نیکی و صلہ رحمی کا بیان

Mishkaat-al-Masabih · Chapter 144 · 37 hadiths · Page 2 of 2

4826Mishkaat-al-Masabih

ناتے داروں کے ساتھ بھلائی کرنے کی اہمیت

وعن عبد الرحمن بن عوف قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول قال الله تبارك أنا الله وأنا الرحمن خلقت الرحم وشققت لها من اسمي فمن وصلها وصلته ومن قطعها بتته . رواه أبو داود

اور حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ بزرگ و برتر نے ارشاد فرمایا ہے کہ میں اللہ ہوں میں رحمن ہوں یعنی صفت و رحمت کے ساتھ متصف ہوں میں نے رحم یعنی رشتے ناطے کو پیدا کیا ہے اور میں نے اس کے نام کے لفظ اپنے نام یعنی رحمن کے لفظ سے نکالا ہے لہذا جو شخص رحم کو جوڑے گا یعنی رشتہ ناطے کے حقوق کو ادا کرے گا تو میں بھی اس کو اپنی رحمت کے ساتھ جوڑ دوں گا اور جو شخص رحم کو توڑے گا یعنی رشتہ ناطہ کے حقوق ادا نہیں کرے گا میں بھی اس کو اپنی رحمت سے جدا کر دوں گا۔ (ابوداؤد) تشریح میں اللہ ہوں، یعنی میں واجب الوجود ہوں کہ میری ذات پاک اپنے وجود اور اپنے حکم و فیصلہ کے نفاذ میں کسی کی محتاج نہیں ہے یہ جملہ دراصل آگے ارشاد ہونے والے کلام کی اہمیت کو ظاہر کرنے کے لئے بطور تمہید ہے اور اس تمہید میں پہلے اسم خاص کا ذکر کیا ہے اور پھر اپنی صفت رحمن کو ذکر کیا جس کا لفظی مادہ اشتقاق وہی ہے جو رحم کا ہے۔

4827Mishkaat-al-Masabih

ناتا توڑنے والے اللہ کی رحمت سے محروم رہتے ہیں۔

وعن عبدالله بن أبي أوفى قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول لا تنزل الرحمة على قوم فيهم قاطع الرحم رواه البيهقي في شعب الإيمان

اور حضرت عبداللہ ابن ابی اوفیٰ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اس قوم پر رحمت نازل نہیں ہوتی جس میں ناتا توڑنے والا ہو۔ (بہیقی) تشریح قوم سے مراد پوری قوم نہیں بلکہ محض وہ لوگ ہیں جو ناتا توڑنے والے کی مدد و حمایت کریں یا اس کو اپنے ناطے داروں کے ساتھ بد سلوکی کے ذریعہ ناتا توڑنے سے منع نہ کریں۔ یہ بھی احتمال ہے کہ رحمت سے باران رحمت مراد ہو یعنی جس قوم یا جس آبادی کے اندر ناتا توڑنے والا کوئی شخص ہوتا ہے تو ناتا توڑے جانے کی نحوست سے اس قوم یا آبادی کو بارش سے محروم رکھا جاتا ہے۔

4828Mishkaat-al-Masabih

بغاوت اور قطع رحم وہ گناہ ہیں جن کی وجہ سے دنیا میں عذاب ہوتا ہے۔

وعن أبي بكرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ما من ذنب أحرى أن يعجل الله لصاحبه العقوبة في الدنيا مع مايدخر له في الآخرة من البغي وقطيعة الرحم . رواه الترمذي وأبو داود

اور حضرت ابوبکرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کوئی گناہ اس بات کے زیادہ لائق نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ارتکاب کرنے والے کو دنیا میں بھی اس کی سزا دیدے اور مرتکب کو آخرت میں بھی دینے کے لئے اس سزا کو اٹھا رکھے ہاں دو گناہ بیشک اس بات کے لائق ہیں کہ ایک تو امام وقت کے خلاف بغاوت کرنا اور دوسرے ناتا توڑنا۔ (ترمذی، ابوداؤد) تشریح اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ اپنے ملک کے سربراہ اور قانونی حکومت کے خلاف علم بغاوت بلند کرنا اور ناتا توڑنا یعنی اپنے اعزاء و قرباء کے ساتھ بدسلوکی اور ان کے حقوق کی ادائیگی سے اعرض کرنا بڑا سخت گناہ اور نہایت غمگین بات ہے چناچہ فرمایا گیا ہے کہ ان دونوں گناہوں کے مرتکب کو محض آخرت ہی میں عذاب نہیں دیا جائے گا بلکہ اللہ ان کو سزا دینے میں جلدی کرے گا بایں طور کہ ان کو دنیا میں بھی اپنے ان گناہوں کی سزا بھگتنی پڑے گی گویا ایسے لوگ نہ دنیا میں چین پاسکتے ہیں اور نہ آخرت میں یہاں بھی سزا پائیں گے خواہ اس کی صورت کچھ ہی ہو اور وہاں بھی عذاب میں مبتلا کئے جائیں گے کیونکہ یہ دونوں گناہ اس طرح ہیں کہ ان کے اثرات صرف دینی زندگی کو نقصان نہیں پہنچاتے بلکہ دنیا میں بھی برے نتائج مرتب کرتے ہیں چناچہ حکومت کے خلاف بغاوت برپا کرنے سے سارے ملک کا نظم ونسق درہم برہم ہوجاتا ہے پوری قوم سخت افراتفری اور مختلف مصائب و آلام میں مبتلا ہوجاتی ہے اور سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا کہ قومی اور ملی توانائی ناگہانی کا شکار ہوجاتی ہے جس سے دشمن غالب آجانے کا موقع ملتا ہے اور سی طرح ناتا توڑنے سے آپس میں نفرت و عداوت پیدا ہوتی ہے اور دلوں میں کدورت کو راہ مل جاتی ہے اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اعزاء اور اقرباء جو باہم محبت و موانست کے ذریعہ ایک دوسرے کے دکھ دردوں میں شریک ہو کر ایک پر سکون بخش ماحول پیدا کرسکتے ہیں اور آپس کے میل جول کے سبب سے بڑی سے بڑی مصیبت اور سخت سے سخت حالات کو انگیز کرنے کی طاقت فراہم کرسکتے ہیں وہ باہمی لڑائی جھگڑے اور افتراق و انتشار کی وجہ سے سخت جسمانی و روحانی اذیت نا کیوں اور پریشانیوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں لہذا ان گناہوں کا ارتکاب کرنے والوں کو دنیا میں زیادہ ڈھیل نہیں دی جاتی بلکہ اللہ کی طرف سے ان کی سزا کا فیصلہ جلد صادر ہوجاتا ہے تاکہ وہ پہلے تو دنیا میں اپنے کئے کی سزا بھگت کر دوسروں کے لئے سامان عبرت بنیں اور پھر آخرت میں بھی عذاب میں مبتلا ہوں۔ یہ بات واضح ہے کہ دنیا میں سزا پانا اور آخرت میں بھی عذاب کا مستوجب ہونا محض ان دو گناہوں کے ساتھ مخصوص نہیں ہے ہوسکتا ہے کہ کچھ اور گناہ بھی انہی کی طرح کے ہوں مگر اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ دونوں گناہ ان میں بدتر اور زیادہ ہیبت ناک ہیں۔

