قریش کے مناقب اور قبائل کے ذکر سے متعلق

Mishkaat-al-Masabih · Chapter 186 · 28 hadiths · Page 1 of 2

5918Mishkaat-al-Masabih

قریش کے مناقب اور قبائل کے ذکر کا بیان

مناقب لفظ منقب کی جمع ہے جس کے معنی شرف اور فضیلت کے ہیں اور قریش عرب کے مشہور قبیلہ کا نام ہے ویسے قریش کے لغوی معنی ایک بڑے خطرناک اور طاقتور سمندری جانور کے ہیں لیکن اصل میں یہ نضر ابن کنانہ (یا فہر ابن مالک ابن نضر) کا لقب تھا جن کی اولاد مختلف شاخ در شاخ خاندانوں میں پھیلی اور ان سب خاندانوں پر مشتمل قبیلہ مورث اعلی کے لقب کی مناسبت سے قریش کہلایا قبائل لفظ قبیلہ کی جمع ہے جس کے معنی ہیں ایک باپ کی اولاد اور قبائل کے ذکر سے مراد عرب کے مختلف قبیلوں کی خصوصیات اور ان کی اچھائیاں یا برائیاں بیان کرنا ہے۔

5919Mishkaat-al-Masabih

قریش کی فضیلت

عن أبي هريرة أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : الناس تبع لقريش في هذا الشأن مسلمهم تبع مسلمهم وكافرهم تبع لكافرهم . متفق عليه

حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اس بات میں لوگ قریش کے تابع ہیں، قریش کے مسلمان (تمام غیرقریشی) مسلمانوں کے اور قریش کے کافر (تمام غیرقریشی) کافروں کے سردار ہیں۔ (بخاری ومسلم) تشریح حدیث کے ظاہر سیاق سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس بات سے مراد دین و شریعت ہے خواہ اس کے وجود کا اعتبار ہو یا اس کے عدم کا۔ مطلب یہ کہ دین کے قبول یا عدم قبول یعنی ایمان وکفر کے معاملہ میں تمام لوگ قریش کے پیچھے ہیں اور قریش اقدامی و پیشوائی حیثیت رکھتے ہیں، بایں طور کہ ایک طرف تو دین کا ظہور سب سے پہلے قریش میں ہوا اور سب سے پہلے قریش کے لوگ ایمان لائے اور پھر ان کی اتباع میں دوسرے لوگوں نے بھی ایمان لانا شروع کیا، دوسری طرف وہ یعنی قریش ہی کے لوگ تھے جنہوں نے دین کی سب سے پہلے مخالفت کی اور مسلمانوں کی راہ روکنے کے لئے سب سے پہلے آگے آئے اس طرح اگر قریش کے کافروں کے تابعدار ہوئے چناچہ اسلام کی تاریخ جاننے والے خوب جانتے ہیں کہ فتح مکہ سے پہلے تمام اہل عرب، قریش مکہ کے اسلام لانے کا انتظار کرتے تھے، جب اہل اسلام کے ہاتھوں مکہ فتح ہوگیا اور قریش مکہ مسلمان ہوگئے تو تمام عرب کے لوگ بھی جماعت در جماعت اسلام میں داخل ہوگئے جیسا کہ سورت اذا جاء نصر اللہ سے واضح ہوتا ہے۔ بہرحال اس ارشاد کا مقصد قریش کی قائدانہ حیثیت کو بیان کرنا ہے کہ قیادت امارت کا جوہر انہی کو نصیب ہے خواہ وہ اپنے عہد جاہلیت سے وابستہ رہے ہوں یا عہد اسلام سے لیکن ان کی قیادت وامارت کو فضل وشرف کا اعتبار صرف اسلام کی صورت میں حاصل ہے نہ کہ کفر کی حالت میں۔ اور اگر فضل وشرف کی قید مقصود نہ ہو تو کہا جاسکتا ہے کہ اس ارشاد گرامی میں قریش مطلق قیادت وامارت کا ذکر ہے خواہ اس کا دنیاوی امور سے ہو خواہ مذہبی امور سے، چناچہ زمانہ جاہلیت میں بھی نہ صرف دنیاوی اعتبار سے قریش مکہ تمام عرب قبائل میں سردار قبیلہ کی حیثیت رکھتے تھے بلکہ اس وقت کے ان مذہبی معاملات جیسے اللہ کی تولیت وکلید داری اور پانی پلانے وغیرہ کی ذمہ داریوں کا اعزاز بھی انہی کو حاصل تھا۔ اور بعض حضرات نے کہا ہے کہ اس بات سے مراد امامت کبریٰ اور منصب خلافت ہے جیسا کہ دوسری حدیثوں میں وضاحت کے ساتھ منقول بھی ہے اور اس ارشاد گرامی کا مقصد قریش کی قیادت تسلیم کرنے اور ان کی اتباع کا حکم دینا ہے۔ پس اگر لوگ اس ارشاد گرامی کی روح اور اس سے اخذ شدہ حکم پر عمل نہ کرتے ہوئے قریش کی قیادت کو تسلیم نہ کریں اور ان کی اتباع سے انکار کریں تو یہ بات اس ارشاد گرامی کے اثبات کے منافی نہیں ہوگی، کیونکہ کسی بھی حکم کے اثبات کے لئے ضروری نہیں ہوتا کہ عملی اور واقعاتی طور پر اس کا ظہور بھی ہو حکم کا مقصد تو کسی چیز کو ثابت کرنا ہوتا ہے، اگر اس حکم پر عمل نہ کرے تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہوتا کہ وہ حکم اپنی قوت اثبات ونفاذ سے خالی ہے پس آنحضرت ﷺ نے اس ارشاد کے ذریعہ قریش کی قیادت وامارت کو اختیار و قبول کرنے کا جو حکم دیا ہے اس کا مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ قریش قیادت وامارت کا استحقاق اور اس کی ذمہ داریوں کو سنبھالنے کی اہلیت رکھتے ہیں، خواہ کوئی ان کی قیادت وامارت کو تسلیم کرے اور ان کی تابعداری کرے یا نہ کرے۔

5920Mishkaat-al-Masabih

قریش ہی سردار ہیں

وعن جابر أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : الناس تبع لقريش في الخير والشر . رواه مسلم

اور حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا لوگ خیر اور شر (دونوں حالتوں) میں قریش کے تابع ہیں۔ (بخاری ومسلم) تشریح خیر سے مراد اسلام ہے اور شر سے مراد کفر ہے جیسا کہ اوپر کی حدیث کی تشریح میں تفصیل بیان ہوئی ہے۔

5921Mishkaat-al-Masabih

خلافت اور قریش

وعن ابن عمر أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : لا يزال هذا الأمر في قريش ما بقي منهم اثنان . متفق عليه

