نبی ﷺ کی وفات کا بیان

Mishkaat-al-Masabih · Chapter 185 · 32 hadiths · Page 2 of 2

5906Mishkaat-al-Masabih

نزول وحی کا منقطع ہوجانے کا غم

وعن أنس قال : قال أبو بكر لعمر رضي الله عنهما بعد وفاة رسول الله صلى الله عليه و سلم : انطلق بنا إلى أم أيمن نزورها كما كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يزورها فلما انتهينا إليها بكت . فقالا لها : ما يبكيك ؟ أما تعلمين أن ما عند الله خير لرسول الله صلى الله عليه و سلم ؟ فقالت : إني لا أبكي أني لا أعلم أن ما عند الله تعالى خير لرسول الله صلى الله عليه و سلم ولكن أبكي أن الوحي قد انقطع من السماء فهيجتهما على البكاء فجعلا يبكيان معها . رواه مسلم

اور حضرت انس بیان کرتے ہیں رسول کریم ﷺ کی وفات کے بعد ایک دن حضرت ابوبکر حضرت عمر فاروق سے بولے کہ آؤ، ام یمن کے ہاں چلیں اور ان کی زیارت کریں جس طرح رسول کریم ﷺ ان کی ملاقات کو تشریف لے جایا کرتے تھے چناچہ جب ہم تینوں (یعنی میں اور حضرت ابوبکر وحضرت عمر ام یمن کے ہاں پہنچے تو وہ (ہمیں دیکھ کر) رونے لگیں، حضرت ابوبکر اور حضرت عمر دونوں نے کہا کہ کا ہے کو روتی ہو کیا تمہیں معلوم نہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ کے لئے اللہ کے ہاں (درجات و مراتب اور اعزازو انعام کی صورت میں) جو کچھ ہے وہ بہتر ہے ام ایمن بولیں میرے رونے کا سبب یہ نہیں ہے کہ میں اس بات سے لاعلم ہوں کہ اللہ کے ہاں رسول ﷺ کے لئے جو کچھ ہے بہتر ہی بہتر ہے (کیونکہ یہ تو بالکل ظاہری چیز ہے اور ہر شخص جانتا ہے) بلکہ میں اس لئے رو رہی ہوں کہ آسمان سے وحی آنے کا سلسلہ ختم ہوگیا ہے (اور ہم دنیا والے اس کی برکتوں سے محروم ہوگئے ہیں) ام ایمن (کے ان الفاظ) نے حضرت ابوبکر اور حضرت عمر پر بھی رقت طاری کردی اور وہ دونوں حضرات بھی ان کے ساتھ رونے لگے (مسلم ) تشریح ام ایمن حضرت اسامہ ابن زید کی ماں ہیں اور آنحضرت ﷺ کی آزادہ کردہ باندی ہیں۔ ان کا اصل نام برکتہ تھا اور آنحضرت ﷺ کے والد ماجد عبداللہ کی باندی تھیں، بعد میں ان کا ملکیت بطور وراثت آنحضرت ﷺ کو ملا تو آپ ﷺ نے ان کو آزاد کردیا تھا اور حضرت زید کے نکاح میں دے دیا تھا۔ حضرت زید بھی پہلے غلام تھے اور حضرت خدیجہ الکبری کی ملکیت میں تھے آنحضرت ﷺ نے ان کو خدیجہ الکبری سے مانگا تو انہوں نے زید کو بطور ہبہ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں پیش کیا اور پھر آپ نے ان کو آزاد کردیا۔ حضرت ام ایمن حبشی النسل تھیں اور صحابی عورتوں اونچا مقام رکھتی تھیں، آنحضرت ﷺ ان کی بڑی عزت و توقیر فرماتے تھے۔ ام ایمن بھی اسلام اور مسلمانوں کی محبت سے پوری طرح سرشار تھیں، میدان جنگ میں مجاہدین اسلام کو پانی پلانا اور زخمی ہوجانے والوں کی دوادارو اور دیکھ بھال کرنا ان کا محبوب مشغلہ ہوتا تھا، حضرت عمر فاروق کے انتقال کے بیس دن بعد ان کی وفات ہوئی۔

5907Mishkaat-al-Masabih

مسجد نبوی کے منبر پر آخری خطبہ

وعن أبي سعيد الخدري قال : خرج علينا رسول الله صلى الله عليه و سلم في مرضه الذي مات فيه ونحن في المسجد عاصبا رأسه بخرقة حتى أهوى نحو المنبر فاستوى عليه واتبعناه قال : والذي نفسي بيده إني ؟ لأنظر إلى الحوض من مقامي هذا ثم قال : إن عبدا عرضت عليه الدنيا وزينتها فاختار الآخرة قال : فلم يفطن لها أحد غير أبي بكر فذرفت عيناه فبكى ثم قال : بل نفديك بآبائنا وأمهاتنا وأنفسنا وأموالنا يا رسول الله قال : ثم هبط فما قام عليه حتى الساعة . رواه الدارمي

اور حضرت ابوسعید خدری کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ اپنے مرض وفات میں (ایک دن) اپنے حجرہ سے نکل کر مسجد نبوی میں تشریف لائے جہاں ہم (پہلے سے) بیٹھے ہوئے تھے، اس وقت آپ ﷺ نے اپنے سر کو کپڑا باندھ رکھا تھا (جیسا کہ درد سر کا مریض اپنے سر کو باندھے رکھتے ہے) پھر آپ ﷺ منبر کی طرف چلے اور اس پر کھڑے ہوئے، آپ ﷺ کے ساتھ ہم بھی آگے بڑھ کر آپ ﷺ کے سامنے) بیٹھ گئے اس وقت آپ ﷺ نے (حمد وثنا کے بعد) فرمایا قسم ہے اس ذات پاک کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے میں اس وقت اپنی جگہ (یعنی اس منبر پر کھڑا ہوا حوض کوثر کو دیکھ رہا ہوں پھر فرمایا ایک بندہ ہے جس کے سامنے (فانی دنیا اور دنیا کی (فانی) بہاریں پیش کی گئیں لیکن اس نے (مٹ جانے والی دنیا پر) آخرت (کی کبھی نہ مٹنے والی تعمتوں) کو ترجیح دے دی ہے حضرت ابوسعید کہتے ہیں کہ اس ارشاد گرامی کے رمز سوائے ابوبکر کے کوئی نہ سمجھ سکا، (زبان رسالت سے یہ الفاظ سن کر) ابوبکر کی آنکھوں سے آنسوجاری ہوگئے اور وہ رونے لگے، پھر بولے (نہیں) یا رسول اللہ ﷺ! (نہیں، ایسی دلدوز بات نہ فرمائیے) ہم اپنے باپوں کو، ماؤں کو، اپنی جانوں کو اور اپنے مالوں کو آپ ﷺ پر سے صدقہ کردیں گے۔ حضرت ابوسعید کہتے ہیں کہ اس کے بعد آنحضرت ﷺ منبر پر سے اتر کر تشریف لے گئے اور اس وقت تک پھر کبھی اس منبر پر نہ کھڑے نہ ہوئے (یعنی اس دن آپ کا منبر پر کھڑا ہونا آخری کھڑا ہونا تھا )۔ (دارمی) تشریح دوسری روایتوں میں آتا ہے کہ حضرت جبرائیل نے آپ کی خدمت میں آکر عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ چاہے آپ ﷺ دنیا میں ابھی اور رہیں اور ہم دنیا کے خزانے آپ ﷺ کے سپرد کریں اور ان پہاڑوں کو آپ کے لئے سونا چاندی کا بنادیں بغیر اس کے کہ ہمارے ہاں (آخرت میں) آپ کے لئے جو درجہ اور اجر و انعام مقرر ہے اس میں ذرہ برابر کمی ہو اور چاہے آپ ﷺ ہمارے پاس آجائیں۔ یہ سن کر آپ ﷺ نے سرجھکا لیا (جیسا کہ کسی اہم فیصلہ کا اعلان کرنے سے پہلے ارباب غور وفکر سرجھکا کر سوچنے لگتے ہیں) اور یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ اس وقت آنحضرت ﷺ کے غلاموں میں سے ایک غلام وہاں موجود تھا اس نے جو یہ بات سنی کہ آپ ﷺ کو دولت وزر کی اتنی زبردست پیشکش کے ساتھ دنیا میں رہنے کا اختیار دیا جارہا ہے) تو وہ بولا یا رسول اللہ ﷺ! اس میں کیا حرج ہے اگر آپ ﷺ کچھ مدت اور دنیا میں رہنا منظور فرما لیں، آپ ﷺ کے طفیل میں حاصل ہونے والے مال وزر سے ہم لوگ بھی آرام و آسائش کی زندگی گزار لیں گے، آنحضرت ﷺ نے اس غلام کی بات پر توجہ دینے کے بجائے نگاہ اٹھا کر حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کی طرف دیکھا اور جاننا چاہا کہ پیشکش اور اختیار کا اصل مقصد کیا ہے اور (جب سمجھ گئے کہ اللہ تعالیٰ اصل مقصد اپنے پاس بلانا ہے تو) فرمایا میں وہاں آنا چاہتا ہوں اس طرح آپ ﷺ نے آخرت کو اختیار کرلیا جس کو فنا نہیں، زوال نہیں اور دنیا کو ٹھکرا دیا جس کا انجام فنا اور زوال کے علاوہ کچھ نہیں اسی بنا پر بعض نے بہت خوب کہا ہے کہ اگر کسی سمجھ دار کو ایسے دو پیالوں میں سے کسی ایک پیالہ کو چن لینے کا اختیار دیا جائے جن میں سے ایک پیالہ تو مٹی کا ہو لیکن پائیدار رکھتا ہو اور دوسرا پیالہ سونے کا ہو مگر پائداری نہ رکھتا تو وہ سمجھدار یقینا اس پیالہ پر کہ جو سونے کا ہم مگر جلد ہی ختم ہوجانے والا ہے اس پیالہ کو ترجیح دے گا جو مٹی کا ہونے کے باوجود پائیدار اور باقی رہنے والا ہے اور کہیں صورت حال اس کے برعکس ہو یعنی سونے کے پائیدار پیالہ اور مٹی کے پائیدار پیالہ اور مٹی کے غیر پائیدار پیالہ میں سے کسی ایک پیالہ کو پسند کرلینے کا اختیار ہو تو پھر کوئی انتہائی نادان اور بیوقوف ہی شخص ہوگا جو پائیدار سونے کے پیالہ کو چھوڑ کر جلد ضائع ہوجانے والے مٹی کے پیالہ کو پسند کرے گا۔ پس جان لینا چاہئے کہ آخرت کی مثال اس پیالہ کی سی ہے جو پائیدار بھی ہے اور سونا کا بھی ہے جب کہ دنیا کی مثال اس پیالہ کی ہے جو نہ صرف مٹی کا ہے بلکہ جلد ضائع اور فنا ہوجانے والا ہے، قرآن کریم میں اسی حقیقت کی طرف ان الفاظ میں اشارہ کیا گیا ہے والاخرۃ خیروابقی اور آخرت ہی بہتر واعلی بھی ہے اور ہمیشہ ہمیشہ باقی رہنے والا بھی۔

