تراویح کا بیان

Mishkaat-al-Masabih · Chapter 13 · 38 hadiths · Page 1 of 2

1267Mishkaat-al-Masabih

ماہ رمضان میں قیام کا بیان

ماہ رمضان میں قیام سے مراد ہے اس بابرکت مہینے کی مقدس راتوں کو عبادت الٰہی کے لئے یعنی نماز تراویح اور تلاوت قرآن وغیرہ کے لئے جاگتے رہنا۔ نماز تراویح یہاں اس باب کے تحت زیادہ تراویح سے متعلق احادیث نقل کی جائیں گی اور اس نماز کی فضیلت اور اس کے احکام و مسائل بیان کئے جائیں گے اس موقع پر نماز تراویح کے چند احکام بیان کئے جاتے ہیں۔ (١) رمضان میں نماز تراویح مرد و عورت دونوں کے لئے سنت موکدہ ہے۔ (٢) جس رات کو رمضان کا چاند دیکھا جائے اسی رات سے تراویح شروع کی جائے اور جب عید کا چاند دیکھا جائے تو چھوڑ دی جائے۔ (٣) نماز تراویح روزے کی تابع نہیں ہے جو لوگ کسی وجہ سے روزہ نہ رکھ سکیں ان کے لئے بھی تراویح کا پڑھنا سنت ہے اگر نہ پڑھیں گے تو ترک سنت کا گناہ ان پر ہوگا۔ (٤) نماز تراویح کا وقت عشاء کی نماز کے بعد شروع ہوتا ہے اگر کوئی عشاء کی نماز کے بعد تراویح پڑھ چکا ہو اور اس کے بعد معلوم ہو کہ عشاء کی نماز میں کچھ سہو ہوگیا جس کی وجہ سے عشاء کی نماز نہیں ہوئی تو اسے عشاء کی نماز کے بعد تراویح کا اعادہ بھی کرنا چاہیے۔ (٥) اگر عشاء کی نماز جماعت سے نہ پڑھی گئی ہو تو تراویح بھی جماعت سے نہ پڑھی جائے اس لئے کہ تراویح عشاء کے تابع ہے ہاں جو لوگ جماعت سے عشاء کی نماز پڑھ کر تراویح جماعت سے پڑھ رہے ہوں ان کے ساتھ شریک ہو کر اس آدمی کے لئے بھی تراویح کا جماعت سے پڑھ لینا درست ہوجائے گا۔ جس نے عشاء کی نماز بغیر جماعت کے پڑھی ہے اس لئے کہ وہ ان لوگوں کا تابع سمجھا جائے گا جن کی جماعت درست ہے۔ (٦) اگر کوئی مسجد میں ایسے وقت پہنچے کہ عشاء کی نماز ہوچکی ہو تو اسے چاہیے کہ پہلے عشاء کی نماز پڑھے پھر تراویح میں شریک ہو اور اس درمیان میں تراویح کی جو رکعتیں ہوجائیں ان کو وتر پڑھنے کے بعد پڑھ لے۔ (٧) مہینے میں ایک مرتبہ قرآن مجید کا ترتیب وار تراویح میں پڑھنا سنت مؤ کدہ ہے لوگوں کی کاہلی یا سستی کی وجہ سے اس کو ترک نہیں کرنا چاہے ہاں اگر یہ اندیشہ ہو کہ پورا قرآن مجید پڑھا جائے گا تو لوگ نماز میں نہیں آئیں گے اور جماعت ٹوٹ جائے یا ان کو بہت ناگوار ہوگا تو بہتر ہے کہ جس قدر لوگوں کو گراں گذرے اسی قدر پڑھا جائے۔ باقی الم ترکیف سے آخر کی دس سورتیں پڑھ دی جائیں۔ ہر رکعت میں ایک سورت پھر جب دس رکعتیں ہوجائیں تو انہیں سورتوں کو دوبارہ پڑھ دے یا اور جو سورتیں چاہے پڑھے۔ (٨) ایک قرآن مجید سے زیادہ نہ پڑھا جائے تاوقتیکہ کہ لوگوں کا شوق نہ معلوم ہوجائے۔ (٩) ایک رات میں پورے قرآن مجید کا پڑھنا جائز ہے بشر طی کہ کہ لوگ شوقین ہوں کہ انہیں گراں نہ گذرے اگر گراں گذرے اور ناگوار ہو تو مکروہ ہے۔ (١٠) تراویح میں کسی سورت کے شروع پر ایک مرتبہ بسم اللہ الرحمن الرحیم بلند آواز سے پڑھ دینا چاہیے اس لئے کہ بسم اللہ بھی قرآن مجید کی ایک آیت ہے۔ اگرچہ کسی سورت کا جز نہیں پس اگر بسم اللہ بالکل نہ پڑھی جائے تو مقتدیوں کا قرآن مجید پورا نہ ہوگا۔ (١١) تراویح کا رمضان کے پورے مہینے میں پڑھنا سنت ہے اگرچہ قرآن مجید مہینہ پورا ہونے سے پہلے ہی ختم ہوجائے مثلاً پندرہ روز میں یا بیس روز میں پورا قرآن مجید پڑھ دیا جائے تو بقیہ پندرہ یا دس روز میں تراویح کا پڑھنا سنت موکد ہے۔ (١٢) صحیح یہ ہے کہ تراویح میں قل ہو اللہ کا تین مرتبہ پڑھنا جیسا کہ آجکل دستور ہے مکروہ ہے۔ (١٣) نماز تراویح کی نیت اس طرح کی جائے نَوَیْتُ اَنْ اُصَلِّیْ رَکَعَتِیْ صَلٰوۃِ التَّراوِیْحِ سُنَّۃِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَاَصْحَابِہ میں دو رکعت نماز تراویح پڑھنے کی نیت کرتا ہوں جو رسول اللہ ﷺ اور ان کے صحابہ کی سنت ہے۔ (١٤) نماز تراویح پڑھنے کا وہی طریقہ ہے جو دیگر نمازوں کا ہے۔

1268Mishkaat-al-Masabih

با جماعت نماز تراویح سنت ہے

عَنْ زَےْدِ بْنِ ثَابِتٍص اَنَّ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم اِتَّخَذَ حُجْرَۃً فِی الْمَسْجِدِ مِنْ حَصِےْرٍ فَصَلّٰی فِےْھَا لَےَالِیَ حَتَّی اجْتَمَعَ عَلَےْہِ نَاسٌ ثُمَّ فَقَدُوْا صَوْتَہُ لَےْلَۃً وَظَنُّوْا اَنَّہُ قَدْ نَامَ فَجَعَلَ بَعْضُھُمْ ےَتَنَحْنَحُ لِےَخْرُجَ اِلَےْھِمْ فَقَالَ مَا زَالَ بِکُمُ الَّذِیْ رَاَےْتُ مِنْ صَنِےْعِکُمْ حَتّٰی خَشِےْتُ اَنْ ےُّکْتَبَ عَلَےْکُمْ وَلَوْ کُتِبَ عَلَےْکُمْ مَا قُمْتُمْ بِہٖ فَصَلُّوْا اَےُّھَا النَّاسُ فِیْ بُےُوْتِکُمْ فَاِنَّ اَفْضَلَ صَلٰوۃِ الْمَرْءِ فِیْ بَےْتِہٖ اِلَّا الصَّلٰوۃَ الْمَکْتُوْبَۃَ۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)

حضرت زید ابن ثابت ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے (رمضان میں) مسجد میں بورئیے کا ایک حجرہ بنایا اور کئی راتیں اس میں (تراویح کے علاوہ نفل) نماز پڑھی (جب لوگ جمع ہوجاتے تو رسول اللہ ﷺ حجرے سے باہر تشریف لاتے اور فرائض و تراویح جماعت کے ساتھ پڑھتے) یہاں تک کہ (ایک روز بہت زیادہ) لوگ جمع ہوگئے (رسول اللہ ﷺ چونکہ فرض نماز پڑھ کر حجرے میں تشریف لے جا چکے تھے اور جیسا کہ آپ ﷺ کا معمول تھا کچھ دیر کے بعد باہر تشریف نہ لائے اس لئے لوگوں نے آپ کی کوئی آہٹ محسوس نہیں کی چناچہ وہ یہ سمجھے کہ آپ ﷺ سو گئے اور لوگوں نے کھنکارنا شروع کیا تاکہ آپ ﷺ (بیدار ہوجائیں اور نماز تراویح کے لئے) باہر تشریف لے آئیں (جیسا کہ آپ ﷺ گذشتہ راتوں میں تشریف لاتے تھے) رسول اللہ ﷺ نے (حجرہ سے باہر نکل کر یا اندر ہی سے) فرمایا کہ تمہارا کام جو میں دیکھ رہا ہوں برابر جاری رہے (یعنی جماعت سے تراویح پڑھنے کا شوق اور عبادت کے معاملہ میں تمہارا جذبہ ہمیشہ رہے اور پھر فرمایا) لیکن مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں یہ نماز تم پر فرض نہ ہوجائے (یعنی اگر میں ہمیشہ نماز تراویح جماعت سے پڑھتا تو یہ نماز تم پر فرض ہوجاتی) اور اگر یہ نماز فرض ہوجاتی تو تم اس کی ادائیگی سے قاصر رہتے، لہٰذا اے لوگو! تم اپنے گھروں میں نماز پڑھا کرو کیونکہ انسان کی بہترین نماز وہی ہے جسے اس نے اپنے گھر میں پڑھا ہو سوائے فرض نماز کے (کہ اسے مسجد میں ہی پڑھنا افضل ہے۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم) تشریح رسول اللہ ﷺ نے مسجد نبوی میں اعتکاف کے لئے بورئیے کا ایک حجرہ سا بنا لیا تھا۔ اسی میں آپ ﷺ رمضان کی بابرکت اور مقدس ساعتوں میں عبادت الٰہی اور ذکر اللہ میں مشغول رہا کرتے تھے اس سے معلوم ہوا کہ مسجد میں بورئیے کا یا اسی قسم کی کسی دوسری چیز کا معتکف بنا لینا جائز ہے لیکن یہ شرائط کہ اپنی حاجت و ضرورت سے زیادہ جگہ نہ روکی جائے ورنہ تو بصورت دیگر حرام ہوگا کیونکہ زیادہ جگہ گھیرنے سے دوسرے نمازیوں کو تنگی ہوگی بشرطیکہ جگہ ایسی ہو جس کی لوگوں کو احتیاج اور ضرورت ہو اگرچہ کبھی کبھی ہی ضرورت ہو ہاں اگر کوئی آدمی قرینے سے جانتا ہو کہ اگر لوگ بہت تعداد میں بھی مسجد میں آجائیں گے تب بھی متعکف کے لئے گھیری ہوئی جگہ کی انہیں احتیاج نہیں ہوگی تو ایسی صورت میں ضرورت سے زیادہ بھی جگہ گھیر لینا حرام نہیں ہوگا یہ تفصیل اس بات پر بصراحت دلالت کرتی ہے کہ ایام حج میں مسجد حرام کے اندر لوگوں کو تنگی میں مبتلا کرنا حرام ہے۔ یہ حدیث جہاں رسول اللہ ﷺ کی امت کے حق میں انتہائی شان رحمت کی غمازی کر رہی ہے کہ آپ ﷺ نے نماز تراویح کی جماعت پر اس لئے مداومت نہیں فرمائی کہ کہیں یہ نماز امت کے لئے فرض ہی قرار نہ دیدی جائے جس سے امت کے لوگ تنگی و پریشانی میں مبتلا ہوجائیں۔ وہیں یہ حدیث اس بات کی بھی صریح دلیل ہے کہ تراویح کی نماز با جماعت پڑھنا سنت ہے۔ فَصَلُّوْا یِھَا النَّاسِ الخ (لہٰذا، اے لوگو! تم اپنے گھروں میں نماز پڑھا کرو) میں امر استحبابی ہے یعنی آپ ﷺ نے یہ حکم وجوب اور لزوم کے طور پر نہیں دیا بلکہ مقصد یہ ہے کہ فرض نماز کے علاوہ دیگر سنن و نوافل گھروں میں پڑھنا بہتر اور مناسب ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ عام نگاہوں سے بچ کر گھروں میں سنت و نفل نماز پڑھنے میں ریاء و نمائش کا کوئی ادنیٰ ساجذبہ بھی ظاہر نہیں ہوتا جو ظاہر ہے کہ عبادت کے سلسلے میں انتہائی مستحسن اور مطلوب ہے۔ فَاِنَّ اَفْضَلَ الصَّلٰوۃِ الخ ( انسان کی بہترین نماز وہی ہے جسے اس نے اپنے گھر میں پڑھا ہو) یہ حکم تمام سنن و نوافل نمازوں کے بارے میں ہے کہ کوئی بھی سنت یا نفل نماز ہو سب سے بہتر وہی نماز ہے جسے نمازی نے عام نگاہوں سے بچ کر اپنے گھر میں پڑھا ہو مگر وہ نوافل اس حکم میں شامل نہیں ہیں جو شعار اسلام میں سے ہیں مثلاً نماز کسوف، نماز استسقاء اور نماز عیدین کیونکہ ان نمازوں کو مسجد میں ہی پڑھنا افضل ہے۔ نیز مسافروں کے لئے کعبہ اور مسجد نبوی بھی ان احکام میں شامل نہیں ہیں یعنی اگر کسی خوش نصیب کو کعبۃ اللہ اور مسجد نبوی کی زیارت کا شرف حاصل ہو اور وہ مسافر ہو تو اس کے لئے افضل یہی ہے کہ وہ فرض نمازوں کے ساتھ سنن و نوافل بھی مسجد حرام یا مسجد نبوی میں ہی پڑھے کیونکہ مسافروں کو یہ موقعہ کبھی کبھی نصیب ہوتا ہے کہ وہ مسجد حرام اور مسجد نبوی میں نماز پڑھنے کی سعادت حاصل کرسکیں اس لئے مسافر اس موقعہ کو غنیمت جانے اور زیادہ سے زیادہ نمازیں مسجد حرام اور مسجد نبوی میں پڑھے۔ اور یہ (یعنی مسجد حرام اور مسجد نبوی کو اس حکم سے مستثنیٰ قرار دینا) اس بات پر قیاس کیا جاتا ہے کہ مشائخ نے فرمایا ہے کہ مسافروں کے لئے کعبۃ اللہ کا طواف نفل نماز پڑھنے سے افضل ہے۔ وا اللہ اعلم