4829Mishkaat-al-Masabih

فائزین کے ساتھ جنت میں داخل ہونے سے کون لوگ محروم رہیں گے۔

وعن عبدالله بن عمرو قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يدخل الجنة منان ولا عاق ولا مدمن خمر . رواه النسائي والدارمي

اور حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جنت میں نہ تو وہ شخص داخل ہوگا جو کسی کے ساتھ بھلائی کر کے اس پر احسان رکھے نہ وہ شخص جو ماں باپ کی نافرمانی کرے اور نہ وہ شخص جو شراب نوشی کرے اور بغیر توبہ کے مرجائے۔ (نسائی، دارمی) تشریح منان اصل میں منۃ سے مشتق ہے جس کے معنی ہیں کسی کو کچھ دیا جائے یا اس کے ساتھ نیکی کی جائے اور پھر اس پر اپنا احسان جتایا جائے یہ خصلت یعنی احسان کر کے اس کو جتانا نہایت بری بات ہے قرآن کریم میں ہے، آیت (لاتبطلوا صدقتکم بالمن والاذی)۔ احسان رکھ کر اور ایذاء دے کر اپنی خیرات کو ضائع نہ کرو۔ بعض حضرات نے لفظ منان کے بارے میں یہ کہا ہے کہ یہ من سے مشتق ہے جس کے معنی کاٹنا ہے لہذا منان کے معنی یہ ہوں گے وہ شخص جو ناطے کو کاٹے۔ عاق سے مراد وہ شخص جو ماں باپ اور دوسرے اقرباء کو کسی شرعی وجہ کے بغیر ایذاء پہنچائے یا عاق کا اطلاق خاص طور پر اس شخص پر ہوتا ہے جو ماں باپ کو یا ان دونوں میں سے کسی ایک کو ستائے۔ جنت میں داخل نہ ہونے سے یہ مراد ہے کہ ایسے لوگ اللہ کے ان نیک اور صالح بندوں کے ساتھ جنت میں داخل نہیں ہوں گے جو آخرت میں حساب کتاب کے دن فائز المرام اور نجات یافتہ قرار دیئے جائیں اور بلا کسی روک ٹوک کے شروع ہی میں جنت میں داخل کردیئے جائیں گے یا یہ مراد ہے کہ یہ لوگ عذاب کے بغیر جنت میں داخل نہیں ہوں گے یعنی پہلے ان کو اپنے گناہ کی سزا بھگتنی ہوگی اور اس کے بعد جنت میں پہنچائے جائیں گے تاہم اگر اللہ چاہے گا تو ان کے بغیر عذاب کے بھی جنت میں داخل کر دے گا کیونکہ اس کا وعدہ ہے کہ، آیت (ویغفر مادون ذالک لمن یشاء) اور اس کے علاوہ بھی جس کو وہ چاہے بخش دے گا۔

4830Mishkaat-al-Masabih

اقرباء کے ساتھ نیک سلوک کرنے کی برکت

وعن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم تعلموا من أنسابكم ما تصلون به أرحامكم فإن صلة الرحم محبة في الأهل مثراة في المال منسأة في الأثر . رواه الترمذي وقال هذا حديث غريب

اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم اپنے نسبوں میں اس قدر سیکھو کہ جس کے ذریعہ تم اپنے ناطے داروں کے ساتھ حسن سلوک کرسکو کیونکہ ناتا داروں کے ساتھ حسن سلوک کرنا اقرباء میں باہمی محبت و انس کا سبب مال میں کثرت و برکت کا ذریعہ اور درازی عمر کا باعث بنتا ہے۔ تشریح مطلب یہ ہے کہ تم اپنے باپ، دادا، ماؤں، دادیوں، نانیوں، ان کی اولاد اور دیگر اعزاء و اقرباء کی پہچان رکھو ان کے ناموں سے باخبر رہو اور ان کے حالات سے واقفیت رکھو تاکہ تم ذوی الارحام کو جان لو جن کے ساتھ حسن سلوک کرنا تمہاری ذمہ داری ہے اور یہ جاننا تمہارے لئے ضروری اور فائدہ مند ہے۔

4831Mishkaat-al-Masabih

خالہ ماں کا درجہ رکھتی ہے

وعن ابن عمر أن رجلا أتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله إني أصبت ذنبا عظيما فهل لي من توبة ؟ قال هل لك من أم ؟ قال لا . قال وهل لك من خالة ؟ . قال نعم . قال فبرها . رواه الترمذي

