قریش کے مناقب اور قبائل کے ذکر سے متعلق

Mishkaat-al-Masabih · Chapter 186 · 28 hadiths · Page 2 of 2

5938Mishkaat-al-Masabih

اہل عرب سے فریب ودغابازی آنحضرت ﷺ کی شفاعت خاص سے محرومی کا باعث ہے

وعن عثمان بن عفان قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من غش العرب لم يدخل في شفاعتي ولم تنله مودتي . رواه الترمذي وقال : هذا حديث غريب لا نعرفه إلا من حديث حصين بن عمر وليس هو عند أهل الحديث بذاك القوي

اور حضرت عثمان ابن عفان ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص اہل عرب سے فریب ودغابازی کرے گا وہ میری شفاعت میں داخل نہیں ہوگا اور نہ اس کو میری دوستی کی سعادت حاصل ہوگی، اس روایت کو ترمذی نے نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے اس روایت کو ہم حصین ابن عمر کے علاوہ اور کسی ذریعہ سے نہیں جانتے اور محدیثن کے نزدیک وہ (حصین ابن عمر) اس درجہ کے قوی نہیں ہیں۔ (ترمذی) تشریح غش (فریب ودغابازی) کا مطلب ہے، دھوکا دینا، دل میں تو کچھ ہو مگر زبان سے کچھ اور کہنا خیرخواہی نہ کرنا، کینہ رکھنا اور کسی کو اس بات پر ابھارنا جو اس کے مفاد و مصلحت کے خلاف ہو شفاعت سے شفاعت صغریٰ یعنی خصوصی شفاعت مراد ہے نہ کہ شفاعت کبریٰ جو بہرحال ہر ایک امتی کے لئے ہوگی۔ دوستی کی سعادت حاصل نہ ہونے سے یا تو یہ مراد تھی کہ اس شخص کو کبھی یہ مرتبہ حاصل نہیں ہوسکتا کہ میں اس کو اپنا دوست رکھوں یا آپ ﷺ کی مراد یہ تھی کہ اس شخص کو کبھی یہ سعادت حاصل نہیں ہوسکتی کہ وہ مجھے اپنا دوست و محبوب رکھے بہرحال دونوں صورتوں میں مراد نفی کمال ہے۔ اور وہ اس درجہ کے قوی نہیں ہیں امام ترمذی (رح) کے ان الفاظ کا مطلب یہ ہوا کہ عمران ابن حصین (رح) چونکہ روایت حدیث میں قوی نہیں سمجھے جاتے اس لئے ان کی روایت کردہ یہ حدیث ضعیف کہلائے گی، لیکن اول تو یہ فضائل کے سلسلہ میں ضعیف حدیث بھی معتبر مانی جاتی ہے دوسرے یہ کہ اس روایت کی تائید ان بہت سی حدیثوں سے ہوتی ہے جو تواتر معنوی کی حد تک پہنچی ہوئی ہیں، مثلا حاکم نے حضرت انس ؓ سے آنحضرت ﷺ کا یہ ارشاد نقل کیا ہے کہ۔ حب العرب ایمان وبغضہم نفاق۔ اہل عرب کی دوستی ایمان ہے اور ان سے بغض رکھنا نفاق ہے طبرانی نے اوسط میں حضرت انس ؓ سے یہ روایت نقل کی ہے حب قریش ایمان وبغضم کفر وحب العرب ایمان وبغضم کفرفمن احب العرب فقد احبنی ومن ابغض العرب فقدابغضنی۔ قریش سے دوستی رکھنا ایمان ہے اور ان سے بغض رکھنا کفر ہے نیز عرب سے محبت رکھنا ایمان ہے، عرب سے بغض رکھنا کفر ہے پس جس نے عرب سے محبت رکھی اس نے درحقیقت مجھ سے محبت رکھی اور جس نے عرب سے بغض رکھا اس نے درحقیقت مجھ سے بغض رکھا۔۔ علامہ طبرانی نے کبیر میں حضرت سہل ابن سعد سے یہ حدیث نقل کیا ہے احبوا قریشافانہ من احبہم احبہ اللہ۔ قریش کو دوست رکھو کیونکہ جس نے قریش کو دوست رکھا اس کو اللہ دوست رکھے گا۔ حاکم مستدرک میں حضرت ابوہریرہ ؓ آنحضرت ﷺ کا یہ ارشاد گرامی نقل کیا ہے کہ احبوالفقراء وجالسوہم واحبوا العرب من قلبک ویسرک من الناس ماتعلم من نفسک۔ فقراء و مساکین سے محبت رکھو اور ان میں بیٹھا کرو اور اہل عرب سے دلی محبت رکھو اور چاہئے کہ وہ عیوب کہ جو تم خود اپنے میں پاتے ہو تمہیں دوسروں کی گیری سے باز رکھیں۔

5939Mishkaat-al-Masabih

ایک پیشین گوئی

وعن أم حرير مولاة طلحة بن مالك قالت : سمعت مولاي يقول : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : من اقتراب الساعة هلاك العرب رواه الترمذي

اور حضرت ام حریر رحمہا اللہ تعالیٰ علیہ (تابعیہ) جو ایک صحابی حضرت طلحہ ابن مالک کی آزاد کردہ باندی ہیں کہتی ہیں کہ میں نے اپنے آقا (حضرت طلحہ) کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ رسول کریم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے قرب قیامت کی علامتوں میں سے ایک علامت اہل عرب کا ہلاک ہوجانا ہے۔ (ترمذی) تشریح اہل عرب سے مراد یا تو مسلمان عرب ہیں یا جنس عرب (یعنی تمام عرب خواہ مسلمان ہوں یا غیر مسلمان) بہرحال مطلب یہ ہے کہ جب اہل عرب اس دنیا سے اٹھ جائیں تو سمجھو کہ قیامت آیا چاہتی ہے، اس حدیث میں اس طرف اشارہ ہے کہ عرب کو قیادت وسیاست کا مقام حاصل ہے، تمام غیر عرب ان کے تابع ہیں واضح رہے کہ جب قیامت آئے گی تو اس وقت صرف بدکار (برے لوگ ہی) اس دنیا میں ہونگے کوئی بھی کلمہ گو (توحید و رسالت پر ایمان و اعتقاد رکھنے والا) موجود نہیں ہوگا۔

5940Mishkaat-al-Masabih

خلافت وامارت قریش کو سزاوار ہے

وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الملك في قريش والقضاء في الأنصار والأذان في الحبشة والأمانة في الأزد يعني اليمن . وفي رواية موقوفا . رواه الترمذي وقال : هذا أصح

اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا خلافت و بادشاہی قریش میں ہے، قضاء انصار میں اذان حبشیوں میں ہے، امانت ازد (یعنی شنود) میں ہے (جو یمن کا ایک قبیلہ ہے یا یہ کہ) ازد سے آپ ﷺ کی مراد تمام اہل یمن تھے ایک روایت میں ہے یہ حدیث حضرت ابوہریرہ ؓ کی موقوف حدیث کے طور پر منقول ہے اور امام ترمذی (رح) نے جو اس روایت کو کے عاقل ہیں کہا ہے کہ یہی بات زیادہ صحیح ہے (یعنی سند کے اعتبار سے وہ روایت زیادہ صحیح ہے جو حدیث موقوف کے طور پر نقل ہوئی ہے)۔ تشریح قضا سے مراد نقابت ہے نقابت کے معنی ہیں نقیب بننا، یعنی نگران حال، خبر رکھنے والا، نبی کریم ﷺ نے لیلۃ العقبہ میں انصار کی ہر شاخ و قبیلہ کا ایک نقیب مقرر کردیا تھا جس کا کام یہ تھا کہ وہ اپنے قبیلہ میں اسلام کی تبلیغ و اشاعت کرے لوگوں کو سمجھا بجھا کر اسلام کی طرف مائل کرے اور جو لوگ مسلمان ہوجائیں ان کے حالات و معاملات کا نگران رہے چناچہ ان نقیبوں نے اپنے فرائض منصبی کو نہایت خوش اسلوبی ہوشیاری اور پوری تندہی کے ساتھ انجام دیا اور دربار رسالت سے تعریف وتحسین کے مستحق قرار پائے۔ اور بعض حضرات نے یہ لکھا ہے کہ اس ارشاد گرامی میں قضاء کا لفظ اپنے معروف معنی ہی میں استعمال ہوا ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت معاذ کو جو جلیل القدر صحابی ہیں، یمن کا قاضی بنا کر بھیجا تھا، یہ قول زیادہ واضح اور زیادہ قرین قیاس ہے۔ اذان حبشیوں میں ہے کا مطلب یہ تھا کہ اذان دینے کی خدمت حبشی لوگ زیادہ عمدگی اور زیادہ موزونیت کے ساتھ انجام دیتے ہیں، آپ ﷺ نے یہ بات حضرت بلال ؓ کو سامنے رکھ فرمائی جو آپ ﷺ کے مؤذنوں کے سردار تھے اور وہ حبشی تھے۔ امانت ازد میں ہے میں ازد کے لفظ سے کیا مراد ہے اس بارے میں دو قول ہیں ایک تو یہ کہ اس سے یمن کا وہی مشہور قبیلہ مراد ہے جس ازدشنوہ کہا جاتا ہے اور ارشاد گرامی کا مطلب یہ ہے کہ امانت کی ذمہ داری نہایت اطمینان بخش طور پر قبیلہ ازد شنوہ کے یمنی لوگ انجام دیتے ہیں اور دوسرا قول اس راوی کا ہے کہ جنہوں نے روایت میں یعنی الیمن کے الفاظ کا اضافہ کر کے یہ بتایا ہے کہ ازد سے یمن کا صرف ایک قبیلہ ازد شنوہ مراد نہیں ہے بلکہ بالعموم تمام اہل یمن مراد ہیں جیسا کہ ایک روایت میں اہل یمن کے بارہ عمومی طور پر فرمایا گیا ہے کہ وہ رقیق القلب ہیں اہل امن اور اہل ایمان ہیں۔ بہرحال حدیث کا مجموعہ حاصل یہ ہے کہ ان مناصب یعنی قضایا نقابت، مؤذنی اور امانت کے لئے افراد کا انتخاب کرتے وقت مذکورہ قبائل کے لوگوں کو ترجیح دینی چاہئے کیونکہ ان قبائل کے لوگوں میں ان مناصب کی ذمہ داری و خدمت انجام دینے کی مخصوص صلاحیت اور اس سلسلہ میں ان کو ایک خاص نسبت حاصل ہے۔

5941Mishkaat-al-Masabih

قریش کے بارے میں ایک پیش گوئی

عن عبد الله بن مطيع عن أبيه قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول يوم فتح مكة : لا يقتل قرشي صبرا بعد هذا اليوم إلى يوم القيامة . رواه مسلم

حضرت عبداللہ ابن مطیع تابعی (جوسادات قریش میں سے ہیں) اپنے والد (حضرت مطیع صحابی) جن کا اصل نام عاصی یا عاص تھا اور اور آنحضرت ﷺ نے ان کا نام تبدیل کرکے مطیع رکھ دیا تھا) روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا میں نے رسول کریم ﷺ کو فتح مکہ کے دن یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ (فتح مکہ کے دن) کے بعد سے قیامت کے دن تک کسی قرشی کو حبس وقید کر کے نہیں مارا جائے گا (یہ اور بات ہے کہ دشمن کے مقابلہ پر جنگ وجدل میں مارے جائیں )۔ (مسلم ) تشریح حبس وقید کرکے نہیں مارا جائے گا سے کیا مراد ہے، اس بارے میں علماء کے اختلافی اقوال ہیں ملا علی قاری نے طیبی کا یہ قول نقل کیا ہے کہ یہاں نفی سے نہی مراد ہے مطلب یہ کہ اس ارشاد گرامی سے آنحضرت ﷺ کا مقصد مختلف اعتراض کرکے اس کو بگاڑ دیا ہے اور پھر حمیدی کا یہ قول نقل کیا ہے کہ بعض محدیثن نے اس ارشاد گرامی کی تاویل کی ہے اور کہا ہے کہ اس کے معنی یہ ہے کہ آج فتح مکہ کے دن کے بعد سے قیامت کے دن تک ایسی نوبت کبھی نہیں آئے گی کہ کوئی قریشی شخص اسلام سے مرتد ہوجائے اور پھر اسلامی قانون کے مطابق اس کو حبس وقید میں ڈال دیا جائے اور وہ ارتداد (یعنی کفر) پر ثابت وقائم رہے یہاں تک کہ اس کو قتل کردیا جائے اس تاویل کی بنیاد یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ بعد کی ایسی مثالیں تو موجود ہیں جب کسی قریشی شخص کو اس بناء پر قیدوبند میں ڈال کر موت کے گھاٹ اتارا گیا کہ وہ اسلام سے کفر و انکار اور اسلام دشمنی پر قائم تھا لیکن کوئی ایسی مثال نہیں پائی جاتی جب کوئی قریشی مسلمان مرتد ہوگیا ہو اور اس بنا پر اس کو قید وبند میں ڈال کر قتل کردیا گیا ہو کہ وہ اپنے ارتداد سے باز نہیں آیا اور کفر پر قائم وثابت رہا، لہٰذا اس ارشاد گرامی کا حاصل یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ قریش کے دلوں میں دین و ایمان اس طرح راسخ کردے گا اور ان کو اسلام کے راستہ پر اس مضبوطی سے لگا دے گا کہ کبھی بھی ان میں کا کوئی شخص مرتد نہیں ہوگا، جس کے سبب اس کو قید وبند میں ڈال کر قتل کردینے کی نوبت آئے اس کی تائید اس روایت سے ہوتی ہے کہ ان الشیطان قد ایس من جزیرۃ العرب (حقیقت یہ ہے کہ شیطان جزیرۃ العرب سے مایوس ہوگیا ہے)۔