1269Mishkaat-al-Masabih

رمضان کی راتوں میں عبادت کرنے کی فضلیت

عَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ صقَالَ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم ےُرَغِّبُ فِیْ قِےَامِ رَمَضَانَ مِنْ غَےْرِ اَنْ ےَّاْمُرَھُمْ فِےْہِ بِعَزِےْمَۃٍ فَےَقُوْلُ مَنْ قَامَ رَمَضَانَ اِےْمَانًا وَّاحْتِسَابًا غُفِرَ لَہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہٖ فَتُوُفِّیَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم وَالْاَمْرُ عَلٰی ذَلِکَ ثُمَّ کَانَ الْاَمْرُ عَلٰی ذَالِکَ فِیْ خِلَافَۃِ اَبِیْ بَکْرٍ وَّصَدْرًا مِّنْ خِلَافَۃِ عُمَرَ عَلٰی ذَالِکَ۔(صحیح مسلم)

اور حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ قیام رمضان (یعنی نماز تراویح) کی ترغیب دیا کرتے تھے لیکن تاکید کے ساتھ صحابہ کو کوئی حکم نہیں دیا کرتے تھے چناچہ آپ فرمایا کرتے تھے کہ جو آدمی صحیح اعتقاد کے ساتھ حصول ثواب کے لئے (یعنی ریاء و نمائش کے جذبہ کے ساتھ نہیں بلکہ محض اللہ جل شانہ کی رضاء و خوشنودی کے لئے رمضان میں قیام کرتا ہے اس کے لئے پہلے گناہ صغیرہ بخش دئیے جاتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے وفات پائی اور قیام رمضان کا معاملہ اسی طرح رہا (یعنی نماز تراویح کے لئے جماعت مقرر نہیں تھی بلکہ جو جانتا تھا حصول ثواب کے لئے پڑھ لیتا تھا) پھر حضرت ابوبکر صدیق کی خلافت میں بھی یہی صورت رہی اور حضرت عمر کے زمانہ خلافت کے ابتدائی ایام میں بھی یہی معمول رہا ( اور حضرت عمر نے نماز تراویح کے لئے جماعت کا حکم دیا اور اس کا التزام کیا۔ (صحیح مسلم) تشریح صحیح اعقتاد اور حصول ثواب کے لئے رمضان میں قیام کرنے کا مطلب یہ ہے کہ رمضان کی مقدس و بابرکت راتوں میں عبادت الٰہی کے لئے شب بیداری کرنا یا اس سے یہ بھی مراد ہے کہ جو آدمی صحیح اعتقاد کے ساتھ نماز تراویح پڑھے یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات پر ایمان رکھتا ہو اور اس بات کو سچ جاننا ہو کہ رمضان کی راتوں کو عبادت الٰہی میں مشغول ہونا مثلاً نماز تراویح وغیرہ کا پڑھنا اللہ تعالیٰ کے قریب اور اس کی رضا و خوشنودی کا باعث ہے تو اس کے وہ گناہ صغیرہ جو اس سے سرزد ہوچکے ہیں معاف کر دئیے جاتے ہیں۔

1270Mishkaat-al-Masabih

سنت و نفل نماز گھر میں پڑھنے کی فضیلت اور اس کے اثرات

عَنْ جَابِرٍص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَا قَضٰی اَحَدُکُمُ الصَّلٰوۃَ فِیْ مَسْجِدِہٖ فَلْےَجْعَلْ لِّبَےْتِہٖ نَصِےْبًا مِنْ صَلٰوتِہٖ فَاِنَّ اللّٰہَ جَاعِلٌ فِیْ بَےْتِہٖ مِنْ صَلٰوتِہٖ خَےْرًا۔(صحیح مسلم)

اور حضرت جابر ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی آدمی اپنی (فرض) نماز مسجد میں پڑھے تو اسے چاہیے کہ وہ اپنی نماز کا کچھ حصہ اپنے گھر کے لئے بھی رکھ لے (یعنی سنت و نوافل بلکہ قضاء بھی گھر میں پڑھے) کیونکہ اللہ تعالیٰ اس کی نماز کے سبب اس کے گھر میں بھلائی پیدا کرتا ہے۔ (صحیح مسلم) تشریح اس حدیث کے ذریعے گھروں میں سنن و نوافل پڑھنے کی فضیلت اور گھر میں ان نمازوں کے پڑھنے کے جو اثرات مرتب ہوتے ہیں ان کو بتایا جا رہا ہے چناچہ فرمایا کہ جو آدمی فرض نماز مسجد میں پڑھتا ہے اور سنت و نفل گھر میں پڑھتا ہے اس کے گھر میں اللہ تعالیٰ اس نماز کے سبب سے بھلائی پیدا فرماتا ہے یعنی گھر والوں کو نیک توفیق دیتا ہے اور مکینوں کے رزق و عمر میں برکت عطا فرماتا ہے۔ نماز تراویح اس حکم میں شامل نہیں ہے کیونکہ بالاتفاق یہ ثابت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نماز تراویح مسجد میں پڑھا کرتے تھے اور صحابہ کا بھی اس پر اجماع تھا۔ اس حدیث کو جو بظاہر اس باب سے متعلق نہیں ہے اس باب میں نقل کر کے گویا (اس طرف اشارہ کیا جا رہا ہے کہ رمضان میں بھی کچھ نمازیں گھر میں بھی پڑھنی چاہیں۔

1271Mishkaat-al-Masabih

رمضان کے آخری عشرہ کی راتوں میں رسول اللہ ﷺ کی عبادت

وَعَنْ اَبِی ذَرٍّ قَالَ صُمْنَا مَعَ رَسُوْلِ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم فَلَمْ یَقُمْ بِنَا شَیْئًا مِنَ الشَّھْرِ حَتّٰی بَقِیَ سَبْعٌ فَقَامَ بِنَا حَتّٰی ذَھَبَ ثُلُثُ اللَّیْلِ فَلَمَّا کَانَتِ السَّادِسَۃُ لَمْ یَقُمْ بِنَا فَلَمَّا کَانَتِ الْخَامِسَۃُ قَامَ بِنَا حَتّٰی ذَھَبَ شَطْرُ اللَّیْلِ فَقُلْتُ یَا رَسُوْلَ اﷲِ لَوْ نَفَّلْتَنَا قِیَامَ ھٰذِہِ اللَّیْلَۃِ فَقَالَ اِنَّ الرَّجُلَ اِذَا صَلَّی مَعَ الْاِمَامِ حَتّٰی یَنْصَرِفَ حُسِبَ لَہُ قِیَامُ لَیْلَۃِ فَلَمَّا کَانَتِ الرَّابِعَۃُ لَمْ یَقُمْ بِنَا حَتّٰی بَقِیَ ثُلُثُ اللَّیْلِ فَلَمَّا کَانَتِ الثَّالِثَۃُ جَمَعَ اَھْلَہُ وَنِسَاءَ ہُ وَالنَّاسَ فَقَامَ بِنَا حَتّٰی خَشِیْنَا اَنْ یَفُوْتَنَا الْفلَاَحَ قُلْتُ وَمَا الْفَلَاحُ قَالَ السَّحُوْرُ ثُمَّ لَمْ یَقُمْ بِنَا بَقِیَّۃَ الشَّھْرِ رَوَاہُ اَبُوْدَاؤدُ وَ التِّرْمِذِیُّ وَالنَّسَائِیُّ وَرَوَی ابْنُ مَاجَۃَ نَحْوَہ، اِلَّا انَّ التِّرْمِذِیَّ لَمْ یَذْکُرْ ثُمَّ لَمْ یَقُمْ بِنَا بَقِیِّۃَ الشَّھْرِ۔