5908Mishkaat-al-Masabih

حضرت فاطمہ سے وفات کی پیش بیانی

وعن ابن عباس قال : لما نزلت [ إذا جاء نصر الله والفتح ] دعا رسول الله صلى الله عليه و سلم فاطمة قال : نعيت إلي نفسي فبكت قال : لا تبكي فإنك أول أهلي لاحق بي فضحكت فرآها بعض أزواج النبي صلى الله عليه و سلم فقلن : يا فاطمة رأيناك بكيت ثم ضحكت . قالت : إنه أخبرني أنه قد نعيت إليه نفسه فبكيت فقال لي : لا تبكي فإنك أول أهلي لاحق بي فضحكت . وقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا جاء نصر الله والفتح وجاء أهل اليمن هم أرق أفئدة والإيمان يمان والحكمة يمانية . رواه الدارمي

اور حضرت ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ جب سورت اذا جاء نصر اللہ والفتح نازل ہو تو رسول کریم ﷺ نے حضرت فاطمہ کو بلایا اور ان سے فرمایا مجھ کو میری موت کی خبر دی گئی ہے حضرت فاطمہ (یہ سنتے ہی آپ ﷺ کی دائمی جدائی کا احساس کرکے) رونے لگیں آپ ﷺ نے فرمایا (میری بیٹی) روؤ نہیں، میرے اہل بیت میں سے تم ہی سب سے پہلے مجھ سے ملوگی (یہ سن کر مارے خوشی کے) حضرت فاطمہ ہنسنے لگیں، (وہاں موجود) بعض ازواج مطہرات نے حضرت فاطمہ سے اس طرح (پہلے روتے اور پھر ہنستے) دیکھا تو پوچھا کہ فاطمہ! یہ کیا بات ہے کہ ہم نے پہلے تو تمہیں روتے دیکھا اور ہنستے دیکھا؟ حضرت فاطمہ بولیں آنحضرت ﷺ نے پہلے مجھے یہ بتایا تھا کہ آپ ﷺ کو آپ کی کی موت کی خبر دے دی گئی ہے، یہ سن کر رونے لگی تھی اور پھر جب آپ نے یہ فرمایا کہ روؤ نہیں، میرے اہل بیت میں سے تم ہی سب سے پہلے مجھ سے ملوگی تو میں ہنسنے لگی اور رسول کریم ﷺ نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ کی مدد اور (مکہ کی) فتح حاصل ہوگی اور یمن کے لوگ آگئے جو دل کے نرم ہیں، ایمان یمنی ہے اور حکمت بھی یمنی ہے۔ (دارمی) تشریح مجھ کو میری موت کی خبر دے دی گئی گویا آنحضرت ﷺ نے یہ ارشاد فرمایا کہ یہ سورت دراصل اس دنیا سے میری رحلت کا اعلامیہ ہے کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ کی مدد ونصرت اور فتح کامرانی اور دین میں لوگوں کے جوق در جوق داخل ہونے کی خبر دی گئی ہے اور اس کے ساتھ ہی تسبیح وتحمید کا حکم دیا گیا ہے اور اس کا مطلب اس کے سوا کچھ نہیں کہ دنیا میں میرے رہنے اور میری بعثت کا جو مقصود ہے یعنی اتمام دعوت اور تکمیل دین وہ پورا ہوگیا ہے اب مجھے تسبیح وتحمید اور ذات حق کی طرف کامل توجہ واستغراق کے ذریعہ سفر آخرت کی تیاری کرنی چاہیے تم ہی سب سے پہلے مجھ سے ملوگی یہ الفاظ حضرت فاطمہ کی محض تسلی کے لئے نہیں تھے بلکہ ان کے سامنے اس حقیقت کی پیش گوئی کے طور پر تھے کہ میری رحلت کے بعد میرے اہل بیت میں سے جس کی موت سب سے پہلے ہوگی وہ تم ہی ہو اور میری جدائی کا غم تمہیں زیادہ دن برداشت نہیں کرنا پڑے گا۔ چناچہ ایسا ہی ہوا کہ آنحضرت ﷺ کی رحلت کے چھ ماہ بعد ایک روایت میں تین یا دو مہینے بعد اور ایک روایت میں ستر روز بعد ان کی وفات کا ذکر ہے۔ بعض ازواج مطہرات سے مراد حضرت عائشہ مراد ہیں جیسا کہ طیبی نے لکھا ہے لہٰذا کہا جائے گا کہ فقلن تو انہوں نے کہا جمع کا صیغہ حضرت عائشہ کی تعظیم شان کے لئے استعمال کیا گیا ہے۔ تاہم یہ بعید نہیں ہے کہ اس موقع پر حضرت عائشہ کے علاوہ کچھ دوسری ازواج مطہرات بھی موجودہوں اور ان سب نے حضرت فاطمہ کو پہلے روتے اور پھر ہنستے دیکھ کر ان سے صورت حال کے بارے میں سوال کیا ہو بلکہ ظاہری عبادت بعض یعنی ازواج النبی اور فقلن کے الفاظ سے یہی احتمال زیادہ قوی معلوم ہوتا ہے، نیز آنحضرت ﷺ نے حضرت فاطمہ سے مذکورہ بات چونکہ بہت چپکے سے کہی تھی اس لئے حضرت فاطمہ کے علاوہ اور کسی نے اس بات کو نہیں سنا اور اسی لئے انہوں نے حضرت فاطمہ سے دریافت کیا، بعض روایتوں میں یہ بھی آیا ہے کہ حضرت فاطمہ نے ان ازواج مطہرات کے پوچھنے پر بھی اس وقت اصل بات نہیں بتائی تھی، بلکہ صرف یہ جواب دیا تھا کہ میرے اور رسول اللہ کے درمیان ایک راز ہے میں کسی اور کو نہیں بتاؤں گی۔ اور پھر آنحضرت ﷺ کی وفات کے بعد انہوں نے یہ بات بتائی تھی۔ اور یمن کے لوگ آگئے اس کے ذریعہ آپ نے حضرت ابوموسیٰ اشعری اور ان کی قوم کے لوگوں کی طرف اشارہ فرمایا جنہوں نے اسلام قبول کیا تھا، نحوی طور پر وجاء اہل الیمن کا عطف جاء نصر اللہ پر ہے اور اصل میں یہ جملہ (کہ اور اہل یمن آگئے (مذکورہ سورت کے ان الفاظ ورایت الناس یدخلون فی دین اللہ افواجا، کی وضاحت و تفسیر ہے، مطلب یہ کہ اس آیت میں جو یہ فرمایا گیا ہے کہ آپ نے لوگوں کو دین میں داخل ہوتے دیکھ لیا تو لوگوں سے مراد اہل یمن ہیں۔ جو دل کے نرم ہیں یہ الفاظ آپ نے اہل یمن کی مدح و تعریف میں فرمائے کہ وہ لوگ احکام و ہدایات کو بہت جلد مان لیتے ہیں ان کے دل وعظ و نصیحت سے بہت زیادہ متاثر ہوتے ہیں، قبول حق کی استعداد ان میں زیادہ ہے اور قلب کی قساوت سے وہ محفوظ ہیں۔ ایمان یمنی ہے یعنی ایمان کا لفظ یمن سے نکلا ہے جو ملک یمن سے لفظی ہی نہیں بلکہ معنوی مناسبت بھی رکھتا ہے۔ دراصل یہ جملہ بھی اہل یمن کی مدح میں یعنی ان کے درجہ کمال کو ظاہر کرنے کے لئے ہے جو وہ ایمان واسلام اور اطاعت وانقیاد میں رکھتے ہیں۔ اور حکمت بھی یمنی ہے کا مطلب یہ ہے کہ علم و حکمت کو جو حقائق اشیاء اور ان کے احوال و خواص کی معرفت سے عبارت ہے اہل یمن سے خصوصی نسبت حاصل ہے کیونکہ وہ تحقیق و جستجو کا خاص ذہن فکر رہتے ہیں۔ ان الفاظ کے ذریعہ دراصل آنحضرت ﷺ نے حضرت ابوموسیٰ اشعری کے ان سوالات کی طرف اشارہ فرمایا جو انہوں نے احوال مبداء ومعاد اور ابتدائے پیدائش کے حقائق و معارف سے متعلق آنحضرت ﷺ سے کئے تھے یہ روایت جس میں ابوموسیٰ اشعری کے سوالات اور آنحضرت ﷺ کے جواب ہیں، کتاب بدء الخلق کے شروع میں پیچھے گزر چکی ہے اور بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ ایمان اور حکمت کی نسبت یمن کی طرف اس اعتبار سے کی ہے کہ ایمان مکہ سے شروع ہوا اور مکہ تہامہ کی زمین سے ہے اور تہامہ کا تعلق یمن سے بھی ہے، اسی لئے کعبہ کو کعبہ یمانیہ بھی کہا جاتا ہے اور بعض حضرات کا کہنایہ ہے کہ آپ ﷺ نے یہ حدیث تبوک میں ارشاد فرمائی جو ملک شام کا علاقہ ہے اور وہاں سے مکہ و مدینہ کی سمت وہی ہے جو یمن کی ہے، پس آپ ﷺ نے اشارہ تو یمن کی طرف کیا لیکن مراد آپ ﷺ کی مکہ اور مدینہ سے تھی۔ اور ابوعبید کا قول یہ ہے کہ یمن سے مراد انصار مدینہ ہیں جن کا اصل وطن یمن تھا، پس انصار مدینہ کی تعریف و توصیف کو پر زور انداز میں بیان کرنے کے لئے ایمان و حکمت کی نسبت یمن کی طرف کی گئی ہے۔ بہرحال اس حدیث کا مقصد محض یہ ظاہر کرنا ہے کہ یمنی لوگ یمنی لوگ کامل ایمان رکھتے ہیں اور اس سے چونکہ کسی دوسرے کے ایمان کی نفی ظاہر نہیں ہوتی اس لئے حدیث اور اس روایت کے درمیان منافات نہیں جس میں فرمایا گیا ہے کہ الایمان فی اہل الحجاز (اہل حجاز میں ایمان ہے) نیز اس ارشاد گرامی ﷺ سے یمن کے وہ کلمہ گوم مراد ہیں جو اس زمانہ میں تھے نہ کہ ہر زمانہ کے اہل ایمان یمن مراد ہیں۔ واضح رہے کہ سیاق حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ ارشاد گرامی کو جو ایک دوسری حدیث کا ٹکڑا ہے، وہاں سے اٹھا کر یہاں نقل کردیا ہے۔ حکمت کے معنی حکمت کے لغوی معنی عقل و دانائی کے ہیں، بعض حضرات کہتے ہیں حکمت ہر چیز کی حقیقت دریافت کرنے کے علم کو کہتے ہیں۔ طیبی کا قول ہے کہ حکمت کا لفظ خوب علم حاصل کرنے اور خوب عمل کرنے سے عبارت ہے۔ قرآن کریم میں حکمت کا ذکر یوں فرمایا گیا ہے ومن یوت الحکمۃ فقد اوتی خیرا کثیرا اور (حقیقت تو یہ ہے کہ) جس کو حکمت ملی اس کو بڑی خیر کی مل گئی۔ حضرت انس فرماتے ہیں الحکمۃ تزید الشریف شرفا وترفع العبد المملوک حتی تجلسہ مجالس الملوک۔ حکمت وہ جوہر ہے جو عزت دار وشریف کی عزت وشرف کو زیادہ کرتا ہے اور ایک مملوک غلام کے مرتبہ و حیثیت کو بڑھا کر بادشاہوں کی مجلسوں میں بیٹھنے کے قابل بنا دیتا ہے۔ اور حضرت ابوہریرہ ؓ منقول ہے کہ حکمت کے دس حصے ہیں ان میں سے نوحصے تو عزلت یعنی گوشہ نشینی میں ہیں اور ایک حصہ خاموشی میں۔

