حضرت معاویہ کا ایک رکعت وتر پڑھنا
وَ عِنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ص قِےْلَ لَہُ ھَلْ لَّکَ فِیْ اَمِےْرِ الْمُؤْمِنِےْنَ مُعَاوِےَۃَ مَا اَوْتَرَ اِلَّا بِوَاحِدَۃٍ قَالَ اَصَابَ اَنَّہُ فَقِےْہٌ وَفِی رِوَاےَۃٍ قَالَ ابْنُ اَبِیْ مُلَیْکَۃَ اَوْتَرَ مُعَاوِےَۃُ بَعْدَالْعِشَآءِ بِرَکْعَۃٍ وَّعِنْدَہُ مَوْلًی لِاّبْنِ عَبَّاسٍ فَاَتَی ابْنَ عَبَّاسٍ فَاَخْبَرَہُ فَقَالَ دَعْہُ فَاِنَّہُ قَدْ صَحِبَ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم(صحیح البخاری)
حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ کے بارے میں منقول ہے کہ ان سے پوچھا گیا کہ آپ امیر المومنین حضرت معاویہ ؓ کے بارے میں کیا فرماتے ہیں جو وتر کی ایک رکعت پڑھتے ہیں؟ حضرت عباس نے فرمایا وہ فقیہ ہیں (جو کچھ کرتے ہیں) اچھا کرتے ہیں ایک دوسری روایت میں حضرت ابن ابی ملیکہ فرماتے ہیں کہ حضرت امیر معاویہ ؓ نے عشاء کی نماز کے بعد وتر کی ایک رکعت پڑھی، ان کے پاس ہی حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ کے آزاد کردہ غلام بھی موجود تھے (جب انہوں نے یہ دیکھا تو) وہ حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہیں بتایا (کہ حضرت معاویہ نے وتر کی ایک رکعت پڑھی ہے) حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ ان کے بارے میں کچھ نہ کہو، انہیں رسول اللہ ﷺ کی صحبت کا شرف حاصل ہے ( ہوسکتا ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کا کوئی ایسا عمل دیکھا ہو جو دوسرے نہ دیکھ سکے ہوں)۔ (صحیح البخاری )
تشریح
بظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت معاویہ ؓ نے وتر کی ایک ہی رکعت پڑھی ہوگی جس پر دیکھنے والوں کو تعجب ہوا ہو کہ جب دوسرے صحابہ کرام وتر کی تین رکعتیں پڑھتے ہیں تو یہ ایک ہی رکعت کیوں پڑھتے ہیں؟ اور پھر انہوں نے اس کا تذکرہ حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ سے کیا لیکن یہ بھی، احتمال ہوسکتا ہے کہ حضرت معاویہ ؓ نے پہلے پڑھی گئی دو رکعت سے ملی ہوئی وتر کی رکعت پڑھی ہو، اس صورت میں دیکھنے والوں نے اس لئے اعتراض کیا کہ حضرت معاویہ ؓ نے صرف وتر ہی پر اکتفا کیا ہوگا اور عشاء کی نماز یا تہجد کی نماز چھوڑ دی ہوگی۔
وَعَنْ بُرَیْدَۃَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم یَقُوْلُ الْوِتْرُ حَقٌّ فَمَنْ لَّمْ یُوْتِرْ فَلَیْسَ مِنَّا اَلْوِتْر حَقٌّ فَمَنْ لَّمْ یُوْتِرْ فَلَیْسَ مِنَّا اَلْوِتْرُ حَقٌّ فَمَنْ لَمْ یُوْتِرْ فَلَیْسَ مِنَّا۔ (رواہ ابوداؤد)
اور حضرت بریدہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے سرور کونین ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ وتر حق ( یعنی واجب ہے) لہٰذا جو آدمی وتر نہ پڑھے وہ ہم میں سے (یعنی ہمارے تابعداروں میں سے) نہیں ہے، وتر حق ہے لہٰذا جو آدمی وتر نہ پڑھے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ (سنن ابوداؤد)
تشریح
وتر کی اہمیت اور اس کی حقیقت کو اس انداز سے بار بار بیان کرنا اور پھر اس کے نہ پڑھنے والے کے بارے میں یہ کہنا کہ جو آدمی وتر نہ پڑھے وہ ہمارے تابعداروں میں سے نہیں ہے اس بات پر صریح دلیل ہے کہ وتر کی نماز واجب ہے جیسا کہ حنفیہ کا مسلک ہے۔
وَعَنْ اَبِی سَعَیْدٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ نَّامَ عَنِ الْوِتْرِ اَوْنَسِیَہ، فَلْیُصَلِّ اِذَا ذَکَرَ وَ اِذَا اسْتَیْقَظَ۔ (رواہ الترمذی و ابوداؤ و ابن ماجۃ)
اور حضرت ابوسعید ؓ راوی ہیں کہ سرور کونین ﷺ نے فرمایا جو آدمی و تر پڑھے بغیر سو جائے یا اسے پڑھنا بھول جائے تو اسے چاہیے کہ جب بھی اسے یاد آئے یا نیند سے بیدار ہو تو (اس کی قضاء) پڑھ لے۔ (جامع ترمذی ِ ابوداؤد، سنن ابن ماجہ)
وَعَنْ مَّالِکِ بَلَغَہ، اَنَّ رَجُلًا سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ عَنِ الْوِتْرِ اَوَاجِبٌ ھُوَ؟ فَقَالَ عَبْدُاﷲِ قَدْ اَوْتَرَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم وَاَوْتَرَ الْمُسْلِمُوْنَ فَجَعَلَ الْرَّجُلُ یُرَدِّدُ عَلَیْہِ وَعَبْدُاﷲِ یَقُوْلُ اَوْتَرَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم وَاَوْتَرَ الْمُسْلِمُوْنَ ۔ (رواہ فی الموطا)