حضرت ابوذر ؓ فرماتے ہیں کہ ہم نے (رمضان میں) سر تاج دو عالم ﷺ کے ہمراہ روزے رکھے، آپ ﷺ نے مہینے کے اکثر ایام میں ہمارے ساتھ قیام نہیں کیا (یعنی آپ ﷺ نے رمضان کی راتوں میں ہمارے ساتھ فرض نماز کے علاوہ کوئی اور نماز نہیں پڑھی) یہاں تک کہ جب سات راتیں باقی رہ گئیں (یعنی تئیسویں آئی) تو آپ ﷺ نے ہمارے ساتھ تہائی رات تک قیام (یعنی ہمیں نماز تراویح پڑھائی) جب پانچ راتیں باقی رہ گئیں (یعنی پچیسویں شب آئی) تو آپ نے ہمارے ساتھ آدھی رات تک قیام کیا میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ کاش آج کی رات قیام اور زیادہ کرتے (یعنی اگر آپ ﷺ آدھی رات سے بھی زیادہ تک ہمیں نماز پڑھاتے رہتے تو بہتر ہوتا) آنحضرت ﷺ نے فرمایا جب کوئی آدمی (فرض) نماز امام کے ساتھ پڑھتا ہے تو اس سے فارغ ہو کر واپس جاتا ہے تو اس کے لئے پوری رات کی عبادت کا ثواب لکھا جاتا ہے (یعنی عشاء اور فجر کی نماز جماعت سے پڑھنے کی وجہ سے اسے پوری رات کی عبادت کا ثواب ملتا ہے نیز یہ کہ نوافل کا اسی وقت تک پڑھتے رہنا مناسب اور بہتر ہے جب تک دل لگے) جب چار راتیں باقی رہ گئیں (یعنی چھبیسویں شب آئی) تو ہمارے ساتھ قیام نہیں کیا یہاں تک کہ تہائی رات باقی رہ گئی) ہم اسی انتظار میں لگے رہے کہ رسول اللہ ﷺ تشریف لائیں اور ہمیں نماز پڑھائیں) جب تین راتیں باقی رہ گئیں (یعنی ستائیسویں شب آئی) تو رسول اللہ ﷺ نے اپنے گھر والوں، اپنی عورتوں اور سب لوگوں کو جمع کیا اور ہمارے ساتھ قیام کیا (یعنی تمام رات نماز پڑھتے رہے) یہاں تک کہ ہمیں یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں فلاح فوت نہ ہوجائے راوی فرماتے ہیں کہ میں نے پوچھا فلاح کیا ہے؟ حضرت ابوذر نے فرمایا کہ (فلاح سے مراد) سحر کا کھانا (ہے) پھر رسول اللہ ﷺ نے ہمارے ساتھ مہینہ کے باقی دنوں میں (یعنی اٹھائیسویں اور انتیسویں شب میں) قیام نہیں کیا سنن ابوداؤد، جامع ترمذی، سنن نسائی) ابن ماجہ نے بھی اس طرح کی روایت نقل کی ہے نیز ترمذی نے اپنی روایت میں ثم لم یقم بنا بقیۃ الشھر ( یعنی آپ ﷺ نے ہمارے ساتھ مہینے کے باقی دنوں میں قیام نہیں کیا، کے الفاظ ذکر نہیں کئے۔ تشریح اس حدیث میں معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ نے رمضان کے پہلے دو عشروں میں تراویح کی نماز صحابہ کو نہیں پڑھائی اس کا سبب وہی ہے جو پہلی حدیث میں گذر چکا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا مجھے اندیشہ ہے کہ یہ نماز فرض نہ ہوجائے حدیث کے الفاظ حتی بقی سبع الخ) یعنی یہاں تک کہ جب سات راتیں باقی رہ گئیں) کے بارے میں علامہ طیبی فرماتے ہیں کہ یہ حساب باعتبار یقین کی ہے یعنی انتیس دن کا مہینہ یقینی ہو اسی پر حساب لگایا ہے جیسا کہ ترجمہ کے دوران قوسین میں اس کی وضاحت کر کے اس طرف اشارہ کردیا گیا ہے۔ سحر کھانے کو فلاح اس لئے کہا ہے کہ اس کے ذریعے روزہ رکھنے کی قوت و طاقت حاصل ہوتی ہے جو درحقیقت فلاح کا سبب ہے۔ آخری راتوں میں قیام کا تفاوت فضیلت کے اعتبار سے تھا یعنی جن راتوں کی فضیلت کم تھی ان راتوں میں قیام کم کیا اور جن راتوں کی فضیلت زیادہ تھی ان میں فضیلت کی اسی زیادتی کے مطابق قیام بھی زیادہ کیا یہاں تک کہ ستائیسویں شب میں آپ ﷺ نے تمام رات قیام کیا۔ کیونکہ اکثر علماء کے قول کے مطابق لیلۃ القدر ستائیسویں ہی شب ہے یہی وجہ کہ آپ ﷺ نے اس رات کو اپنے گھر والوں، عورتوں کو جمع کیا اور سب کے ساتھ پوری رات عبادت الٰہی میں مشغول رہے۔

1272Mishkaat-al-Masabih

ماہ شعبان کی پندرویں شب کی فضیلت

وَعَنْ عَآئِشَۃَ قَالَتْ فَقَدْتَ رَسُوْلَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم لَیْلَۃً فَاِذَا ھُوَ بِالبَقِیْعِ فَقَالَ اَکُنْتِ تَخَافِیْنَ اَنْ یَخِیْفَ اﷲُ عَلَیْکِ وَرَسُوْلُہ، قُلْتُ یَا رَسُوْلَ اﷲِ اِنِّی ظَنَنْتُ اِنَّکَ اَتَیْتَ بَعْضَ نِسَائِکَ فَقَالَ اِنَّ اﷲَ تَعَالٰی یَنْزِلُ لَیْلَۃَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ اِلَی السَّمَآءِ الدُّنْیَا فَیَغْفِرُ لِاَکْثَرَ مِنْ عَدَدِ شَعْرِ غَنَمِ کَلْبٍ رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ وَابْنُ مَاجَۃَ وَزَادَ رَزِیْنٌ مِمَّنِ اسْتَحَقَّ النَّارَ وَقَالَ التِّرْمِذِیُّ سَمِعْتُ مُحَمَّدً یَعْنِیْ اَلْبُخَارِیَّ یُضَعَّفُ ھٰذَا الْحَدِیْثَ۔

اور ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ ایک ( مرتبہ اپنی باری میں) رات کو میں نے سر تاج دو عالم ﷺ کو بستر پر نہیں پایا (جب میں نے تلاش کیا تو) یکایک کیا دیکھتی ہوں کہ آپ ﷺ بقیع میں موجود ہیں (مجھے دیکھ کر) آپ ﷺ نے فرمایا کیا تمہیں اس بات کا خوف تھا کہ اللہ اور اس کا رسول تم پر ظلم کریں گے؟ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ! مجھے خیال ہوا تھا کہ آپ ﷺ اپنی کسی اور بیوی کے پاس تشریف لے گئے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نصف ماہ شعبان کی رات (یعنی شعبان کی پندرہویں شب) کو آسمان دنیا (یعنی پہلے آسمان) پر نزول فرماتا ہے اور قبیلہ بنو کلب (کی بکریوں) کے ریوڑ کے بالوں سے بھی زیادہ تعداد میں گناہ بخشتا ہے اور رزین نے یہ الفاظ بھی نقل کئے ہیں کہ مومنین میں سے) جو لوگ دوزخ کے مستحق ہوچکے ہیں انہیں بخشتا ہے۔ امام ترمْذی فرماتے ہیں کہ میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ یہ حدیث ضعیف ہے۔ (جامع ترمذی، سنن ابن ماجہ) تشریح بقیع مدینہ منورہ میں ایک قبر ستان کا نام ہے اسی کو جنت البقیع بھی کہتے ہیں۔ یہاں یہ واقعہ تفصیل کے ساتھ بیان نہیں کیا گیا ہے ایک دوسری روایت میں حضرت عائشہ اسی واقعہ کو ذرا تفصیل کے ساتھ اس طرح بیان فرماتی ہیں کہ جب میں نے رسول اللہ ﷺ کو رات کو اپنی باری کے موقعہ پر بستر پر نہیں پایا تو میں نے اپنے بدن پر اپنے کپڑے لپیٹے اور آپ ﷺ کے نقش قدم ڈھونڈتی ہوئی باہر نکل گئی اچانک میں نے دیکھا کہ آپ ﷺ بقیع میں سجدے میں پڑے ہوئے اور سجدہ بھی آپ ﷺ نے اتنا دراز کیا کہ مجھے تو یہ شبہ ہوا کہ (خدا نخواستہ) آپ ﷺ کا وصال ہوگیا ہے جب آپ ﷺ ( بہت دیر کے بعد سجدے سے اٹھ کر سلام پھیر چکے تو میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ تم ڈرتی تھی کہ اللہ اور اس کا رسول تمہارے ساتھ ظلم کا معاملہ کریں گے، یعنی تمہیں یہ خیال ہوگیا تھا کہ میں تمہاری باری چھوڑ کر کسی اور بیوی کے ہاں چلا گیا ہوں؟ ( اس جملے میں اللہ کا ذکر زینت اور حسن کلام کے لئے ہے) اس کے بعد حضرت عائشہ کے جواب کا حاصل یہ ہے کہ یا رسول اللہ! میں نے یہ گمان نہیں کیا (نعوذ با اللہ) اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ نے میرے ساتھ ظلم کا معاملہ کیا ہے بلکہ مجھے تو خیال ہوگیا تھا کہ یا تو آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کے حکم سے یا اپنے ہی اجتہاد سے میرے پاس سے اٹھ کر کسی دوسری بیوی کے ہاں چلے گئے ہیں۔ حضرت علامہ ابن حجر حضرت عائشہ کے اس جواب کے بارے میں فرماتے ہیں کہ خدانخواستہ اگر حضرت عائشہ رسول اللہ ﷺ کے ارشاد کے جواب میں نعم (جی ہاں) فرما دیتیں تو معاملہ اتنا نازک تھا کہ حضرت عائشہ کا یہ جواب کفر شمار ہوتا مگر حضرت عائشہ اپنی فراست اور ذہانت سے صورت حال سمجھ گئیں اس لئے جواب انہوں نے اس پیرایہ سے دیا کہ اس کی پریشانی و حیرانی کا عذر بیان کیا پھر رسول اللہ ﷺ نے حضرت عائشہ کے پاس سے اٹھ آنے کا عذر بیان کیا کہ شعبان کی پندرہویں شب کو اللہ جل شانہ آسمان دنیا پر نزول جلال فرماتا ہے یعنی اس کی رحمت کاملہ کا فیضان اس بیکراں طور پر ہوتا ہے۔ کہ قبیلہ بنو قلب کے ریوڑ کے جتنے بال ہیں اس سے بھی زیادہ لوگوں کے گناہ بخش دئیے جاتے ہیں۔ لہٰذا یہ وقت چونکہ برکات ربانی اور تجلیات رحمانی کے اترنے کا تھا اس لئے میں نے چاہا کہ ایسے بابرکت اور مقدس وقت میں اپنی امت کے لوگوں کلئے بخشش کی دعا کروں چناچہ میں جنت البیقع میں پہنچ کر اپنے پروردگار کی مناجات اور اس سے دعا مانگنے میں مشغول ہوگیا۔ یہ حدیث ضعیف ہے جیسا کہ آخر روایت میں حضرت امام ترمذی کے قول سے معلوم ہوا۔ لیکن جیسا کہ پہلے بھی کئی جگہ بتایا جا چکا ہے کہ فضائل اعمال کے سلسلہ میں ضعیف احادیث پر عمل کرنا بالا تفاق جائز ہے۔ یہ حدیث اگرچہ اس باب سے کوئی مناسبت نہیں رکھتی لیکن معنوی طور پر اس حدیث کو باب سے مناسبت یہ ہے کہ شعبان کی پندرہویں شب بھی اس فضیلت و برکت کی زیادتی کی بناء پر قیام رمضان کے مقدمہ کی مانند ہے۔ وا اللہ اعلم۔

1273Mishkaat-al-Masabih

نفل نماز گھر میں پڑھنے کی فضیلت

وَعَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ صَلَاۃُ الْمَرْءِ فِی بَیْتِہٖ اَفْضَلُ مِنْ صَلَا تِہٖ فِیْ مَسْجِدِیْ ھٰذَا اِلَّا الْمَکْتُوْبَۃَ۔ (رواہ ابوداؤد و الترمذی)

اور حضرت زید بن ثابت ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا آدمی کی اپنے گھر میں پڑھی ہوئی نماز اس نماز سے بہتر ہے جو میری مسجد (یعنی مسجد نبوی) میں پڑھی جائے علاوہ فرض کے (کہ فرض نماز مسجد میں ہی پڑھنی بہتر ہے)۔ (ابوداؤد، جامع ترمذی ) تشریح باوجود یہ کہ مسجد نبوی میں ایک نماز کا ثواب ہزار نماز کے ثواب کے برابر ہوتا ہے لیکن نفل نمازوں کو گھروں میں ہی پڑھنا مسجد نبوی میں نفل نماز پڑھنے سے افضل قرار دیا گیا ہے کیونکہ گھروں میں پڑھی گئی نماز ریا و نمائش کے جذبے سے بالکل پاک و صاف ہوتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد اس وقت کا ہے جب کہ آپ ﷺ نے رمضان میں چند شب کا قیام ترک کردیا تھا اور اس کا عذر بیان کرتے ہوئے گھروں میں نماز پڑھنے کی فضیلت بیان کی اور پھر فرمایا کہ جاؤ اپنے گھرو میں نماز پڑھو! نماز تراویح گھر میں پڑھنا افضل ہے یا مسجد میں اس حدیث سے استنباط کرتے ہوئے حضرت امام مالک، حضرت امام ابویوسف اور بعض شوافع نے یہ کہا ہے کہ نماز تراویح کے سلسلے میں افضل یہ ہے کہ یہ نماز گھر میں تنہا پڑھی جائے جہاں تک رسول اللہ ﷺ کے عمل کا سوال ہے کہ آپ نے نماز تراویح مسجد میں پڑھی ہے تو اس بارے میں ان حضرات کا کہنا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مسجد میں نماز تراویح بیان جواز کے خاطر پڑھی تھی۔ مزید یہ کہ آپ ﷺ معتکف تھے۔ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ، حضرت امام شافعی، شوافع علماء کی اکثریت اور بعض مالکیہ حضرات کا متفقہ طور پر مسلک ہے کہ نماز تراویح کا مسجد میں پڑھنا ہی افضل ہے جیسا کہ امیر المومنین حضرت عمر فاروق ؓ اور اس کے بعد کے دوسرے صحابہ کرام نے اس نماز کو مسجد ہی میں پڑھنا مقرر کیا اور پھر اسی پر تمام مسلمانوں کا ہمیشہ عمل رہا، کیونکہ نماز تراویح شعار دین ہے۔ اور نماز عیدین کے مشابہ ہے۔ فقہ کی کتابوں میں اس مسئلے میں مختار اور بہتر طریقہ یہ بتایا گیا ہے کہ اگر کوئی ایسا آدمی ہو جو مسلمانوں کی پیشوائی و رہبری کے مرتبے پر فائز ہو اور اس کی وجہ سے جماعت میں کثرت ہوتی ہو تو اسے چاہیے کہ وہ نماز تراویح مسجد میں پڑھے اور اگر ایسا نہیں ہے تو پھر جائز ہے کہ گھر ہی میں پڑھ لی جائے