5942Mishkaat-al-Masabih

حجاج کے سامنے حضرت اسماء کی حق گوئی

وعن أبي نوفل معاوية بن مسلم قال : رأيت عبد الله بن الزبير على عقبة المدينة قال فجعلت قريش تمر عليه والناس حتى مر عليه عبد الله بن عمر فوقف عليه فقال : السلام عليك أبا خبيب السلام عليك أبا خبيب السلام عليك أبا خبيب أما والله لقد كنت أنهاك عن هذا أما والله لقد كنت أنهاك عن هذا أما والله لقد كنت أنهاك عن هذا أما والله إن كنت ما علمت صواما قواما وصولا للرحم أما والله لأمة أنت شرها لأمة سوء - وفي رواية لأمة خير - ثم نفذ عبد الله بن عمر فبلغ الحجاج موقف عبد الله وقوله فأرسل إليه فأنزل عن جذعه فألقي في قبور اليهود ثم أرسل إلى أمه أسماء بنت أبي بكر فأبت أن تأتيه فأعاد عليها الرسول لتأتيني أو لأبعثن إليك من يسحبك بقرونك . قال : فأبت وقالت : والله لا آتيك حتى تبعث إلي من يسحبني بقروني . قال : فقال : أروني سبتي فأخذ نعليه ثم انطلق يتوذف حتى دخل عليها فقال : كيف رأيتني صنعت بعدو الله ؟ قالت : رأيتك أفسدت عليه دنياه وأفسد عليك آخرتك بلغني أنك تقول له : يا ابن ذات النطاقين أنا والله ذات النطاقين أما أحدهما فكنت أرفع به طعام رسول الله صلى الله عليه و سلم وطعام أبي بكر من الدواب وأما الآخر فنطاق المرأة التي لا تستغني عنه أما إن رسول الله صلى الله عليه و سلم حدثنا : أن في ثقيف كذابا ومبيرا . فأما الكذاب فرأيناه وأما المبير فلا إخالك إلا إياه . قال فقام عنها ولم يراجعها . رواه مسلم