اور حضرت امام مالک (رح) کے بارے میں منقول ہے کہ انہیں یہ بات پہنچی ہے کہ ایک آدمی نے حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے سوال کیا کہ وتر کی نماز واجب ہے (یا سنت ہے) حضرت عبداللہ ؓ نے (کوئی صریح جواب دینے کی بجائے) فرمایا کہ وتر کی نماز رسول اللہ ﷺ نے بھی پڑھی ہے اور دوسرے مسلمانوں نے بھی! وہ آدمی بار بار یہی سوال کرتا تھا اور حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ یہی کہے جاتے تھے کہ وتر کی نماز رسول اللہ ﷺ نے بھی پڑھی ہے اور دوسرے مسلمانوں نے بھی پڑھی ہے۔ موطا
تشریح
کسی سوال کے جواب دینے کا ایک بلیغ طریقہ یہ بھی ہوتا ہے کہ کسی خاص مصلحت کی بنا پر مدلول (اصل جواب) کا ذکر نہ کیا جائے اور صرف دلیل بیان کردی جائے، چناچہ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے جب ایک آدمی نے وتر کی نماز کے وجوب یا سنت کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے مدلول کے بجائے صرف دلیل پر اکتفا کیا گو ان کا مطلب یہ تھا کہ وتر کی نماز واجب ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ کا مستقل طور پر بطریق مواظبت وتر کی نماز پڑھنا اور اہل اسلام کا اس پر متفق ہونا اس بات کی دلیل ہے۔ اب رہا یہ سوال کہ جب سائل حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ سے صریح جواب چاہنے کے لئے ان سے باربار سوال کرتا تھا تو انہوں نے صاف طریقہ سے یہ کیوں نہیں کہہ دیا کہ وتر کی نماز واجب ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے انداز بیان اور جواب کا یہ طریقہ احتیاط کے پیش نظر اختیار کیا کیونکہ انہوں نے اس سلسلہ میں رسول اللہ ﷺ سے کوئی صریح بات نہیں سنی تھی اس لئے انہوں نے بھی صریح جواب دینا مناسب نہیں سمجھا۔
وَعَنْ عَلِیٍّ قَالَ کَانَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُوْتِرُ بِثَلَاثٍ یُقْرَأُ فِیْھِنَّ بِتِسْعِ سُوَرٍ مِّنَ الْمُفَصَّلِ یَقْرَأُ فِیْ کُلِّ رَکْعَۃٍ بِثلَاَثٍ سُوَرٍ اٰخِرُھُنِّ قُلْ ھُوَاﷲُ اَحَدٌ۔ (رواہ الترمذی)
اور امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ سرور کونین ﷺ وتر کی تین رکعتیں پڑھا کرتے تھے جن میں آپ ﷺ مفصل کی نو سورتیں (اس طرح) پڑھا کرتے تھے (کہ) ہر رکعت میں تین تین سورتیں پڑھتے اور آخری سورت قل ہو اللہ ہوا کرتی تھی۔ (جامع ترمذی )
تشریح
بعض روایتوں میں اس اجمال کی تفصیل اس طرح بیان کی گئی ہے کہ رسول اللہ ﷺ پہلی رکعت اَلْھٰکُمُ التَّکَاثُرُ اِنَّا اَنْزَلْنٰہ ُ اور اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ پڑھتے، دوسری رکعت میں وَالْعَصْرِ۔ اِذَا جَآءَ نَصْرُ ا اور اِنَّا اَعْطَیْنٰکَ پڑھتے اور تیسری رکعت میں قل یا ایھا الکافرون۔ تبت یدا اور قل ھو اللہ پڑھتے تھے۔
حضرت عبداللہ ابن عمر کا واقعہ
وَعَنَ نَّافِعٍ قَالَ کُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ بِمَکَّۃَ وَالسَّمَآءُ مُغِیْمَۃٌ فَخَشِیَّ الصُّبْحَ فَاَوْتَرَ بِوَاحِدَۃٍ ثُمَّ انْکَشَفَ فَرَأَی اَنَّ عَلَیْہِ لَیْلًا فَشَفَعَ بِوَاحِدَۃٍ ثُمَّ صَلّٰی رَکْعَتَیْنِ فَلَمَّا خَشِیَ الصُّبْحَ اَوْتَرَ بِوَاحِدَۃٍ۔ (رواہ موطا امام مالک)
اور حضرت نافع (رح) فرماتے ہیں کہ میں حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ کے ہمراہ مکہ معظمہ میں تھا اور اس دن رات کو آسمان ابر آلود تھا، جب حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ کو صبح ہوجانے کا اندیشہ ہوا تو انہوں نے ایک رکعت وتر کی پڑھ لی، پھر ابر صاف ہوگیا اور انہوں دیکھا کہ ابھی رات کافی باقی ہے چناچہ انہوں نے ایک رکعت اور پڑھ کر (پہلی رکعت کے ساتھ ملا کر اسے) دوگانہ کردیا اور اس کے بعد دو دو رکعت (نفل کی) پڑھتے رہے، جب پھر صبح ہوجانے کا اندیشہ ہوا تو انہوں نے وتر کی ایک رکعت پڑھ لی۔ (مالک)
بیٹھ کر نماز پڑھنے کا ایک اور طریقہ
وَعَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ کَانَ یُصَلِّی جَالِسًا فَیَقْرَأُ وَھُوَ جَالِسٌ فَاِذَا بَقِیَ مِن قِرَاءَ تِہٖ قَدْ رُمَا یَکُوْنُ ثَلَاثِیْنَ اَوْ اَرْبَعِیْنَ اٰیَۃً قَامَ وَقَرَأَ وَھُوَ قَائِمٌ ثُمَّ رَکَعَ ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ یَفْعَلُ فِی الرَّکْعَۃِ الثَّانِیَۃِ مِثْلَ ذَالِکَ (صحیح مسلم)