1274Mishkaat-al-Masabih

حضرت عمر کا نماز تراویح کے لئے جماعت مقرر کرنا

عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ عَبْدِنِ الْقَارِیِّص قَالَ خَرَجْتُ مَعَ عُمَرَبْنِ الْخَطَّابِ ص لَےْلَۃً اِلَی الْمَسْجِدِ فَاِذَ النَّاسُ اَوْزَاعٌ مُّتَفَرِّقُوْنَ ےُصَلِّی الرَّجُلُ لِنَفْسِہٖ وَےُصَلِّی الرَّجُلُ فَےُصَلِّی بِصَلَوٰتِہِ الرَّھْطُ فَقَالَ عُمَرُ ص اِنِّیْ لَوْ جَمَعْتُ ھٰؤُلَۤاءِ عَلٰی قَارِئٍ وَّاحِدٍ لَّکَانَ اَمْثَلَ ثُمَّ عَزَمَ فَجَمَعَھُمْ عَلٰی اُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ ص قَالَ ثُمَّ خَرَجْتُ مَعَہُ لَےْلَۃً اُخْرٰی وَالنَّاسُ ےُصَلُّوْنَ بِصَلٰوۃِ قَارِئِھِمْ قَالَ عُمَرص ُ نِعْمَتِ الْبِدْعَۃُ ھٰذِہٖ وَالَّتِیْ تَنَامُوْنَ عَنْھَا اَفْضَلُ مِنَ الَّتِیْ تَقُوْمُوْنَ ےُرِےْدُ اٰٰخِرُ اللَّےْلِ وَکَانَ النَّاسُ ےَقُوْمُوْنَ اَوَّلَہُ۔(صحیح البخاری)

حضرت عبدالرحمن ابن عبدالقاری فرماتے ہیں کہ (ایک مرتبہ رمضان کی) رات کو میں حضرت عمر فاروق ؓ کی ہمراہ مسجد میں گیا وہاں ہم نے کیا دیکھا کہ لوگ متفرق اور بکھرے ہوئے تھے (یعنی کوئی تو عشاء کی نماز کے بعد نفل نماز تنہا پڑھ رہا تھا اور کوئی اس طرح پڑھ رہا تھا کہ چند آدمی اور بھی اس کے ساتھ تھے (گویا کچھ لوگ تو الگ الگ تراویح کی نماز پڑھ رہے تھے اور کچھ لوگ جماعت کے ساتھ پڑھ رہے تھے یہ صورت حال دیکھ کر حضرت عمر فاروق ؓ نے فرمایا اگر میں ان لوگوں کو ایک قاری کے پیچھے جمع کر دوں تو بہتر ہوگا چناچہ انہوں نے اس کا ارادہ کرلیا اور سب لوگوں کو حضرت ابی بن کعب کے پیچھے جمع کردیا (یعنی انہیں نماز تراویح کے لئے لوگوں کا امام مقرر کردیا) حضرت عبدالرحمن فرماتے ہیں کہ (پھر اس کے بعد) میں ایک رات حضرت عمر کے ہمراہ مسجد میں گیا، وہاں سب لوگ اپنے امام یعنی حضرت ابی ابن کعب کے ہمراہ نماز پڑھ رہے تھے (یہ دیکھ کر) حضرت عمر نے فرمایا کہ اچھی بدعت ہے اور (تراویح کی) اس وقت کی نماز جب کہ تم سوتے رہتے ہو اس وقت کی نماز سے بہتر ہے اس سے حضرت عمر ؓ کی مراد آخری رات تھی (یعنی حضرت عمر کے اس ارشاد کا یہ مطلب تھا کہ تراویح کی نماز رات کے آخری حصہ میں پڑھنا رات کے اول وقت پڑھنے سے بہتر ہے کیونکہ) اس وقت لوگ تراویح کی نماز اول وقت پڑھ لیا کرتے تھے۔ (صحیح البخاری ) تشریح نعمت البدعۃ (یہ اچھی بدعت ہے) کا مطلب یہ ہے کہ یہ جماعت کا مقرر ہونا اچھی بدعت ہے ہے کہ اصل جماعت گویا حضرت عمر ؓ نے تقرر جماعت کو اچھی بدعت کہا نہ کہ اچھی بدعت سے ان کی مراد اصل جماعت تھی کیونکہ جماعت تو رسول اللہ ﷺ کے عمل سے ثابت ہوچکی ہے کہ آپ ﷺ نے کئی مرتبہ تراویح کی نماز جماعت سے پڑھی جیسا کہ پچھلی حدیثوں میں گذر چکا ہے ویسے اگر حقیقت پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوگا کہ یہ تقرر جماعت بھی اچھی بدعت سے آگے بڑھ کر سنت کے درجے میں آجاتا ہے کیونکہ خلفائے راشدین کے قائم کئے ہوئے طریقے بھی سنت ہیں۔ بہر حال حاصل یہ ہے کہ یہاں بدعت کے لغوی معنی کا اعتبار ہے نہ کہ اس معنی کا جو فقہا کی اصطلاح میں ہوتا ہے

1275Mishkaat-al-Masabih

تراویح کی رکعتوں کی تعداد

وَعَنِ السَّائِبِ بْنِ یَزِیْدَ قَالَ اَمَرَ عُمَرُ اُبَیَّ بْنَ کَعْبٍ وَتَمِیْمًا الدَّارِیَّ اَنْ یَّقُوْمَا لِلنَّاسِ فِیْ رَمَضَانَ بِاِحْدیٰ عَشْرَۃَ رَکْعَۃً فَکَانَ الْقَارِیُّ یَقْرَأُبِالْمِیِئْنَ حَتّٰی کُنَّا نَعْتَمِدُ عَلَی الْعَصَاءِ مِنْ طُوْلِ الْقِیَامِ فَمَا کُنَّا نَنْصَرِفُ اِلَّا فِی فُرُوْعِ الْفَجْرِ۔( رواہ مالک)

حضرت سائب ابن یزید فرماتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق ؓ نے حضرت ابی بن کعب اور حضرت تمیم داری کو حکم دیا کہ وہ رمضان (کی راتوں) میں لوگوں کو (تراویح) کی گیارہ رکعت نماز پڑھائیں اور (اس وقت) امام (تراویح) میں وہ سورتیں پڑھا کرتا تھا جن میں سے ہر ایک میں ایک سو سے زیادہ آیتیں ہیں، چناچہ قیام کے طویل ہونے کی وجہ سے ہم اپنے عصاء کا سہارا لے کر کھڑے ہوتے تھے اور فجر کے قریب نماز سے فارغ ہوتے تھے۔ (مالک) تشریح حضرت ابی بن کعب اور حضرت تمیم داری دونوں کو امامت کے حکم کا مطلب یہ تھا کہ کبھی وہ امام بنیں اور کبھی وہ، لہٰذا اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ حضرت عمر ؓ نے دونوں کو باری باری نماز پڑھانے کا اس طرح حکم دیا ہو کہ کچھ رکعتیں حضرت ابی بن کعب پڑھائیں اور کچھ رکعتیں تمیم داری پڑھائیں اور یہ احتمال بھی ہے کہ دونوں کو الگ الگ راتوں میں امامت کا حکم دیا ہو بایں طور کہ کچھ راتوں میں ایک امامت کرے اور کچھ راتوں میں دوسرا۔ اس حدیث سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ تراویح کی گیارہ ہی رکعتیں ہیں جیسا کہ حضرت عمر ؓ نے حکم دیا، حالانکہ علماء لکھتے ہیں کہ یہ بات پایہ ثبوت کو صحت کے ساتھ پہنچ چکی ہے کہ حضرت عمر فاروق ؓ کے عہد خلافت میں تراویح کی بیس رکعتیں پڑھی جاتی تھی لہٰذا اس حدیث کے بارے میں یہی کہا جائے گا کہ حضرت عمر ؓ کبھی تو بیس رکعتیں پڑھتے ہونگے اور کبھی گیارہ رکعتوں پر ہی اکتفا کرتے ہوں گے۔ یا یہ کہ رسول اللہ ﷺ سے چونکہ تراویح کی گیارہ رکعتیں پڑھنی ثابت ہوئی ہیں اس لئے رسول اللہ ﷺ کے عمل مبارک سے مشابہت کے قصد سے حضرت عمر ؓ نے بعض راتوں میں گیارہ رکعتیں پڑھنے کا حکم دیا پھر اس کے بعد تراویح کی بیس رکعتیں ہی مستقل طور پر مقرر کی گئیں جیسا کہ رسول اللہ ﷺ سے بھی ایک روایت میں تیس رکعتیں پڑھنی منقول ہوئی ہیں جن میں تین رکعتیں وتر کی شامل ہیں۔ نفل نماز میں سہارا لینا جائز ہے حدیث کے الفاظ کنا نعتمد علی العصاء کا مطلب یہ ہے کہ اس وقت تراویح میں اتنی طویل قرأت کی جاتی تھی کہ ہم لوگ قیام میں کھڑے کھڑے تھک جاتے تھے جس کی وجہ سے اپنے اعصاء سے ٹیک لگا کر کھڑے ہونے پر ہم لوگ مجبور ہوتے تھے چناچہ اس سلسلے میں مسئلہ یہ ہے کہ نفل نمازوں میں یوں تو عام طور پر بھی لیکن خاص طور پر ضعف کی حالت میں ٹیک لگانا یا کسی چیز کا سہار لے لینا جائز ہے۔

1276Mishkaat-al-Masabih

تراویح کی رکعتوں کی تعداد

وَعَنِ الْاَعْرَجِ قَالَ مَا اَدْرَکْنَا النَّاسَ اِلَّا وَھُمْ یَلْعَنُوْنَ الْکَفَرَۃَ فِیْ رَمَضَانَ قَالَ وَکَانَ الْقَارِئُ یَقْرَأُ سُوْرَۃَ بَقْرَۃَ فِیْ ثَمَانِیِّ رَکْعَاتٍ فَاِذَا قَامَ بِھَافِیْ ثِنْتَی عَشَرَۃَ رَکْعَۃً رَأَی النَّاسُ اَنَّہ، قَدْ خَفَّفَ۔ (رواہ مالک)