اور حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا یہ امر یعنی خلافت ہمیشہ قریش میں رہے گا جب تک کہ ان میں سے دو آدمی بھی باقی رہیں۔ (بخاری ومسلم) تشریح ہمیشہ قریش میں رہے گا کا مطلب یہ ہے کہ خلافت کا استحقاق چونکہ قریش ہی سب سے زیادہ رکھتے ہیں اس لئے خلافت کا منصب جلیلہ قریش ہی کے پاس رہنا چاہئے اور غیر قریش کو خلیفہ بنانے کا فیصلہ شرعا جائز نہیں چناچہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے زمانہ میں اس پر اجماع تھا اور یہی ارشاد گرامی ان انصار صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مقابلہ پر مہاجر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی دلیل کی بنا جنہوں نے خلافت کو انصار کا حق قرار دینا چاہا تھا۔ جب تک کہ ان میں دو آدمی باقی رہے یہ بات آپ ﷺ نے منصب خلافت کے تئیں قریش کے ترجیحی استحقاق کو زیادہ سے زیادہ اہمیت کے ساتھ بیان کرنے کے لئے فرمائی کہ اگر قریش میں سے دو بھی باقی رہیں کہ ایک تو خلیفہ بن سکے اور دوسرا اس کا اطاعت گذار (یا یہ کہ خلیفہ کے علاوہ دو آدمی مراد ہیں) تو اس صورت میں بھی خلافت کو قریش ہی کا حق سمجھنا چاہئے۔ اس حدیث کی شرح میں علامہ نووی (رح) لکھتے ہیں یہ اور اس جیسی دوسری احادیث کو جن میں خلافت کا استحقاق قریش کے لئے ذکر کیا گیا ہے، اس بات کی واضح دلیل ہیں کہ خلافت کا منصب قریش کے لئے مخصوص ہے غیر قریشی کو خلیفہ بنانا جائز نہیں ہے چناچہ اسی نکتہ پر نہ صرف صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے زمانہ میں بلکہ صحابہ کرام کے بعد بھی امت کا اجماع رہا ہے، اہل بدعت یعنی اہل سنت والجماعت کے متفقہ مسلک سے انحراف کرنے والوں میں سے جن لوگوں نے اس مسئلہ میں اختلاف و انکار کی راہ اختیار کی (ان کی بات کو نہ صرف یہ امت کے سواد اعظم نے تسلیم نہیں کیا) بلکہ ان کی ترید وتغلیط کے لئے یہی دلیل پیش کی گئی کہ قریش کے استحقاق خلافت پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا اجماع تھا امام نووی نے یہ بھی لکھا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اس ارشاد گرامی کے ذریعہ یہ خبر دی ہے کہ یہ حکم (جس سے منصب خلافت کا قریش کے ساتھ مخصوص ہونا ظاہر ہوتا ہے) آخر زمانہ تک برابر جاری ونافذ رہے گا جب تک کہ اس دنیا میں دو آدمی بھی باقی رہیں پس آنحضرت ﷺ نے جو کچھ فرمایا اور جو خبر دی وہی واقعہ کے اعتبار سے ثابت بھی ہوا کہ آج تک قریش کی خلافت اور ان کی بالا دستی قائم ہے لیکن امام نووی (رح) کا یہ نتیجہ بیان کرنا تاریخی حقیقت کے مطابق نہیں ہے، ان کے زمانہ تک تو قریش کی خلافت قائم تھی لیکن بعد میں قریش کی خلافت و امامت تمام عالم اسلام پر زیادہ عرصہ تک باقی نہیں رہ سکی، ابتداء میں کچھ اوپر دو سو برس تک کا عرصہ تو ایسا گذرا کہ اس میں اکثر اسلامی علاقوں اور شہروں پر قریش کی خلافت وبالادستی قائم رہی مگر اس کے بعد خود مختاریوں کا دور شروع ہوگیا اور عالم اسلام میں مختلف حکمرانوں اور بادشاہوں کی اپنی اپنی حکومت وبالادستی قائم ہوگئی لہٰذا اس سلسلہ میں تحقیقی قول یہ ہے کہ یہ خبر دراصل امر یعنی حکم کے معنی میں ہے گویا آنحضرت ﷺ نے خبر کے اسلوب میں یہ حکم دیا ہے کہ جو بھی شخص ایمان واسلام سے بہرہ ور ہو اس پر لازم ہے کہ وہ قریش کو اپنا سردار مانے، ان کی اتباع کرے اور ان کی امامت و قیادت سے انحراف نہ کرے، ویسے یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کا یہ ارشاد گرامی اپنے ظاہری معنی ہی پر محمول ہے مگر مااقاموا الدین کے الفاظ کے ساتھ مقید ہے جو اگلی حدیث میں مذکور ہیں، اس صورت میں اس حدیث کا یہ مطلب ہوگا کہ منصب خلافت وامارت اس وقت تک برابر قریش میں رہے گا جب تک کہ وہ دین کو قائم رکھیں گے چناچہ یہی ہوا کہ قریش نے جب تک کہ خلافت کو دین کے تابع رکھا اور اسلام کی خدمت و اشاعت میں مصروف رہے منصب خلافت ان کے ہاتھ سے نہیں گیا، لیکن جب انہوں نے نہ صرف یہ کہ دین کی طرف سے بےتوجہی اختیار کرلی بلکہ حرام و ناجائز امور میں مبتلا ہو کر دین کی بےحرمتی کا مظاہرہ کرنے لگے تو خلافت کی باگ ڈور ان کے ہاتھ سے چھن کر غیر قریش میں پہنچ گئی۔

5922Mishkaat-al-Masabih

قریش کا استحقاق خلافت دین کے ساتھ مقید ہے

وعن معاوية قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : إن هذا الأمر في قريش لا يعاديهم أحد إلا كبه الله على وجهه ما أقاموا الدين . رواه البخاري

اور حضرت امیر معاویہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا بلاشبہ یہ امر یعنی منصب خلافت، قریش میں رہے گا جب تک وہ دین کو قائم رکھیں گے جو بھی شخص ان (قریش) سے دشمنی و عداوت رکھے گا اس کو اللہ تعالیٰ الٹالٹکا دے گا یعنی ذلت و خواری کا طوق اس کے گلے میں ڈال دے گا۔ (بخاری) تشریح مطلب یہ کہ خلافت کا اصل مقصد دین کو قائم کرنا اور اسلام کے جھنڈے کو سربلند رکھنا ہے اس لئے قریش جب تک دین و شریعت کی ترویج و اشاعت میں لگے رہیں گے اور اسلام کے جھنڈے کو سربلند رکھنے کی سعی و کوشش کرتے رہیں گے، وہ منصب خلافت کا استحقاق رکھیں گے اور اللہ تعالیٰ ان کی سرداری و قیادت کو قائم رکھے گا لیکن جب وہ اپنے اصل فرض یعنی اقامت دین واسلام سے غافل ہوجائیں گے اور خلافت کے حقیقی تقاضوں کو پورا کرنا چھوڑ دیں گے تو مستوجب غزل ہوں گے اور خلافت وامارت کی باگ ڈور ان کے ہاتھ سے چھن جائے گی اور بعض شارحین نے یہ لکھا ہے کہ دین قائم کرنے سے مراد نماز قائم کرنا ہے جیسا کہ ایک روایت میں ما اقام الصلوۃ ہی کے الفاظ منقول بھی ہیں اور ویسے بھی بعض موقع پر دین اور ایمان کا اطلاق نماز پر آیا ہے، اسی بنیاد پر بغض حضرات کا کہنا ہے کہ اس ارشاد گرامی کا اصل مقصد قریش کو نماز قائم رکھنے کی تلقین و ترغیب اور اس بات سے ڈرانا ہے کہ اگر نماز قائم نہ رکھیں گے تو ہوسکتا ہم کہ منصب خلافت وامارت ان کے سے نکل جائے اور دوسرے لوگ ان پر غلبہ و تسلط کرلیں۔

5923Mishkaat-al-Masabih

قریش میں سے بارہ خلفاء کا ذکر

وعن جابر بن سمرة قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : لا يزال الإسلام عزيزا إلى اثني عشر خليفة كلهم من قريش . وفي رواية : لا يزال أمر الناس ماضيا ما وليهم اثنا عشر رجلا كلهم من قريش . وفي رواية : لا يزال الدين قائما حتى تقوم الساعة أو يكون عليهم اثنا عشر خليفة كلهم من قريش . متفق عليه

