تراویح کا بیان

Mishkaat-al-Masabih · Chapter 13 · 38 hadiths · Page 2 of 2

1287Mishkaat-al-Masabih

نماز اشراق کی فضیلت

وَعَنْ بُرَیْدَۃَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم یَقُوْلُ فِی الْاِنْسَانِ ثَلَاثُ مِائَۃٍ وَسِتُّوْنَ مَفْصِلًا فَعَلَیْہِ اَنْ یَتَصَدَّقَ عَنْ کُلِّ مَفْصِلٍ مِنْہُ بِصَدَقَۃٍ قَالُوْ اوَ مَنْ یُطِیْقُ ذٰلِکَ یَا نَبِیَّ اﷲِ قَالَ النُّخَاعَۃُ فِی الْمَسْجِدِ تَدْفِنھَا وَالشَّئُ تُنْحِیَّہِ عَنِ الطَّرِیْقِ فَاِنْ لَمْ تَجِدْ فَرَکْعَتَا الضُّحٰی تُجْزِءُ کَ۔ (رواہ ابوداؤد)

اور حضرت بریدہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ انسان (کے جسم) میں تین سو ساٹھ بند (جوڑ) ہیں لہٰذا ہر انسان کے لئے لازم ہے کہ وہ اپنے جسم کے ہر جوڑ کے بدلے میں صدقہ دے صحابہ کرام نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ! کون اس کی طاقت رکھتا ہے؟ (کہ اپنے جسم کے ہر ہر جوڑ کے بدلے میں صدقہ دے) آپ ﷺ نے فرمایا مسجد میں پڑے ہوئے تھوک کو دفن کردینا (صدقہ ہی دینا ہے) راستے سے کسی (تکلیف دہ) چیز (مثلاً نجاست کا نٹے، پتھر) کو ہٹا دینا (بھی ایک صدقہ ہے) اور اگر تو (تین سو ساٹھ جوڑوں کی طرف سے صدقہ دینے والی کوئی چیز) نہ پاؤ تو ضحٰی ( یعنی اشراق) کی دو رکعتیں پڑھ لینا تمہارے لئے کافی ہے۔ (اس کے بعد کسی دوسرے صدقے کی ضرورت نہیں ہے)۔ (ابوداؤد) تشریح لازم سے مراد وجوب شرعی نہیں ہے کہ جس کو چھوڑنے والا گنہ گار ہوتا ہے بلکہ تاکید مراد ہے کیونکہ نہ تو ضحی کی دو رکعتوں کو خواہ وہ نماز اشراق ہو یا نماز چاشت کسی بھی امام اور عالم نے واجب کہا ہے اور نہ کسی کے نزدیک مذکورہ بالا دونوں صدقے ہی واجب ہیں۔ اگرچہ نہ صرف یہ کہ شریعت کی رو سے بلکہ عقلا بھی دیکھا جائے تو فیصلہ یہی کرنا پڑے گا کہ اللہ تعالیٰ کی اس عظیم نعمت پر اجمالی اور تفصیلی دونوں طریقوں سے شکر ادا کرنا ہر انسان پر واجب ہے۔

1288Mishkaat-al-Masabih

نماز اشراق کی فضیلت

وَعَنْ اَنَسَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ صَلَّی الضُّحٰی ثِنْتَی عَشْرَۃَ رَکْعَۃً بَنَی اﷲُ لَہ، قَصْرًا مِنْ ذَھَبٍ فِی الْجَنَّۃِ رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ وَ ابْنُ مَاجَۃَ وَقَالَ التِّرْمِذِیُّ ھٰذَا حَدِیْثٌ غَرِیْبٌ لَانَعْرِفُہُ اِلَّا مِنْ ھٰذَا الْوَجْہِ۔

اور حضرت انس ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے فرمایا جو آدمی ضحی کی بارہ رکعتیں پڑھتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت میں سونے کا محل بناتا ہے۔ (جامع ترمذی، سنن ابن ماجہ) اور امام ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث غریب ہے کیونکہ ہم بجز اسی سند کی (یعنی جو ترمذی نے اپنی کتاب میں نقل کی ہے) اور کسی سند سے اسے نہیں جانتے۔

1289Mishkaat-al-Masabih

نماز اشراق کی فضیلت

وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ اَنَسِ الْجُھَنِیِّ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ قَعَدَ فِیْ مُصَلَّاہُ حِیْنَ یَنْصَرِفُ مِنْ صَلَاۃِ الصُّبْحِ حَتّٰی یُسَبِّحَ رَکْعَتَی الضُّحٰی لَا یَقُوْلُ اِلَّاخَیْرًا غُفِرَلَہ، خَطَایَاہُ وَاِنْ کَانَتْ اَکْثَرَ مِنْ زَبَدِ الْبَحْرِ۔( رواہ ابوداؤد)

اور حضرت معاذ ابن انس جہنی ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو آدمی فجر کی نماز پڑھ کر اسی جگہ (برابر) بیٹھا رہے یہاں تک کہ (آفتاب طلوع اور بلند ہونے کے بعد) ضحی کی دو رکعتیں پڑھے اور ان دونوں یعنی فجر و نماز ضحی کے درمیان) نیک کلام کے علاوہ دوسری بات نہ کرے تو اس کے تمام گناہ بخش دئیے جاتے ہیں اگرچہ وہ دریا کے جھاگ سے زیادہ کیوں نہ ہوں۔ (ابوداؤد) تشریح حدیث کے پہلے جز من قعدالخ کے فائدے میں ملا علی قاری نے جو کچھ لکھا ہے اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہاں مراد یہ ہے کہ اگر کوئی آدمی فجر کی نماز پرھ کر ذکر و فکر میں مشغول اور نیک کاموں مثلاً علم کے سیکھنے سکھانے، وعظ و نصیحت اور بیت اللہ کے طواف میں مصروف رہے اور جب سورج طلوع ہو کر بلند ہوجاتا ہے تو خواہ گھر میں خواہ مسجد میں نماز ضحی کی دو رکعتیں پڑھ لے اور یہ کہ نماز فجر اور نماز ضحی کے درمیان سوائے نیک اور صالح کلام کے کوئی اور گفتگو و کلام نہ کرے تو اس کے صغیرہ گناہ بخش دیئے جاتے ہیں اور یہ بھی احتمال ہے کہ اللہ جل شانہ اپنے فضل و کرم کے صدقہ گناہ کبیرہ بھی بخش دے۔ لہٰذا ملا علی قاری کی اس تقریر سے یہ معلوم ہوا کہ ارشاد گرامی من قعد (جو آدمی بیٹھا رہے) بطور تمثیل کے فرمایا گیا ہے ورنہ تو یہاں ذکر اللہ اور نیک کاموں میں مشغول رہنامراد ہے۔ حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی (رح) اس حدیث کے فائدہ میں فرماتے ہیں کہ یہاں ضحی کی نماز سے اشراق کی نماز مراد ہے جب کہ دوسری احادیث میں ضحی سے اشراق اور چاشت دونوں نمازیں متحمل ہوتی ہیں اور بظاہر حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ ثواب اس آدمی کو ملتا ہے جو نماز فجر سے فارغ ہو کر اسی جگہ بیٹھا رہے جہاں اس نے نماز پڑھی ہے اور کوئی آدمی اس جگہ سے اٹھ کر خلوت میں جا کر بیٹھ گیا اور وہاں ذکر اللہ و عبادت میں مشغول رہا تو اسے مذکورہ ثواب نہیں ملے گا۔ اگرچہ بعض علما نے لکھا ہے کہ اگر پریشانی کا ڈر ہو یا یہ کہ ریا و نمائش کا وسوسہ پیدا ہوجانے کا خدشہ تو ایسی صورت میں خلوت میں جا کر عبادت و ذکر اللہ میں مشغولیت اختیار کی جائے علماء نے یہ بھی لکھا ہے کہ ایسے موقع پر قلبہ رخ بیٹھنے کو ضروری سمجھا جائے اور اگر نیند کا غلبہ ہونے لگے تو اسے دفع کیا جائے۔ شیخ الاسلام شہاب الدین سہروردی (رح) نے کہا ہے کہ ایسا عمل جس کی جزا دنیا ہی میں فی الوقت باطن کی نورانیت کی شکل میں حاصل ہوتی ہے یہی عمل ہے۔

1290Mishkaat-al-Masabih

نماز اشراق کی فضیلت

وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ حَافَظَ عَلٰی شُفْعَۃِ الضُّحٰی غُفِرَتْ لَہ، ذُنُوْبُہ، وَاِنْ کَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ۔ (رواہ احمد بن حنبل و الترمذی و ابن ماجۃ)

حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا جو آدمی ضحی کی دو رکعتوں پر محافظت کرتا ہے (یعنی ہمیشہ پڑھتا ہے) تو اس کے تمام (صغیرہ) گناہ بخش دیئے جائیں گے اگرچہ وہ دریا کے جھاگ کے برابر کیوں نہ ہوں۔ (احمد بن حنبل، جامع ترمذی، سنن ابن ماجہ)