اور حضرت اعرج (تابعی) فرماتے ہیں کہ ہم نے ہمیشہ لوگوں کو دیکھا کہ وہ رمضان (کے روزوں) میں کفار پر لعنت بھیجا کرتے تھے اور (اس زمانے میں) قاری (یعنی نماز تراویح کا امام) سورت بقرہ کو آٹھ رکعتوں میں پڑھا کرتا تھا اور اگر (کبھی) سورت بقرہ کو بارہ رکعتوں میں پڑھتا تو لوگ سمجھتے کہ نماز ہلکی پڑھی گئی ہے۔ (مالک) تشریح گو حدیث سے بصراحت یہ معلوم نہیں ہوتا کہ کفار پر لعنت پورے رمضان کے وتروں کے ساتھ مخصوص تھا۔ اس طرح تمام حدیثوں میں تطبیق پیدا ہوجائے گی چناچہ اس مفہوم کو اختیار کرنے کے بعد یہ حدیث حضرت عمر کی اس حدیث کے منافی نہیں ہوگی جس سے ثابت ہوچکا ہے کہ جب رمضان کا نصف حصہ گذ رجائے تو وتروں میں کفار پر لعنت بھیجنا سنت ہے۔ کفار پر لعنت بھیجنے کا سبب یہ تھا کہ جب کفار نے اس بابرکت اور مقدس و باعظمت مہینے کی تعظیم نہ کی جس کی عظمت و بزرگی خودباری تعالیٰ عزاسمہ نے بیان فرمائی ہے اور سر چشمہ ہدایت و فیضان کلام اللہ سے ذرہ برابر بھی ہدایت حاصل نہیں کی جو اسی باعظمت مہینے میں نازل ہوا ہے تو وہ اس بات کے مستحق ہوئے کہ ان پر لعنت بھیجی جائے۔ نماز تراویح کی رکعتوں کی تعداد کے بارے میں ابھی پیچھے ذکر کیا جا چکا ہے ایک مرتبہ پھر سمجھ لیجئے کہ رسول اللہ ﷺ نے نماز تراویح کی رکعتوں کی کوئی تعداد متعین نہیں فرمائی تھی بلکہ اس سلسلے میں آپ ﷺ کا عمل مختلف رہا ہے۔ آپ ﷺ سے آٹھ رکعتیں بھی مسنون ہیں اور یہ بھی آتا ہے کہ آپ ﷺ نے گیارہ رکعتیں پڑھی ہیں۔ اسی طرح تیرہ اور بیس رکعتیں بھی آپ ﷺ سے پڑھنی منقول ہیں مگر حضرت عمر ؓ نے اپنے دور خلافت میں تراویح کی بیس رکعتیں متعین فرما دیں اس کے بعد تمام صحابہ کا اسی پر عمل رہا حضرت عثمان اور حضرت عملی ؓ نے بھی اپنے اپنے زمانہ خلافت میں اس کا انتظام رکھا۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ میری سنت اور میرے خلفاء راشدین کی سنت اپنے اوپر لازم قرار دو، اسے اپنے دانتوں سے پکڑو لہٰذا اگر کوئی آدمی رسول اللہ ﷺ کے اس حکم کی موجودگی میں تراویح کی بیس رکعتوں کا اس لئے قائل نہیں ہوتا کہ ان کا ثبوت قطعی رسول اللہ ﷺ سے نہیں ہے تو اس کے بارے میں سوائے اس کے اور کیا کہا جاسکتا ہے۔ کہ وہ منشاء نبوت اور حقیقت سنت کی صریح خلاف ورزی کر رہا ہے۔

1277Mishkaat-al-Masabih

نماز تراویح کا انتہائی وقت

وَعَنْ عَبْدِاﷲِ ابْنِ اَبِیْ بَکْرٍ قَالَ سَمِعْتُ اُبَیًّا یَقُوْلُ کُنَّا نَنْصَرِفُ فِیْ رَمَضَانَ مِنَ الْقِیَامِ فَنَسْتَعْجِلُ الْخَدِمَ بِالطَّعَامِ مَخَافَۃَ فَوْتِ السُّحُوْرِوَفِیْ اُخْرٰی مَخَافَۃَ الْفَجْرِ۔ (رواہ مالک)

اور حضرت عبداللہ ابن ابی بکر فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابی کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ہم رمضان المبارک میں جب قیام (یعنی نماز تراویح) سے فارغ ہوتے تھے تو خادموں سے اس خوف سے کہ کہیں سحری کا وقت ختم نہ ہوجائے جلد کھانے کے لئے کہتے تھے ایک دوسری روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ فجر ہوجانے کے خوف سے (ہم خادموں کو جلد کھانے کے لئے کہتے تھے) (مالک)

1278Mishkaat-al-Masabih

پندرہویں شعبان کی شب میں بنی آدم کی پیدائش و موت لکھی جاتی ہے

وَعَنْ عَائِشَۃَ اَنَّ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ ھَلْ تَدْرِیْنَ مَافِی ھٰذِہِ اللَّیْلَۃِ یَعْنِی لَیْلَۃَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ قَالَتْ مَا فِیْھَا یَا رَسُوْلَ اﷲِ فَقَالَ فِیْھَا اَنْ یُکْتَبَ کُلُّ مَوْلُوْدِ بَنِی اٰدَمَ فِیْ ھٰذِہِ السّنَۃِ وَ فِیْھَا اَنْ یُکْتَبَ کُلُّ ھَالِکٍ مِنْ بَنِی اٰدَمَ فِیْ ھٰذِہِ السَنَۃِ وَفَیْھَا تُرْفَعُ اَعْمَالُھُمْ وَ فِیْھَا تُنَزِّلُّ اَرْزَاقُھُمْ فَقَالَتْ یَا رَسُوْلَ اﷲِ مَا مِنْ اَحَدٍیَدْخُلُ الْجَنَّۃَ اِلَّا بِرَحْمَۃِ اﷲِ تَعَالٰی فَقَالَ مَا مِنْ اَحَدٍ یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ اِلَّا بِرَحْمَۃِ اﷲِ تَعَالٰی ثَلَاثَا قُلْتُ وَلَا اَنْتَ یَا رَسُوْلَ اﷲِ فَوَضَعَ یَدَہ، عَلٰی ھَامَتِہٖ فَقَالَ وَلَا اَنَّ اِلَّا اَنْ یَتَغَمَّدَنِیَ اﷲُ مِنْہُ بِرَحْمَتِہٖ یَقُوْلُھَا ثلَاَثَ مَرَّاتٍ رَوَاہُ الْبَیْھِقِیُّ فِی الدَّاعْوَتِ الْکَبِیْرِ۔

اور ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ راوی ہیں کہ سر تاج دو عالم ﷺ نے (مجھ سے) فرمایا کہ کیا تم جانتی ہو کہ اس شب میں یعنی پندرہویں شعبان کی شب میں کیا ہوتا ہے؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ (مجھے تو معلوم نہیں آپ ﷺ ہی بتائیے کہ) کیا ہوتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا بنی آدم کا ہر وہ آدمی جو اس سال پیدا ہونے والا ہوتا ہے اس رات کو لکھا جاتا ہے، بنی آدم کا ہر وہ آدمی جو اس سال مرنے والا ہوتا ہے اس رات میں لکھا جاتا ہے اس رات میں بندوں کے اعمال (اوپر) اٹھائے جاتے ہیں اور اسی رات میں بندوں کے رزق اترتے ہیں حضرت عائشہ نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ! کوئی آدمی بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت کے بغیر بہشت میں داخل نہیں ہوسکتا آپ نے یہ الفاظ تین مرتبہ فرمائے میں نے عرض کیا اور نہ آپ یا رسول اللہ ﷺ یعنی (آپ بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت کے بغیر جنت میں داخل نہیں ہونگے؟ ) رسول اللہ ﷺ نے اپنا دست مبارک اپنے سر مبارک پر رکھا اور فرمایا اور نہ میں! (یعنی میں بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت کے بغیر جنت میں داخل نہیں ہوں گا) مگر یہ کہ اللہ جل شانہ (اپنے فضل و کرم کے صدقہ) مجھے اپنی رحمت کے سائے میں لے لے یہ الفاظ بھی آپ ﷺ نے تین بار فرمائے (بیہقی نے یہ روایت دعوات کبیر میں نقل کی ہے)۔ تشریح دنیا میں جتنے بھی انسان پیدا ہونگے یا وفات پائیں گے ان سب کی پیدائش و موت کے بارے میں بہت پہلے ہی عمومی طور پر لوح محفوظ میں لکھ دیا گیا ہے مگر شعبان کی پندرہویں شب میں پھر دوبارہ ان لوگوں کی پیدائش اور موت کا وقت لکھ دیا جاتا ہے جو اس سال پیدا ہونے والے یا مرنے والے ہوتے ہیں۔ اعمال اٹھائے جاتے ہیں کا مطلب یہ ہے کہ اس سال بندے سے جو بھی نیک و صالح اعمال سرزد ہونے والے ہو نگے وہ اس رات میں لکھ دئیے جاتے ہیں جو ہر روز سرزد ہونے کے بعد بارگاہ رب العزت میں اٹھائے جائیں گے۔ رزق اترنے سے مراد رزق کا لکھا جانا ہے یعنی اس سال جس بندے کے حصہ میں جتنا رزق آئے گا اس کی تفصیل اس شب میں لکھی جاتی ہے۔ جیسا کہ ایک حدیث میں منقول ہے کہ اس شب میں موت اور رزق لکھے جاتے ہیں اور اس سال میں حج کرنے والے کا نام بھی اس شب میں لکھا جاتا ہے۔ جب حضرت عائشہ ؓ نے سنا کہ وہ اعمال صالحہ جو سال بھر میں بندے سے سرزد ہونے والے ہوتے ہیں کرنے سے پہلے ہی لکھ دئیے جاتے ہیں تو سمجھیں کہ جنت میں داخل ہونے کا دارومدار محض تقدیر اور اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم پر ہے، دخول جنت عمل پر موقوف نہیں ہے چناچہ انہوں نے فرمایا یا رسول اللہ مَا مِنْ اَحَدٍ یُدْخِلُ الخ اس کے جواب میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بیشک جنت میں داخل ہونا تو محض اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کے فضل و کرم ہی پر موقوف ہے وہ جسے چاہے اپنے فضل و کرم سے جنت میں داخل کرے اور جسے چاہے نہ داخل کرے۔ رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد قرآن کریم کی اس آیت ( وَتِلْكَ الْجَنَّةُ الَّتِيْ اُوْرِثْتُمُوْهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ 72) 43۔ الزخرف 72) یہ جنت وہ ہے جو تمہیں اس چیز کے بدلے میں دی گئی ہے جو تم کرتے تھے۔ (یعنی دنیا میں نیک اعمال کرتے تھے)۔ کے معارض نہیں ہے کیونکہ نیک اعمال تو جنت میں داخل ہونے کے ظاہری اسباب ہیں مگر دخول جنت کا حقیقی سبب تو اللہ جل شانہ کا فضل و کرم اور اس کی رحمت ہی ہے نہ کہ اعمال نیک پھر یہ کہ نیک اعمال بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت ہیں۔ اگر کسی بندے کے ساتھ اللہ کی توفیق شامل حال نہ ہو اور اس کے فضل و کرم اور اس کی رحمت کا سایہ اس پر نہ ہو تو وہ نیک اعمال کیسے کرسکتا ہے نیک و صالح اعمال تو بندہ تب ہی کرتا ہے جب اللہ تعالیٰ کی توفیق اور اس کی رحمت بندے کی رہنمائی کرتی ہے۔ لہٰذا اس طرح بھی یہی کہا جائے گا کہ جنت میں داخل ہونا تو محض پروردگار کی رحمت پر موقوف ہے۔ بعض علماء نے کہا ہے کہ جنت میں داخل ہونا تو محض پروردگار کی رحمت کے سبب ہے اور جنت میں درجات کا تفاوت اعمال کے تفاوت پر موقوف ہے یعنی بندہ جنت میں داخل تو اللہ تعالیٰ کی رحمت کی وجہ سے ہوگا ہاں اعمال کار فرمائی اس درجہ کی ہوگی جس بندہ کے نیک اعمال جس درجہ کے ہونگے جنت میں اسے اس کے مطابق درجہ ملے گا۔