اور حضرت جابر ابن سمرۃ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا اسلام کو بارہ خلفاء تک قوت و غلبہ حاصل رہے گا اور سب قریش میں سے ہوں گے ایک روایت میں یوں ہے کہ (آپ ﷺ نے فرمایا) لوگوں کے (دینی ومذہبی امور میں استقامت ملی وملکی معاملات میں استحکام اور عام نظم ونسق میں عدل و انصاف اور حق وراستی پر مبنی) نظام کار کا سلسلہ اس وقت تک قائم رہے گا جب تک کہ ان کے حاکم وہ بارہ شخص ہوں گے جن کا تعلق قریش سے ہوگا اور ایک روایت میں یوں ہے کہ ( آپ ﷺ نے فرمایا) دین برابر قائم رہے گا یہاں تک کہ قیامت آئے اور لوگوں پر ان بارہ خلیفہ کی حکومت قائم ہوگی جو قریش میں سے ہوں گے۔ (بخاری ومسلم) تشریح اس حدیث کے معنی و مفہوم کے تعین میں مختلف اقوال بھی ہیں اور علماء نے اشکال کا اظہار بھی کیا ہے۔ اشکال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس حدیث سے بظاہر جو بات مفہوم ہوتی ہے وہ یہ کہ آنحضرت ﷺ کے بعد متصلا یکے بعد دیگرے بارہ خلفاء ہوں گے جن کے زمانہ خلافت میں دین کا نظام مستحکم و برقرار رہے گا، ان کے وجود سے اسلام کو شان و شوکت حاصل ہوگی اور نہ صرف یہ کہ خود وہ تمام بارہ خلفاء دین و مذہب کے سچے پابند وتابعدار ہوں گے بلکہ ان کی خلافت و عدالت سے حق و انصاف کے مطابق احکام و ہدایات کا اجراء ونفاذ ہوگا حالانکہ تاریخی اور واقعاتی طور پر جو کچھ پیش آیا ہے وہ اس بات کی شہادت نہیں دیتا۔ چناچہ آنحضرت ﷺ کے منصب خلافت وامارت پر فائز ہونے والوں میں بنی مروان میں کہ وہ خلفاء وامراء بھی تھے جو نہ صرف یہ کہ اپنی سیرت اور طور طریقون کے اعتبار سے دین و مذہب سے مناسبت نہیں رکھتے تھے بلکہ ان کی ظالمانہ اور مفسدانہ کاروائیوں سے اسلام اور مسلمانوں کو شدید نقصانات اور مصائب برداشت کرنا پڑے علاوہ ازیں وہ صحیح حدیث بھی ہے جس کے مطابق آنحضرت ﷺ نے فرمایا تھا کہ میرے بعد تیس سال تک خلافت کا نظام قائم رہے گا اور اس کے بعد ظلم و زیادتی پر مبنی بادشاہت آجائے گی چناچہ تمام علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ علیہ کا اس بات پر اتفاق ہے کہ تیس برس کے عرصہ یعنی خلافت راشدہ کے بعد جو نظام حکومت ظاہر ہوا اس کو خلافت نہیں بلکہ بادشاہت وامارت کہنا چاہئے یہ ایک اہم اشکال ہے اور اسی بناء پر علماء کرام نے اس حدیث کی توجیہ و تاویل میں مختلف اقوال پیش کئے ہیں ان میں سے ایک قول یہ ہے کہ بارہ خلیفوں سے مراد وہ بارہ لوگ ہیں جو آنحضرت ﷺ کے بعد سریر آرائے خلافت اور حکومت و سلطنت ہوئے اور ان کے زمانہ اور اقتداروحکومت میں مسلمانوں کے ظاہری حالات و معاملات اور رعایا کے مفاد کے اعتبار سے سلطلنت و حکومت کا نظام مستحکم ومتوازن رہا اگرچہ ان میں سے بعض برسر اقتدار لوگ ظلم و بےانصافی کے راستہ پر بھی چلے، باہمی اختلاف ونزاع اور خرابیوں کا بھیانک ظہور ولید بن یزید بن عبد الملک بن مروان کے عہد اقتدار میں ہوا جو ان میں بارہواں شخص تھا، اس شخص کی امارت اس وقت قائم ہوئی جب اس کے چچا ہشام ابن عبد الملک کا انتقال ہوا پہلے تو لوگوں نے ولید ابن یزید کی امارت پر اتفاق کیا اور ان کا اتفاق چار برس تک قائم رہا لیکن چار برس کے بعد لوگ اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے اور اس کو مار ڈالا، اس دن سے صورت حال میں تغیر پیدا ہوگیا اور فتنہ و فساد پوری طرح پھیل گیا یہ قول قاضی عیاض مالکی کی طرف منسوب ہے اور علامہ ابن حجر عسقلانی (رح) نے اس قول کی تحسین کی ہے اور کہا ہے کہ اس حدیث کی جتنی توجیہات کی گئی ہیں اور اس سلسلہ میں جتنے اقوال منقول ہیں ان سب میں یہی قول سب سے زیادہ مناسب اور سب سے زیادہ قابل ترجیح ہے اور اس کی تائید ان الفاظ سے ہوتی ہے جو اسی حدیث کے جزء کے طور پر بعض صحیح طرق میں منقول ہیں کہ کلہم یجتمع علیہ امر الناس اور جمع سے مراد ان خلفاء کی بیت پر لوگوں کا اتفاق و اجتماع اور ان کی قیادت وسرداری کو قبول کرنا ہے اگرچہ کراہت کے ساتھ ہو۔ نیز اس حدیث سے ان خلفاء کی جو مدح و توصیف مفہوم ہوتی ہے وہ دین عدالت اور حقانیت کے اعتبار سے نہیں ہے بلکہ سیاسی وانتظامی معاملات میں استحکام واستواری اور حکومت وامارت کے تئیں اتفاق و اتحاد کے اعتبار سے ہے رہی اس صحیح حدیث کی بات جس میں آپ ﷺ نے خلافت کو تیس سال میں منحصر بیان فرمایا ہے تو وہاں خلافت سے مراد خلافت کبریٰ ہے جو اصل میں خلافت نبوت ہے جب کہ اس حدیث میں خلافت امارت مراد ہے چناچہ خلفائے راشدین کے بعد جو امراء (سربراہان حکومت) گذرے ان کو بھی خلیفہ ہی کہا جاتا ہے، اگرچہ ان کو خلیفہ کہنا مجازی معنی کے اعتبار سے ہے مذکورہ بالا پہلے قول کو اگرچہ علامہ ابن حجر نے اولی وارجح قرار دیا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ حدیث کے الفاظ لایزال الاسلام عزیزا اور لایزال الدین قائما کے ساتھ یہ قول کھلی ہوئی عدم مناسبت کا حامل ہے کیونکہ یہ الفاظ ان بارہ خلفاء کی اس مدح و تعریف کا صریح مظہر ہیں کہ ان کے زمانہ خلافت وامارت میں دین کو استحکام حاصل رہے گا حق کا بول بالا ہوگا اور ان کے عدل و انصاف کے ذریعہ اسلام کی شان و شوکت اور قوت کا اظہار ہوگا۔ دوسرا قول یہ ہے کہ خلفاء سے مراد عادل و انصاف پرور خلفاء اور نیک طینت وپاکباز امراء ہیں جو اپنے ذاتی اوصاف حمیدہ کی بناء پر خلافت کا صحیح مصداق اور منصب امارت کے اہل ہوں، اس صورت میں حدیث کا لازمی مطلب یہ بیان کرنا نہیں ہوگا کہ یہ بارہ خلفاء آنحضرت ﷺ کے زمانہ کے بعد متصلاً یکے بعد دیگرے منصب خلافت وامارت پر متمکن ہوں گے جب کہ ہوسکتا ہے کہ اصل مقصد اس طرح کے خلفاء وامراء کی محض تعداد بیان کرنا ہو خواہ ان کا ظہور کسی بھی عہد و زمانہ میں ہو اور بارہ کا عدد قیامت تک کسی وقت جا کر پوراہو تورپشتی کے مطابق اس حدیث اور اس بارے میں منقول دوسری احادیث کے مفہوم ومعنی کے تعین میں یہی قول زیادہ بہتر و مناسب اور قابل ترجیح ہے۔ تیسرا قول یہ ہے کہ اس حدیث میں اس طرح کے ان بارہ خلفاء وامراء کا ذکر مراد ہے جو حضرت مہدی (علیہ السلام) کے زمانہ کے بعد منصب خلافت وامارت پر فائز ہوں گے گویا مخبر صادق ﷺ نے پیش خبری فرمائی کہ آخر زمانہ میں قریش سے نسبی تعلق رکھنے والے ایسے بارہ افراد مسلمانوں کی ملی وملکی اور حکومتی قیادت کے امین بنیں گے جن کے زمانہ اقتدار وامارت میں دین و مذہب کو عروج حاصل ہوگا اور اسلام کی شان و شوکت دوبالا ہوگی ایک دوسری حدیث میں آیا ہے کہ جب مہدی کا انتقال ہوگا تو قیادت و اقتدار کے مالک، یکے بعد دیگرے جو پانچ آدمی ہوں گے وہ سبط اکبر یعنی حضرت امام حسن ؓ کی اولاد میں سے ہوں گے، ان کے بعد قیادت و اقتدار کی باگ ڈور یکے بعد دیگرے ان پانچ آدمیوں کے ہاتھ میں آئے گئی جو سبط اصغر حضرت سیدنا حسین ؓ شہید کی اولاد میں سے ہوں گے اور ان میں آخری شخص اپنا ولی عہد ایسے شخص کو بنائے گا جو حضرت امام حسن ؓ کی اولاد میں ہوگا اور مملکت وملت کی امامت وسربراہی کے سلسلہ کا گیارہواں فرد ہوگا پھر جب یہ گیارہواں شخص اپنا زمانہ اقتدار پورا کرکے انتقال کرے گا تو اس کا جانشین اس کا بیٹا ہوگا اور مسند اقتدار کا مالک بنے گا، اس طرح بارہ کا عدد پورا ہوجائے گا اور ان بارہ میں کا ہر شخص امام عادل اور ہادی مہدی ہوگا جس کی عدالت انصاف پسندی، دینداری اور رعایا سے اسلام اور مسلمانوں کو زبردست شان و شوکت اور سربلندی وہردلعزیزی حاصل ہوگی اگر یہ حدیث صحیح ہے تو پھر مذکورہ بالا دوسرے قول کو ایک معقول اور بہترین توجیہ قرار دیا جاسکتا ہے ویسے ایک روایت حضرت ابن عباس ؓ کی بھی نقل کی جاتی ہے جس میں انہوں نے حضرت امام مہدی کے اوصاف و محاسن بیان کرتے ہوئے یہ بھی فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان (امام مہدی) کے وجود سے ہر رنج وفکر کو دور کر دے گا اور ان کے عدل وفتنہ کا سد باب ہوجائے گا ان کے زمانہ کے بعد پھر قیادت و اقتدار کی باگ ڈور ان بارہ آدمیوں کے ہاتھ میں آجائے گی جو یکے بعد دیگرے ڈیڑھ سو سال تک مملکت کی زمام کار سنبھالے رہیں گے۔ اور چوتھا قول یہ ہے کہ اصل مراد ایک ہی زمانہ میں بارہ خلفاء کا پایا جانا ہے جو اپنی اپنی جگہ خود مختیار حیثیت کا دعوی کریں گے اور ان میں سے ہر ایک کی اطاعت کرنے والے لوگوں کا الگ الگ گروہ ہوگا اس کی تائید اس روایت سے ہوتی ہے کہ (ایک موقع پر آنحضرت ﷺ نے فرمایا تھا) وہ وقت آنے والا ہے جب میرے بعد خلیفہ ہوں گے اور بہت ہونگے اس ارشاد گرامی سے آنحضرت ﷺ کا اصل مقصد یہ خبر دینا تھا کہ میرے بعد نت نئے فتنوں کا ظہور ہوگا اور طرح طرح کے اختلافی ونزاعی معاملات اٹھ کھڑے ہوں گے یہاں تک کہ ایک زمانہ میں بارہ خلفاء اپنی الگ الگ خلافت کا دعویٰ کریں گے اس آخری قول کے مطابق حدیث کی مراد گویا یہ ہوگی کہ بیک وقت بارہ خلفاء کے وجود کے زمانہ سے پہلے کے زمانہ تک تو مسلمانوں کی موثر اجتماعی وتنظیمی حیثیت برقرار رہے گی دین کا نظام مستحکم و استوار رہے گا اور اسلام کی عزت و شوکت بڑھتی رہے گی لیکن اس زمانہ میں (جب کہ بیک وقت بارہ خلفاء ہوں گے) اختلاف ونزاع کا فتنہ پھوٹ پڑے گا اور مسلمانوں کی شیرازہ بندی منتشر ہونے لگے گی۔ لیکن پہلے اقوال کے مطابق حدیث کی مراد یہ معلوم ہوتی ہے کہ ان بارہ خلفاء کے زمانہ تک اسلام اور مسلمانوں کا نظام ملک وملت مستحکم و استوار رہے گا اس نظام میں جو خلل و اضطراب پیدا ہوگا وہ اس زمانہ کے بعد ہوگا۔ شیعوں نے اس حدیث میں بارہ خلفاء کے ذکر کو اس پر محمول ومنطبق کیا ہے کہ وہ اہل بیت میں سے ہوں گے خواہ وہ منصب خلافت پر حقیقۃ فائز ہوں خواہ خلافت کا استحقاق رکھنے کے باوجود منصب خلافت پر فائز نہ ہوسکیں ان شیعوں کے مطابق سب سے پہلے خلیفہ حضرت علی ہیں، پھر حضرت حسن، پھر حضرت حسین، پھر حضرت زین العابدین، پھر حضرت محمد باقر، پھر حضرت جعفر صادق، پھر حضرت موسیٰ کا ظم، پھر حضرت علی رضا، پھر حضرت محمد تقی، پھر حضرت حسین عسکری، پھر حضرت محمد مہدی۔