اور حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ یا رسول اللہ مجھ سے ایک بڑا گناہ صادر ہوگیا ہے میری توبہ کے لئے کیا چیز ہے یعنی کوئی ایسا عمل بتادیں جس کو اختیار کر کے میں اللہ کی رحمت کو اپنی طرف متوجہ کرا سکوں اور اپنا گناہ معاف کروا سکوں۔ حضور نے فرمایا کیا تمہاری ماں ہے؟ اس نے کہا کہ نہیں، آنحضرت ﷺ نے فرمایا تو کیا تمہاری خالہ ہے اس نے کہا ہاں۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا تم اس کے ساتھ نیک سلوک کرو یعنی اس کی خدمت و اطاعت کرو اور اس کی دیکھ بھال رکھو نیز اپنی حثییت و اطاعت کے مطابق اس کی مالی امداد و اعانت کرتے رہو۔ (ترمذی) تشریح اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ناطے داروں کے ساتھ حسن سلوک، گناہوں کے کفارہ کا ذریعہ ہے اگرچہ وہ گناہ کبیرہ ہی کیوں نہ ہو تاہم یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کو وحی کے ذریعہ بتایا گیا ہو کہ حسن سلوک کا کبیرہ گناہ کے کفارہ کا سبب بننا اس شخص کے ساتھ مخصوص ہے لہذا آنحضرت ﷺ نے اس سے فرما دیا کہ تم اپنی خالہ سے حسن سلوک کرو تمہارا گناہ بخش دیا جائے گا اور یا یہ کہ اس شخص سے جو گناہ صادر ہوا تھا وہ کبیرہ گناہ نہیں تھا بلکہ حقیقت میں صغیرہ گناہ تھا البتہ اس شخص نے اپنے مضبوط جذبہ ایمانی اور احتیاط وتقوی کی بنا پر اس گناہ کو ایک بڑا گناہ سمجھا اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ خالہ، ماں کا درجہ رکھتی ہے۔

4832Mishkaat-al-Masabih

والدین کی وفات کے بعد بھی ان کے ساتھ حسن سلوک کی صورتیں

وعن أبي أسيد الساعدي قال بينا نحن عند رسول الله صلى الله عليه وسلم إذ جاء رجل من بني سلمة فقال يا رسول الله هل بقي من بر أبوي شيء أبرهما به بعد موتهما ؟ قال نعم الصلاة عليهما والاستغفار لهما وإنفاذ عهدهما من بعدهما وصلة الرحم التي لا توصل إلا بهما وإكرام صديقهما . رواه أبو داود وابن ماجه

اور حضرت ابواسید ساعدی کہتے ہیں کہ ایک دن ہم لوگ رسول اللہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک ایک شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوا جو قبائل انصار میں سے ایک قبیلہ بنو سلمہ سے تعلق رکھتا تھا اس شخص نے عرض کیا رسول اللہ میرے ماں باپ کے حسن سلوک کا کچھ حصہ ابھی باقی ہے جس کو میں ان کی وفات کے بعد پورا کروں یعنی میں اپنے ماں باپ کی زندگی میں ان کے ساتھ حسن سلوک کرتا تھا وہ مرچکے ہیں تو کیا ان کی وفات کے بعد بھی ان کے حق میں سلوک کرنے کی کوئی صورت ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہاں ان کے حق میں دعا کرنا (جس میں نماز جنازہ بھی شامل ہے) ان کے لئے استغفار کرنا ان کی موت کے بعد ان کی وصیت کو پورا کرنا ان کے ناطے داروں کے ساتھ حسن سلوک کرنا جن کے ساتھ حسن سلوک کرنا محض ان (ماں باپ) کے سبب سے ہے یعنی ماں باپ کے وہ عزیز و اقا رب جن کے ساتھ محض اس وجہ سے حسن سلوک کیا جاتا ہے تاکہ ماں باپ کی خوشنودی حاصل ہو نہ کہ کسی اور غرض سے اور ماں باپ کے دوستوں کی عزت و تعظیم کرنا، یہ وہ صورتیں ہیں جن کو اختیار کر کے ماں باپ کی وفات کے بعد بھی ان کے ساتھ حسن سلوک کا سلسلہ جاری رکھا جاسکتا ہے۔ (ابوداؤد، ابن ماجہ)۔

4833Mishkaat-al-Masabih

دایہ حلیمہ کے ساتھ آنحضرت ﷺ کا حسن سلوک

وعن أبي الطفيل قال رأيت النبي صلى الله عليه وسلم يقسم لحما بالجعرانة إذ أقبلت امرأة حتى دنت إلى النبي صلى الله عليه وسلم فبسط لها رداءه فجلست عليه . فقلت من هي ؟ فقالوا هي أمه التي أرضعته . رواه أبو داود

اور حضرت ابوطفیل ؓ کہتے ہیں کہ جعرانہ میں، میں نے دیکھا کہ رسول اللہ گوشت تقسیم فرما رہے ہیں کہ اچانک ایک خاتون آئیں جب وہ آنحضرت ﷺ کے پاس پہنچیں تو آپ نے ان کے لئے اپنی چادر مبارک بچھا دی اور وہ اس پر بیٹھ گئیں میں نے ان کے ساتھ آنحضرت ﷺ کا یہ حسن سلوک دیکھا تو لوگوں سے پوچھا کہ یہ خاتون کون ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ یہ آنحضرت ﷺ کی وہ ماں ہیں جنہوں نے آنحضرت ﷺ کو دودھ پلایا تھا۔ (ابوداؤد) تشریح حدیث میں جن محترم خاتون کا ذکر ہے وہ دایہ حلیمہ ہیں جن کو آنحضرت ﷺ کی رضاعی ماں ہونے کا شرف حاصل ہے آنحضرت ﷺ کو دایہ حلیمہ کے علاوہ ایک اور خاتون نے بھی ابتداء کے کچھ دنوں تک دودھ پلایا تھا جن کا نام ثوبیہ ہے اور جو ابولہب کی باندی تھیں ان دونوں کے اسلام کے بارے میں علماء کا اختلافی اقوال ہیں۔