1279Mishkaat-al-Masabih

شب برات میں کینہ توز اور مشرک، پروردگار کی عام بخشش سے محروم ہوتا ہے

وَعَنْ اَبِیْ مُوْسٰی الْاَشْعَرِیِّ عَنْ رَسُوْلِ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ اِنَّ اﷲَ تَعَالٰی لَیَطَّلِعُ فِی لَیْلَۃِ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ فَیَغْفِرُ لِجَمِیْعِ خَلْقِہٖ اِلَّالِمُشْرِکٍ اَوْ مُشَاحِنٍ رَوَاہُ ابْنُ مَاجَۃَ وَرَوَاہُ اَحْمَدُ عَنْ عَبْدِاﷲِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ وَ فِیْ رَوَایَتِہٖ اِلَّا اثْنَیْنِ مُشَاحِنٌ وَقَاتِلُ نَفْسٍ۔

اور حضرت ابوموسی اشعری ؓ راوی ہیں کہ سر تاج دو عالم ﷺ نے فرمایا اللہ جل شانہ، نصف شعبان کی رات کو (یعنی شب برأت کو دنیاوالوں کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور مشرک اور کینہ رکھنے والے کے علاوہ اپنی تمام مخلوق کی بخشش فرماتا ہے (سنن ابن ماجہ)، امام احمد نے اس روایت کو عبداللہ ابن عمرو ابن العاص سے نقل کیا ہے اور ان کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ کینہ رکھنے والے (اور ناحق کسی کی) زندگی ختم کردینے والے (کے علاوہ اللہ تعالیٰ ) اس شب کو تمام مخلوق کی بخشش فرماتا ہے)۔ تشریح حدیث کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس بابرکت اور مقدس رات کو اپنی رحمت کاملہ کے ساتھ دنیا والوں پر متوجہ ہوتا ہے تو اس کا دریائے رحمت اتنے جوش میں ہوتا ہے کہ وہ اپنے حقوق کو بھی معاف کردیتا ہے اور اپنی بندگی و عبادت اور اطاعت و فرمانبرداری میں سرزد ہوئی کو تاہیوں اور لغزشوں سے درگزر فرما دیتا ہے۔ مگر کفر اور حقوق العباد (بندوں کے حق) کو معاف نہیں فرماتا اور ان کے معاملے میں اتنی مہلت دیتا ہے کہ اگر وہ توبہ کرلیں تو ان کی توبہ قبول کی جائے اور اگر توبہ نہ کریں اور اپنی بد اعتقادی اور بد عملی سے باز نہ آئیں تو انہیں عذاب میں مبتلا کیا جائے۔ کینہ توز (کپٹ رکھنے والے) سے مراد وہ آدمی ہے جو شرعی جہت سے نہیں بلکہ نفس امارہ کی فریب کاریوں میں مبتلا ہو کر خواہ مخواہ دوسروں کے لئے اپنے سینے میں بغض و حس کی آگ جلائے رکھتا ہے ایسا بد باطن آدمی بھی اس بابرکت رات کو پروردگار کی عام بخشش سے کوئی حصہ نہیں پاتا شب برأت کو بھی جو بدبخت رحمت الہٰی کے سائے میں نہیں ہوتا بایں طور کہ ان کی بخشش نہیں ہوتی ان کی تفصیل مختلف روایات میں مذکور ہے چناچہ یہاں تو کفر کرنے والے، کینہ توز اور ناحق کسی کی جان لینے والے کا ذکر کیا گیا ہے۔ بعض روایتوں میں اتنا اور منقول ہے کہ ناتا کاٹنے والے (یعنی رشتہ داری اور بھائی بندی کو منقطع کرنے اور کرانے والے، کو بھی اللہ تعالیٰ نہیں بخشتا، اسی طرح بعض روایتوں میں ازار لٹکانے والوں یعنی ٹخنوں سے نیچاپائجامہ، لنگی لٹکانے والوں، ماں باپ کی نافرمانی کرنے والوں، ہمیشہ شراب پینے والوں، بعض روایتوں میں زنا کرنے والوں، بعض روایتوں میں عشار یعنی ظلم کے ساتھ محصول لینے والوں، جادو کرنے والوں، کاہن، عریف یا غیب کی باتیں بتانے والوں اور صاحب عرطبہ یعنی باجا بجانے والوں کا ذکر کیا گیا ہے یعنی یہ وہ بدبخت لوگ ہیں جو اس مقدس شب میں پروردگار کی عام رحمت سے محروم رہتے ہیں۔

1280Mishkaat-al-Masabih

پندرہویں شعبان کے روزے اور شب برات کی عبادت کا حکم

وَعَنْ عَلِیٍّ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِذَا کَانَتْ لَیْلَۃُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ فَقُوْمُوْا لَیْلَھَا وَصُوْمُوْا یَوْمَھَا فَاِنَّ اﷲَ تَعَالٰی یَنْزِلُ فِیْھَا لِغُرُوْبِ الشَّمْسِ اِلَی السَّمَاءِ الدُّنْیَا فَیَقُوْلُ الَاَ مِنْ مُسْتَغْفِرٍ فَاَغْفِرُ لَہ، اَلَا مُسْتَرْزِقٍ فَاَرْزُقَہ، الَاَ مُبْتَلًی فَاُعَا فِیَہُ اَلاَ کَذَا الَاَ کَذَا حَتّٰی یَطُلُعُ الْفَجْرُ۔ (رواہ ابن ماجۃ)

اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ جب نصف شعبان کی رات ہو (یعنی شب برات) تو اس رات کو نماز پڑھو اور اس کے دن میں (یعنی پندرہویں کو) روزہ رکھو، کیونکہ اللہ جل شانہ، اس رات کو آفتاب چھپنے کے وقت آسمان دنیا (یعنی نیچے کے آسمان) پر نزول فرماتا ہے (یعنی اپنی رحمت عام کے ساتھ متوجہ ہوتا ہے) اور (دنیا والوں سے) فرماتا ہے کہ آگاہ! ہے کوئی بخشش چاہنے والا کہ میں اسے بخشوں؟ آگاہ! ہے کوئی رزق مانگنے والا کہ میں اسے رزق دوں؟ آگاہ! ہے کوئی گرفتار مصیبت کہ میں اسے عافیت بخشوں؟ آگاہ! ہے کوئی ایسا اور ایسا (یعنی اسی طرح اللہ تعالیٰ ہر ضرورت اور ہر تکلیف کا نام لے کر اپنے بندوں کو پکارتا رہتا ہے مثلاً فرماتا ہے مثلاً کوئی مانگنے والا ہے کہ میں عطا کروں؟ ہے کوئی غمگین کہ میں اسے خوشی و مسرت کے خزانے بخشوں؟ وغیرہ وغیرہ یہاں تک کہ فجر طلوع ہوجاتی ہے۔ (سنن ابن ماجہ) تشریح شب برأت کی عظمتوں اور فضیلتوں کا کیا ٹھکانہ؟ یہی وہ مقدس شب ہے کہ پروردگار عالم اپنی رحمت کاملہ اور رحمت عامہ کے ساتھ اہل دنیا کی طرف متوجہ ہوتا ہے دنیا والوں کو اپنی رحمت کی طرف لاتا ہے، ان کے دامن میں رحمت و بخشش اور عطاء کے خزانے بھرتا ہے۔ خوشخبری ہو ان نفوس قدسیہ کو اور ان خوش بختوں کو جو اس مقدس شب میں اپنے پروردگار کی رحمت کا سایہ ڈھونڈھتے ہیں عبادت و بندگی کرتے ہیں اپنے مولیٰ کی بارگاہ میں اپنی ضرورتوں اور حاجتوں کی درخواست پیش کرتے ہیں اور مولیٰ ان کی دخواستوں کو اپنی رحمت کاملہ کے صدقے قبول فرماتا ہے۔ واحسرتا! ان حرماں نصیبوں پر، جو اس بابرکت و باعظمت شب کی تقدیس کا استقبال لہو و لعب سے کرتے ہیں، آتش بازی جیسے قبیح فعل میں مبتلا ہو کر اپنی نیک بختی وسعادت کو بھسم کرتے ہیں، کھیل کود اور حلوے مانڈے کے چکر میں پڑ کر رحمت الٰہی سے بعد اختیار کرتے ہیں۔ ا اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم شب برأت کی عظمت و فضیلت کا احساس کریں۔ اس رات کی تقدیس کا احترام کریں اور عبادت و بندگی کا مخلصا نہ نذرانہ پروردگار کی بارگاہ میں پیش کر کے اس کی رحمت عامہ سے اپنے دین و دنیا کی سعادتوں اور کامرانیوں کو حاصل کریں اکثر صحابہ مثلاً حضرت عمر فاروق ؓ اور حضرت عبداللہ ابن مسعود وغیرھما سے منقول ہے کہ وہ اس رات کو یہ دعا بطور خاص پڑھا کرتے تھے اَللّٰھُمَّ اِنْ کُنْتَ کَتَبْنَا اَشْقِیَاء فَاَمْحُہ، وَاکْتُبْنَا سَعداء وَاِنْ کُنْتَ کَتَبْنَا سَعْدَاء فَاثْبِتْنَا فَاِنَّکَ تَمْھُوْمَنْ تَشَاْءَ وَتُثْبِتْ عِنْدَکَ اُمُّ الْکِتَابُ۔ اے پروردگار! اگر تو نے (لوح محفوظ میں) ہمیں شقی لکھ رکھا ہے تو اسے مٹا دے اور ہمیں سعید و نیک بخت لکھ دے اور اگر تو نے (لوح محفوظ میں) ہمیں سعید و نیک بخت لکھ رکھا ہے تو اسے قائم رکھ، بیشک جسے تو چاہے مٹائے اور جسے چاہے قائم رکھے اور تیرے ہی پاس امر الکتاب (لوح محفوظ) ہے۔ پندرہویں شعبان کی شب میں اس دعا کا پڑھنا حدیث میں منقول ہے لیکن یہ حدیث قوی نہیں ہے اس دعا کے الفاظ ان کنت کتبنا اشقیاء میں کتابت سے مراد کتابت معلقہ ہے کہ اس میں تغیر و تبدل ممکن ہے یہاں کتابت محکمہ مراد نہیں ہے۔ کیونکہ لوح محفوظ میں آخری طور پر جو بات محکم لکھ دی گئی ہے اس میں تغیر و تبدل ممکن نہیں ہے۔ پندرہویں شعبان کی شب میں نماز الفیہ پڑھنے کی حقیقت۔ کتاب الآلی میں لکھا ہے کہ اس رات کو نماز الفیہ یعنی سو رکعتیں نفل نماز اس طرح پڑھی جائیں کہ ہر رکعت میں دس دس قل کی قرأت ہو جیسا کہ دیلمی وغیرہ نے روایت کیا ہے۔ لیکن یہ روایت موضوع ہے چناچہ اس سلسلے میں بعض رسائل میں لکھا ہے کہ علی بن ابراہیم نے فرمایا کہ یہ جو طریقہ رائج کیا گیا ہے کہ پندرہویں شعبان کی شب کو نماز الفیہ پڑھی جاتی ہے۔ (یعنی سو رکعتیں اس طرح پڑھتے ہیں کہ ہر رکعت میں دس دس قل کی قرأت ہوتی ہے اور اس کو جماعت سے ادا کرتے ہیں۔ پھر یہ کہ اس میں نماز جمعہ و عیدین سے بھی زیادہ اہتمام کرتے ہیں اس کے بارے میں نہ کوئی صحیح حدیث ہی ثابت ہے نہ کسی صحابی و تابعی کا کوئی مضبوط ارشاد ہی منقول ہے الاّ یہ کہ اس سلسلے میں ضعیف اور موضوع روایتیں ضرور نقل کی جاتی ہیں لہٰذا کوئی آدمی صاحب قوت القلوب اور صاحب اخبار وغیرھما کے منقولات سے اس سلسلے میں غلط فہمی میں مبتلا نہ ہوجائے (یعنی یہ نماز نہ پڑھی جائے کیونکہ) عوام اس نماز کی وجہ سے زیادہ فتنوں میں مبتلا ہوچکے ہیں، یہاں تک کہ اس نماز کی ادائیگی کے وقت روشنی و چراغاں کو جائے کیونکہ) عوام اس نماز کی وجہ سے زیادہ فتنوں میں مبتلا ہوچکے ہیں، یہاں تک کہ اس نماز کی ادائیگی کے وقت روشنی و چراغاں کو ضروری قرار دیدیا گیا تھا جس کی وجہ سے اکثر فسق وفجور کے کام صادر ہونے لگے۔ چنانچہ بہت سے اولیاء اللہ ان امور کی وجہ سے ڈرے کہ کہیں اللہ کا کوئی اور ادبار و عذاب نازل نہ ہوجائے چناچہ وہ اتنے زیادہ خوف زدہ اور پریشان ہوئے کہ وہ آبادیوں کو چھوڑ کر اور عبادت الٰہی کی آڑ میں ہونے والے فسق و فجور سے منہ موڑ کر جنگلوں میں چلے گئے اس نماز کی ابتدا کے بارے میں لکھتے ہیں کہ اول اول یہ نماز بیت المقدس میں ٤٤٨ ھ میں شروع ہوئی اور اس طریقے کے رائج ہونے کی وجہ یہ تھی کہ اس زمانے کے جاہل اور اقتدار طلب ائمہ مساجد نے اپنے جذبہ اقتدار اور جاہ طلبی کی تسکین کے لئے اور عوام کی زیادہ سے زیادہ تعداد کو اپنے اردگرد جمع کرنے کے لئے ڈھونگ رچایا چناچہ اس طرح انہوں نے بہت سے فائدے بھی حاصل کئے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے نیک و صالح ائمہ کو پیدا کیا، انہوں نے اس بدعت کی بیخ کنی میں کوئی دقیقہ نہیں چھوڑا۔ چناچہ اللہ کے ان نیک بندوں کی سعی و کوشش سے یہ طریقہ ختم ہوا یہاں تک کہ ٨٠٠ ھ کے اوائل میں مصر و شام کے شہروں میں یہ بدعت بالکل ہی ختم ہوگئی۔ ملا علی قاری (رح) مذکورہ بالا مضمون نقل کرنے کے بعد رقم طراز ہیں کہ۔ اس سلسلے میں میں یہ کہتا ہوں (اتنی بات تو طے ہے کہ نماز الفیہ کے سلسلہ میں حدیث ضعیف منقول ہے اور نفل اعمال کے سلسلے میں، ضعیف حدیث پر بھی عمل کرنا جائز ہے علماء نے اس نماز کے پڑھنے سے جو منع کیا ہے وہ اس لئے کہ اس کے ساتھ بہت زیادہ منکرات (مثلاً چراغاں وغیرہ) کا اجتماع ہوگیا تھا لہٰذا اگر کوئی آدمی تنہا اور مذکورہ بالا منکرات کے بغیر اس نماز کو پڑھنا تو جائز ہے پڑھ سکتا ہے اس نماز کے وقت چراغاں کی ابتدا اور اس کی وجہ کے بارے میں منقول ہے کہ اول اول چراغاں کا رواج قوم برام کہ میں ہوا۔ کیونکہ یہ قوم پہلے آتش پرست تھی جب یہ لوگ مسلمان ہوگئے تو چونکہ ان کے قلب کی گہرائیوں نے ایمان اور اسلام کو پوری طرح قبول نہیں کیا تھا اور ان کے دل میں اپنے قدیم مذہب کی کسی نہ کسی حیثیت محبت باقی تھی اس لئے انہوں نے ایک ایسی چیز کو اسلام میں داخل کیا جو اس وہم میں مبتلا کر دے کہ یہ سنت اور شعار دین میں سے ہے۔ یعنی اس نماز کے وقت چراغاں کرنے لگے جس سے دراصل ان کا مقصد آگ کی عبادت کرنا تھا کیونکہ وہ عام مسلمانوں کے ساتھ اس (چراغ کی شکل میں) آگ کی طرف رکوع و سجدے کرتے تھے۔ کسی بھی عمل کے وقت چراغاں کرنا مستحب نہیں ہے کسی دوسری ضرورت و حاجت کے وقت کسی بھی جگہ چراغاں کرنا شریعت میں مستحب نہیں ہے چناچہ بعض حاجی جو پڑھے لکھے نہیں ہوتے جبل عرفات مشعر حرام اور منیٰ میں چراغ وغیرہ جلاتے ہیں اس کی بھی کوئی حقیقت نہیں ہے بلکہ یہ اختراع محض ہے جس سے اجتناب ضروری ہے۔ تراویح کی ختم رات میں نمائشی اجتماع بدعت ہے علامہ طرطوسی کی تحقیق یہ ہے کہ جس رات میں تراویح ختم ہوتی ہے اس موقع پر (محض ختم میں شرکت کے لئے) عوام کا اجتماع یا منبر وغیرہ نصب (یا چراغاں) کرنا بدعت ہے۔ ملا علی قاری علامہ طرطوسی کی اس تحقیق کے بارے میں فرماتے ہیں۔ کہ اللہ تعالیٰ طرطوسی پر اپنی رحمت نازل فرمائے انہوں نے کیا (عمدہ) تحقیق کی ہے اور (بڑے تعجب کی بات یہ ہے) اس غلط طریقے کو اہل حرمین شریفین نے اختیار کیا ہوا ہے چناچہ وہاں جس رات کو تراویح ختم ہوتی ہے اس موقع پر مردوں، عورتوں، لڑکوں اور غلاموں کا اس قدر ( اتنے اہتمام کے ساتھ) اجتماع ہوتا ہے کہ نماز عیدین، نماز جمعہ اور نماز کسوف میں بھی اتنے زیادہ لوگ جمع نہیں ہوتے۔ اس اجتماع کے موقع پر بہت زیادہ نئے نئے منکرات اور غلط اور فاسد اعمال اور افعال کا صدور ہوتا ہے لوگ چراغوں کی طرف منہ کرتے ہیں اور بیت اللہ شریف کی طرف پیٹھ کرتے ہیں اور مطاف کے درمیان بالکل آتش پرستوں کی طرح اس اژدہام کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں کہ وہاں کی جگہ طواف کرنے والوں کے لئے تنگ اور پریشان کن ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے اس وقت طواف کرنے والے اللہ تعالیٰ کے ذکر میں مشغول رہنے والے نمازی اور قرآن کریم کی تلاوت کرنے والے بہت زیادہ تکلیف و پریشانی میں مبتلا ہوجاتے ہیں فَنَسْأَلُ ا الْعَفُوّ وَالْعَافِیَۃَ وَالْغُفْرَانَ وَالْرِّضْوَانَ وَا الْمُسْتَعَانُ۔