5924Mishkaat-al-Masabih

چند عرب قبائل کا ذکر

وعن ابن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : غفار غفر الله لها وأسلم سالمها الله وعصية عصت الله ورسوله . متفق عليه

اور حضرت ابن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا (قبیلہ) غفار کی اللہ تعالیٰ مغفرت فرمائے (قبیلہ) اسلم کو اللہ تعالیٰ سلامت رکھے اور (قبیلہ) عصیہ (تو وہ قبیلہ) جو اللہ اور اللہ کے رسول کی معصیت میں مبتلا ہوا۔ (بخاری ومسلم) تشریح غفار عرب کا ایک مشہور قبیلہ ہے، ممتاز صحابی حضرت ابورذر غفاری ؓ اسی قبیلہ سے تعلق رکھتے تھے، کہا جاتا ہے کہ زمانہ جاہلیت میں یہ قبیلہ حاجیوں کا مال چرایا کرتا تھا اور اپنی اس برائی کے سبب عام قبائل میں اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا تھا۔ اسی پر آنحضرت ﷺ نے اس قبیلہ کے حق میں دعا فرمائی کہ اس قبیلہ کے دامن پر جو پہلا داغ لگا ہوا ہے اللہ تعالیٰ اس کو مٹائے اور قبیلہ والوں کو مغفرت و بخشش سے نوازے کیونکہ اب اسی قبیلہ کے لوگ خوشی خوشی اسلام میں داخل ہوگئے ہیں اور یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ یہ ارشاد گرامی دعائیہ جملہ کے بجائے جملہ خبریہ ہے یعنی آپ ﷺ نے ان الفاظ کے ذریعہ خبردی کہ اللہ تعالیٰ نے اس قبیلہ کی جاہلی زندگی کے واقعات کو کالعدم قرار دے دیا ہے اور اب اہل قبیلہ کو ان کے ایمان واسلام کی بدولت مغفرت و بخشش سے نوازدیا ہے۔ اسلم بھی ایک قبیلہ کا نام ہے اس قبیلہ کے لوگوں نے چونکہ لڑائی کے بغیر اسلام قبول کرلیا تھا اس لئے آنحضرت ﷺ نے ان کے حق میں دعا فرمائی کہ اللہ تعالیٰ اس قبیلہ کے لوگوں کو سلامت رکھے اس قبیلہ کے بارے میں مذکورہ جملہ بھی جملہ خبریہ کا احتمال رکھتا ہے یعنی یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اس جملہ کے ذریعہ یہ خبر دی ہو کہ یہ وہ قبیلہ ہے جس نے مسلمانوں کے خلاف ہتھیار اٹھانے کو پسند نہیں کیا اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس قبیلہ کے لوگوں کو قتل و تباہی سے سلامت و محفوظ رکھا۔ عصیہ اس بدنصیب قبیلہ کا نام ہے جس نے مسلمان قاریوں کو بیر معونہ پر مکروفریب کے ذریعہ بڑی بےدردی کے ساتھ شہید کردیا تھا آنحضرت ﷺ کو اس پر بڑا رنج ہوا تھا اور آپ ﷺ قنوت میں اس قبیلہ کے لوگوں پر لعنت اور بددعا فرمایا کرتے تھے۔ اس قبیلہ کے حق میں مذکورہ حدیث کے الفاظ صرف جملہ خبریہ کے طور پر ہیں، ان میں جملہ دعائیہ کا کوئی احتمال نہیں ہے تاہم ان الفاظ میں اس قبیلہ کا ذکر جس طرح شکوہ کو ظاہر کرتا ہے وہ بجائے خود بددعا کو مستلزم ہے لیکن اس مفہوم میں نہیں کہ اہل قبیلہ گناہ و معصیت میں زیادہ سے زیادہ مبتلا ہوں بلکہ اس مفہوم میں کہ قبیلے والوں نے جس عظیم معصیت اور سرکشی کا ارتکاب کیا اس پر ان کو دنیا وآخرت میں ذلت و خواری نصیب ہو۔

5925Mishkaat-al-Masabih

چند قبائل کی فضیلت

وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : قريش والأنصار وجهينة ومزينة وأسلم وغفار وأشجع موالي ليس لهم مولى دون الله ورسوله . متفق عليه

اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا قریش (کے مسلمان یعنی اہل مکہ وغیرہ) انصار (یعنی اہل مدینہ) قبیلہ جہینہ (کے مسلمان) قبیلہ غفار (کے مسلمان) اور قبیلہ اشجع (کے مسلمان) میرے دوست اور مددگار ہیں ان کا مددگار اور دوست اللہ اور اللہ کے رسول کے سوا کوئی نہیں۔ (بخاری ومسلم) تشریح لفظ موالی متکلم کی طرف مضاف ہے اور مولیٰ کی جمع ہے اور ایک روایت میں یہي لفظ (یہ متکل کے بغیر) موالٍ منقول ہے اس صورت میں ترجمہ یہ ہوگا کہ (ان قبائل کے مسلمان) آپس میں ایک دوسرے کے معین اور مددگار اور دوست ہیں۔

5926Mishkaat-al-Masabih

دوحلیف قبیلوں کا ذکر

وعن أبي بكرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أسلم وغفار ومزينة وجهينة خير من بني تميم وبني عامر والحليفين بني أسد وغطفان . متفق عليه

اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اسلم غفار مزینہ اور جہنینہ یہ سب قبیلے بنوتمیم سے اور دونوں حلیف قبیلوں یعنی بنواسد اور غطفان سے بہتر ہیں۔ (بخاری ومسلم) تشریح دونوں حلیف قبیلے بنواسد اور غطفان بھی دو قبیلوں کے نام ہیں یہ دونوں قبیلے آپس میں ایک دوسرے کے حلیف تھے اور جیسا کہ اس زمانہ میں عرب کا عام دستور تھا ان دونوں نے ایک دوسرے کے سامنے قسم کھا کر عہد و پیمان کر رکھا تھا کہ باہم ایک دوسرے کے مددگار ومعین رہیں گے۔ حدیث میں مذکورہ قبیلوں کو اس لئے بہتر فرمایا کہ ان قبائل کے لوگوں نے قبول اسلام میں سبقت کا شرف حاصل کی اور اپنے اچھے احوال و معاملات کا قابل تحسین مظاہرہ کیا۔

5927Mishkaat-al-Masabih

بنوتمیم کی تعریف

وعن أبي هريرة قال : ما زلت أحب بني تميم منذ ثلاث سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول فيهم سمعته يقول : هم أشد أمتي على الدجال قال : وجاءت صدقاتهم فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : هذه صدقات قومنا وكانت سبية منهم عند عائشة فقال : اعتقيها فإنها من ولد إسماعيل . متفق عليه