حضرت ابونوفل معاویہ ابن مسلم تابعی (رح) بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ ابن زبیر ؓ (کی نعش) کو مدینہ (کے راستہ پر واقع مکہ) کی گھاٹی میں (ایک سولی پر لٹکے ہوئے) دیکھا ابونوفل کہتے ہیں کہ قریش کے لوگوں نے اس نعش کے پاس آنا جانا شروع کیا اور دوسرے لوگ بھی آتے جاتے رہے یہاں کہ حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ بھی وہاں آئے اور نعش کے سامنے کھڑے ہو کر یوں گویا ہوئے السلام علیک اے ابوخبیب! السلام علیک اے ابوخبیب السلام علیک ابوخبیب! اگاہ ہو، اللہ کی قسم میں تم کو منع نہیں کرتا تھا آگاہ ہو اللہ کی قسم، میں تم کو اس کام سے منع کرتا تھا، میں تم کو اس کام سے منع کرتا تھا، (تین مرتبہ یہ الفاظ کہنے کے بعد پھر انہوں نے کہا) آگاہ ہو اللہ کی قسم، بلاشبہ تم وہ شخص تھے جس کو میں جانتا تھا کہ بہت زیادہ روزے رکھنے والے بہت زیادہ شب بیدار وشب خیز اور اہل قرابت سے بہت زیادہ احسان و سلوک کرنے والے ہو، آگاہ ہو اللہ کی قسم وہ گروہ جس کی نظر میں تم برے ہو یقینا ایک برا اور بدترگروہ ہے اور ایک روایت میں لامۃ سوئ کے بجائے لامۃ خیر کے الفاظ ہیں اس کے بعد حضرت ابن عمر وہاں سے چلے گئے، پھر جب یہ خبر حجاج کے پاس پہنچی کہ عبداللہ ابن زبیر کی نعش کے پاس) کھڑے ہو کر ایسا ویسا کہا ہے تو اس نے (فورا) ایک آدمی بھیجا اور نعش کو اس لکڑی (یعنی سولی) پر سے اتروا کر یہودیوں کے قبرستان میں ڈلوادیا پھر حجاج نے ابن زبیر کی والدہ حضرت اسماء (دختر حضرت ابوبکر صدیق) کے پاس ایک آدمی بھیجا ( اور ان کو طلب کیا) حضرت اسماء نے اس کے ہاں آنے سے انکار کردیا، حجاج نے دوبارہ آدمی بھیجا اور کہلایا کہ یا تو فوراچلی جاؤ ورنہ پھر ایک ایسے آدمی کو بھیجوں گا جو تمہاری چوٹی پکڑ کر کھنچتا ہوا یہاں لائے گا، ابونوفل کہتے ہیں کہ حضرت اسماء نے پھر انکار کردیا اور حجاج کو کہلابھیجا کہ اللہ کی قسم میں تیرے پاس ہرگز نہیں آوں گا اب تو تو کسی ایسے آدمی کو بھیج کر دیکھ لے جو میری چوٹیاں پکڑ کر مجھے کھینچتا ہوا لے جائے، روای کہتے ہیں کہ حجاج (نے یہ سنا تو آگ بگولا ہوگیا اور بڑے غضب ناک انداز میں) لاؤ میری جوتیاں میرے سامنے رکھو، پھر اس نے اپنی جوتیاں پیروں میں ڈالیں اور اکڑتا اتراتا ہوا تیز تیز چل کر حضرت اسماء کے ہاں پہنچا اور (زہریلے لہجہ میں) ان سے بولا کہ (ذرا بتانا) تم نے اس دشمن اللہ (یعنی اپنے بیٹے ابن زبیر) کے ساتھ سلوک کرنے میں مجھے کیسا پایا! حضرت اسمائ بولیں میں نے تو ایسا پایا کہ تو نے اس کی دنیا تباہ کردی اور اس نے تیری عاقبت کا ستیاناس کردیا (یعنی اس ظالمانہ قتل نے تجھے عذاب دوزخ کا مستوجب بنادیا ہے اور ہاں مجھے معلوم ہے کہ تو میرے بیٹے ابن زبیر کو (اس کی زندگی میں یا اس کی شہادت کے بعد) دو کمر بند والی عورت کا بیٹا کہہ کر مخاطب کرتا تھا؟ (تو سن لے) اللہ کی قسم میں بلاشبہ دو کمربند والی عورت ہوں، ایسے دو کمر بند کہ جن میں ایک کمربند تو وہ تھا جس کے ذریعہ میں آنحضرت ﷺ اور حضرت ابوبکر کھانا جانوروں سے محفوظ رکھتی تھی اور دوسرا کمر بند عورت کا وہ کمربند تھا جس سے کوئی عورت بےپرواہ نہیں ہوسکتی اور یاد رکھ ہم سے رسول کریم ﷺ نے یہ حدیث ارشاد فرمائی تھی کہ قبیلہ ثقیف میں ایک نہایت درجہ کا جھوٹا شخص پیدا ہوگا اور ایک درجہ کا مفسد وہلاکو، تو تیرے بارے میں ہمارا خیال ہے کہ وہ مفسدوہلاکو، جس کی خبر آنحضرت ﷺ نے دی تھی تو ہی ہے، راوی ابونوفل کا بیان ہے کہ (یہ الفاظ سن کر) حجاج حضرت اسمائ کے پاس سے اٹھ کھڑا ہوا اور ان کو کوئی جواب نہیں دیا (مسلم) تشریح مدینہ کی گھاٹی سے مراد مکہ شہر کا بالائی سرا ہے جو مشرقی سمت واقع ہے، مدینہ کا راستہ چونکہ اسی جگہ سے گزرتا ہے اور مدینہ سے آنے والے یہیں سے مکہ شہر میں داخل ہوتے تھے اس مناسبت سے اس کو مدینہ کی گھاٹی سے تعبیر کیا گیا جب ظالم حجاج ابن یوسف نے اپنے لشکر جرار کے ذریعہ حضرت عبداللہ ابن زبیر کو مسجد حرام میں محصور کرکے نہایت بےدردی سے شہید کیا تو بعد میں اس نے نعش مبارک کو مذکورہ جگہ ایک سولی پر لٹکا دیا تھا اور پھر اسی جگہ کے قریب حجون یعنی جنت المعلاۃ میں ان کی تدفین عمل میں آئی لیکن اب تو ان کی قبر کا کوئی نشان باقی بھی نہیں ہے اور نہ کوئی یہ بتاسکتا ہے کہ ان کی قبر کس جگہ تھی، اسی طرح جنت المعلی میں اور جو صحابہ کرام مدفون ہوئے ان کی قبریں بھی متعین و معلوم نہیں ہیں حضرت خدیجہ الکبری کی قبر بھی اسی جنت المعلاۃ میں ہے مگر ان کی قبر بھی اسی طرح غیر معلوم تھی، ایک زمانہ میں کسی بزرگ نے خواب کی بنیاد پر ان کی قبر کا تعین کیا تھا اور اس قبر پر قبہ بھی بنایا گیا تھا اب وہ بھی بےنشان ہے۔ میں نے تم کو اس کام سے منع کیا تھا میں کام سے مراد یزید ابن معاویہ سے خروج اور اپنی خلافت وامارت کا دعویٰ ہے جو حضرت عبداللہ ابن زبیر نے کیا تھا اس کی مختصر تفصیل یہ ہے کہ حضرت امیر معاویہ کے بعد ان کا بیٹا یزید تخت خلافت وامارت پر بیٹھا تو حضرت عبداللہ بن زبیر نے ان کی اطاعت وبیعت سے انکار کردیا اور مکہ مکرمہ کے لوگوں نے اس کے ہاتھ پر بیعت کرکے ان کی خلافت کا اعلان کردیا۔ حضرت عبداللہ ابن زبیر نے چونکہ جلیل القدر صحابی اور بلند وبالانسبتوں کے اعتبار سے بہت زیادہ عزت ومنزلت رکھتے تھے اس لئے جلد ہی ان کی خلافت کو قبول کرنے والوں کا حلقہ بہت وسیع ہوگیا اور مختلف علاقوں اور خطوں پر کنڑول حاصل ہوگیا بلکہ جیسا کہ مؤرخین لکھتے ہیں شام کے علاوہ تقریبا ًتمام ہی عالم اسلام میں وہ خلیفہ تسلیم کرلئے گئے۔ یزید کے بعد پھر مروان ابن حکم اور اس کے بعد عبد الملک ابن مروان کی امارت کو بھی تسلیم نہیں کیا اور بدستور اپنی خلافت کے دعوے اور اقتدار پر قائم رہے لیکن عبد الملک ابن مروان نے ان کے خلاف زبردست فوجی کاروائی کی اور حجاج ابن یوسف ثقفی کو لشکر جرار کے ساتھ مکہ مکرمہ پر حملہ کرنے کے لئے روانہ کیا، حضرت عبداللہ ابن زبیر نے اپنے قلیل ترین ساتھیوں کے ساتھ حجاج کی زبردست فوج کا جس بہادری وپامردی کے ساتھ مقابلہ کیا وہ شجاعت وبہادری اور عزیمت وجرأت کی تاریخ کانادرالمثال کارنامہ ہے آخر کار جام شہادت نوش کیا، بدبخت حجاج نے ان کا سرتن سے جدا کرکے مدینہ منورہ روانہ کیا اور باقی جسم سولی پر لٹکا دیا، اس سے پہلے یہی لشکر مدینہ منورہ پر حملہ آور ہوا تھا، اس وقت یزید زندہ تھا (اس لشکر نے مدینہ منورہ کو جس طرح تباہ و برباد کیا اور وہاں کے لوگوں کا جس طرح قتل عام کیا وہ واقعہ حرہ کے نام سے اپنی لرزہ خیز تفصیل کے ساتھ تاریخ کی کتابوں میں مذکور ہے۔ پس حضرت عبداللہ ابن عمر نے سولی پر لٹکی ہوئی حضرت زبیر کی نعش کے سامنے کھڑے ہو کر انہی دلدوز واقعات اور ظالم وفاسد لوگوں کے اس گروہ کی وحشیانہ کاروائیوں پر تاسف وتحسر کا اظہار کرتے ہوئے حضرت ابن زبیر کو مخاطب کیا اور کہا کہ میں نے تمہیں پہلے ہی منع کیا کرتا تھا کہ تم ان ظالموں اور بد کر داروں کے مقابلے نہ آؤ اور ان کا معاملہ اللہ کے سپرد کرکے یکسو ہوجاؤ مگر تم نہ مانے حق کی حکمرانی قائم کرنے کے تمہارے اس پاک جذبے نے تمہیں خلافت کے دعوے پر مجبور رکھا اور تم نتائج سے بےپرواہ ہو کر ان دنیا دار اور مفسد حکمرانوں کے خلاف ڈٹے رہے آخر کار تمہیں اس لرزہ خیز انجام سے دوچار ہونا پڑا۔ تم بہت زیادہ روزے رکھنے والے بیان کیا جاتا ہے کہ حضرت عبداللہ ابن زبیر بہت ہی زیادہ روزے رکھا کرتے تھے ایسا بھی ہوتا تھا کہ پندرہ پندرہ دن تک مسلسل روزے سے رہا کرتے تھے جس کو طے روزے کہا جاتا ہے اور پوری پوری رات نوافل، تلاوت اور ذکر اللہ میں گزارا کرتے تھے قرابتداروں سے حسن سلوک کے معاملہ میں امتیازی شہرت رکھتے تھے حضرت عبداللہ ابن عمر نے اس موقع پر حضرت ابن زبیر کے ان اوصاف کا ذکر اس لئے کیا کہ حجاج ان کو عدو اللہ (اللہ کا دشمن) اور ظالم کہا کرتا تھا اور نہ معلوم کیا کیا واہی تباہی بکا کرتا تھا لہٰذا حضرت عبداللہ ابن عمر نے ضروری سمجھا کہ حضرت ابن زبیر کی وہ خوبیاں اور نیکیاں بیان کریں جن سے حجاج کو لغو وبے ہودہ باتوں کی تردید ہو اور عام لوگوں پر واضح ہوجائے کہ ابن زبیر کس پایہ کے عابد وزاہد اور بلند مرتبہ مسلمان تھے۔ اور ایک روایت لامۃ خیر کے الفاظ ہیں، یعنی اصل روایت میں تو یہ ہے کہ حضرت عبداللہ ابن عمر نے حجاج ابن یوسف اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں میں واضح الفاظ کے ذریعہ اپنا یہ تاثر بیان کیا کہ جو گروہ عبداللہ ابن زبیر کو برا اور حق سے ہٹا ہوا سمجھتا ہے۔ دراصل خود وہی گروہ اپنی بد اعتقادی اور اپنے خیال فاسد کی بناء پر ایک برا اور بدتر گروہ ہے کہ تم جیسے شخص کو شریر اور فسادی لوگوں میں شمار کرتے ہیں۔ لیکن ایک روایت میں یہاں ایک برا اور بدتر گروہ ہے کے بجائے یہ ہے کہ وہ کیا ہی اچھا گروہ ہے ان الفاظ میں بھی اسی تاثر کا اظہار مقصود ہے جو اصل روایت سے ظاہر ہے، فرق صرف اتنا ہے کہ اس دوسری روایت کے مطابق حضرت ابن عمر نے گویا طنزوتعریض اور استہزاء کا اسلوب اختیار کیا جیسا کہ عام طور پر کسی برے اور فسادی شخص کی شرارت اور بدطینی پر چوٹ کرنے کے لئے کہہ دیتے ہیں کہ واہ میاں تم بھی کیا خوب ہو آپس میں تفرقہ ڈلواتے ہو، تاہم زیادہ موزوں اور قریب الفہم وہی الفاظ ہیں جو اصل روایت میں مذکور ہیں۔ یہودیوں کے قربستان میں ڈلوادیا یعنی مکہ میں رہنے والے یہودی یا باہر سے آئے ہوئے اتفاقا مکہ میں مرجانے والے یہودی جس جگہ دفن کئے جاتے ہیں وہاں حجاج نے حضرت عبداللہ ابن زبیر کی نعش ڈلوادی تھی۔ لیکن یہ بات اس کے منافی نہیں کہ حضرت عبداللہ ابن زبیر کی تدفین جنت المعلاۃ میں عمل میں آئی تھی، کیونکہ یہ صورت حال ابتداء پیش آئی تھی کہ ان کی نعش یہودیوں کے قبرستان میں ڈلوادی گئی تھی، لیکن پھر بعد میں ان کی نعش مبارک کو وہاں سے اٹھا کر جنت المعلاۃ میں دفن کیا گیا تھا، واضح رہے کہ اب تو بہت زمانہ سے وہ جگہ متعارف نہیں ہے جہاں یہودیوں کا قبرستان یا ان کی قبریں تھیں لیکن اس زمانہ میں ایسی کوئی جگہ ضرور تھی جو یہودیوں کی قبروں کے لئے مخصوص تھی اور اسی لئے حجاج نے حکم دیا تھا کہ عبداللہ ابن زبیر کی نعش کو سولی سے اتار کریہودیوں کے قبرستان میں ڈال دیا جائے۔ لاؤ میری جوتیاں میرے سامنے رکھو یہ ارونی سبتی کا مطلب ترجمہ ہے۔ سبتی دراصل ی متکلم کے ساتھ سبتیۃ کا تثنیہ ہے اور سبتیۃ اس پاپوش کو کہتے تھے جو دباغت دئیے ہوئے اور بال وغیرہ سے بالکل صاف نرم چمڑے کا بنا ہوتا تھا، اس زمانہ میں امراؤسلاطین اور عیش پسند لوگ اسی طرح کے جوتے پہنا کرتے تھے۔ دو کمر بند والی عورت ذات النطاقین کا ترجمہ ہے اور یہ حضرت اسماء بنت ابی بکر صدیق کا لقب تھا جو آنحضرت ﷺ نے ایک خاص واقعہ کی بناء پر مرحمت فرمایا تھا۔ ہوا یہ تھا کہ جب آنحضرت ﷺ ہجرت کے موقع پر حضرت ابوبکر صدیق کے ہمراہ ان کے مکان سے روانہ ہو رہے تھے تو حضرت اسماء نے ان دونوں کے لئے کچھ توشہ تیار کیا تھا۔ توشہ دان باندھنے کے لئے انہیں کوئی تسمہ وغیرہ نہیں ملا تو انہوں نے اپنا کمر بند پھاڑ کر اس کے دو ٹکڑے کئے، ایک ٹکڑے سے توشہ دان باندھا اور دوسرے ٹکڑے کو اپنی کمر پر لپیٹ لیا۔ دراصل نطاق کا ترجمہ کمربند کے بجائے کمر پٹہ کرنا زیادہ موزوں ہے، اس زمانہ میں جب کہ عرب عورتوں میں پاجامہ وشلوار جیسی چیز کا زیادہ رواج نہیں تھا، وہ اپنے تہ بند کے اوپر کمر پٹہ استعمال کیا کرتی تھیں تاکہ کام کاج کرتے وقت تہ بند کے کھلنے کا امکان نہ رہے، بہرحال اس موقع پر حضرت اسماء نے جس بےساختگی کے ساتھ اپنا کمرپٹہ کھول کر اس کے دو حصے کرکے گویا دو نطاق بنائے اس کی مناسبت سے آنحضرت ﷺ نے ان کو ذوالنطاقین کے لقب سے نوازا۔ اس اعتبار سے یہ لقب خود ان کے لئے توفخر کا موجب تھا کہ اپنی کوئی چیز آنحضرت ﷺ کے استعمال وکام میں آجائے اس سے بڑی فضیلت اور کیا ہوسکتی ہے لیکن نادان حجاج ان کے اس لقب کو ان کی حقارت پر محمول کرتا تھا کہ ان کو ایک چیز کے ذریعہ ملقب کیا گیا جو عام طور پر گھروں کا کام کاج کرنے والی عورتوں اور باہر نکلنے والی خادماؤں کی علامت ہے۔ ہاں، اللہ کی قسم میں دو کمربند والی عورت ہوں ذوالنطاقین کا لقب حجاج کے خیال فاسد کے برخلاف حضرت اسماء کے لئے چونکہ تفاخر دارین کا موجب تھا اس لئے انہوں نے نہ صرف یہ کہ اس لقب کو فخر کے ساتھ قبول و تسلیم کیا اور حجاج کے سامنے اس کا برملا اظہار و اعتراف بھی کیا بلکہ اس کے بعد وہ وجہ بیان کی جس نے ان کو اس اعزاز تک پہنچایا۔ چناچہ انہوں نے واضح کیا کہ میں نے اپنے ایک کمر بند کے جو دو کمر بند کرلئے تھے ان میں ایک کے ذریعہ تو آنحضرت ﷺ اور حضرت ابوبکر کا کھانا دسترخوان میں لپیٹ کر کسی اونچی جگہ لٹکا دیتی تھی، تاکہ جانوروں یعنی چوہے اور چیونٹی وغیرہ سے محفوظ رہے اور دوسرا کمر بند اس کام کے لئے تھا جس سے کوئی عورت بےپرواہ نہیں ہوسکتی، بےپرواہ نہیں ہوسکتی کا ایک مطلب تو یہ ہوسکتا ہے کہ کسی بھی عورت کی تعریف وتحسین اسی صورت میں ہوتی ہے جب وہ اپنے گھر کا کام کاج پوری لگن اور پوری ذمہ داری کے ساتھ کرتی ہو، نطاق یعنی کمر بند یا کمر پٹہ کا اصل مقصد یہ ہوتا تھا کہ عورت اس اپنے تہبند پر باندھ لے تاکہ اس کو تہ بند کھل جانے کا خوف نہ ہو اور وہ اپنے گھر کا کام کاج پورے اطمینان سے کرسکے پس حضرت اسماء نے اس طرف اشارہ فرمایا کہ جو عورت اپنے گھر سے اور اپنے گھر کے کام کاج سے دلچسپی رکھتی ہو وہ نفاق سے بےنیاز نہیں ہوسکتی، دوسرا مطلب یہ ہے کہ عورتوں میں نطاق کا ایک استعمال اس مقصد کے لئے بھی ہوتا تھا کہ پیٹ بڑھنے نہ پائے۔ جیسا کہ ایک زمانے میں عورتوں میں اس کا رواج تھا کہ وہ اپنے پیٹ کی ہیت درست رکھنے کے لئے چمڑے کا کمر پٹہ استعمال کرتی تھیں بلکہ مالدار عورتیں تو سونے چاندی کے کام کا کمر پٹہ باندھتی تھیں، پس حضرت اسماء نے اس طرف اشارہ کیا کہ دوسرا انطاق میں اس مقصد کے لئے استعمال کرتی تھی اور یہ ایک ایسا مقصد تھا جس سے کوئی عورت بےپرواہ نہیں ہوسکتی تھی۔ اور ان کو کوئی جواب نہیں دیا یہ بہادر خاتون حضرت اسماء کی جرأت وبے با کی اور حق گوئی کا اثر تھا کہ ظالم حجاج جیسا شخص ان کی باتیں سن کر خاموش ہوگیا اور ان کا جواب دینے کی جرات نہ کرسکا، منقول ہے کہ حضرت اسماء اپنے بیٹے عبداللہ ابن زبیر کے سانحہ شہادت کے بیس دن بعد انتقال کر گئیں اس وقت ان کی عمر سو سال تھی اور ان کا ایک بھی دانت نہیں ٹوٹا تھا۔ علامہ نووی نے اس حدیث کی شرح میں لکھا ہے کہ حضرت عبداللہ ابن عمر نے حضرت عبداللہ ابن زبیر کی نعش کے سامنے کھڑے ہو کر ان کو جو سلام کیا اس سے معلوم ہوا کہ میت کو سلام کرنا اور ایک سے زائد مرتبہ کرنا مستحب ہے۔ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ میت کے سامنے ان خوبیوں اور اصاف کو بیان کرنا جن کے ذریعہ وہ مشہور تھا جائز ہے۔ اس حدیث سے حضرت عبداللہ ابن عمر کی بھی زبردست فضیلت وخصوصیت واضح ہوتی ہے کہ وہ حق بات کہنے سے باز نہ رہے باوجودیکہ وہ جانتے تھے کہ یہاں میں جو کچھ کہوں گا اس کا ایک ایک لفظ حجاج تک پہنچے گا۔