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ سرور کونین ﷺ (آخر عمر کو دن یا رات میں اس طرح بھی) بیٹھ کر نماز پڑھتے تھے (طویل قرأت کی وجہ سے) بیٹھے بیٹھے قرأت فرماتے اور جب تیس یا چالیس آیات باقی رہ جاتیں تو کھڑے ہوجاتے اور انہیں کھڑے کھڑے پڑھتے پھر رکوع کرتے اور سجدے میں جاتے اسی طرح دوسری رکعت میں بھی پڑھتے۔ (صحیح مسلم)
تشریح
اس طرح نماز پڑھنی بالا تفاق جائز ہے لیکن اس کا عکس جائز نہیں چناچہ اس کی تفصیل باب السنن میں بیان کی جا چکی ہے۔ بظاہر اس باب سے اس حدیث کا کوئی تعلق نظر نہیں آتا۔ ہاں یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس حدیث میں چونکہ شفع (دوگانہ) کا ذکر ہے جو وتر کا مقدمہ ہے اس لئے اسے اس باب میں نقل کیا گیا ہے۔
وَعَنْ اُمِّ سَلَمَۃَ اَنَّ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم کَانَ یُصَلِّی بَعْدَ الْوِتْرِ رَکْعَتَیْنِ رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ وَزَادَا بْنُ مَاجَۃَ خَفَیْفَتَیْنِ وَھُوْ جَالِسٌ۔
اور ام المومنین حضرت ام سلمہ ؓ فرماتی ہیں کہ سرور کونین ﷺ وتر کے بعد دو رکعتیں پڑھا کرتے تھے۔ (جامع ترمذی) ابن ماجہ نے اس روایت میں خَفِیْفَتَیْنِ وَھُوَ جَالِسٌ کے الفاظ بھی نقل کئے ہیں یعنی رسول اللہ ﷺ وتر کے بعد دو رکعتیں پڑھا کرتے تھے۔
وَعَنْ عَآئِشَۃَ قَالَتْ کَانَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم یُوْتِرُ بِوَاحِدَۃٌ ثُمَّ یَرْکَعُ رَکْعَتَیْنِ یَقْرَأُفِیْھِمَا وَھُوَ جَالِسٌ فَاِذَا اَرَادَ اَنْ یَّرْکَعَ قَامَ فَرَکَعَ۔ (رواہ ابن ماجۃ)
اور ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ سرور کونین ﷺ وتر کی ایک رکعت پڑھتے پھر دو رکعتیں (نفل کی) پڑھتے جن میں آپ ﷺ بیٹھتے بیٹھتے قرأت فرماتے اور جب رکوع کرنا چاہتے تو کھڑے ہوتے اور رکوع کرتے۔ (سنن ابن ماجہ)
تشریح
علامہ ابن حجر (رح) فرماتے ہیں کہ یہ حدیث پہلی حدیث کے منافی ہے کیونکہ کبھی تو آپ ﷺ وتر کے بعد کی دونوں رکعتیں کھڑے ہوئے بغیر مطلقاً بیٹھے بیٹھے پڑھتے اور کبھی اس طرح بیٹھ کر قرأت کے بعد جب رکوع میں جانے کا ارادہ کرتے تو کھڑے ہوجاتے اور رکوع کرتے۔
وتروں کے بعد دو رکعتوں کی فضیلت
وَعَنْ ثَوْبَانَ عَنِ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ اِنَّ ھٰذَا السَّھْرَ جُھْدٌ وَثِقْلٌ فَاِذَا اَوْتَرَ اَحَدُکُمْ فَلْیَرْکَعُ رَکْعَتَیْنِ فَاِنْ قَامَ مِنَ اللَّیْلِ وَاِلَّا کَانَتَا لَہ،۔ (رواہ الترمذی)
اور حضرت ثوبان ؓ راوی ہیں کہ سرکار کونین ﷺ نے فرمایا (تہجد کے لئے) رات کو بیدار ہونا مشکل اور گراں ہوتا ہے اس لئے جب تم میں سے کوئی آدمی (رات کے آخری حصے میں جاگنے) کا یقین نہ رکھتا ہو اور سونے سے پہلے یعنی عشاء کی نماز کے بعد وتر پڑھے تو اسے چاہیے کہ دو رکعتیں پڑھ لے، اگر وہ نماز تہجد کے لئے رات کو اٹھ گیا تو بہتر ہے اور اگر نہ اٹھ سکا تو پھر دو رکعتیں کافی ہوں گی (یعنی ان دونوں رکعتوں کے پڑھنے کی وجہ سے اسے نماز تہجد کا ثواب مل جائے گا۔ (جامع ترمذی و دارمی)
وتروں کے بعد کی دونوں رکعتوں کی قرأت
وَعَنْ اَبِی اُمَامَۃَ اَنَّ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم کَانَ یُصَلِّیْھِمَا بَعْدَ الْوِتْرِ وَھُوَ جَالِسٌ یَقْرَأُ فِیْھِمَا اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ وَقُلْ یَا اَیُّھَا الْکٰفِرُوْنَ۔ (رواہ احمد بن حنبل)
اور حضرت ابوامامہ فرماتے ہیں کہ سرور کونین ﷺ وتر کے بعد دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھا کرتے تھے اور ان میں اذا زلزلت الارض اور قل یا ایھا لکافرون پڑھتے تھے۔ (جامع ترمذی و دارمی)