اور حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں بنوتمیم کو اس وقت سے ہمیشہ عزیز اور دوست رکھتا ہوں جب سے میں نے ان کی تین خاص خوبیوں کا ذکر رسول کریم ﷺ سے سنا ہے (چنانچہ ان کی پہلی خوبی کے بارے میں) آنحضرت ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میری امت میں سے بنوتمیم ہی وہ لوگ ہوں گے جو دجال کے مقابلے پر سخت سے زیادہ سخت اور بھاری ثابت ہوں گے حضرت ابوہریرہ ؓ نے (ان کی دوسری خوبی کے بارے میں یہ) بیان کیا کہ (ایک مرتبہ سی تمیم کی طرف سے) صدقات (یعنی زکوٰۃ کے اموال ومویشی وغیرہ) آئے تو رسول کریم ﷺ نے فرمایا یہ ہماری قوم کی طرف سے آئے ہوئے صدقات ہیں اور (ان کی تیسری خوبی اس طرح ظاہر ہوئی کہ) بنی تمیم سے تعلق رکھنے والی ایک لونڈی حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کے پاس تھی، اس بارے میں آنحضرت ﷺ نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے فرمایا کہ اس لونڈی کو آزاد کردو کیونکہ یہ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہے۔ (بخاری ومسلم) تشریح سب سے زیادہ سخت اور بھاری ثابت ہوں گے یعنی جب دجال لعین کا ظہور ہوگا تو بنی تمیم ہی کے لوگ سب سے زیادہ اس کا مقابلہ کریں گے اس کے توڑ میں سب سے زیادہ سعی و کوشش کریں گے اور اس کی تردید وتغلیط میں سب سے آگے رہیں گے اس طرح ان الفاظ میں بنوتمیم کی خصوصیت و فضیلت کا تو ذکر ہم ہی لیکن اس کے ساتھ یہ پیشین گوئی بھی ہے کہ بنوتمیم کی نسل کے لوگ اسی کثرت کے ساتھ ظہوردجال کے زمانہ میں بھی ہونگے۔ یہ ہماری قوم کے صدقات ہیں ان الفاظ کے ذریعہ آپ ﷺ نے بنوتمیم کو اس طرح شرف و فضیلت سے نوازا کہ ان کو اپنی طرف منسوب کر کے ان کی قوم کو اپنی قوم فرمایا۔ یہ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہے کا مطلب یہ تھا کہ یہ لونڈی بنو تمیم میں سے ہونے کی بناء پر عربی النسل ہے اور عرب چونکہ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد ہیں اس لئے یہ لونڈی حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہوئی اگرچہ یہ نسلی وصف تمام عرب کا مشترک وصف ہے، صرف بنوتمیم کے ساتھ مخصوص نہیں ہے لیکن آپ ﷺ نے بنو تمیم کو ایک طرح سے فضل وشرف عطا فرمانے کے لئے یہ الفاظ ارشاد فرمائے۔

5928Mishkaat-al-Masabih

قریش کو ذلیل نہ کرو

عن سعد عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من يرد هوان قريش أهانه الله رواه الترمذي

اور حضرت سعد نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جس شخص نے قریش کی ذلت و خواری چاہی، اس کو اللہ تعالیٰ ذلیل و خوار کرے گا۔ (ترمذی) تشریح مطلب یہ ہے کہ قریش کی عزت اور ان کا احترام ہر صورت میں لازم ہے ان کی عزت کے درپے ہونا اور ان کی ذلت و رسوائی چاہنا اللہ کی ناراضگی کو مول لینا ہے، خواہ وہ امامت کبریٰ یعنی منصب خلافت پر فائز ہوں یا فائز نہ ہوں۔ ان کے خلیفہ و امیر ہونے کی صورت میں ان کی اہانت و بےعزتی کرنے کی ممانعت اور تہدید کی وجہ تو ظاہر ہے، رہی وہ صورت جب کہ وہ خلافت وامارت کے منصب فائز نہ ہوں تو اس صورت میں بھی ان کی اہانت و بےعزتی کرنے کی ممانعت اس اعتبار سے سمجھی جائے گی کہ ان کو آنحضرت ﷺ کی نسبت حاصل ہے اور ان کا یہ خصوصی فضل وشرف اسی بات کا متقاضی ہے۔

5929Mishkaat-al-Masabih

قریش کے حق میں دعا

وعن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : اللهم أذقت أول قريش نكالا فأذق آخرهم نوالا . رواه الترمذي

اور حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے دعا کی اے اللہ! تو نے قریش کو ابتداء میں (غزوہ بدر اور غزوہ احزب کے موقع پر شکت و تباہی کا) عذاب چکھایا (جب کہ انہوں نے دین حق کی مخالفت اور تیرے رسول کا راستہ اختیار کر رکھا تھا) پس اب (جب کہ انہوں نے اسلام قبول کرکے اور تیرے رسول کی اطاعت اختیار کرکے دین اور مسلمانوں کو تقویت ومدد پہنچائی ہے تو) آخر میں ان کو عطاء و بخشش سے نوازدے۔ (ترمذی )

5930Mishkaat-al-Masabih

دویمنی قبیلوں کی خوبیاں اور ان کی تعریف

وعن أبي عامر الأشعري قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : نعم الحي الأسد والأشعرون لا يفرون في القتال ولا يغلون هم مني وأنا منهم . رواه الترمذي وقال : هذا حديث غريب

اور حضرت ابوعامر اشعری ( جو حضرت ابوموسیٰ اشعری کے چچا ہیں) بیان کرتے ہیں رسول کریم ﷺ نے فرمایا اسد اور اشعریب ہت اچھے قبیلے ہیں، یہ دونوں نہ کفار کے مقابلہ پر جنگ سے بھاگتے ہیں اور نہ مال غنیمت میں خیانت کرتے ہیں وہ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں، اس روایت کو ترمذی نے نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے۔ تشریح اسد یمن کے ایک قبیلہ کے مورث اعلی کا نام ہے اور یہ قبیلہ اسی کے نام سے مشہور و متعارف ہوا، اسی قبیلہ کو ازد اور ازد شنوہ بھی کہا جاتا ہے تمام انصار مدینہ اسی قبیلہ سے نسلی تعلق رکھتے تھے اشعر دراصل عمرو ابن حارثہ اسدی کا لقب تھا جو اپنے زمانہ میں یمن کا ایک ممتاز اور سربر آوردہ شخص تھا یہ بھی اپنے قبیلہ کا مورث اعلی تھا اور اس کے لقب کی نسبت سے اس کا قبیلہ اشعری کہلاتا تھا اس قبیلہ کے لوگوں کو اشعریون اور اشعرون بھی کہا جاتا ہے، مشہور صحابی حضرت موسیٰ اشعری ؓ اور ان کی قوم کے لوگ اسی قبیلہ سے تعلق رکھتے تھے۔ وہ مجھ سے ہیں کا مطلب یہ تھا کہ وہ میری اتباع کرنے والے اور میری سنت اور میرے اسوہ پر چلنے والے لوگ ہیں، یا یہ کہ ان قبیلوں کے لوگ میرے دوستوں اور مدد گاروں میں سے ہیں اسی طرح میں ان کا ہوں کا مطلب یہ تھا کہ میں بھی ان کا دوست اور ان کا مددگار ہوں گویا ان الفاظ کے ذریعہ اس طرح اشارہ کیا گیا کہ ان قبیلوں کے مؤمن و مسلمان تقوی و پرہیز گاری کے مقام پر ہیں اور یہ بات قرآن کریم کے ان الفاظ سے ثابت ہوتی ہے کہ وان اولیاؤہ الا المتقون۔ اور ان کے (یعنی محمد ﷺ کے) جو بھی دوست ورفیق ہیں سب متقی و پرہیز گار ہیں۔ ازد، ازد اللہ ہیں اور حضرت انس کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا قبیلہ ازد کے لوگ، روئے زمین پر اللہ کے ازد (یعنی اللہ کا شکر اور اس کے دین کے معاون و مددگار) ہیں لوگ اس قبیلہ کو ذلیل و خوار کرنا چاہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اس کے برخلاف اس قبیلہ کے لوگوں کو عزت و بلندی عطا کرنا چاہتے ہیں یقینا لوگوں پر وہ زمانہ آنے والا ہے جب آدمی یہ کہتا نظر آئے گا کہ کاش میرا باپ ازدی ہوتا اور کاش میری ماں قبیلہ ازد سے ہوتی اس روایت کو ترمذی نے نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے۔ تشریح قبیلہ ازد کی نسبت اللہ کی طرف کرکے ان کو ازد اللہ کہنا یا تو ان کو اس لقب کے ساتھ متعارف کرانا تھا یا اس اعتبار سے کہ اس قبیلہ کے لوگ اللہ کے دین اور اللہ کے رسول کے معاون و مددگار ہونے کی حیثیت سے اللہ کا لشکر تھے، ان کے فضل وشرف کو ظاہر کرنے کے لئے ان کے قبیلے کی نسبت اللہ کی طرف کی اور بعض حضرات نے یہ کہا ہے کہ ازد اللہ دراصل اسد اللہ (اللہ کے شیر) کے معنی میں استعمال ہوا ہے مطلب یہ کہ قبیلہ ازد کے لوگ معرکہ شجاعت ودل اوری کے شیر ثابت ہوتے ہیں۔ کاش میرا باپ ازدی ہوتا مطلب یہ کہ ایک زمانہ میں اس قبیلہ کا مرتبہ ایسا وقیع ہوتا اور اس قبیلہ سے تعلق رکھنے والے لوگ اتنے باعزت وسربلند ہوں گے کہ دوسرے قبائل کے لوگ ان پر رشک کریں گے اور اس آرزو کا اظہار کرتے نظر آئیں گے کہ ہم بھی اس قبیلہ کے ہوتے۔