5909Mishkaat-al-Masabih

حضرت ابوبکر کی خلافت کے بارے میں وصیت

وعن عائشة أنها قالت : وا رأساه قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ذاك لو كان وأنا حي فأستغفر لك وأدعو لك فقالت عائشة : واثكلياه والله إني لأظنك تحب موتي فلو كان ذلك لظللت آخر يومك معرسا ببعض أزواجك فقال النبي صلى الله عليه و سلم : بل أنا وا رأساه لقد هممت أو أردت أن أرسل إلى أبي بكر وابنه وأعهد أن يقول القائلون أو يتمنى المتمنون ثم قلت : يأبى الله ويدفع المؤمنون أو يدفع الله ويأبى المؤمنون . رواه البخاري

اور حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے (ایک دن) رسول کریم ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے اپنے سردرد کی شدت کا اظہار کرتے ہوئے) کہا ہائے میرا سر پھٹا جا رہا ہے) رسول کریم ﷺ نے (یہ سن کر) فرمایا (عائشہ! ) وہ (یعنی تمہاری موت) اگر ایسی صورت میں آئی کہ میں زندہ رہا تو تمہارے لئے (سیأات سے) مغفرت و بخشش کی دعا مانگوں گا اور تمہارے (درجات و مراتب کی بلندی) کے لئے بھی دعا کروں گا، حضرت عائشہ بولیں ہائے میرے درد کی مصیبت اللہ کی قسم میرا تو خیال ہے کہ میری موت کو پسند فرماتے ہیں؟ اگر ایسا ہوا (کہ میں مرگئی) تو آپ ﷺ اسی دن کے آخری حصہ میں اپنی کسی بیوی کے ساتھ شب باشی فرمائیں گے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا (عائشہ! چھوڑو اس بات کو اور سنو) میرا قصد تھا۔ یا آپ ﷺ نے یہ فرمایا کہ میرا ارادہ تھا کہ میں (تمہارے والد) ابوبکر اور ان کے بیٹے (یعنی تمہارے عزیز بھائی عبدالرحمن) کو بلا بھیجوں اور ان کے حق میں وصیت کردوں تاکہ پھر کہنے والے کچھ نہ کہیں یا آپ نے یہ فرمایا کہ تاکہ متمنی لوگ (ابو بکر کے بجائے خود اپنے لئے یا کسی اور کے لئے خلافت کی) تمنا کا اظہار نہ کریں، پھر میں نے اپنے دل میں کہا خود اللہ تعالیٰ (ابوبکر کے علاوہ کسی دوسرے کی خلافت کو) منظور نہیں کرے گا) اور مسلمان بھی مدافعت کریں گے یا آپ ﷺ نے یوں فرمایا کہ خود اللہ تعالیٰ مدافعت کرے گا اور مسلمان بھی نہیں مانیں گے۔ (بخاری ) تشریح ہائے میرا سر بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ آنحضرت ﷺ کے مرض الموت ہی کے زمانہ کا واقعہ ہے، کسی دن حضرت عائشہ کے سر میں شدید سردرد ہوا ہوگا اور انہوں نے اس شکایت کا اظہار آنحضرت ﷺ کے سامنے ان الفاظ میں کیا ہوگا اور بعض حضرات نے لکھا ہے کہ سر سے مراد ذات ہے جس کے ذریعہ حضرت عائشہ اپنی موت کی طرف اشارہ کیا۔ واثکلیا ہائے میرے سردرد کی مصیبت لفظ ثکل (ث کے زبر اور پیش دونوں کے ساتھ) اصل معنی لڑکے یا دوست کے مرنے کے ہیں اور یہاں اس لفظ سے حضرت عائشہ نے خود اپنی ذات مراد لی ہے۔ کہ مرض کا ذکر موت کی یاد دلاتا ہے ویسے یہ ایک محاوراتی لفظ ہے، جوہر اضطراب و پریشانی کے وقت اہل عرب کی زبان پر آتا ہے خواہ اس کے حقیقی معنی مراد ہوں، یا مراد نہ ہوں۔ آپ ﷺ میری موت کو پسند فرماتے ہیں آنحضرت ﷺ کو مخاطب کرکے حضرت عائشہ نے یہ الفاظ اس ناز ونیاز اور پیارومحبت کے طور پر کہے جوان کے اور آنحضرت ﷺ کے درمیان تھا گویا حضرت عائشہ نے یہ کہا کہ میں مرگئی تو آپ کی بلا سے آپ ﷺ تو مجھے فورا بھلادیں گے اور اپنی دوسری بیویوں میں مشغول ہوجائیں گے۔ میرے سر کے درد اور میری موت کا ذکر کرو یعنی یہ تم اپنے سرکے درد اور اپنی موت کا ذکر لے کر کیوں بیٹھ گئیں، تمہیں تو میرے سرکے درد اور میرے بارے میں سوچنا چاہے۔ میں جو اس دنیا سے رخت سفر باندھ رہا ہوں، تمہیں تو ابھی بہت زندہ رہنا ہے اور میرے بعد بھی بہت زمانہ تک اس دنیا میں رہنا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ آنحضرت ﷺ کو وحی کے ذریعہ پتہ چل گیا تھا کہ درد سر دراصل میرا مرض الموت ہے جب کہ عائشہ کا درد سراتفاقی ہے اور ان کی زندگی ابھی بہت باقی ہے آنحضرت ﷺ اور حضرت عائشہ کی مرض کی اس یکسانیت میں اس کمال محبت کی طرف محبت کی طرف لطیف اشارہ ہے جوان دونوں کے درمیان تھا۔ میرا قصد تھا جب آنحضرت ﷺ نے حضرت عائشہ کے سامنے اپنی موت کا ذکر فرمایا توقدرتی طور پر اس بات کی طرف متوجہ کرنا ضروری تھا کہ آپ کے بعد کون شخص ملت کی دینی و دنیاوی قیادت سنبھالے گا؟ چناچہ آپ ﷺ نے حضرت ابوبکر کی خلافت کی طرف واضح اشارہ فرمایا اور اس کا مقصد حضرت عائشہ کی دلجوئی اور ان کو ان کے باپ کے لئے اس عظیم دولت ونعمت کی بشارت دینا بھی تھا تاکہ پھر کہنے والے کچھ نہ کہیں ان یقول القائلین کا ترجمہ تو یہی ہے اور اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ ابوبکر کو اپنا ولی عہد بنا کر ان کی خلافت کو وصیت کردینے سے پھر بعد میں لوگوں کو کچھ کہنے سننے کا موقع نہ رہے گا۔ اور ایک ترجمہ یہ ہوگا کہ کبھی کہنے والے کچھ کہیں اس صورت میں آپ ﷺ کے ارشاد کا مطلب یہ ہوگا کہ میرے اس ارادہ کی بنیاد یہ تھی کہ اگر میں نے ابوبکر کے لئے خلافت کبریٰ (ملت کی دینی و دنیاوی قیادت ) کی وصیت نہ کی تو شاید لوگ یہ کہنے لگیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ابوبکر کے لئے خلافت صغریٰ (نماز کی امامت) ہی پر اکتفا کرلیا، ان کے لئے خلافت کبریٰ کی واضح وصیت کیوں نہ کی، باوجودیکہ خلافت صغریٰ میں خلافت کبریٰ کا اشارہ بھی موجود ہے۔ پھر میں نے (اپنے دل میں) کہا یہاں سے آنحضرت ﷺ نے اپنے مذکورہ ارادہ پر عمل نہ کرنے کا سبب بیان فرمایا کہ اول تو اللہ کا فیصلہ یہی ہوگا۔ کہ میرے بعد پہلے خلیفہ ابوبکر ہوں۔ دوسرے یہ کہ مسلمان بھی ابوبکر کی خلافت کو برضا ورغبت قبول کریں گے کیونکہ انہوں نے دیکھ لیا ہے کہ میں نے اپنی بیماری کی حالت میں نماز کی امامت کے لئے ابوبکر کو منتخب کیا جو اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ مسلمانوں کی قیادت عظمی (منصب خلافت) کی ذمہ داریاں پوری کرنے کی سب سے زیادہ ابوبکر میں ہے۔ پس جب کہ تقدیر الہٰی بھی یونہی ہوگی اور عام مسلمان بھی ابوبکر کے علاوہ کسی دوسرے کی خلافت پر تیار نہیں ہوں گے، تو میں سمجھتا ہوں کہ ابوبکر کی خلافت کے لئے باقاعدہ وصیت کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ چناچہ ایسا ہی ہوا کہ آنحضرت ﷺ کی وفات کے بعد اللہ تعالیٰ نے ایسے حالات پیدا فرمائے کہ خلیفہ اول ابوبکر ہی منتخب ہوئے اور جب بعض لوگوں کی طرف سے اس بارے میں کسی قدر اختلاف رائے کا اظہار ہوا تو حضرت علی نے حضرت ابوبکر کے حق میں اسی خلافت صغریٰ (امامت نماز) سے استدلال کرتے ہوئے فرمایا جب آنحضرت ﷺ نے ابوبکر کو ہمارے دین کے معاملہ میں منتخب فرمایا تو یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم ان کو اپنی دنیا کے معاملہ میں منتخب نہ کریں دراصل مسئلہ خلافت میں حضرت ابوبکر کے حق میں اس سے بڑی دلیل اور کوئی ہو بھی نہیں سکتی تھی۔ اور مسلمان بھی نہیں مانے گے اس جملہ میں نہ صرف یہ کہ حضرت ابوبکر کی خلافت کی طرف واضح اشارہ ہے بلکہ اس میں ان لوگوں کی تکفیر کی طرف بھی اشارہ ہے جو حضرت ابوبکر کی خلافت کو برحق نہیں مانتے۔