1291Mishkaat-al-Masabih

حضرت عائشہ اور نماز ضحی

وَعَنْ عَآئِشَۃَ اَنَّھَا تُصَلِّی الضُّحٰی ثَمَانِیَ رَکَعَاتٍ ثُمَّ تَقُوْلُ لَوْ نُشِرَلِیْ اَبْوَایَ مَا تَرَکْتُھَا۔ (رواہ مالک)

اور ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کے بارے میں مروی ہے کہ وہ نماز ضحی کی آٹھ رکعتیں پڑھا کرتی تھیں فرماتیں کہ میرے لئے میرے ماں باپ بھی زندہ کر دئیے جائیں تو بھی میں اس نماز کو نہ چھوڑوں۔ (امام مالک) تشریح حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کا یہ ارشاد مبالغے کے لئے تعلیق بالمحال ہے یعنی اس کا مطلب یہ ہے کہ مجھے اس نماز کو پڑھ کر اتنی زیادہ لذت حاصل ہوتی ہے اور اتنا سرور ہوتا ہے کہ اگر میرے ماں باپ بھی زندہ ہوجائیں باوجود اس کے کہ ان کا زندہ ہونا محال ہے تو ان سے ملاقات کی خوشی اور مسرت بھی مجھے اس نماز سے نہیں روک سکتی۔ گویا حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے اس کے ذریعے لوگوں کو ترغیب دلائی ہے کہ اس نماز کو ہمیشہ باقاعدگی کے ساتھ پڑھا جائے۔

1292Mishkaat-al-Masabih

نماز ضحی کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کا معمول

وَعَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ قَالَ کَانَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم یُصَلِّی الضُّحٰی حَتّٰی نَقُوْلَ لَا یَدْعُھَا وَیَدَعُھَا حَتّٰی نَقُوْلَ لَا یُصَلِّیْھَا۔ (رواہ الترمذی)

اور حضرت ابوسعید ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ (جب) ضحی کی نماز پڑھتے تو ہم کہتے کہ اب آپ اس نماز کو چھوڑیں گے نہیں اور جب (کبھی) چھوڑتے تو ہم کہتے کہ اب آپ اس نماز کو نہیں پڑھیں گے۔ (جامع ترمذی ) تشریح جیسا کہ نفل اعمال کے سلسلے میں رسول اللہ ﷺ کی عادت شریفہ یہ تھی کہ آپ ﷺ کوئی بھی نفل عمل ہمیشہ نہیں کرتے تھے تاکہ اس التزام کی وجہ سے وہ عمل فرض نہ ہوجائے۔ اسی طرح ضحی کے بارے میں بھی آپ ﷺ کا یہی معمول تھا کہ آپ ﷺ امت کے حق میں انتہائی شفقت کا معاملہ فرماتے ہوئے، اس نماز کو کبھی کبھی ترک فرما دیتے تھے تاکہ التزام کے طور پر ہمیشہ اس نماز کو پڑھنے سے اس کی فرضیت کا حکم نازل نہ ہوجائے جس امت کے لوگ تنگی میں مبتلا ہوجائیں۔ اس موقعہ پر اتنی بات سمجھ لیجئے کہ یہ رسول اللہ ﷺ ہی کی خصوصیت تھی کوئی بھی فعل رسول اللہ ﷺ کے التزام کی وجہ سے فرض ہوجاتا تھا اگر امت کے لوگ کوئی فعل التزام کے ساتھ کریں تو فرض نہیں ہوگا۔ لہٰذا اب تمام مسلمان التزام کے ساتھ نماز ضحی ہمیشہ پڑھیں گے تو یہ نماز فرض نہیں ہوگی بلکہ مستحب ہی رہے گی۔

1293Mishkaat-al-Masabih

نماز ضحی کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کا معمول

وَعَنْ مُّوَرِّقِ ِالْعِجْلِیِّ رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ قَالَ قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ تُصَلِّی الضُّحٰی قَالَ لَا قُلْتُ فَعُمَرُ قَالَ لَا قُلْتُ فَاَبُوْ بَکْرٍ قَالَ لَا قُلْتُ فَالنَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ لَا اِخَالُہُ۔ (صحیح البخاری)

اور حضرت مورق عجلی فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ سے پوچھا کہ کیا آپ ضحی کی نماز پڑھتے ہیں انہوں نے فرمایا کہ نہیں میں نے کہا کہ حضرت عمر ؓ؟ انہوں نے فرمایا کہ وہ بھی نہیں پڑھتے تھے پھر میں نے پوچھا کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ؟ انہوں نے فرمایا کہ وہ بھی نہیں پڑھتے تھے۔ پھر میں نے پوچھا کہ اچھا رسول اللہ ﷺ؟ انہوں نے فرمایا کہ میرا خیال ہے کہ آپ ﷺ بھی نہیں پڑھتے۔ (صحیح البخاری ) تشریح حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ نے رسول اللہ ﷺ کے بارے میں نماز ضحی پڑھنے کی جو نفی فرمائی اس کی تاویل یہ کی جاتی ہے کہ حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ کا یہ انکار اس بات پر مبنی ہے کہ آپ مسجد میں ضحی کی نماز پڑھتے تھے یا حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ رسول اللہ ﷺ کے عمل مبارک اور اس نماز کے پڑھنے کے بارے میں آپ ﷺ کے ارشاد پر مطلع نہیں ہونگے یا پھر یہ کہ حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ نے مطلقاً نفی نہیں فرمائی۔ بلکہ ان کا مطلب یہ تھا آپ ﷺ اس نماز کو مستقل طور پر ہمیشہ نہیں پڑھتے تھے تاکہ یہ نماز فرض قرار نہ دیدی جائے۔ بہر حال اس نماز کا رسول اللہ ﷺ سے پڑھنا اور دوسروں کے لئے اس کے پڑھنے پر تاکید کرنا بہت روایتوں سے ثابت ہے۔ اس لئے اس نماز کے ثبوت میں اس روایت سے کسی غلط فہمی میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے۔ ملا حنفی (رح) فرماتے ہیں کہ چونکہ رسول اللہ ﷺ کے بعد اس نماز کے فرض ہوجانے کا کوئی اندیشہ نہیں رہا اس لئے یہ کہنا زیادہ مناسب اور بہتر ہے کہ نماز مسلمانوں کا اس نماز پر مداومت کرنا ( یعنی ہمیشہ پابندی کے ساتھ پڑھنا) مستحب ہے۔ چناچہ اکثر علماء اور مشائخ کا یہ مسلک ہے۔

1294Mishkaat-al-Masabih

نفل نماز کا بیان

تطوع طوع وطاعت سے ماخوذ ہے جس کے معنی ہیں انقیاد اور فرما نبرداری کرنا نافلہ عبادت کو تطوع اور نافلہ کرنے والے کو تطوع کہتے ہیں لہٰذا اس باب کے تحت ان نمازوں سے متعلق احادیث نقل کی جائیں گی جو نفل ہیں۔ یوں تو فرض و واجب کے سوا ہر نماز کو نفل کہتے ہیں خواہ سنت ہو یا مستحب لیکن تطوع کا اطلاق اکثر ان نمازوں پر ہوتا ہے جو غیر مرتب غیر سنت مؤ کدہ ہوتی ہے۔

1295Mishkaat-al-Masabih

تحیۃ الوضو کی فضیلت

وَعَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم لِبِلَالٍ عِنْدَ صَلٰوۃِ الْفَجْرِ ےَا بِلَالُ حَدِّثْنِیْ بِاَرْجٰی عَمَلٍ عَمِلْتَہُ فِی الْاِسْلَامِ فَاِنِّیْ سَمِعْتُ دَفَّ نَعْلَےْکَ بَےْنَ ےَدَیَّ فِی الْجَنَّۃِ قَالَ مَا عَمِلْتُ عَمَلًا اَرْجٰی عِنْدِیْ اَنِّیْ لَمْ اَتَطَھَّرْ طُھُوْرًا فِیْ سَاعَۃِ مِّنْ لَّےْلٍ وَلا نَھَارٍ اِلَّا صَلَّےْتُ بِذَالِکَ الطُّھُوْرِ مَا کُتِبَ لِیْ اَنْ اُصَلِّیَ۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)