5931Mishkaat-al-Masabih

ازد، ازد اللہ ہیں

وعن أنس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الأزد أزد الله في الأرض يريد الناس أن يضعوهم ويأبى الله إلا أن يرفعهم وليأتين على الناس زمان يقول الرجل : يا ليت أبي كان أزديا ويا ليت أمي كانت أزدية رواه الترمذي وقال : هذا حديث غريب

حضرت انس کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قبیلہ ازد کے لوگ روئے زمین پر اللہ کے ازد (یعنی اللہ کا شکر اور اس کے دین کے معاون و مددگار) ہیں لوگ اس قبیلہ کو ذلیل و خوار کرنا چاہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اس کے برخلاف اس قبیلہ کے لوگوں کو عزت و بلندی عطا کرنا چاہتے ہیں یقینا لوگوں پر وہ زمانہ آنے والا ہے جب آدمی یہ کہتا نظر آئے گا کہ کاش میرا باپ ازدی ہوتا اور کاش میری ماں قبیلہ ازد سے ہوتی، اس روایت کو ترمذی نے نقل کیا ہے اور کہا کہ یہ حدیث غریب ہے۔ تشریح قبیلہ ازد کی نسبت اللہ کی طرف کرکے ان کو ازد اللہ کہنا یا تو ان کو لقب کے ساتھ کے ساتھ متعارف کرانا تھا یا اس اعتبار سے کہ اس قبیلہ کے لوگ اللہ کے دین اور اللہ کے رسول کے معاون مددگار ہونے کی حیثیت سے اللہ کا لشکر تھے ان کے فضل وشرف کو ظاہر کرنے کے لئے ان کے قبیلے کی نسبت اللہ کی طرف کی اور بعض حضرات نے یہ کہا ہے کہ ازد اللہ دراصل اسد اللہ (اللہ کے شیر) کے معنی میں استعمال ہوا ہے مطلب یہ کہ قبیلہ ازد کے لوگ معرکہ شجاعت ودل اوری کے شیر ثابت ہوتے ہیں۔ کاش میرا باپ ازدی ہوتا مطلب یہ ہے کہ ایک زمانہ میں اس قبیلہ کا مرتبہ ایسا وقیع ہوتا اور اس قبیلہ سے تعلق رکھنے والے لوگ اتنے باعزت وسربلندہوں گے کہ دوسرے قبائل کے لوگ ان پر رشک کریں گے اور اس آرزو کا اظہار کرتے نظر آئیں گے کہ کاش ہم بھی اس قبیلہ کے ہوتے

5932Mishkaat-al-Masabih

تین قبیلوں کے بارے اظہارناپسندیدگی

وعن عمران بن حصين قال : مات النبي صلى الله عليه و سلم وهو يكره ثلاثة أحياء : ثقيف وبني حنيفة وبني أمية . رواه الترمذي وقال : هذا حديث غريب

اور حضرت عمران ابن حصین کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ تین قبیلوں، ثقیف، بنوحنیفہ اور بنوامیہ، سے ناخوش اس دنیا سے تشریف لے گئے اس روایت کو ترمذی نے نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے۔ تشریح مذکورہ بالا تینوں قبیلوں میں ایسے افراد پیدا ہوئے جن سے اسلام کے مخالفین کو فائدہ پہنچا اور مسلمانوں کو شدید رنج والم اور مصائب سے دوچار ہونا پڑا اور چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو آگاہ کردیا تھا کہ آگے چل ان قبائل سے کیسے کیسے فتنے اور کیسے کیسے ظالم لوگ پیدا ہوں گے اس لئے آنحضرت ﷺ ان تینوں قبیلوں کو پسندیدگی کی نظر سے نہیں دیکھتے تھے، چناچہ ثقیف تو وہ قبیلہ ہے جس میں حجاج ابن یوسف جیسا مشہور شخص پیدا ہوا، بنوحنیفہ وہ قبیلہ ہے جس میں مسیلمہ کذاب جیسے فتنہ ساز کو جنم دیا اور بنوامیہ وہ قبیلہ ہے جس میں عبیداللہ ابن زیاد پیدا ہوا، یہ وہی عبیداللہ ابن زیاد ہے جو یزید ابن معاویہ کی طرف سے کوفہ وبصرہ کا گورنر تھا اور جس نے محض دربار امارت میں خوشنودی حاصل کرنے کے لئے اپنی ماتحت فوج سے حضرت سید الشہداء امام حسین کو شہید کرایا، عبید ابن زیاد انتہائی بدبخت اور کمینہ شخص تھا، منقول ہے کہ جب اس کی فوج کے لوگ میدان کربلا سے حضرت سید الشہداء حضرت حسین کا سر مبارک لے کر اس کے پاس آئے تو اس نے سر مبارک کو ایک طشت میں رکھوایا اور ایک چھڑی کے ذریعہ اس پر ضربیں لگاتا جاتا اور جگر گوشہ رسول ﷺ کی شان میں گستاخانہ کلمات بکتا جاتا، لیکن اس بدنصیب کا انجام بھی بہت برا ہوا، نہایت بےدردی کے ساتھ ایک جنگ میں مارا گیا اور ترمذی نے اپنی جامع میں عمارہ ابن عمیر سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے بیان کیا ہے کہ، جب عبیداللہ ابن زیاد میدان جنگ میں مارا گیا تو (اس کی دشمن فوج نے اس کی بےسر لاش کو نذر آتش کردیا پھر) اس کے فوجی اس کا سر لے کر شہر میں آئے اور مسجد کے چبوترے پر رکھ دیا جہاں اس کے دوسرے ساتھی اور حوالی موالی بیٹھے ہوئے تھے، عمارہ ابن عمیر کہتے ہیں کہ اس موقع پر میں بھی وہاں پہنچ گیا، پھر میں نے دیکھا کہ اس کے ساتھیوں نے چلانا شروع کیا وہ آیا وہ آیا (میں نے حیرت کے ساتھ دیکھا تو) اچانک ایک سانپ آتا ہوا دکھائی دیا اور پھر وہ سانپ (بڑی تیزی کے ساتھ عبیداللہ ابن زیاد کے سر کی طرف بڑھا اور) اس کی ناک میں گھس گیا، تھوڑی سی دیر اندر رہا اور پھر باہر نکل کر چلتا بنا یہاں تک کہ نظروں سے غائب ہوگیا (یہ ششدرکن منظر دیکھ کر ابھی لوگوں پر حیرانی و سراسیمگی طاری ہی تھی کہ) اچانک انہوں نے پھر شور کیا، وہ آیا دیکھو وہ سانپ پھر آرہا ہے اتنے میں وہ سانپ سر کے پاس پہنچ کر پھر نتھنے میں گھس کر اندر چلا گیا اور کچھ دیر کے بعد باہر نکل کر چلتا بنا اسی طرح دو یا تین بار ہوا۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہاں حدیث کی وضاحت میں بنو امیہ کے تحت صرف عبیداللہ ابن زیاد کا ذکر کیوں کیا گیا ہے حالانکہ یزید ابن معاویہ بھی بنوامیہ میں سا تھا اور اس اعتبار سے اس کا ذکر کرنا زیادہ ضروری تھا کہ عبیداللہ ابن زیاد اسی کا مقرر کردہ گورنر اور اس کا ماتحت تھا اور عبیداللہ ابن زیاد نے جو کچھ کیا یزید کے حکم اور اس کی رضامندی سے کیا، لیکن اس بات کی کوئی زیادہ اہمیت نہیں ہے بنوامیہ کے باقی لوگوں نے اپنی بدذاتیوں میں کونسی کسر اٹھا رکھی تھی، دولت و اقتدار کی ہوس میں مبتلا ہو کر انہوں نے اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچانے والی حرکت جو جو حرکتیں کیں وہ سب پر روز روشن کی طرح عیاں ہیں ایک یزید ابن معاویہ یا عبیداللہ ابن زیاد ہی کو کیا کہا جائے، مقصدت بنوامیہ کی برائی بیان کرنا تھا، علامتی طور پر عبیداللہ ابن زیاد کا ذکر کردیا گیا اب اور سب کو اسی پر قیاس کیا جاسکتا ہے ایک حدیث میں آیا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ایک دن خواب میں دیکھا کہ کچھ بندر مسجد نبوی کے منبر شریف پر کھیل تماشہ دکھا رہے ہیں، آپ ﷺ نے اس خواب کی تعبیر میں بنوامیہ کا ذکر کیا