5943Mishkaat-al-Masabih

خلافت کا دعویٰ کرنے سے حضرت عبداللہ بن عمر کا انکار

وعن نافع عن ابن عمر أتاه رجلان في فتنة ابن الزبير فقالا : إن الناس صنعوا ما ترى وأنت ابن عمر وصاحب رسول الله صلى الله عليه و سلم فما يمنعك أن تخرج ؟ فقال : يمنعني أن الله حرم دم أخي المسلم . قالا : ألم يقل الله : [ وقاتلوهم حتى لا تكون فتنة ] فقال ابن عمر : قد قاتلنا حتى لم تكن فتنة وكان الدين لله وأنتم تريدون أن تقاتلوا حتى تكون فتنة ويكون الدين لغير الله . رواه البخاري

اور حضرت نافع (جو حضرت عبداللہ ابن عمر کے آزاد کردہ غلام ہیں) روایت کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ ابن زبیر سے متعلق ہنگامہ آرائی کے زمانہ میں (ان کی شہادت سے پہلے) دو شخص حضرت عبداللہ ابن عمر کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ لوگوں نے (خلافت وامارت کے بارے میں اختلاف ونزاع اور ہنگامہ آرائی کی صورت میں) جو کچھ کیا ہے وہ آپ نے دیکھ ہی لیا آپ حضرت عمر فاروق کے بیٹے ہیں ( جو خلیفہ تھے) نیز آپ ﷺ کے صحابی بھی ہیں (اس اعتبار عبد الملک ابن مروان کے مقابلہ پر آپ کہیں زیادہ مستحق ہیں کہ خلافت کا دعویٰ کریں جس کی نااہلیت کا سب سے بڑا ثبوت تو یہ ہے کہ اس کے امراء اور گونروں میں حجاج ابن یوسف جیسا ظالم شخص ہے) پھر آخر کیا چیز مانع ہے کہ آپ (خلافت وامارت کے دعوے اور ظالموں سے بدلہ لینے کے اعلان کے ذریعہ) خروج نہیں کررہے ہیں! حضرت عبداللہ ابن عمر نے (یہ سن کر) فرمایا! جو چیز میرے لئے مانع ہے، وہ میرا یہ علم ہے کہ مسلمان بھائی کا خون بہانا اللہ تعالیٰ نے میرے لئے حرام قرار دیا ہے، ان دونوں نے کہا کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا ہے کہ وقاتلوہم حتی لاتکون فتنۃ (یعنی لڑو تم لوگوں سے یہاں تک کہ فتنہ ختم ہوجائے)! حضرت عبداللہ ابن عمر نے فرمایا ہم (آنحضرت ﷺ اور خلفاء راشدین کے ساتھ) ان لوگوں سے یقینا لڑے یہاں تک کہ فتنہ یعنی کفر وشرک کا خاتمہ ہوگیا اور صرف اللہ کا دین اسلام رہ گیا اور (اب) تم یہ چاہتے ہو کہ تم جنگ وجدال کرو یہاں تک ان (مسلمانوں) میں فتنہ پھیل جائے اور غیر اللہ کا دین قائم ہوجائے۔ (بخاری) تشریح اللہ تعالیٰ نے میرے لئے حرام قرار دیا ہے اس جملہ کے ذریعہ حضرت عبداللہ ابن عمر کا مقصد اس بات کو اہمیت اور تاکید کے ساتھ بیان کرنا تھا کہ خون ریزی سے اجتناب اور مسلمانوں کے درمیان باہمی جنگ وجدل سے گریز ہیں اپنے لئے ہر حالت میں ضروری سمجھتا ہوں اور خاص طور پر اس صورت میں جب کہ مسئلہ خلافت وامارت کی طلب و خواہش کا ہو پس اس جملہ میں علی (میرے لئے) کا لفظ اس مقصد کے تحت استعمال ہوا ہے ورنہ اس کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ مسلمان بھائی کا خون بہانا تو ہر شخص کے لئے حرام قرار دیا گیا ہے۔ اور غیر اللہ کا دین قائم ہوجائے دراصل ان دونوں شخصوں کا خیال یہ تھا کہ اول تو حضرت عبداللہ ابن عمر اپنی خلافت کا دعویٰ کریں لیکن اگر وہ اس پر تیار نہ ہوں تو پھر ان کو کم سے کم یہ چاہئے کہ ان لوگوں کے خلاف تلوار اٹھائیں جو حضرت عبداللہ ابن زبیر کی خلافت تسلیم نہیں کرتے اور ان کے مقابلہ پر ظالموں اور نااہلوں کی امارت کے وفادار ہیں۔ لیکن حضرت عبداللہ ابن عمر کا خیال یہ تھا کہ عام مسلمانون کو باہمی اختلاف ونزاع اور جنگ وجدل سے بچانے کے لئے ایسا کوئی اقدام مناسب نہیں ہے کیونکہ مسلمان کا مسلمان کے خلاف تلوار اٹھانا اور وہ بھی اقتدار وامارت کے سلسلہ میں آخر کار باہمی افتراق و انتشار کی ایک صورت حال کے پیدا ہونے کا موجب بن سکتا ہے جو اسلام کے نظام دین و شریعت کے منرول اور مسلمانوں کی ملی زندگی کو کمزور بنادے، یہاں تک کہ اسلام دشمن طاقتوں کو اپنا غلبہ و تسلط جما لینے کا موقع مل جائے، اسی احساس کے تحت حضرت عبداللہ ابن عمر، حضرت ابن زبیر کے حق میں یہی بہتر سمجھتے تھے کہ وہ خلافت کے مسئلہ میں قتل و قتال کو ترک کردیں اور یکسوئی اختیار کرکے لوگوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیں۔

5944Mishkaat-al-Masabih

قبیلہ دوس کے حق میں دعا

وعن أبي هريرة قال : جاء الطفيل بن عمرو الدوسي إلى رسول الله صلى الله عليه وسل فقال : إن دوسا قد هلكت عصت وأبت فادع الله عليهم فظن الناس أنه يدعو عليهم فقال : اللهم اهد دوسا وأت بهم . متفق عليه

اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں طفیل ابن دوسی رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ (یا رسول اللہ ﷺ مجھے یقین ہے کہ قبیلہ دوس ہلاک ہوگیا (یعنی اس قبیلہ کے لوگوں نے قبول اسلام اور اطاعت دین سے انکار کرکے خود کو ہلاکت و تباہی کا مستوجب بنا لیا ہے) لہٰذا آپ سے قبیلہ کے لئے بددعا کیئجے (کہ اللہ تعالیٰ اس پر عذاب مسلط کرے) لوگوں نے (تو یہ سن کر) خیال کیا کہ آنحضرت ﷺ اس قبیلہ کے لئے بددعا کریں گے لیکن (آنحضرت ﷺ تو رحمتہ اللعلمین ہیں اور لوگوں کو راہ راست دکھا کر فلاح ونجات سے ہمکنار کرنے کے لئے اس دنیا میں مبعوث ہوئے نہ کہ بددعا کرکے تباہ و برباد کرنے کے لئے، اس لئے) آپ ﷺ نے دعا فرمائی الہٰی قبیلہ دوس کو راہ راست دکھا اور اس قبیلہ کے لوگوں کو (مدینہ کی جانب) لا یعنی ان کو قبول اسلام کے بعد ہجرت کی بھی توفیق عطا فرمایا یہ کہ ان کو اہل اسلام کے طور طریقوں کی طرف مائل فرما اور ان کے دلوں کو قبول اسلام کی طرف پھیر دے۔ (بخاری ) تشریح حضرت طفیل ابن عمر دوسی جلیل القدر صحابی ہیں، قبیلہ اوس سے تعلق رکھتے تھے اور اہل حجاز میں شمار ہوتے تھے، مکہ میں مشرف باسلام ہوئے اور پھر اپنے قبیلہ میں واپس چلے گئے۔ جب آنحضرت ﷺ ہجرت فرما کر مدینہ تشریف لائے تو بعد میں انہوں نے بھی اپنا قبیلہ اور وطن چھوڑ کر ہجرت کی اور آنحضرت ﷺ کی خدمت میں موقع پر حاضر ہوا جب آپ ﷺ خیبر میں تھے اور پھر آپ ﷺ کے رحلت فرمانے تک مدینہ منورہ میں آپ ﷺ کے پاس رہے ان کو ذو النور کا لقب حاصل تھا اور یہ لقب اس بناء پر مشہور ہوا تھا کہ جب آنحضرت ﷺ نے ان کو اسلام کی تبلیغ کے لئے ان کے قبیلہ کی طرف روانہ فرمایا تو انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! مجھے کوئی ایسی نشانی عطا فرمادیجئے جس کو دیکھ کر لوگ میری تصدیق کریں، آپ ﷺ نے دعا فرمائی، الہٰی اس کو نور عطا فرما! اللہ تعالیٰ نے دعا قبول فرمائی اور ان کی دونوں آنکھوں کے درمیان نور جگمگا اٹھا۔ اب انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ! مجھے خوف ہے کہ لوگ اس نور کو میری بدہیئی پر محمول کرنے لگیں گے اس کے بعد وہ نور اس جگہ سے ان کی کوڑی پر منتقل ہوگیا۔ اندھیری رات میں ان کے سینہ کا یہ حصہ اس طرح جگمگا تا جیسے ان کے سینہ پر مشعل روشن ہو حضرت طفیل اپنے قبیلہ میں پہنچ کر اسلام کی دعوت و تبلیغ کے کام میں منہمک ہوگئے ان کے باپ تو ان کی تبلیغ کے نتیجہ میں دائرہ اسلام میں داخل ہوگئے تھے لیکن ان کی ماں کو ایمان کی ہدایت نصیب نہیں ہوئی۔

5945Mishkaat-al-Masabih

عربوں سے محبت کرنے کی وجوہ

وعن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أحبوا العرب لثلاث : لأني عربي والقرآن عربي وكلام أهل الجنة عربي . رواه البيهقي في شعب الإيمان

اور حضرت ابن عباس کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا تین اسباب کی بناء پر تمہیں عرب سے محبت رکھنی چاہئے ایک تو اس وجہ سے کہ میں عرب میں سے ہوں (اور ظاہر ہے کہ جو چیز حبیب کی طرف سے منسوب ہوتی ہے اس کو محبوب ہونا چاہئے) دوسرے اس وجہ سے کہ قرآن عربی زبان میں ہے (یعنی قرآن کریم اس زبان میں اترا ہے جو عرب کی زبان ہے اور ان کی زبان ولغت ہی کے ذریعہ اس کی فصاحت و بلاغت جانی جاتی ہے) اور تیسرے اس وجہ سے کہ جنتیوں کی زبان عربی ہے (اس روایت کو بیہقی نے شعب الایمان میں نقل کیا ہے ) تشریح جنتیوں کی زبان عربی ہے سے یہ بات مفہوم ہوتی ہے کہ دوزخیوں کی زبان عربی نہیں ہوگی، بہرحال حدیث کا حاصل یہ ہے کہ عرب اور اہل عرب کو دنیا اور آخرت دونوں جگہ فضیلت و برتری حاصل ہے نیز اس حدیث میں محبت کرنے کے صرف وہ تین اسباب بیان کئے گئے ہیں جو اس بارے میں نہایت اعلی ہیں ورنہ ان کے علاوہ اور بھی اسباب و وجوہ ہیں جن کے بناء پر عرب اور اہل عرب سے محبت کرنا یا محبت ہونا لازمی چیز ہے مثلا ً یہ کہ اہل عرب ہی نے شارع (علیہ السلام) سے براہ راست دین و شریعت کا علم حاصل کیا اور پھر اس علم کو ہم تک پہنچا یا انہوں نے آنحضرت ﷺ کے اقوال، افعال، عادات اور معجزات کو منضبط و محفوظ کیا اور اس سرمایہ کو ہم تک منتقل کیا، عرب اور اہل عرب دراصل اسلام کے مددگار اور ہماری ملی زندگی کی جوہری توانائی ہیں انہوں نے اسلام کی خاطر دنیا بھر سے لوہا لیا بڑی بڑی طاقتوں سے جنگیں کیں، جان ومال کی قربانیاں دے کر بڑے بڑے علاقے فتح کئے شہرشہر، قریہ قریہ، اسلام پھیلایا، اطراف عالم میں دین کا جھنڈا بلند کیا اور مسلمانوں کو جو عزت، برتری اور شان و شوکت حاصل ہوئی وہ انہی کی جدو جہد اور کوششوں کا نتیجہ ہے ہماری ملی تاریخ کی تمام تر عظمت وسربلندی انہی کی مرہون منت ہے، اہل عرب حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد ہیں، ان کی نسلی وانسانی خصوصیات اور خوبیوں کے امین ہیں اور نہ صرف یہ کہ ان کی زبان اہل جنت کی زبان ہوگی، بلکہ قبر میں منکر نکیر کا سوال بھی انہی کی زبان میں ہوگا اور انہی اسباب کی بناء پر کہا گیا ہے۔ من اسلم فہوعربی۔ جو بھی دائرہ اسلام میں داخل ہوا وہ عربی۔