حضرت ابوہریرۃ ؓ فرماتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ نے نماز فجر کے وقت حضرت بلال ؓ سے فرمایا کہ بلال ذرا مجھے یہ بتاؤ کہ تم نے حالت اسلام میں کون سا عمل کیا ہے جس سے تمہیں ثواب کی بہت زیادہ امید ہے کیونکہ میں نے جنت میں اپنے آگے تمہارے جوتوں کی آواز سنی ہے۔ حضرت بلال ؓ نے عرض کیا میں نے ایسی زیادہ امید کا کوئی عمل نہیں کیا سوائے اس کے کہ رات دن میں جب بھی میں پاکی حاصل کرتا ہوں تو اس پاکی سے جس قدر میرے مقدر میں ہے میں نماز ضرور پڑھتا ہوں۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم ) تشریح رسول اللہ ﷺ کا جنت میں اپنے آگے حضرت بلال ؓ کے قدموں کی آواز سننا بذریعہ مکاشفہ تھا کہ عالم غیب سے آپ ﷺ پر نیند کی حالت میں یا حالت بیداری میں یہ ظاہر کیا گیا یا پھر یہ کہ رسول اللہ ﷺ نے شب معراج میں جنت میں اپنے آگے حضرت بلال کے جو توں کی آواز سنی ہوگی۔ حضرت بلال کا رسول اللہ کے آگے چلنا (جیسا کہ آپ نے ان کے جو توں کی آواز سنی) اسی درجہ میں تھا جس درجہ میں کہ خدام کا مخدوم کے آگے چلنا ہوتا ہے۔ پاکی سے مراد وضو بھی ہوسکتا ہے اور غسل تیمم بھی۔ اس طرح یہ تینوں بھی اس سے مراد لئے جاسکتے ہیں۔ اس حدیث میں جس نماز کی فضیلت کا بیان کیا گیا ہے وہ نماز وہ ہے جو وضو کرنے کے بعد پڑھی جاتی ہے۔ اس نماز کو اصطلاح میں تحیۃ الوضو یا شکر وضو کہتے ہیں۔

1296Mishkaat-al-Masabih

استخارہ کی نماز و دعا

وَ عَنْ جَابِرٍص قَا لَ کَانَ رَ سُوْلُ ا للّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم یُعَلِّمُنَا الْاِسْتِخَارَۃَ فِی ا لْاُ مُوْ رِ کَمَا یُعَلِّمُنَا السُّوْرَۃَ مِنَ الْقُرْآنِ یَقُوْلُ اِذَاھَمَّ اَحَدُ کُمْ بِالْاَمْرِ فَلْیَرْ کَعْ رَکْعَتَیْنِ مِنْ غَیْرِ الْفَرِیْضَۃِ ثُمَّ لْیَقُلْ اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ اَسْتَخِیْرُکَ بِعِلْمِکَ وَ اَسْتَقْدِرُکَ بِقُدْرَتِکَ وَاَسْأَلُکَ مِنْ فَضْلِکَ الْعَظِیْمِ فَاِ نَّکَ تَقْدِرُ وَلَا اَقْدِرُ وَتَعْلَمُ وَلَااَ عْلَمُ وَاَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ اَللّٰہُمَّ اِنْ کُنْتَ تَعْلَمُ اَنَّ ھٰذَاا لْاَمْرَ خَیْرٌ لِّیْ فِیْ دِیْنِیْ وَمَعَا شِیْ وَعَا قِبَۃِ اَمْرِیْ اَوْ قَالَ فِیْ عَاجِلِ اَمْرِیْ وَاٰجِلِہٖ فَاقْدُرْہُ لِیْ وَےَسِّرْہُ لِیْ ثُمَّ بَارِکْ لِیْ فِےْہِ وَاِنْ کُنْتَ تَعْلَمُ اَنَّ ھٰذَا الْاَمْرَ شَرٌّ لِیْ فِیْ دِےْنِیْ وَمَعَاشِیْ وَعَاقِبَۃِ اَمْرِیْ اَوْقَالَ فِیْ عَاجِلِ اَمْرِیْ وَاٰجِلِہٖ فَاصْرِفْہُ عَنِّیْ وَاصْرِفْنِیْ عَنْہُ وَاقْدُرْلِیَ الْخَےْرَ حَےْثُ کَانَ ثُمَّ اَرْضِنِیْ بِہٖ قَالَ وَےُسَمِّیْ حَاجَتَہُ۔ (صحیح البخاری)

اور حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں کہ سر تاج دو عالم ﷺ ہمارے تمام کاموں کے لئے دعائے استخارہ اس طرح سکھاتے تھے۔ جیسے قرآن کریم کی کوئی سورت سکھاتے تھے (یعنی آپ ﷺ اس دعا کی تعلیم کا بہت اہتمام رکھتے تھے) چناچہ آپ ﷺ فرمایا کرتے تھے کہ جب تم میں سے کوئی آدمی کسی کام کا ارادہ کرے تو اس کو چاہیے کہ فرض نماز کے علاوہ دو رکعت (نفل) پڑھے پھر یہ دعائے پڑھے۔ اے اللہ! میں تیرے علم کے وسیلے سے تجھ سے بھلائی مانگتا ہوں اور تیری قدرت کے واسطے سے (نیک عمل کرنے کی) تجھ سے قدرت مانگتا ہوں اور میں تجھ سے تیرا فضل مانگتا ہوں کیونکہ تو ہی (ہر چیز پر) قادر ہے میں (تیری مرضی کے بغیر کسی چیز پر) قادر نہیں ہوں، تو (سب چیزوں کو) جانتا ہے میں کچھ نہیں جانتا اور تو پوشیدہ باتوں کو جاننے والا ہے، اے اللہ! اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام (یعنی مقصد) میرے لئے میرے دین میں، میری دنیا میں، میری زندگی اور میری آخرت میں، یا فرمایا اس جہان (یعنی دنیا) میں اس جہان (آخرت) میں بہتر ہے تو اسے میرے لئے مہیا فرما دے اور اسے میرے لئے آسان فرما دے، پھر اس میں میرے واسطے برکت دے اور اگر تو اس امر (یعنی میرے مقصد اور میری مراد) کو میرے دین، میری زندگی اور میری آخرت میں، یا فرمایا اور اس جہان اور اس جہان میں برا جانتا ہے تو مجھے اس سے اور اسے مجھ سے پھیر دے اور میرے لئے جہاں بھلائی ہو وہ مہیا فرما پھر اس کے ساتھ مجھے راضی کر۔ روای کہتے ہیں کہ لفظ ہذا لامر کی جگہ) اپنی حاجت کا نام لینا چاہیے۔ (صحیح البخاری ) تشریح اگر ایسے کام کا ارادہ کیا جائے جو مباح ہو اور اس کی کامیابی و بھلائی میں شک و تردد ہو مثلاً سفر کا ارادہ ہو، تجارت شروع کرنے کا خیال ہو، نکاح کرنا چاہتا ہو یا اسی قسم کے دوسرے مباح کام تو ایسے موقع پر مناسب اور بہتر یہ ہے کہ استخارے کو اپنا راہبر و مشیر بنایا جائے۔ کھانے پینے یا اسی قسم کے دوسرے مقرر و متعین کاموں کے لئے استخارہ نہیں کرنا چاہیے اگر کوئی کام خیر محض ہو تو اس میں استخارہ نہ کیا جائے استخارے کی برکت یہ ہے کہ کام شروع کرنے والے کے حق میں جو بات بھی بہتر ہوتی ہے وہ اس کے دل میں جگہ لے لیتی ہے اور دل اپنے حق میں بہتر بات ہی کا فیصلہ کرتا ہے۔ استخارے کا طریقہ یہ ہے کہ باوضو ہو کر کسی بھی وقت علاوہ اوقات مکروہ کے استخارے کی نیت سے دو رکعت نماز پڑھے اور اس کے بعد مذکورہ دعا پڑھی جائے۔ اگر سنت کی، تحیۃ المسجد کی یا تحیۃ الوضو کی پڑھی جانے والی نمازوں میں سے ہی دو رکعت پڑھنے کے بعد دعاء استخارہ پڑھ لی جائے تو بھی جائز ہے لیکن اولیٰ یہی ہے کہ علیحدہ سے دو رکعت نماز بطور خاص استخارہ کی نیت ہی سے پڑھنی چاہیے۔ اس نماز میں جو بھی سورت پڑھنی چاہیے پڑھ سکتا ہے کسی خاص سورت کا تعین نہیں ہے تاہم بعض روایتوں میں ہے کہ قل یا اَیُّھَا الکافرون اور قل ہو اللہ پڑھنا بہتر ہے۔ دعا کے الفاظ او عاجل امری میں صرف اور صرف راوی کے شکل کو ظاہر کر رہے ہیں، یعنی راوی کو شک واقع ہوگیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فی دینی و معاشی و عاقبۃ امری فرمایا ہے یا ان تینوں الفاظ کی جگہ عاجل امری و اجلہ فرمایا۔ بہر حال افضل یہ ہے کہ اس دعا میں یہ دونوں جملے پڑھے جائیں۔ حدیث کی آخری الفاظ ویسمی حاجتہ کا مطلب یہ ہے کہ دعا میں لفظ ھذا الا مر بطریق عموم واقع ہے استخارہ کرنے والا اپنی دعا میں اس جگہ اپنا مقصد اور اپنی مراد ظاہر کرے مثلا ھذا الامر کی بجائے یوں کہے ھذا السفر یا ھذا الا قامۃ یا اسی طرح جو بھی مقصد ہو ذکر کرے نیز یہ بھی جائز ہے کہ پہلے ھذالامر کہہ لے اس کے بعد اپنا مقصد اور اپنی مراد کا ذکر کرے۔ ایک اور روایت میں یہ مختصر استخارہ بھی منقول ہے کہ اگر کسی آدمی کو جلدی ہو اور کوئی وقتی و ہنگامی کام ہو تو اسے چاہیے کہ وہ صرف یہ پڑھ لے۔ اَللّٰھُمَّ اخِرْلِیْ وَاَخْتَرْلِیْ وَلَا تَکِلْنِیْ اِلٰی اِخْتِیَارِیْ۔ اے اللہ! ( میرے حق میں تیرے نزدیک جو بہتر اور مناسب ہو اسے) میرے لئے پسند اور میرے لئے اختیار فرما اور مجھے میرے اختیار کا پابند نہ بنا۔ حضرت انس ؓ ایک روایت میں فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ انس! جب تم کسی کام کا ارادہ کرو تو اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے سات مرتبہ استخارہ کرو، پھر اس کے بعد (اس کا نتیجہ) دیکھو، تمہارے دل میں جو کچھ ڈالا جائے (یعنی استخارے کے نتیجے میں بارگاہ حق کی جانب سے، جو چیز القاء کی جائے اسی کو اختیار کرو کہ تمہارے لئے وہی بہتر ہے۔