1281Mishkaat-al-Masabih

نماز ضحی کا بیان

ضحٰی مشتق ہے الضحو والضحوۃ سے جس کے معنی ہیں آفتاب کا بلند ہونا، دن کا چڑھنا، چاشت کا وقت، چناچہ آفتاب بلند ہونے کے بعد پڑھی جانے والی نماز کو نماز ضحی کہتے ہیں۔ ضحی کی دو نمازیں ہیں نماز اشراق اور نماز چاشت ضحی کی دو نمازیں ہیں ایک نماز کو اشراق کہتے ہیں اور دوسری نماز نماز چاشت کہلاتی ہے یعنی بقدر ایک یا دو نیزے تک آفتاب بلند ہونے کے بعد، جب کہ وقت مکروہ ختم ہوجاتا ہے اور نماز پڑھنے کا وقت شروع ہوجاتا ہے تو پہلے پہر تک ضحی کی جو نماز پر ھی جاتی ہے اسے اصطلاح میں نماز اشراق کہتے ہیں اور جب آفتاب خوب بلند ہوجائے، فضاء میں اچھی طرح گرمی پیدا ہوجائے اور دھوپ اتنی زیادہ پھیل جائے کہ دوسرا پہر شروع ہوجائے تو زوال سے پہلے پہلے ضحی کی نماز پڑھی جاتی ہے وہ اصطلاح میں نماز چاشت کہلاتی ہے عربی میں ان دونوں کو ضحوۃ صغری اور ضحوۃ کبری کہتے ہیں۔ نسائی نے ایک روایت نقل کی ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ جب آفتاب مشرق کی جانب ایسا ہوتا ہے جیسا کہ عصر کے وقت مغرب کی جانب ہوتا ہے تو رسول اللہ ﷺ دو رکعت نماز پڑھتے تھے۔ اور جب آفتاب مشرق کی جانب ایسا ہوتا جیسا کہ ظہر کے وقت مغرب کی جانب ہوتا ہے تو آپ ﷺ چار رکعت نماز پڑھتے۔ اسی حدیث سے معلوم ہوا کہ ضحی کی دو نمازیں ہیں۔ نما زاشراق کی کم از کم دو رکعتیں پڑھی جاتی ہیں اور زیادہ سے زیادہ چھ رکعتیں۔ اسی طرح نماز چاشت کی کم سے کم دو رکعتیں ہیں اور زیادہ سے زیادہ بارہ رکعتیں لیکن علماء کے نزدیک مختار چار رکعتیں ہی پڑھنا ہے کیونکہ جن احادیث سے رسول اللہ ﷺ کا چار رکعتیں پڑھنا ثابت ہے وہ احادیث زیادہ صحیح ہیں پھر یہ کہ زیادہ احادیث و آثار چار رکعتوں ہی کے بارے میں منقول ہیںَ نماز ضحی کی بہت زیادہ فضیلت منقول ہے یہ نماز اکثر علماء کے قول کے مطابق مستحب ہے یہ نماز اس نیت سے پڑھی جاتی ہے۔ نَوَیْتُ اَنْ اُصَلِّیَ اَرْبَعَ رَکَعَاتٍ صَلٰوۃِ الضُّحٰی سُنَّۃَ النَّبِیِّ صَلَّی اللہ عَلیْہِ وَسَلَّمَ۔ میں نے یہ ارادہ کیا کہ چار رکعت نماز ضحی جو رسول اللہ ﷺ کی سنت ہے پڑھوں۔ شیٰخ ولی الدین ابن عراقی فرماتے ہیں کہ صلوٰۃ ضحی کے بارے میں صحیح اور مشہور حدیثیں بہت زیادہ منقول ہیں یہاں تک کہ محمد ابن جریر طبرانی نے کہا ہے کہ اس بارے میں جو احادیث منقول ہیں وہ درجہ تو اتر معنوی کو پہنچی ہوئی ہیں۔ قاضی ابوبکر صدیق فرماتے ہیں کہ یہ نماز پچھلے انبیاء اور رسولوں کی نماز ہے۔ علامہ سیوطی نے دیلمی سے حضرت ابوہریرہ ؓ کی یہ حدیث نقل کی ہے کہ نماز ضحی حضرت داؤد (علیہ السلام) کی اکثر نماز ہے۔ ابن بخار نے حضرت ثوبان کی یہ حدیث نقل کی ہے کہ نماز ضحی وہ نماز ہے جسے حضرت نوح، حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ و آدم (علیہم السلام) ہمیشہ پڑھا کرتے تھے۔

1282Mishkaat-al-Masabih

نماز چاشت کی آٹھ رکعتیں

عَنْ اُمِّ ھَانِئٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا قَالَتْ اِنَّ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم دَخَلَ بَےْتَھَا ےَوْمَ فَتْحِ مَکَّۃَ فَاغْتَسَلَ وَصَلّٰی ثَمَانِیَ رَکَعَاتٍ فَلَمْ اَرَ صَلٰوۃً قَطُّ اَخَفَّ مِنْھَا غَےْرَ اَنَّہُ ےُتِمُّ الرُّکُوْعَ وَالسُّجُوْدَ وَقَالَتْ فِیْ رِوَاےَۃٍ اُخْرٰی وَذَالِکَ ضُحًی۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)