4834Mishkaat-al-Masabih

کسی مصیبت کے وقت اپنے نیک اعمال کے وسیلہ سے دعا مانگنا مستحب ہے

عن ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم قال بينما ثلاثة نفر يماشون أخذهم المطر فمالوا إلى غار في الجبل فانحطت على فم غارهم صخرة من الجبل فأطبقت عليهم فقال بعضهم لبعض انظروا أعمالا عملتموها لله صالحة فادعوا الله بها لعله يفرجها . فقال أحدهم اللهم إنه كان لي والدان شيخان كبيران ولي صبية صغار كنت أرعى عليهم فإذا رحت عليهم فحلبت بدأت بوالدي أسقيهما قبل ولدي وإنه قد نأى بي الشجر فما أتيت حتى أمسيت فوجدتهما قد ناما فحلبت كما كنت أحلب فجئت بالحلاب فقمت عند رؤوسهما أكره أن أوقظهما وأكره أن أبدأ بالصبية قبلهما والصبية يتضاغون عند قدمي فلم يزل ذلك دأبي ودأبهم حتى طلع الفجر فإن كنت تعلم أني فعلت ذلك ابتغاء وجهك فافرج لنا فرجة نرى منها السماء ففرج الله لهم حتى يرون السماء . قال الثاني اللهم إنه كان لي بنت عم أحبها كأشد ما يحب الرجال النساء فطلبت إليها نفسها فأبت حتى آتيها بمائة دينار فلقيتها بها فلما قعدت بين رجليها . قالت يا عبد الله اتق الله ولا تفتح الخاتم فقمت عنها . اللهم فإن كنت تعلم أني فعلت ذلك ابتغاء وجهك فافرج لنا منها ففرج لهم فرجة . وقال الآخر اللهم إني كنت استأجرت أجيرا بفرق أرز فلما قضى عمله قال أعطني حقي . فعرضت عليه حقه فتركه ورغب عنه فلم أزل أزرعه حتى جمعت منه بقرا وراعيها فجاءني فقال اتق الله ولا تظلمني وأعطني حقي . فقلت اذهب إلى ذلك البقر وراعيها فقال اتق الله ولا تهزأ بي . فقلت إني لا أهزأ بك فخذ ذلك البقر وراعيها فأخذ فانطلق بها . فإن كنت تعلم أني فعلت ذلك ابتغاء وجهك فافرج ما بقي ففرج الله عنهم . متفق عليه

حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے کسی قوم کا یہ واقعہ بیان کیا کہ ایک مرتبہ تین آدمی ایک ساتھ کہیں چلے جا رہے تھے کہ راستہ میں سخت بارش نے ان کو آلیا وہ اس بارش سے بچنے کے لئے پہاڑ کے ایک غار میں گھس گئے اتنے میں پہاڑ سے ایک بڑا پتھر گر کر اس غار کے منہ پر آپڑا ان تینوں پر باہر نکلنے کا راستہ بند کردیا وہ تینوں اس صورت حال سے سخت پریشان ہوئے اور اس غار میں سے نکلنے کی کوئی سبیل نظر نہیں آئی، تو آپس میں کہنے لگے کہ اب تم اپنے ان اعمال پر نظر ڈالو جو تم نے کسی دنیاوی فائدہ کی تمنا اور جذبہ نام و نمود کے بغیر محض اللہ کی خوشی کے لئے کئے ہوں اور ان اعمال کے وسیلہ سے اللہ سے دعا مانگو شاید اللہ ہماری نجات کے راستہ کھول دے چناچہ ان میں سے ایک نے کہا اے اللہ تو خوب جانتا ہے کہ میرے ماں باپ بوڑھے تھے اور میرے کئی چھوٹے چھوٹے بچے بھی تھے اور میں بکریاں چرایا کرتا تھا کہ ان کے دودھ کے ذریعہ ان سب کا انتظام کرسکوں، چناچہ جب میں شام کو اپنے گھر والوں کے پاس لوٹتا اور بکریوں کا دودھ نکالتا تو اپنے ماں باپ سے ابتداء کرتا اور ان کو اپنی اولاد سے پہلے دودھ پلاتا ایک دن ایسا اتفاق ہوا کہ چراگاہ کے درخت مجھے دور لے گئے یعنی میں بکریوں کا چراتا ہوا بہت دور نکل گیا یہاں تک کہ شام ہوگئی اور میں گھر واپس نہ آسکا جب رات کو گھر پہنچا تو اپنے ماں باپ کو سوتے ہوئے پایا پھر میں نے اپنے معمول کے مطابق دودھ دوہا اور دودھ سے بھرا ہو برتن لے کر ماں باپ کے پاس پہنچا اور ان کے سرہانے کھڑا ہوگیا کہ میں نے یہ ناپسند کیا کہ ان کو جگاؤں اور نہ ہی یہ گوارا کیا کہ ان سے پہلے اپنے بچوں کو دودھ پلاؤں جب کہ وہ بچے میرے پیروں کے پاس پڑے ہوئے مارے بھوک کے رو بلک رہے تھے اور وہ سب اپنے حال پر قائم رہے یہاں تک کہ صبح ہوگئی یعنی پوری رات اسی حالت میں دودھ کا برتن لئے ماں باپ کے سرہانے کھڑا رہا وہ دونوں سوتے رہے اور میرے بچے بھوک سے بیتاب ہو کر روتے رہے پس اے اللہ اگر تو جانتا ہے کہ میں نے یہ کام محض تیری رضا اور خوشنودی کی طلب میں کیا ہے تو میں اپنے اس عمل کے واسطہ دیتے ہوئے تجھ سے التجا کرتا ہو کہ تو ہمارے لئے اس پتھر کو کو اتنا کھول دے کہ اس کشادگی کے ذریعہ ہم آسمان کو دیکھ سکیں، چناچہ اللہ نے اس کی دعا قبول فرمائی اور اس پتھر کو اتنا سرکا دیا کہ ان کو آسمان نظر آنے لگا۔ دوسرے شخص نے اس طرح کہا کہ اے اللہ میرے چچا کی ایک بیٹی تھی میں اس کو اتنا ہی زیادہ چاہتا تھا جتنا زیادہ کوئی مرد کسی عورت کو چاہ سکتا ہے جب میں نے اس سے اپنے آپ کو میرے سپرد کردینے کی خواہش ظاہر کی تو اس نے یہ کہہ کر میری خواہش ماننے سے انکار کردیا کہ جب تک میں سو دینار اس کو پیش نہ کروں میری جنسی خواہش پوری نہیں ہوگی پھر میں نے محنت و مشقت کر کے سو دینار فراہم کئے ان دیناروں کو لے کر اس کے پاس پہنچا وہ اپنی شرط پوری ہوجانے پر میری خواہش کے لئے راضی ہوگئی جب میں جنسی فعل کے لئے اس کی دونوں ٹانگوں کے درمیان بیٹھا تو وہ کہنے لگی کہ بندہ اللہ اللہ سے ڈر اور میری مہر امانت کو توڑنے سے باز رہ یعنی اس نے مجھے اللہ کا خوف دلاتے ہوئے التجا کی کہ میری آبرو کو نہ لوٹو اور حرام طور پر ازالہ بکارت کر کے میرے پردہ ناموس کو جو کسی کی امانت ہے یوں تار تار نہ کرو میں یہ سنتے ہی خوف اللہ سے کانپنے لگا اور اپنے نفس کی گمراہی پر شرمسار ہو کر اس کے پاس سے اٹھ کھڑا ہو پس اے اللہ اگر تو جانتا ہے کہ میرا یہ عقل یعنی قابو حاصل ہونے کے باوجود اس کو چھوڑ کر ہٹ جانا اپنے نفس کو کچل دینا محض تیری رضا و خوشنودی کی طلب میں تھا تو میں تجھ سے التجا کرتا ہوں کہ تو اس پتھر کر ہٹا کر ہمارے لئے راستہ کھول دے چناچہ اللہ اس شخص کی دعا بھی قبول فرمائی اور اس پتھر کو تھوڑا سا اور سرکا دیا پھر تیسرے شخص نے اس طرح کہنا شروع کیا اے اللہ میں نے ایک مزدور کو ایک فرق چاول کے عوض مزدوری پر لگایا جب اس نے اپنا کام پورا کیا تو مطالبہ کیا کہ میری اجرت دو میں نے اس کی اجرت دی مگر وہ بےنیازی کے ساتھ اس کو چھوڑ کر چلا گیا پھر میں نے ان چاولوں کو اپنی زراعت میں لگایا اور کاشت کرتا رہا یہاں تک کہ انہی چاولوں کے ذریعہ میں نے بیل اور ان بیلوں کے چرواہیے جمع کر لئے پھر ایک بڑے عرصہ کے بعد وہ مزدور میرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ اللہ سے ڈرو مجھ پر ظلم نہ کرو اور میرا حق مجھ کو واپس کرو میں نے کہا بیشک تیرا حق مجھ پر واجب ہے ان بیلوں اور ان چرواہوں کے پاس جاؤ اور ان کو اپنے قبضہ میں لے لو اس نے میری بات سن کر بڑی حیرت سے میری طرف دیکھا اور کہا اللہ سے ڈرو اور میرے ساتھ مذاق نہ کرو میں نے کہا کہ میں تم سے مذاق نہیں کر رہا ہوں جا کر ان بیلوں اور ان کے چرواہوں کو لے لو اس کے بعد اس نے ان سب کو اپنے قبضہ میں کیا ورچلا گیا پس اے اللہ تو جانتا ہے کہ میرا وہ عمل محض تیری رضا اور خوشنودی کی طلب میں تھا تو میں اپنے اس عمل کے واسطے سے التجا کرتا ہوں کہ تو یہ پتھر جتنا بھی باقی رہ گیا ہے اس کو سرکا دے، چناچہ اللہ نے غار کے منہ کا باقی حصہ بھی کھول دیا۔ (بخاری ومسلم) تشریح جب کہ وہ بچے میرے پیروں کے پاس پڑے ہوئے۔ الخ۔۔ سے معلوم ہوتا ہے کہ واقعہ جس قوم کے افراد کے متعلق ہے اس کی شریعت میں ماں باپ کا حق اولاد کے نفقہ و حق پر مقدم تھا جب ہی تو اس شخص نے ماں باپ کو دودھ پلانے سے پہلے اپنے بچوں کو دودھ پلانا گوارا نہیں کیا حالانکہ بھوک کی شدت سے رات بھر روتے رہے لیکن بعض حضرات کے قول کے مطابق ہوسکتا ہے کہ اس شخص نے اپنے بچوں کو بقدر رسد رمق تو دودھ پلا دیا تھا مگر وہ اتنی مقدار پر مطمئن نہیں ہوئے تھے اور مزید دودھ پلانے کے رو چلا رہے تھے۔ فرق مدینہ میں ایک رائج پیمانہ کا نام تھا جس میں سولہ رطل یعنی تقریبا آٹھ سیر غلہ آتا تھا یہ پیمانہ عام طور پر غلہ وغیرہ کے لین دین میں ناپ تول کے کام آتا تھا۔ بیلوں کے چرواہے سے مراد وہ غلام ہیں جو کھیتی باڑی کے کام، چوپایوں کے دیکھ بھال اور ان کو چرانے پر مامور ہوتے تھے حدیث میں ان چاولوں کی کاشت سے حاصل ہونے والے مال کے طور پر صرف بیلوں اور چراہوں کا ذکر اکثر و اغلب کے اعتبار سے ہے کہ اس شخص نے ان چاولوں کو اپنی زراعت میں لگا کر بہت کچھ حاصل کیا یہاں تک کہ میرے پاس بہت زیادہ مال و اسباب جمع ہوگیا جیسے بیل اونٹ، گوسفند اور غلام وغیرہ۔ اس حدیث سے مختلف مسائل اخذ کئے جاتے ہیں چناچہ اس سے ایک بات تو یہ معلوم ہوئی کہ کسی سخت آفت کے وقت اپنے نیک اعمال کو وسیلہ بنا کر اللہ سے دعا مانگنا مستحب ہے جیسا کہ اللہ نے ان تنیوں کی دعا قبول کی اور آنحضرت ﷺ کا اس واقعہ کو مدح و تعریف اور ذکر فضیلت کے طور پر صحابہ کے سامنے بیان کرنا اس امر کی دلیل ہے اور اگر یہ مستحب نہ بھی ہو تو اس کے جائز ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے۔ دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرنا ان کو اپنے بال بچوں پر ترجیح دینا ان کو کسی تکلیف و مشقت میں مبتلا کرنے سے اجتناب اور بہر صورت ان کے آرام و سکون کو مدنظر رکھنا بڑی فضیلت کی بات ہے۔ تیسری بات یہ معلوم ہوئی کہ جو شخص سو رہا ہو اور خاص طور پر وہ شخص جو قابل احترام ولائق تعظیم ہو تو اس کو نیند سے اٹھانا مکروہ ہے علاوہ اس صورت کے جب کہ اس نے نماز نہ پڑھی ہو اور فرض نماز کا وقت ختم ہو رہا ہو۔ چوتھی بات یہ معلوم ہوئی کہ نیند کی راحت کھانا کھانے سے زیادہ لذت آمیز ہے کہ نیند کا مزہ بھوک کی حالت میں بھی غالب رہتا ہے۔ پانچویں بات یہ معلوم ہوئی کہ عفت و پارسائی اور انسانی نفس کو حرام امور سے باز رکھنا خصوصا اس صورت میں جبکہ کسی طرح کی کوئی رکاوٹ بھی سامنے نہ ہو بڑی فضیلت کی بات ہے اور انسانی کردار کی پختگی و عظمت کی دلیل ہے چناچہ نفس کی خواہش اور خاص طور پر جنسی خواہش کہ جو دوسری تمام خواہشات کے مقابلہ میں کہیں زیادہ غالب اور سرکش ہے انسان کو سخت ترین حالات سے دو چار کرتی ہے کہ اگر کوئی شخص اس کے سامنے بےبس ہوجاتا ہے تو عقل اور حرام و حلال کے درمیان تمیز کرنے کی صلاحیت تک ختم ہوجاتی ہے لہذا جنسی خواہش کے اس قدر شدید غلبہ کی صورت میں جب کہ اس خواہش کی تکمیل کے درمیان کوئی رکاوٹ بھی نہ ہو کسی مرد کا عین موقع پر نفس کو کچل دینا اور حرام کاری سے باز رہنا ایک مثالی عظمت کردار کا مظہر ہے۔ چھٹی بات یہ معلوم ہوئی کہ غیر کے مال میں اس کی اجازت کے بغیر تصرف کرنا جائز ہوتا ہے بشرطیکہ اس کی اجازت حاصل ہوجائے اس کے بعد، جیسا کہ حضرت امام ابوحنیفہ کا مسلک ہے کہ فضولی کا تصرف جائز ہوجاتا ہے اور یہ جواز مالک کی اجازت پر موقوف رہتا ہے کہ اگر مالک اجازت دے دیتا ہے تو وہ تصرف نافذ العمل قرار پایا جاتا ہے۔ ساتویں بات یہ معلوم ہوئی کہ نیک عہد و اقرار، ادئیگی امانت اور خوش معاملگی نہ صرف بہتر چیز ہے بلکہ انسان کو قرب الٰہی سے ہمکنار کرنے اور آفات مصائب سے نجات دلانے کا باعث ہے۔ آٹھویں بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ بندہ کسی آفت و بلا میں گرفتار ہوجانے پر دعا کرنا بہتر ہے کیونکہ وہ دعا قبول ہوتی ہے اور بندہ کو اس آفت و بال سے نجات دلانے کا سبب بنتی ہے۔ اور نویں بات یہ معلوم ہوئی کہ اللہ کے نیک صالح بندوں کے ذریعہ ایسی چیزوں کا ظاہر ہونا جو عام انسانی عادات کے خلاف ہوں اور جن کو کرامات کہا جاتا ہے برحق ہے اور کرامات کی سچائی میں کوئی شبہ نہیں کرنا چاہیے جیسا کہ اہل سنت والجماعت کا مسلک ہے۔