5910Mishkaat-al-Masabih

مرض وفات کی ابتداء

وعنها : قالت : رجع إلي رسول الله صلى الله عليه و سلم ذات يوم من جنازة من البقيع فوجدني وأنا أجد صداعا وأنا أقول : وارأساه قال : بل أنا يا عائشة وارأساه قال : وما ضرك لو مت قبلي فغسلتك وكفنتك وصليت عليك ودفنتك ؟ قلت : لكأني بك والله لو فعلت ذلك لرجعت إلى بيتي فعرست فيه ببعض نسائك فتبسم رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم بديء في وجعه الذي مات فيه . رواه الدارمي

اور حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ ایک دن رسول کریم ﷺ (مدینہ کے قبرستان) بقیع میں ایک جنازہ کو دفن کرکے میرے پاس تشریف لائے تو مجھ کو اس حالت میں پایا کہ میں سرکے درد میں مبتلا تھی اور میں کہہ رہی تھی ہائے میرا سر (پھٹا جارہا ہے) آپ نے مجھے اس حالت میں دیکھ کر اور میرے یہ الفاظ سن کر فرمایا عائشہ (تم اپنے کو کیا کہہ رہی ہو) میں کہتا ہوں کہ میرا سر درد کررہا ہے (پھر بڑے پیار سے از راہ مذاق) آپ نے فرمایا اس میں نقصان کیا ہے۔ اگر تم مجھ سے پہلے مرجاؤ تو میں تمہیں غسل دوں گا میں کفناؤں گا میں تمہاری نماز جنازہ پڑھوں گا اور تمہیں دفناؤں گا یہ سن کر میں نے کہا اللہ کی قسم یہ تو مجھے آپ ﷺ کے بارے میں ابھی سے نظر آرہا ہے کہ آپ ﷺ نے ایسا کیا یعنی ایسی نوبت آئی کہ میں آپ ﷺ کے سامنے مرگئی اور آپ ﷺ نے میری تجہیزوتکفین اور تدفین وغیرہ کی تو آپ ﷺ ان سب امور سے فارغ ہو کر میرے گھر واپس آتے ہی اپنی کسی بیوی کے ساتھ شب باش ہوجائیں گے آنحضرت ﷺ میرے ان الفاظ کو سن کر جو میری غیرت وحمیت پر دلالت کرتے تھے مسکرائے اور پھر اسی دن سے آپ ﷺ کی اس بیماری کا سلسلہ شروع ہوا جس میں آپ نے وفات پائی (درامی) تشریح اور میں تمہیں دفناؤں گا آنحضرت ﷺ کے اس ارشاد میں اس طرف اشارہ ہے کہ اگر حضرت عائشہ ذات رسالت مآب کی موجودگی میں وفات پاجائیں تو یقینا ان کو سعادت و سرفرازی کا وہ خصوصی مرتبہ حاصل ہوتا تو آنحضرت ﷺ کے بعد زندہ رہنے اور وفات پانے کی صورت میں ان کو حاصل نہیں ہوا۔

5911Mishkaat-al-Masabih

وصال نبوی ﷺ کے بعد حضرت خضر (علیہ السلام) کی تعزیت

وعن جعفر بن محمد عن أبيه أن رجلا من قريش دخل على أبيه علي بن الحسين فقال ألا أحدثك عن رسول الله صلى الله عليه و سلم ؟ قال : بلى حدثنا عن أبي القاسم صلى الله عليه و سلم قال : لما مرض رسول الله صلى الله عليه و سلم أتاه جبريل فقال : يا محمد إن الله أرسلني إليك تكريما لك وتشريفا لك خاصة لك يسألك عما هو أعلم به منك يقول : كيف تجدك ؟ قال : أجدني يا جبريل مغموما وأجدني يا جبريل مكروبا . ثم جاءه اليوم الثاني فقال له ذلك فرد عليه النبي صلى الله عليه و سلم كما رد أول يوم ثم جاءه اليوم الثالث فقال له كما قال أول يوم ورد عليه كما رد عليه وجاء معه ملك يقال له : إسماعيل على مائة ألف ملك كل ملك على مائة ألف ملك فاستأذن عليه فسأله عنه . ثم قال جبريل : هذا ملك الموت يستأذن عليك . ما استأذن على آدمي قبلك ولا يستأذن على آدمي بعدك . فقال : ائذن له فأذن له فسلم عليه ثم قال يا محمد إن الله أرسلني إليك فإن أمرتني أن أقبض روحك قبضت وإن أمرتني أن أتركه تركته فقال : وتفعل يا ملك الموت ؟ قال : نعم بذلك أمرت وأمرت أن أطيعك . قال : فنظر النبي صلى الله عليه و سلم إلى جبريل عليه السلام فقال جبريل : يا محمد إن الله قد اشتاق إلى لقائك فقال النبي صلى الله عليه و سلم لملك الموت : امض لما أمرت به فقبض روحه فلما توفي رسول الله صلى الله عليه و سلم وجاءت التعزية سمعوا صوتا من ناحية البيت : السلام عليكم أهل البيت ورحمة الله وبركاته إن في الله عزاء من كل مصيبة وخلفا من كل هالك ودركا من كل فائت فبالله فثقوا وإياه فارجوا فإنما المصاب من حرم الثواب . فقال علي : أتدرون من هذا ؟ هو الخضر عليه السلام . رواه البيهقي في دلائل النبوة