حضرت ام ہانی ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب فتح مکہ کے دن میرے مکان میں تشریف لائے تو (پہلے) آپ ﷺ نے غسل فرمایا اور اس کے بعد آٹھ رکعت نماز پڑھی میں نے اس سے پہلے حضور اکرم ﷺ کی اس سے ہلکی کوئی نماز نہیں دیکھی لیکن آپ رکوع و سجود پورا کرتے تھے۔ ایک دوسری روایت میں انہوں نے فرمایا کہ یہ نماز چاشت تھی۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم ) تشریح حضرت ام ہانی حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی بہن ہیں۔ ان کا نام فاختہ تھا یہ بڑی عظمت و فضیلت کی مالک صحابیہ ہیں مکہ میں رسول اللہ ﷺ کی زیادہ ترتبلیغی جدوجہد کا مرکز انہیں کا مکان تھا۔ چاشت کی نماز آپ ﷺ نے آٹھ رکعتیں یا تو دو سلام کے ساتھ یعنی چار چار رکعت کر کے پڑھی ہوں گی یا یہ بھی احتمال ہے کہ چار سلام کے ساتھ یعنی دو رکعت کر کے پڑھی ہوں بہر حال ہلکی نماز کا مطلب یہ ہے کہ اس وقت آپ ﷺ نے زیادہ طویل سورتوں کی قرأت نہیں فرمائی اسی طرح تسبیحات وغیرہ بھی زیادہ نہیں پڑھیں۔

1283Mishkaat-al-Masabih

نماز ضحی میں رسول اللہ ﷺ کی نماز کی رکعتوں کی تعداد

وَعَنْ مُّعَاذَۃَ رضی اللہ عنہا قَالَتْ سَاَلْتُ عَائِشَۃَ کَمْ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم ےُصَلِّیْ صَلٰوۃَ الضُّحیٰ قَالَتْ اَرْبَعَ رَکَعَاتٍ وَّےَزِےْدُ مَا شَآءَ اللّٰہُ۔(صحیح مسلم)

اور حضرت معاذہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں نے ام المومنین حضرت عائشہ ؓ سے پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ نماز ضحی کی کتنی رکعتیں پڑھتے تھے تو انہوں نے فرمایا کہ آپ چار رکعتیں پڑھتے تھے اور اس سے زیادہ بھی جس قدر اللہ چاہتا تھا پڑھتے تھے۔ (صحیح مسلم) تشریح حدیث کے آخری الفاظ و یزید ماشاء اللہ کے بارے میں علماء لکھتے ہیں کہ نماز ضحٰی کی آپ ﷺ زیادہ سے زیادہ بارہ رکعتیں پڑھتے تھے بارہ سے زیادہ کی تعداد کسی حدیث میں منقول نہیں ہے۔ یہ حدیث دونوں وقت کی نماز کو محتمل ہے یعنی ہوسکتا ہے کہ حدیث میں مذکورہ سوال و جواب کا تعلق نماز اشراق سے ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ نماز چاشت سے ہو۔ کتاب احبار میں لکھا ہے کہ بہتر یہ ہے کہ ان نمازوں میں سورت الشمس، سورت واللیل، سورت والضحی اور الم نشرح کی قرأت کی جائے۔

1284Mishkaat-al-Masabih

نماز ضحی کی فضیلت

عَنْ اَبِیْ ذَرِّص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم ےُصْبِحُ عَلٰی کُلِّ سُلَامٰی مِنْ اَحَدِکُمْ صَدَقَۃٌ فَکُلُّ تَسْبِےْحَۃٍ صَدَقَۃٌ وَّکُلُّ تَحْمِےْدَۃٍ صَدَقَۃٌ وَکُلُّ تَہْلِےْلَۃٍ صَدَقَۃٌ وَکُلُّ تَکْبِےْرَۃٍ صَدَقَۃٌ وَّاَمْرٌ بِالْمَعْرُوْفِ صَدَقَۃٌ وَّنَھْیٌ عَنِ الْمُنْکَرِ صَدَقَۃٌ وَّےُجْزِئُ مِنْ ذَالِکَ رَکْعَتَانِ ےَرْکَعُھُمَا مِنَ الضُّحٰی۔(صحیح مسلم)

اور حضرت ابوذر ؓ راوی ہیں کہ سر تاج عالم ﷺ نے فرمایا صبح ہوتے ہی تمہاری ہر ہڈی پر صدقہ لازم ہوجاتا ہے لہٰذا ہر تسبیح یعنی سبحان اللہ کہنا صدقہ ہے ہر تحمید یعنی الحمد اللہ کہنا صدقہ ہے۔ ہر تحلیل یعنی لا الہ الا اللہ کہنا صدقہ ہے۔ نیکی کا حکم کرنا صدقہ ہے، برائی سے روکنا صدقہ ہے اور ان سب کے بدلے میں نماز ضحی کی دو رکعتیں پڑھ لینا ہی کافی ہوتا ہے۔ تشریح مطلب یہ ہے کہ جب انسان صبح کرتا ہے اور اس کی ایک ایک ہڈی اور ایک ایک جوڑ آفت و بلا سے صحیح وسالم ہوتا ہے ہے تو اس کی وجہ سے وہ کاروبار اور دنیا کی دیگر مصروفیات میں مشغول رہنے کے قابل رہتا ہے۔ لہذا اس عظیم نعمت پر ادائیگی شکر کے لئے ایک ایک ہڈی کے عوض اسے صدقہ دینا لازم ہوتا ہے اور یہ صدقہ چند کلمات ہیں جن کو پڑھنے سے ایک ایک ہڈی اور ایک ایک جوڑ کی طرف سے صدقہ ادا ہوجاتا ہے اور وہ کلمات بھی بھاری بھر کم نہیں ہیں، زیادہ طویل اور سخت نہیں ہیں بلکہ نہایت آسان اور بلا تکلف ادا ہونے والے ہیں یعنی سبحان اللہ، الحمد اللہ اور اللہ اکبر۔ ویجزی من زلک کا مطلب یہ ہے کہ ان کلمات کے کہنے کی بجائے اگر ضحی کی دو رکعتیں پڑھ لی جائیں تو شکرانہ ادا ہوجاتا ہے ان کلمات کے کہنے کی ضرورت باقی نہیں رہتی کیونکہ نماز تو پورے بدن اور تمام اعضاء جسمانی کا عمل ہے جس کے ذریعہ بدن کا ایک ایک عضو مصروف عبادت ہو کر اپنا اپنا شکرانہ کرتا ہے لہذا مناسب اور بہتر یہ ہے کہ اس نماز کو ہمیشہ پڑھنا چاہیے۔

1285Mishkaat-al-Masabih

نماز چاشت کا بہتر وقت

وَعَنْ زَےْدِ بْنِ اَرْقَمَص اَنَّہُ رَاٰی قَوْمًا ےُصَلُّوْنَ مِنَ الضُّحٰی فَقَالَ لَقَدْ عَلِمُوْااَنَّ الصَّلٰوۃَ فِیْ غَےْرِ ھٰذِہِ السَّاعَۃِ اَفْضَلُ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ صَلٰوۃُ الْاَوَّابِےْنَ حِےْنَ تَرْمَضُ الْفِصَالُ۔(صحیح مسلم)

اور حضرت زید ابن ارقم کے بارے میں منقول ہے کہ انہوں نے ایک جماعت کو ضحی کے وقت (چاشت کی) نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو فرمایا کہ یہ لوگ (احادیث کے ذریعے) جانتے ہیں کہ اس وقت کے علاوہ دوسرے وقت میں نماز پڑھنا بہتر ہے (یعنی اس وقت زیادہ۔ ثواب ملتا ہے چنانچہ) سرتاج دو عالم ﷺ نے فرمایا ہے کہ اللہ جل شانہ کی جانب کامل توجہ رکھنے والوں کی نماز کا وقت وہ ہے۔ جب کہ اونٹوں کے بچے (یعنی ان کے پیر) گرم ہونے لگیں۔ (صحیح مسلم) تشریح جب حضرت زید ؓ نے کچھ لوگوں کو دیکھا کہ انہوں نے نماز چاشت کے مختار اور بہتر وقت کا انتظار نہیں کیا بلکہ اول وقت ہی نماز پڑھنے لگے تو انہیں بہت تعجب ہوا اور ان کے بارے میں فرمایا کہ اگرچہ یہ لوگ رسول اللہ ﷺ کی حدیث سن چکے ہیں اور انہیں علم ہے کہ یہ وقت نماز چاشت کا افضل وقت نہیں ہے بلکہ افضل اور بہتر وقت تو اس کے بعد شروع ہوگا اس کے باوجود یہ لوگ اس وقت نماز نہ معلوم کیوں پڑھ رہے ہیں؟ چناچہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ارشاد کی روشنی میں بتایا کہ نماز چاشت کا بہتر اور افضل وقت وہ ہے جب کہ اونٹوں کے بچے گرم ہونے لگیں یعنی آفتاب بلند ہوجائے اور دھوپ اتنی پھیل جائے کہ گرمی کی شدت سے زمین گرم ہوجائے جس کی وجہ سے اونٹوں کے پیر جلنے لگیں اور دھوپ و گرمی میں اتنی دھوپ و گرمی میں اتنی شدت تقریبا ڈیڑھ پہر گذرنے پر آتی ہے۔ بہر حال اس حدیث سے صریح طور پر معلوم ہوگیا کہ نماز چاشت کا وقت یہ ہے کہ آفتاب خوب بلند ہوجائے، دھوپ اچھی طرح پھیل جائے اور ایک پہر ختم ہونے کے بعد دوسرا پہر شروع ہوجائے اس طرح اس نماز کا آخری وقت دوپہر یعنی زوال سے پہلے پہلے تک ہوگا۔ نماز چاشت کا مذکورہ وقت افضل اس لئے ہے کہ اس وقت عام طور پر طبیعت میں کسل و سستی پیدا ہوجاتی ہے اور جی یہی چاہتا ہے کہ آرام کیا جائے لہٰذا ایسے وقت میں آرام اور طبیعت کے تقاضے کو پس پشت ڈال کر وہی بند گان اللہ نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ جو بارگاہ رب العزت کی طرف کامل رجوع اور توجہ رکھتے ہیں۔

1286Mishkaat-al-Masabih

نماز چاشت کی برکت

وَعَنْ اَبِی الدَّرْدَاءِ وَاَبِی ذَرِّ قَالَا قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم عَنِ اﷲِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی اَنَّہ، قَالَ یَا ابْنَ اٰدَمَ اِرْکَعْ لِیْ اَرْبَعَ رَکْعَاتٍ مِنْ اَوَّلِ النَّھَارِ اَکْفِکَ اٰخِرَہ، رَوَاہ، التِّرْمِذِیُّ وَرَوَاہُ اَبُوْدَاؤدَ وَالدَّارِمِیُّ عَنْ نُعَیْمِ بْنِ ھَمَّازٍ الْغَطَفَانِیِّ وَاَحْمَدُ عَنْھُمْ۔

حضرت ابودرداء ؓ اور حضرت ابوذر ؓ (دونوں) روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ جل شانہ فرماتا ہے کہ اے ابن آدم! تو دن کے شروع کے حصے میں چار رکعت نماز خالص طور پر میرے لئے (یعنی جذبہء نمائش وریاء سے پاک ہو کر) پڑھ! میں تجھ کو اس دن کی شام تک کفایت کروں گا۔ (جامع ترمذی) ابوداؤد، ودارمی نے نعیم ابن ہمار غطفانی سے اور امام احمد نے ان سب سے یہ روایت نقل کی ہے۔ تشریح اللہ تعالیٰ کے ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ اے بندے! تو دن کے ابتدائی حصے میں محض میری رضا اور خوشنودی کی خاطر چار رکعت نماز پڑھ لیا کر جس کے بدلے میں دن کے آخر حصے یعنی شام تک تیری حاجتوں اور ضرورتوں کو پورا کرتا رہوں گا۔ اور تیرے دل میں جو کچھ برائی یعنی پریشانی اور تنگی ہے میں اسے ختم کروں گا گویا دن کے ابتدائی حصے میں میری عبادت کے لئے اپنا دل فارغ رکھ میں دن کے آخری حصے تک تیری حاجتوں اور ضرورتوں کو پورا کر کے تیرے دل کو اطمینان و فراغت بخشوں گا۔ َمنْ کاَنَ ِ کاَنَ ا لہَ ٰ (یعنی جو کوئی آدمی اللہ کا ہوجاتا ہے اللہ اس کا ہوجاتا ہے) دن کے شروع حصے میں چار رکعت نماز سے اشراق بھی مراد لی جاسکتی ہے اور نماز چاشت بھی مراد ہوسکتی ہے۔ وا اللہ اعلم