5933Mishkaat-al-Masabih

بنوثقیف کے دو شخصوں کے بارے میں پیش گوئی

وعن ابن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : في ثقيف كذاب ومبير قال عبد الله بن عصمة يقال : الكذاب هو المختار بن أبي عبيد والمبير هو الحجاج بن يوسف وقال هشام بن حسان : أحصوا ما قتل الحجاج صبرا فبلغ مائة ألف وعشرين ألفا . رواه الترمذي وروى مسلم في الصحيح حين قتل الحجاج عبد الله بن الزبير قالت أسماء : إن رسول الله صلى الله عليه و سلم حدثنا أن في ثقيف كذابا ومبيرا فأما الكذاب فرأيناه وأما المبير فلا إخالك إلا إياه . وسيجيء تمام الحديث في الفصل الثالث

اور حضرت ابن عمر کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا قبیلہ ثقیف میں انتہادرجہ کا جھوٹا شخص پیدا ہوگا اور ایک انتہا درجہ کا مفسد وہلاکو حضرت عبداللہ عصمہ تابعی (اس جھوٹے شخص کے تعین کے بارے میں) کہتے ہیں کہ علماء کا کہنا ہے جھوٹے شخص سے مراد مختار ابن عبید اور مفسدوہلاکو سے مراد حجاج ابن یوسف (مشہور ظالم ) ہے۔ اور ہشام ابن حسان (جو اونچے درجہ کے فقیہہ اور علم حدیث میں زبردست ادرک ومہارت رکھنے والے ایک مشہور متقی و بزرگ ہیں اور جن کا شمار ائمہ حدیث میں ہوتا ہے) کا بیان ہے کہ حجاج ابن یوسف نے جس قدر لوگوں کو (جنگ ومعر کہ میں نہیں بلکہ) یوں ہی پکڑ پکڑ کر قید خانہ میں ڈال کر قتل کیا ہے ان کی تعداد لوگوں نے شمار کی ہے جو ایک لاکھ بیس ہزار ہے اس روایت کو ترمذی نے نقل کیا ہے اور امام مسلم نے اپنی صحیح میں یہ روایت نقل کی ہے کہ حجاج ابن یوسف نے حضرت عبداللہ ابن زبیر کو شیہد کردیا تو حضرت اسماء نے ( جو حضرت عبداللہ ابن زبیر کی والدہ اور حضرت ابوبکر صدیق کی بیٹی ہیں) کہا ہم نے رسول کریم ﷺ نے بیان کیا ہے کردیا تھا کہ قبیلہ ثقیف میں ایک انتہادرجہ کا جھوٹا شخص پیدا ہوگا اور ایک بڑا مفسد وہلاکو پس جہاں تک جھوٹے شخص کا تعلق ہے تو اس کو دیکھ چکے اب رہی مفسد وہلاکو کی بات، تو میرا خیال ہے کہ اے حجاج وہ مفسد وہلاکو تو ہی ہم یہ پوری حدیث فصل میں آرہی ہے۔ تشریح حجاج لغوی طور پر تو حاج کا اسم مبالغہ ہے جس کے معنی ہیں بحث کرنے والا حجت یعنی دلیل و ثبوت لانے والا حجاج ابن یوسف تاریخ اسلام کا مشہور ظالم شخص ہے جس نے ہزار ہاہزار اچھے اور نیک لوگوں کو جن میں صحابہ وتابعین بھی شامل ہیں، ناحق موت کے گھاٹ اتار، عبداللہ ابن زبیر کو شہید کیا اور ہزاروں بےخطا انسانوں کو قید وبند میں ڈالے رکھا کہا جاتا ہے کہ جن لوگوں کو اس نے کسی معرکہ آرائی اور جنگ وجدل کے بغیر یوں ہی پکڑ پکڑ کر جیل خانہ میں ڈالا اور پھر ان کو قتل کرادیا ان کی تعداد ایک لاکھ بیس ہزار ہے جو لوگ جنگوں اور جھگڑوں میں مارے گئے ان کی تعداد علیحدہ ہے، یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ اس کے قید خانہ سے پچاس ہزار آدمیوں کی ایک بڑی تعداد تو ایک ہی وقت میں نکلی تھی اور اس شخص کی سنگدلی کا اندازہ لگانے کے لئے یہی بات کافی ہے کہ اس نے قیدخانہ بنوا رکھا تھا اس میں چھت کا کوئی نام ونشان نہیں تھا اس کے تمام قیدی کھلے آسمان کے نیچے گرمی وسردی اور دھوپ وبارش کی صعوبتیں جھیلتے تھے، حجاج ابن یوسف ثقفی دراصل اموی امیر عبد الملک ابن مروان کا زبردست معتمدوبہی خواہ تھا اور امارت و سلطنت کے معاملات میں بڑا اثر ورسوخ رکھتا تھا عبد الملک ابن مروان نے اس کو عراق وخراسان کا حاکم اعلی (گورنر) بنا رکھا تھا اور عبداللہ ابن زبیر کی شہادت کے بعد حجاز کا والی بھی بنا، عبد الملک ابن مروان کے بعد ولید عبد الملک کے زمانہ امارت میں بھی عراق وخراسان پر اس کا اقتدار برقرار رہا، اس کے ظلم وستم کے واقعات اور وحشیانہ کاروائیوں سے تاریخ کے اوراق بھرے پڑے ہیں، وسط شوال ٩٥ ھ میں بعمر ٥٤ سال اس کا انتقال ہوا۔ مختار ایک جلیل القدر صحابی حضرت ابوعبید ابن مسعود ثقفی کا بیٹا تھا مختار کی ولادت ہجرت کے پہلے سال ہوئی اس کو آنحضرت ﷺ کی صحبت و روایت یعنی صحابیت کا شرف حاصل نہیں ہوا، ابتدا میں یہ شخص علم وفضل اور نیکی وتقوی کے ساتھ مشہور تھا لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ خبث باطن کا شکار ہے اور محض دنیا سازی کے لئے علم وتقوی کا لبادہ اوڑھے ہوئے تھا پہلے یہ شخص اہل بیت نبوت سے سخت بغض وعناد رکھتا تھا پھر اچانک اس میں ایسا انقلاب آیا کہ اہل بیت نبوت کی محبت کا دم بھرنے لگا اور اس بارے میں صحیح فکر و عقیدے کا حامل نظر آنے لگا اہل بیت کے تئیں اس کی یہ ظاہری محبت اتنی بڑھی کہ حضرت امام حسین کی شہادت کے بعد یزیدیوں کا کھلم کھلا دشمن ہوگیا اور ان میں سے بہت لوگوں کو اس نے خون حسین کے قصاص میں موت کے گھاٹ بھی اتارا، غرضیکہ اس نے طلب دنیا اور حب جاہ میں بہت چولے بدلے، اپنی نت نئی حرکتوں سے طرح طرح کے فتنے جگائے حضرت عبداللہ ابن زبیر کے خلاف عراق میں علم بغاوت بلند کیا مکروفریب اور عیاریوں کے ذریعہ جاہل اور کمزور عقیدہ لوگوں پر اپنی نام نہاد روحانی بزرگی و کر امت کا ایسا سکہ جمایا کہ اس کے حامیوں کی اور معتقدوں کی ایک بہت بڑی جماعت اس کے گرد جمع ہوگئی اس کا حلقہ اثر جوں جوں بڑھتا گیا اتنا ہی وہ عقیدہ کی خرابی رائے و خیال کی گمراہی اور نفس کی خواہشات کا شکار ہوتا گیا جھوٹ اور فریب کاری کے سہارے اس نے پوری خلافت اسلامیہ پر قبضہ کرلینے کا منصوبہ بنایا اور اپنی فتنہ انگیزیوں کے ذریعہ کوفہ پر قابض بھی ہوگیا، نبوت کا مدعی بھی بنا اور اس بات کا دعویٰ کرنے لگا کہ جبرائیل (علیہ السلام) میرے پاس وحی لے کر آتے ہیں آخر کار حضرت مصعب ابن زبیر نے جو حضرت عبداللہ ابن زبیر کی طرف بصرہ کے گورنر تھے اپنی فوج لے کر کوفہ پر چڑھائی کی مختار نے بھی مقابلہ کیا مگر شکست کھا گیا اور پھر ١٤ رمضان ٢٧ ھ کو مقتول ہوا مختار کے انہی فریب اور جھوٹ سے بھرے حالات کی بناء پر علماء نے اس کو کذابوں میں سے ایک بڑا کذاب شمار کیا ہے اور حدیث کے الفاظ یخرج من ثقیف کذاب ومبیر (قبیلہ ثقیف میں ایک انتہا درجہ کا جھوٹا اور ایک انتہادرجہ کس مفسد وہلاکو کو پیدا ہوگا) کا مصداق ومحمول مختار اور حجاج کو قرار دیا ہے۔

5934Mishkaat-al-Masabih

قبیلہ ثقیف کے حق میں بددعا کے بجائے دعاء ہدایت

وعن جابر قال : قالوا : يا رسول الله أحرقتنا نبال ثقيف فادع الله عليهم . قال : اللهم اهد ثقيفا . رواه الترمذي