اور حضرت امام جعفر صادق ابن محمد (رح) اپنے والد (حضرت امام باقر) سے روایت کرتے ہیں کہ قریش میں سے ایک شخص ان کے والد حضرت امام علی زین العابدین ابن حسین (نبی رہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ) کی خدمت میں حاضر ہوا تو حضرت امام علی زین العابدین (رح) نے اس سے کہا کہ کیا میں تمہارے سامنے رسول کریم ﷺ کی حدیث بیان کروں اس شخص نے کہا ہاں ہمارے سامنے حضرت ابوالقاسم محمد ﷺ کی حدیث ضرور بیان کیجئے۔ چناچہ امام علی زین العابدین (رح) نے بیان کیا جب رسول کریم ﷺ بیمار ہوئے تو حضرت جبرائیل (علیہ السلام) (عیادت کرنے اور پیغام الٰہی پہنچانے کے لئے) آپ ﷺ کی خدمت میں بھیجا ہے اور یہ تعظیم و تکریم (جس بات کی صورت میں ہے وہ صرف) آپ ﷺ کے لئے مخصوص ہے (اور وہ بات یہ ہے کہ) اللہ تعالیٰ آپ ﷺ سے وہ چیز دریافت کرتا ہے جس کو وہ آپ ﷺ سے زیادہ جانتا ہے (کیونکہ ظاہر و باطن کون سی چیز اس سے پوشیدہ ہے) تاہم وہ دریافت کرتا ہے کہ آپ ﷺ کہ آپ ﷺ اپنے کو کیسا پاتے ہیں یعنی آپ کا کیا حال ہے؟ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جبرائیل (علیہ السلام) میں نے اپنے آپ کو مغموم پاتا ہوں اور اے جبرائیل (علیہ السلام) میں اپنے آپ کو مضطرب و پریشان پاتا ہوں حضرت جبرائیل (علیہ السلام) (یہ جواب لے کر چلے گئے اور) پھر دوسرے دن آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور وہی الفاظ کہے جو پہلے دن کہے تھے، نبی کریم ﷺ نے بھی جواب میں وہ بات کہی جو پہلے کہی تھی، تیسرے دن حضرت جبرائیل (علیہ السلام) پھر آپ ﷺ کی خدمت میں آئے اور وہی الفاظ کہے جو پہلے تھے، نبی کریم ﷺ نے بھی جواب میں وہی بات کہی جو پہلے کہی تھی اور اسی دن یا اس کے بعد کسی اور دن حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کے ساتھ ایک اور فرشتہ بھی تھا جس کو اسماعیل کہا جاتا ہے اور ایسے ایک لاکھ فرشتوں کا افسر ہے جن میں ایک ایک فرشتہ ایک ایک لاکھ فرشتوں کا افسر ہے، اس اسماعیل فرشتے نے آپ کی خدمت میں باریاب ہونے کی اجازت مانگی، آنحضرت ﷺ نے اسماعیل فرشتہ کو باریابی کی اجازت دی اور پھر حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے (کچھ لمحے توقف کے بعد) کہا کہ یہ موت کا فرشتہ (عزرائیل) بھی حاضر ہے اور باریابی کی اجازت چاہتا ہے، حالانکہ اس فرشتہ موت نے نہ تو کبھی آپ ﷺ سے پہلے کسی شخص سے اجازت مانگی ہے اور نہ کبھی آپ ﷺ کے بعد کسی شخص سے اجازت مانگے گا (یعنی یہ صرف آپ ﷺ کا اعزازوشرف ہے کہ اس کو آپ ﷺ سے اجازت مانگنے کی ضرورت ہوئی ہے) ورنہ دوسرے آدمیوں کے پاس تو اچانک پہنچتا ہے اور روح قبض کرلیتا ہے آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اس کو اجازت دے دو چناچہ حضرت جبرائیل نے فرشتہ موت کو اجازت سے آگاہ کیا اور اس نے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر سلام عرض کیا (اور آپ ﷺ اپنی روح قبض کرنے کا حکم دیں تو قبض کرلوں اور اگر آپ یہ حکم دیں کہ میں آپ کو چھوڑ دوں گا آپ نے فرمایا اے فرشتہ موت کیا تم (وہی) کروگے (جو میں تمہیں حکم دوں گا) فرشتہ موت نے جواب دیا بیشک مجھے تو حکم ہی یہ دیا گیا ہے کہ آپ ﷺ کو اختیا ردیدوں) اور آپ ﷺ جو کچھ فرمائیں اس کی اطاعت کروں۔ امام علی زین العابدین کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرشتہ موت کی یہ بات سن کر حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کی طرف دیکھا (گویا ان سے مشورہ چاہا کہ بتاؤ مجھے کیا کرنا چاہے) حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے عرض کیا اے محمد حقیقت تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کی ملاقات کے مشتاق ہیں آنحضرت ﷺ نے یہ سنا توبلاتامل فرشتہ موت سے فرمایا کہ جس بات کا تم کو حکم دیا گیا ہے اس پر عمل کرو، چناچہ فرشتہ موت نے آپ ﷺ کی پاک روح قبض کرلی۔ جب رسول کریم ﷺ کا وصال ہوگیا اور ایک تعزیت کرنے والا (اہل بیت کو تسلی دینے) آیا تو لوگوں نے گھر کے ایک گوشہ سے آتی ہوئی آواز سنی کہ کوئی شخص کہہ رہا ہے اے اہل بیت اور وہ لوگ جو یہاں موجود ہیں تم پر سلامتی ہو۔ اللہ کی مہربانی اور اس کی برکتیں نازل ہوں، حقیقت یہ ہے کہ اللہ کی کتاب یا اللہ کے دین میں ہر مصیبت کے وقت تسکین و تسلی کا سامان موجود ہے، اللہ تعالیٰ ہر ہلاک ہونے والی چیز کا بدلہ عطا کرنے والا اور ہر فوت ہونے والی چیز کا تدارک کرنے والا ہے جب صورت یہ ہے تو اللہ کی مدد سے تقویٰ اختیار کرو، اس سے امید رکھو مصیبت زدہ حقیقت میں وہ شخص ہے؟ جو ثواب سے محروم کردیا گیا، حضرت علی نے کہا تم لوگ جانتے ہو (تعزیت و تسلی کے الفاظ کہنے والا) یہ کون شخض ہے؟ یہ حضرت خضر (علیہ السلام) ہیں۔ (روایت کو بیہقی نے دلائل النبوۃ میں نقل کیا ہے ) تشریح اپنے آپ کو مضطرب و پریشان پاتا ہوں بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ نے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کے سامنے اپنے جس غم وکرب اور اضطراب و پریشانی کا اظہار کیا اس کا تعلق امت کے مستقبل سے تھا میری امت نہ معلوم کن حالات سے دو چار ہو اور مسلمانوں کو کن نقصانات اور مصائب کا سامنا کرنا پڑے۔ اسماعیل فرشتہ کے بارے میں علماء نے لکھا ہے کہ یہ آسمان دنیا کا درواغہ ہے۔ نیز حدیث میں جس طرح اسماعیل فرشتہ کے آنے کا ذکر ہے۔ اسی طرح فرشتہ موت یعنی عزارئیل کی آمد کا ذکر نہیں ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اس وقت فرشتہ موت کا آنا بالکل ظاہر بات ہے۔ جس کو بیان کرنے کی حاجت نہیں تھی یا یہ کہ فرشتہ موت حضرت جبرائیل (علیہ السلام) اور اسماعیل فرشتہ کے آنے کے بعدعین اسی وقت حاضر ہوا ہوگا جب حضرت جبرائیل نے اس کی حاضری کی اطلاع اور اس کی طرف سے اجازت باریابی کی درخواست آنحضرت ﷺ کی خدمت میں پیش کی اور سیوطی نے بیہقی ہی سے یہ روایت نقل کی ہے تیسرے دن جب حضرت جبرائیل (علیہ السلام) آنحضرت ﷺ کی خدمت میں آئے تو ان کے ساتھ فرشتہ موت بھی تھا اور ان دونوں کے ساتھ ہوا میں ایک اور فرشتہ تھا جس کو اسماعیل (علیہ السلام) کہا جاتا ہے اور جو ایسے ستر ہزار فرشتوں پر حاکم مقرر ہے جن میں ایک ایک فرشتہ دوسرے ستر ہزار فرشتوں کا افسر اعلیٰ ہے۔ چناچہ فرشتہ موت نے آپ ﷺ کی روح قبض کرلی کے تحت شیخ عبد الحق لکھتے ہیں۔ جب حضرت جبرائیل (علیہ السلام) اور ان کے ساتھ فرشتہ موت اور ایک تیسرا فرشتہ حضرت اسماعیل آئے اور مذکورہ گفتگو پوری ہوگئی تو اس کے بعد آنحضرت ﷺ کو تھوڑی دیر مہلت ملی اور اس مہلت میں آپ ﷺ نے صحابہ کو اس سارے واقعہ اور گفتگو کی خبردی اور پھر اس کے بعد فرشتہ موت نے آپ ﷺ کی روح قبض کی یا یہ ہوا کہ عالم غیب کا یہ سارا واقعہ اور گفتگو بعض ان صحابہ پر بھی منکشف ہوئی جو اس وقت آپ ﷺ کے پاس موجود تھے اور انہی صحابہ میں سے کسی نے امام علی زین العابدین سے یہ واقعہ بیان کیا جن کو امام زین العابدین نے روایت کے شروع میں قریش میں سے ایک شخص سے تعبیر کیا ہے۔ لیکن ہمارا دل یوں کہتا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ حضرت خضر (علیہ السلام) ایک قریشی شخص کی صورت میں حضرت امام زین العابدین کے پاس آئے تھے اور انہوں نے یہ حدیث ان سے بیان کی اسی لئے امام زین العابدین نے راوی کا ذکر مبہم الفاظ میں کیا ایک روایت میں حضرت ام سلمہ ؓ سے منقول ہے کہ انتقال کے وقت نبی کریم ﷺ کی زبان مبارک پر وصیت و نصیحت کے جو الفاظ بہت زیادہ تھے وہ یہ تھے۔ الصلوۃ وماملکت ایمانکم نماز اور اپنے ملوک غلاموں کا خاص خیال رکھنا۔ ان فی اللہ عزائ کے معنی ومطلب میں شارحین حدیث کے مختلف اقول ہیں) مثلا ایک قول یہ ہے کہ فی اللہ (اللہ میں) کے الفاظ دراصل فی کتاب اللہ (اللہ کی کتاب میں) کا مفہوم رکھتے ہیں مطلب یہ مصیبت وغم کے موقع پر تسلی و تسکین دینے یا حاصل کرنے کی راہنمائی کتاب اللہ میں موجود ہے، پس ان الفاظ میں گویا اس آیت کریمہ کی طرف اشارہ ہے (الَّذِيْنَ اِذَا اَصَابَتْهُمْ مُّصِيْبَةٌ قَالُوْ ا اِنَّا لِلّٰهِ وَاِنَّا اِلَيْهِ رٰجِعُوْنَ ) 2۔ البقرۃ 256) اور آپ ﷺ ایسے صابرین کو بشارت سنا دیئجے (جن کی یہ عادت ہے) کہ ان پر جب کوئی مصیبت پڑتی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم تو اللہ کے ہی ملک ہیں اور اسی کے پاس جانے والے ہیں۔ دوسرا قول یہ ہے کہ فی اللہ دراصل فی دین اللہ (اللہ کے دین میں) کے معنی میں ہے اور مطلب یہ کہ اللہ کے دین میں ہر مصیبت وغم کے موقع پر اس صبر کی صورت میں تسلی کا سامان موجود ہے جس کی تلقین شارح (علیہ السلام) نے کی ہے۔ اور بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ اللہ میں تسکین و تسلی کا سامان موجود ہے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر مصیبت وغم کے وقت صبر اور تسکین و تسلی عطا کرنے والا ہے۔ گویا علم بیان کی اصطلاح میں یہ بات تجرید کے طور پر کہی گئی ہے اور اس کی مثال یہ ہے کہ عربی میں کہا جاتا ہے رأیت فی زید اسد۔ میں نے زید میں شیر دیکھا۔ اور اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ میں نے زید کو شیر کی طرح طاقتور اور بہادر پایا۔ یہ احتمال پایا۔ یہ احتمال ما بعد عبارت کے اعتبار سے زیادہ موزوں معلوم ہوتا ہے۔ خلفا من کل ہالک ودرکا من کل فائت کے ایک معنی تو وہی ہیں جو ترجمہ میں مذکورہ ہوئے کہ اللہ ہر بلاک ہونے والی چیز کا بدلہ عطا کرنے والا اور ہر فوت ہونے والی شئے کا تدارک کرنے والا ہے اور ایک معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ اللہ کے دین یا اللہ کی کتاب میں وہ تعلیمات مذکور ہیں کہ ان پر عمل کرکے انسان بڑی سے بڑی محرومی امربڑے سے بڑے نقصان کو اپنے حق میں نعم البدل یعنی اخروی اجر و انعام کا باعث بنا سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی مدد سے تقویٰ اختیار کرو یعنی اللہ تعالیٰ کے حکم و فیصلہ کو خوش دلی کے ساتھ قبول کر کے اور اس کی مدد توفیق کے ذریعہ صبر و استقامت اختیار کرو، رونے دھونے اور بےصبری وبے قراری سے دور رہو، ان الفاظ میں گویا اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد پر عمل کرنے کی تلقین ہے کہ واصبروما صبرک الا باللہ۔ اور صبر کرو اور تمہارا صبر کرنا اللہ ہی کی توفیق سے ہے۔ اور ایک روایت میں یہاں (فاتقوا یعنی تقویٰ اختیار کرو کے بجائے فتقوا کا لفظ ہے (جیسا کہ حصن حصین میں بھی منقول ہے) اس صورت میں معنی یہ ہوں گے کہ اللہ پر اعتماد کرو اور کہا جائے گا کہ اس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی طرف اشارہ ہے کہ وتوکل علی الحی الذی لایموت۔ اور اسی حی لایموت (اللہ) پر توکل رکھو۔ اسی سے امید رکھو کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کسی سے اپنی امیدیں وابستہ نہ کرو کیونکہ امید اسی ذات سے وابستہ کی جاسکتی ہے جو معبود ہو اور معبود اللہ کے سوا کوئی نہیں۔ یا یہ مطلب ہے کہ صبر پر تمہارے لئے اللہ کے ہاں جو اجر وثواب ہے اس کی پوری پوری امید رکھو۔ جو ثواب سے محروم کردیا گیا کا مطلب یہ ہے کہ حقیقی مصیبت زدہ وہ شخص نہیں ہے جو کسی دنیاوی مصیبت میں مبتلا ہو کیونکہ کسی دنیاوی مصیبت پر صبر کرکے بحسب مرتبہ بڑے سے بڑا ثواب حاصل کیا جاسکتا ہے بلکہ حقیقی مصیبت زدہ تو وہ ہے جو مصیبت پر صبر نہ کرے اور پھر اخروی اجر وثواب سے محروم قرار پائے واضح رہے کہ اللہ کے نزدیک وہی صبر معتبر ہم جو مصیبت و صدمہ کے وقت شروع ہی میں حاصل ہوجائے۔ حضرت علی نے کہا تم لوگ جانتے ہو؟ یہ اس نامعلوم آواز کی وضاحت تھی جو گھر کے ایک گوشہ سے آرہی تھی، چناچہ حضرت علی نے بتایا یہ آواز دراصل حضرت خضر (علیہ السلام) کی ہے، جو اہل بیت نبوی اور صحابہ کرام سے تعزیت کے لئے یہاں آئے ہیں۔ نیز عبارت کے ظاہری سیاق سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں علی سے مراد امیر المؤمنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی ذات ہم جو اس وقت وہاں موجود تھے۔ تاہم اس احتمال کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ حدیث کے روای امام علی زین العابدین ہی مراد ہوں اور انہوں نے یہ حدیث روایت کرتے وقت اس آواز کی وضاحت میں یہ بات کہی ہو۔۔ حصن حصین میں رمز مستدرک کے ساتھ یہ روایت نقل کی گئی ہے کہ جب آنحضرت ﷺ کی روح عالم بالا کو پرواز کرگئی تو فرشتوں نے (غیبی آواز کی صورت) صحابہ اور اہل بیت نبوی سے تعزیت کی تعزیت کے وہی الفاظ نقل کرنے کے بعد جو اوپر حدیث میں نقل ہوئے ہیں، ایک اور روایت یوں نقل کی ہے (آنحضرت ﷺ کی وفات کے بعد) ایک سفید ریش شخص، جو نہایت تنومند اور خوش شکل تھا۔ اچانک (حجرہ نبوی میں داخل ہوا صحابہ کی طرف متوجہ ہو کر یہ الفاظ کہے فی اللہ عزاء۔ اللہ کی کتاب یا اللہ کے دین میں ہر مصیبت حادثہ کے وقت تسکین و تسلی کا سامان موجود ہے۔ حضرت علی اور حضرت ابوبکر نے وہاں موجود لوگوں کو بتایا کہ حضرت خضر (علیہ السلام) ہیں۔ اس روایت سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ اوپر کی حدیث میں علی سے مراد حضرت علی مرتضیٰ کرم اللہ وجہہ مراد ہیں۔