4835Mishkaat-al-Masabih

جنت ماں کے قدموں میں ہے

وعن معاوية بن جاهمة أن جاهمة جاء إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله أردت أن أغزو وقد جئت أستشيرك . فقال هل لك من أم ؟ قال نعم . قال فالزمها فإن الجنة عند رجلها . رواه أحمد والنسائي والبيهقي في شعب الإيمان

اور حضرت معاویہ بن جاہمہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک دن حضرت جاہمہ رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ میں جہاد میں جانا چاہتا ہوں اور اس وقت اسی سلسلے میں آپ سے مشورہ کرنے حاضر ہوا ہوں حضور نے فرمایا کیا تمہاری ماں زندہ ہے؟ انہوں نے کہا ہاں۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا تم پھر انہی کی خدمت کو ضروری سمجھو کیونکہ جنت ماں کے قدموں میں ہے۔ (احمد، نسائی، بہیقی) تشریح جنت ماں کے قدموں میں ہے کا مطلب یہ ہے کہ تم جہاد میں جانے کے بجائے ماں کے قدموں میں پڑے رہ کر اس کی اطاعت و خدمت کرنا زیادہ ضروری سمجھو کیونکہ ماں کی اطاعت و خدمت جنت میں جانے کا ذریعہ ہے گویا اس جملہ کے ذریعہ بطور کنایہ اس تواضع و انکساری اور عاجزی و خاکساری کو بیان کرنا مقصود ہے جس کا حکم اولاد کو دیا گیا ہے چناچہ ارشاد ربانی ہے آیت (وخفض لھما جناح الذل من الرحمہ)۔ اور ان (والدین) کے سامنے شفقت عاجزی کے ساتھ جھکے رہو۔

4836Mishkaat-al-Masabih

باپ کی خواہش کا احترام کرو

وعن ابن عمر قال كانت تحتي امرأة أحبها وكان عمر يكرهها . فقال لي طلقها فأبيت . فأتى عمر رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكر ذلك له فقال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم طلقها . رواه الترمذي وأبو داود