1297Mishkaat-al-Masabih

نماز توبہ کا بیان

عَنْ عَلِیٍّ قَالَ حَدَّثَنِی اَبُوْ بَکْرٍ وَ صَدَقَ اَبُوْبَکْرٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم یَقُوْلُ مَا مِنْ رَجُلٍ یُذْنِبُ ذَنْبًا ثُمَّ یَقُوْمُ فَیَتَطَھَّرُ ثُمَّ یُصَلَّیْ ثُمَّ یَسْتَغْفِرُ اﷲَ اِلَّا غَفَرَ اﷲُ ثُمَّ قَرَأَ وَالَّذِیْنَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَۃً اَوْظَلَمُوْا اَنْفُسَھُمْ ذَکَرُو اﷲَ فَاسْتَغْفَرُوْا لِذُنُوْبِھِمْ رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ وَابْنُ مَاجَۃَ اِلَّا اَنَّ ابْنَ مَاجَۃَ لَمْ یَذْکُرِ الْآیَۃَ وَالَّذِیْنَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَۃً اَوْ ظَلَمُوْا اَنْفُسَھُمْ ذَکَرُواﷲَ فَاسْتَغْفَرُوْا لِذُنُوْبِھِمْ۔

امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ امیرالمومنین حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے مجھ سے فرمایا اور حضرت ابوبکر ؓ نے بالکل سچ فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے یہ ارشاد سنا ہے کہ جو آدمی گناہ کرتا ہے اور گناہ پر ندامت ہونے کی وجہ سے، اٹھ کر وضو کرتا ہے اور نماز پڑھتا ہے اور پروردگار سے اپنے گناہ کی مغفرت چاہتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کا گناہ معاف فرما دیتا ہے پھر آپ ﷺ نے یہ آیت پڑھی۔ اور ایسے لوگ کہ جب کوئی ایسا کام کر گذرتے ہیں جس میں زیادتی ہو یا اپنی ذات پر ظلم کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کو (یعنی اس کے عذاب کو) یاد کرلیتے ہیں پھر اپنے گناہوں کی معافی چاہنے لگتے ہیں اور اس روایت کو جامع ترمذی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے مگر ابن ماجہ نے آیت ذکر نہیں کی۔ تشریح صدق ابوبکر (حضرت ابوبکر ؓ نے بالکل سچ فرمایا) یہ جملہ معترضہ کے طور پر ہے جس کے ذریعے حضرت علی المرتضیٰ نے حضرت ابوبکر کی بزرگی ان کی عظمت اور ان کے انتہائی سچے ہونے کو ظاہر فرمایا ہے جن کی سچائی اور صداقت اس پایہ کی تھی کہ خود رسول اللہ ﷺ نے انہیں صدیق کے لقب سے سرفراز فرمایا۔ حضرت علی المرتضیٰ کے بارے میں منقول ہے کہ ان کی عادت تھی کہ وہ کسی بھی راوی کی نقل کردہ حدیث کو اس وقت تک قبول نہیں کرتے تھے جب تک کہ راوی سے وہ قسم نہ کھلوا لیتے تھے چناچہ جب راوی ان سے کہتا کہ میں قسم کھاتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے یہ حدیث اسی طرح سنی ہے تو آپ اسے قبول فرماتے لیکن جب کوئی حدیث حضرت ابوبکر ؓ سے سنتے تو بغیر قسم کے قبول کرلیتے تھے۔ فیتطھر کا مطلب تو یہی ہے کہ گناہ کرنے والا وضو کر کے نماز پڑھے لیکن افضل غسل کرنا ہے نہ صرف یہ بلکہ ٹھنڈے پانی سے غسل کرنا سب سے زیادہ افضل ہے۔ یصلی کا مطلب یہ ہے کہ دو رکعت نماز پڑھے جس میں سے ایک رکعت میں سورت فاتحہ کے ساتھ قل یا ایھا الکافرون پڑھی جائے۔ اور دوسری رکعت میں قل ہو اللہ کی قرأت کی جائے اس کو نماز تو بہ کہا جاتا ہے۔ حدیث کے الفاظ ثم یستغفر اللہ (پھر پروردگار کی بارگاہ میں توبہ مانگتا ہے اور نہ صرف یہ کہ اس گناہ کو چھوڑ دیتا ہے بلکہ آئندہ کبھی گناہ میں مبتلا نہ ہونے کا پختہ عزم کرتا ہے اور اس عزم پر ثابت قدم رہتا ہے پھر یہ کہ اگر اس کے ذمے کسی کا کوئی حق ہوتا ہے تو اس کا تدارک کرتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنے ارشاد کے بعد بطور دلیل کے اس آیت کی تلاوت فرمائی کہ میں جو کچھ کہہ رہا ہوں یہی خداوند کریم بھی فرماتا ہے لِذُنُوْبِھِمْ کے بعد آیت کا بقیہ حصہ یہ ہے۔ آیت ( وَ مَنْ يَّغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اللّٰهُ ڞ وَلَمْ يُصِرُّوْا عَلٰي مَا فَعَلُوْا وَھُمْ يَعْلَمُوْنَ ١٣٥ اُولٰ ى ِكَ جَزَا ؤُھُمْ مَّغْفِرَةٌ مِّنْ رَّبِّھِمْ وَجَنّٰتٌ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْھَا وَنِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِيْنَ ١٣٦) 3۔ ال عمران 135۔ 136) اور ہے کون؟ جو گناہوں کو بخشتا ہو اور یہ لوگ اپنے فعل (گناہ) پر اصرار نہیں کرتے اور وہ جانتے ہیں، ان لوگوں کی جزاء بخشش ہے۔ ان کے رب کی طرف سے اور ایسے باغ ہیں جن کے نیچے سے نہریں چلتی ہونگی اور وہ ان میں ہمیشہ بستے رہیں گے اور (اچھے) کام کرنے والوں کا بدلہ بہت اچھا ہے۔ اس آیت کا شان نزول بعض مفسرین کی روایت کے مطابق ایک مخصوص واقعہ ہے۔ ایک صحابی سے بتقاضائے ایک لغزش ہوگئی مگر وہ فورًا متنبہ ہوگئے جس سے وہ انتہائی نادم اور شرمندہ ہوئے ان کی ندامت و شرمندگی اور رب العزت کی بارگاہ میں اس لغزش سے ان کی صدق دل سے توبہ و استغفار کے پیش نظریہ آیت نازل فرمائی گئی۔ یہ دو آیتیں ہیں پہلی آیت میں لفظ والذین مبتداء ہے، دوسری آیت میں اولئک خبر ہے یعنی پہلی آیت کا مطلب یہ ہے کہ اہل ایمان اللہ سے ڈرنے والے اور اس کے ثواب و عذاب پر یقین رکھنے والے جب بتقاضائے بشریت کسی خطا و لغزش اور گناہ میں مبتلا ہوجاتے ہیں تو ایمان و یقین سے بھر پور ان کا ضمیر انہیں فورًا متنبہ کرتا ہے وہ ایسے موقع پر اپنے اللہ کی طرف رجوع کرتے ہیں ہیں اس کی عبادت و بندگی کر کے اس سے اپنی لغزش کی معافی چاہتے ہیں اپنی خطا و گناہ پر شرمندگی و ندامت کا اظہار کر کے توبہ مانگتے ہیں۔ نہ صرف یہ کہ وہ کسی گناہ پر ڈھٹائی کے ساتھ عمل پیرا نہیں رہتے۔ بلکہ آئندہ کے لئے کسی گناہ میں مبتلا نہ ہونے کا عزم کرتے ہیں اور اپنے پختہ عزم پر قائم رہتے ہیں۔ دوسری آیت میں ایسے لوگوں کی جزاء بیان کی جا رہی ہے کہ خداوند کریم اپنی رحمت کے صدقے ان لوگوں کی توبہ قبول فرماتا ہے ان کی غلطی سے درگزر کرتا ہے اور چونکہ یہ گناہوں سے صدق دل کے ساتھ معافی کے خواستگار ہوتے ہیں اس لئے ان کی بخشش فرماتا ہے۔ جس کے نتیجے میں جنت اور جنت کی نعمتوں کے حقدار ہوتے ہیں۔