لغوی طور پر قنوت کے کئی معنی ہیں۔ (١) طاعت کرنا (٢) نماز میں کھڑے ہونا (٣) اللہ تعالیٰ کے سامنے خاکساری کرنا، اسی طرح دعا کو بھی قنوت کہتے ہیں، اصطلاحا دعاء مخصوص کو کہتے ہیں جو یہاں مراد ہے، چناچہ شوافع کے یہاں دعاء قنوت اَللّٰھُمَّ اھْدِنٰی الخ ہے۔ حضرات حنفیہ کے نزدیک دعاء قنوت اَللّٰھُمَّ اِنَّا نَسْتَعِیْنُکَ الخ ہے (دونوں دعائیں مکمل طور پر پچھلے باب میں نقل کی جا چکی ہیں) جسے حنفی علماء صحیح سند و طریق کے ساتھ طبرانی وغیرہ سے نقل کرتے ہیں۔ نیز محقق علامہ حضرت ابن ہمام (رح) نے ابوداؤد سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ (ایک روز) قبیلہ مضر کے لوگوں کے (ظلم و ستم اور ان کی دہشت و بربریت کے پیش نظر ان) کے لئے بد دعا فرما رہے تھے کہ حضرت جبرائیل تشریف لائے اور آپ ﷺ کو خاموش ہوجانے کا اشارہ کر کے فرمایا کہ یا محمد ﷺ ان اللہ لم یبعثک سبابا الا لعانا انما بعثک رحمۃ۔ اے محمد ﷺ آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے برا کہنے والا اور لعنت کرنے والا بنا کر نہیں بھیجا بلکہ آپ ﷺ کو تو (دونوں جہان کے لئے) رحمت کا باعث بنا کر بھیجا گیا ہے۔ پھر انہوں نے یہ آیت پڑھی (لَيْسَ لَكَ مِنَ الْاَمْرِ شَيْءٌ) 3۔ ال عمران 128) (یعنی اس چیز میں آپ ﷺ کا کوئی دخل نہیں ہے) بعد ازاں حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے رسول اللہ ﷺ کو یہ دعا اللھم انا نستعینک الخ سکھائی شیخ جلال الدین سیوطی نے بھی اپنی کتاب درمنثور میں اس دعا کو کچھ مختلف الفاظ کے ساتھ نقل کیا ہے۔
رحمت عالم ﷺ کو بد دعا کی ممانعت
عَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَص اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم کَانَ اِذَا اَرَادَ اَنْ ےَّدْعُوَ عَلٰی اَحَدٍ اَوْ ےَدْعُوَ لِاَحَدٍ قَنَتَ بَعْدَالرُّکُوْعِ فَرُبَّمَا قَالَ اِذَا قَالَ سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ اَللّٰھُمَّ اَنْجِ الْوَلِےْدَ بْنَ الْوَلِےْدِ وَسَلَمَۃَ بْنَ ھِشَامٍ وَّعَےَّاشَ ابْنَ اَبِیْ رَبِےْعَۃَ اَللّٰھُمَّ اشْدُدْ وَطْاَتَکَ عَلٰی مُضَرَ وَاجْعَلْھَا سِنِےْنَ کَسِنِیْ ےُوْسُفَ ےَجْھَرُ بِذَالِکَ وَکَانَ ےَقُوْلُ فِیْ بَعْضِ صَلٰوتِہٖ اَللّٰھُمَّ الْعَنْ فلَانًا وَفُلَانًا لِّاَحْےَآءٍ مِّنَ الْعَرَبِ حَتّٰی اَنْزَلَ اللّٰہُ لَےْسَ لَکَ مِنَ الْاَمْرِ شَئٌ (اَلْاَےَۃَ۔) (آل عمران ٣:)(صحیح البخاری و صحیح مسلم)
حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ سرور کونین ﷺ جب کسی کو بدعا دیتے یا کسی کے لئے دعا کرنے کا ارادہ فرماتے تو رکوع کے بعد قنوت پڑھتے، چناچہ بعض وقت جب کہ آپ ﷺ سمع اللہ لم حمدہ ربنا لک الحمد کہہ لیتے تو یہ دعا کرتے الِلّٰھُمَّ اَنْجِ الْوَلِیْد ابنَ الَوَلِیْدِ وَسَلَمَۃَ بْنَ ھِشَامٍ وَعَیَّاشَ بْنَ اَبِیْ رَبِیْعَۃَ الِلَّھُمَّ اشْدُدْ وَطْاَ تَکَ عَلٰی مُضَرَ وَ اجْعَلْھَا سِنِیْنَ کَسِنِیْ یُوْسُفَ (اے اللہ! ولید بن سلمہ بن ہشام کو اور عیاش بن ابی ربیعہ کو نجات دے اور اے اللہ! قوم مضر پر تو اپنا سخت عذاب نازل کر اور اس عذاب کو ان پر قحط کی صورت میں مسلط کر، ایسا قحط جو یوسف کے قحط کی مانند ہو (یعنی قوم مضر پر تو اپنا عذاب اس قحط کی شکل میں مسلط کر جو حضرت یوسف کے زمانہ میں قوم پر مسلط گیا تھا) یہ دعا آپ ﷺ بآواز بلند کرتے تھے اور کسی نماز میں آپ ﷺ عرب کے (ان) قبائل کے لئے جو کافر تھے) اس طرح بددعا فرماتے اَللّٰھُمَّ الْعَنْ فُلَاناً وَفُلاَناً (اے اللہ! فلاں فلاں پر لعنت فرما) پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی لیس لک من الامر شییء الایۃ (اس معاملہ میں آپ ﷺ کا کچھ دخل نہیں ہے۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم )
تشریح
بعض صحابہ کرام جو کفار کی قید میں تھے اور ان کے ظلم و ستم کا تختہ مشق بنے ہوئے تھے ان کی رہائی ونجات کے لئے رسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ سے دعا فرمایا کرتے تھے اور عرب کے وہ قبائل جو مسلمانوں کا قافیہ تنگ کئے رہتے تھے ان کے لئے بد دعا فرماتے تھے، چناچہ ولید ابن الولید قریشی مخزومی جو اسلام کے مایہ ناز فرزند اور اسلامی فوج کے کمانڈر انچیف حضرت خالد بن ولید کے بھائی تھے، جنگ بدر کے موقع پر کفار مکہ کی جانب سے حضرت عبداللہ بن جحش کے ہاتھوں گرفتار ہوئے، ان کے بھائی خالد اور ہشام دربار رسالت میں حاضر ہوئے اور اسیر بھائی کی طرف سے چار ہزار در ہم بطور فدیہ دے کر ان کو رہا کرایا اور مکہ لے گئے۔ ولید جب رہا ہو کر مکہ پہنچے تو وہاں اسلام کی مقدس روشنی نے ان کے قلب و دماغ کو منور کیا اور وہ مسلمان ہوگئے لوگوں نے ان سے کہا کہ جب تم مسلمانوں کے پاس مدینہ میں قید تھے تو اسی وقت فدیہ دینے سے پہلے ہی مسلمان کیوں نہیں ہوگئے کیونکہ وہاں مسلمان ہوجانے کی شکل میں چار ہزار درہم جو فدیئے میں دئیے وہ بھی بچ جاتے اور مسلمان بھی ہوجاتے؟ انہوں نے کہاں کہ مجھے یہ کچھ اچھا نہیں لگا کہ لوگ یہ کہیں کہ قید سے گھبرا کر سلام لے آیا۔ مکہ کے کفار اور قبیلے کے لوگوں کو یہ کیسے گوارا ہوتا کہ ولید اسلام لے آئیں اور اس کی سزا انہیں نہ ملے چناچہ بھائیوں نے انہیں قید میں ڈال دیا اور جتنا بھی ظلم ان پر ہوسکتا تھا کیا گیا، رسول اللہ ﷺ کو جب ان کی حالت مظلومیت کا پتہ چلا تو آپ ﷺ نے پروردگار کی بارگاہ میں ان کی رہائی اور نجات کے لئے دعا مانگی، اس طرح وہ کفار مکہ کے چنگل سے بچ کر مدینہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آگئے۔ سلمہ بن ہشام، ابوجہل کے بھائی تھے اور بالکل ابتدائی دور میں اسلام لے آئے تھے، کفار مکہ نے انہیں بھی قید کر رکھا تھا اور ان پر انتہائی ظلم و جور کرتے تھے، یہ بھی ان کے ہاتھوں سے نکل کر مدینہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آگئے۔ عیاش بن ابی ربیعہ بھی ابوجہل کی ماں کی طرف سے اخیافی بھائی تھے، قدیم الاسلام ہیں، ابتدائی دور میں اسلام کی دولت سے مشرف ہو کر حبشتہ ہجرت کر گئے تھے۔ جب مدینہ آئے اور ان سے کہا گیا کہ تمہاری ماں تمہارے لئے سخت بےچین ہے اور اس نے قسم کھائی ہے کہ جب تک تمہیں دیکھ نہیں لے گی، سائے میں نہیں بیٹھ گی۔ عیاش کو ماں کی محبت ابوجہل جیسے ظالم آدمی کے پاس کھینچ لائی۔ مکہ پہنچ کر ابوجہل نے انہیں باندھ کر قید میں ڈال دیا اور ان پر ظلم کر کے اپنے جذبہ و حشت و بربریت کی تسکین حاصل کرتا رہا تاآنکہ یہ بھی اس قید سے نکل بھاگنے میں کامیاب ہوگئے اور پھر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں مدینہ آگئے۔ آخر میں معرکہء تبوک کے موقع پر کفار سے مقابلہ کرتے ہوئے جام شہادت نوش فرمایا۔ یہ وہ خوش نصیب اصحاب تھے جن کی رہائی و نجات کے لئے رسول اللہ ﷺ کی لسان مقدس دعا میں مشغول ہوتی تھی، گویا حدیث کی پہلی دعا اللھم انج الخ اس بات کی مثال ہے کہ رسول اللہ ﷺ قنوت میں مومنین کے لئے دعا فرماتے تھے۔ حدیث کی دوسری دعا اللھم اشددالخ اس بات کی مثال ہے کہ آپ ﷺ قنوت میں ظلم و ستم کے پیکر کفار کے لئے بد دعا فرماتے ہیں، چناچہ آپ ﷺ کی بد دعا کا اثر یہ ہوا کہ اہل مکہ سات سال تک مسلسل قحط میں گرفتار رہے یہاں تک کہ انہوں نے مردار کی ہڈیاں کھا کر زندگی کے وہ سخت دن پوری کئے۔ آیت (لَيْسَ لَكَ مِنَ الْاَمْرِ شَيْءٌ) 3۔ آل عمران 128) کا حاصل یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی شان رحمت کے مناسب چونکہ یہ نہیں تھا کہ آپ ﷺ کسی کے لئے بدد عا فرمائیں اس لئے آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ کی جانب سے منع فرما دیا گیا کہ کسی آدمی کے لئے اس کا نام لے کر آپ ﷺ بد دعا نہ فرمائیں چناچہ شروع باب میں اس کی تفصیل ذکر کی جا چکی ہے۔ کسی آفت و بلا کے وقت دعاء قنوت فرضی نمازوں میں پڑھنی چاہیے علامہ طیبی فرماتے ہیں کہ اگر کوئی حادثہ پیش آجائے مثلاً دشمن حملہ آور ہو، قحط اپنی لپیٹ میں لے لے، کوئی وبا پھیل جائے، خشک سالی ہوجائے، یا اس قسم کی کوئی بھی صورت پیش آجائے جس سے مسلمان مصیبت و تکلیف میں مبتلا ہوجائیں تو لوگوں کو چاہیے کہ وہ تمام فرض نمازوں میں دعا قنوت پڑھنے کا اہتمام کریں۔ چنانچہ حضرات حنفیہ کے یہاں بھی کسی حادثہ اور وبا کہ وقت فرض نمازوں میں دعاء قنوت پڑھنا جائز ہے۔
وَعَنْ عَاصِمِ الْاَحْوَلِ ص قَالَ سَاَلْتُ اَنَسَ بْنَ مَالِکٍ عَنِ الْقُنُوْتِ فِی الصَّلٰوۃِ کَانَ قَبْلَ الرُّکُوْعِ اَوْ بَعْدَہُ قَالَ قَبْلَہُ اِنَّمَا قَنَتَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم بَعْدَ الرُّکُوْعِ شَھْرًا اِنَّہُ کَانَ بَعَثَ اُنَاسًا ےُّقَالُ لَھُمُ القُرَّآءُ سَبْعُوْنَ رَجُلًا فَاُصِےْبُوْا فَقَنَتَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم بَعْدَ الرُّکُوْعِ شَھْرًا ےَّدْعُوْ عَلَےْھِمْ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)
