہ ہو بلکہ اس کے حکم کا دائرہ ان چھ چیزوں کے علاوہ دیگر اشیاء تک بھی وسیع ہو اس صورت میں ہوسکتا ہے کہ لوگ یہ خیال کر کے کہ آنحضرت ﷺ نے صرف چھ چیزوں کے بارے میں یہ حکم فرمایا ہے دیگر اشیاء کے لین دین میں وہی صورتیں اختیار کر کے سود میں مبتلا ہوجائیں جنہیں آپ ﷺ نے چھ چیزوں کے لئے واضح طور پر ربا کہا ہے اس تردد کے پیش نظر آپ نے لوگوں کو حکم دیا کہ سود کے ساتھ ساتھ ان چیزوں کو بھی قطعًا چھوڑ دو جن میں سود کا شائبہ تک نہ پایا جائے لہذا یہ ستم ظریقی نہیں تو اور کیا ہے کہ حضرت عمر نے اپنے اشکال کا نتیجہ تو یہ ظاہر فرمایا کہ منصوص چیزوں میں بھی ایسے معاملات سے پرہیز کیا جائے جن میں سود کا شبہ بھی پایا جائے اور ان لوگوں نے حضرت عمر کے اس ارشاد کا تعلق اس سود کی اس مخصوص قسم سے منقطع کر کے عام سود وربا کے معاملات سے جوڑ دیا اور پھر اس پر اکتفاء نہ کیا بلکہ مزید ستم یہ کیا کہ محض اپنی نافہمی کی وجہ سے حضرت عمر کے ارشاد کی روشنی میں سرے سے سود کی حرمت ہی کو ایک مشتبہ مسئلہ قرار دیدیا۔
قرض خواہ قرض دار کا کوئی تحفہ بھی قبول نہ کرے
وعن أنس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا أقرض أحدكم قرضا فأهدى إليه أو حمله على الدابة فلا يركبه ولا يقبلها إلا أن يكون جرى بينه وبينه قبل ذلك . رواه ابن ماجه والبيهقي في شعب الإيمان
حضرت انس کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص کسی کو قرض دے اور پھر قرض لینے والا اس قرض دینے والے کے پاس کوئی تحفہ بھیجے یا سواری کے لئے کوئی جانور دے تو وہ قرض دینے والا نہ اس جانور پر سوار ہو اور نہ اس کا تحفہ قبول کرے ہاں اگر قرض دینے والے اور قرض لینے والے دونوں کے درمیان پہلے سے تحفہ یا سواری کے جانور کا لینا دینا جاری ہو تو پھر اس کو قبول کرلینے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے (ابن ماجہ بیہقی)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ قرض خواہ اپنے قرض دار سے تحفہ وہدیہ کے طور پر کوئی بھی چیز قبول نہ کرے ممانعت کی وجہ یہ ہے کہ اس صورت میں سود کا اشتباہ ہوسکتا ہے کیونکہ قرض خواہ کو قرض کے ذریعہ جو بھی منفعت حاصل ہوتی ہے وہ سود کے حکم میں ہے ہاں اگر قرض کے لین دین سے پہلے ہی سے دونوں کے تعلقات کی نوعیت یہ ہو کہ ان کا آپس میں تحفہ تحائف لینے دینے کے رسوم جاری ہوں تو پھر اس صورت میں قرض لینے کے بعد بھی قرض دار کوئی چیز قرض خواہ کے پاس بھیجے تو قرض خواہ اسے قبول کرسکتا ہے کیونکہ ظاہر ہے کہ ایسی صورت میں قرضدار اگر کوئی چیز بطور تحفہ وہدیہ قرض خواہ کو دے گا تو اس کا وہ دینا قرض کے دباؤ کی وجہ سے نہیں ہوگا بلکہ اپنے سابقہ تعلقات اور پہلے سے جاری رسوم کی بنیاد پر ہوگا۔ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کے بارے میں منقول ہے کہ انہوں نے ایک شخص کو کچھ قرض دے رکھا تھا چناچہ ایک دین جب وہ اپنے قرض دار کے ہاں تقاضہ کے لئے گئے تو اس وقت بڑی سخت دھوپ اور گرمی کی شدید تپش تھی انہوں نے سوچا کہ اگرچہ شرعی طور پر اس کی ممانعت نہیں ہے مگر تقوی اور احتیاط کا تقاضہ یہی ہے کہ میں اس کی دیوار کے سائے سے بھی فائدہ حاصل نہ کروں چناچہ وہ قرض دار بہت دیر کے بعد گھر میں سے نکلا اور حضرت امام صاحب اس وقت تک دھوپ ہی میں کھڑے رہے یہ گویا ان کی احتیاط کا درجہ کمال تھا کہ انہوں نے اپنے قرض دار کی دیوار کے سایہ سے بھی اجتناب کیا۔ مالا بد منہ میں لکھا ہے کہ حدیث میں آیا ہے کہ جو قرض قرض خواہ کو نفع پہنچانے کا سبب بنے وہ ربا ہے لہذا قرض خواہ اپنے قرض دار کی دعوت بھی قبول نہ کرے ہاں اگر قرض سے پہلے سے دونوں کے درمیان ایک دوسرے کی دعوت میں آنے جانے کا معمول چلا آرہا ہو تو پھر اس صورت میں دعوت قبول کرلینے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے نیز یہ بھی لکھا ہے کہ قرض خواہ کے لئے اپنے قرضدار کی دیوار کے سائے میں بیٹھنا بھی مکروہ ہے۔ حضرت انس کہتے ہیں کہ رسول کریم نے فرمایا جو شخص کسی کو قرض دے تو وہ اپنے قرضدار سے بطور تحفہ بھی کوئی چیز قبول نہ کرے امام بخاری نے اس روایت کو اپنی تاریخ میں نقل کیا ہے نیز المنتقی میں بھی اسی طرح کی روایت منقول ہے۔ حضرت ابوبردہ بن ابی موسیٰ تابعی کہتے ہیں کہ جب میں مدینہ میں آیا اور حضرت عبداللہ بن سلام صحابی سے ملا تو انہوں نے فرمایا کہ تم ایک ایسی سر زمین پر ہو جہاں سود کا بہت رواج ہے لہذا اگر کسی پر تمہارا حق ہو یعنی کوئی تمہارا قرضدار ہو اور وہ تمہیں بھوسے کا ایک گھڑا یا جو کی ایک گٹھڑی یا گھاس کا ایک گٹھا بھی تحفہ کے طور پردے تو تم اسے قبول نہ کرنا کیونکہ وہ سود کا حکم رکھتا ہے ( بخاری) تشریح علماء لکھتے ہیں کہ (کل قرض جر نفعا فہو ربوا) (یعنی ہر قرض جس میں نفع لیا جائے سود ہے کے اصول کے تحت ہر وہ قرض جس میں کوئی نفع مشروط ہو ربا ہے۔ اسی طرح قرض دینے والے کو قرض لینے والے سے قرض کے دباؤ یا قرض کی رعایت سے جو بھی نفع حاصل ہوگا وہ سود ہوگا۔ مسئلہ اگر قرض خواہ اپنے قرض دار سے قرض کی ادائیگی سے پہلے کوئی نفع حاصل کرے تو دیکھا جائے گا کہ وہ نفع موعود ومشروط ہے یا نہیں اگر وہ نفع موعود ومشروط ہوگا تو اس صورت میں اس کی حرمت میں کوئی شبہ نہیں یعنی وہ نفع سود کے حکم میں ہوگا اور اگر وہ نفع موعود ومشروط نہیں ہوگا تو پھر اس کے بارے میں بھی علماء کے اختلافی اقوال ہیں حضرت امام محمد تو جواز کے قائل ہیں مگر ایک جماعت ممانعت کی طرف مائل ہے مگر بات یہی ہے کہ اگر وہ نفع قرض کے دباؤ یا قرض کی رعایت کی وجہ سے ہوگا یا مہلت وتسامح کی بناء پر حاصل ہوگا تو بہرحال ناجائز ہے ہاں اگر مروت و احسان یا سابقہ تعلقات ومراسم کے تحت ہوگا تو پھر اس کے جواز میں کوئی شبہ نہیں ہے۔ قرض میں لزوم مدت سے منع فرمایا گیا ہے لیکن صحیح یہ ہے کہ تعیین مدت سے کوئی خرابی واقع نہیں ہوتی اس لئے مسئلہ یہ ہے کہ اگر قرض ایک متعین مدت کی شرط کے ساتھ لیا دیا جائے گا تو وہ مدت بحیثیت شرط تو لازم ہوگی مگر بحیثیت قرض لازم نہیں ہوگی اگر قرض خوہ اس مدت سے پہلے اپنا قرض طلب کرے تو اسے یہ حق ہے اور قرضدار کو چاہئے کہ وہ حتی الامکان ادا کرنے کی کوشش کرے۔ اگر کوئی شخص کسی کو قرض دیتے وقت یہ شرط عائد کر دے کہ میرا یہ قرض فلاں شہر میں ادا کرنا تو یہ شرط بطریق لزوم ناجائز ہوگی۔ بعض لوگ سودی بینکوں میں اپنا روپیہ بطور امانت جمع کردیتے ہیں اور اس کا نفع وسود نہیں لیتے چونکہ جو روپیہ بنک میں جمع کیا جاتا ہے وہ یقینی طور پر بعینہ محفوظ نہیں رہتا بلکہ کاروبار میں لگا رہتا ہے اس لئے وہ امانت نہیں رہتا بلکہ قرض ہوجاتا ہے گو اس شخص نے سود نہیں لیا مگر اس نے ایک طرح سے قرض کے ذریعہ سود لینے والوں کی اعانت کی اور سود لینے دینے والوں کی اعانت بھی گناہ ہے اس لئے اپنے روپیہ کو بینک میں داخل کرنا بھی درست نہیں۔