1298Mishkaat-al-Masabih

مصیبت کے وقت نماز نفل

وَعَنْ حُذَیْفَۃَ قَالَ کَانَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَا حَزِنہ، اَمْرٌ صَلّٰی۔ (رواہ ابوداؤد)

اور حضرت حذیفہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب کسی مصیبت سے دو چار ہوتے تو (نفل) نماز پڑھتے۔ (ابوداؤد) فائدہ مطلب یہ کہ رسول اللہ ﷺ کو جب کوئی رنج و غم ہوتا یا کوئی مصیبت رونما ہوتی تو آپ ﷺ رنج و غم اور مصیبت سے چھٹکارا پاتے اور اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کے طور پر نماز پڑھتے کہ حق تعالیٰ کا فرمان ہے۔ آیت (يٰ اَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِيْنُوْا بِالصَّبْرِ وَالصَّلٰوةِ ) 2۔ البقرۃ 153) اے اہل ایمان! صبر اور نماز کے ذریعے مدد مانگو۔ علماء لکھتے ہیں کسی رنج اور مصیبت کے وقت نماز نفل پڑھنے کی حکمت یہ ہے کہ جب انسان نماز میں مشغول ہوتا ہے اس کے سامنے عالم ربوبیت کھل جاتا ہے اور جب اس پر عالم ربوبیت منکشف ہوجاتا ہے تو دنیا از خود اس کی نظروں میں بالکل حقیر و بےوقعت ہوجاتی ہے جس کا نیتجہ یہ ہوتا ہے۔ کہ اس کے دل میں دنیا کے ہونے ( یعنی دنیا کی راحت و آسائش) اور دنیا کے نہ ہونے (یعنی دنیا کی تکلیف و مصیبت) کا ذرہ برابر بھی احساس نہیں رہتا۔ لہٰذا اگر دنیا اسے نہیں ملتی بایں طور کہ وہ دنیا کے رنج و غم اور تکلیف و مصیبت میں مبتلا ہوتا ہے تو متوحش اور پریشان نہیں ہوتا اگر دنیا اسے نہیں ملتی ہے بایں طور کہ دنیا کی راحت و چین اور آرام و آسائش اسے حاصل ہوتی ہے تو وہ خوش نہیں ہوتا جیسا کہ یہ عارفانہ مقولہ کہا گیا ہے۔ اگر ہے تو خوشی نہیں اور اگر نہیں تو غم نہیں۔

1299Mishkaat-al-Masabih

تحیۃ الوضو کی فضیلت

وَ عَنْ بُرَیْدَۃَ قَالَ اَصْبَحَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم فَدَعَا بِلَا لًا فَقَالَ بِمَا سَبَقْتَنِی اِلَی الْجَنَّۃِ مَا دَخَلْتُ الْجَنَّۃَ قَطُّ اِلَّا سَمِعْتُ خَشْخَشَتَکَ اَمَامِی قَالَ یَا رَسُوْلَ اﷲِ مَا اَذَنْتُ قَطَّ اِلَّا صَلَّیْتُ رَکْعَتَیْنِ وَمَا اَصَابَنِی حَدَثٌ قَطُّ اِلَّا تَوَضَأتُ عِنْدَہ، وَرَأَیْتُ اَنَّ لِلّٰہِ عَلَیَّ رَکْعَتَیْنِ فَقَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم بِھِمَا۔(رواہ الترمذی)

اور حضرت بریدہ ؓ فرماتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ نے صبح کے وقت فجر کی نماز کے بعد حضرت بلال ؓ کو طلب کیا اور (جب وہ خدمت اقدس میں حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا کہ کس عمل کے ذریعے تم نے جنت میں مجھ سے پیش روی اختیار کی ہے (کیونکہ) میں جب بھی جنت میں داخل ہوا تو اپنے آگے آگے تمہارے جوتوں کی آواز سنی؟ انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ! میں نے جب بھی اذان دی ہے تو اس کے بعد دو رکعت نماز (ضرور) پڑھی ہے اور جب بھی میرا وضو ٹوٹا ہے میں نے اسی وقت وضو کرلیا اور میں نے اللہ کے واسطے دو رکعت نماز پڑھنی ضروری سمجھا ہے۔ (یعنی ہر وضو کے بعد پابندی کے ساتھ دو رکعت پڑھنی میں نے اپنے اوپر لازم قرار دے رکھی ہے) رسول اللہ ﷺ نے (یہ سن کر) فرمایا کہ اسی وجہ سے تم اس (عظیم درجہ کو پہنچے ہو۔ (جامع ترمذی ) تشریح حدیث میں مذکورہ مضمون کی وضاحت اس باب کے شروع میں پہلی حدیث کے فائدے کے ضمن میں کی جا چکی ہے۔ چناچہ وہاں یہ بتایا جا چکا ہے کہ جنت میں حضرت بلال ؓ کا رسول اللہ ﷺ کے آگے آگے ہونا خادم کی حیثیت سے تھا۔ جو خود ایک بہت بڑا درجہ اور بڑی فضیلت کی بات ہے چناچہ اسی وجہ سے رسول اللہ ﷺ نے ان سے پوچھا کہ تم آخر وہ کون سا عمل کرتے ہو جس کی وجہ سے تمہیں خدمت خاص کا یہ عظیم مرتبہ حاصل ہوا؟ حدیث کے حقیقی معنی یہی ہیں۔ اس کے ظاہری معنی و مفہوم مراد لے کر کسی قسم کی غلط فہمی میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے۔ کہ اس حدیث سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ (نعوذ با اللہ) حضرت بلال ؓ کو رسول اللہ ﷺ پر بھی اس موقع پر فضیلت حاصل تھی کہ وہ آپ ﷺ سے پہلے جنت میں داخل ہوئے کیونکہ یہ مرتبہ تو کسی نبی اور پیغمبر کو بھی حاصل نہیں ہوگا کہ وہ آنحضرت ﷺ سے پہلے جنت میں داخل ہوجائے چہ جائیکہ آپ کی امت کے ایک فرد کو یہ امتیاز حاصل ہوجائے کہ ان دو چیزوں یعنی ہمیشہ باوضو رہنے اور نماز تحیۃ الوضو پڑھنے کی وجہ سے آپ ﷺ سے پہلے وہ جنت میں داخل ہو۔ چہ نسبت خارا با عالم پاک۔

1300Mishkaat-al-Masabih

نماز حاجت

وَعَنْ عَبْدِاﷲِ بْنِ اَبِی اَوْفٰی قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ کَانَتْ لَہ، حَاجَۃٌ اِلَی اﷲِ اَوْ اِلٰی اَحَدٍ مِنْ بَنِیْ اٰدَمَ فَلْیَتَوَضَّأْ فَلْیُحْسِنِ الْوُضُوْءَ ثُمَّ لِیُصَلِّ رَکْعَتَیْنِ ثُمَّ لِیُثْنِ عَلَی اﷲِ تَعَالٰی وَیُصَلِّ عَلَی النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم ثُمَّ لِیَقُلْ لَا اِلٰہَ اِلَّا اﷲُ الْحَلِیْمُ الْکَرِیْمُ سُبْحَانَ اﷲِ رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ اَسْأَلُکَ مُوْجِبَاتِ رَحْمَتِکَ وَعَزَائِمَ مَغْفَرِتِکَ وَالْغَنِیْمَۃِ مِنْ کُلِّ بِرٍّوَ السَّلَامَۃَ مِنْ کُلِّ اِثْمٍ لَا تَدَعْ لِیْ ذَنْبًا اِلَّا غَفَرْتَہ، وَلَا ھَمًّا اِلَّا فَرَّجْتَہ، وَلَا حَاجَۃً ھِیَ لَکَ رَضِیً اِلَّا قَضَیْتَھَا یَا اَرْحَمُ الرَّحِمِیْنَ رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ وَابْنُ مَاجَۃَ وَقَالَ التِّرْمِذِیُّ ھٰذَا حَدِیْثٌ غَرِیْبٌ۔