5912Mishkaat-al-Masabih

آنحضرت ﷺ نے کوئی مالی وصیت نہیں کی

عن عائشة قالت : ما ترك رسول الله صلى الله عليه و سلم دينارا ولا درهما ولا شاة ولا بعيرا ولا أوصى بشيء . رواه مسلم

حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے اپنی وفات کے بعد نہ کوئی دینار چھوڑا اور نہ کوئی درہم نہ کوئی بکری چھوڑی اور نہ آپ نے کسی چیز کی وصیت کی۔ (مسلم) تشریح اور نہ آپ ﷺ نے کسی چیز کی وصیت کی کا مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ نے از قسم مال کسی چیز کے بارے میں کوئی وصیت نہیں کی کیونکہ جب آپ ﷺ سرے سے کوئی جائیداد چھوڑ کر ہی نہیں جارہے تھے تو وصیت کی نوبت کیوں آتی رہا بنو نضیر اور فدک وغیرہ کی زمین و جائداد کا معاملہ تو اس کو آپ ﷺ نے اپنی حیات ہی میں تمام مسلمانوں کے لئے کردیا تھا صرف اپنے اہل و عیال کے نفقہ کے بقدر اس میں سے لیتے تھے۔ اس موقع پر علامہ نووی (رح) لکھتے ہیں ایک روایت میں منقول ہے کہ جب لوگوں نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کے سامنے یہ ذکر کیا کہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو اپنا وصی بنایا، تو حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے (حیرت سے) فرمایا آپ ﷺ نے کب وصیت فرمائی تھی؟ میں (تو آخر وقت تک آپ ﷺ کے پاس رہی اور) جب تک کہ آپ ﷺ کی روح پرواز نہیں کرگئی آپ ﷺ کا تکیہ بنی بیٹھی رہی اور (اگر آپ ﷺ نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے حق میں کوئی وصیت کی ہوتی اور ان کو اپنا وصی یعنی اپنے مال و جائیداد کا وارث یا نگران بنایا ہوتا تو اس کا علم مجھ سے زیادہ کس کو ہوتا۔ جو لوگ ایسا کہتے ہیں غلط کہتے ہیں، آپ ﷺ نے کسی کو وصی نہیں بنایا پس حدیث کے الفاظ والا اوصی بشی کا موضوع مالی وصیت ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے نہ تو اپنے مال کے تہائی حصہ کی وصیت نہ تہائی سے زیادہ یا کم کی، کیونکہ آپ ﷺ کے پاس نہ کوئی مال تھا نہ جائیداد کہ اس کے بارے میں وصیت کرتے اسی طرح آپ ﷺ نے نہ تو حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے حق میں کوئی وصیت کی اور نہ کسی دوسرے کے حق میں جیسا کہ شیعوں کا غلط گمان ہے۔ جہاں تک ان احادیث صحیحہ کا تعلق ہے جن میں کتاب اللہ کے متعلق وصیت کرنے یا غیر قوموں کے ایلچیوں اور وفدوں کی خاطر داری اور ان کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت کرنے کا ذکر ہے تو وہ دوسرا موضوع ہے۔ جو حدیث کے مذکورہ الفاظ ولاوصی بشئی کی مراد نہیں ہے بعض سیرت نگاروں نے جو یہ لکھا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے پاس بہت اونٹ تھے، دس اونٹنیاں تھیں اور اونٹنیوں اور اونٹوں کو نواح مدینہ میں رکھا جاتا تھا جہاں سے اونٹنیوں کا دودھ نکال کر لوگ روزانہ رات میں لایا کرتے تھے، نیز آپ ﷺ کے پاس سات بکریاں بھی تھی جن کا دودھ آپ ﷺ پیا کرتے تھے۔ تو یہ روایت تو اس حیثیت کی نہیں ہے کہ مذکورہ بالا حدیث کی معارض بن سکے دوسرے اگر اس روایت کو صحیح بھی مان لیا جائے تو اس بات پر محمول ہوگی کہ وہ اونٹ وغیرہ صدقہ کا مال تھے اور ان کے ذریعہ جو دودھ حاصل ہوتا اس کو اصحاب صفہ اور دوسرے غیر مستطیع لوگ پیا کرتے تھے۔

5913Mishkaat-al-Masabih

حضور ﷺ نے کوئی ترکہ نہیں چھوڑا

عن عمرو بن الحارث أخي جويرية قال : ما ترك رسول الله صلى الله عليه و سلم عند موته دينارا ولا درهما ولا عبدا ولا أمة ولا شيئا إلا بغلته البيضاء وسلاحه وأرضا جعلها صدقة . رواه البخاري

اور حضرت عمروا بن حارث جو (صحابی ہیں اور) ام المؤمنین حضرت جویریہ ؓ کے بھائی ہیں وہ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے اپنی وفات کے وقت نہ کوئی دینار چھوڑا، نہ درہم چھوڑا نہ غلام چھوڑا، نہ لونڈی چھوڑی اور نہ کوئی اور چیز چھوڑی، البتہ آپ کا ایک سفید خچر تھا (جس کو دلدل کہا جاتا تھا اور جو مقوقس حاکم اسکندریہ نے تحفہ کے طور پر آپ ﷺ کی خدمت میں بھیجا تھا) آپ ﷺ کے کچھ ہتھیار تھے اور آپ ﷺ کی کچھ زمین تھی اس کو بھی آپ ﷺ نے صدقہ کردیا تھا۔ (بخاری) تشریح نہ غلام چھوڑا نہ کوئی لونڈی چھوڑی۔ کا مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ کے پاس کوئی لونڈی اور غلام نہیں تھا جو رق یعنی بطور مملوک آپ ﷺ کی غلامی میں رہے ہوں۔ اس سے معلوم ہوا کہ بعض روایتوں میں آنحضرت ﷺ کے بردوں (لونڈی غلاموں) کا جو ذکر آیا ہے وہ سب آپ ﷺ کی حیات ہی میں مرگئے ہوں گے یا آپ ﷺ نے ان کو آزاد کردیا ہوگا۔ آپ ﷺ کے کچھ ہتھیار تھے۔ میں ہتھیار سے مراد وہ ہتھیار ہیں جو خاص آپ ﷺ کے استعمال میں رہتے تھے جیسے تلوار، نیزے، زرہ، خود اور بھالدار عصا، یعنی برچھا۔ اور ایک روایت میں صرف ایک زرہ کا ذکر ہے جو وفات کے وقت آپ ﷺ نے چھوڑی تھی اور وہ ایک یہودی کے پاس گروی رکھی ہوئی تھی۔ واضح رہے کہ حدیث میں جو حصر ہے (کہ وفات کے وقت آپ ﷺ کے پاس صرف یہ چند چیزیں تھیں) وہ اضافی ہے اور اس بات پر مبنی ہے کہ استعمال کے کپڑے اور معمولی گھریلوسامان جیسی چھوٹی موٹی چیزوں کا کوئی اعتبار نہیں کیا جاتا اور نہ ان چیزوں کا مال و جائیداد میں شمار ہوتا ہے، چناچہ ثابت ہوا کہ آنحضرت ﷺ نے کچھ کپڑے وغیرہ چھوڑے تھے۔ اس کو بھی آپ ﷺ نے صدقہ کردیا تھا۔ کے بارے میں ایک شارح نے لکھا ہے کہ جعلہا کی ضمیر تمام مذکورہ چیزوں یعنی خچر ہتھیار اور زمین کی طرف راجع ہے جب کہ بظاہر یہ متبادر ہوتا ہے کہ جعلہا کی ضمیر صرف زمین کی طرف راجع ہے نیز عسقلانی (رح) نے لکھا ہے اس کو صدقہ کردیا تھا کا مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ نے زمین کی منفعت کو صدقہ کردیا تھا یعنی یہاں صدقہ وقف کے حکم میں ہے دوسرے لفظوں میں یوں کہا جاسکتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اس زمین کو، اس کے باقی وقائم رہنے تک اپنی حیات ہی میں صدقہ جاریہ باقیہ کردیا تھا، اس طرح وہ زمین جب تک باقی رہے گی اس کے صدقہ کا ثواب آنحضرت ﷺ کو ملتا رہے گا پس یہ بات اس کے منافی نہیں ہے کہ جو باقی چیزیں آپ ﷺ کے پاس تھیں وہ آپ ﷺ کی وفات ہوتے ہی خود بخود صدقہ ہوگئیں۔ علامہ کرمانی (رح) شرح بخاری میں لکھتے ہیں (حدیث میں۔ زمین کا جو ذکر ہے تو اس سے) وادی قریٰ کی آدھی زمین خیبر کی زمین کا پانچواں حصہ اور بنونضیر کی زمین جائیداد کا وہ حصہ مراد ہے جو آپ ﷺ نے اپنے لئے مخصوص کرلیا تھا، جعلہا کی ضمیر حدیث میں مذکورہ تینوں چیزوں (یعنی خچر ہتھیار اور زمین) کی طرف راجع ہے نہ کہ زمین کی طرف اور یہ بات آنحضرت ﷺ کے اس ارشاد سے ثابت ہوتی ہے کہ ہماری انبیاء (علیہم السلام) کی جماعت میراث نہیں چھوڑتی ہے ہمارا جو کچھ ترکہ ہوتا ہے وہ سب صدقہ ہوجاتا ہے۔

5914Mishkaat-al-Masabih

حضور ﷺ کا ترکہ وارثوں کا حق نہیں

وعن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : لا يقتسم ورثتي دينارا ما تركت بعد نفقة نسائي ومؤنة عاملي فهو صدقة . متفق عليه