اور حضرت جابر ؓ کہتے ہیں کہ (ایک دن) کچھ صحابہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ قبیلہ ثقیف کے تیروں نے ہم کو بھون ڈالا ان کے لئے اللہ تعالیٰ سے بددعا کیئجے، آنحضرت ﷺ نے فرمایا اے اللہ! ثقیف کو (قبول اسلام اور اطاعت احکام کی) ہدایت و توفیق عطا فرماء۔ (ترمذی )

5935Mishkaat-al-Masabih

قبیلہ حمیرکے لئے دعا

وعن عبد الرزاق عن أبيه عن ميناء عن أبي هريرة قال : كنا عند النبي صلى الله عليه و سلم فجاء رجل أحسبه من قيس فقال : يا رسول الله العن حميرا فأعرض عنه ثم جاءه من الشق الآخر فأعرض عنه ثم جاءه من الشق الآخر فأعرض عنه فقال النبي صلى الله عليه و سلم : رحم الله حميرا أفواههم سلام وأيديهم طعام وهم أهل أمن وإيمان . رواه الترمذي وقال : هذا حديث غريب لا نعرفه إلا من حديث عبد الرزاق ويروى عن ميناء هذا أحاديث مناكير

اور حضرت عبد الرزاق ابن ہمام (جو جلیل القدر عالم وفقیہ اور کثیر والتصانیف بزرگ ہیں) اپنے والد مکرم (حضرت ہمام ابن نخعی تابعی) سے اور وہ حضرت مینا سے اور وہ حضرت ابوہریرہ ؓ نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے (یعنی حضرت ابوہریرہ ؓ نے) بیان کیا (ایک دن) ہم لوگ نبی کریم ﷺ کی مجلس مبارک میں حاضر تھے کہ ایک شخص آپ ﷺ کے پاس آیا، جس کے بارے میں میرا گمان ہم کہ وہ قبیلہ قیس سے تعلق رکھتا تھا، اس نے کہا یا رسول اللہ ﷺ! قبیلہ حمیر پر لعنت فرمائیے یعنی ان کے حق میں بددعا فرمائے کہ اللہ تعالیٰ اس قبیلہ کے لوگوں کو اپنی رحمت سے دور رکھے آنحضرت ﷺ نے (یہ سنا تو) اس شخص کی طرف سے منہ پھیرلیا وہ شخص پھر دوسری طرف سے آپ ﷺ کے سامنے آیا آپ ﷺ نے ادھر سے بھی منہ پھیرلیا پھر وہ شخص دوسری طرف سے آپ ﷺ کے سامنے آیا تو آپ ﷺ نے اس طرف سے بھی منہ پھیرلیا (یعنی آپ ﷺ کسی طرح بھی اس کی طرف متوجہ ہونے اور اس کی بات ماننے پر تیار نہیں ہوئے) اور پھر آپ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ حمیر پر اپنی رحمت نازل فرمائے ان کے منہ سلام ہیں، ان کے ہاتھ طعام ہیں اور وہ اہل امن بھی ہیں اور اہل ایمان بھی اس روایت کو ترمذی نے نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے اس روایت کو ہم عبد الرزاق ابن ہمام کے علاوہ اور کسی ذریعہ سے نہیں جانتے اور مینا سے نقل کی جانے والی روایتیں منکر ہیں (مطلب یہ کہ اگرچہ عبدالرزاق ابن ہمام مسلمہ فقیہ ومحدث اور قوی ثقہ راوی ہیں مگر مینا ایک ضعیف راوی ہیں ) تشریح ان کے منہ سلام ہیں اور ان کے ہاتھ طعام ہیں کے ذریعہ حمیر کی دو بڑی خوبیوں کی طرف اشارہ کیا فرمایا ایک تو یہ کہ ان کے ہاں سلام کا بہت چرچا ہے، جب بھی ایک دوسرے سے ملتے ہیں ان کے منہ سے سلام علیک ضرور نکلتا ہے اور دوسری خوبی یہ ہے کہ اپنے ہاتھ سے لوگوں کو کھانا خوب کھلاتے اور خوب تقسیم کرتے ہیں اس اعتبار سے یہ لوگ انکساری اور سخاوت جیسی دونوں عظیم صفتوں کے جامع ہیں اور جو اس بات کی علامت ہے کہ ان کو فضیلت و بزرگی کا مقام اور حقوق العباد کی ادائیگی کی سعادت حاصل ہے۔ وہ اہل امن بھی ہیں اور اہل ایمان بھی یعنی یہ لوگ کامل و پختہ ایمان کے حامل بھی ہیں اور ہر قسم کی آفات وبلیات اور مضرات سے محفوظ ومامون بھی ہیں۔

5936Mishkaat-al-Masabih

حضرت ابوہریرہ اور ان کا قبیلہ دوس

وعنه قال : قال لي النبي صلى الله عليه و سلم : ممن أنت ؟ قلت : من دوس . قال : ما كنت أرى أن في دوس أحدا فيه خير . رواه الترمذي

اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ (ایک دن) نبی کریم ﷺ نے مجھ سے پوچھا تم کس قبیلہ سے ہو؟ میں نے عرض کیا (یمن کے مشہور قبیلہ ازد کی ایک شا) دوس سے تعلق رکھتا ہوں، آپ ﷺ نے (حیرت ظاہر کرتے ہوئے) فرمایا مجھے گمان بھی نہیں تھا کہ قبیلہ دوس میں کوئی ایسا شخص بھی ہوسکتا ہے جس میں نیکی و بھلائی ہو (ترمذی) تشریح اس حدیث میں حضرت ابوہریرہ ؓ کی تعریف وتحسین ہے اور ان کے قبیلہ دوس کی مذمت، کہ اگر ابوہریرہ نہ ہوتے تو اس قبیلہ میں کوئی بھی خوبی و بھلائی نہ ہوتی۔

5937Mishkaat-al-Masabih

اہل عرب سے دشمنی آنحضرت ﷺ سے دشمنی رکھنا ہے

وعن سلمان قال : قال لي رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا تبغضني فتفارق دينك قلت : يا رسول الله كيف أبغضك وبك هدانا الله ؟ قال : تبغض العرب فتبغضني . رواه الترمذي وقال : هذا حديث حسن غريب

اور حضرت سلمان فارسی کہتے ہیں کہ (ایک دن) رسول کریم ﷺ مجھ سے فرمانے لگے، مجھ سے دشمنی نہ رکھنا ورنہ تم اپنے دین سے جدا ہوجاؤ گے میں نے (یہ سنا تو حیرت سے) عرض کیا بھلا یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ میں آپ ﷺ سے دشمنی تو دشمنی، دشمنی کا تصور بھی رکھوں! درآنحالیکہ (آپ ﷺ اللہ کے حبیب ہیں اپنی پوری امت کے محبوب ہیں اور آپ ﷺ کے ذریعہ ہی اللہ تعالیٰ نے ہمیں (اسلام کا اور اچھے کاموں کا) سیدھا راستہ دکھایا آپ ﷺ نے فرمایا اگر تم عرب سے دشمنی رکھوگے تو گویا مجھ سے دشمنی رکھوگے اس روایت کو ترمذی نے نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے۔ تشریح آنحضرت ﷺ کا مطلب یہ تھا کہ اگر تم عام طور پر تمام اہل عرب سے بغض و عداوت اور دشمنی رکھوگے تو چونکہ میں بھی عرب میں شامل ہوں اس لئے مجھ سے بھی تمہارا دشمنی رکھنا لازم ہوگا پس ایسی سے میں نے کہا کہ تم مجھ سے دشمنی نہ رکھنا، اس سے معلوم ہوا کہ اہل عرب سے بغض و عداوت رکھنے سے بہرصورت اجتناب کرنا چاہئے تاکہ اتنی بڑی خرابی میں پڑنے کی نوبت نہ آئے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت سلمان چونکہ عجمی اور فارسی النسل تھے اس لئے اس پرانی اور اصل وطنی نسبت کے تحت ان کی زبان سے کوئی ایسی بات نکل جایا کرتی ہوگی یا ان سے کوئی ایسی حرکت سرزد ہوجاتی ہوگی جس سے تمام عرب یا کچھ عرب کے تئیں حقارت یا بےادبی کا اظہار ہوتا ہوگا، ورنہ جہاں تک حقیقی بغض و عداوت رکھنے کا تعلق ہے تو حضرت سلمان کے بارے میں یہ تصور نہیں کیا جاسکتا کہ وہ عرب کے تئیں اس طرح کے جذبات رکھتے ہونگے تاہم ان کی اس طرح کی بات یا حرکت چونکہ صورۃ ًبغض و عداوت ہی کی مظہر ہوتی تھی اس لئے آنحضرت ﷺ نے ان کو متنبہ فرمایا کہ اس بارے میں احتیاط رکھیں اور اپنی زبان یا اپنے عمل سے کسی ایسی بات کا ارتکاب نہ کریں جس سے حقیقتہً نہ سہی صورۃ ہی عرب دشمنی کا اظہار ہوتا ہو کیونکہ اگر اس کا سلسلہ حققۃ بغض و عداوت رکھنے تک پہنچ گیا تو یہ چیز مجھ سے بغض و عداوت رکھنے کے مترادف ہوجائے گی۔