اور حضرت عبداللہ ابن ابی اوفیٰ راوی ہیں کہ سر تاج دو عالم ﷺ نے فرمایا جس آدمی کو اللہ تعالیٰ یا کسی آدمی کی طرف کوئی حاجت ہو (یعنی خواہ دینی حاجت) تو اسے چاہیے کہ (پہلے) وضو کرے اور اچھا وضو (یعنی پورے آداب کی رعایت کے ساتھ) کرے اور دو رکعت نماز پڑھے، پھر اللہ تعالیٰ کی بڑائی بیان کر کے اور نبی و ﷺ پر درود بھیج کر یہ دعا پڑھے۔ نہیں ہے کوئی معبود سوائے اللہ چشم پوشی اور بخشش کرنے والے کے پاک ہے اللہ جو مالک ہے عرش عظیم کا اور سب تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں جو سارے جہان کا پروردگار ہے، اے اللہ میں تجھ سے ان چیزوں کو مانگتا ہوں جن پر رحمت ہوتی ہے اور جو تیری بخشش کا سبب ہوتی ہیں اور مانگتا ہوں اپنا حصہ ہر نیکی سے اور بچنا چاہتا ہوں ہر گناہ سے، اے اللہ! میرے کسی گناہ کو بےبخشے ہوئے اور کسی غم کو بےدور کئے ہوئے اور کسی جماعت کو جو تیرے نزدیک پسند ہو، بےپورا کئے ہوئے نہ چھوڑا اے بہت رحم کرنے والے رحم کرنے والوں سے۔ (امام ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث غریب ہے) تشریح جب کسی کو کوئی حاجت یا ضرورت پیش آئے تو خواہ وہ حاجت بلا واسطہ اللہ تعالیٰ سے ہو یا بالواسطہ کسی بندے سے متعلق ہو مثلاً کسی کو نوکری کی خواہش ہو، یا کسی سے نکاح کرنا چاہتا ہو، یا ایسی کوئی اور ضرورت ہو، جسے کسی آدمی سے پورا کرنا مقصود ہو تو اس کے لئے مستحب ہے کہ وہ اچھی طرح وضو کر کے دو رکعت نماز پڑھے پھر اللہ تعالیٰ جل شانہ کی تعریف و بڑائی بیان کر کے درود شریف پڑھے جو نماز میں التحیات کے بعد پڑھا جاتا ہے اس کے بعد حدیث میں مذکورہ دعا پڑھے۔ دعا کے بعد اس کی جو حاجت و ضرورت ہو، اسے پروردگار کی بارگاہ میں پیش کرے۔ یعنی اللہ تعالیٰ سے اپنے مقصد برآری کے لئے دعا کرے۔ حاجت روائی اور مقصد برآری کے لئے یہ نماز کہ جسے اصطلاح میں صلوۃ الحاجت یعنی نماز حاجت کہتے ہیں کہ بہت مجرب ہے بعض بزرگوں کے بارے میں منقول ہے کہ انہوں نے اپنی ضرورتوں میں اس طریقے سے نماز پڑھ کر اللہ تعالیٰ سے اپنی حاجت بیان کی، اللہ تعالیٰ نے ان کے مقصد اور ان کی حاجت کو پورا فرمایا۔ (علم الفقہ) علامہ ابن حجر (رح) فرماتے ہیں کہ حاجت مند کو اپنی حاجت روائی اور اس نماز و دعا کو پڑھنے کے لئے شنبہ کے دن صبح کے وقت کو اختیار کرنا چاہیے کیونکہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ جو آدمی شنبہ کے دن صبح کے وقت (نماز حاجت اور اس کی دعا پڑھ کر اپنی حلال و جائز حاجت کو طلب کرے تو میں اس کی حاجت روائی کا ضامن ہوں۔ (ملا علی قاری) یوں تو یہ نماز اور یہ دعا تمام حاجتوں اور ضرورتوں کے لئے ہے لیکن قوت حافظہ کی اگر حاجت ہو تو اس کے لئے بطورخاص الگ نماز ہے جس کو صلوٰۃ الحافظ (حافظ کی نماز) کہتے ہیں جو حصن حصین میں مذکور ہے اس کی اردو شرح میں اس نماز کی روایت بالتفصیل لکھی گئی ہے وہاں ملا حظہ فرمایا جاسکتا ہے۔

1301Mishkaat-al-Masabih

نماز تسبیح کا بیان

نماز تسبیح مستحب ہے جس کا بیشمار اجر وثواب ہے اس کی چار رکعتیں پڑھنی رسول اللہ ﷺ سے منقول ہیں بہتریہ ہے کہ چاروں رکعتیں ایک ہی سلام سے پڑھی جائیں۔ اگر دو سلام سے پڑھی جائیں تب بھی درست ہیں۔ ہر رکعت میں پچھتر مرتبہ تسبیح کہنا چاہیے اور پوری نماز میں تین سو مرتبہ۔ نماز تسبیح پڑھنے کا طریقہ نماز تسبیح کی نیت اس طرح کی جائے نَوَیْتُ اَنْ اُصَلِّی اَرْبَعَ رَکَعَاتٍ صَلٰوۃَ التَّسْبِیْحِ میں نے چار رکعت نماز تسبیح پڑھنے کا ارادہ کیا۔ اس نیت کے بعد تکبیر تحریمہ کہہ کر ہاتھ باندھے جائیں اور سبحانک اللھم پڑھ کر پندرہ مرتبہ یہ تسبیح کہی جائے سُبْحَانَ اللہ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ وَلَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ وَ اللہ اَکْبَرُ پھر اعوذ باللہ اور بسم اللہ پڑھ کر الحمد اور سورت پڑھی جائے اس کے بعد دس مرتبہ یہی تسبیح پڑھی جائے پھر رکوع میں اور رکوع سے اٹھ کر سَمِیْعَ ا لِمَنْ حَمِدَہ وَ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدِ کہہ کر دس مرتبہ یہی تسبیح پڑھی جائے پھر سجدے میں جا کر اور دونوں سجدوں میں سبحان ربی الاعلی کے بعد اور دونوں سجدوں کے درمیان دس دس مرتبہ یہی تسبیح پڑھی جائے پھر دوسری رکعت میں الحمد سے پہلے پندرہ مرتبہ الحمد اور دوسری سورت کے بعد دس مرتبہ رکوع اور قومہ، دونوں سجدوں اور درمیان میں دس دس مرتبہ اسی تسبیح کو پڑھا جائے اسی طرح تیسری اور چوتھی رکعت پڑھی جائے اور ان میں یہی تسبیح اس تعداد میں پڑھی جائے۔

1302Mishkaat-al-Masabih

نماز تسبیح کی فضیلت

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ اَنَّ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ لِلْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِالْمُطَّلِبِ یَا عَبَّاسُ یَا عَمَّاہُ اَلَا اُعْطِیْکَ اَلَا اَمْنَحُکَ اَلَا اُخْبِرُکَ اَلَا اَفْعَلُ بِکَ عَشْرَ خِصَالٍ اِذَا اَنْتَ فَعَلْتَ ذٰلِکَ غَفَرَ اﷲُ لَکَ ذَنْبَکَ اَوَّلَہ، وَاٰخِرَہ، قَدِیْمَہ، وَحَدِیْثَہ، خَطَاَہ، وَعَمْدَہ، صَغِیْرَہ، وَ کَبِیْرَہ، سِرَّہ، وَعَلَانِیَتَہ، اَنْ تُصَلِّیْ اَرْبَعَ رَکْعَاتٍ تَقْرَاُفِیْ کُلِّ رَکْعَۃٍ فَاتِحَۃَ الْکِتَابِ وَسُوْرَۃً فَاِذَا فَرَغْتَ مِنَ الْقِرَاءَ ۃِ فِیْ اَوَّلِ رَکْعَۃٍ وَاَنْتَ قَائِمٌ قُلْتُ سُبْحَانَ اﷲِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ وَلَا اِلٰہَ اِلَّا اﷲُ وَاﷲُ اَکْبَرُ خَمْسَ عَشْرَۃً مَرَّۃً ثُمَّ تَرْکَعُ فَتَقُوْلُھَا وَاَنْتَ رَاکِعٌ عَشْرًا ثُمَّ تَرْفَعُ رَاْسَکَ مِنَ الرَّکُوْعِ فَتَقُوْلُھَا عَشْرًا ثُمَّ تَھْوِیْ سَاجِدً فَتَقُوْلُھَا وَاَنْتَ سَاجِدٌ عَشْرً ثُمَّ تَرْفَعُ رَاْسَکَ مِنَ السُّجُوْدِ فَتَقُوْلُھَا عَشْرًا ثُمَّ تَسْجُدُ فَتَقُوْلُھَا عَشْرًا ثُمَّ تَرْفَعُ رَأْسَکَ فَتَقُوْلُھَا عَشْرًا فَذٰلِکَ خَمْسٌ وَّسَبْعُوْنَ فِیْ کُلِّ رَکْعَۃٍ تَفْعَلُ ذٰلِکَ فِیْ اَرْبَعَ رَکْعَاتٍ اِنِ اسْتَطَعْتَ اَنْ تُصَلِّیَھَا فِیْ کُلِّ یَوْمٍ مَرَّۃً فَافْعَلْ فَاِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَفِیْ کُلِّ جُمُعَۃٍ مَرَّۃً فَاِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَفِیْ کُلِّ شَھْرٍ مَرَّۃً فَاِنْ لَمْ تَفْعَلُ فَفِیْ کُلِّ سَنَۃٍ مَرَّۃً فَاِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَفِیْ عُمْرِکَ مَرَّۃً رَوَاہُ اَبُوْدَاؤدَ وَابْنُ مَاجَۃَ وَالْبَیْھِقِیُّ فِی الدَّعْوَاتِ الْکَبِیْرِ وَرَوَی التِّرْمِذِیُّ عَنْ اَبِیْ رَافِعٍ نَحْوَہ،۔

حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت عباس ابن عبدالمطلب ؓ سے فرمایا کہ اے عباس! اے میرے چچا کیا نہ دوں میں آپ کو؟ کیا نہ دوں میں آپ کو؟ کیا نہ بتاؤں میں آپ کو؟ کیا آپ کو دس خصلتوں کا مالک نہ بنادوں؟ کہ اگر آپ ان کو اختیار کریں تو اللہ تعالیٰ آپ کے اگلے اور پچھلے، پرانے اور نئے، قصدًا اور سہواً، چھوٹے اور بڑے، پوشیدہ اور ظاہر تمام گناہوں کو بخش دے (تو سنئے کہ) آپ چار رکعت نماز (اس طرح) پڑھئے کہ ہر رکعت میں سورت فاتحہ اور کوئی سورت پڑھیے۔ جب آپ پہلی رکعت میں قرأت سے فارغ ہوجائیں تو کھڑے ہی کھڑے پندرہ مرتبہ (یہ تسبیح) کہئے۔ سُبْحَانَ اللہ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ وَلَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ وَ اللہ اَکْبَرُ پھر رکوع میں جائیے اور (رکوع کی تسبیح سبحان ربی العظیم کہنے کے بعد) رکوع میں یہ تسبیح دس مرتبہ کہئے پھر رکوع سے سر اٹھائیے اور (سمع اللہ لمن حمدہ کہنے کے بعد) یہ تسبیح دس مرتبہ کہے۔ پھر سجدے میں جائیے اور (سبحان ربی الاعلیٰ کہنے کے بعد) یہ تسبیح دس مرتبہ کہے، پھر سجدے سے سر اٹھائیے اور یہ تسبیح دس مرتبہ کہیے پھر (دوسرے) سجدے میں جائیے اور (سجدے کی تبلیغ کہنے کے بعد) یہ تسبیح دس مرتبہ کہے۔ پھر سجدے سے سر اٹھائیے اور یہ تسبیح دس مرتبہ کہئے یہ سب پچھتر تسبیحات ہوئیں ہر رکعت میں اسی طرح چاروں رکعت میں کیجئے ( یعنی مذکورہ طریقے سے یہ تسبیح پچھتر مرتبہ پڑھئے۔ اگر ہر ہفتہ میں نہ پڑھ سکیں تو مہینے میں ایک مرتبہ پڑھئے اگر ہر مہینہ میں نہ پڑھ سکیں تو سال میں ایک مرتبہ پڑھیے اور اگر ہر سال نہ پڑھ سکیں تو کم سے کم پوری عمر میں ایک مرتبہ (تو ضرور ہی) پڑھ لیجئے۔ (سنن ابوداؤد، سنن ابن ماجہ، بیہقی، فی دعوات الکبیر) امام ترمذی نے اسی طرح کی روایت حضرت ابورافع سے نقل کیا ہے۔ تشریح کیا آپ کو دس خصلتوں کا مالک نہ بناؤں؟ کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو ایسی چیز بتائے دیتاہوں جس کو آپ اگر اختیار کریں گے تو آپ کے دس قسم کے گناہ (جو حدیث میں ذکر کئے گئے ہیں) بخش دئیے جائیں گے۔ بعض حضرات کا قول یہ ہے کہ دس خصلتوں سے مراد اس نماز میں حالت قیام کی پندرہ مرتبہ تسبیح کہنے کے علاوہ بقیہ حالتوں میں دس دس مرتبہ تسبیح کہنا ہے۔ حدیث میں لفظ علانیۃ کے بعد عَشَرَ خِصَالٍ کے الفاظ یہاں مشکوٰۃ میں ذکر نہیں کئے گئے ہیں۔ لیکن اصول میں موجود ہیں۔ چناچہ حصن حصین میں بھی یہ الفاظ نقل کئے گئے ہیں اسی لئے طیبی نے لکھا ہے کہ سیاق حدیث کے پیش نظریہ کہنا زیادہ مناسب ہے کہ دس خصلتوں سے مراد یہ چیزیں ہیں۔ (١) چار رکعت نماز پڑھنا۔ (٢) ہر رکعت میں سورت فاتحہ پڑھنا۔ (٣) سورت فاتحہ کے ساتھ کوئی اور صورت پڑھنا۔ (٤) حالت قیام میں پندرہ مرتبہ مذکورہ تسبیحات کا کہنا۔ (٥) ان تسبیحات کا رکوع میں دس مرتبہ کہنا۔ (٦) ان تسبیحات کا دس مرتبہ قومہ میں کہنا۔ (٧) ان تسبیحات کا دس مرتبہ سجدے میں کہنا۔ (٨) ان تسبیحات کا دس مرتبہ جلسے میں کہنا۔ (٩) ان تسبیحات کا دس مرتبہ سجدے میں کہنا۔ (١٠) ان تسبیحات کا دس مرتبہ جلسہء استراحت میں کہنا۔ اس روایت سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ قیام میں قرأت کے بعد پندرہ مرتبہ یہ تسبیح پڑھی جائے اسی طرح روایت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ دوسرے سجدہ سے اٹھ کر بھی یہ تسبیح پڑھی جائے جب کہ ہم نے ابتداء باب میں یہ طریقہ نقل کیا ہے کہ حالت قیام میں سبحانک اللھم کے بعد پندرہ مرتبہ تسبیح پڑھی جائے پھر قرأت کے بعد دس مرتبہ تسبیح پڑھی جائے اور دوسرے سجدے سے اٹھنے کے بعد تسبیح پڑھنے کا کوئی ذکر نہیں کیا۔ تو یہ دونوں طریقے الگ الگ روایتوں میں مذکور ہیں پھر یہ کہ ان دونوں طریقوں میں تسبیح کی تعداد میں کوئی فرق نہیں ہے صرف پڑھنے کے مواقع میں فرق ہے اس لئے اختیار ہے کہ ان دونوں طریقوں میں سے جس طریقے کو چاہے اختیار کیا جائے اور بہتر یہ ہے کہ کبھی اس طریقے کے مطابق عمل کیا جائے اور کبھی اس طریقے کے مطابق تسبیحات پڑھی جائیں تاکہ قعدوں میں یہ تسبیحات بخلاف اور ارکان کے التحیات کے پہلے پڑھی جائیں۔ حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ سے یہ منقول ہے کہ اس نماز میں یہ سورتیں پڑھی جائیں اَلْھٰکُمُ التَّکَاثُرْ۔ وَالْعَصْرِ، قُلْ یَا اَیُّھَا الْکَافِرُوْنَ اور قُلْ ھُوَ ا اَحَدٌ بعض روایتوں میں اذا زلزلت وا لعادیات، اذاجاء اور سورت اخلاص کا پڑھنا بھی منقول ہے۔ جلال الدین سیوطی نے امام احمد سے یہ نقل کیا ہے کہ نماز تسبیح میں سلام پھیرنے سے پہلے یہ دعا بھی پڑھنی چاہیے۔ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ تَوْفِیْقَ اَھْلِ الْھُدٰی وَاَعْمَالَ اَھْلِ الْیَقِیْنِ وَمُنَا صِحَۃِ اَھْلِ التَّوْبَۃِ وَعَزْمَ اَھْلِ الصَّبْرِ وَجَدَّاَھْلِ الْخَشْیَۃِ وَطَلَبُ اَھْلِ الرَّغْبَۃِ وَتَعَبُّدَ اَھْلِ الْوَرْعِ وَعِرْفَانَ اَھْلِ الْعِلْمِ حَتّٰی اَخَافَکَ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ مَخَافَۃَ تَحْجِزُنِیْ عَنْ مُعَاصِیْکَ وَحَتّٰی اَعْمَلَ بِطَاعَتِکَ عَمَلًا اَسْتَحِقُّ بِہ رَضَاکَ وَحَتّٰی اَنَا صِحُکَ بِالتَوْبَۃِ خَوْفًا مِنْکَ وَحَتّٰی اَخْلُصَ لَکَ النَصِیْحَۃَ حَیَائً مِنْکَ وَحَتّٰی اَتَوَکَّلَ عَلَیْکَ فِی الْاُمُوْرِ کُلِّھَا وَحُسْنَ ظَنٍّ بِکَ سُبْحَانَ خَالِقِ النُّوْرِ۔ اے اللہ میں تجھ سے مانگتا ہوں اہل ہدایت کی سی توفیق اہل یقین (یعنی راسخ العقیدہ اور راسخ العمل لوگوں) کے سے اعمال، اہل توبہ کی سی خالص توبہ، اہل صبر کی سی پختگی، اہل خشیت کی سخت کوشش، طالبین حق کی سی طلب، پرہیز گاروں کی سی عبادت اور اہل علم کی سی معرفت یہاں تک کہ میں تیری ہی ذات سے ڈرنے لگوں۔ اے اللہ! میں تجھ سے (تیرے) خوف کا طلبگار ہوں جو مجھے تیری نافرمانیوں سے روک دے تاکہ میں تیری فرما نبرداری و خوشنودی کے وہ عمل کرنے لگوں جو مجھے تیری رضا کا مستحق گردانے تیرے خوف سے سچی توبہ کرنے لگوں یہاں تک کہ تیری ذات پر اچھا گمان رکھتے ہوئے تمام امور میں تیری ذات پر بھروسہ کرنے لگوں اور اپنے نور کے پیدا کرنے والے آپ ہر عیب اور برائی سے پاک ہیں۔ اس نماز کی فضیلت کے بارے میں عبدالعزیز ابن داؤد لکھتے ہیں کہ جو آدمی جنت میں داخل ہونا چاہے تو وہ نماز تسبیح کو اپنے اوپر لازم قرار دے لے۔ ابو عثمان زاہد نے فرمایا ہے کہ مصیبت و پریشانی کے دفیعہ اور غم و ھزن کو دور کرنے کے لئے اس نماز کے علاوہ میں نے کوئی اور چیز نہیں پائی۔ یعنی نماز تسبیح پڑھنے سے یہ چیزیں جاتی رہتی ہیں۔ اس نماز کی انہیں عظیم فضیلتوں کے پیش نظر اکثر ائمہ و مشائخ اور بزرگ اس نماز کو پڑھتے رہے ہیں۔ جمعہ کے روز دوپہر ڈھلنے کے بعد اس نماز کا پڑھنا مستحب ہے اگر اس نماز میں سجدہ سہو کی ضرورت پڑجائے تو سجدہ سہو کے اندر یہ تسبیحات نہ پڑھی جائیں کیونکہ اس طرح تسبیحات کی مقدار تین سو سے آگے بڑھ جائے گی۔ جن مسلمانوں کو اللہ نے اپنی عبادت و اطاعت کی توفیق دی ہے اور انہیں زیادہ سے زیادہ عمل خیر کرنے کی سعادت سے نوازا ہے ان کیلئے اس نماز کے پڑھنے کے سلسلہ میں درجہ اعتدال یہ ہے کہ یہ نماز ہر جمعہ کو پڑھی جائے چناچہ حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ کا اسی پر عمل تھا کہ وہ ہر جمعہ کے روز زوال کے بعد اس نماز کو پڑھتے تھے اور انہیں سورتوں کی قرأت کرتے تھے جو ابھی اوپر ان سے نقل کی گئی ہیں۔