اور حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا میری وفات کے بعد میرے وارث دینار نہیں بانٹیں گے، میرا جو کچھ بھی ترکہ ہوگا وہ عورتوں کے خرچ اور عامل کی اجرت کے بعد باقی سب صدقہ ہوگا، (بخاری ومسلم ) تشریح میرے وارث دینار نہیں بانٹیں گے یہ آنحضرت ﷺ کا حقیقی طور پر خبر دینا ہے کہ میں اپنے ترکہ میں کوئی دینار و درہم نہیں چھوڑوں گا اور جب میں کوئی دینار و درہم چھوڑوں گا ہی نہیں تو میرے مرنے کے بعد میرے ورثاء کے درمیان دینار و درہم تقسیم ہونے کی نوبت بھی نہیں آئے گی یا یہ کہ جملہ ظاہری اسلوب کے اعتبار سے تو خبر دینے کے طور پر ہے مگر حقیقت میں نہی (ممانعت) کا مفہوم رکھتا ہے جس کا مطلب یہ ہوگا میں جو کچھ چھوڑ کر جاؤں اس کو میرے ورثاء آپس میں تقسیم نہ کریں اور پھر آگے اس کی ممانعت کی علت بیان فرمائی کہ میرا سارا ترکہ میری بیویوں کے مصارف اور میرے عاملوں کی اجرت کے بعد باقی سب صدقہ ہوگا۔ واضح رہے کہ آنحضرت ﷺ کی ازواج مطہرات کا حکم وہ نہیں جو عدت والی عورتوں کا ہوتا ہے کیونکہ آپ ﷺ کی وفات کے بعد کسی اور سے نکاح کرلینا جائز نہیں تھا، اس لئے ان کے خرچ کی کفالت اور ان کا نفقہ پورا آپ ﷺ کے ترکہ سے متعلق رہا۔ نیز عامل سے مراد وہ حضرات ہیں جو آپ ﷺ کے بعد مسند خلافت پر فائز ہوئے۔ پس ارشاد گرامی کا حاصل یہ ہوا کہ میرے ترکہ میں سے میری بیویوں کا نفقہ پورا کیا جائے اور میرے خلفاء بھی اپنے مصارف میں خرچ کریں اور پھر جو باقی رہے اس کو فقراء ومستحقین پر صرف کیا جائے جیسا کہ میں صرف کیا کرتا تھا۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ آنحضرت ﷺ اپنے اہل و عیال کا نفقہ صفایا کی آمدنی سے پورا کرتے تھے۔ جو بنی نضیر کی جائیداد میں سے آپ ﷺ کے حصے اور فدک کی زمین پر مشتمل تھا، بقدر نفقہ لینے کے بعد آمدنی کا باقی تمام حصہ مسلمانوں کے مصالح ومصارف میں خرچ فرماتے تھے۔ آپ ﷺ کی وفات کے بعد مذکورہ زمین جائیداد کے متولی حضرت عثمان غنی خلیفہ ہوئے اور وہ اپنے ذاتی مال و دولت کی وجہ سے اس زمین جائیداد کی آمدنی سے مستغنی رہے۔ تو انہوں نے وہ ساری زمین جائیداد اپنے اقا رب میں سے مروان وغیرہ کو عطا کردی، جس پر وہ لوگ قابض رہے یہاں تک حضرت عمر ابن عبد العزیز خلیفہ ہوئے تو انہوں نے مروان وغیرہ کے ورثاء سے اس زمین جائیداد کو واپس لے کر حسب سابق مصارف کے لئے مخصوص کردیا۔

5915Mishkaat-al-Masabih

نبی کے ترکہ میں میراث جاری نہی ہوتی

وعن أبي بكر رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا نورث ما تركناه صدقة . متفق عليه

اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ ہم (انبیاء علیہم السلام) جو کچھ (زمین جائیداد یا مال) چھوڑتے ہیں اس میں میراث جاری نہیں ہوتی بلکہ وہ صدقہ ہے۔ (بخاری ومسلم ) تشریخ مطلب یہ ہے کہ انبیاء از قسم مال جائیدادجو کچھ چھوڑجاتے ہیں وہ میراث کے طور پر ان کے پسماندگاں کا حق نہیں ہوتا بلکہ صدقہ کا مال ہوتا ہم جس کا مصرف فقراء و مساکین ہوتے ہیں اور صوفیہ کے نزدیک فقیر کی تعریف یہ ہے کہ وہ شخص جو کسی چیز کا مالک نہ ہو۔ پس انبیاء علہیم السلام کے پاس جو کچھ ہوتا ہے وہ بظاہر ان کا ہوتا ہے لیکن حقیقت میں امانت یا وقف اور صدقہ کے طور پر ان کے پاس رہتا ہے اور جیسا کہ بعض حضرات نے کہا ہے اسی وجہ سے نہ انبیاء (علیہم السلام) کی مالی میراث جاری ہوتی ہے اور نہ کوئی شخص ان کا وارث قرار پاتا ہے اور جب ان کی وراثت ہی قائم نہی ہوتی تو ان کے ورثاء اور پسماندگان میں کسی کو یہ موقع نہیں ملتا کہ وہ ان کا ترکہ پانے کی تمنا میں ان کی موت سے خوش ہو تفصیلی روایتوں میں آتا ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے یہ حدیث اس وقت بیان کی تھی جب حضرت فاطمہ الزہراء ؓ کی طرف سے میراث کا مطالبہ سامنے آیا تھا، انہوں نے حضرت فاطمہ الزہراء ؓ سے فرمایا کہ میں رسول اللہ ﷺ کا خلیفہ ہوں، میں آپ ﷺ کا ترکہ انہی مصارف میں خرچ کرتا ہوں جہاں آنحضرت ﷺ خرچ فرمایا کرتے تھے اور اسی اعتبار سے میں تمہاری غمخواری بھی اسی طرح کرتا ہوں جس طرح آنحضرت ﷺ تمہاری غمخواری کرتے تھے یہ حدیث میں نے خود آنحضرت ﷺ سے سنی ہے کہ ہم انبیاء (علیہم السلام) کی (مالی) وراثت قائم نہیں ہوتی۔ یہ منقول ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے یہ بات صرف فاطمہ الزہراء ؓ سے نہیں کہی تھی بلکہ ازواج مطہرات سے بھی کہی تھی جنہوں نے میراث کا مطالبہ کیا تھا اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے یہ فیصلہ کیا کہ آنحضرت ﷺ کی مالی میراث قائم نہیں ہوگی، تنہا اپنی مرضی سے نہیں دیا تھا بلکہ انہوں نے تمام بڑے بڑے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو بلا کر مشورہ کیا اور سب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے یہی کہا کہ آپ ﷺ کی وراثت قائم نہیں ہوسکتی کیونکہ ہم نے خود آنحضرت ﷺ سے ایسا ہی سنا ہے تو حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے مذکورہ فیصلہ دیا۔

5916Mishkaat-al-Masabih

امت مرحومہ کے نبی اور امت غیر مرحومہ کے نبی کی وفات کے درمیان امتیاز

وعن أبي موسى عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه قال : إن الله إذا أراد رحمة أمة من عباده قبض نبيها قبلها فجعله لها فرطا وسلفا بين يديها وإذا أراد هلكة أمة عذبها ونبيها حي فأهلكها وهو ينظر فأقر عينيه بهلكتها حين كذبوه وعصوا أمره . رواه مسلم

اور حضرت ابوموسیٰ اشعری ؓ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس امت کو اپنی رحمت و مہربانی سے نوازنا چاہتا ہے اس امت کے نبی کو اس امت (مجموعی ہلاکت) سے پہلے اٹھا لیتا ہے، اس طرح اللہ تعالیٰ اس نبی کو اس امت کا میر منزل اور پیش رو بنا دیتا ہے۔ (یعنی اگر وہ نبی اپنی امت سے راضی اور خوش جاتا ہے تو آخرت میں اپنی امت کا شافع ہوتا ہے) اور جب اللہ تعالیٰ کسی امت کو ہلاک کردینا چاہتا ہے تو اس امت پر اس نبی کی زندگی ہی میں عذاب مسلط کردیتا ہے، چناچہ امت ہلاکت و تباہی کا شکار ہوجاتی ہے اور وہ نبی اپنی امت کی ہلاکت و تباہی کو اپنی نظروں سے دیکھتا ہے اور اپنی آنکھیں ٹھنڈی کرتا ہے یعنی خوش ہوتا ہے کیونکہ وہ امت اپنے نبی کو جھٹلاتی تھی اور اس کے احکام کی نافرمانی کرتی تھی۔ (مسلم )

5917Mishkaat-al-Masabih

ذات رسالت ﷺ سے امت کی عقیدت ومحبت کی پیش خبری

وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : والذي نفس محمد بيده ليأتين على أحدكم يوم ولا يراني ثم لأن يراني أحب إليه من أهله وماله معهم . رواه مسلم

اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں محمد ﷺ کی جان ہے، ایک دن تم لوگوں پر ایسا آئے گا جو شخص مجھ کو نہیں دیکھے گا، اس کو میرا دیکھنا اس سے کہیں زیادہ پسند ہوگا وہ اپنے اہل و عیال اور اپنے اہل و عیال کے ساتھ اپنے مال ومتاع کو دیکھے۔ (مسلم) تشریح یا تو آپ ﷺ کے اس ارشاد کا تعلق آپ ﷺ کی حیات میں آپ ﷺ کو دیکھنا اور آپ ﷺ کی محبت اختیار کرنے سے ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ میرے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو مجھ سے اتنی زیادہ محبت اور تعلق ہے کہ اگر وہ مجھ کو ایک دن نہ دیکھیں اور میری صحبت سے محروم رہیں تو ان کا اشتیاق و اضطراب کہیں بڑھ جائے، اس صورت میں وہ اپنے اہل و عیال اور اپنے مال ومتاع کو دیکھنے اور ان کے پاس رہنے سے زیادہ اس بات کو پسند کریں گے کہ میرا دیدار کریں اور میری صحبت میں رہیں یا اس ارشاد گرامی میں دراصل اس بات کی پیش خبری ہے کہ میرے تئیں میری امت کی عقیدت و محبت میری وفات کے بعد بھی کم نہیں ہوگی بلکہ مسلمان اپنے اہل و عیال اور اپنے مال ومتاع کی طرف رغبت وتعلق رکھنے سے کہیں زیادہ یہ چاہیں گے کہ کسی بھی طرح خواہ خواب میں خواہ بیداری میں، میرا دیدار کرلیں، مجھے دیکھ لیں، سیاق کلام کو دیکھتے ہوئے یہی مطلب زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے پس یہی وہ کیفیت ہے جو ان مشتاقان جمال کا سرمایہ حیات بنی رہتی ہے جو ذات رسالت پناہ ﷺ کے جمال و کمال کے تصور میں مستغرق رہتے ہیں۔