اور حضرت ابن عمر ؓ کہتے ہیں کہ میرے نکاح میں ایک عورت تھی جس سے میں بہت محبت کرتا تھا لیکن میرے والد محترم حضرت عمر ؓ اس کو ناپسند کرتے تھے چناچہ انہوں نے ایک دن مجھے کہا تم اس عورت کو طلاق دیدو میں نے انکار کیا پھر جب وہ رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور حضور سے اس بات کا تذکرہ کیا تو رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ اس عورت کو طلاق دیدو۔ (ترمذی، ابوداؤد) تشریح رسول اللہ کا ابن عمر ؓ سے یہ فرمایا کہ اس عورت کو طلاق دیدو یا تو استحباب کے طور پر تھا یا اگر اس عورت کو طلاق دلوانے کا کوئی اور شرعی سبب بھی پایا جاتا تھا کہ اس بناء پر ابن عمر ؓ کا اس صورت سے علیحدگی اختیار کرنا ضروری ہوگیا تھا تو پھر کہا جائے گا کہ آنحضرت ﷺ کا مذکورہ ارشاد وجوب کے طور پر ہے۔

4837Mishkaat-al-Masabih

والدین کی اہمیت

وعن أبي أمامة أن رجلا قال يا رسول الله ما حق الوالدين على ولدهما ؟ قال هما جنتك ونارك . رواه ابن ماجه

اور حضرت ابوامامہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ اولاد پر ماں باپ کا کیا حق ہے؟ آنحضرت ﷺ نے فرمایا تمہارے ماں باپ تمہارے لئے جنت بھی اور۔۔۔۔۔ دوزخ بھی۔ (ابن ماجہ) تشریح اس ارشاد کے ذریعہ بڑے بلیغ انداز میں ماں باپ کی اہمیت اور ان کی عظمت شان کو ظاہر فرمایا گیا ہے کہ وہ تمہارے لئے جنت کی راہ بھی آسان کرسکتے ہیں اور تمہیں دوزخ کا مستوجب بھی بتاسکتے ہیں چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ اولاد پر ماں باپ کا حق یہ ہے کہ ان کی رضا مندی اور خوش نودی کو بہر صورت ملحوظ رکھا جائے جو جنت میں جانے کا ذریعہ ہے اور ان کی نافرمانی سے اجتناب کیا جائے جو دوزخ میں جانے کا باعث۔ حاصل یہ ہے کہ اگر اطاعت و خدمت کے ذریعہ ماں باپ کو راضی و خوش رکھو گے تو جنت میں جاؤ گے اور اگر نافرمانی و لاپرواہی کے ذریعہ ماں باپ کو ناخوش رکھو گے تو دوزخ میں جاؤ گے۔

4838Mishkaat-al-Masabih

ماں باپ کے حق میں استغفار وایصال ثواب کے ذریعہ ان کی ناراضگی کے وبال کو ٹالا جا سکتا ہے

وعن أنس قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إن العبد ليموت والداه أو أحدهما وإنه لهما لعاق فلا يزال يدعو لهما ويستغفر لهما حتى يكتبه الله بارا

اور حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب کسی ایسے بندے کے ماں باپ مرجاتے ہیں یا ان دونوں میں سے کوئی ایک مرتا ہے جو ان کی نافرمانی کیا کرتا تھا اور پھر ان کی موت کے بعد وہ ان کے لئے برابر دعا و استغفار کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو نیکوکار لکھ دیتا ہے۔ تشریح حدیث کا حاصل یہ ہے کہ والدین کے مرنے کے بعد اولاد کا ان کے حق میں برابر دعا و استغفار کا ایصال ثواب کرتے رہنا اس درجہ سود مند ہے کہ اگر والدین اس اولاد سے ناراضگی وناخوشی کی حالت میں بھی اس دنیا سے رخصت ہوئے تو اللہ تعالیٰ ان کی ناراضگی و ناخوشی کو ختم کر دے اور اس اولاد کا نام ان لوگوں میں شمار کرے گا جو اپنے والدین کے ساتھ نیکی کرتے ہیں اور ان کی رضا و خوشنودی کے جو یا رہتے ہیں۔

4839Mishkaat-al-Masabih

والدین کی اطاعت ونا فرمانی حقیقت میں اللہ کی اطاعت ونا فرمانی ہے

وعن ابن عباس قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من أصبح مطيعا لله في والديه أصبح له بابان مفتوحان من الجنة وإن كان واحدا فواحدا . ومن أمسى عاصيا لله في والديه أصبح له بابان مفتوحان من النار وإن كان واحدا فواحدا قال رجل وإن ظلماه ؟ قال وإن ظلماه وإن ظلماه وإن ظلماه