1303Mishkaat-al-Masabih

قیامت کے روز سب سے پہلے نماز کی پرستش ہوگی

وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم یَقُوْلُ اِنَّ اَوَّلَ مَا یُحَاسَبُ بِہِ الْعَبْدُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مِنْ عَمَلِہٖ صَلَا تُہ، فَاِنْ صَلُحَتْ فَقَدْ اَفْلَحَ وَاَنْجَحَ وَاِنْ فَسَدَتْ فَقَدْ خَابَ وَخَسِرَفَاِنِ انْتَقَصَ مِنْ فَرِیْضَتِہٖ شَیْی ءٌ قَالَ الرَّبُّ تَبَارَکَ وَ تَعَالٰی اُنْظُرُ وا ھَلْ لِعَبْدِی مِنْ تَطَوُّعٍ فَیُکَمَّلُ بِھَا مَا انْتَقَصَ منِ َالْفَرَاضَۃِ ثُمَّ یَکُوْنُ سَائِرَُ عَمَلِہٖ عَلٰی ذٰلِکَ وَفِیْ رَوَایَۃٍ ثُمَّ الزَّکَاۃُ مِثْلُ ذٰلِکَ ثُمَّ تُوْ خَذُ الْاَعْمَالُ عَلٰی حَسَبِ ذٰلِکَ رَوَاہُ اَبُوْدَاؤدَو اَحْمَدُ عَنْ رَجُلٍ۔

اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ سر تاج دو عالم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت کے روز بندہ کے اعمال میں سب سے پہلے جس عمل کے بارے میں محاسبہ کیا جائے گا وہ اس کی نماز ہوگی، لہٰذا اگر اس کی نماز درست ہوگی (یعنی اس نے نماز کو صحیح ادا کیا ہوگا۔ یا یہ کہ اس کی نماز مقبول ہوئی ہوگی۔ تو وہ فلاح اور کامیابی پائے گا اور اگر نماز فاسد ہوگی (یعنی نماز ادا نہ کی گئی یا ادا تو کی گئی مگر غیر صحیح اور غیر مقبول) تو وہ ثواب سے ناامید ہوگا اور (عذاب میں مبتلا ہونے کی وجہ سے) خسارے میں رہے گا۔ ہاں اگر (کسی کی) فرض نماز میں کچھ کمی رہ گئی (یعنی نماز کے فرض، واجب اور سنت مؤ کدہ اور ارکان میں سے کوئی رکن رہ گیا اور نماز مکمل ہوگئی) تو اللہ بزرگ و برتر (فرشتوں سے) فرمائے گا کہ دیکھو میرے بندے کے پاس (یعنی اس کے نامہء اعمال میں) کچھ نفل یا سنت نماز بھی ہے۔ لہذا اگر اس کے نامہء اعمال میں سنت ونفل نماز ہوگی تو اس کے ذریعے سے اس کی فرض نماز کی کمی پوری کی جائے گی، پھر اسی طرح بندے کے دوسرے اعمال کا حساب ہوگا۔ ایک دوسری روایت میں آخری الفاظ یوں ہیں پھر ایسے ہی زکوٰۃ کا حساب ہوگا اور پھر بقیہ اعمال کا محاسبہ کیا جائے گا۔ یہ روایت ابوداؤد نے نقل کی ہے اور امام احمد بن حنبل (رح) نے یہ روایت ایک (دوسرے) آدمی سے نقل کی ہے۔ تشریح ایک دوسری روایت میں بتایا گیا ہے کہ قیامت کے روز بندے سے سب سے پہلے جس چیز کے بارے میں سوال کیا جائے گا وہ خون ہوگا اور یہاں فرمایا جا رہا ہے کہ سب سے پہلے نماز کا محاسبہ ہوگا۔ لہٰذا ان دونوں روایتوں میں تطبیق یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حقوق میں سے تو سب سے پہلے نماز کا مواخذہ ہوگا اور بندوں کے حقوق میں سب سے پہلے خون کا حساب لیا جائے گا۔ حدیث کے آخری الفاظ پھر اسی طرح بندے کے دوسرے اعمال کا حساب ہوگا کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح فرض نماز کی کوئی کمی سنت و نفل نماز سے پوری کی جائے گی اسی طرح دوسرے فرض اعمال میں بھی کوئی کوتاہی ہوگی تو اسے نفل اعمال کے ذریعے پورا کیا جائے گا۔ مثلاً اگر فرض روزوں میں کوئی نقصان واقع ہوگا تو وہ نقصان نفل روزے سے پورا کیا جائے گا اگر زکوٰۃ میں کچھ نقصان ہوگا تو صدقے نفل سے اسے پورا کیا جائے گا۔ اگر فرض حج میں کوئی کمی رہ گئی تو نفل حج یا عمرہ سے پوری کی جائے گی اور اگر کسی پر کسی کا کوئی حق (مطالبہ) ہوگا تو اس کے اعمال صالحہ سے اس مطالبہ کی بقدر حصہ لے کر صاحب مطالبہ کو دے دیا جائے گا اسی طرح تمام اعمال کے بارے میں پورا پورا محاسبہ کیا جائے گا۔

1304Mishkaat-al-Masabih

نماز اور نمازی کی عظمت و فضیلت

وَعَنْ اَبِیْ اُمَامَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا اَذِنَ اﷲُ لِعَبْدٍ فِی شَیْی ءٍ اَفْضَلَ مِنَ الرَّکْعَتَیْنِ یُصَلِّیْھِمَا وَاِنَّ الْبِرَّ لَیُذَرُّ عَلٰی رَأْسِ الْعَبْدِ مَادَامَ فِیْ صَلَا تِہٖ وَمَا تَقَرَّبَ الْعِبَادُ اِلَی اﷲِ بِمِثْلِ مَاخَرَجَ مِنْہُ یَعْنِی الْقُرْآنَ۔ (رواہ احمد بن حنبل والترمذی)

اور حضرت ابوامامہ ؓ راوی ہیں کہ سر تاج دو عالم ﷺ نے فرمایا۔ اللہ جل شانہ، بندے کے کسی عمل پر اپنی رحمت کے ساتھ اتنا زیادہ متوجہ نہیں ہوتا جتنا کہ اس کی پڑھی ہوئی دو رکعت نماز پر (چونکہ تمام اعمال میں نماز سب سے زیادہ افضل ہے اس لئے بندے پر اس کے اور اعمال کی بسبب نماز پڑھنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی عنایت بہت زیادہ ہوتی ہے) اور بندہ جب تک نماز میں مشغول رہتا ہے اس کے سر پر نیکی و بھلائی چھڑ کی جاتی ہے (یعنی اس کے اوپر رحمت وثواب کا جو نیکی کا نتیجہ ہے نزول ہوتا ہے) بندہ اللہ کا تقرب حاصل کرنے میں جس قدر اس سے نکلے ہوئے سر چشمہ ہدایت یعنی قرآن کریم سے فائدہ اٹھاتا ہے اتنا کسی چیز سے نہیں (یعنی اللہ کا قرب جتنا زیادہ قرآن کریم پڑھنے سے ہوگا اتنا اور کسی چیز سے حاصل نہیں ہوگا۔ (احمد بن حنبل، جامع ترمذی )