اور حضرت عاصم احول فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت انس بن مالک ؓ سے دعا قنوت کے بارے میں پوچھا کہ (صبح کی نماز میں یا وتر کی یا کسی حادثہ کی یا وبا پھیلنے کے وقت ہر فرض) نماز میں وہ رکوع سے پہلے پڑھی جاتی تھی یا رکوع کے بعد؟ حضرت انس ؓ نے فرمایا کہ رکوع سے پہلے (اور فرمایا کہ) رسول اللہ ﷺ نے (صبح کی نماز میں یا سب نمازوں میں) رکوع کے بعد دعاء قنوت صرف ایک مرتبہ پڑھی تھی (اور وہ بھی) اس لئے کہ رسول اللہ ﷺ نے چند صحابہ کو جنہیں قراء کہتے تھے اور تعداد میں ستر تھے (تبلیغ کے لئے کہیں) بھیجا تھا وہاں کے لوگوں نے انہیں شہید کردیا اس لئے رسول اللہ ﷺ نے ایک مہینہ تک رکوع کے بعد دعاء قنوت پڑھ کر قراء کو شہید کرنے والوں کے لئے بد دعا کی۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم )
تشریح
یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ رکوع کے بعد دعاء قنوت کا پڑھنا منسوخ ہوگیا ہے چناچہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کا یہی مسلک ہے۔ قراء سبعون کی شہادت کا واقعہ قراء سبعون یعنی ستر قاری اصحاب صفہ میں سے تھے انہیں قراء اس لئے کہا جاتا ہے کہ یہ لوگ قرآن کریم بہت زیادہ پڑھتے اور بہت یاد کرتے تھے۔ حالانکہ یہ حضرات بہت زیادہ غریب اور زاہد تھے اور ان کا کام صرف یہ تھا کہ صفہ میں ہر وقت قرآن اور علم کے سیکھنے میں مشغول رہتے تھے لیکن اس کے باوجود جب بھی مسلمان کسی حادثے میں مبتلا ہوتے تو یہ حضرات پوری شجاعت اور بہادری کے ساتھ حادثے کا مقابلہ کرتے اور مسلمانوں کی مدد کرتے۔ ان میں سے بعض حضرات تو ایسے تھے جو دن بھر جنگل سے لکڑیاں جمع کر کے لاتے اور انہیں بیچ کر اہل صفہ کے لئے کھانا خریدتے تھے اور رات کو قرآن کریم کی تلاوت و درود میں مشغول رہتے تھے۔ ان خوش نصیب صحابہ کو رسول اللہ ﷺ نے اہل نجد کی طرف بھیجا تھا تاکہ یہ وہاں پہنچ کر ان قبائل کو اسلام کی طرف بلائیں اور ان کے سامنے قرآن کریم پڑھیں جو کفر و شرک اور ظلم وجہل میں پھنس کر تباہی و بربادی کے راستے پر لگے ہوئے ہیں جب یہ لوگ بیر معونہ پر جو مکہ اور عسفان کے درمیان ایک موضع ہے، اترے تو عامر بن طفیل، رعل، ذکوان اور قارہ نے ان قراء صحابہ پر بڑی بےدردی سے حملہ کیا اور پوری جماعت کو شہید کر ڈالا، ان میں سے صرف ایک صحابی حضرت کعب بن زید انصاری بچ گئے وہ بھی اس طرح کہ جب یہ زخمی ہو کر گرگئے اور جسم بالکل نڈھال ہوگیا، تو ان بدبختوں نے یہ سمجھ کر کہ ان کی روح نے بھی جسم کا ساتھ چھوڑ دیا ہے ان سے الگ ہوئے مگر خوش قسمتی سے ابھی ان میں زندگی کے آثار موجود تھے چناچہ وہ کسی نہ کسی طرح بچ کر نکلنے میں کامیاب ہوئے اور اللہ نے ان کو صحت و تندرستی عطا فرمائی یہاں تک کہ غزوہ خندق میں شہید ہوئے۔ بہر حال جب سرور دو عالم ﷺ کو اس عظیم حادثے اور ظالم کفار کے ظلم و بربریت کا علم ہوا تو آپ ﷺ کو بےحد غم ہوا، حضرت انس ؓ کا بیان ہے کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کو کسی کے لئے اتنا غمگین نہیں دیکھا جتنا کہ آپ ﷺ ان مظلوم صحابہ کے لئے غمگین ہوئے چناچہ آپ ﷺ مسلسل ایک مہینہ تک قنوت میں ان بدبخت کفار کے لئے بد دعا کرتے رہے، یہ واقعہ ٤ ھ میں پیش آیا۔
دعاء قنوت کس وقت پڑھنی چاہیے؟
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَنَتَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم شَھْرًا مُتَتَا بِعًا فِی الظُّھْرِ وَ الْعَصْرِ وَ الْمَغْرِبِ وَ الْعِشَاءِ وَصَلَاۃِ الصُّبْحِ اِذَا قَالَ سَمِعَ اﷲُ لِمَنْ حَمِدَہ، مِنَ الرَّکْعَۃِ الْاٰخِرَۃِ یَدْعُوْ عَلٰی اَحْیَآءٍ مِّنْ بَنِی سُلَیْمٍ عَلَی رَعْلٍ وَذَکْوَانَ وَ عُصَیَّۃَ وَیُؤَمِّنُ خَلْفَہ،۔ (رواہ ابوداؤد)
حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ سرور کونین ﷺ نے مسلسل ایک مہینہ تک (یعنی ہر روز) ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور فجر کی نمازوں کی آخری رکعت میں سمع اللہ لمن حمدہ کہنے کے بعد قنوت پڑھی ہے جس میں آپ ﷺ بنی سلیم کے چند قبیلوں رعل، ذکوان اور عصیہ کے لئے بد دعا کرتے تھے اور پیچھے کے لوگ (یعنی مقتدی) آمین کہتے تھے۔ (ابوداؤد)
تشریح
یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ ہمیشہ فرض نمازوں میں دعا قنوت نہیں پڑھنی چاہیے بلکہ جب مسلمانوں کے لئے کوئی حادثہ پیش آجائے مثلاً کوئی دشمن حملہ کر دے، قحط پڑجائے یا کوئی وبا پھیل جائے تو ایسے وقت میں فرض نمازوں میں دعا قنوت پڑھی جائے۔
دعاء قنوت کس وقت پڑھنی چاہیے؟
وَعَنْ اَنَسٍ اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَنَتَ شَھْرًا ثُمَّ تَرَکَہ،۔ (رواہ ابود والنسائی)
اور حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ سرور کونین ﷺ نے ایک مہینہ تک (رکوع کے بعد) دعاء قنوت پڑھی ہے پھر آپ ﷺ نے (مطلقاً فرض نمازوں میں یا یہ کہ رکوع کے بعد قنوت پڑھنے کو ترک کردیا۔ (ابوداؤد، سنن نسائی )
تشریح
اکثر اہل علم یہی فرماتے ہیں کہ دعاء قنوت نہ تو فجر کی نماز میں مشروع ہے اور نہ وتر کے علاوہ کسی دوسری نماز میں، چناچہ یہ حضرات اسی حدیث سے استدلال کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ اور بہت سی احادیث بھی ہیں جو فرض نمازوں میں ترک قنوت پر دلالت کرتی ہیں، اہل علم اور محققین اس کی تفصیل مرقاۃ میں ملا حظہ فرما سکتے ہیں۔ حضرت امام مالک اور حضرت امام شافعی رحمہما اللہ تعالیٰ علیہما فرماتے ہیں کہ فجر کی نماز میں تو دعاء قوت ہمیشہ پڑھنی چاہیے اور نمازوں میں کسی حادثے اور وبا کے وقت پڑھی جائے۔
دعاء قنوت کس وقت پڑھنی چاہیے؟
وَعَنْ اَبِی مَالِکِ الْاَشْجَعِیِّ قَالَ قُلْتُ لِاَبِی یَا اَبَتِ اِنَّکَ قَدْ صَلَّیْتَ خَلْفَ رَسُوْلِ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم وَاَبِیْ بِکْرٍ وَّ عُمَرَ وَ عُثْمَانَ وَ عَلِیٍّ ھٰھُنَا بِالْکُوَفَۃِ نَحْوًَا مِّنْ خَمْسِ سَنِیْنَ اَکَانُوْا یَقْتَنُوْنَ قَالَ اَیْ بُنَیَّ مُحْدَثٌ۔ (رواہ الترمذی والنسا ئی وابن ماجۃ)
اور حضرت ابومالک اشجعی (رح) فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد مکرم سے دریافت کیا کہ ابا جان! آپ نے سرور کونین ﷺ کے پیچھے، حضرت ابوبکر، حضرت عمر، حضرت عثمان غنی اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ ؓ کے پیچھے یہیں کوفہ میں تقریباً پانچ سال تک نماز پڑھی ہے کیا یہ حضرات دعاء قنوت پڑھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ میرے بیٹے! قنوت بدعت ہے۔ (جامع ترمذی، سنن نسائی، سنن ابن ماجہ)
تشریح
حضرت ابومالک اپنے والد محترم سے یہ معلوم کرنا چاہتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ اور خلفاء اربعہ بھی فجر کی نماز میں اور دیگر نمازوں میں قنوت پڑھتے تھے جیسا کہ اب بھی بعض لوگ ان نمازوں میں قنوت پڑھتے ہیں؟ اس کا جواب ان کے والد نے یہ دیا کہ جو لوگ فجر کی اور دوسری نمازوں میں مستقل طریقے سے یعنی ہمیشہ دعاء قنوت پڑھتے ہیں وہ بدعت میں مبتلا ہیں کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے تو وتر کے علاوہ فجر کی نماز میں صرف ایک مہینہ تک قنوت پڑھی ہے اس کے بعد آپ ﷺ نے ترک کردیا تھا جیسا کہ ابھی پچھلی حدیث میں ذکر کیا گیا، گویا کہ یہ حدیث حضرت امام ابوحنیفہ کی دلیل ہے۔ حضرات شوافع فرماتے ہیں کہ جن احادیث میں نماز فجر کے اندر قنوت نہ پڑھنا ذکر کیا گیا ہے وہ سب ضعیف ہیں لیکن ملا علی قاری نے اس قول کا جواب بہت معقول اور مدلل طریقے سے دیا ہے نیز انہوں نے خلفاء اربعہ سے بھی اس طرح کی روایتیں نقل کی ہیں اس بحث کی تفصیل ان کی شرح میں دیکھی جاسکتی ہے۔
آخری نصف رمضان میں اور رکوع کے بعد قنوت پڑھنے کا مسئلہ
عَنِ الْحَسَنِ اَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ جَمَعَ النَّاسَ عَلَی اُبَیِّ ابْنِ کَعْبٍ فَکَانَ یُصَلِّی لَھُمْ عِشْرِیْنِ لَیْلَۃً وَّلَا یَقْنُتُ بِھِمْ اِلَّا فِی النِّصْفِ الْبَاقِی فَاِذَا کَانَتِ الْعَشْرُ الْاٰوَاخِرُ تَخَلَّفَ فَصَلَّی فِی بَیْتِہٖ فَکَانُوْا یَقُوْلُوْنَ اُبَقَ اَبَیُّ رَوَاہ، اَبُوْدَاؤدَ وَسُئِلَ اَنَسُ بْنُ مَالِکٍ عَنِ الْقُوْنُتِ فَقَالَ قَنَتَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم بَعْدَ الرُّکُوْعِ وَفِی رِوَایَۃٍ قَبْلَ الرُّکُوْعِ وَبَعْدَہ،۔ (رواہ ابن ماجۃ)