اور حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے اس حالت میں صبح کی کہ وہ ماں باپ کے حق میں اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کرنے والا یعنی اس نے ماں باپ کے حقوق ادا کر کے اللہ کے حکم کی اطاعت کی ہے تو وہ اس حال میں صبح کرتا ہے کہ اس کے لئے جنت کے دو دروازے کھلے ہوتے ہیں اور اگر اس کے ماں باپ میں سے ایک کوئی زندہ ہو کہ جس کی اس نے اطاعت و فرمانبرداری کی تو ایک دروازہ کھولا جاتا ہے اور جس شخص نے اس حالت میں صبح کی وہ ماں باپ کے حق میں اللہ کے حکم کی نافرمانی کرنے والا ہے یعنی اس نے ماں باپ کے حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی کی اللہ کے حکم کے نافرمانی کی ہے تو وہ اس حالت میں صبح کرتا ہے کہ اس کے لئے دوزخ کے دو دروازے کھولے ہوتے ہیں اور اگر ماں باپ میں کوئی ایک زندہ ہے جس کی اس نے نافرمانی کی تو اس کے لئے ایک دروزاہ کھولا جاتا ہے یہ ارشاد سن کر ایک شخص نے عرض کیا اگرچہ ماں باپ اس پر ظلم کریں؟ آپ نے فرمایا ہاں۔ اگرچہ ماں باپ اس پر ظلم کریں اگرچہ ماں باپ اس پر ظلم ہی کیوں نہ کریں، اگرچہ ماں باپ اس پر ظلم ہی کیوں نہ کریں۔ تشریح حدیث سے معلوم ہوا کہ ماں باپ کی اطاعت و فرمانبرداری کرنا اور ان کی نافرمانی کرنے سے اجتناب کرنا چونکہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے اس لئے ان کی اطاعت و فرمانبرداری یا ان کی نافرمانی درحقیقت اللہ کی اطاعت و فرمانبرداری یا اس کی نافرمانی کرنا ہے۔ اگرچہ ماں باپ اس پر ظلم ہی کیوں نہ کریں حضور کا اس جملہ کو تین بار فرمانا ماں باپ کی اطاعت و فرمانبرداری کی اہمیت کو ظاہر کرنے اور ان کے حقوق کو ادا کرنے کی تاکید کو زیادہ شدت کے ساتھ بیان کرنے کی بنا پر تھا تاہم واضح رہے کہ ظلم سے مراد وہ ظلم ہے جس کا تعلق دنیاوی معاملات سے ہو نہ کہ دینی امور سے کیونکہ ماں باپ کی ایسی اطاعت جائز نہیں جس سے دین کی مخالف اور شرعی احکام و مسائل کی خلاف ورزی ہوتی ہو۔

4840Mishkaat-al-Masabih

ماں باپ کو محبت واحترام کی نظر سے دیکھنے کی فضیلت

وعنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال مامن ولد بار ينظر إلى والديه نظرة رحمة إلا كتب الله له بكل نظرة حجة مبرورة . قالوا وإن نظر كل يوم مائة مرة ؟ قال نعم الله أكبر وأطيب

اور حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ماں باپ کے ساتھ نیکی کرنے والا جو بھی لڑکا اپنے باپ یا ماں کو محبت و احترام کی نظر سے دیکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی ہر نظر کے بدلے ایک مقبول حج نفلی کا ثواب لکھتا ہے، صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ اگرچہ وہ دن بھر میں سو مرتبہ دیکھے حضور نے فرمایا ہاں۔ اللہ تعالیٰ بہت بڑا اور پاکیزہ ہے یعنی تمہارے گمان میں جو یہ بات کہ ہر نظر کے بدلے ایک مقبول نفلی حج کا ثواب کیونکر لکھا جاتا ہے تو یہ اجر و انعام اللہ کی شان اور اس کی وسعت رحمت کی نسبت سے کچھ بعید نہیں وہ اگر چاہے تو اس سے بھی بڑا اجر دے سکتا ہے۔

4841Mishkaat-al-Masabih

والدین کی نا فرمانی کرنے والے کے بارے میں وعید

وعن أبي بكرة رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم كل الذنوب يغفر الله منها ما شاء إلا عقوق الوالدين فإنه يعجل لصاحبه في الحياة قبل الممات

اور حضرت ابوبکرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا شرک کے علاوہ تمام گناہ ایسے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان میں سے جس قدر چاہتا ہے بخش دیتا ہے مگر نافرمانی کے گناہ کو نہیں بخشتا بلکہ اللہ تعالیٰ ماں باپ کی نافرمانی کرنے والے کو موت سے پہلے اس کی زندگی میں ہی جلد ہی سزا دے دیتا ہے۔ تشریح مطلب یہ ہے کہ جو شخص ماں باپ کی نافرمانی کے گناہ کا ارتکاب کرتا ہے اسے اپنے اس گناہ کی سزا اپنی موت سے پہلے اسی دنیا میں بھگتنی پڑتی ہے اور یہ بھی احتمال ہے کہ اس دنیا کی زندگی کا تعلق ماں باپ سے ہو یعنی جو والدین اپنی اولاد کی طرف سے نافرمانی کا دکھ سہتے ہیں وہ اپنی زندگی ہی میں اس اولاد کو اپنے گناہ کی نافرمانی کی سزا بھگتتے دیکھ لیتے ہیں تاہم دونوں صورتوں میں آخرت کا عذاب بدستور باقی رہتا ہے کہ نافرمان اولاد محض اسی دنیا میں سزا نہیں پائے گی بلکہ آخرت میں بھی عذاب کی مستوجب ہوگی۔ اس حدیث کے سلسلہ میں ایک احتمال اور بھی ہے کہ وہ یہ کہ والدین کے حقوق کے مذکورہ بالا حکم میں تمام حقوق العباد شامل ہوں یعنی جس طرح ماں باپ کے حقوق ادا نہ کرنے والی اولاد اس گناہ کی سزا دنیا میں پاتی ہے اسی طرح ہر وہ شخص بھی اسی دنیا میں سزا یاب ہوتا ہے جو بندوں کے حقوق کو پامال کرتا ہے چناچہ حکومت وقت کے خلاف بلا کسی شرعی و قانونی وجہ کے بغاوت کرنے والے اور ناحق ظلم کرنے والے کے بارے میں مذکورہ بالا طرح کی منقول وعید سے یہی ثابت ہوتا ہے حاصل یہ ہے کہ مذکورہ بالا ارشاد گرامی کے ذریعہ والدین کے حقوق کی اہمیت کو واضح کیا گیا ہے اور ان کی نافرمانی کرنے کے گناہ کی شدت و سنگینی کو بڑے سخت انداز میں بیان کیا گیا ہے۔

4842Mishkaat-al-Masabih

بڑا بھائی باپ کی مانند ہے

وعن سعيد بن العاص قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم حق كبير الإخوة على صغيرهم حق الوالد على ولده . روى البيهقي الأحاديث الخمسة في شعب الإيمان

اور حضرت سعید بن العاص ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا چھوٹے بھائی پر بڑے بھائی کا وہی حق ہے جو بیٹے پر اس کے باپ کا ہوتا ہے یہ پانچوں روایتیں بہیقی نے شعب الایمان میں نقل کی ہیں۔