حضرت حسن بصری (رح) فرماتے ہیں کہ امیر المومنین حضرت عمر بن خطاب ؓ نے لوگوں کو رمضان میں نماز تراویح کے لئے) جمع کیا اور حضرت ابی بن کعب ؓ کو امام بنایا، حضرت ابی بن کعب نے ان کو بیس راتوں تک نماز پڑھائی اور انہوں نے لوگوں کے ساتھ دعا قنوت سوائے آخری نصف رمضان کے اور دنوں میں نہیں پڑھی اور جب آخر کے دس روزے رہ گئے تو حضرت ابی بن کعب مسجد میں نہ آئے بلکہ (وتر کی) نماز اپنے گھر میں پڑھنے لگے، لوگ کہتے کہ ابی بھاگ گئے (ابوداؤد) اور حضرت انس بن مالک ؓ سے کسی نے دعا قنوت کے بارے میں پوچھا کہ (رکوع سے پہلے پڑھی جائے یا بعد میں؟ ) تو انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے دعا قنوت رکوع کے بعد پڑھی ہے ایک دوسری روایت میں یہ ہے کہ آپ ﷺ نے دعا قنوت کبھی رکوع سے پہلے اور کبھی رکوع کے بعد پڑھی ہے۔
تشریح
حضرت ابی بن کعب ایک جلیل القدر اور بڑی عظمت و شان کے مالک صحابی تھے، جہاں ان کی اور بہت سی امتیازی خصوصیات تھیں وہیں آپ کی ایک خصوصیت یہ بھی تھی کہ آپ نے رسول اللہ ﷺ کے زمانے ہی میں پورا قرآن کریم حفظ کرلیا تھا۔ نیز یہ کہ صحابہ میں بڑے اونچے درجے کے قاری مانے جاتے تھے، اسی وجہ سے آپ کو سید القراء کے لقب سے یاد کیا جاتا تھا، چناچہ حضرت عمر فاروق ؓ نے ان کی انہیں خصوصیات کی بنا پر انہیں رمضان میں تراویح کی نماز کے لئے امام مقرر فرمایا تاکہ لوگ ان کی اقتدا میں نماز تراویح پڑھیں۔ یہ دونوں حدیثیں جو حضرت حسن بصری سے منقول ہیں حضرات شوافع کی مستدل ہیں۔ پہلی حدیث تو اس بات کی دلیل ہے کہ دعاء قنوت صرف رمضان کے آخری نصف حصے میں پڑھی جائے علماء احناف فرماتے ہیں کہ اول تو مطلقا ً وتر میں دعا قنوت کا پڑھنا مشروع ہوا ہے اور چونکہ وتر کی نماز ہمیشہ پڑھی جاتی ہے اس لئے دعاء قنوت بھی ہمیشہ پڑھی جائے گی۔ دوسرے یہ کہ زیادہ ایسی ہی احادیث وارد ہیں جن میں بلا تخصیص رمضان، وتر کی نماز میں دعاء قنوت پڑھنا ثابت ہوتا ہے لہٰذا اس اعتبار سے بھی ہمیشہ وتر کی نماز میں دعاء قنوت کا پڑھنا اولیٰ اور ارجح ہوگا۔ دوسری حدیث شوافع کے لئے اس بات کی دلیل ہے کہ دعاء قنوت رکوع کے بعد پڑھی جائے اس کا جواب حنفی علماء کی جانب سے یہ دیا جاتا ہے کہ رکوع سے پہلے دعاء قنوت پڑھنے کے سلسلے میں احادیث زیادہ تعداد میں منقول ہیں، پھر یہ کہ صحابہ کا عمل بھی انہیں احادیث کے مطابق نقل کیا گیا ہے اس لئے احادیث عمل کرنا چاہیے۔ جہاں تک ان احادیث کا تعلق ہے جن سے رکوع کے بعد دعا قنوت پڑھنا ثابت ہوتا ہے تو اس کے بارے میں بتایا جا چکا ہے کہ ان احادیث کا تعلق صرف ایک مہینے سے ہے جب کہ رسول اللہ ﷺ نے رکوع کے بعد قنوت پڑھی ہے۔ مستقل طریقے سے رکوع کے بعد عاء قنوت پڑھنے سے اس کا تعلق نہیں ہے۔ ملا علی قاری فرماتے ہیں کہ حضرت ابی بن کعب رمضان کے آخری نصف حصے میں اللہ کے رسول ﷺ کے باغیوں کے لئے بد دعا کرنے کی وجہ سے دعاء قنوت پڑھتے ہوں گے کیونکہ صحیح سند کے ساتھ حضرت عمر فاروق ؓ سے منقول ہے کہ جب آدھا رمضان گذر جائے تو (رمضان کے آخری نصف حصے میں) وتر میں کفار پر لعنت بھیجنا سنت ہے۔ ابق ابی کے الفاظ کہہ کر لوگوں نے حضرت ابی کو بھاگنے والے غلام کے ساتھ تشبیہ دی، اس کی وجہ یہ تھی کہ ان لوگوں کی نظر میں حضرت ابی کا یہ عمل کہ آخری دس دنوں میں مسجد میں نہیں آئے مکروہ معلوم ہوا۔ حالانکہ حضرت ابی کسی عذر کی بناء پر ہی رمضان کے آخری عشرے میں مسجد نہیں آئے ہوں گے۔ اور عذر یہی ہوسکتا ہے کہ وہ ان ایام میں خلوت اختیار کرتے تھے تاکہ عبادت کا وہ کمال خلوت میں حاصل ہوجائے جو جلوت میں حاصل نہیں ہوتا۔ حدیث کے الفاظ رسول اللہ ﷺ نے دعاء قنوت رکوع کے بعد پڑھی ہے سے مراد یہ ہے کہ آپ ﷺ نے صرف ایک مہینے تک (فجر کی نماز میں) رکوع کے بعد دعاء قنوت پڑھی ہے اور اس پر دلیل صحیح البخاری و صحیح مسلم کی وہ روایت ہے جو عاصم احول سے منقول ہے (ملا حظہ فرمائے اسی باب کی حدیث نمبر ٢) آخری روایت کا مفہوم یہ ہے کہ کبھی (یعنی وتر میں) تو آپ ﷺ دعاء قنوت رکوع سے پہلے پڑھتے تھے اور کبھی (یعنی کسی حادثے و وباء کے وقت) رکوع کے بعد پڑھتے تھے اس مفہوم سے ان تمام احادیث میں تطبیق ہوجائے گی جن میں سے بعض روایات تو رکوع کے بعد دعاء قنوت پڑھنے پر دلالت کرتی ہیں اور بعض روایتوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آپ ﷺ رکوع سے پہلے دعاء قنوت پڑتے تھے